10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 10:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الر (اے محبوب کریم ﷺ) یہ (جو ہم تم پر نازل کرتے ہیں) حکمت والی کتاب (یعنی قرآن) کی آیتیں ہیں

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے وحی بھیجی ان میں سے ایک شخص (یعنی محمد ﷺ) پر کہ لوگوں (یعنی کافروں کو ہمارے عذاب سے) ڈر سنائے اور مسلمانوں کو خوشخبری دے کہ ان کے لئے پروردگار کے ہان سچ کا مقام ہے، کافر کہنے لگے کہ یہ شخص تو بلاشبہ کھلا جادوگر ہے

خواص سورة یونس : جو شخص اکیس بار سورة یونس کو پڑھے، دشمن پر فتح پاوے، اس سورة کو زعفران اور مشک سے ہرن کی جھلی پر بطور تعویذ لکھ کر بازو پر باندھنا آسیب اور جن اور پری اور ہر رنج وملال سے محفوظ رکھتا ہے۔ حضور ﷺ کی رسالت پر منافقوں کا اعتراض شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے سید عالم ﷺ کو رسالت سے مشرف فرمایا اور آپ نے اس کا اظہار کیا تو عرب منکر ہوگئے۔ اور ان میں سے بعضوں نے کہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اس سے برتر ہے کہ کسی بشر کو رسول بنائے اس پر یہ آیت نازل فرمائی، اور فرمایا کہ پہلے انبیاء بھی سب انسان ہی تھے اور نبوت ایک رحمت الٰہی ہے۔ اللہ نے اپنی مصلحت میں جس کسی کو اس رحمت کا مستحق جانا، اس کو وہ رحمت مل گئی۔ قرآن فصاحت وبلاغت، اخبار غیب اور ہر طرح کی نصیحت میں ایسا پختہ ہے کہ اس کے ان اوصاف میں کہیں کچھ خامی نہیں ہے۔ جو لوگ قرآن کو جادو اور اللہ کے رسول کو جادوگر بتلاتے ہیں یہ ان لوگوں کی نادانی ہے۔
Ayahs 10:3–4

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار اللہ ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا، پھر عرش پر قائم ہوا (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، کوئی سفارشی نہیں مگر بعد اس کی اجازت کے، یہ ہے اللہ تمہارا رب (حقیقی) پس تم اسی کی عبادت کرو پس کیا تم نہیں سمجھتے

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اللہ نے سچا وعدہ کیا ہے بیشک وہی اول بار پیدا کرتا ہے پھر فنا کے بعد وہی دوسری بار پیدا کرے گا تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے انصاف سے اور جو لوگ کہ کافر ہوئے ان کے واسطے ہے (آخرت میں) کھولتا پانی اور عذاب درد دینے والا اس سبب سے کہ وہ کافر تھے

زمین آسمان کے چھ روز میں قائم ہونے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے چھ دن مین زمین وآسمان بنائے اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ مین بنادیتا لیکن چھ دن کی مدت میں یہ حکمت ہے کہ انسان اس عادت الٰہی کو سیکھ کر ہر کام کو سہولت سے کرے۔ عرش خدا کی ساری مخلوق سے بڑا ہے۔ پھر اس آیت میں کفار کی طرف خطاب کر کے فرمایا کہ تم جو بتوں کو پوجتے ہو اور یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ یہی بت تمہاری سفارش کریں گے تو یاد رکھو کہ تمہارا رب اگر ہے تو وہی خدا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کی عبادت کرنی زیبا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کو پیدا کر کے پھر ان کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ مثلا یوں تو سورج مشرق سے نکلتا ہے لیکن اس کا مغرب سے نکلنا انتظام الٰہی میں دنیا کے ختم ہونے کی ایک نشانی قرار پائی ہے۔ منکرین حشر کا ذکر، اللہ کی وحدانیت کا ذکر منکرین حشر کی تنبیہ کے لئے فرمایا کہ اگر تم نہ مانو گے تو یہ یاد رکھو کہ تم سب کے سب اس کی طرف جانے والے ہو یعنی مر کر زندہ ہو گے اور جواب دہی کرنا پڑے گی۔ اللہ کا وعدہ حق ہے اس میں جھوٹ نہیں۔ اس نے پہلے بھی خلقت کو پیدا کیا تھا اور پھر مار کر بھی زندہ کرے گا، اور دوبارہ زندہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ثواب و عتاب میں سے جو جس کا مستحق ہوگا وہ اسی کو ملے گا۔ چناچہ خود ہی فرماتا ہے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے عمل بھی اچھے کئے ہیں۔ جنت اسی کا حق ہے جس نے ایمان لانے کے بعد نیک عمل بھی کئے، ان کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے گا۔ جو لوگ کافر ہیں ان کے واسطے دوزخ کا گرم پانی موجود ہے، جب اسے پئیں گے ان کی انتڑیاں جل کر باہر نکل آئیں گی۔ اور کفر کی سزا میں طرح طرح کے درد ناک عذاب ہوں گے۔
Ayahs 10:5–6

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی تو اللہ ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن کردیا اور چاند کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب سمجھو، اللہ نے یہ چیزیں پیدا نہیں کیں مگر درست تدبیر سے، نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے ان لوگوں کو جو علم والے ہیں

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بیشک رات اور دن کے آنے اور جانے میں اور جو کچھ خدا نے پیدا کیا ہے آسمانوں میں اور زمین میں (ان سب میں) ان لوگوں کے واسطے (توحید) کی نشانیاں ہیں جو پرہیزگاری کرتے ہیں

