9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمظہر القرآن

Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

(اے مسلمانو ! ) کوچ کرو (خواہ) ہلکے (ہو) اور (خواہ) بھاری (ہو) اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو، یہ تمہارے لئے (بہت) بہتر ہے اگر تم سمجھتے ہو

جہاد کا حکم اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد میں جانے کا حکم فرمایا کہ تم کسی حال میں ہو خواہ تم پر جہاد ہلکا ہو خواہ بھاری ہو، تم اپنی جان ومال سے خدا کی راہ میں جہاد کرو۔ دین کی لڑائی میں جو واپس آیا تو اجر وغنیمت لے کر، پھر اگر شہید ہوا تو جنت میں داخل ہوگا۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ جو تم دعوت کرتے ہو اس میں) اگر کچھ مال قریب (ملنے والا) ہوتا اور آسان سفر ہوتا تو بیشک یہ لوگ تمہارے ساتھ جاتے لیکن ان کو مسافت کی راہ دور دکھائی دی اور عنقریب یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ یہ (جھوٹی قسمیں کھا کر) اپنی ہی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ (تو) جانتا ہے کہ بیشک یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں

جنگ تبوک میں منافقوں کا جھوٹا عذر کرنے کا ذکر اس آیت میں ان منافقوں کا حال ہے جو منافق اپنے نفاق کے سبب سے جھوٹے عذکر کرکے جنگ تبوک میں شریک نہ ہوئے اور گھروں میں بیٹھ رہے۔ ان کے حق میں فرمایا کہ یہ لوگ اس خیال سے رہ گئے کہ دور دراز کا سفر ملک شام کی طرف کرنا پڑے گا اور وہاں غنیمت کا مال خدا جانے ملے یا نہ ملے۔ غرض کہیں نزدیک جانا ہوتا اور غنیمت بھی آسانی سے دستیاب ہوتی تو یہ لوگ تمہارے ساتھ جاتے، مگر لمبے سفر کو انہوں نے مشقت خیال کیا پھر یہ فرمایا کہ جب تم مدینہ کو واپس جاؤگے تو قسمیں کھا کھاکر یہ لوگ عذر بیان کریں گے کہ ہمارے پاس راہ خرچ نہیں تھا، اس واسطے ہم جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ بول بول کر اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ خدا خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنے قول میں جھوٹے ہیں۔ ان کے پاس بہت کچھ تھا مگر جھوٹ بول کر پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ تمہیں معاف کرے تم نے انہیں اجازت کیوں دی (پیچھے رہ جانے کی) جب تک تمہیں معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ سچے ہیں اور تم جان لیتے جھوٹوں کو

جس طرح بدر کے قیدیوں سے وحی نازل ہونے سے پہلے آنحضرت ﷺ نے فدیہ لے لیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی خفگی کا حکم آیا تھا۔ اسی طرح تبوک کی لڑائی کے وقت جن منافقوں نے بناوٹ کے عذر آنحضرت ﷺ کے روبرو پیش کئے اور آپ نے ان لوگوں کو مدینہ میں رہ جانے کی اجازت دے دی۔ اس پر خفگی کا حکم نازل ہوا مگر یہ خفگی کا حکم ایسا پیار کا ہے کہ جس میں خفگی سے پہلے معافی کا ذکر ہے۔ خفگی کا حاصل یہ ہے کہ اجازت دینے میں اس قدر جلدی نہیں کرنی تھی بلکہ ذرا عذروں کو دریافت کرنا تھا تاکہ معلوم ہوجاتا کہ کس کس کے عذر سچے ہیں، اور کس کس کے بناوٹی عذر ہیں۔
Ayahs 9:44–45

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

(یاد رکھو کہ) جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں تم سے وہ لوگ چھٹی نہ مانگیں گے اس سے کہ اپنے مالوں سے اور جانوں سے جہاد کریں، اور اللہ خوب جانتا ہے پرہیزگاروں کو

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

تم سے یہ چھٹی وہی طلب کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں تو وہ لوگ اپنے شک میں خود سرگرداں ہیں

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ایماندار ہیں خدا پر اور آخرت پر یوین رکھتے ہیں وہ کبھی گھر میں رہنے کی اجازت نہیں چاہتے ہیں۔ انہیں تو یہی بات پسند ہے کہ جس طرح ممکن ہو اپنی جان سے مال سے جہاد میں شریک ہوں۔ بلکہ اگر انہیں بیٹھ رہنے کا حکم بھی دیاجائے تو انہیں شاق گزرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کا حال بیان فرما کر یہ ذکر کیا کہ خدا سب کو جانتا ہے کہ کون کون ان میں متقی ہیں۔ اور پھر یہ فرمایا کہ جو لوگ خدا پر پورا ایمان نہیں رکھتے اور نہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، وہی لوگ بیٹھ رہنے کو پسند کرتے ہیں اور گھروں میں رہ جانے کی اجازت بھی چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دلوں میں دین کی طرف سے شک ہے اور یہ لوگ ہمیشہ شک کی حالت میں متردد ہیں
Ayahs 9:46–47

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ چاہتے (تمہارے ساتھ) جانا تو سفر کے واسطے سامان تیار کرتے لیکن اللہ نے ان کا ٹھنا پسند نہ کیا تو ان میں کاہلی بھر دی اور فرمایا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ (تمہارے ساتھ) جاتے تو ان سے سوائے نقصان کے تمہیں کچھ نہ بڑھتا اور بیشک تم می فتنہ پیدا کرنے کے فکر میں دوڑے دوڑے پھرتے اور تم میں (بعض لوگ) ان کے جاسوس موجود ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے

منافقوں کا جاسوسی کرنے کا ذکر اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں کا ارادہ پہلے ہی سے اس لڑائی میں شرک ہونے کا بالکل نہ تھا۔ اگر یہ لوگ لڑائی میں شریک ہونا چاہتے تو ضرور سامان جنگ کرتے۔ جس طرح اور لوگوں نے اس کی تیاری کی تھی۔ پھر یہ فرمایا کہ اللہ کو بھی ان کا شریک ہونا پسند نہیں تھا۔ اسی واسطے اس نے ان کے دلوں میں نامردی پیدا کردی اور یہ عذع وحیلہ کرکے رہ گئے۔ جس طرح عورتیں بچے بیمار اور معذور گھروں میں رہ جاتے ہیں انہیں بھی رہ جانا پڑا۔ یہ خدا کی بہت بڑی مصلحت تھی کیونکہ اگر یہ لوگ بھی لڑائی میں جاتے تو بجائے مدد کے فتنہ و فساد برپا کرتے۔ مسلمانوں کو خوف دلاتے، ایسی ایسی باتیں کرتے جس سے مسلمانوں کے جی چھوٹنے لگتے۔ کیونکہ تم میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو تمہاری باتیں سن سن کر ان منافقوں کو اس کی خنر دیتے رہتے ہیں۔ جاسوسی کرتے ہیں، یہ لوگ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں کہ اس جاسوسی اور منافقوں کی سزا بھگتیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ وقت مقررہ پر ان کے عملوں کی پرسش کرے گا۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

بیشک انہوں نے پہلے ہی سے فتنہ اٹھانا چاہا تھا اور (اے محبوب دوجہاں ﷺ) تمہارے خلاف ہر طرح کی تدبیروں کو الٹ پلٹ کرتے ہی رہے یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہوا اور وہ برا مانتے رہے

جنگ تبوک میں جانے پر منافقوں کے بناوٹی حیلے اور ان کے منصوبے کا جواب اور عملوں کا ذکر : اس آیت میں بھی انہی منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ کچھ اسی لڑائی پر موقوف نہیں ہے یہ لوگ پہلے ہی سے فتنہ و فساد برپا کرنے کی فکر میں لگے ہوئے اور یہ چاہتے ہیں کہ خدا کا دین دب جائے۔ پھر فرمایا کہ ان کی کوئی تدبیر کار آمد نہیں ہوئی۔ آخر اللہ ہی کا بول بالا رہا اور یہ ناخوش ہوتے رہے۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان (منافقوں) میں کوئی تم سے یوں کہتا ہے :'' مجھے اجازت دیجئے (گھر میں بیٹھا رہوں) اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے '' آگاہ ہو کہ وہ (خود) فتنہ میں پڑے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو

شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے جہ منافقین مدینہ میں سے ایک شخص قبیل بنی سلمہ کا سردار جد بن قیس تھا جس کی کنیت ابو وھب تھی۔ تبوک کی لڑائی میں جانے اور نصرانیوں سے لڑنے کا جب آنحضرت ﷺ نے اس سے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ سب لوگوں کو معلوم ہے کہ میں عورتوں سے زیادہ رغبت رکھتا ہوں، شام کے ملک میں جاکر نصرانیوں کی عورتوں کو دیکھوں گا تو خواہ مخواہ فتنہ میں پر جاؤگا۔ اس لئے مجھ کو تو مدینہ میں ہی چھوڑ جایئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ بڑا فتنہ نفاق کا ہے جس میں یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اس فتنہ کے سبب سے یہ ایسے جھوٹے عذر کرتے ہیں اور دنیا میں تو یہ لوگ اپنی دغابازی کی باتوں کو ہوشیاری اور دور اندیشی جان کر عمر بھر اسی حالت کو یہاں تک اچھا جانتے کہ عقبیٰ میں بھی اپنی ان دغا بازیوں سے کام لینا چاہیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے۔ اس کے سامنے ان کی دغابازی کچھ نہ چل سکے گی اور آخر ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم کے ساتویں طبقے میں ہوگا۔
Ayahs 9:50–52

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی نعمت پہنچے تو ان کو (یعنی منافقوں کو) کو بری لگے اور اگر تمہیں پیش آئے کوئی مصیبت تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی سے اپنا کام درست کر کھا تھا، اور وہ خوشیاں مناتے ہوئے لوٹتے ہیں

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

تم فرماؤ (میرے حبیب ﷺ): ہمیں '' نہ پہنچے گا مگر وہ جو اللہ نے مقدر میں لکھ دیا ہے وہی ہمارا مالک ہے '' اور چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں ایمان والے

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ تم ہمارے حق میں کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا (یعنی فتح یا شہادت کا) اور ہم تمہارے حق میں انتظار کرتے ہیں کہ خدا تم کو اپنی طرف سے کوئی عذزاب پہنچائے یا ہمارے ہی ہاتھوں سے (عذاب دے) پس اب تم (نتیجہ کا) انتظار کرو بیشک ہم (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں

شان نزول : عبد اللہ بن ابی وغیرہ منافقین لڑائی کے وقت بناوٹی عذر کرکے جس لڑائی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ آتا تو دو طرف سے ان منافقین پر یہ امر شاق گزرتا تھا۔ ایک تو یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے عداوت تھی اس واسطے ان کی بہبودی اچھی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ دوسرے ان کو یہ محسوس ہوتا تھا ہم کیوں نہیں گئے جو ہمارے ہاتھ بھی مال لگتا اور اگر مسلمانوں کو کسی لڑائی میں کچھ ضرر پہنچتا تو یہ منافقین اپنی دور اندیشی پر نازاں ہوکر کہتے کہ ہم تو ضرر سے بچنے کے لئے پہلے ہی سے عذر کرکے نہیں گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں منصوبوں کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور پہلے منصوبے کا جواب یہ دیا کہ یہ منافق مسلمانوں کی بہبودی پر یوں ہی جلتے رہیں گے اور اللہ دن بدن مسلمانوں کو بہبودی دیتا رہے گا اور قریب ہے کہ اللہ کے عذاب آسمانی یا مسلمانوں ہی کے تسلط سے یہ منافق نیست ونابود ہوجاویں گے۔ چناچہ ویسا ہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں منافقوں کا نام مدینہ میں باقی نہ رہا۔ دوسرے منصوبہ کا جواب یہ فرمایا کہ مشیت الہی میں جس کو جو ضرر پہنچنا ہوتا ہے وہ گھر بیٹھے بھی پہنچتا ہے۔ مشیت الہی کے آگے دور اندیشی کچھ کام نہیں آتی۔ یہ ان لوگوں کی خام خیالی ہے جو دور اندیشی کو مشیت الہی سے بچنے کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو تسکین فرمائی کہ تم کو کچھ ضرر نہیں مارے گئے تو شہید ہوئے اور اگر زندہ واپس آئے تو دنیا کا مال غنیمت اور عقبیٰ کا اجر کمایا۔
Ayahs 9:53–54

