9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 9:1–2

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

سورة توبہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں بیزاری کا حکم سناتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا (اور وہ قائم نہ رہے)

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

پس اے مشرکو ! تم زمین میں چار مہینہ پھرو چلو (اس کے بعد جنگ کی حالت قائم ہوجائیگی) اور جان رکھو تم اللہ کو عاجز نہ کرسکو گے اور یہ کہ اللہ کافروں کو (دنیا وآخرت میں) ذلیل کرنیوالا ہے

خواص القرآن : اس سورة کو سات مرتبہ اعتقاد دل سے پڑھنا بادشاہ کے قہر کو دور اور تمام ہجوم اور غم سے علیحدہ کرتا ہے بشرطیکہ صدق دل سے پڑھے۔ اس سورة کی نسبت حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو نفاق سے بچاتی ہے۔ (خازن) فضائل القرآن : آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة انفال اور سورة توبہ پڑھا کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور جب تک دنیا میں زندہ رہے گا عرش اور اس کے اٹھانے والے فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔ بسم اللہ کے نہ ہونے کی وجہ سورۃ روبہ مدنی ہے اس سورة میں چھ رکوع ایک سو انتیس آیتیں، چار ہزار اٹھتر کلمے دس ہزار چار سو اٹھاسی حروف ہیں۔ اس سورة کے دس نام ہیں ان میں سے توبہ اور برات دو نام مشہور ہیں۔ اس سورة کے اول میں بسم اللہ نہیں لکھی گئے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس سورة کے ساتھ بسم اللہ لے کر نازل ہی نہیں ہوئے تھے، اور حضور ﷺ نے بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے مروی ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور یہ سورة تلوار کے ساتھ امن ٹھادینے کے لئے نازل ہوئی۔ قرآن کریم کی سورتوں میں سب سے آخر یہی سورة نازل ہوئی۔ عرصہ عہد کے بعد کفار کو قتل کرنے کا حکم مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ چار مہینے کی مدت مقرر کردی تھی جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عہد کیا تھا، اور جب لوگوں سے کچھ عہد نہیں تھا ان کے واسطے پچاس رات کی حد باندھی۔ اور اللہ نے رسول کو یہ حکم دیا کہ جن کفار سے تمہارا عہد نہیں ہے ان سے دسویں ذی الحجہ سے لے کر آخر محرم تک نہ لڑو۔ ماہ محرم کے ختم پر ان سے لڑو، اگر وہ مسلمان ہوجاویں تو بہتر ہے وربہ ان کو قتل کرو، اور جن سے عہد ہے ان سے چار مہینے دسویں ذی الحجہ سے ربیع الآخر کی دسویں تاریخ تک نہ لڑو۔ اس کے بعد ان سے جہاد کرویہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجاویں۔ 6 ھ میں حج فرض ہوا۔ 8 ھ میں مکہ فتح ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ نے 9 ھ میں حضرت ابوبکر ؓ کو بھیجا اور ان کے پیچھے حضرت علی ؓ کو دس آیتیں سورة برات کی دے کر روانہ فرمایا کہ مشرکوں کو جاکر یہ آیتیں سنادو اور یہ بھی جتادو کہ 10 ھ سے کوئی مشرک یا ننگا شخص طواف نہ کرنے پاوے گا پھر اس سال آپ نے حج کیا اس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ اسی حکم میں یہ بھی تھا کہ دسویں ذی الحجہ سے دسویں ربیع الآخر تک تمہیں مہلت دی گئی ہے، پھر کوئی عذر نہیں سنا جائے گا۔ اگر ایمان لائے تو خیر ورنہ آمادہ جنگ ہوجاؤ۔ یہ حکم حضرت علی ؓ نے سب کو سنادیا اور اعلان جنگ دے دیا۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں منادی پکار دینا ہے حج اکبر کے دن کہ اللہ بیزار ہے مشرکوں سے اور اس کا رسول بھی بیزار ہے پس اگر تم توبہ کروگے تو تمہارے لئے اس میں بہتری ہے اور اگر اب بھی منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکو گے '' اور کافروں کو عذاب درد دینے والے کی خبر سنادو

فرض حج اور سن ہجری کا ذکر اس آیت میں یہ فرمایا کہ چار مہینے کی مدت دے کر کفار سے یہ کہ دو کہ ایسے دن یہ حکم دیا جارہا ہے کہ حج اکبر کا دن ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ چار مہینے کے بعد خدا اور اس کا رسول صلح سے بری ہے۔ تم سوچ سمجھ لو اگر تم کفر سے تائب ہوگئے تو تمہارے واسطے بہتری ہے ورنہ یاد رکھو تم خدا کو نہیں تھکا سکتے ہو۔ جہاں جاؤگے پکڑے آؤگے، کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ دنیا میں قتل و غارت کے سوا آخرت میں بھی تم پر دردناک عذاب ہوگا۔ آنحضرت ﷺ سے کفار مکہ اور چند فرقہ کے لوگوں سے 6 ھ میں صلح ہوئی تھی جو حدیبیہ کی صلح مشہور ہے۔ اس کا ذکر انا فتحنا میں ہے۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو یہ حکم ہوا کہ کسی مشرک اور کفار سے صلح نہ رکھو اور عہد و پیمان کرو اور عرفات کے دن قربانی کے مقام میں جب یہ سب جمع ہوں تو یہ حکم قربانی والے دن پکار دو اور صلح کے جواب میں چار مہینے کی مہلت اس لئے دے دو کہ اس عرصہ میں وہ لوگ ایمان قبول کریں تو بہتر ہے ورنہ اپنا اپنا گھر چھوڑ کر چلے جائیں۔ اگر یہ بھی نہ کریں تو لڑائی کا انتظام کریں اور جنگ کے واسطے آمادہ ہوجائیں، پھر گھڑی بھر کی فرصت نہ دو ۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر وہ مشرکین جن سے تمہارا معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہ کی اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی تو ان کے عہد کو ان کی مدت مقرر تک پورا کرو، بیشک اللہ پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے

اس آیت میں یہ ارشاد ہوا کہ جنہوں نے تم سے صلح کا عہد کیا اور صلح کے عہد کی کسی شرط کو نہیں توڑا ان کے عہد کو پورا کرو۔ اگرچہ وہ چار مہینے سے زیادہ تک کا عہد ہو کیونکہ اللہ پاک کو احتیاط بہت پسند ہے۔ یہ لوگ اپنی زبان کا پاس رکھتے ہیں اور بےموقع عہد و پیمان نہیں توڑتے۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب حرمت والے مہینے گزرجائیں تو جہاں کہیں مشرکوں کو پاؤ قتل کرو اور ان کو گرفتار کرلو اور ان کو قید کرلو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو (نگرانی) پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

کفار کے امان کا ذکر اس آیت میں اللہ نے حکم دیا کہ جب دسویں ذی الحجہ سے دسویں ربیع الآخر تک چار مہینے گزرجاویں تو خوب سل کھول کر مشرکوں سے لڑو اور جہاں ان کو پاؤ ان کو قتل کرو۔ ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ قتل کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے مگر بعض جگہ ان کو قتل کرنا منع ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورة بقرہ میں فرماتا ہے ولا تقتلو ھم عند المسجد الحرام۔ اس آیت سے بیت الحرام میں خونریزی منع ہے جو قیامت تک رہے گی۔ پھر فرمایا کہ ہر جگہ ان کی تاک میں رہو اور ان کو گرفتار کرو۔ محاصرہ کرو کہ نکلنے نہ پائیں۔ پھر گرفتاری کے بعد خواہ ان کو قید رکھو یا مارو تمہیں اختیار ہے۔ اور اگر یہ مسلمان ہوجائیں اور نماز پڑھیں اور زکوۃ دیں تو ان کو چھوڑ دو کیونکہ حکم شرعی ظاہر پر ہے دل کی بات خدا جانتا ہے۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دو تاکہ وہ اللہ کا کلام (قرآن) سنے، پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچادو یہ اس سبب سے کہ وہ ایک بےعلم قوم ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ جن مشرکوں سے تمہیں لڑنے کا حکم دیا ہے اگر انہیں کا کوئی شخص امان چاہے تو اس کو امان دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لیوے اور دین کی حجت اس پر تمام ہوجائے۔ پھر اس کو اس کے گھر تک امن وامان سے پہنچادو۔ جب وہ امن کی جگہ پہنچ جائے تو تمہیں اختیار ہے اس سے لڑائی لڑو کیونکہ اپنے گھر پہنچ جانے کے بعد وہ تمہاری امان سے نکل گیا اور وہ اپنی پچھلی حالت پر آگیا۔ اب اس سے لڑنا تمہارے واسطے مباح ہے۔ یہ امان اس لئے مشروع ہے کہ یہ لوگ خدا کے دین کو پہچان لیں اور اسلام کا چرچا تمام لوگوں میں پھیل جائے۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

مشرکوں کا عہد کیوں کر (قائم) ہوگا اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک مگر جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے پاس عہد لیا ہے، پس جب تک وہ اپنے پر تمہارا لئے قائم رہیں تم بھی ان کے لئے قائم رہو، بیشک پرہیزگاروں کو خدا کا دوست رکھتا ہے

قریش کے خلاف معاہدہ اور بد عہدی کا ذکر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ کیونکر ان مشرکوں کا عہد قائم رہ سکتا ہے ان کی حالت تو یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے یہ لوگ منکر ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں ان کے ساتھ تم بھی ویساہی کرو کہ اپنے عہد پر قائم رہو۔ کیونکہ خدا کو احتیاط کرنے وا لے لوگ بہت پسند ہیں، خدا ان کو دوست رکھتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین مکہ اور قبیلہ بنی بکر کو بد عہد فرمایا، اور قبیلہ خزاعہ کو عہد پر قائم رہنے والے لوگوں میں شمار فرمایا۔ اور حدیبیہ کے صلح نامہ کو عہد فرمایا۔ حدیبیہ کی صلح کو صاف طور پر حرم کی حد کے اندر کا عہد جو نہیں فرمایا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ حدیبیہ حد حرم کے باہر ہے۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

مشرکوں کا عہد کیونکر (قائم) رہے جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ کہ اگر وہ تم پر غلبہ پاجاویں تو نہ تو تہارے لئے قرابت کیا لحاظ کریں نہ کسی عہد و پیمان کا، وہ صرف اپنے منہ کی باتوں سے تمہیں راضی کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں انکار ہے اور اکثر ان میں سے بےحکم (نافرمان) ہیں

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکون کے دل کی باتوں سے آنحضرت ﷺ کو خبردار کیا کہ کیونکر ان لوگوں سے صلح قائم رکھ سکو گے۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں پر ان کا قابو پڑجاوے تو ایک کو بھی زندہ نہ رکھیں۔ نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ اپنے عہد کا۔ یہ لوگ بڑے ہی بےحکم ہیں۔ ان کے دل کب مانتے ہیں جو یہ لوگ اپنے قول پر قائم رہیں گے۔ غرضیکہ اس آیت میں زبان کا پاس نہ رکھنے اور بد عہدی کی بڑی مذمت آئی ہے۔
Ayahs 9:9–11

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

اللہ کی آیتوں کے عوض میں تھوڑے سے دام لیتے ہیں پس باز رکھا لوگوں کو خدا کی راہ سے، بیشک وہ بہت ہی برا کام کرتے ہیں

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

کسی مومن کے لئے نہ تو قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کا اور یہی لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں، اور ہم آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھتے ہیں

ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں نے عہد کے پورا کرنے کے احکام الہی بہت ہی تھوڑی قیمت پر فروخت کرڈالے، یہ اس واسطے فرمایا کہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عہدو پیمان کیا تھا کہ کچھ مدت تک آپ لڑائی موقوف کریں اور ہم کو مہلت دیں۔ ان لوگوں کو ابوسفیان نے لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عہد توڑ ڈالو۔ اسی طرح طائف کے باشندوں نے بھی مال سے ان بد عہدوں کی مدد کی تھی۔ اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ تو عہد توڑتے ہیں مگر دوسروں کو بھی راہ حق سے روکتے ہیں کہ دین اسلام قبول نہ کرو۔ پھر فرمایا کہ یہ کام ان کا بہت ہی برا ہے۔ اپنے قرابت کے لوگوں کا بھی خیال نہیں کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ان کے کنبے کے بھی آدمی ہیں، آخر کچھ تو قرابت کا پاس ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ اپنے قول پر کیونکر قائم رہتے یہ تو حد سے تجاوز کرنے والے ہیں، نہ ان کی زبان کا اعتبار ہے نہ ان کے فعل کا اعتبار ہے اگر یہ لوگ شرک و کفر سے باز آکر اسلام میں داخل ہوجائیں تو پھر تمہارے دینی بھائی ہوجائیں گے۔ اور ہر قسم کے نفع و نقصان میں تمہارا ان کا ساتھ ہوجاوے گا اور یہ باتیں جو تفصیل کرکے اللہ نے بتلائی ہیں یہ علم والوں کے لئے ہیں۔ جو جاہل مطلق ہیں انہیں سمجھ ہی کیا ہے کہ کسی بات کو سمجھیں بوجھیں۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور جو اپنی قسمیں توڑیں بعد اپنے عہد کرنے کے اور تمہارے دین (اسلام) پر طعن کریں پس لڑو کفر کے سرغنوں سے، بیشک ان کی قسمیں کچھ بھی نہیں شاید کہ وہ (ظلم بد عہدی سے) باز آجائیں