چاند سورج کی منزلیں، دن را اور مہینہ قدرت کاملہ کی نشانیاں اور جنت دوزخ کا ذکر اللہ پاک نے زمین وآسمان اور جو چیزیں دنیا میں ہیں، ان سب کو اپنے بندوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ آفتاب کو الگ چمک بخشی ہے جس کے سبب سے دن ہوا کرتا ہے، اور چاند کو الگ روشنی دی ہے اور وہ راتوں کو نکلا کرتا ہے۔ چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں جس میں وہ برابر آتا رہتا ہے۔ کبھی گھٹ جاتا ہے کبھی بڑھ جاتا اور پورا ہو کر پھر گھٹنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ بلکل نہیں دکھائی دیتا۔ پھر ایک یا دو روز میں ہلال بن کر نکلتا ہے۔ اسی کے سبب سے لوگ مہینوں اور سال کا حساب کرتے ہیں۔ تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے ہیں ان سب باتوں پر غور کر کے خدا پر ایمان لائے اور وہ جانتے ہیں کہ بیشک وہ وحدہ لا شریک ہے جس نے ایسی ایسی نشانیاں بنائی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں چاند اور سورج کے منہ آسمان کی طرف اور پشت زمین کی طرف ہے۔ شروع میں اسی چاند کے دورہ کے حساب سے مہینہ شروع ہوتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے سورج کے حساب سے نہیں۔ پھر فرمایا کہ دن اور رات کا الٹ پھیر بھی خدا سے ڈرنے والوں کے واسطے ایک نشانی ہے، کہ جب دن ہوتا ہے تو رات نہین ہوتی، اور جب رات ہوتی ہے تو دن نہیں۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ رات سے دن بڑا ہوتا ہے اور کبھی دن سے رات بڑی ہوتی ہے۔ کبھی دونوں برابر ہوجاتے ہیں تو سمجھدار کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بیشک کوئی اس کا بنانے والا ہے۔ چاند سورج سے آنحضرت ﷺ کے دو بڑے معجزوں کا بھی تعلق ہے۔ چاند کا معجزہ تو شق القمر کا معجزہ ہے جس کا پورا ذکر سورة القمر میں آوے گا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے شق القمر کا معجزہ چاہا اور اس کا ظہور اس وقت کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوا جنہوں نے چاند کے دو ٹکڑے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ سورج کے متعلق للہ کے رسول ﷺ کو وہ معجزہ ہے جس کا ذکر قیامت کی صحیح حدیثوں میں ہے کہ اب تو سورج ہر روز غروب کے وقت عرش معلیٰ کے نیچے جا کر سجدہ کرتا ہے اور اس کو حسب دستور دوسرے روز مشرق سے نکلنے کا حکم ہوجاتا ہے۔ لیکن قیامت کے قریب ایک روز اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ مغرب سے نکلے گا۔ اس کے بعد کسی کا ایمان لانا اور نیکی کرنا اس کو نفع نہ دے گا۔
Ayahs 10:7–10

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے ہیں ہمارے پاس آنے کی اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اسی پر مطمئن ہوگئے (آئندہ کی کچھ خبر نہیں) اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا دوزخ ہے بسبب اس کے کہ جو وہ عمل کرتے تھے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

البتہ جو لوگ کہ ایمان لائے اور اچھے عمل ان کا پروردگار ان کو بسبب ان کے ایمان لانے کے راہ دکھاتا ہے (جنت کی) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی نعمت کے باغوں میں

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان کی دعا اس جگہ سبحٰنک اللھم ہوگی (یعنی اے اللہ ! تجھے پاکی ہے) اور ان کی دعائے خیر اس جگہ ایک دوسرے سے ملتے وقت سلام علیک ہوگی اور ان کی آخری دعا یہ ہے کہ الحمد للہ رب العٰلمین (یعنی سب خوبیاں اس اللہ کے لئے ہیں جو رب ہے تمام جہان کا)

صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خواہشات دنیا سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو اور تکلیفات شرعیہ سے جنت کو ڈھانپ رکھا ہے۔ جس طرح پردہ کے اندر کوئی چیز ڈھکی اور چھپی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت تکلیفات شرعیہ کے پردہ کے اندر اور دوزخ خواہشات دنیا کے پردہ کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ اس لئے جس کسی کی تمام ہمت اور کوشش اور عمر خواہشات دنیا کے پورا کرنے اور آخرت سے غافل رہنے میں گزری اس نے گویا دوزخ کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد کیا۔ اور جس کسی کی عمر تابمقدور تکلیفات شرعیہ کی برداشت مین بسر ہوئی اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے کا قصد کیا۔ یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا، پس ہم ان لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں

دعا نیک مانگنی چاہئے : شان نزول : نضر بن حارث اور ابو جہل نے جب یہ دعا مانگی کہ اگر یہ قرآن اور حضور ﷺ ہونا سچا ہے تو یا اللہ ! ہم پر آسمان سے پھتر برسا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ تندرستی و فارغ البالی اور دنیا کی بھلائیاں جس طرح ہر وقت آدمی کو اللہ دیتا رہتا ہے، اسی طرح غصہ کے وقت کی بد دعا پر فورا اللہ آدمی کو پکڑتا رہے تو بہت جلد دنیا اور اہل دنیا کا خاتمہ ہوجاوے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے اور اپنے مال واولاد کے حق مین غصہ کے وقت بددعا نہ کیا کرو۔ ایسا نہ ہو کبھی قبولیت کے وقت وہ بد دعا منہ سے نکل جاوے اور قبول ہوجاوے، اور اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انسان کو ہر وقت کی برائی پہنچانے سے درگزر فرماتا ہے، لیکن یہ رحمت بھی نافرمان لوگوں کے حق میں ایک عذاب اور وبال ہے۔ اس لئے یہ نافرمان لوگ دنیا میں جس قدر صحت اور فارغ البالی سے رہیں گے برے کام زیادہ کریں گے۔ جس کا خمیازہ اسی قدر ان کو آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 10:12–14