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ منافقو ! تم خواہ خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے، تم سے ہرگز نہ قبول کیا جائے گا، بیشک تم فاسق لوگ ہو

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور وہ جو خرچ کرتے ہیں ان کا قبول ہونا بند نہ ہوا مگر اسی لئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (کریم ﷺ) سے منکر ہوئے اور وہ لوگ نماز کو نہیں آتے مگر جی ہارے ہوئے اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ

شان نزول : اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ قبیلہ بن سلمہ کے سردار جد بن قیس منافق نے تبوک کی لڑائی میں جانے سے جب یہ عذر پیش کیا کہ وہاں جاکر میں خوبصورت عورتوں کے فتنہ میں پڑجاؤں گا۔ اس عذر کے ساتھ اس نے دنیا سازی کے طور پر بھی کہا تھا کہ اس لڑائی میں کچھ روپے کی ضرورت ہو تو میں مدد دے سکتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جب ان لوگوں کا عقیدہ ہی درست نہیں ہے، تو ان کی کوئی عبادت مالی یا بدنی مقبول نہیں۔ اس واسطے ان کی کسی قسم کی مدد ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی۔ منافقوں کے عملوں کے علاوہ اگر آدمی منافق نہ ہو لیکن اس کے نیک عملوں میں ریاکاری کا میل ہو تو تھوڑی ریا کاری سے بھی جو عمل کیا جاوے وہ بیکار ہے کیونکہ خالص دل سے نہیں کیا گیا۔
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

پس تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے خدا یہی چاہتا ہے کہ ان کو عذاب کرے اس دنیاوی زندگی میں اس (مال واولاد) کے ذریعہ سے اور کفر ہی میں ان کی جان نکل جائے

منافقین کی بری حرکتیں اوپر ذکر تھا کہ جد بن قیس نے اپنی مالداری کے گھمنڈ پر یہ کہا تھا کہ اگر اس لڑائی میں کچھ خرچ کی ضرورت ہو تو میں دے سکتا ہوں۔ اس لئے اس ایت میں فرمایا کہ یہ لوگ اگر کثرت سے مال اور اولاد رکھتے ہیں تو اے رسول اللہ کے ! تم اسے دیکھ کر تعجب نہ کرو یہ بھی خدا کی طرف سے ایک ڈھیل ہے کہ اللہ پاک انہی چیزوں کے ذریعہ سے دنیا ہی میں ان پر عذاب کرے گا۔ زکوٰۃ کو یہ لوگ جرمانہ خیال کرنے لگے ان کو کبھی کچھ مالی نقصان پہنچے گا تو اس کے سبب سے انہیں نہایت غم اور صدمہ ہوگا، گویا ان پر عذاب ٹوٹ پڑا۔ یہی حال ان کا جانی نقصان کی صورت میں ہے کیونکہ عقبیٰ کی سزا وجزا پر ان لوگوں کا اعتقاد نہیں ہے۔
Ayahs 9:56–57

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ تم میں سے ہیں اور وہ تم میں سے نہیں ہیں لیکن وہ لوگ (تم سے) ڈرتے ہیں

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ یا کوئی غار یا کوئی گھس جانے کی جگہ پائیں تو وہ بہت جلد اس کی طرف متوجہ ہوجائیں گے رسیاں توڑاتے (بوجہ بعض کے)

منافقین قسمیں کھاکھاکر کہتے ہیں کہ ہم تم میں سے تمہارے دین پر ہیں لیکن یہ غلط بات ہے ان کی قسمیں محض جھوٹی ہیں، یہ ہرگز تمہارے گروہ میں سے نہیں ہیں، انہیں دین اسلام سے کیا واسطہ خدا اور رسول (ﷺ) کے حکم کی پیروی سے انہیں کیا سروکار۔ یہ تو خوف کے مارے اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ جس طرح مشرکین کو مسلمان قتل و غارت کرتے ہیں ان کے بی بی بچوں کے پکڑ لیتے ہیں ان کے مال غنیمت کو لوٹ لیتے ہیں اسی طرح کبھی ہم سے بھی نہ پیش آئیں غرض یہ کہ اسی سبب سے یہ لوگ جھوٹے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی صورت بچاؤ کی نظر آئے مثلا کوئی قلعہ مل جائے جس میں پناہ لیں، یا کوئی غار یا گڑھا یا اور کوئی چھپنے کی جگہ مل جائے تو یہ لوگ اس طرح بھاگیں کہ پھر کبھی مسلمان سے واسطہ نہ رکھیں۔
Ayahs 9:58–59

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان (منافقوں) میں سے بعض لوگ (ایسے) ہیں جو (اے محبوب ﷺ) تمہیں صدقوں (کی تقسیم) میں (نا انصافی کا) عیب لگاتے ہیں پس اگر انہیں اس میں سے ان کی خواہش کے مطابق دے دیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور نہ ملے تو فورا ہی ناراض ہوجاتے ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ ای پر راضی ہوتے کہ جو ان کو اللہ اور اس کے رسول (کریم ﷺ) نے دیا تھا اور کہتے :'' ہم کو اللہ کافی ہے جلد دے گا ہم کو اللہ اپنے فضل سے، اور اس کا رسول (اپنے کرم سے) بیشک ہم تو اللہ ہی سے توقع رکھنے والے ہیں ''

