10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمظہر القرآن

Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو فرما دو میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہار عمل تمہارے لیے ہے تم بےتعلق ہو اس سے جو میں کرتا ہوں اور میں بےتعلق ہوں اس سے جو تم کرتے ہو

شرک کی مذمت ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ توحید اور رسالت کی پوری فہمائش کے بعد بھی شرک اور رسالت کے جھٹلانے سے باز نہ آویں تو اے رسول اللہ ! ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ کیونکہ علم الہی میں جو لوگ نافرمان قرار پا چکے ہیں وہ کسی فہمائش سے راہ راست پر نہ آویں گے۔ ان نافرمان لوگوں سے یہ کہہ دیا جاوے کہ نیک وبد کی جزا وسزا کا ظہور وقت مقررہ پر ہونے والا ہے، اس وقت یہ لوگ اپنے کئے کی سزا پوری بھگت لیں گے۔
Ayahs 10:42–43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے (بھی) ہیں کہ (ظاہر میں) تمہاری طرف کان لگاتے ہیں پھر کیا تم بہروں کو سناؤگے اگرچہ وہ سمجھ نہیں رکھتے ہوں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ (ظاہر میں) تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں، پھر کیا تم اندھوں کو راہ دکھاؤ گے اگرچہ وہ نہیں دیکھ سکتے ہوں

مشرکین کا ذکر ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ایک اور حال بیان فرمایا ہے کہ جب قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو یہ لوگ سنتے ہیں۔ مگر اس سننے سے ان کا مقصود یہ نہیں ہوتا کہ اس پر ایمان بھی لاویں، فقط سننا ہی سننا ہے۔ اسی طرح اے رسول اللہ کے، ان لوگوں میں بعضے تمہاری طرف دیکھتے ہیں کہ ظاہر ظاہر معجزے اللہ تعالیٰ نے تم کو دیئے ہیں مگر یہ دیکھنا ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اس دیکھنے سے وہ ایمان لانے کا ارادہ نہیں کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں کہ یہ سب راہ راست پر آجائیں تو یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ جس طرح بہروں اور اندھوں کو نہ تم کچھ سنا سکتے ہو ، نہ دکھا سکتے ہو، اسی طرح ان کے دلوں کو قابو میں کر کے ان کی ہدایت بھی نہیں کرسکتے ، کیونکہ ان لوگوں میں ایمان لانے کی اور حق ناحق سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ یہ بعینہ جانور ہیں دیکھتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں مگر ان میں سمجھنے کا مادہ نہیں ہے۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

بیشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا ہے و لیکن لوگ اپنی جانوں پر آپ ہی ظلم کرتے ہیں

یہاں فرمایا کہ اللہ کو ظلم نہیں پسند، اپنی ذات پر بھی ظلم کو حرام کیا ہے اور اپنے بندوں پر بھی ظلم کو حرام کردیا ہے کہ آپس میں کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان کو (دوبارہ زندہ کرکے) اٹھائے گا (تو خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا یا برزخ میں) کچھ بھی نہ رہے تھے مگر سارے دن کی ایک گھڑی رہے ہوں گے، (اور) آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی) بیشک جنہوں نے اللہ کے سامنے جانے کو جھٹلایا بیشک وہ تو نقصان میں رہے اور وہ ہدایت پر آنیوالے بھی نہ تھے

حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ نافرمان لوگ اب تو دنیا میں اپنا قیام دنیاوی ہمیشہ کا خیال کر کے غفلت میں عمر گزار رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ دنیا کے خالی رہنے میں انہوں نے بہت کچھ پھل پایا، لیکن قیامت کے دن یہ لوگ جب اپنی کمائی اور اپنا دنیا کا رہنا آخرت کے نفع سے بلکل خالی پاویں گے اور فرمانبرداروں کو دیکھیں گے کہ ان کے دنیا کے کاموں نے ان کو بہت کچھ نفع دیا اور انہوں نے اپنی نافرمانی کی سزا میں بہت کچھ نقصان اٹھایا تو یہ لوگ اپنے دنیا کے رہنے کو بلکل حقیر اور گھڑی دو گھڑی کا لگاؤ خیال کریں گے۔
Ayahs 10:46–47