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب کہ انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہماری جباب میں دعا کرتا ہے لیٹے بھی اور بیٹھے بھی اور کھڑے بھی۔ پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو ایسا ہو کر چلا جاتا ہے کہ گویا اس نے (کبھی) ہم کو اس دکھ کے دفع کرنے کے لئے جو اس کو پہنچا تھا پکارا ہی نہ تھا، یونہی بھلے دکھائے گئے ہیں حد سے گزرنے والوں کو ان کے کام (ان کی نگاہ میں)

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تم سے پہلی امتوں ہلاک کیا جب کہ وہ حد سے بڑھے اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تھے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے، ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو

مشرکین کی عادتوں کا ذکر : اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کی عادت بتلائی تھی کہ جس قدر ان کو دنیا میں تندرستی اور فارغ البالی دی جاتی ہے اسی قدر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی جاتی ہے۔ اس آیت میں دوسری عادت ان لوگوں کی فرمائی کہ تنگی کے وقت یہ لوگ سب سرکشی بھول کر اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ان کی وہ تنگی رفع کردیتا ہے تو پھر بلکل خدا سے بیگانے بن جاتے ہیں۔ آخر کو فرمایا پچھلے لوگ اس سرکشی اور ناشکری کے وبال میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے، اور حال کے لوگ ان پچھلے لوگوں کی قائم مقام کے طور پر زمین پر آباد ہوئے۔ جن کا ہر ایک کام اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہے جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی بدلہ پاوے گا۔
Ayahs 10:15–16

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جبکہ ان پر ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ کہتے ہیں جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اس کے سوا اور قرآن لے آئیے یا اسی کو بدل دیجئے (اے محبوب کریم ﷺ) تم فرماؤ : ” مجے (حق) نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے “

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

تم فرماؤ : ” اگر خدا چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا اور نہ خدا اس کی تمہیں خبر کرتا، پس میں اس سے پہلے تمہارے درمیان مدتوں رہا ہوں کیا پھر بھی نہیں سمجھتے “

مشرکین مکہ کی شرارتیں یعنی حضور سے درخواست کرتے کہ قرآن کی آیتیں بدل دیں شان نزول : جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن کی وہ آیتیں سناتے جن میں ان کے بتوں اور بت پرستی کی مذمت ہوتی تو ولید بن مغیرہ ابن امیہ اور سرکش مشرک کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں اس قرآن کو تسلیم کرانا منظور ہے تو اس میں سے اس طرح کی آیتیں جن میں ہمارے بتوں کی مذمت ہے بدل ڈالو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلی مقصود کو جان کر یہ جواب نازل فرمایا کہ : ” ان منکر قرآن لوگوں سے کہہ دو کہ تمہاری عقلوں میں اتنی بات سمجھنے کی کیا قدرت نہیں ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے سے چالیس برس پیشتر میں تمہی لوگوں میں رہتا تھا اور تم لوگ مجھ کو سچا اور امین جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں پھر یہ گمان تمہیں کیونکر ہے کہ یہ قرآن میں نے اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں یہ گمان تمہار بلکل غلط ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ خدا کا کلام ہے اور اس میں کسی کی خاطر سے کچھ ردوبدل میرے اختیار میں ہرگز نہیں ہے۔ مین فقط اللہ کے کلام کو اس کے علم کے موافق تم لوگوں کو سنا دیتا ہوں ورنہ چالیس برس چپ چاپ میں نے تم لوگوں میں کاٹ دئیے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی آیت یا سورة نازل ہوتی تھی تو آنحضرت ﷺ فورا کسی کاتب کو بلا کر اس آیت یا سورة کو لکھوا لیا کرتے تھے۔ قرآن کی صحت کا یہ انتظام اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے تھا۔ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی صحت کا یہ انتظام تھا کہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک جس قدر حصہ قرآن کا نازل ہوتا تھا اللہ کے حکم سے ہر رمضان میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس حصہ کا دور آنحضرت ﷺ سے کیا کرتے تھے، جس سے ناسخ منسوخ وغیرہ پورے طور پر ہوجاتی تھی۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا جھٹلائے اس کی آیتوں کو، بیشک مجرموں کو ہرگز فلاح نہیں ہو گی

سر کش اور نافرمان لوگوں کا ذکر ان آیتوں مطلب یہ ہے کہ مشرک اور کافر خدا کو اور اس کی آیتوں کو اور اس کے رسول کو جھٹلاتے ہیں، بہت ظلم کرتے ہیں ان کو فلاحیت نہ ہوگی اور مطلب اس کا یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب ایک شخص حضرت کے زمانہ میں عرب میں تھا، اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور اپنے جی سے آیتیں گھڑ کر کہتا تھا کہ خدا نے یہ آیتیں مجھ پر اتاری ہیں۔ اس واسطے فرمایا کہ جو شخص خدا پر بہتان باندھے اور یہ کہے کہ خدا نے مجھ پر اپنا کلام بھیجا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ خدا کی مخلوق کو دھوکا دیتا ہے کبھی فلاحیت نہ پائے گا۔ آخر جب مسیلمہ مارا گیا تو اس کے سب یار دوست علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ خود اس کے گھر کے لوگوں نے اس پر لعنت بھیجی اور پھر اس کے رشتہ داروں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آکر توبہ کی اور اسلام میں داخل ہوئے۔
Ayahs 10:18–19