گستاخ اور بےادب رسول فرقہ کا آغاز شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور ﷺ کچھ مال لوگوں کو تقسیم فرماتے تھے کہ بنی تمیم کے قبیلہ میں سے ایک شخص جس کا نام حرقوص تھا اور ذو الخویصرہ کے لقب سے وہ شخص مشہور تھا۔ حضور ﷺ سے کہا :'' تقسیم میں ذرا انصاف فرمایئے ''۔ آپ نے فرمایا :'' میں ہی ناانصافی کراوں گا تو پھر انصاف کون کرے گا '' حضرت عمر ؓ نے عرض کیا :'' حضرت ارشاد ہو تو ابھی میں اس شخص کی گردن مار دوں '' آپ نے فرمایا :'' جانے دو اس کی نسل میں سے واجب القتل لوگ لوگ پیدا ہوں گے '' چناچہ ویسا ہی ہوا اور اسی قبیلہ اور اس شخص کی نسل میں خارجی لوگ پیدا ہوئے اور لڑائی میں خارجی فرقہ کے لوگ یہاں تک قتل ہوئے کہ صرف دس بارہ آدمی ان میں سے بچ گئے۔ ذوالخویصرہ بھی اس لڑائی میں مارا گیا۔ آخر کو فرمایا کہ جو لوگ تقسیم مال پر اعتراض کرتے ہیں اگر وہ اللہ اور اللہ کے رسول کی تقسیم پر رضامند ہوکر آئندہ کی بہبودی کا بھروسہ اللہ پر کریں تو ان کے حق میں بہتر ہے۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

سوائے اس کے نہیں کہ صدقات محتاجوں کے لئے اور نرے ناداروں کے لئے اور ان کے لئے جو صدقات کے جمع کرنے پر مقرر ہیں اور ان کے لئے جہ جن کے دلوں کو (اسلام سے) الفت دی جائے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافر نوازی میں، یہ حکم اللہ کی طرف سے ٹھرایا ہوا ہے اور اللہ جاننے والا مظبوط تدبیر والا ہے

زکوٰۃ کے جو لوگ مستحق ہیں ان کا مفصل ذکر جب منافقین نے تقسیم صدقات میں آنحضرت ﷺ پر طعن کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا کہ صدقات کے مستحق صرف یہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں انہیں پر صدقات فرض کئے جائے گے ان کے سوا اور کوئی مستحق نہیں اور رسول کریم ﷺ پر اور آپ کی اولاد پر صدقات حرام ہیں۔ یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے تو طعن کرنے والوں اعتراض کا کیا موقع ہے۔ صدقہ سے اس آیت میں زکوٰۃ مراد ہے۔ مسئلہ : فقیر، وہ ہے جس کے پاس ادنیٰ چیز ہو اور جب تک اس کے پاس ایک وقت کے لئے کچھ ہو اس کا سوال حلال نہیں۔ 2 ۔ مسکین : وہ ہے جو اپنی ضرورت کے موافق روزی نہیں حاصل کرسکتا اور کوئی اسے محتاج سمجھ کردیتا ہے۔ اور نہ وہ خود بھیک مانگتا ہے یہ فقیر سے بھی زیادہ محتاج ہے۔ 3 ۔ عاملین : یعنی زکوٰۃ کے وصول کرنے والے، ان کی تنخواہ اس میں سے دی جاتی ہے۔ 4 ۔ مؤلفۃ القلوب : یعنی وہ لوگ کہ جن کو اسلام کی طرف سے ممنون احسان کرکے لایا جا تھا کہ ابوسفیان وغیرہ کو آنحضرت ﷺ دیتے تھے مگر اب ایسے لوگوں کو دینا کچھ ضرر نہیں، ان کا حصہ ساقط ہوگیا۔ 5 ۔ غلاموں : کے آزاد کرنے میں۔ 6 ۔ قرض دار : جو بغیر کسی نگاہ کے مبتلائے قرض ہوئے ہوں اور اتنا مال نہ رکھتے ہوں جس سے قرض ادا کریں۔ انہیں ادائے قرض میں مال زکوٰۃ سے مدد دی جائے۔ 7 ۔ فی سبیل اللہ : خرچ کیا جئے مراد اس سے جہاد ہے اور بعضے علماء کے نزدیک حج بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے۔ 8 ۔ مسافر کو دیا جائے جو کسی شہر میں گیا ہو، اور اس کے پاس اتنا باقی نہ رہا ہو جو سفر میں کرچ کرے یا گھر واپس آئے۔ اس لئے اس کو بقدر کفایت صدقہ میں سے دینا مناسب ہے۔ مسئلہ : زکوٰۃ دینے والے کو یہ بھی جائز ہے کہ وہ ان تمام اقسام کے لوگوں کو زکوٰۃ دے، اور یہ بھی جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک ہی قسم کو دے۔ مسئلہ : زکوٰۃ انہی لوگوں کے لئے خاص کی گئی ہے، ان کے علاوہ اور دوسرے مصرف میں خرچ نہ کی جائے، نہ مسجد کی تعمیر میں، نہ مردے کے کفن میں نہ اس کے قرض کی ادا میں۔ مسئلہ : زکوٰۃ سید اور بنی ہاشم اور غنی اور ان کے غلاموں کو نہ دی جائے، اور نہ آدمی اپنی بی بی اور اولاد، غلاموں کو دے۔ اسلامیحکومت کے باقی نہ رہنے سے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کا خرچ، غلام لونڈی کے آزاد کرنے کا خرچ، دین کی لڑائی کا ان اخراجات میں سے تو اب کوئی خرچ باقی نہیں رہا۔ ہاں کوئی نومسلم شخص تنگ دست ہو تو اس کو کچھ دے کر اور اس کا دل پرچادیاجاوے۔ پھر فرمایا اللہ کا علم اور اس کی حکمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے بندوں کی مصلحت کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان (منافقوں) میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے نبی (کریم ﷺ) کو تکلیف دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ ہر بات کان لگاکر سن لیتے ہیں، تم فرماؤ کہ تمہارے بھلے کے لئے کان لگاکر سنتا ہوں (وہ) اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے مشورے کو قبول کرتے ہیں، اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے لئے رحمت ہیں اور جو لوگ خدا کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے عذاب ہے درد دینے والا

