10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 10:76–82

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پس جب ان کے پاس حق بات آئی ہماری طرف سے تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے : کیا تم حق کی بابت ایسا کہتے ہو جب کہ وہ تمہارے پاس آیا کیا یہ جادو ہے اور جادوگر فلاح کو نہیں پہنچا کرتے

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

کہنے لگے کہ کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہم کو اس دین سے پھیر دو کہ جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور اس لیے کہ زمین میں تم دونوں کی سرداری ہوجائے، اور ہم تو تم پر ایمان لانے والے نہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا : ہر جادوگر علم والے کو میرے سامنے حاضر کرو

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پس جس وقت جادوگر حاضر ہوئے (اور مقابلہ کا بازار گرم ہوا) ان سے موسیٰ نے کہا : تمہیں جو کچھ (میدان میں) ڈالنا ہے ڈالو

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے (اپنا جادو کا سامان) ڈالا تو موسیٰ نے کہا : تم جو کچھ بنا کر لائے ہو یہ جادو ہے۔ بیشک اللہ اسے جلد باطل کردے گا کیونکہ اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ حق کرتا ہے اپنے حکم سے حق بات کو اگرچہ مجرموں کو ناگوار ہو

آنحضرت ﷺ کی تسکین کا ذکر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اکثر منکر لوگوں نے پیغمبروں کے معجزوں کو جادو اور پیغمبروں کو جادوگر بتلایا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور ید بیضا کو دیکھ کر جادو کہا، فرعون جس ذلت اور خواری سے ہوا اس کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور سورة طہ اور سورة شعراء اور سورة قصص میں پھر آئے گا۔ اس قصہ میں بھی آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ اگرچہ قریش معجزہ اور قرآن کو جادو اور اے نبی تم کو جادوگر بتلا رہے ہیں ۔ بالاآخر فرعون کے جادوگروں کی طرح اکثر ان میں سے قائل ہو کر اسلام لائیں گے اور فرعون کی جو طرح سرکشی پر اڑے رہیں گے، ہلاک کردیئے جاویں گے، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تیرہ برس کی آنحضرت ﷺ کی کوشش سے جس مکہ میں سو کے قریب مسلمانوں کی تعداد تھی دس برس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا مقررہ وقت آگیا تو سارا مکہ مسلمانوں سے بھر گیا اور آج تک یہ ہدایت کا اثر باقی ہے کہ سوائے مسلمان کلمہ گو کے اور کوئی مکہ معظمہ میں نظر نہیں آتا اور مشرکین مکہ میں سے جو لوگ مرتے دم تک راہ راست پر نہیں آئے ان کا انجام بدر کی لڑائی میں جو ہوا وہ کچھ تو بدر کی لڑائی کے قصہ میں گزر چکا ہے اور کچھ آگے آتا ہے غرض ہر کام کا اللہ کی طرف سے وقت مقرر ہے، وقت کا منتظر رہنا چاہئے گھبرانا نہیں چاہئے۔ فوائدالقرآن : آیت ان اللہ سیبطلہ اور آیت فلما جآءھم الحق اور آیت ولا یفلح السٰحر حیث اتیٰ پانی پڑھ کر وہ پانی جادو کے اثر والے شخص کے سر پر ڈالا جاوے تو فوراً فائدہ تو جاتا ہے۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر ایمان نہیں لائے سوائے کچھ لوگوں کے جو اس کی قوم کی اولاد سے تھے اور، فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف سے کہ کہیں انہیں (دین سے) ہٹنے پر مجبور نہ کریں، اور بیشک فرعون ملک (مصر) میں (بڑا ہی) سرکش (بادشاہ) تھا، اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ حد سے گزر گیا تھا