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم تم کو دکھا دیں کچھ اس میں سے جس کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں یا تم کو پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں بہرحال ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہوا ہے، پس جب ان کا رسول اتا تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردیا جاتا اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ عذاب کا وعدہ سن کر اس وعدہ کے ظہور کی جلدی کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا کہ " اے رسول ﷺ اللہ کے ! ہم تمہارے سامنے ان کافروں کو غارت کردیں گے اور ان کے کردار کی سزا دیں۔ دنیا میں تمہاری حیات ہی میں ان کو دیں یا ان کو اسی حال پر چھوڑ کر تمہیں اپنے پاس بلا لیں۔ ہر حال میں یہ لوگ ایک دن ہمارے رو برو حاضر ہونے والے اور اپنی بد اعمالی کی سزا بھگتنے والے ہیں۔ کیونکہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ ذرہ ذرہ کا ایک دن مواخذہ ہوگا۔
Ayahs 10:48–49

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (عذاب کا) کب آئے گا اگر تم سچے ہو (تو عذاب لاؤ)

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

تم فرماؤ : میں اپنی جان کے برے بھلے کا (ذاتی) اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے، ہر گروہ کے لیے ایک میعاد مقرر ہے جب اس کی میعاد آئے گی تو نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتی ہے نہ آگے بڑھ سکتی ہے

مشرکین کا مسخرا پن کہ قیامت کب آئے گی اور عذاب کب آئے گا شان نزول : جب اوپر کی آیت میں عذاب کی وعید دی گئ تو کافروں نے براہ سر کشی یہ کہا کہ اے محمد ﷺ ! جس عذاب کا آپ وعدہ دیتے ہیں وہ کب آئے گا ۔ اس میں کیا تاخیر ہے، اس عذاب کو جلد لایئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! تم ان سے کہہ دو کہ دشمنوں پر عذاب نازل کرنا اور دوستوں کی مدد کرنا اور انہیں غلبہ دینا یہ سب مشیت الہی پر ہے۔ اور مشیت الٰہی میں اس کے ہلاک و عذاب کا ایک وقت معین ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ جب آجاتا ہے تو گھڑی بھر بھی دیر نہیں لگتی ۔
Ayahs 10:50–52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

(اے محبوب خالق ارض و سما ﷺ) تم فرماؤ کہ یہ تو بتاؤ اگر اس کا عذاب تم پر رات کو آئے یا دن کو تو یہ (بتلاؤ) کہ اس عذاب میں سے کون سی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

پھر کیا جب وہ واقع ہوجائے گا تب اس کا یقین کروگے، اس وقت کہا جاوے گا، اب تم ایمان لاتے ہو پہلے تو اس کی تم جلدی مچاتے تھے

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر تم ظالموں کو یہی کہا جاوے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو، تم کو اسی کی سزا دی جاتی ہے کہ جو تم (دنیا میں) کرتے تھے