شان نزول : منافقین اپنے جلسوں میں آنحضرت ﷺ کی شان میں ناشائستہ باتیں بکا کرتے تھے۔ ان میں سے بعضوں نے کہا کہ اگر حضور ﷺ جو خبر ہوگئی تو ہمارے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ جلاس بن سوید منافق نے کہا : ہم جو چاہیں کہیں آنحضرت ﷺ کے سامنے مکر جائیں گے اور قسم کھالیں گے۔ وہ تو کان ہیں ان سے جو کہ دیا جائے سن کر مان لیتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ فرمایا کہ تم انہیں کان کہتے ہو وہ تو جھوٹے اور سچے کو خوب پہچانتے ہیں۔ یہ محض تمہاری پردہ پوشی کے خیال سے کرتے ہیں۔ جو ایماندار ہیں ان کی باتوں کو قبول کرتے ہیں اور جو منافق ہیں ان کی باتوں کو اگرچہ دل سے نہیں مانتے لیکن یہ اللہ کے رسول اہل نفاق کے حق میں بھی رحمت ہیں کہ زبان سے کچھ نہ کہ کر منافقوں کا پردہ فاش نہیں ہونے دیتے۔ پھر فرمایا کہ منافق جو ایسی ایسی باتیں کرکے اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے رہتے ہیں، انہیں سخت دردناک عذاب پہنچے گا۔
Ayahs 9:62–63

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کرلیں حالانکہ اللہ اور اس کے رسول کا حق زائد ہے کہ اسے راضی کریں اگر وہ ایمان رکھتے ہیں

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا تو بیشک اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے وہ ہمیشہ اس میں رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے

منافقوں کا جھوٹ اور فریب شان نزول : منافقین اپنی مجلسوں میں آنحضرت ﷺ پر طعن کیا کرتے تھے اور مسلمانوں کے پاس آکر اس سے مکر جاتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر اپنی بریت ثابت کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا گیا کہ مسلمانوں کو راضی کرنے کے لئے قسمیں کھانے سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا تھا۔ اگر ایمان رکھتے تھے تو ایسی حرکتیں کیوں کیں جو خدا اور رسول کی ناراضگی کا سبب ہوں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا ہمیشہ ہمیشہ کو دوزخ میں رہے گا۔ جو سخت رسوائی کی بات ہے۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق لوگ اس سے ڈرت ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورة نازل نہ ہوجائے کہ آگاہ کردے اس چیز سے جو کچھ منافقوں کے دلوں میں (چھپی ہوئی) ہے، (اے محبوب ! دوجہاں ﷺ) تم فرماؤ :'' ہنسے جاؤ بیشک اللہ اس چیز کو ظاہر کرکے رہے گا جس کے (اظہار سے) تم ڈرتے ہو ''

دین محمدی کے ساتھ ہنسی مسخراپن کرنے سے کافر ہوجاتا ہے منافقوں کو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خطاب کرکے بیان فرمایا :'' خدا سے ڈرو وہ کوئی سورت اتار کر تمہارا بھید نہ کھول دے، تمہارے دلوں میں جو بات ہے اس کی اطلاع مومنوں کو کردے '' پھر فرمایا :'' اللہ بغیر اطلاع دیئے نہ رہے گا وہ ضرور تمہارے راز مسلمانوں پر کھول دے گا۔ تم جہاں تک ممکن ہو دین کی باتوں میں مسخراپن کئے جاؤ۔ خدا تمہاری ان باتوں کو ضرور ظاہر کرکے رہے گا جس کا تمہیں ڈر لگا ہوا ہے۔ خواہ خدا کوئی سورة نازل کرکے بتا دے گا یا بذریعہ جبرئیل (علیہ السلام) اپنے رسول کو خبر کردے گا، اور وہ مومنوں سے اس کو کہ دیں گے '' علماء اسلام کا اتفاق ہے کہ ہنسی اور مسخراپن جو دین محمدی کے ساتھ کرے کافر ہوجائے گا۔
Ayahs 9:65–66

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھوگے تو کہ دیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل کرتے تھے، تم فرماؤ :'' کیا اللہ سے اور اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ''

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

(کوئی) عذر نہ کرو بیشک تم کافر ہوگئے بعد اپنے ایمان کے، (اچھا) اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کردیں تو اوروں کو عذاب بھی دیں گے بسبب اس کے کہ وہ گنہگار تھے

شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی جنگ تبوک میں آنحضرت ﷺ جا رہے تھے اور منافقین کا ایک رسالہ آگے تھا۔ کہنے لگا :'' دیکھو تو سہی محمد ﷺ شام کے قلعے اور محل فتح کرنے جاتے ہیں یہ تو ضعیف اور ردی حالت ہے، اور یہ عالی خیالات اور بلند ارادے بھلا اس بےسروسامانی سے کامیابی کب آسکتی ہے '' اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم (ﷺ) کو اس سے مطلع کیا آپ نے ان سے پوچھا :'' تم نے ایسا برا کلمہ زبان سے نکالا '' انہوں نے جواب دیا :'' یا رسول اللہ آپ کا اور آپ کے اصحاب کا کچھ بھی ذکر نہ تھا ہم تو یونہی باتیں چیتیں ہنسی مذاق کرتے تھے تاکہ راستہ قطع ہوجائے اور تکان نہ معلوم ہو وے ''۔ اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے محمد ﷺ آپ ان سے پوچھئے گا :'' تم نے یہ کیا کہا '' تو آپ کے جواب میں فورا یوں کہیں گے کہ جناب ہم تو صرف دل لگی کے طور پر کہتے تھے کہا آپ اسے سچ مچ سمجھ گئے اس قسم کی باتیں تو ہم اکثر مذاقیہ کہ لیا کرتے ہیں۔ محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجئے کہ کیا تم خدا سے دل لگی کرتے ہو اور اس کی آیتوں کو ہنسی میں اڑاتے ہو، اس کے رسول ﷺ پر قہق ہے لگاتے ہو۔ واقعی بات یہ ہے کہ تم نہایت ہی بےباک اور گستاخ لوگ ہو۔ دیکھو ان باتوں سے توبہ کرو اور رسول وقت کی سچے دل سے اطاعت کرو ورنہ تم جانو۔ ہم ان لوگوں کو جو صدق دل سے توبہ کرتے ہیں یا ان کے کلمات حد کفر تک نہ پہنچے تھے اگر معاف کردیں گے تو اس کے برخلاف دوسرے گروہ منافقین کو جو دل سے توبہ نہیں کرتے جھوٹے عذرات پیش کرتے ہیں ضرور عذاب کریں گے۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب (آپس میں) ایک دوسرے کی مانند ہیں برے کاموں کا حکم کرتے ہیں اور اچھے کاموں سے منع کرتے ہیں اور (راہ حق میں خرچ کرنے سے) بند رکھتے ہیں اپنی مٹھیاں (ہاتھ) ، (حقیقت یہ ہے) کہ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا پس اللہ بھی ان کو بھول گیا، بیشک منافق وہی پکے بےحکم ہیں

آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تین سو منافق مرد تھے، اور ایک سو ستر منافق عورتیں تھیں۔ ان کا حال بیان فرمایا کہ ان کے عمل ایک کے دوسرے سے مشابہ ہیں کہ یہ لوگ منکر کا حکم رکھتے ہیں اور اس کو بجالاتے ہیں منکر وہ ہے جو شرعا ناجائز ہو، مطلب یہ ہے کہ ان کے کام مومنوں کے برخلاف ہیں، مومن بری باتوں سے بچتے ہیں، یہ لوگ برے کام کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اپنے ہاتھوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے انہیں روک رکھا ہے، نہ صدقہ دیتے ہیں نہ جہاد میں خرچ کرتے ہیں اوار نہ دوسرے نیک کاموں میں اپنا مال اٹھانا گوارا کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے خدا کو اپنے دل سے فراموش کردیا ہے۔ خدا بھی انہیں بھول جائے گا یعنہ نظر رحمت سے دور رہیں گے۔ یہ لوگ فاسق ہیں راہ حق کو چھوڑ کر گمراہی کے راستہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کا فسق و فجور کامل ہے جو اپنے حال پر جمے ہوئے ہیں۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو دوزخ کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی ان کے لئے کافی ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے

منافقین کو ہمیشہ عذاب دوزخ اللہ تعالیٰ نے منافقین مرد اور عورتوں کا حال اوپر بیان فرما کر اب یہ فرمایا کہ یہ وعدہ اللہ نے کرلیا ہے کہ منافق مرد اور عورتوں اور کافروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں ڈالے گا اور فرمایا کہ بس ان کے ان افعال کے عوض میں یہی آگ کافی ہوگی اور پھر فرمایا کہ خدا نے ان پر لعنت بھی بھیجی ان پر کسی قسم کی اس کی رحمت نہ ہوگی، اور اسی لئے پھر فرمایا کہ ایسا عذاب نہیں کیا جائے گا جو کبھی منقطع ہوگا بلکہ وہ عذاب ان پر ہمیشہ کے لئے قائم رہے گا۔
Ayahs 9:69–70

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

ان لوگوں کی مانند کہ تم سے پہلے (ہلاک ہوئے) تھے وہ تم سے بھی زیادہ قوت میں تھے اور تم سے زیادہ مال اور اولاد رکھتے تھے پس انہوں نے جو کچھ اپنے نصیب کا تھا پالیا تو تم نے بھی جو کچھ تمہارے نصیب کا تھا پالیا جیسا کہ اپنے نصیب کا فائدہ پایا انہوں نے جو تم سے پہلے تھے اور تم بھی وہی بیہودہ بات کرنے لگے جیسی ان لوگوں نے بیہودہ بات کی تھی، یہی لوگ ہیں کہ اکارت گئے اعمال ان کے دنیا وآخرت میں اور یہی لوگ ہیں نقصان پانے والے

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا خبر نہیں آئی ان لوگوں کے پاس ان لوگوں کی جو ان سو پہلے تھے قوم نوح کی اور عاد کی اور ثمود کی اور قوم ابراہیم کی اور مدین کے لوگوں کی اور الٹی ہوئی بستیوں والوں کی (یعنی قوم لوط کی) ان کے رسول روشن نشانیاں ان کے پاس لائے تھے، تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

پچھلی نافرمان قوم کی حالت جتلاکر ہدایت : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے پہلے لوگوں کا حال ان منافقوں کو یاد دلایا۔ اول تو مبہم طور پر یہ فرمایا کہ ان منافقوں کا حال رسول اور کلام الہی سے ٹھٹھا کرنے اور نافرمانی میں پہلے لوگوں کا سا ہے، اور باوجود اس کے کہ پہلے لوگ جسمانی قوت اور درازی عمر اور کثرت مال و اولاد میں ان سے بڑھ کر تھے لیکن سوا چند روزہ شرارت کرلینے کے دنیا میں ان کو کچھ ثمرہ نہ ملا اور اللہ کے رسول آخر کو غالب رہے، اور رسولوں کے مخالف لوگ عذاب الہی میں گرفتار ہوکر پامال اور ہلاک ہوگئے۔ اور عقبیٰ میں جو کچھ ایسے لوگوں انجام ہوگا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ علاوہ اس کے عقبیٰ کے انجام کا نمونہ دنیا میں بعضے موقعوں پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو دکھادیا۔ مثلا ایسے لوگوں کی جنازہ کی نماز سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو منع فرمایا۔ جن کا ذکر آگے آتا ہے اور بعضے منافقوں کی موت سخت آندی چلنے سے ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مبہم خوف کے بعد قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح، قوم ابراہیم، قوم لوط، قوم شعیب کا ذکر صراحت سے اس لئے فرمایا کہ مک شام، عراق یمن ایسی ہی بستیوں میں یہ آفت زدہ قومیں رہتی تھیں۔ جہاں آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منافقوں کا گزر تجارت کی غرض سے اکثر ہوتا رہتا تھا۔ چناچہ تبوک کی لڑائی کے جاتے وقت راستہ میں منافقوں نے چند شرارتیں آنحضرت ﷺ اور قرآن شریف کی بد گوئی کی جو کی تھیں اس وقت ان لوگوں کا گزر قوم صالح کے وطن میں تھا۔ غرض اس روز مرہ گزر کے سبب سے یہ منافق رات دن یہ سنتے رہتے تھے کہ خدا اور رسول کے مخالف لوگوں کا انجام یہ ہے کہ کسی کو طوفان نے آگھیرا اور کسی کو آندی نے، کسی پر پتھ برسے اور کوئی باوجود بادشاہی قوت رکھنے کے مچھر کا کھاجا بن گیا۔ یہ جو کچھ دن رات سنتے رہتے تھے وہی اللہ تعالیٰ نے ان کو سناکر اچھی طرح ان کے کان کھول دیئے کہ اگر یہ اپنی شرارت اور مافرمانی سے باز نہ آویں گے تو ان پر بھی کوئی بلا اللہ کی طرف سے آنے والی ہے۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مدد گار ہیں حکم کرتے ہیں اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہیں برے کاموں سے اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور فرمانبرداری کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول (کریم ﷺ) کی یہ لوگ ہیں کہ خدا تعالیٰ ان پر رحمت کرے گا، بیشک اللہ غالب درست تدبیر والا ہے