آحضرت ﷺ کو اس بات کا بھی رنج رہتا تھا کہ نبی ہونے کے بعد تیرہ برس آپ مکہ میں رہے، اور مکہ میں کچھ کم سو آدمی مسلمان ہوئے۔ آپ چاہتے تھے کہ اسلام جلدی جلدی زور پکڑے اور جھٹ پٹ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت قائم ہوجاوے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ سے آپ کی تسکین فرمائی کہ یہ رنج کرنے کی بات نہیں ہے، منکروں کے دل بڑی مشکل سے پھرتے ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) کا ایسا بڑا معجزہ قبطیوں نے دیکھا کہ جادوگر سب ہار گئے مگر قبطیوں میں سے چند ہی آدمی مسلمان ہوئے۔
Ayahs 10:84–86

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا : اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم حکم بردار ہو

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تب انہوں نے کہا : ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے (ہم دعا کرتے ہیں) کہ اے پروردگار ! ہم کو اس ظالم گروہ کے لیے آزمائشوں کا موجب نہ بنائیو

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور ہم کو اپنی رحمت سے کافروں کے گروہ سے نجات دے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے جو ایمان لا چکے تھے، یہ کہا کہ جب تم ایمان لا چکے اور مسلمان ہوگئے تو اب خدا ہی پر بھروسہ کرو۔ اور فرعون اور اس کے گروہ کا کوئی خوف نہ کرو۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے خدا پر بھروسہ کرلیا اور پھر خدا سے دعا کی :" اے خدا ! ہم کو اس ظالم قوم کے فتنہ سے بچائیو، اور ان کو ہم پر فتح یاب نہ کیجیئو۔ ورنہ فرعون اور اس کی ساری قوم یہی کہے گی کہ ہم حق پر ہیں اور ایسی باتیں دل میں سوچ کر اور زبان سے کہہ کر یہ لوگ فتنہ میں پڑیں گے۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی (ہارون) کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنی قوم کیلئے شہر مصر میں گھر بناؤ اور کرو اپنے گھروں کو قبلہ رو (یعنی نماز کی جگہ قرار دے لو) اور نماز قائج رکھو اور مسلمانوں کو خوشخبری سنا دو

جب فرعون اور اس کے ہمراہیوں پر عذاب آنے کا زمانہ قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی کے یہ حکم دیا کہ تم اپنی قوم سمیت ان کفار سے علیحدہ ہوجاؤ اور الگ اپنا ایک محلہ بسا لو اور گھروں کا رخ قبلہ کی طرف رکھو۔ اس میں نماز پڑھا کرو تاکہ فرعون کے ظلم سے امن میں رہو۔ نماز کا حکم اس واسطے ہوا تھا کہ کثرت سے نماز پڑھنے سے بلائیں دفع ہوا کرتی ہیں۔ نصیحت کے موافق بنی اسرائیل نے توحید اور شریعت موسوی کے احکام کی تعمیل کا اقرار جب کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق ان کو نجات کی خوشخبری دی۔
Ayahs 10:88–89

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا : اے رب ہمارے ! بیشک تو نے فرعون اور اس کے قبیلے کو زینت (کے سامان) اور مال دنیا کی زندگی میں دیے اے رب ہمارے ! (یہ) اس لی کہ (لوگوں کو) تیری راہ سے بہکا دیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ان لوگوں کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

خدا نے فرمایا : میں نے تم دنوں کی دعا قبول کی تو اب تم ثابت قدم رہو اور نادانوں کی راہ پر نہ چلو

فرعون کا قصہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا قبول ہونا فرعون کے ہلاک ہونے سے پہلے اس کی اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ان لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب ان کے مال ومتاع ہیں، اور مالداری اور عیش و آرام کے غرور میں یہ لوگ خود بھی نصیحت نہیں سنتے اور اوروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس غصہ کے خیال میں دعا مانگی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے گئے۔ دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ ان لوگوں کو تو نے مال ومتاع جو دیا ہے وہ ان سے چھین لے، اس لئے کہ ان کا یہ مال ان کے خود گمراہ ہونے اور اوروں کو گمراہ کرنے کا سبب ہے۔ اور اس مال کے چھین لینے کے بعد ان کو ایسا فاقہ مست بنا دے کہ بغیر مال کے بھی ان کا وہی غرور اور سرکشی باقی رہے اور اس غرور اور سرکشی کے سبب سے جھٹ پٹ تیرا عذاب نازل ہو۔ خدا کی پناہ ! نبی کی بدعا تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری اور تمہارے بھائی ہارون (علیہ السلام) دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ مگر تم جلدی نہ کرو خاطر جمع رکھو اور اپنے کام پر جمے رہو۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تھی اور ہارون (علیہ السلام) نے آمین کہی تھی اس لئے خدا نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آمین کہنے والے کو بھی دعا کرنے والا ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
Ayahs 10:90–92