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیز کو پوجتے ہیں جو نہ ان کو ضرر دے سکتی ہے اور نہ نفع پہنچا سکتی ہے اور وہ کتے ہیں کہ ” یہ تو اللہ کے یہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں “ تم فرماؤ کہ کیا اللہ کو یہ بات بتلاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں (ان سے کہہ دو کہ) وہ پاک ہے اور بری ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (شروع میں) لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوگئے (اے محبوب کریم ﷺ) اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات نہ ٹھہرادی گئی ہوتی تو جس میں کہ وہ اختلاف کر رہے ہیں ان پر (دنیا ہی میں) فیصلہ ہوگیا ہوتا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ بت خدا سے ان کی شفاعت کرے گا۔ یہ ان کی انتہا درجہ کی گمراہی ہے کہ جو دنیا میں ذرہ برابر بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ آخرت میں کیا شفاعت کرے گا۔ پھر حضرت ﷺ کو فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ تم لوگ ایسی بات خدا کو جتلا رہے ہو جس کا سر نہ پاؤں۔ بغیر حکم خدا کے کس کی مجال ہے جو کسی کی کوئی شفاعت کرے۔ پھر خدا نے اپنی پاکی بیان فرمائی کہ وہ شرک سے بلکل پاک صاف ہے اور اگر مشرک شاید یہ کہیں : ” تمہارے دین میں یہ منع ہوگا، ہمارے دین میں تو یہ منع نہیں ہے “ تو فرمایا کہ یہ عقیدہ تم لوگوں نے گھڑ لیا ہے پہلے تو اس کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ سب کے سب ایک ہی دین پر تھے جس کا نام اسلام تھا۔ اس کے بعد لوگوں کے عقیدوں میں خلل واقع ہونے لگا اور اختلاف پڑا پھر خدا نے اپنی حجت تمام کرنی چاہی کیونکہ وہ کسی کو بےحجت نہیں پکڑتا۔ اس لئے رسولوں کو بھیجنا شروع کیا تاکہ وہ مخلوق کو ہدایت کریں۔ حق وناحق ان پر کھول دیں۔ اگر حمت ناتمام کرنی ہوتی تو اب تک کب کا فیصلہ کرچکا ہوتا، یا قیامت قائم کردیتا یا ان مشرکوں کو ایک دم ہلاک در دیتا۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں : ” ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر (محمد ﷺ پر) کوئی نشانی کیوں نہیں اتری “ (اے محبوب سراپا کرم ﷺ) تم فرماؤ : ” غیب تو اللہ کے لئے ہے پس تم انتظار کرو تمہارے ساتھ میں بھی انتظار کر رہا ہوں “

کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کہ کہتے تھے : ” ہم کسی طرح جانیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں کوئی نشانی دکھائیے “۔ حالانکہ وہ لوگ بڑے بڑے معجزے آپ کے دیکھ چکے تھے۔ شق القمر کے معجزے کے علاوہ بہت سے معجزے آپ سے صادر ہوئے اور یہ قرآن کیا کم معجزہ تھا وہ تو یہ کہتے تھے : ” صفا پہاڑ کو سونا بنادیجئے “ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کہہ دو غیب کا علم نہ مجھ کو ہے نہ تم کو، بلکہ کسی مخلوق کو نہیں، خدا ہی جانتا ہے۔ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں، کیونکہ اللہ پاک تو بڑا علیم اور حکیم ہے۔ اس کی ہمشہ یہی عادت رہی ہے کہ جب کسی قوم نے اپنے رسول سے کسی بات کو کہا اور رسول نے خدا کے حکم سے اس کو پورا کیا اور اس پر بھی وہ قوم ایمان نہیں لائی تو اللہ تعالیٰ نے بہت جلد اس پر عذاب بھیج دیا۔ یہاں آنحضرت ﷺ سے بھی اللہ تعالیٰ کا یہی ارشارہ ہوا تھا لیکن آپ نے مہلت چاہی۔
Ayahs 10:21–23

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب کہ لوگوں کو مصیبت کے بعد جو ناگہاں آن پڑتی ہے ہم رحمت کا ذائقہ چکھا دیتے ہیں تو (فورا) ہماری آیتوں میں حیلہ سازی کرنے لگتے ہیں (اے محبوب ! مکرم ﷺ) تم فرمادو کہ اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے۔ بیشک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) تمہارے مکر لکھ رہے ہیں

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں پھراتا ہے۔ یہ ان تک کہ جب تم (بعض اوقات) کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں اچھی ہوا سے ان کو لے کر چلیں اور وہ اس پر خوش ہیں، ناگاہ ان کشتیوں کو تیز ہوا پہنچے اور ہر طرف سے موجیں ان پر آئیں اور انہوں نے یقین کرلیا کہ بس (اب) ان میں گھر گئے تو دعا کرتے ہیں اللہ کی جناب میں خالص اللہ کی عبادت کرنے والے ہو کر اگر تو اس سے ہمیں بچا لے گا تو ہم ضرور تیرا شکر کیا کریں گے