مومنوں کے اوصاف اللہ تعالیٰ نے اوپر منافقوں کے برے اوصاف بیان کرکے ان کے مقابلہ میں یہ ایماندار لوگوں کے اوصاف بیان فرمائے کہ مومن آپس میں ایک دوسرے کے مددگار، غمخوار، رنج وغم میں ساتھ دینے والے ہیں جیسے اعضاء آپس میں ایک دوسرے کے غمخوار اور مددگار ہیں۔ جب ایک عضو کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے عضو کو بھی اس کا اثر پہنچتا ہے۔ نیک خصلت اچھی باتوں کو ختیار کرتے ہیں اور بری باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ صفت مومنوں کے اندر ہے۔ یہ لوگ ناجائز باتوں سے بچتے ہیں اور حکم شرعی کے موافق جو کرنے کی باتیں ہیں ان کو چستی سے بجالاتے ہیں، دوسروں کو بھی اسی کی نصیحت کرتے ہیں۔ پھر یہ تعریف بیان کی کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ کے پابند ہیں، بدنی اور مالی ہر طرح کی عبادت کیا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ اوصاف ان لوگوں میں اس لئے کہ یہ لوگ ہر ایک امر میں خدا اور رسول ﷺ کے محکوم بندے ہیں، ہر وقت اس کے فرمانبردار ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ جن میں یہ صفتیں پائی جاتی ہیں اللہ ان پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائے گا وہ بڑا ہی حکمت والا ہے۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

وعدہ کیا ہے اللہ نے مسلمان مردوں سے اور مسلمان عورتوں سے باغوں کا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا جو کہ ان ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گے اور سب سے بڑھ کر (نعمت) خدا کی خوشنودی ہے یہی ہے بڑی مراد

مسلمانوں کے جنت میں جانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اوصاف بیان کر کے عقبیٰ میں ان کے واسطے جو جزائے خیر مقرر کی ہے اس کا ذکر فرمایا کہ ہم نے مومنوں سے اس بات کا وعدہ کرلیا ہے کہ انہیں آخرت میں جنت کے اندر داخل کریں گے۔ وہ مومن خواہ مرد ہوں یا عورت ہوں اور جنت بھی ایسی ہوگی جن میں موتی اور یاقوت سرخ اور زبرجد کے محل، جن کے نیچے خوشگوار نہریں، شہد دودھ اور شراب کی بہتی ہوں گی۔ غرض کہ وہ وہ نعمتیں پیدا کی ہیں جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں، نہ ان کا خیال کسی دل میں آسکتا ہے۔ جنت میں ایک بہت بلند مقام ہے اور عرش سے بہت نزدیک ہے یہ آنحضرت ﷺ کا مسکن ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :'' جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار درود بھیجتا ہے ''۔ پھر فرمایا جو شخص میرے واسطے اللہ سے وسیلہ کا سوال کرتا ہے اس کو قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنت کا حال بیان کرکے یہ فرمایا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں مومنوں سے راضی ہوں گا، یعنی خدا تعالیٰ ہمیشہ ان سے راضی رہے گا اور یہ خدا سے ہمیشہ ہمیشہ راضی رہیں گے۔
Ayahs 9:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی (ﷺ) کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے وہ پلٹنے کی کیا ہی بری جگہ ہے

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

(یہ منافق) اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ (یہ باتیں) انہوں نے نہیں کہیں حالانکہ یقینا کہ چکے ہیں کلمہ کفر کا اور کافر ہوگئے ہیں اپنے اسلام کے بعد اور انہوں نے وہ چاہا تھا جو نہ ملا یہ انہوں نے صرف اس کا بدلہ دیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (کریم ﷺ) نے ان کو اپنے فضل سے غنی کردیا، پس اگر توبہ کریں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اوار اگر (توبہ وایمان) سے منہ پھیریں تو اللہ ان کو دنیا و آخرت میں درد دینے والا عذاب دے گا، اور نہیں ہوگا کوئی زمین میں ان کا حمایتی اور نہ مددگار

کافروں اور منافقوں کے ساتھ سختی کا حکم ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ کفار اور منافقوں سے جہاد کرو اور یہ حکم دیا کہ اپنی عادت کے خلاف ان سے سختی سے برتاؤ کرو۔ آپ کی عادت حمیدہ نرمی اور لطف کی ہے، آپ میں بردباری کی خصلت کامل طور پر تھی لیکن آیت میں گویا حکم ہے کہ اس عادت کو صرف مومنوں ہی کے ساتھ برتنا چاہئے کفار اور منافقوں کے ساتھ تو سختی ہی کرنی زیبا ہے۔ پھر فرمایا کہ اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تلوار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا ہے منافقوں سے زبان کے ساتھ کہ ان سے نرمی کا برتاؤ چھوڑ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے اطوار بیان کئے کہ جھوٹی قسمیں کھانے لگتے ہیں چناچہ کفر کے کلمے زبان سے نکالے اور جب اللہ کے رسول کو اس بات کی خبر پہنچی تو بالکل انکار کردیا پھر فرمایا کہ ایسے لفظوں کے منہ سے نکالنے کے سبب سے ان لوگوں کا وہ ظاہری اسلا می بھی باقی نہیں رہا اور ان باتوں سے ان منافقوں نے جو ارادے اپنے دل میں کئے تھے، ان میں سے ان کا کوئی ارادہ بھی پورا نہیں ہوا۔ نہ مہاجرین کو یہ لوگ مدینہ سے نکال سکے نہ لشکر اسلام میں کزوری پھیلاسکے۔ اب آگے فرمایا کہ آزمائش کے طور پر اللہ تعالیٰ نے کچھ خوشحالی تو پہلے سے دے رکھی ہے اور اللہ کے رسول کے مدینہ میں آجانے کے سبب سے بعضے خون بہا کے معاملوں میں کچھ روپیہ پہلے کی خوشحالی کے علاوہ ان کو مل گیا ہے۔ اس واسطے اپنی مالداری کے نشہ میں یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اگر آئندہ انہوں نے ان باتوں سے توبہ کرلی تو ان کے حق میں بہتر ہے، ورنہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کا عذاب ان کو بھگتنا پڑے گا اور دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور زمین میں بھی ایسوں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔
Ayahs 9:75–78