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ یہ مشرک لوگ اگر اپنا عہد توڑیں اور تمہارے سچے دین میں نقص نکالیں، اور عیب لگائیں تو ان کے سرداروں کو چن چن کر مارو اور قتل کرو کہ یہ سب فساد ان ہی کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ بیچارے غریب لوگ کیا سر اٹھاویں گے جب تک انہیں بڑے بڑے لوگ کچھ مدد نہ دیں۔
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) کیا تم جنگ نہیں کروگے اس گروہ سے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑڈالیں اور رسول کے جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا حالانکہ انہوں نے پہل کی تم سے عہد توڑنے کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ پس اللہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر مسلمان ہو

قریش کے خلاف معاہدہ اور بد عہدی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور مسلمانوں کو ترغیب دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قریش کی دوسری شرارت نبی وقت کو جو مکہ سے نکال دینے کی جو ذکر فرمائی ہے۔ صحابہ کے قول کے موافق اس قصہ کا حال یہ ہے کہ حدیبیہ کی صلح کے وقت مشرکین مکہ نے اپنے دل میں یہ بات ٹھان لی تھی کہ اگر آنحضرت ﷺ اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ میں داخل ہوں تو ان کو زبردستی مکہ سے نکال دیویں۔ قبیلہ خزاعہ کے لوگ اس مشورہ میں شریک نہیں ہوئے اور صلح نے زمانہ میں انہوں نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی حمایت اپنے حق میں بہتر خیال کی۔ اس عداوت کے سبب سے مشرکین مکہ نے قبیلہ بنی بکر کو خزاعہ سے لڑنے پر آمادہ کیا اور خود قبیلہ بنی بکر کی مدد کی۔ اسی کو مشرکین مکہ کی پہلی چھیڑ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ایسے بد عہد لوگوں سے کسی ایماندار شخص کو کچھ تامل اور ڈرنا نہ چاہیے۔ کیونکہ ایماندار کے دل میں سوائے اللہ کے ڈر کے اور کوئی ڈر نہ ہونا چاہیے۔ اس لئے کہ جس شخص کے دل میں اللہ کا ڈر ہوتا ہے اس کو عقبیٰ کے سب مشکل کام آسان ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 9:14–15

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

پس تم ان سے جنگ کرو اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب کرے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر فتح دے گا اور جماعت مومنین کا دل ٹھنڈا کرے گا

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کا غصہ رفع کرے گا اور جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمادے گا اور اللہ جاننے والا مظبوط تدبیر والا ہے

جنگ کا حکم مشرکین نے اپنا عہد توڑا اور یہ بھی ارادہ کیا کہ رسول خدا کو مکہ سے نکال دینا چاہیے اور چھیڑ ان کی طرف سے شروع ہوئی تو اب ان سے لڑنا بلاشک ضرور ہے۔ اللہ اپنی مدد سے تمہیں ان پر غالب کرے جس سے مسلمانوں کے خیر خواہ بنی خزاعہ کا بدلہ لینے سے مسلمانوں کے دل کی بھڑاس نکلے اور ان کے دل ذرا ٹھنڈے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر فرمایا کہ ان کفار میں سے بعضے بعضے اپنے کفر سے توبہ بھی کریں گے وہ لوگ خدا کے علم میں ہیں وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے وہ بڑا جاننے والا ہے۔ اسے اگلی پھلی باتوں کی خبر ہے اور بڑا ہی حکمت والا ہے۔ جتنی باتیں اس کی ہوتیں ہوتی ہیں کوئی حکمت سے خالی نہیں ہوتیں۔ چناچہ یہ سب باتیں پوری ہوئی ہیں۔ بنی خزاعہ کا پورا بدلہ مشرکین سے لیا گیا مشرکین کو بےانتہا ذلت ہوئی۔ مکہ فتح ہوا، مشرکین کے سرداروں میں سے بڑے بڑے لوگ ایمان بھی لائے۔ ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابوجہل وسہیل بن عمرو جو چیدہ سردار تھے آخر کو مسلمان ہوگئے۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے ان لوگوں کی پوری طرح سے پہچان نہ کرائی جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہے، اور نہیں پکڑا ہے انہوں نے سوائے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور مومنوں کے کوئی خاص دوست اپنا، اور اللہ کو سب خبر ہے

مسلمانوں کی جانچ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب ٹھراکر فرمایا کہ کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ دین کی لڑائی سے تمہاری آزمائش نہ ہوگی، یونہی چھوڑ دیئے جاؤگے۔ یعنی جہاد اسی واسطے فرض کیا گیا ہے کہ خدا مسلمانوں کا امتحان لے اور جانچ لے کہ کون اس کے حکم کا مطیع ہے اور کون اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو نیک و بد سب کا حال معلوم ہے مگر اللہ تعالیٰ نے سزا وجزا کا دارومدار اپنے علم ازلی پر نہیں رکھا ہے اس لئے اس نے اس جہاد کیا حکم دیا ہے تاکہ ہر ایک شخص کے اصلی حال سے لوگوں کو واقفیت ہوجاوے۔
Ayahs 9:17–22

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

جو تم کام کرتے ہو مشرکوں کا کام نہیں کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں اس حالت میں کہ خود کفر کا اقرار بھی کرتے جائیں یہ وہ لوگ ہیں ان کے سارے عمل اکارت گئے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