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پس اللہ جب ان کو نجات دے دیتا ہے ناگہاں زمین میں وہ ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں، اے لوگو ! تمہاری سرکشی تمہاری ہی جان کا نقصان ہے یہ دنیا کی (چند روزہ) زندگی کے فائدے ہیں سو اٹھا لو۔ پھر تم کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے تو اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے کہ جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے

انسان پر جب کوئی سختی ہوتی ہے اور کوئی تدبیر نہیں آتی تو خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب اس سے نجات پالیتا ہے تو اسے خیال بھی نہیں رہتا کہ مجھ پر کوئی سختی گزری تھی۔ پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے حیلے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ اللہ کی تدبیر کے سامنے تمہارے مکر وحیلہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے فرشتے ذرہ ذرہ ان کے اعمال لکھ رہے ہیں۔ جب تک ڈھیل ہے، جب پکڑے گا تو ذرا سی بھی مہلت نہ دے گا ۔ مجرم یہ گمان کر رہے ہیں کہ خدا اب عذاب نہ کرے گا۔ یہ اس کی شان ہے کہ تم کو خشکی مین اور دریا میں چلاتا پھرتا ہے، تمہاری کشتیاں موافق ہوا پاکر منزل کی طرف جلدی جلدی جاتی دکھائی دیتی ہیں اور تم خوش ہونے لگتے ہو۔ پھر یک بیک ایسی تیز ہوا چلتی ہے اور دریا میں جوش آنے لگتا ہے کہ کشتی ڈگمگانے لگتی ہے، پھر تو تمہاری جانوں پر آن بنتی ہے۔ خیال کرتے ہو کہ اب پھنس گئے اس وقت خالص خدا ہی کو یاد کرتے ہو۔ کسی بت سے مدد نہیں چاہتے۔ جب خدا بیڑا پار لگا دیتا ہے اور خشکی پر صحیح سلامت آجاتے ہو تو پھر وہی شرک جو تمہارے دلوں میں پہلے تھا کرنے لگتے ہو۔ پھر فرمایا یہ بغاوت تمہارے ہی واسطے وبال جان ہے، ہمارے پاس ایک روز تمہیں پلٹ کر آنا ہے۔ اس وقت تمہارے اعمال تمہیں بتلائے جائیں گے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی بہتری ہو تو خدا کا شکر کرے۔
Ayahs 10:24–25

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے برسایا تو اس کے سبب سے زمین سے اگنے والی چیزیں سب گھنی ہو کر نکلیں کہ جن کو انسان اور چارپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی آرائش کرلی اور ہری بھری ہوگئی اور اس کے مالک نے سمجھ لیا کہ اب وہ قابو پا گئے اس کے نفع پر (کہ یکا یک) رات یا دن میں اس پر ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کردیا گویا کہ وہ نہیں تھی کل کے روز، ہم اسی طرح مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں سوچنے والوں کے لئے

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ تم کو دار السلام (یعنی جنت) کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

انسانی زندگی کی مثال کا ذکر شان نزول : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سرکش اور نافرمان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا۔ ان آیتوں میں انسان کی زندگی کی مثال اس لئے بیان فرمائی کہ سرکش لوگوں کو عبرت ہو کہ جس زندگی کے بھروسہ پر وہ سرکشی اور نافرمانی کرتے ہیں، پھر خاک اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح انسان کی زیست کا ایک موسم شادابی کا جوانی میں آن کر ساتھ ہی اس کے گھٹاؤ کے آثار شروع ہوجاتے ہیں۔ دانت الگ جواب دیتے ہیں، آنکھیں الگ کمزوری جتانے لگتی ہیں۔ ہاتھ پاؤں کو دیکھو تو نہ وہ بل باقی ہے نہ وہ زور ہے۔ تھوڑے دنوں میں گویا درخت تھا کہ سوکھتے سوکھتے جڑ سے اکھڑ گیا۔ کھیتی کی ایک مثال اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیتوں میں دنیا کی زندگی کی بیان فرمائی ہے۔ اس لئے کہ کھیتی اور انسان کی حالت کو خاص طرح کی ایک مشابہت ہے۔ پہلے پہل جس طرح کاشتکار زمین میں بیج ڈال کر بےاختیار ہوجاتا ہے کہ خدا کی قدرت سے وہ بیج پیڑ ہو کر زمین سے نکلے یا اندر ہی اندر جل جاوے۔ اسی طرح رحم میں نطفہ کا حال ہے پھر ہر پیڑ کے لئے پودے اور انسان کے بچہ کی نشو نما اور ایک کمزوری سی کیفیت ہے۔ پھر کھیتی کا چند روزہ لہلہانا اور انسان کی جوانی دونوں ایک ہیں۔ اسی طرح کھیتی کا پکاؤ انسان کا بڑھاپا، پھر پکاؤ کے بعد اس کا کٹنا اس کا مرنا یہ بھی دونوں یکساں ہیں۔ اور اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے حشر کا حال بھی جتلایا ہے اور منکریں حشر کو قائل کیا ہے کہ وہ قادر جس کی قدرت سے ہر سال چٹیل میدان کا سرسبز کردینا باہر نہیں ہے۔ وہ اسی طرح دنیا کی ویرانی کے بعد ایک دفعہ پھر دنیا کو پیدا کرنے والا ہے۔ اور پہلی دفعہ کا پیادا ہونا آنکھوں سے دیکھ کر پھر کسی عقل کو اس قدرت کے نہ ماننے کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا (یعنی ریزہ) مردہ کے جسم میں ایسا ہے جس کو مٹی نہیں کھاوے گی۔ پھر دوسرے صور سے پہلے آسمان سے ایک مینہ برسے گا۔ جس سے ریڑھ کی ہڈی کے اس ذرہ سے سب مرے ہوئے لوگوں کے جسم بن کر تیا ہوجاویں گے۔
Ayahs 10:26–27