مطلب یہ ہے کہ جس طرح عذاب کی جلدی مسخرہ پن کے طور پر کرتے تھے، اسی طرح دنیا کے عذاب کی بھی جلدی کرتے تھے اور حضرت رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ تم عذاب عذاب کہا کرتے ہو تو اپنے خدا سے کہہ کر ہم پر عذاب بھیجوا دو ۔ اس لئے فرمایا :" اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اب تو عذاب کی جلدی کر رہے ہو اور جب عذاب راتوں رات جس وقت تم غافل پڑے سوتے وہ، یا دن کو جب تم اپنے کام دھندے میں لگے ہوتے ہو، اچانک آجاوے گا تو پھر کس بات کی جلدی کرو گے۔ عذاب ایسی بری چیز ہے جس کے نام سے لوگ ڈرتے ہیں تو کیا عذاب آجانے سے تم ایمان لاؤ گے، وہ بیکار ہوگا "۔ پھر فرمایا کہ قیامت کے دن جب یہ مجرم دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور عذاب میں گرفتار ہوں گے، اس وقت ان سے کہا جاوے گا کہ تم دنیا میں عذاب کی جلدی کرتے تھے اس کا مزہ چکھو اور ہمیشہ چکھتے رہو۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے پوچھتے ہیں : کیا یہ وعدہ حق ہے ! تم فرماؤ : مجھے اپنے رب کی قسم ! البتہ وہ برحق ہے اور تم (اللہ کو عاجز نہ کرسکو گے (کہ وہ عذاب دینا چاہے اور تم بچ جاؤ)

قیامت کی تصدیق مشر ک لوگ یہ بھی پوچھتے تھے کہ کیا سچ مچ قیامت ہوگی اور اس کے انکار کرنے والوں کو عذاب ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو قسم خدا کی ! قیامت ضرور ہونے والی ہے۔ تم یہ نہ خیال کرو کہ ہم مٹی کے ڈھیر ہو کر پھر قبر سے کیوں کر نکل آئیں گے وہ دوبارہ پیدا کرسکتا ہے جس طرح اس نے پہلے پیدا کیا ہے۔ اس کا ایک فقط کن کا حکم کافی ہے، پھر اگر تم بھاگنا بھی چاہو تو رستہ نہ ملے گا۔ نہ کوئی حیلہ حوالہ پیش ہو سکے گا بلکہ عذاب ہو کر رہے گا۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگرچہ ہر نفس ظالم کے پاس ہو جو کچھ زمین میں ہے البتہ ان کو چھڑائی میں دے دے (تو رہائی نہ ہوگی) اور (کافر) جب عذاب دیکھیں گے تو دل میں پشیمانی کو پوشیدہ رکھیں گے اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا

عذاب دوزخ کا ذکر صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ اس آیت کی تفسیر خود آنحضرت صلی نے ہوں فرمائی ہے کہ قیامت کے دن ہلکے عذاب والے دوزخی سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے شخص ! تیرے پاس دنیا بھر کا مال ومتاع اور اولاد ہو تو اپنی نجات کے بدلے میں اس مال واولاد کے دینے پر راضی ہے۔ وہ کہے گا کہ ہاں میں راضی ہوں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ جب تو دنیا میں پیدا نہیں ہوا تھا اور آدم کی پشت میں تیرا نطفہ تھا، اس وقت میں نے تجھ سے ایک چھوٹی سی بات کا یوم المیثاق لیا تھا کہ تو دنیا میں جا کر نافرمانی نہ کیجیئو مگر تو نے نہ مانا اب بدلہ اور تاوان دینے سے کیا ہوتا ہے۔
Ayahs 10:55–56

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک سب اللہ ہی کا ہے، آگاہ ہو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے و لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف (مرنے کے بعد) لوٹائے جاؤگے

اوپر کی آیت میں تاوان کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا یاد رکھو کہ آسمان اور زمین میں اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ، مغرب سے مشرق تک جنوب سے شمال تک، دریا پہاڑ خزانے کان، کل چھوٹی بڑی چیزیں ہیں، اس دن وہ سب اللہ کے قبضہ میں ہوں گی۔ اس دن تمہارا عارضی قبضہ باقی نہ رہے گا جو تم تاوان دے کر اپنا پیچھا چھڑاؤ گے اور عذاب سے بچو گے۔ خوب یاد رکھو کہ خدا وعدہ سچا ہے ابھی تو تمہاری سمجھ میں نہیں آتا لیکن جب وعدہ مقررہ آوے گا تو سمجھ لو گے کیونکہ خدا کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم مردے سے زندہ ہے کہ تم کو مردے سے زندہ کر دے۔ پیدا بھی وہی کرتا ہے مردہ بھی وہی کرتا ہے، مردہ بھی وہی کرتا ہے، مردے سے دوبارہ زندہ بھی وہی کرے گا۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت (یعنی قرآن) آئی ہے اور شفا اس بیماری کے لیے جو سینوں میں ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت

