11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمظہر القرآن

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

(الر اے محبوب خدا ﷺ) لوگوں سے فرماؤ کہ (یہ قرآن) ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں پھر حکمت والے خبردار کی طرف سے تفصیل کی گئی ہیں

الرٰ بھی حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی سوائے خدا کے کسی اور کو معلوم نہیں ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے قرآن مجید کی تعریف فرمائی ہے کہ یہ کتاب ایسی ہے کی کل آیتیں شروع سے آخر تک بلکل مضبوط ہیں۔ اس میں رد وبدل ہونے والا نہیں ہے۔ جیسے پہلی کتابیں توریت وانجیل وغیرہ کہ ایک کے بعد ایک منسوخ ہوتی گئیں۔ پہلے یہ کتاب لوح محفوظ میں تھی پھر اللہ پاک نے اپنے سچے رسول ﷺ پر تفصیل کے ساتھ اس کو نازل فرمایا اور حرام و حلال کی تفصیل بتلادی جو قیامت تک قائم رہے گی۔
Ayahs 11:2–4

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (اور کہہ دو کہ) بیشک میں تمہارے واسطے اللہ کی طرف سے ڈرانے والا ہوں اور خوش خبری دینے والا ہوں

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توجہ کرو تاکہ عیش دے وہ تم کو اچھا عیش وقت مقرر (یعنی وقت موت) تک اور ہر ایک صاحب فضیلت کو اس کا فضل عطا فرمائے گا اور اگر (ایمان لانے سے) تم لوگ منہ پھیرو تو مجھ کو (اس صورت میں) تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو اللہ ہی کے پاس لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کی عبادت جائز نہیں ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حکم اس کتاب میں سب سے زیادہ ضروری اور اول درجے کا یہ ہے کہ سوائے معبود حقیقی کے اور کسی کی عبادت نہ کرو اور یہ بھی ان سے کہہ دو کہ میں بشارت دینے والا بھی ہوں اور ڈرانے والا بھی ہوں۔ اگر تم خدا کا حکم مانو گے تو تمہارے لئے جنت کی بشارت ہے اور اگر نہ مانو گے تو تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔ صرف اللہ ہی کی عبادت ہونی چاہیے اور جو کچھ تم پہلے کرچکے اس سے استغفار کرو اور آئندہ کے لئے توبہ کرلو۔ خدا اس کا نفع تمہیں دنیا میں بہت ہی اچھا دے گا، تمہارے رزق بڑھائے گا عیش و آرام میں رکھے گا اور آخرت میں ہر شخص کے عمل کے موافق دس گونہ فضل کرے گا۔ جو شخص ایک برائی کرتا ہے اس کی ایک برائی لکھی جاتی ہے اور جو ایک نیکی کرتا ہے اس کی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے ! ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ اگر تم شرک سے توبہ اور استغفار نہ کروگے تو مجھے خوف ہے کہ قیامت کے دن تم پر عذاب ہو۔ کیونکہ جب تم مر جاؤ گے تو پھر ایک دن تمہیں خدا زندہ کرے گا اور تمہارے اعمال کا پورا بدلہ دے گا وہ ہر شے پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

آگاہ ہو وہ مشرکین اپنے سینے دوہرے کرتے ہیں (یعنی عداوتوں کو اپنے سینوں میں پوشیدہ رکھتے ہیں) چاہتے ہیں کہ خدا سے (اپنی باتیں) چھپا سکیں، آگاہ ہو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں (اس وقت بھی) اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ تو جانتا ہے سینہ کے اندر کی باتوں کو

حضور ﷺ سے عداوت رکھنے کا ذکر شان نزول : ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ بہت شیریں گفتار شخص تھا، رسول کریم ﷺ کے سامنے آتا تو بہت خوشامد کی باتییں کرتا اور دل میں بغض وعداوت رکھتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اس بات سے واقف ہوجاؤ کہ کفار اپنے دل میں رسول اللہ ﷺ کی عداوت رکھتے ہیں اور خدا سے بھی پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ خبردار ہو کہ جس وقت یہ بچھونے پر لیٹ کر اپنے کپڑے اوڑھتے ہیں اس وقت ان کا بدن اور دل ہماری طرف سے پوشیدہ نہیں۔ ہم ان کی چھپائی ہوئی بات اور ظاہر کی ہوئی بات دونوں جانتے ہیں۔ یعنی خدا کے علم میں دونوں یکساں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خالق دلوں کے اسرار سے خوب واقف ہے۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور کوئی چلنے والا ایسا نہیں ہے روئے زمین پر کہ جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو اور وہ جانتا ہے اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور (وہ جگہ) جہاں اس کو سونپ دیا جائے گا، یہ سب کچھ کتاب روشن (یعنی لوح محفوظ) میں ہے