فی الحقیقت اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہیں مانتے، پس امید ہے کہ ایسے لوگ ہوں گے ہدایت پانے والوں میں سے

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

پس کیا تم لوگوں نے ٹھرا رکھا ہے کہ حاجیوں کے لئے سبیل لگادینی اور مسجد حرام کی خدمت کرنی اس کے برابر جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اور برابر نہیں اللہ کے نزدیک اور اللہ ظالم قوم کو راہ نہیں دکھاتا

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ کہ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا خدا کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے تو ان کا درجہ بڑا ہے اللہ کے نزدیک اور یہی لوگ ہیں مراد پانے والے

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے رحمت کی اور رضامندی کی اور (جنت کے) ایسے باغوں کی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

کہ ان میں دائمی نعمت ہے وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے

جہاد سے حضرت عباس ؓ کی بحث، شرک کی وجہ سے نیک عمل رائیگاں ہوجاتے ہیں شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں قریش کے ستر آدمی جو گرفتار ہوئے اور ان میں حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ بھی تھے۔ تو مسلمانوں نے ان ستر آدمیوں کے روبرو بت پرستی اور شرک کی مذمت بیان کی۔ یہ مذمت سن کر حضرت عباس ؓ نے کہا :'' ہم بھی مکہ میں اچھے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ مسجد حرام کو آباد رکھتے تھے حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ''۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ بغیر اسلام خالص کے یہ اچھے کام اللہ کے نزدیک کچھ قبول نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر صفائی عقیدہ کے کوئی ظاہری عمل قبول نہیں ہوتا۔ یہ بت پرست لوگ مسجد حرام میں طواف کے وقت اللہ کے ناموں کے ساتھ بتوں کو پکارتے ہیں ایسے لوگوں سے اللہ کی مسجدیں کیا آباد ہوسکتی ہیں۔ اللہ کی مسجدیں تو ایسے لوگوں سے آباد ہوسکتی ہیں جو خالص دل سے اللہ کی ہر طرح عبادت کرتے ہیں اور یہ بت پرست لوگ حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام میں آنے جانے کو اللہ کی وحدانیت اور حشر پر ایمان لانے کے اور دین کی لڑائی کے برابر جو سمجھتے ہیں یہ ان کی بےانصافی ہے۔ کیونکہ ہر عبادت کرنے والے کو ضروری ہے کہ پہلے صحیح طور پر اپنے معبود کو پہچان لیوے۔ بت پرستی کے سبب سے جب ان لوگوں میں یہ بات نہیں ہے تو اللہ کے نزدیک نہ یہ لوگ اللہ کے پہچاننے والوں کے برابر ہوسکتے ہیں نہ ان کی کوئی عبادت خدا شناس لوگوں کی عبادت کے برابر ہوسکتی ہے۔ اس لئے اللہ کی بارگاہ میں تو ان ہی لوگوں کے نیک کاموں کے بڑے بڑے اجر ہیں جو اللہ کو معبود حقیقی جانتے ہیں اور خالص دل سے اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ جن کی عبات میں شرک یا دنیا کے دکھاوے کا کچھ لگاؤ ہے ان کی عبادت رائیگاں ہے۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے مسلمانو ! تم نہ سمجھ اپنے باپوں اور بھائیوں کو (اپنا) دوست، اگر وہ ایمان کے مقابلہ پر کفر اختیار کریں اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی رکھے گا پس ایسے ہی لوگ ظالم ہیں

ہجرت اور جہاد کا حکم شان نزول : حضرت عباس اور طلحہ ؓ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ جب یہ دونوں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے رک گئے تو یہ فرمایا کہ تم لوگ جب ایمان لاچکے تھے تو تم کو اپنے باپ بھائیوں کے سبب سے ہجرت کو نہ چھوڑ نا چاہئے تھا کیونکہ وہ رشتہ دار تو ایسے ہیں جو کفر پر جمع ہوئے ہیں اور ایمان کے مقابلہ میں کفر کو اچھا جانتے ہیں۔ اس لئے جو کوئی ان کی رفاقت کرے گا وہ تو ظالم ہے۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ مسلمانوں سے) فرماؤ :'' اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیبیاں اور تمہارے کنبہ والے اور تمہارا مال جو تم نے کمایا ہے اور تمہاری وہ تجارت جس کے نقصان کا تمہیں اندیشہ ہے اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو یہ ساری چیزیں تمہیں زیادہ محبوب ہوں اللہ سے اور اس کے رسول (ﷺ) سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ حکم لائے اور اللہ قوم فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا

رسول کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ اگر تم ایمان لانے کے بعد قرابت داروں اور ترقی مال و تجارت اور اچھے اچھے مکانوں کے آباد رکھنے کی الفت میں ایسے گرفتار ہوگئے کہ ان چیزوں سے زیادہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کو عزیز نہ جانوگے، تو ایسی حالت میں تمہارا ایمان پورا نہیں ہوسکتا ہے، اور اگر انہی چیزوں کی محبت میں پڑے رہوگے تو پھر خدا کے عذاب کے منتظر رہو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھے۔ کیونکہ احکام الہی اللہ کے رسول کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس واسطے اللہ کے رسولوں کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں میں یہ اطاعت کا مادہ نہیں ہے وہ نافرمان لوگ ہیں اور ایسے مافرمان لوگوں کو زبردستی راہ راست پر لانا انتظام الہی کے برخلاف ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں کی نافرمانی کی سزا کا منتظر رہنا چاہئے۔
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) بیشک اللہ نے تم کو بہت جگہ مدد دی (جب کہ تمہیں اپنی قلت وکمزوری سے کامیابی کی امید نہ تھی) اور حنین کے دن بھی جب کہ تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین باوجود فراخ ہونے کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم میدان سے پیٹھ دے کر پھر گئے