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لئے ہے بھلائی اور اس سے بھی زیادہ (یعنی دیدار الٰہی) ۔ اور نہ ان کے چہروں پر سیاہی چڑھے گی اور نہ ذلت، یہی لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برے کام کئے ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی اور ان پر ذلت چھائے گی، اللہ (کے غضب) سے ان کو کوئی پناہ دینے والا نہ ہوگا گویا ان کے چہرے پر اندھیری رات کے ٹکڑے ڈھانکے گئے ہیں، یہی لوگ دوزخ والے ہیں، یہ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کرنے والون کو اللہ تعالیٰ سوائے جزائے مقررہ کے اپنی طرف سے اور زیادہ انعام بھی عنایت فرماوے گا۔ اگرچہ بعضے مفسرین نے اس زیادہ انعام کی تفسیر یہ کی ہے کہ نیکیی کا بدلہ ایک درجہ تک تو جزا کا ہے، دس درجہ سے سات سو درجہ تک ثواب ملنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے ارشاد فرماوے گا کہ : ” کیا تمہارے دل میں کچھ اور زیادہ انعام کی ہوس ہے۔ اہل جنت عرض کریں گے : ” یا اللہ ! تو نے ہم کو جنت میں داخل کیا ہے یہی ہم کو بڑا انعام ہے “۔ اللہ تعالیٰ فرماوے گا : ” ابھی تمہارا انعام باقی ہے “ یہ فرما کر پھر ان کو اپنے دیدار سے مشرف فرماوے گا جو سب نعمتوں سے بڑھ کر اہل جنت کو ایک نعمت نظر آوے گی اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے جو لوگ برے عمل کرتے ہیں خواہ کفر میں مبتلا ہیں یا شرک مین یا فسق میں، مثلا چور ہیں یا راہزن رشوت خور ہیں یا حرام کا مال کھانے والے ہیں، یا نماز اور جماعت سے جی چرانے والے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کو برائی کے برابر سزا ملے گی۔ ذلت ان کو حاصل ان کی کیفیت اس دن یہ ہوگی کہ ان کے منہ ایسے سیاہ ہوں گے گویا رات کی ظلمت نے ان کے چہروں کو ڈھانک لیا ہے۔ یہی لوگ دوزخی ہیں اور جو گناہ کرتے کرتے کفر کی حد تک پہنچ گئے اور اس پر ان کا خاتمہ ہوا اور وہ ہمیشہ دوزخ مین ہی رہیں گے۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور (ڈرو اس دن سے) جس دن ہم ان سب کو (مرنے کے بعد) اٹھائیں گے پھر ہم فرمائیں گے مشرکوں سے کہ تم اور تمہارے (بنائے ہوئے) شریک اپنی جگہ پر کھڑے رہو پھر ہم ان کے درمیان جدائی ڈالیں گے اور کہیں گے ان کے شریک (ان سے) تم ہم کو نہیں پوجتے تھے

قیامت کے دن بتوں اور مشرکوں کا جھگڑا اور بتوں کا کلام کرنا پہلے صور کے ساتھ سب دنیا فنا ہو کر دوسرے صور کے سات سب قبروں سے ننگے پنڈے جو اٹھیں گے، اور شام کے ملک کے قریب ایک صاف میدان میں حساب کے لئے جمع ہوں گے۔ یہ اس وقت کا حال ہے جس وقت آفتاب نیچا ہوگا اور گرمی کی شدت سے لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے موافق پسینہ آئے گا۔ پھر مشرکوں سے سوال ہوگا کہ تم اور تمہارے شرکاء اپنے مقاموں پر ٹھہرے رہو۔ پھر ہم ان مشرکوں اور ان کے معبودوں کے درمیان جدائی کردیں گے اور کافروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے بتوں کی پرستش کیوں کی۔ کافر کہیں گے کہ ان بتوں نے ہم کو اپنی عبادت کا حکم کیا تھا۔ حق تعالیٰ ان بتوں کو گویائی عطا کرے گا وہ مشرکوں سے کہیں گے : ” تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ تم اپنے ہوائے نفسانی کی پرستش کرتے تھے۔ نہ ہم نے تم کو حکم کیا تھا نہ ہم کو حکم کی قدرت تھی۔ ہم تو بےجان تھے ہم کیا حکم کرتے “۔ اس پر کافر جھگڑا کریں گے کہ یہ بات نہیں ہے بلکہ تم نے ہمیں اپنی پرستش کا حکم کیا تھا۔ بت اس کے جواب میں کہیں گے : ” پس اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور گواہی اس بات کی کہ ہم تمہاری پرستش سے بیخبر تھے، نہ ہماری آنکھیں تھیں جن سے دیکھتے، نہ سماعت کی قوت تھی، نہ عقل وفہم “۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت مین ہر شخص اپنے عمل کا نتیجہ دیکھے گا اور نفع اور ضرر مین جس کا مستحق ہوگا وہ حاصل کرے گا اور اپنے مالک برحق کے سامنے سب کو جانا پڑے گا اور ثواب یا عذاب جس کا استحقاق ہوگا حاصل کریں گے اور کافروں کی افترا پردازیاں وہاں جاتی رہیں گی۔ مثلا وہ یہاں کہا کرتے تھے کہ بت ہماری شفاعت کریں گے حالانکہ بت ان سے بیزار ہوں گے۔
Ayahs 10:29–30