پیدائش عالم کا ذکر حاصل مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جتنی مخلوق ہے خواہ خشکی کی رہنے والی، خواہ دریا کی سب کو خدا تعالیٰ روزی پہنچاتا ہے۔ اور خدا ہر ایک مخلوق کے قرار کی جگہ جانتا ہے کہ کہاں اس کی بودوباش ہے اور کس چیز سے اس کی پیدائش ہے، اور کہاں اور کس سرزمین میں اس کی موت ہے۔ اور یہ سب باتیں لوح محفوظ میں دنیا کی پیدائش کے پہلے سے موجود ہیں۔
Ayahs 11:7–8

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا آخر کار پیدا کرنا تمہارا اس لئے ہے کہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کس کے عمل اچھے ہیں۔ اور اگر تم فرماؤ : بلا شک تم موت کے بعد (قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے تو بیشک کافر لوگ (قرآن کی نسبت جس میں قیامت کی خبر ہے) کہیں گے کہ یہ تو نہیں مگر صریح جادو ہے

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ہم ان سے ایک وقت معین تک عذاب کو روکے رکھیں تو ضرور کہیں گے : اس عذاب کو کونسی چیز روک رہی ہے یاد رکھو جس دن آجائے گا ان پر عذاب، پھر ان سے پھیرا نہ جائے گا اور جس عذاب کے ساتھ یہ ٹھٹھا کرتے تھے وہی عذاب ان کو گھیر لے گا

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خداوند کریم ایسا قادر ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا۔ پہلا روز ہفتہ کا تھا۔ اس سے پہلے سوائے خدا کی ذات کے کچھ نہ تھا۔ وہ ایسا قادر مطلق ہے کہ زمین وآسمان پیدا کرنے سے قبل اپنے عرش کو پانی پر قائم کر رکھا تھا کہ ابتداء میں حق تعالیٰ نے ایک یاقوت سبز پیدا کیا اور نظر ہیبت سے اسے دیکھا وہ جوہر پانی ہوگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہوا پیدا کی، اور پانی کو ہوا پر رکھا اور عرش کو پانی کے اوپر جگہ دی اور پانی پر عرش کا ہونا اور ہوا پر پانی کا ٹھہرنا اس کی قدرت کا نمونہ ہے۔ اس کے بعد قلم کو پیدا کیا، اور لوح محفوظ کو پیدا کیا اور زمین وآسمان کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ زمین وآسمان میں قیامت تک ہونے والا ہے اس کو لکھا اور پھر سب کچھ پیدا کیا۔ پیدائش عالم کا اصلی سبب ۔ ۔ امتحان اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے عالم کی پیدائش کا ذکر فرما کر اس آیت کے ٹکڑے میں اس پیدائش عالم کا اصلی سبب ظاہر فرمایا ہے کہ نیک وبد عمل کی اس آزمائش کے لئے تم کو پیدا کیا گیا ہے کہ کون دنیا میں جاکر نیک عمل کرتا ہے اور آخرت میں جزا کے قابل ٹھہرتا ہے اور کون بدعمل کر کے سزا کے قابل قرار پاتے ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے اور جو کچھ قیامت تک ہوگا اس کو پہلے سے معلوم ہے۔ چناچہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے ہی جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے وہ اس نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ مگر نیک وبد کام جب تک کسی سے دنیا میں ظاہر نہ ہوجاوے، فقط لوح محفوظ کے ل کے پر سزا وجزا کا مدار اللہ تعالیٰ نے نہیں رکھا ہے اور جانچ اچھے عمل کی ہے زیادتی عمل کی نہیں ہے۔ اس واسطے کہ اچھا عمل وہ ہے جو شریعت کے قاعدہ سے صحیح ہو اور خالص ثواب کی نیت سے کیا جاوے۔ اے محبوب کریم ﷺ اگر تم ان مشرکوں سے یہ بت کہو گے کہ مرنے کے بعد خدا پھر تمہیں زندہ کرے گا تو یہ لوگ اس کو جادود ٹھہرائیں گے۔ باوجود اس بات کے کہ انہیں خوب معلوم ہے کہ آسمان اور زمین چاند سورج سب کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے لیکن یہ لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ بغیر نمونے کے پہلے پہل ہر چیز کا بنانا مشکل ہے، دوبارہ اس کا بنانا مشکل نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ یہ جادو کی باتیں ہیں محض کفر کی راہ سے ہے۔ پھر فرمایا باوجود کلام اللہ کے جھٹلانے کے ہم جو ان لوگوں پر عذاب نہیں بھیجتے ڈھیل دے رکھی ہے۔ اس کو تو جب اور مسخرہ پن سے وہ یوں کہتے ہیں کہ عذاب میں دیر کیوں لگا رکھی ہے، کیوں نہیں نازل ہوچکتا۔ اس پر فرمایا کہ جس روز عذب آجائے گا تو کسی کے ٹالے بھی نہیں ٹلنے کا ہے اور ان کی یہ ہنسی اور مسخرا پن سب دھرے رہ جائیں گے، عذاب کی جلدی جو مسخرا پن سے کرتے تھے اور حشر کے منکر تھے یہ مشرکین مکہ کے بڑے بڑے سردار تے۔ جن کا دین ودنیا کا برا انجام ہوا کہ بدر کی لڑائی میں مارے گئے۔
Ayahs 11:9–11