عقیدے کے بگڑنے سے آدمی کے دل میں کفر ونفاق پیدا ہوتا ہے جس طرح آدمی کے بدن کے لئے بخار، کھانسی وغیرہ طرح طرح کے مرض ہیں، اسی طرح عقیدے کے بگڑنے سے آدمی کے دل میں کفر ونفاق حسد ریاکاری یہ طرح طرح کے مرض پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور جس طرح طب کی کتابوں میں جسمانی مرض کے ہر طرح کے علاج لکھے ہیں، قرآن شریف اور حدیث میں اس طرح ان دلی مریضوں کے طرح طرح کے علاج ہیں۔ اسی واسطے قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کے دنیا میں آنے کو دل کی تندرستی کا سبب فرمایا اور اوپر کی آیت میں فرمایا تھا کہ تمام دنیا کے مال ومتاع کے بدلہ دینے پر بھی قیامت کے کدن کی نجات میسر نہ آوے گی۔ اس آیت میں فرمایا کہ تمام دنیا کی جمع پونجی سے اللہ تعالیٰ کی یہ رسول اور کتاب آسمانی کے بھیجنے کی رحمت بہتر ہے۔ دنیا کا رہنا چند روزہ ہے اور یہ چند روز کی کمائی بھی یہیں رہ جائے گی۔ رسول اور کتاب آسمانی کی فرمانبرداری اگر کرو گے تو یہ کمائی تمہارے ساتھ جاوے گی اور وہ نجات آخرت تم کو نصیب ہوگی۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

تم فرماؤ : اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت سے ان چیزوں پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں

رسالت کا ذکر اور قرآن شریف پڑھنے کے فوائد اس آیت میں رسالت کا ثبوت دیا گیا ہے جس طرح اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا کی توحید کی دلیلیں بیان کی گئی تھیں اس لئے فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ قرآن نازل ہوا وہ اللہ کے رسول ہیں اور جو شخص اس اللہ کے کلام کی تلاوت کرتا ہے اور اس کے معنی میں غور کرتا ہے وہ سچے عقیدوں سے تمیز کرلیتا ہے اس کے دل میں جو شک وشبہ کی بیماری ہوتی ہے وہ دفع ہوجاتی ہے دلوں کی شفا قرآن کریم حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے شکایت کی کہ میرے دل میں طرح طرح کے وہم و خیال آتے رہتے ہیں آپ نے فرمایا قرآن پڑھا کرو دل کی بیماریوں کے لئے قرآن پڑھنا شفا ہے۔
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

تم فرماؤ : بھلا یہ تو بتلاؤ اللہ نے جو کچھ تمہارے لیے روزی اتاری ہے تو تم نے اپنی طرف سے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال ٹھہرا رکھی ہے : تم فرماؤ : کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی تھی یا یونہی اللہ پر بہتان باندھتے ہو

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ کیا سمجھے ہوئے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا بیشک لوگوں پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہے و لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے

اوپر قرآن شریف کی نعمت کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ ان مشرکوں نے فقط اسی نعمت کا انکار نہیں کیا بلکہ یہ لوگ تو اللہ کی اور نعمتوں کے بھی منکر اور ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے بعض چیزیں اپنے اوپر حرام کرلی ہیں اور بعض حلال۔ تو یہ حلال و حرام کس طرح کا ہے کیا اپنی ہی خواہش سے انہوں نے یہ حکم لگایا ہے۔ اگر خدا کے حکم سے انہوں نے کسی چیز کو حلا ل اور کسی چیز کو حرام سمجھا ہے تو بتا دیں یہ کس ذریعہ سے ان کو معلوم ہوا۔ کس رسول نے انہیں بتایا کیونکہ خدا کا پیغام کی کو معلوم نہیں ہو سکتا مگر رسول کے وسیلہ سے ۔ اور اگر رسول نے انہیں نہیں بتلایا ہے تو خدا پر گویا چھوٹا الزام رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن اس کے عوض میں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا اس سے انہیں ڈرنا چاہئے۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور (اے محبوب) تم کسی کام (میں) ہو اور اس کی طرف سے کچھ قرآن پڑھو اور (اے لوگو) تم کوئی سا کام بھی کرو (ہر حال میں) جب کہ تم اس کام کو شروع کرتے ہو ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار پر پوشیدہ نہیں ہے۔ ذرہ برابر کوئی چیز نہ زمین میں نہ آسمان میں، اور نہ اس سے چھوٹی سے چھوتی اور نہ بڑی سے بری مگر یہ سب کہ روشن کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ ہوئی ہے

عبادت کا طریقہ : اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو اس آیت میں یہ بتلایا ہے کہ آپ یا آپ کی امت کے لوگ جو کام کرتے ہیں خدا اس کو دیکھتا ہے۔ ہر شخص کا چلنا پھرنا ، برے یا اچھے عمل کرنا قرآن مجید کی تلاوت کرنا، سب اس پر ظاہر ہے۔ کیونکہ زمین وآسمان میں جتنی چھوٹی بڑی چیزیں ہیں علم الہیٰ کے نتیجے کے طور پر وہ سب ذرہ ذرہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔ اس سے کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی ۔ اس لئے جب جبرائیل (علیہ السلام) ایک آدمی کی صورت بن کر آئے اور آپ سے سوال کیا کہ احسان کیا شے ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی عبادت کرنے کی حالت میں یہ سمجھنا کہ ہم خدا کو دیکھ رہے ہیں ، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ خیال کہ خدا ہم کو دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 10:62–63

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

آگاہ ہو بیشک اللہ کے دوستوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ کچھ غمگین ہوں گے

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں

اولیاء اللہ اور ان کی صفات کا بیان اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کا حال بیان فرمایا ہے کہ اور لوگوں کو دنیا کے چھوٹ جانے کا اور دنیا میں بےفائدہ عمر بسر کرنے کا آخرت میں غم اور رنج ہوگا۔ اللہ کے ولی لوگ جو کامل ایمانداری اور تقویٰ میں دنیا اس طرح بسر کرتے ہیں کہ ان کا حال دیکھنے سے دیکھنے والوں کو خدا یاد آتا ہے۔ ان کو آخرت میں کچھ غم اور رنج نہیں ہے ولی اللہ وہ ہے جو فرائض سے قرب الہی حاصل کرے، اور اطاعت الہی کو میں مشغول رہے۔ اور اس کا دل نور جلال الہی کی معرفت میں مستغرق ہو۔ جب دیکھے دلائل قدرت الہی کو دیکھے اور جب سنے اللہ کی آیتیں سنے اور جب بولے تو اپنے رب کی ثنا ہی کے ساتھ بولے، جب حرکت کرے اطاعت الہی میں حرکت کرے تو اللہ اس کا ولی ناصر اور معین و مددگار ہوگا۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان ہی کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں (بھی) اللہ کی باتیں بدلتی نہیں، یہی بری کامیابی ہے