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

پس ہمارے اور تمہارے درمیان میں اللہ گواہ کافی ہے، بیشک ہم تمہارے پوجنے سے بیخبر تھے

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

یہاں ہر شخص جانچ لے گا جو کچھ (عمل) اس نے آگے (دنیا سے) بھیجے ہیں، اور اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ (دنیا میں) افترا کرتے تھے وہ ان سے گم ہوجائے گا

خدا کی قدرت کا نظارہ ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے محبوب ! (ﷺ) تم ان سے کہہ دو کہ تم جو خدا کی عبادت سے بیزار ہو۔ اتنا غور نہیں کرتے کہ تمہارے رزق کا سامان کون کرتا ہے، آسمان سے مینہ کون برساتا ہے، اور زمین کی پیدا وار کس کا کام ہے، سماعت اور بصارت کس کے اختیار میں ہے، کون ان کی حفاظت کرتا ہے، کون انہیں آفت میں پھنساتا ہے، اور انسان کو نطفہ سے، اور نطفہ کو انسان سے، پرند کو انڈے سے، اور انڈے کو پرند سے، مومن کو کافر اور کافر کو مومن سے، عالم کو جاہل اور جاہل کو عالم سے۔ کہو ذرا غور کریں کہ تمام عالم کا مدبر کون ہے۔ یہ چونکہ صاف بات ہے اور اس میں جھگڑے کی گنجائش نہیں ہے پس ان کو کہنا ہی پڑے گا کہ یہ سب کام اللہ ہی کے ہیں۔ پس اے ہمارے حبیب ﷺ تم ان سے فرمادو کہ تم لوگ انتا جانتے ہو تو اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے۔
Ayahs 10:31–33

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(اے محبوب ! ) تم فرماؤ (ان کافروں سے) ” وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو (تمہارے) کانوں اور آکھوں کا مالک ہے اور وہ کون ہے جو جاندار کو بےجان سے (یعنی پرند کو انڈے سے) نکالتا ہے اور بیجان کو جاندار سے (یعنی انڈے کو پرندے سے) نکالتا ہے، اور وہ کون ہے جو کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو (وہ ضرور جواب میں) یہی کہیں گے ” اللہ “ (ہے) ۔ پس (اے محبوب حامی بےکساں ﷺ) تم فرماؤ : ” پھر تم (اللہ کے عذاب سے) کیوں نہیں ڈرتے

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

(تو) یہ اللہ فی الحقیقت تمہارا سچا پروردگار ہے، پھر بتاؤ سچائی کے جان لینے کے بعد اور کیا ہے بجز گمراہی کے پس تم کہاں پھرے جاتے ہو

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اس طرح ثابت ہوچکی ہے بات تمہارے پروردگار کی ان فاسقوں پر کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائینگے

جب آنحضرت ﷺ کو خدا کا یہ حکم ہوا کہ ان مشرکوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کارخانہ دنیا کس نے بنایا۔ کان آنکھ نطفہ اور نطفہ سے آدمی کس نے پیدا کیا۔ جس کے جواب میں مشرکین یہی کہیں گے اللہ نے تو فرمایا اب ان کے جواب کے جواب میں یہ کہنا چاہیے کہ جب تم یہ بات مان چکے ہو کہ سوائے خدا کے اور کسی میں بھی کسی بات کی قدرت نہیں تو پھر کیوں نہیں خدا سے ڈرتے ہو اور خالص اسی کی بندگی کرتے ہو، بتوں سے کیوں غرض رکھتے ہو۔ یہ حق کے بعد کیسی گمراہی ہے۔ اپنی زبان سے آپ اقرار کرتے ہو کہ خدا کی ذات ایک ہے۔ اسی میں ہر ایک بات کی قدرت ہے، پھر بھی خدا کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ پھر فرمایا کہ خدا کی بات ان فاسقوں پر پوری اتری ۔ یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے، ان کے دلوں میں تو گمراہی بھری ہوئی ہے۔
Ayahs 10:34–36

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(اے محبوب رب کریم ﷺ ) تم فرماؤ تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو پہلی بار مخلوق کو پیدا کرے پھر (فنا کے بعد) اس کو دوبارہ اس کو پیدا کرے گا پھر تم کہا (دین حق سے) پھرے جا رہے ہو

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

تم فرماؤ : تمہارے شریکوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے کہ دین حق کی طرف راہ دکھائے۔ تم فرماؤ کہ اللہ ہی دین حق کی طرف راہ دکھاتا ہے، تو کیا جو حق کی راہ دکھائے اس کے حکم پر چلنا چاہیے ، یا اس شخص کے جو (اور کی رہنمائی تو کیا) خود ہی راہ نہ پائے جب تک کہ راہ نہ دکھایا جائے، تو تمہیں کیا ہوگیا کیونکر حکم لگاتے ہو

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر نہیں چلتے مگر گمان پر بیشک گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا بیشک اللہ جاننے والا ہے جو کچھ کہ وہ کرتے ہیں