غزوہ حنین فتح مکہ کے بعد قریب دو ہفتہ کے آنحضرت ﷺ می مکہ میں (قیام) کیا۔ اسی اثناء میں آپ کو خبر پہنچی کہ حنین کے میدان میں ہوازن اور ثقیف قبیلہ کے چار ہزار آدمی اپنے اونٹ اور بکریاں لے کر مسلمانوں سے لڑائی کی نیت سے جمع ہوئے ہیں۔ آپ نے یہ سنتے ہی مسکرا کر فرمایا کہ : کل انشاء اللہ تعالیٰ وہ سب اونٹ اور بکریاں مسلمانوں کا مال غنیمت ہوجاوے گا۔ مدینہ سے جب فتح مکہ کی نیت سے آپ نکلے تھے تو آپ کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تھا۔ وہی لشکر آپ نے اپنے ساتھ لیا اور حنین کی چڑھائی کا ارادہ کیا۔ اب فتح مکہ کے وقت دوہزار کے قریب جو لوگ مسلمان ہوئے تھے وہ بھی ساتھ ہوگئے۔ بعضے صحابہ کی زبان سے یہ کلمہ بھی نکل گیا کہ آج ہمارا لشکر بہت ہے اس لئے ہم کسی سے اب مغلوب نہ ہوں گے۔ اس لئے اول میں مسلمانوں کی فتح ہوکر جب مسلمان لوٹ کر کی طرف متوجہ ہوئے تو دشمنوں نے موقع پاکر ایسے تیر برسائے کہ مسلمانوں کے پیر اکھڑ گئے۔ اتنے میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عباس ؓ سے جو بہت بلند آواز تھے لوگوں کو آواز دلوائی اور بلوایا اور پھر صف بندی کرکے مقابلہ کیا، اور بدر کی طرح خاک کی ایک مٹھی دشمنوں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ سے فتح کی دعا کی۔ آسمان سے کچھ فرشتے بھی تسکین لے لئے آئے اور اللہ نے فتح دی اس لڑائی میں چھ ہزار لونڈی غلام اور چوبیس ہزار اونٹ اور چالیس ہزار بکریاں یہ لوٹ مسلمانوں کے ہاتھ لگی۔ تھوڑے روز کے بعد ہوازن قبیلہ کے لوگ اسلام لائے اور اپنا مال انہوں نے آنحضرت ﷺ سے واپس مانگا۔ آپ نے ان کے اہل و عیال کی واپسی کا حکم تو دیا مگر مال مسلمانوں ہی کے پاس رہا۔
Ayahs 9:26–27

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر پنی طرف سے تسکین اتاری اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے اور کافروں کو عذاب دیا اور منکروں کی یہی سزا ہے

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ جس کو چاہے گا توبہ (کی توفیق) دے گا، اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

گنہگاروں کی توبہ جنگ حنین میں مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے تسکین پیداکردی، اور علاوہ اس تسکین کے دوہری تسکین کے لئے آسمان سے فرشتے بھی بھیج دئے۔ مسلمانوں کے لشکر میں اس تسکین سے پہلے ایک صورت شکست کی پیدا ہوگئی تھی اس لئے اس دوہری تسکین کا یہ انتظام فرمایا گیا جس سے مسلمانوں کے دل خوب مظبوط ہوگئے اور وہ دوبارہ خوب جم کر لڑے۔ اس دوبارہ کی لڑائی میں مخالفوں کے بہت سے آدمی مارے گئے، ان کے بال بچے تو قید ہوگئے اور ان کا مال لوٹ لیا گیا جس کا زکر اوپر گزرا۔ غرضیکہ ان سب کو مخالفوں کے کفر کی سزا فرمائی۔ یہ پوری سزا تو انہیں کے حق میں ہوئی جن کا حالت کفر پر قتل ہونا علم الہی میں قرار پاچکا تھا اور جن کے نصیب میں کفر و شرک سے توبہ کرنا لکھا تھا، ان کی جانیں بھی بچ گئیں اور انہوں نے توبہ بھی کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے ان کی توبہ قبول بھی کی اور ان کے بال بچے بھی ان کو واپس مل گئے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ توبہ قبول کرنے میں گنہگاروں کے حال پر بڑا ہی مہربان ہے۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے مسلمانو ! مشرک تو نرے ناپاک ہیں پس چاہئے کہ وہ مسجد الحرام کے پاس نہ آنے پائیں اس سال کے بعد سے اور اگر تمہیں (ان کی آمد ورفت کے بند ہوجانے سے) تنگ دستی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تم کو دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے گا بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

مشرک ناپاک ہیں : اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے حق میں یہ حکم فرمایا کہ یہ لوگ ناپاک ہیں اس لئے 9 ھ کے بعد یہ لوگ حرم شریف میں داخل نہ ہونے پائیں۔ کیونکہ کفر وشرک جو ان کے دلوں میں ہے وہ نجاست سے بھی بڑھ کر ہے اس لئے یہ لوگ پلید ہیں۔ حرم شریف میں مشرکوں کی (ممانعت) اور رزق کا ذکر شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جب 9 ھ میں آنحضرت ﷺ نے موسم حج کے وقت حضرت علی ؓ کو مکہ بھیج کر عام حکم سورة برات کا سنوادیا کہ آئندہ سال کوئی مشرک حج کو نہ آسکے، اور مکہ میں انہی لوگوں کے سبب سے تجارت کرنے اور کھانے پینے کا سامان لاکر اہل مکہ کی گزر ہوتی تھی۔ اب جب ان کا حرم کا آنا بند ہوگیا تو ان کا مکہ کا سفر بھی باقی نہ رہا۔ کیونکہ رسم جاہلیت کے موافق یہ لوگ حج کے ارادہ سے یہ لوگ موسم حج پر مکہ کو آیا کرتے تھے۔ اس لئے ان لوگوں کے مکہ میں نہ آنے سے مکہ کے لوگوں کو بڑا تردد ہوا کہ اب کھانے پینے کی گزر کیونکر ہوگی۔ 8 ھ میں فتح مکہ ہوکر اکثر اہل مکہ مسلمان ہوچکے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین اور ان کا تردد رفع کرنے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا بہت جلد اس کا سبب بھی یہ پیدا کردیا کہ اہل یمن جو مسلمان ہوگئے تھے وہ ہر طرح کا تجارت کا سامان مکہ میں لانے لگے۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

(اے مسلمانو ! ) ان سے جنگ کرو جو ایمان نہیں لاتے ہیں اللہ پر اور نہ قیامت کے دن پر اور حرام نہیں جاتے ہیں اس چیز کو جس کو خدا نے اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور نہیں اختیار کرتے سچے دین کو یعنی وہ لوگ جنہیں کتاب (الہی توریت وانجیل) دی گئی (لڑو) جب تک وہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں

جزیہ کا حکم اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکوں سے اس واسطے لڑو کہ یہ لوگ بت پرست اور قیامت کے منکر ہیں اور اہل کتاب بھی مومن نہیں ہیں۔ کیونکہ یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ٹھرایا اور نصاری نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں خدا یا خدا کا بیٹا ہونے کا گمان کیا۔ پھر فرمایا اگرچہ یہ لوگ اس بات کے بظاہر قائل ہیں کہ دوزخ جنت ہے مگر حقیقت میں ان کا ایمان اس پر نہیں ہے۔ علاوہ اس کے خدا نے جن چیزوں کو حرام ٹھرایا ہے یہ لوگ حرام نہیں سمجھتے۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب دین اسلام کو اختیار نہیں کرتے حالانکہ یہ دین اسلام سارے پچھلے دینوں کا ناسخ ہے۔ اسی میں پارسی لوگ بھی شامل ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے دین کی لڑائی کی حد جزیہ کو ٹھرایا اور فرمایا کہ جب تک یہ لوگ خوشی سے جزیہ نہ دیں ان سے لڑے جاؤ تاکہ ہمیشہ بلاجبر ادا کریں۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور کہا نصاریٰ نے کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے، یہ ان کی باتیں ہیں محض ان کی زبان سے نکالی ہوئی، ان کافروں جیسی باتیں بناتے ہیں جو ان سے پہلئ گزرچکے، خدا انہیں غارت کرے کہاں بہکے چلے جارہے ہیں

یہود ونصاریٰ کو بد دعا مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ ، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہنے لگے، جس طرح ان سے یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا تھا۔ بہر حال خدا تعالیٰ نے خفگی سے یہ فرمایا کہ خدا انہیں غارت کرے۔ یہ کیونکر ایسی باتیں کہتے ہیں اور کس طرح راہ حق سے بھٹکتے پھرتے ہیں۔ آسمانی کتابوں میں بہت سی دلیلیں اللہ کی وحدانیت کی ان کے پیش نظر ہیں۔ اور بہت سی حجتیں اس بات پر قائم ہوچکیں کہ خدا اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی بی بی ہے نہ اس کا بیٹا۔ یہ باتیں مخلوق کے ساتھ مخصوص ہیں خالق جل شانہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

(انہوں نے) اللہ کو چھوڑ کر اپنے پادریوں اور جوگیوں کو خدا بنالیا اور مسیح بیٹے مریم کو حالانکہ ان کو حکم تو یہی کیا گیا تھا کہ (صرف) ایک خدا کی عبادت کریں اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں وہ پاک ہے ان کے شرک سے

عالم ودرویشوں کی حالت اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب نے حلال و حرام میں حضرات عالم اور درویشوں کی پیروی کی اور ان کے کہنے پر چلے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا یہ ان کو بھی اللہ کہنے لگے۔ حالانکہ یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے شک مبارک سے پیدا ہوئے اور جس طرح اور آدمی کھاتے پیتے چلتے پھرتے ہیں وہی حال ان کا ہے۔ پھر فرمایا کہ ان کو اور کسی بات کا حکم ہی نہیں دیا گیا تھا بلکہ آسمانی کتابوں میں ان کو یہی بتایا گیا تھا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اور اللہ کی ذات کا کوئی شریک نہیں ہے وہ تو اکیلا ہے اور شرک سے بالکل بری ہے۔
Ayahs 9:32–33

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھادیں (یعنی دین اسلام کو) اور اللہ نہ مانے گا اس کے سوا کہ پورا کرے اپنے نور کو (یعنی دین اسلام کو غلبہ دے) اگرچہ کافر برا مانیں

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنا رسول مکرم (ﷺ) ہدایت اور دین حق کے داتھ بھیجا تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے اگرچہ برا مانیں مشرک

یہود ونصاریٰ اور مشرکین مکہ کی ناجائز حرکت اللہ ایک نے اس آیت میں یہود ونصاریٰ اور مشرکین مکہ کی ایک اور حالت بیان فرمائی کہ یہ سب مل کر خدا کا دین جو نہایت سچا ہے، اور اس کی روشنی آفتاب سے بھی کہیں زیادہ ہے، اس کو اپنی ان ایجادی باتوں سے اس طرح بجھانا چاہتے ہیں جس طرح کوئی پھونک سے چراغ کو بجھانا چاہے۔ پھر فرمایا کہ ان کی ان باتوں سے کیا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ تو اپنے دین کو پھیلا کر رہے گا، یہ اگر برا مانیں تو برا مانا کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول برحق خاتم النبیین ﷺ کو دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام روئے زمین کے دینوں پر غالب کر کے ظاہر کردے۔ اس پر یہ مشرک برا مانیں تو مانا کریں اللہ سچا ہے اور اس کا وعدہ سچا ہے۔ اہل اسلام اور ان کے سردار جب تک شریعت الہی کے پابند رہے ان کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے دن بدن اسلام کی روشنی کو بڑھایا۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بیشک (یہود ونصاریٰ کے) پادری اور جوگی لوگوں کا مال ناحق کھاجاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، اور جو لوگ سونا اور چاندی جوڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، پس ان کو بشارت دو عذاب درد دینے والے کی

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن کہ اس (مال) کو دوزخ کی آگ سے تپایا جائے گا پھر اس سے داغ دیا جائے گا ان کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پیٹھوں کو، (کہا جائے گا):'' یہ ہے ذخیرہ جو تم نے جمع کیا تھا اپنے واسطے پس (اس کا) مزہ چکھو جو کچھ جمع کرتے تھے ''