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنی نعمت کا مزہ دیں پھر ہم اس کو اس سے چھین لیں تو ضرور وہ ناامید اور ناشکرا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جو اس کو پہنچی ہے تو کہنے لگے کہ میری مصیبتیں دور ہوئیں، پس وہ اترانے والا شیخی خوردہ ہوجاتا ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے عمل کئے ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر ہے

مصیبت پر صابر اور نعمت پر شاکر رہنے کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناشکری کچھ قرآن کی نعمت کی ناقدری پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ان کی ناشکری تو دنیا کی نعمتوں میں بھی ہے۔ چناچہ ان میں سے کسی کو اللہ اپنی رحمت کا اگر نمونہ دکھاتا ہے اور اس کے رزق میں ترقی کردیتا ہے تو یہ لوگ عیش و آرام میں پڑے رہتے ہیں۔ اور جب ان کے سر سے ذرا بھی اس رحمت کا سایہ الگ کرلیا تو ان کو آئندہ کی فلاحیت کی امید نہیں رہتی اور پچھلے عیش و آرام ان کے خیال سے بلکل جاتے رہتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ تکلیف کے بعد کسی کو خوش حال کردیتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنے مال پر اس قدر اترانے لگتا ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں مگر جو لوگ سختی اور مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں تو ان کے لئے صبر کے بدلے میں مغفرت ہے اور نیک عمل کے عوض میں جنت۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ) تو کیا تمہاری طرف کی جاتی ہے اس میں سے تم کچھ چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے اس (خیال سے کہ کافر کہتے ہیں کہ ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا (ان کی تصدیق کے لئے) ان کے ہمراہ کوئی فرشتہ آتا (سو تم اس کا کچھ خیال نہ کرنا چاہئے) تم تو ڈرانے والے ہو اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے

حضور ﷺ کو تبلیغ کا حکم شان نزول : عبد اللہ بن امیہ مخزومی نے رسول کریم ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں اور آپ کا خدا ہر چیز پر قادر ہے تو اس نے آپ پر خزانہ کیوں نہیں اتارا، یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ ﷺ کے ! یہ تو ممکن نہیں کہ ان کفار مکہ کی ایسی باتیں بنانے پر تم ان کی مخالفت طبیعت آیتوں کو ان کو سنانا چھوڑ دو ۔ کیونکہ کل نبی اس بات سے معصوم پیدا کئے گئے ہیں کہ وہ اللہ کا ہر طرح کا حکم صاف صاف بغیر اپنے ذاتی تصرف کے امت کو پہنچا دیویں۔ اس لئے جب تک اللہ تعالیٰ تم کو قت دیوے اور ان کافروں کو زیر کرے ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو اور اپنا کام کئے جاؤ۔ پھر آنحضرت ﷺ کی اس تسکین کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ ہی ہر شے کا نگہبان اور گواہ ہے۔ جو اپنا کام اس پر چھوڑ دے اس کا کام بناتا ہے، اور جو اپنے تئیں اس کے سپرد کردے اس کی حفاظت کرتا ہے۔
Ayahs 11:13–14