خواب کی قسموں، ان کے احکام اور آداب کا ذکر اس آیت میں نیک مسلمانوں کو دنیا میں خوشخبری کا ذکر ہے۔ اس سے اچھے خواب مراد ہیں۔ صحیح بخاری اور ابن ماجہ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خواب کی تین قسمیں ہیں : (1) ایک تو وہ کہ آئندہ کوئی بات خواب دیکھنے والے کے حق میں ہونے والی ہے، پھر جس طرح جاگنے میں الہام ہوتا ہے سی طرح سوتے میں الہام ہوتا ہے، اسی طرح سوتے میں اللہ تعالیٰ اس بات کو اس شخص کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اس قسم کو آنحضرت ﷺ نے نبوت کا جز فرمایا ہے۔ (2) دوسری قسم وہ ہے کہ جس کام میں سونے سے پہلے آدمی لگا ہوا تھا وہی خیال کے طور پر سوتے میں آدمی کو نظر آتا ہے۔ (3) تیسری قسم وہ ہے کہ شیطان ڈرانے کے طور پر خوفناک چیزیں یا خوفناک حالت خواب میں دکھاتا ہے۔ دوسری قسم تو محض خیال ہی خیال ہے اس لئے اس کا کوئی حکم حدیث شریف میں نہیں ہے۔ تیسری قسم کی نسبت آپ نے فرمایا ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ ایسے خواب کا کسی سے ذکر نہ کرے، بلکہ جس کروٹ کے بل یہ خواب دیکھا ہے اس کروٹ کو بدل کر لاحول پڑھے اور بائیں طرف تھوکے اور سو جاوے۔ پھر کوئی نقصان خواب سے نہ ہوگا۔ پہلی قسم کی نسبت آپ نے فرمایا ہے کہ کسی عالم سے جو اپنا دوست ہو تعبیر پوچھے کہ جاہل جہل کے سبب اور دشمن حسد اور دشمنی کے سبب الٹی تعبیر کہہ کر پریشانی میں نہ ڈالے۔ صبح کی نماز کے بعد خواب بیان کرے، مستحب ہے۔
Ayahs 10:65–67

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور تم ان کی باتوں کا غم نہ کرو بیشک عزت تو سب اللہ ہی کے لیے ہے وہی سننے والا جاننے والا ہے

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

آگاہ ہو البتہ اللہ ہی سب کا مالک ہے جتنے آسمانوں میں اور جتنے زمین میں ہیں (یعنی سب اس کے مملوک ہیں) اور کا ہے کے پیچھے جا رہے ہیں وہ جو لوگ اللہ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں، وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے کہ جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دیکھنے کے لیے دن بنایا، البتہ اس میں نشانیاں ہیں (قدرت کی) ان لوگوں کے واسطے جو سنتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی باتوں پر تسکین دی شان نزول : مشرکین مکہ حضرت رسول مقبول ﷺ کو جھٹلاتے تھے اور طرح طرح سے آپ کے رسول اور قرآن کے کلام الہی ہونے پر طعن کرتے تھے۔ اس سے آنحضرت ﷺ کو ایک قسم کا ملال ہوا کرتا تھا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آپ کو تسکین دی، کہ ان مشرکوں کی باتوں کا آپ خیال نہ فرمائیں۔ کیونکہ ہر طرح کی عزت خدا ہی کو حاصل ہے اور وہ ہر شخص کے قول وفعل کو سنتا اور دیکھتا ہے۔ یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پھر تسلی کے بعد اس بات کی بشارت دی کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ کیونکہ زمین وآسمان میں جتنی چیزیں بےجان یا جاندار ہیں، ان سب کا مالک اکیلا خدا ہی ہے۔ اس میں کسی کی شراکت ذرہ برابر نہیں ہے۔ مشرکین اپنے جن معبودوں کو پوجتے ہیں ان پر بھی خدا کا پورا پورا قبضہ ہی ہے اور مشرکین محض اپنے وہم کے پیرو ہیں۔ کہاں کی شفاعت اور کیسے جھوٹے معبود۔ اس کے بعد فرمایا کہ خدا نے رات بنائی اور دن پیدا کیا، دن کی روشنی میں لوگ اپنی اپنی روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں، رات کو تھکے ماندے آکر آرام کرتے ہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے واسطے یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(کافر) کہتے ہیں اللہ اولاد رکھتا ہے وہ پاک ہے وہی بےنیاز ہے، اسی کے واسطے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے، تمہارے پاس اس کی کوئی بھی دلیل نہیں، کیا اللہ پر ایسی بات لگاتے ہو جو تم جانتے نہیں