اہل کتاب کے علماء اور درویش، زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب : یہ ایک اور مذمت اہل کتاب کے عالموں کی بیان کی گئ ہے۔ اکثر علماء یہود ونصاریٰ ، سچ میں جھوٹ ملا کر لوگوں کے مال کھالیتے ہیں اور لوگوں کو راہ حق سے روکتے ہیں۔ ناحق سے مقصد ان کی وہ کتابیں ہیں جو انہوں نے لکھ رکھی ہیں خدا نے نہیں اتاریں۔ انہیں کتابوں کے حوالے سے لوگوں کی مرضی کے موافق فتوے دیتے تھے اور ان فتوؤں کے بدلے میں لوگوں سے مال لے کر کھاتے تھے۔ اور ان ایجادی فتو وں کے سبب سے عام لوگوں کو تورات اور انجیل کے حکم سے روکتے تھے۔ مثلا یہود نے جس طرح سنگ باری کے حکم اور علماء نصاریٰ نے ختنہ کے حکم سے عام لوگوں کو روکا۔ اب آگے یہ جو فرمایا کہ جو لوگ سونے چاندی کو گاڑھتے ہیں یعنی مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ان سارے لوگوں کو آخرت کے دن کے دردناک عذاب کی یہ خبر سنادو کہ اس مال کو دوزخ کی آگ میں تپایا جاوے گا اور اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھ داغے جائیں گے اور کہا جائے گا :'' لو اب مال جمع کرنے کا مزہ چکھو ''۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہے۔ اس تمام دن میں جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ کے دوزخ میں جانے کا فیصلہ ہونے تک، زکوٰۃ کے ادا نہ کرنے والے لوگ اس جسم کے داغے جانے کی سزا میں گرفتار رہیں گے۔ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں جاچکیں گے تو پھر ان زکوۃ کے نہ دینے والے لوگوں کا ان کے باقی کے عملوں کے موافق جدا ہوگا۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی باررہ مہینے کی ہے اللہ کی کتاب میں جس دن پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ان (بارہ مہینوں) میں سے چار مہینے حرمت کے مہینے ہیں (یعنی رجب۔ ذی قعدہ۔ ذی الحجہ۔ محرم) یہ سچا دین ہے پس ان چار مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر حال میں سے لڑو جیسا کہ وہ لڑتے ہیں تم سے ہر حال میں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے

ذیقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب ان چار مہینوں کی خاص فضیلت شان نزول : مشرکین مکہ ایام جاہلیت میں ادب کے مہینوں کی کچھ خصوصیت باقی نہیں رکھتے تھے بلکہ لڑائی کے زمانہ میں اگر محرم کا مہینہ آتا تھا بےوسواس جنگ کرتے تھے اور اس کے عوض میں مثلا صفر کے مہینے کو محرم قرار دے لیتے تھے اسی کو نسئ بھی کہتے ہیں۔ جس کا ذکر آگے آوے گا غرضیکہ اسی امر کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا کہ خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں بارہ ہیں : محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ۔ ان مہینوں کو قمری مہینہ کہتے ہیں کیونکہ ان کا حساب چاند کی گردش سے واقع ہوتا ہے۔ ان بارہ مہینوں کے دن سال میں تین سو پچپن ہوتے ہیں، اور یہی مہینے عرب کے یہاں مروج چلے آتے ہیں اور مسلمانوں کے نماز، روزہ، حج وغیرہ کے معاملات ان ہی کے حساب سے ہوتے ہیں۔ شمسی سال جس کا شمار آفتاب کی گردش سے ہے تین سو پینسٹھ دن کا ہوتا ہے۔ اس واسطے قمری سال شمسی سال سے ہر برس دس روز کم میں تمام ہوجاتا ہے اور ہر سال اسی دس روز کی کمی سے قمری مہینے مختلف موسموں میں واقع ہوا کرتے ہیں اور اسی طرح خدا کی کتاب لوح محفوظ میں یہی حساب واقع ہے۔ پھر فرمایا کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ادب کے ہیں : ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم لگاتار اور ایک مہینہ سال کے درمیان میں رجب کا۔ ملت ابراہیمی کے موافق ان چار مہینے کی اہل عرب نہایت ہی حرمت و عظمت کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حرمت کو برقرار رکھا بلکہ اور بھی تاکید کردی کہ ان ادب کے مہینوں میں لڑائی کی ابتدا کر کے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو کیونکہ ان مہینوں میں معصیت کے کرنے پر سخت عتاب ہوگا۔ پھر یہ حکم فرمایا کہ جس طرح کفار تم سے قتال کرتے ہیں تم بھی ان سے قتال کرو اور یہ جان رکھو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے انہیں کی مدد ونصرت کرتا ہے۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

سوا اس کے نہیں کہ (مہینوں کا) آگے پیچھے ہٹادینا کفر کی زیادتی ہے اس کے ذریعہ سے کفار گمراہ کئے جاتے ہیں کہ وہ اس حرام مہینے کو ایک سال حلال ٹھراتے ہیں (یعنی اس میں لڑائی جائز کردیتے ہیں) اور پھر اسی کو دوسرے سال حرام مانتے ہیں تاکہ اللہ نے جو مہینے حرام کئے ہیں (صرف) ان کی گنتی پوری کرلیں اور جو اللہ نے حرام کیا ہے اسے حلال کرلیں، ان کے برے کام ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں، اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا

نسئ ممنوع اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کی یہ ایک اور گمراہی بیان فرمائی کہ ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کی حرمت و عظمت کے معتقد تھے اور جب کبھی لڑائی کے زمانہ میں یہ حرمت کے مہینے آجاتے تو ان کو بہت شاق گزرتے۔ اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ ایک مہینے کی حرمت دوسرے مہینے کی طرف ہٹانے لگے۔ محرم کی حرمت صفر کی طرف ہٹاکر محرم میں جنگ جاری رکھتے اور بجائے اس صفر کو ماہ حرام بنالیتے اور رجب اس سے بھی تحریم ہٹانے کی حاجت سمجھتے تو اس میں جنگ حلال کرلیتے اور ربیع الاول کو ماہ حرام قرار دیتے۔ اسی طرح تحریم سال کے تمام مہینوں میں گھومتی اور ان کے اس طرز عمل سے ماہ ہائے حرام کی تخصیص ہی باقی نہ رہی۔ اسی طرح حج کو مختلف مہینوں میں گھماتے پھرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع میں اعلان فرمایا کہ اس طرح کے گھمانے والے مہینے جن کو نسئ کہتے ہیں گئے گزرے ہوئے۔ اب مہینوں کے اوقات کی وضع حکم الہی کے مطابق حفاظت کی جائے اور کوئی مہینہ اپنی جگہ سے نہ ہٹایا جائے۔ اس آیت میں نسی کو ممنوع قرار دیا گیا اور کفر پر کفر کی زیادتی بتایا گیا کیونکہ اس میں ماہ ہائے حرام میں تحریم قتال کو حلال جاننا اور خدا کے حرام کئے ہوئے کو حلال کرلینا پایا جاتا ہے۔ اصل میں شیطان نے ان کی نظروں میں اس کام کو اچھے کرکے دکھایا ہے مگر اللہ تعالیٰ اسے کفار کو کبھی ہدایت پر نہیں لاتا۔
Ayahs 9:38–39