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا، پس ان کے پیچھے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر گیا کہ ظلم اور زیادتی کریں یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے کو ہوا تو کہنے لگا " میں ایمان لایا کہ نہیں ہے کوئی سچا معبود سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(کہا گیا):" کیا اب تو ایمان لاتا ہے اور بیشک اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور تو مفسدوں سے تھا "

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس آج کے دن تیری لاش کو دریا سے باہر ایسی جگہ ڈال دیں گے تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے عبرت ہوجائے اور بیشک بہت سے لوگ تو ہاری آیتوں سے غافل ہیں

فرعون کا ڈوبنا ، قادر مطلق کی بہت بڑی نشانی ان آیتوں میں فرعون اور اس کے رفیقوں کی دریا میں ڈوبنے کی کیفیت بیان کی گئی کہ ہم نے بنی اسرائیل کو دریائے قلزم سے صحیح و سلامت پار اتار دیا۔ پھر فرعون اور اس کے لشکر نے بنی اسرائیل پر ظلم اور زیادتی کرنے کے واسطے ان کا تعاقب کیا۔ جب دریا کے کنارے پر پہنچے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ گھوڑی پر سوار ہو کر فرعون کے سامنے سے نکلے۔ فرعون کا گھوڑا بھی گھوڑی کے پیچھے ہو لیا اور دریا میں جا پڑا اور اس کے لشکر والوں نے اس کی پیروی کر کے اپنے تئیں دریا میں ڈال دیا۔ فرعون جب غرق ہونے لگا ہلاک ہونے کے قریب پہنچا اس وقت اس نے کہا کہ میں اس خدا پر ایمان لایا جو وحدہ لا شریک ہے، وہ خدا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ فرعون نے بہ تمنائے قبول ایمان کا مضمون تین مرتبہ تکرار کے ساتھ ادا کیا لیکن یہ ایمان قبول نہ ہوا کیونکہ ملائکہ اور عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان مقبول نہیں اگر حالت اختیار میں وہ ایک مرتبہ بھی یہ کلمہ کہتا تو اس کو ایمان قبول کرلیا جاتا لیکن اس نے وقت کھو دیا۔ اس لئے اس سے یہ کہا گیا حالت اضطرار میں جبکہ غرض میں مبتلا ہوچکا اور زندگی کی امید باقی نہیں رہی اس وقت ایمان لاتا ہے۔ خود گمراہ تھا دوسروں کو گمراہ کرتا تھا۔ جب فرعون اور اس کی قوم غرق ہوئی تو بنی اسرائیل کو اندیشہ ہوا کہ فرعون ہلاک نہیں ہوا اور دم کے دم میں کشتیاں تیار کر کے اپنے لشکر دریا کے پار اتار لائے گا اور ہمارے پیچھے آئے گا۔ تو حق تعالیٰ نے فرعون کی لاش پانی پر تیرائی اور لاش کو دریا سے باہر اونچے ٹیلے پر پھینک دیا تاکہ وہ لوگ جو کہ تیرے پیچھے ہوں وہ اس کو خدا کی قدرت کا نمونہ سمجھیں اور عبرت پکڑیں ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ باوجود یہ کہ ہم اپنی قدرت کی نشانیاں لوگوں کو دکھاتے ہیں دلائل توحید سب کو سناتے ہیں مگر بہت سے لوگ توجہ نہیں کرتے۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی اور ہم نے انہیں ستھری روزی عطا کی تو بنی اسرائیل نے (دین میں) نہ اختلاف ڈالا مگر علم (یعنی قرآن) آنے کے بعد، بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جب بات میں وہ اختلاف کرتے تھے