اللہ پر جھوٹ باندھنے کا ذکر ان آیتوں میں ان مشرکوں اور اہل کتاب کے عقیدہ کو اللہ تعالیٰ نے غلط عقیدہ ٹھہرایا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا کا بیٹا یا بیٹی ہے۔ فرمایا اللہ پاک تو ازل سے ابد تک قائم ہے پھر اس کو اولاد کی کیا پرواہ ہے۔ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے سب کا وہی مالک ہے۔ پھر فرمایا کہ تم کس سند سے یہ بات کہتے ہو کہ خدا صاحب اولاد ہے۔ جب کوئی دلیل اور سند مشرکوں نے انہیں نہیں پیش کی تو فرمایا کہ کیا تم خدا پر ایسی بات کا بہتان باندھتے ہو جس کا تم کو علم ہی نہیں گویا تم جھوٹ بولتے ہو۔
Ayahs 10:69–70

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

تم فرماؤ : بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے ہیں

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

ان کے لیے دنیا میں (کچھ) فائدہ ہے پھر ان سب کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے پس ہم انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے بہ سبب اس کے کہ وہ کفر کرتے تھے

اس آیت میں اللہ نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کو فلاحیت نہیں ہوگی، اور اگر وہ یہ سمجھیں کہ اب تو دنیا میں آرام سے گزرتی ہے تو یہ دنیا کی زندگی اور مال ومتاع بہت ہی حقیر شے ہے جس کی کچھ ہستی نہیں ۔ آخر ایک دن ان سب کو اللہ کے پاس آنا ہے اس وقت سخت سے سخت عذاب کا مزہ ان کو چھکنا پڑے گا۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور انہیں نوح (علیہ السلام) کی خبر (پڑھ کر) سناؤ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! اگر تم پر میرا کھڑا ہو ان اور خدا کے احکام سے میرا نصیحت کرنا شاق گزرتا ہے تو میرا بھروسہ صرف اللہ پر ہے تو تم (میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو) اسے ٹھان لو اور اپنے شریکوں کو بھی ساتھ لے لو، پھر تم کو اپنے کام میں شبہ نہ رہے پھر جو ہوسکے میرا کرلو اور مجھے مہلت نہ دو

حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ، بت پرستی کب سے ہوئی شروع سورة میں کئی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا ذکر فرما کر یہاں ختم سورة پر پہلے انبیاء اور ان کی امتوں کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ قریش کو اس ذکر سے ایک طرح کی تببیہ ہوجاوے، کہ اگر یہ بھی باوجود نصیحت اور سمجھانے کے اپنی نافرمانی سے باز نہ آویں گے تو زمین پر سب سے پہلے غارت ہونے والی قوم امت نوح اور سب سے آخر میں غارت ہونے والی فرعون کی قوم کا جو انجام ہوا وہی انجام ان کا ہوگا۔ اور آنحضرت ﷺ کو اس ذکر سے دو طرح کی تسکین فرمائی : ایک یہ کہ باوجود سمجھانے کے قریش لوگ اگر ایمان لانے میں دیر کرتے ہیں تو اس کا کچھ غم واندیشہ نہ کرنا چاہیے۔ دوسری تسکین یہ کہ اگر قریش لوگ سرکشی کریں گے تو آخر نبی کا پلہ بھاری رہے اور سرکش لوگ تباہ اور غارت ہوجائیں گے۔ قرآن مجید میں اکثر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جب قوم کے لوگوں کو بت پرستی کے چھوڑنے کی نصیحت کرتے تھے و وہ حضرت نوح کو پتھروں سے کچل ڈالنے کی دھمکی دیا کرتے تھے۔ اس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم اور تمہارے بےمل کر جو کچھ بد سلوکی میرے ساتھ کرسکتے ہو، تو اس کے پورا کرنے میں تم لوگ کمی نہ کرو۔ جو کچھ کرنا ہے وہ بلا شک وشبہ کر گزرو ۔ مجھے اس کا کچھ خوف نہیں میں تو اللہ تعالیٰ کی مدد کے بھروسہ پر نصیحت کے فرض کو ضرور ادا کروں گا۔
Ayahs 10:72–73