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

(اے محبوب ! جان عالم ﷺ) کیا کافر کہتے ہیں کہ تم نے قرآن کو انے دل سے بنا لیا ہے تم فرماؤ : ایسی دس سورتیں تم تو بنا کرلے آؤ اور اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو (مدد کے لئے) بلالو اگر تم سچے ہو

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پس اے مسلمانو ! اگر کافر تمہاری بات کو قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ (قرآن) اللہ ہی کے علم سے نازل کیا گیا ہے اور یقین کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس (اے لوگو ! ) کیا (اب بھی) تم مسلمان ہوتے ہو (یا نہیں)

قرآن مجید کے بےمثل کتاب الٰہی ہونے کی تصدیق ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ محمد ﷺ خود یہ قرآن بنا کر لائے ہیں تو تم ان سے کہو : اس کی سی دس سورتیں تم بھی بنا کر لاؤ تمہاری شاعری اور سب زبان دانی اور فصاحت وبلاغت دیکھی جائے۔ اور اکیلے نہ بنا سکو تو جس سے جی چاہے مدد لو پھر اگر بنا کر نہ لائیں تو تم لوگ جان لو یہ عاجز ہوگئے اور ان لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ قرآن خدا نے اپنے علم خاص سے اتارا ہے اور وہ ایسا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور جب قرآن کلام الٰہی ٹھہر جاوے تو ان لوگوں کو اس کی پابندی میں پھر کیا عذر ہے۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی آسائش چاہتا ہو ہم انہیں دنیا ہی میں ان کے اعمال کے بدلے پورے طور سے دے دیں گے اور ان کو اس میں سے کچھ بھی کم نہیں دیا جائے گا

دنیا میں منافقوں کے نیک عملوں کا ذکر شان نزول : ضحاک نے کہا کہ یہ آیت مشرکین اور منافقیں کے حق میں اتری ہے کہ وہ صلہ رحمی کریں یا محتاجوں کو دیں، یا کسی پریشان حال کی مدد کریں یا اس طرح کی کوئی نیکی کریں تو اللہ تعالیٰ وسعت رزق وغیرہ سے ان کے عمل کی جزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ عذاب بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 11:16–17

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

جن لے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا وہ آخرت میں اکارت گیا (ضائع ہوگیا) اور جو کچھ ان کے عمل تھے باطل ہوئے

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

پس کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اللہ کی طرف سے گواہ (یعنی قرآن) (وہ اس کی مانند ہوسکتا ہے جو گمراہ ہو) اور قرآن سے پہلے (اس کی گواہ) موسیٰ کی کتاب (یعنی توریت) جو کہ یشوا اور رحمت ہے، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور سارے فرقوں میں سے جو اس کا منکر ہوگا تو اس کا وعدہ آگ ہے (اے مخاطب ! ) تو نزول قرآن سے شک میں نہ ہو، بیشک وہ سچا ہے تیرے روردگار کی طرف سے آیا ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

آخرت کا ذکر اس سے اوپر کی آیت میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ جو لوگ فقط دنیا کی عزت اور زینت کے لئے عمل کرتے ہیں ان کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔ انہی کی شان میں یہ آیت اتری ہے جس میں فرمایا ہے کہ ان کے عمل کا بدلہ دنیا میں ہی مل جاوے گا باقی رہی آخرت تو وہاں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے اگر ہے تو دوزخ ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے وہ سب مٹ جائے گا اور جتنے علم ان کے ہیں وہ سب بےکار ہیں۔ کیونکہ ان کا ارادہ اس عمل سے طلب دنیا کا تھا، آخرت کے واسطے انہوں نے کچھ نہیں کیا تھا جو وہاں بھی جزا کے سزاوار ہوں۔ ہر انسان فطرت سلامی پر پیدا ہوتا ہے ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ عالم ارواح میں مخلوقات کو پیداکر کے پہلے وہ نور چھڑکا اور پھر توحید کا عہد لیا اور یہ فرمایا کہ اسی کی یاد دہی کے لئے اللہ کے رسول آسمانی کتابیں لے کر دنیا میں آویں گے۔ اور پھر دنیا میں اس عہد کے موافق ہر ایک کو فطرت اسلامی پر پیدا کیا اور کتابیں دے کر رسول بھیجے۔ توراۃ اور قرآن میں شرعی احکام بہت تفصیل سے ہیں اس واسطے ان آیتوں میں ان ہی دونوں کتابوں کا نام فرمایا۔ اب آگے فرمایا کہ فرقہ اہل کتاب یا مشرکین میں سے جو شخص اس قرآن یا کسی اور کتاب آسمانی یا اللہ کے کسی رسول کا منکر ہوگا، اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور اپنے رسولوں کو مخاطب کر کے یہ بھی فرمایا کہ اوپر کی وجوہات کے موافق اگرچہ اس قرآن کے کتاب اسمانی کسی کو شک شبہ کرنے کا موقع نہیں ہے۔ لیکن ازلی گمراہی کے سبب سے بہت لوگ اس کے منکر ہیں۔ اب آگے ان بےانصاف لوگوں کا ذکر فرمایا جو اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ انہیں قیامت کے دن اللہ کے روبرو اپنے جرم کی جوابدہی کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا اور اللہ کے فرشتے ان کے اعمال کی گواہی ادا کر کے اللہ کی لعنت کے قابل ان کو ٹھہرا دیں گے۔ یعنی یہ لوگ اللہ کی رحمت سے دور رہنے کے لائق ہیں۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ یہ لوگ یش کئے جاویں گے (قیامت کے روز) روبرو اپنے پروردگار کے اور کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ آگاہ ہو لعنت ہے اللہ کی ظالموں پر