ثبوت توحید کا ذکر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے جھوٹے دعوے کو یوں بےبنیاد ٹھہرا کر مشرکوں کو خطاب کیا اور فرمایا کہ تم جنہیں معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہو کیا ان میں یہ قدرت ہے کہ طرح طرح کی مخلوق پیدا کریں، جن چیزوں کا وجود نہیں ۔ نہ کانوں نے سنا نہ آنکھوں نے دیکھا ، کیا یہ چیزیں وہ بنا سکتے ہیں۔ ان میں کسی شے کے ایجاد کی طاقت ہے، اور پھر مخلوق کے فنا ہونے کے بعد دوبارہ ویسے کا ویسا بنا سکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ کام اللہ ہی کا ہے تم نے جن کو اپنے گمان میں معبود سمجھ رکھا ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے ۔ کیونکہ جس نے پہلے سب کچھ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس کا انکار کسی عقلمند کا کام نہیں ہے، پھر فرمایا کہ کیا تمہارے ان معبودوں میں یہ قدرت ہے کہ وہ راہ حق کی ہدایت کرسکیں گے۔ نہیں ہرگز نہیں یہ بھی خدا ہی کا کام ہے کہ سب کی آنکھوں کے سامنے اس نے انسان کو پیدا کیا۔ ان مشرکوں کے جھوٹے معبودوں میں سے کوئی اس کام میں اس کا شریک نہیں۔ تو جو طریفہ انسان کی بھلائی کا ہے اس کو بھی وہی خوب جانتا ہے۔ یہ پتھر کی مورتیں جو بغیر دوسرے کی مدد سے جگہ سے نہیں ہل سکتیں ۔ کسی کے بھلائی کے طریقہ کو یہ کیا جان سکتے ہیں۔ یہ فقط شعطان کا بہکاوا ہے جو یہ مشرک لوگ اپنے بنانے والے کو چھوڑ کر ان پتھر کی مورتوں کی تعظیم کرتے اور انہیں اپنا رہبر جانتے ہیں۔ پھر فرمایا یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اللہ کو سب معلوم ہے ایک دن ان کا کیا ان کے رو برو آوے گا۔
Ayahs 10:37–40

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ بغیر اللہ کے اتارے کوئی اپنی طرف سے با لے بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے (نازل) ہوچکی ہیں (یعنی توریت وانجیل کی) اور جو کچھ لوح میں لکھا ہے سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شبہ نہیں، سارے جہان کے پروردگار کی طرف سے (نازل ہوا ہے)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس کو انہوں نے خود بنا لیا ہے تم فرماؤ : اس جیسی ایک سورة لے آؤ اور بلا لو سب کو جو تم کو مل سکیں (مدد کے لیے) سوائے اللہ کے اگر تم سچے ہو

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ جس چیز کے علم کو یہ نہیں پہنچے انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور ابھی انہوں نے اس کا آخیر نتیجہ نہیں دیکھا، جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو کیسا ہوا انجام ظالموں کا

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے بعضے ایسے ہیں جو اس (قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور بعضے ایسے ہیں کہ ایسے پر ایمان نہیں لاتے ہیں اور تمہارا پروردگار مفسدوں کو خوب جانتا ہے

ثبوت رسالت کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ثبوت توحید کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ثبوت رسالت کے لئے قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی دلیلیں بیان کی گئی ہیں، اور فرمایا ہے کہ یہ قرآن بشر کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنایا ہوگا۔ لیکن تم یہ نہیں دیکھتے کہ اس میں پہلے انبیاء اور رسولوں کے قصے اور وہی باتیں جو پہلی قوموں کو بتلائی گئی تھیں اس میں بھی ہیں ۔ آنحضرت ﷺ کسی عالم کی صحبت میں بیٹھے اور نہ کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھا نہ کسی نے ان کو پہلی امتوں کے قصے بتلائے۔ پھر کو نکر وہ گزری ہوئی ایسی صاف ستھری زبان میں بیان کرتے ۔ یہ قرآن تو توریت وانجیل کل آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور جو جو باتیں ان میں ردو بدل کردی گئی ہیں ان کو بیان کرتا ہے۔ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے، خدا نے اپنے رسول پر اس کو اتارا ہے۔ اگر تم اس کو کسی اور کا بنایا ہوا سمجھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ محمد ﷺ نے اس کو بنایا ہے، تو وہ بھی بشر ہیں تم بھی بشر ہو۔ چلو تم بھی ایسا ہی کلام بنا کر لاؤ مگر سارا نہیں توا ایک پورا جملہ ہی اس کے مانند بنا لاؤ۔ آخر تم بھی تو عربی داں ہو۔ فصاحت وبلاغت کا تمہیں بھی تو دعویٰ ہے اگر اکیلے نہ ہو سکے تو لو عام اجازت ہے کہ اس کام میں چاہے جس سے مدد لو۔ سارے جہاں کی مخلوق اکٹھی ہوجاؤ، اپنے معبودوں کو بھی شریک کرلو جن پر تم کو بہت بھروسہ ہے۔ مگر مشرک اس کو بھی سن کر دم بخود ہوگئے اور قرآن کے کلام الہی ہونے کا بےٹھکانے انکار ہی کرتے رہے۔ پھر فرمایا کہ قرآن میں جس عذا اب کا وعدہ ایسے لوگوں کے حق میں ہے اس عذاب کا حال ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ کیونکہ ابھی وہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں آیا۔ عذاب سے پہلے اسی طرح پہلی امتوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا اور آخر اپنی سزا کو پہنچے۔ پھر فرمایا ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ ایمان لاتے ہیں ، قرآن کو مانتے ہیں، رسول کی پر وی کرتے ہیں اور بعضے ایمان نہیں لاتے کفر کی حالت میں ہی مر جاتے ہیں۔ خدا ان مفسدوں کے حال سے خوف واقف ہے۔ وقت مقررہ پر ایسے لوگ اپنی شرارتوں کی پوری سزا پاویں گے۔