بنی اسرائیل کا واقعہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل یعنی یقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو فرعون اور اس کی ہلاکت کے بعد اچھی اور پاکیزہ جگہ دی جیسے کہ ہمارے سچے وعدہ کے لائق تھے۔ پہلے تو ملک شام پھر مصر دیا ، اور پاکیزہ اور لذیذ چیزیں ان کے کھانے کے لئے ہم نے تجویز کیں۔ اور ایک گروہ کے قول کے موافق یہاں بنی اسرائیل سے رسول مقبول ﷺ کے زمانہ کے یہود مراد ہیں ۔ پس انہوں نے اختلاف دین کے امر میں جہالت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ باوجود علم اور واقفیت کے اور رسول اللہ ﷺ کی صفت توریت میں دیکھنے کے بعد وہ اختلاف میں مبتلا ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے اختلاف کا فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت میں کرے گا۔
Ayahs 10:94–97

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

پس اے سننے والے ! اگر تجھے کچھ شبہہ ہو اس میں جو ہم نے تیری طرف بھیجا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں (یعنی علمائے اہل کتاب) البتہ تیرے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے حق آیا ہے، پس ہرگز شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہونا

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں سے ہونا کہ جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں (اگر ایسا کروگے) تو اس وقت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

بیشک تیرے پروردگار کا حکم جن لوگوں پر ثابت ہوچکا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

اور اگرچہ ان کے پاس ہر طرح کی نشانیاں بھی آجاویں یہاں تک کہ وہ درد دینے والے عذاب کو دیکھ لیں

کفار سے علیحدہ رہنے کا حکم اوپر یہود کی پھوٹ کا حال تھا کہ اس پھوٹ میں بعضے ان میں سے راہ راست پر آگئے اور جان گئے کہ توراۃ میں جن نبی آخرالزماں کے اوصاف ہیں بلا شک یہ وہی نبی ہیں۔ اس ذکر کو پورا کرنے لئے ان آیتوں میں فرمایا :" اے رسول ﷺ اللہ کے ! اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ آیا تمہارے اوصاف تفصیل سے توراۃ میں ہیں یا نہیں، تو تم آج لوگوں سے دریافت کرلو جو اگلے رسولوں کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جو اہل کتاب تم پر ایمان لا چکے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وہ اب کوئی بات چھپانے کے نہیں "۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں شک کرتا ہوں اور نہ مجھے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! جو لوگ خدا کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں تم ان سے الگ تھلگ رہو۔ یہ لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ان پر خدا کی بات پوری اتری ، جو خدا نے ابلییس سے کہی تھی کہ تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے دوزخ کو بھر دوں گا۔ یہ اس وقت زبان سے ایمان کا لفظ نکالیں گے جب عذاب آتے ہوئے دیکھیں گے۔ مگر اس وقت کے ایمان اسے ان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

پس کیوں نہ ہوئی ایسی بستی (جن کو ہم نے ہلاک کیا) کہ ایمان لائی تو (نزول عذاب سے پہلے) اس کا ایمان لانا نفع دیتا مگر یونس کی قوم جب وہ ایمان لے آئی تو ہم نے ان سے عذاب اٹھا لیا رسوائی کا دنیا کی زندگی میں اور ایک مدت تک ہم نے ان کو عیش دیا

منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر اور ہدایت اوپر ذکر تھا کہ یہ نافرمان لوگ جب تک آنکھوں سے عذاب کو نہ دیکھ لیں گے اس وقت تک ایمان نہ لاویں گے۔ اس آیت میں فرمایا کہ عذاب آتے ہوئے دیکھ کر ایمان لانے سے کسی قوم کو کسی بستی میں عذاب سے رہائی نہیں ہوئی مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم کو ان کا قصہ سورة صافات میں آوے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ایمان لانے کو کہا مگر انہوں نے انکار کیا اس لئے انہوں نے کہا کہ فلاح روز تم پر عذاب آوے گا۔ اور خود وہاں سے نکل کر چلے گئے۔ جب قوم نے دیکھا کہ عذاب کا نمونہ آگیا تو سب نے جنگل میں جا کر گڑ گڑا کر دعا مانگی جس پر اللہ تعالیٰ کو رحم آگیا اور اس نے عذاب کو ٹھہرا دیا۔ فضائل القرآن : لا الہ الآ انت سبحٰنک انی کنت من الظالمین آنحضرت ﷺ نے فرمایا :" یونس (علیہ السلام) کی اس دعا میں اسم اعظم ہے اس لئے اس کو پڑھ کر جو دعا مانگی جاوے گی وہ قبول ہوگی "۔
Ayahs 10:99–100

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو بیشک ایمان لے آتے سب کے سب جتنے زمین میں ہیں پھر کیا تم لوگوں پر زبردستی کروگے تاکہ مسلمان ہوجائیں

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی شخص کی طاقت نہیں کہ اللہ کے بغیر حکم کے ایمان لے آوے اور (کفر کی) گندگی کو مسلط کردیتا ہے اللہ ان لوگوں پر جو (حق بات) نہیں سمجھتے

آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خوہش تھی کہ سارے لوگ مسلمان ہوجاویں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں میں عقبیٰ کی ببہودی کے سمجھنے کا مادہ نہیں ہے خدا کی دلیلوں میں حجت نکالتے ہیں وہ کیونکر ایمان لاسکتے ہیں۔
Ayahs 10:101–103

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(اے محبوب دو عالم ﷺ) تم ان لوگوں سے فرماؤ : دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا چیزیں ہیں اور جن کے نصیب میں ایمان نہیں ان لوگوں کو نہ تو (قدرت کی) نشانیاں ہی فائدہ کرتی ہیں اور نہ ڈرانیوالے (کی ہدایتیں)

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

پس انہیں کا ہے کا انتظار ہے مگر انہیں لوگوں کی سی مصیبتوں کا جو ان سے پہلے ہو گزرے (اے محبوب کریم ﷺ) تم فرماؤ (اچھا) انتظار کرو البتہ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے رسول کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے نجات دیں گے بات یہی ہے ہمارے کرم پر حق ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں

اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا۔ ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین وآسمانہ میں کیا کچھ نہیں ہے۔ اگر تم لوگ غور وفکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ۔ چاند سورج، دن کا ہونا، رات کا ہونا، ستاروں کا نکلنا، بارش کا ہونا غرضیکہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتا تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ قدرت کی سب نشانیاں اسی کو کار آمد ہیں جو ایمان لاوے اور جو ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ نشانیاں کیا فائدہ پہنچائیں گی۔ کیونکہ ان لوگوں کو بھی اسی روز بد کا انتظار ہے، جیسے اگلے رسولوں کی قوم کو تھا کہ اپنے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور آخر ایک روز ان پر عذاب آیا اور وہ اس سے نہ بچ سکے۔ اگر یہ بھی اس کے منتظر ہیں تو کہہ دو کہ کان اور آنکھیں اس کی راہ پر رکھو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔ یہ یاد رکھو کہ اللہ کا عذاب جب آتا ہے تو وہ اپنے رسول اور مومنوں کو بچا لیتا ہے اور رسولون کے جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیتا ہے۔ وہ مومنوں کو نجات دے گا اور پناہ میں رکھے گا۔
Ayahs 10:104–105

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

تم فرماؤ اے لوگو ! اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شبہ میں ہو پس (سن لو کہ) اللہ کے سوا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں تو ان کو پوجنے کا نہیں لیکن میں تو اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ایمان والوں میں سے ہوں