جو شخص کہ اللہ پر جھوٹ افترا کرتا ہے یعنی اس کی نفی کرے یا کسی کو شریک بنا کر یا اس کی فرمائی ہوئی چیزوں کو نہ مانے۔ ایسے شخص سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے۔ یہ لوگ اللہ سے بھاگ نہیں سکتے بلکہ گرفتار کر کے پیش کئے جاویں گے۔ اور جو فرشتے ان کے محافظ تھے یعنی کراما کاتبین، یا پیغمبر یا ان کے ہاتھ پاؤں یہ گواہ بن کر کہیں گے : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بنایا اور بےخوف ہو کر اتنا بڑا ظلم کیا۔ خبردار ہو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
Ayahs 11:19–24

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہی لوگ آخرت کے بھی منکر ہیں

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

وہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) عاجز کرنے والے نہیں اور اللہ کے سوا ان کا نہ کوئی حمایتی تھا (عذاب سے چھڑالیتا) ایسوں کو (اوروں سے) دوچند عذاب دیا جائے گا یہ لوگ دنیا میں (بہ سبب شدت ناخوشی کے) نہ (حق بات) سن سکتے تھے اور نہ (راہ حق) دیکھتے تھے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

وہی یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا اور جو کچھ وہ ڈھکوسلے بنایا کرتے تھے سب ان سے گم ہوگئے

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بیشک یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ میں ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے اچھے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی، وہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فریق کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک تو اندھا اور بہرہ ہے اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہے کیا یہ دونوں برابر ہیں مثال میں پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ قیامت کے دن سارے جن وانس اور ملائکہ کے روبرو سوار ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا۔ یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر۔ اب فرمایا کہ خود یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجاویں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسا جینا۔ پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ نہیں کر نہیں جاسکتے اور نہ اس کی پکڑ سے بچ سکتے ہیں۔ کیونکہ خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کا حمایتی بن کر ان کو عذاب سے بچا لے۔ خدا ان سے ہر حال میں بدلہ لے سکتا ہے مگر اس نے یہ بدلہ آخرت کے دن پر اٹھا رکھا ہے۔
Ayahs 11:25–26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ (ان سے کہیں) میں تمہیں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

(اس مضمون سے) کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو البتہ خوف کرتا ہوں میں تم پر درد دینے والے دن کے عذاب سے

حضرت نوحٖ (علیہ السلام) کی عمر اور ہدایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو برس اپنی قوم کو وہ نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد پھر زندہ رہے۔ اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی۔ صاحب شریعت انبیاء کی ابتدا حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم سے پہلے اس قوم نے بت پرستی دنیا میں شروع کی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ نصیحت کی کہ اگر تم لوگ بت پرستی سے باز نہ آؤ گے تو تم پر عذاب آجانے کا خوف ہے خالص دل سے اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اس پر ان کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ جیسے ہم انسان ہیں تم بھی انسان ہو۔ تم پر وحی آئی ہم پر نہ آئی یہ کیا بات ہے۔ علاوہ اس کے جو لوگ تمہارے تابع ہوئے ہیں وہ سب کے سب رذیل ہیں کوئی بھی ان میں شریف نہیں اور یہ ایمان بھی لائے تو کچھ سوچ سمجھ کر نہیں لائے، کیونکہ ان کو عقل ہی کب ہے۔ اس لئے فقط ان لوگوں کے ایمان لانے سے کوئی فضیلت تم کو نہیں ہوسکتی۔ تیسری بات یہ کہی کہ تم کو ہم اپنے سے بڑھ کر نہیں دیکھتے۔ ہم سے زیادہ عزت دار نہیں ہو نہ مال و دولت میں نہ جاہ و مرتبہ میں اس لئے ہم تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔
Ayahs 11:27–28