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

(اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے) نکلو تو زمین پر بوجھل ہوجاتے ہو (اور سفر سے گھبراتے ہو) کیا تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے پسند کرلیا تو (یاد رکھو) دنیا کی آسائش آخرت کے مقابلہ میں کچھ نہیں مگر تھوڑی

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم (جہاد کے لئے) نہ نکلو گے تو اللہ تم کو سخت سزا دے گا اور تمہارے بدلے دوسری قوم پیدا کردے گا او تم خدا کو کچھ نقسان نہ پہنچاسکو گے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

جنگ تبوک اور منافقوں کا ذکر شان نزول : آنحضرت ﷺ نے ماہ رجب 9 ھ میں غزوہ تبوک کا ارادہ کیا۔ تبوک میں شام کی طرف ایک جگہ ہے جو دمشق کے راستہ پر مدینہ سے چودہ منزل ہر واقع ہے۔ اس وقت گرمی بڑی سخت پڑ رہی تھی اور درخت پھلوں سے لدے پڑے تھے۔ آپ نے بڑے سفر کا ارادہ کیا تھا اس لئے پہلے سے لوگوں کو تیار ہونے کو کہا۔ اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے اور تھوڑے سے اپنے گھروں میں رہ گئے آپ کے ساتھ نہیں گئے۔ انہیں لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ایماندار لوگو ! تم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لاکر پھر اللہ کے رسول کے حکم سے سرتابی اور دین کی لڑائی میں شریک ہونے سے سستی کرتے ہو اور حیلے بہانے کرکے فقط ان خیالات سے گھروں میں بیٹھ رہے ہو کہ گرمی سخت ہے اور دوردراز کا سفر ہے اور مدینہ میں درخت خاردار ہورہے ہیں جن کی خبر گیری ضرور ہے۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو بہتر جانتے ہو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ دنیا فانی اور اس کی نعمتیں ہمیشہ باقی نہیں رہیں گی تو پھر یہ دنیا کیونکر آخرت کے مقابل ہوسکتی ہے آخرت کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ہیں، اس واسطے دنیا کا مال ومتاع عقبی کی نعمتوں کے آگے محض حقیر اور بےحقیقت ہے پھر فرمایا کہ اگر تم دین کی لڑائی میں پیچھے رہ جاؤگے اور شریک نہ ہوگے تو تم پر سخت عذاب آنے لگیں گے اور آخرت میں بھی عذاب کئے جاؤگے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تم لوگوں کا محتاج نہیں ہے اسے تو بہت بڑی قدرت حاصل ہے اگر تم اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دوگے تو تمہاری جگہ دوسری قوموں سے کام لے گا وہ اللہ کے رسول کا ساتھ دیں گے کیونکہ اللہ کو پر طرح کی قدرت ہے۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم رسول (کریم ﷺ) کی مدد نہ کروگے تو (کیا ہوگا) بیشک مدد دی ہے ان کو اللہ نے اس وقت کہ کافروں نے (مکہ سے) جلا وطن کیا صرف دوجان سے کہ جب وہ دونوں غار میں تھے جس وقت کہ کہتے تھے اپنے یار سے (یعنی ابوبکر صدیق سے) کہ کچھ غم نہ کرو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پھر اللہ نے ان کے قلب پر اپنا اطمینان اتارا اور ان کو ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم لوگوں نے نہیں دیکھا اور کافروں کی بات نیچے ڈالی اور اللہ ہی کا بول بالا رہا، اور اللہ غالب مظبوط تدبیر والا ہے

رسول کریم اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ہجرت اور ان کی تمام صحابہ پر فضیلت اور ان کا منکر کافر شان نزول : جب تبوک کی لڑائی کے وقت موسم گرما کی سختی اور سفر کی درازی کے سبب سے بعضے اہل مدینہ نے حضور ﷺ کے ساتھ سفر کو ٹال دیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس آیت میں ہجرت کے وقت کا ذکر فرما کر لوگوں یہ تنبیہ کردی کہ اگر تم لوگ نبی وقت کی مدد میں کوتاہی کروگے تو اللہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ جس طرح اس نے اپنے نبی ﷺ کی مدد ہجرت کے وقت کی ہے، اب بھی وہ مدد کرے گا ہجرت کا قصہ پہلے گزر چکا ہے کہ مکہ مکرمہ سے جب کہ کفار نے دار الندوہ میں حضور ﷺ کے لئے قتل وقید وغیرہ کے برے برے مشورے کئے گئے۔ تو آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ جبل ثور کے غار میں تین راتیں رہے۔ پہلے ہی دن کفار مکہ نے آپ کی تلاش میں آپ کا پیچھا بھی کیا یہاں تک کہ جب غار کے قریب یہ لوگ آئے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ان کفار کے قدم غار میں سے نظر آئے۔ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو بڑا اندیشہ ہوا لیکن آنحضرت ﷺ نے تسکین کی اور فرمایا کہ اندیشہ کی کوئی بات نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت میں فرمایا۔ اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صحابیت کا منکر اور قرآن قرآن کا منکر کافر ہے۔ جب تک آنحضرت ﷺ اس غار میں رہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے اس غار کے گردا گرد فرشتے تعینات کردیئے تھے جس سے غار کے اندر تک کسی مشرک کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی تھی۔ غار سے روانہ ہونے کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے مارنے یا پکڑ کے لانے والے کا انعام سو اونٹ قرار دیئے تھے۔ اس لالچ سے ایک شخص سراقہ بن جعشم نے گھوڑے پر چڑھ کر آہ کا پیچھا کیا اور جب آپ کے قریب پہنچا تو اس کا آدھا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ جب اس نے پکار کر حضور ﷺ سے امان مانگی تو اس کا گھوڑا نکلا۔ وہ خالی شرمندہ ہوکر واپس آیا۔ حضور ﷺ مدینہ پہنچے تو وہاں مسجد نبوی بنوائی۔ پھر فرمایا کہ اپنی زبردست حکمت سے اللہ تعالیٰ نے دن بدن شرک کو گھٹایا اور توحید کو بڑھایا۔ مشرکوں کو یہاں تک بےبس کردیا کہ انہوں نے اپنے جھوٹے معبودوں کی ذلت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان کی کچھ حمایت نہ کرسکے۔