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر تم نہ مانو تو میں نے تم سے کچھ مزدوری نہیں مانگی، میری مزدوری تو خدا ہی پر ہے اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پس انہوں نے اسے جھٹلایا پس ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا اور ہم نے ان کو (غرق شدہ قوم کا) جانشین بنایا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان سب کو غرق کردیا تو دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جن کو (انکار و سرکشی کے نتائج سے) ڈر سنایا گیا تھا

اس سے اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ان کفار عرب کو سنا دو ۔ اس آیت میں فرمایا کہ نوح علیہ اسلام نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا کہ تم لوگ اگر کس خرچے کے بارے میں ڈر کر میری نصیحت سے منہ موڑتے ہو تو میں اس کی مزدوری تم سے نہیں چاہتا اس کا اجر تو خدا ہی دے گا۔ اور مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں مسلمان رہوں اور تم کو بھی اسی طرح نصیحت کرتا رہوں۔ مگر اس قوم کو ایمان نہ لانا تھا نہ لائی حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلائے گئی، پھر وہ طوفان آیا کہ پہاڑوں سے بھی کہیں اونچا پانی ہوگیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) مع اسی آدمی جس میں چالیس مرد اور چالیس عورتوں کے کشتی میں بیٹھے رہے، ان کو خدا نے پناہ میں رکھا باقی سب ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ خدا نے ان کی جگہ ان چالیس آدمیوں کو بسایا جن کی نسل سے اب تک دنیا آباد ہے۔ پھر آنحضرت ﷺ سے فرمایا :" ان لوگوں سے کہہ دو کیا نتیجہ ہوا ان کا، جن کو خدا کا خوف تھا وہی بچے اور جھٹلانے والے جان سلامت نہ لے جاسکے "۔ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور پھر ساڑھے نو سو برس قوم کے لوگوں کو وہ وعظ ونصیحت کرتے رہے۔ جب قوم کے لوگ راہ راست پر نہ آئے تو طوفان آیا۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے کتنے ہی) سولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا پس وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے پس وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ (دلیلیں دیکھ کر) ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھ ہم اسی طرح ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، جو لوگ (سرکشی اور فساد میں) حد سے گزر جاتے ہیں

حضرت آدم (علیہ السلام) سے دس قرن (صدیوں) تک سب کے سب مسلمان تھے۔ پھر آہستہ آہستہ بت پرستی پھیلنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر لوگوں کی ہدایت کو بھیجا۔ پھر ان کے بعد لگاتار انبیاء اور رسول آتے گئے۔ پھر حضرت رسول مقبول ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے اور رسولوں کو بھیجا اور وہ طرح طرح کے معجزے خدا کی طرف سے لے کر آتے گئے۔ مگر قوم کے لوگ بدستور اپنے خیال پر جمے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق ان کے دلوں پر مہر لگا دی کہ یہ جانے اور ان کا کام۔ آخر علم الہی کے موافق طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانا ان کی سزا ہے۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ہم نے ان رسولوں کے بعد موسیٰ و ہارون کو بھیجا فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ گنہگار تھے

پھر ان رسولوں کے پیچھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) تک آئے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنا کر بھیجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس اگرچہ نو معجزے ایسے تھے جن سے صاف ظاہر ہوتا تھ کہ بغیر مدد خدا کے ایسی نشانی کوئی لا نہیں سکتا، مگر فرعون اور اس کے ہمراہیوں نے نہیں چھوڑی۔ یہ قصہ سورة طٰہ (پارہ 16) اور سورة قصص (20) میں تفصیل سے آوے گا۔