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تب اس کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے : ہم تمہیں دیکھتے ہیں اپنے ہی جیسا آدمی اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے سرسری نظر سے پیروی کی اور ہم تمہاری اپنے اوپر کوئی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا :'' اے میری قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (یعنی نبوت) پس تم اس کی حقیقت سے اندھے رہے '' تو کیا ہم اسے تمہارے گلے چپیٹ دیں اور تم اس سے بیزار ہو

حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کا جہالت آمیز کلام سن کر یہ جواب دیا کہ جو دین میں خدا کی طرف سے لایا ہوں اور جس بات کی تمہیں ہدایت کرتا ہوں، تم پر اس کا قبول کرنا واجب ہے اور جو تم نے جواب دیئے ہیں کوئی بھی ٹھیک نہیں۔ انسان ہونے میں بیشک ہم تم برابر ہیں۔ یہ تو خدا کا فضل ہے جس کو وہ چاہتا ہے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجتا ہے۔ تمہاری تو بعینہ وہ مثال ہے کہ کوئی گروہ صحرا میں بھٹکتا پھرتا ہو اور اپنے راہبر کا کہنا نہ مانتا ہو، وہ گروہ راستہ پر نہیں آسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو گمراہ ٹھہر چکا اس کو زبردستی کون راہ راست پر لاسکتا ہے۔
Ayahs 11:29–30

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میری اس (تبلیغ) پر میں تم سے میری مزدوری تو صرف اللہ ہی پر ہے اور میں کا جدا کرنے والا نہیں ہوں (اپنی صحبت سے) جو مسلمان ہیں بیشک یہ لوگ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں تو تم کو ایک جاہل قوم دیکھتا ہوں

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے قوم میری ! مجھے اللہ (کے عذاب) سے کون بچالے گا، اگر میں انہیں دور کروں گا پھر تم کیا نہیں سمجھتے

قرآن شریف پڑھانے اور وعظ و نصیحت پر اجرت لینا جائز نہیں حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا :'' اے قوم تبلیغ رسالت پر میں کچھ مال نہیں مانگتا بلکہ میں تو فقط اللہ ہی سے اجر کا طالب ہوں ''۔ وعظ و نصیحت کے معاوضہ میں انبیاء کو کسی اجرت یا مزدوری کا لینا جائز نہیں۔ امت کے علماء انبیاء کے وارث بن کر لوگوں کو قرآن کے موافق کچھ وعظ و نصیحت کریں یا قرآن پڑھاویں تو ان کی اجرت امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ قوم نوح کے امراء کہتے تھے کہ تم ادنیٰ آدمیوں کو اپنی مجلس سے نکال دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا میں اہل ایمان کو تمہاری خاطر یہاں سے نہیں ہٹا سکتا تم نادان ہو ان کی قدر نہیں جانتے۔ اگر میں انہیں اپنی مجلس سے نکال دوں گا تو عذاب الہی کا مستحق بن جاؤں گا۔ پھر بتاؤ کہ عذاب الہی سے مجھے کون بچاسکتا ہے۔ اے قوم ! تم جو غرباء کے نکال دینے کی خواہش کرتے ہو بالکل بےسمجھ ہو۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان لیتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ کہتا ہوں میں ان لوگوں کو جن کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں کہ ہرگز انہیں اللہ کوئی نعمت نہ دے گا، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، اگر میں ایسا کہوں تو بیشک میں اس وقت بےانصاف ہوں