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا یہ کہ اپنا رخ دین کے لیے سیدھا رکھوں حنیف ہوکر (یعنی مخلص مومن رہوں) اور ہر گز مشرکوں میں سے نہ ہوں

مشرکین کو ہدایت ان آیتوں میں یہ حکم ہے کہ اے رسول تم اپنے دین اور ان مشرکوں کے دین میں فرق بتلادو، کہ جو دین میں لے کر آیا ہوں اگر تم اس کو صحیح نہیں جانتے اور اس میں شک کرتے ہو تو سن لو کہ تم خدا کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو ہم ان کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے۔ ہم تو اس خدا کی عبادت کرتے ہیں جو بلکل اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کے قبضہ میں تمہاری جان ہے۔ اس نے پیدا کیا، اور وہی تمہیں موت کا بھی مزا چکھائے گا، اور پھر یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہاری جان پر جس کا پورا پورا اختیار ہے، وہ آسانی سے تم پر عذاب کرسکتا ہے۔ اور یہ تمہارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ کسی کو کچھ نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے اور مجھے اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں ہمیشہ خالص اللہ کی عبادت کروں اور مشرکوں کے زمرہ سے الگ رہوں۔
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا اس کو ہرگز نہ پکارنا کہ جو تجھ کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان، پس اگر ایسا کیا تو اس حالت میں تو ظالموں میں سے ہوگا

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو نصیحت کرتے وقت یہ فرمایا کہ ہر طرح کی مدد کی خواہش تجھ کو اللہ تعالیٰ ہی سے کرنی چاہیے۔ کیونکہ تمام دنیا تجھ کو ضرر پہنچانا چاہے یا نفع جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو نہ کوئی تجھ کو نفع پہنچا سکتا ہے، نہ کچھ ضرر پہنچا سکتا ہے۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر خدا تجھے کوئی رنج پہنچائے تو بجز اس کے کوئی اس کا رفع کرنے والا نہیں اور اگر تجھے بھلائی ہپنچائے تو اس کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

حضور ﷺ کو صبر کی تلقین اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو مخاطب ٹھہرا کر بت پرستوں کو یہ سمجھایا ہے کہ اگر تم پر کوئی آفت آجاوے تو خدا کے سوا کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا ۔ اور اگر خدا تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو کسی کا مقدور نہیں کہ اسے روک سکے۔ خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فضل کرتا ہے ۔ وہ بڑا غفور الرحیم ہے۔
Ayahs 10:108–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

تم فرماؤ : اے لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا پھر جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو اپنے بھلے کیلئے اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے اپنی خرابی کو گمراہ ہوتا ہے اور (کہو) میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور اے محبوب ! (کریم ﷺ) تمہاری طرف جو کچھ وحی بھیجی جاتی ہے اسی پر چلو اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کو اس آیت میں حکم ہوا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ جو دین اور کتاب میں لے کر آیا ہوں اس میں کوئی شک وشبہ نہٰیں ہے۔ جو اس سے ہدایت پائے گا وہ اپنی ہی جان کے لئے پائے گا اور اپنا فائدہ اٹھائے گا۔ دوسروں کا اس میں کچھ حصہ نہیں اور جو اس کو نہ مانے گا وہ گمراہ کا گمراہ ہی رہے گا۔ اس کا وبال اسی کی گردن پر ہوگا اوروں کو اس سے کوئی علاقہ نہیں ۔ اور میں تم لوگوں پر نگہبان نہیں ہوں کہ سب ہی کو ایماندار بنادوں۔ مجھے تو خدا نے راستہ بتانے کو بھیجا ہے جو خدا کا پیغام ہے وہ تمہیں پہنچا دیتا ہوں، اور پھر خاص حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم کیا کہ آپ تو وحی کی اتباع کرتے رہیں اور جب تک خدا ان لوگوں کا کوئی فیصلہ نہ کرے آپ صبر کئے رہیں۔ وہ بڑے انصاف کے ساتھ انصاف کرنے والا حاکم ہے۔