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اوپر کی آیت میں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی قوم نے یہ کہا تھا اپنے اوپر ہم تمہاری کوئی فضیلت نہیں دیکھتے اور تم ہم سے زیادہ عزت دار نہیں ہو یہ اسی کا جواب حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو دیا کہ خدا کے خزانے میرے قبضے میں نہیں اور نہ ہی غیب کی باتیں جانتا ہوں۔ نہ کوئی فرشتہ ہوں جو تم میری فضیلت سمجھو۔ میری فضیلت تو خدا کی طرف سے یہ ہے کہ اس نے مجھے معجزے عنایت کئے ہیں اور جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے تم ان کو ذلیل و خوار سمجھتے ہو۔ اگر ان کا باطن ویسا ہی ہے جیسا ظاہر ہے مگر خدا کے نزدیک ان کا بڑا مرتبہ ہے۔ خدا تو ان کے دل کی باتوں کو جانتا ہے آخرت میں اچھے سے اچھا ان کو بدلہ دے گا اور جو لوگ ان کو برا سمجھتے ہیں وہ بڑا ظلم کرتے ہیں۔ تمہارے کہنے سے اگر میں بھی ان کے ساتھ برا برتاؤ کروں اور اپنے پاس سے ان کو نکال دوں تو میں بھی ظالم ٹھروں گا۔
Ayahs 11:32–34

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

وہ بولے :'' اے نوح ! البتہ تم نے ہم سے جھگڑا کیا پس بہت کچھ جھگڑ چکے اب جس (عذاب) کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اگر سچے ہو تو اس کو لے آؤ ''

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

(نوح نے) کہا :'' اس کو تو تم پر اللہ ہی لائے گا اگر چاہے گا اور تم اس کو عاجز نہ کرسکوگے

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور تم کو کچھ فائدہ نہ دے گی میری نصیحت گو میں چاہتا ہوں کہ تم کو نصیحت کروں، جب کہ خدا تم کو گمراہ کرنا چاہے وہ تمہارا پروردگار ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے ''

جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے ہر ایک سوال کا پورا جواب پایا تو کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ہم تم سے ہر طرح بحث کرکے تھک گئے، کوئی حجت ہماری پیش نہ چلی، اب تو جس عذاب کا تم ہم کو خوف دلاتے ہو اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب نازل کراؤ۔ اس کا جواب حضرت نوح (علیہ السلام) نے دیا کہ یہ میرے بس کا کام نہیں ہے، خدا کے ہاتھ ہے۔ اگر وہ عذاب جلدی بھیجنا چاہے گا تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور اگر اس کی حکمت دیر کی مقتضی ہے تو دیر میں نازل ہوگا۔ اگر تم چاہو کہ ہم بچ جائیں سو یہ بخیر ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ تم یا اور کوئی اس کو عاجز کردے، یا تم کہیں بھاگ کر چلے جاؤ اور بچ جاؤ۔ اور میری نصیحت بھی تم کو کچھ فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔ میں ہزار چاہوں کہ تم کسی طرح ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں تمہاری گمراہی ٹھرچ کی ہو تو مجھ سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہ تمہارا رب ہے اس نے تم کو پیدا کیا ہے، وہی تمہیں دنیا میں زندہ رکھتا ہے، وہی تمہاری پرورش کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ہدیت اور گمراہی ہے، اسی کی طرف تمہیں پھرجانا ہے، وہاں تمہارے اعمال کا بہت اچھی طرح بدلہ ملے گا۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

(اے محبوب کریم ﷺ ) کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن (خود) بنا لیا ہے، تم فرماؤ :'' اگر میں نے از خود بنا لیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہوں سے الگ ہوں ''

آنحضرت ﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا تو کفار مکہ کہنے لگے :'' یہ قرآن انہوں نے اپنے دل سے گھڑ لیا ہے، خدا نے نہیں اتارا ہے ''۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بتلایا کہ ان سے کہو کہ یہ قرآن اگر ہم خود بناکر کہتے ہیں تو اس کا جرم ہم پر ہے اور تم جو جھٹلاتے ہو تو اس سے بھی میں بری ہوں۔
Ayahs 11:36–37

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور وحی بھیجی گئی نوح کی طرف کہ تمہاری قوم میں سے اب کوئی ایمان نہ لائے گا مگر جس شخص کو ایمان لانا تھا لاچکا پس کچھ غم نہ کرو تم ان کی باتوں پر جو وہ کرتے ہیں

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ اور مجھ سے کچھ نہ کہنا ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے ظلم کیا کیونکہ وہ ضرور غرق کئے جائیں گے

کشتی کا ذکر جب قوم حضرت نوح (علیہ السلام) نے عذاب کی جلدی کی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو بہت ستانا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح (علیہ السلام) ! اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ جتنے ایمان لاچکے وہ لاچکے آئندہ اب کسی سے ایمان لانے کی امید نہیں۔ تم ان کی کسی بات کا غم نہ کرو جو یہ کرتے ہیں کریں۔ تم ایک کشتی تیار کرو ہم وحی کے ذریعہ سے کشتی کے بنانے کا ڈھنگ تمہیں بتاتے ہیں کہ ایسی صورت بناؤ جیسے کہ مرغ کا سینہ ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ ان ظالموں کے باب میں سفارش کے طور پر بارگاہ الہی میں کچھ نہ کہو یہ سب ڈوبنے والے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بارہ سو گز لمبی اور چھ سو گز چوڑی کشتی تھی اور اس کشتی میں تین درجے تھے ہر درجہ دس گز کا تھا نیچے کا درجہ چار پائے گائے بھینس وغیرہ کے قسم کے جانوروں کے واسطے، بیچ کا درجہ آدمیوں کے لئے اوپر کا درجہ پرندوں کے لئے بنایا تھا کشتی کی چوڑائی میں ایک درواشہ بھی تھا اور ایک سرپوش تھا کشتی کے اوپر ڈھانپنے کو تاکہ کثرت سے مینہ جو برس رہا تھا اس کو صدمہ نہ پہنچے۔
Ayahs 11:38–39

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور نوح کشتی بنا تا تھا جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے تو اس پر ٹھٹھا کرتے (نوح نے) کہا :'' اگر تم ہم پر ٹھٹھا کرتے ہو تو (ایک وقت) ہم تم پر ٹھٹھا کریں گے جیسا کہ تم ٹھٹھا کرتے ہو ''

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

پس عنقریب جان لوگے کہ وہ کون شخص ہے جس پر (دنیا میں) ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کرے گا اور نازل ہوتا ہے (بعد مرنے کے) اس پر دائمی عذاب

حدیث شریف میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بحکم الہی سال کے درخت بوئے۔ بیس سال میں یہ درخت تیار ہوئے۔ اس عرصہ میں مطلقا کوئی بچہ پیدا نہ ہوا اس سے پہلے جو بچے پیدا ہوچکے تھے وہ بالغ ہوگئے اور انہوں نے بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنانے میں مشغول ہوئے تو لوگ آتے جاتے کشتی بناتے دیکھ کر مسخرا پن کرتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ نبی بن کر اب کیا بڑھئی بن گئے، کبھی کہتے تھے کہ کبھی پانی کا تو پتہ بھی نہیں یہ خشکی میں کس طرح کشتی چلاؤگے۔ اور اس بات کو بھی ہنسی سمجھتے تھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے تھے کہ عنقریب تم ڈوبنے والے ہو۔ وہ کہتے تھے یہ کیونکر ممکن ہے کہ کوئی خشکی میں ڈوبے گا۔ حضرت بھی ان پر ہنستے تھے کہ یہ لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں مگر عنقریب ڈوب کر ہلاک ہونے والے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں دو سو برس میں کشتی بنی تھی اس عرصہ تک قوم نوح نے مسخرا پن کرکے اپنی بد اعمالی کی سزا کو مزید بڑھا لیا۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم (عذاب کا) آپہنچا اور تنور ابلا (غضب الٰہی سے) تو ہم نے (نوح سے) فرمایا ہر قسم (جانوروں) میں سے ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ یعنی ایک ایک جوڑا اس کشتی میں چڑھا لو اور اپنے گھر والوں کو (چڑھا لو) سوائے ان کے جن پر پہلے سے (غرق ہونے کا) حکم ہوچکا ہے اور ان لوگوں کو (بھی سوار کرلو) جو ایمال لائے ہیں، اور نوح کے ساتھ بہت ہی تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے

حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کے بیٹے کنعان کے ڈوبنے کا ذکر جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنانے سے فارغ ہوگئے تو تنور ابل پڑا۔ جس میں حضرت حوا (علیہا السلام) روٹیاں پکایا کرتی تھیں، اور میراث میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو پہنچا تھا، پس عذاب کا نشان یہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کشتی میں ہر جنس حیوان کا ایک ایک جوڑا بٹھالو اور اپنے گھر والوں کو بھی۔ مگر دیکھو جس کے واسطے ہم عذاب کا حکم بھیج چکے ہیں اس کو نہ بٹھانا۔ اس سے مراد کنعان ہے جو کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا تھا اور واعلہ ہے جو کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی تھی اور کشتی پر ایمانداروں کو بھی چڑھاؤ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ صرف تھوڑے ہی سے آدمی تھے جو ایمان لائے تھے جن کی تعداد اناسی تھی مع عورتوں کے اور مع حضرت نوح (علیہ السلام) کے اسی تھے۔