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان منافقین میں بعض آدمی ایسے ہیں کہ جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر خدا ہم کو اپنے فضل سے (بہت سا مال) عطا فرمادے گا تو ہم ضرور خوب خیرات کریں گے اور ضرور ہم نیک لوگ ہوجائیں گے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

پس جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے (بہت سا مال) دے دیا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے (کہ خیرات نہ کی) اور منہ موڑ کر پھر گئے

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

پس اس کے بعد اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق قائم کردیا اس دن تک کے لئے کہ یہ اللہ سے ملیں (یعنی قیامت تک) اس سزا میں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا خلاف کیا اور اس سزا میں کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کا راز اور ان کی سرگوشی سب معلوم ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام غیب کی باتوں کو خوب جانتے ہیں۔

کافروں اور منافقوں کی وعدہ خلافی اور دیگر صفات شان نزول : اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منافقوں کی وعدہ خلافی کا ذکر فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حطب انصاری تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے اس عہد پر دعا کرائی تھی کہ اللہ مجھ کو مال دے گا تو میں خیرات دوں گا اور نیکی کروں گا۔ جب آنحضرت ﷺ کی دعا سے اس کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں ہوگئیں کہ مدینہ کے جنگل میں نہ سماسکیں تو دور لے گیا، جمعہ وجماعت ترک کردی۔ پھر جو آنحضرت ﷺ کی طرف سے دو شخص زکوٰۃ لینے گئے تو نہ دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی پھر تھوڑے دنوں کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس زکوٰۃ لے کر آیا آپ نے قبول نہ کی، اور آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر ؓ میں بھی اس کا مال زکوٰۃ میں نہ لیا گیا۔ یہاں تک کہ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں اس کا انتقال ہوگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نفاق جو ان کے دلوں میں جگہ پکڑ گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب باتیں کریں تو جھوٹ بولیں، اور جب وعدہ کریں تو اس کے خلاف کریں اور جب ان کے پاس امانت رکھی جاوے تو خیانت کریں۔ پھر فرمایا یہ منافق اپنے دلوں میں سمجھتے ہوں گے کہ اللہ ان کے دلوں کی دغابازی کو نہیں جانتا۔ وہ تو ظاہر اور چھپی باتوں کو یکساں جانتا ہے وہ بڑا ہی غیب داں ہے۔ اس کے نزدیک کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی، اور جب سب باتوں کو کھلم کھلا وہ جانتا ہے تو وہ ہر ایک عمل مخفی پر بندوں کو جزا سزا بھی دے گا۔
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

یہ (منافق) لوگ ایسے ہیں کہ طعن کرتے ہیں دل سے خیرات کرنے والے مسلمانوں پر صدقات کے بارے میں اور ان لوگوں پر جو مقدور نہیں رکھتے مگر اپنی مشقت سے (جو کچھ کمایا ہے راہ خدا میں دینے کو تیار ہوجاتے ہیں) تو ان سے ہنسی کرتے ہیں، اللہ ان کی ہنسی کی سزادے گا اور ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

منافقوں کا طعن صدقات پر اور صحابہ کرام کی بےمثالی مالی قربانی شان نزول : جنگ تبوک کے لئے آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو چندہ دینے کی ترغیب دی تو بامقدور اور بےمقدور صحابہ اپنی اپنی حیثیت کے موافق سب خلوص نیت سے مال لانے لگے۔ حضرت عمر ؓ چار ہزار درہم لائے اور عرض کیا :” یا رسول اللہ میرا کل مال آٹھ ہزار درہم تھا چار ہزار درہم تو یہ راہ خدا میں حاضر ہے اور چار ہزار میں نے گھر والوں کے لئے روک لئے ہیں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا :” جو تم نے دیا اللہ اس میں بھی برکت فرمائی اور جو تم نے روک لیا ان میں بھی برکت فرمائے “۔ حضور ﷺ کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ ان کا مال بہت بڑھا یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے دو بیبیاں چھوڑیں۔ انہیں آٹھواں حصہ ملا جس کی کل مقدار ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم تھی۔ ابو عقیل انصاری ایک صاع کھجور لے کر حاضر ہوئے انہوں نے عرض کیا کہ میں نے آج رات پانی کھینچنے کی مزدوری کی اس کی اجرت دو صاع کھجوریں ملیں۔ ایک صاع تو میں نے گھر والوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں اور ایک صاع راہ خدا میں حاضر ہیں۔ حضور نے یہ صدقہ قبول فرمایا اور اس کی قدر کی۔ منافقین نے اس پر ٹھٹھا اڑایا کہ اللہ کو ایسے کم صدقہ اور خیرات کی پروا نہیں ہے۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جو لوگ ان پر طعن آمیز باتوں کی بوچھاڑ کرکے دل دکھاتے ہیں جو مسلمانوں میں سے دل کھول کر خدا کی راہ میں خیرات کرتے ہیں،
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

(اے محبوب کون ومکاں ﷺ) تم خواہ ان (منافقین) کی معافی چاہو یا نہ چاہو اگر تم ان کی ستر بار بھی معافر چاہوگے جب بھی اللہ ان کو نہ بخشے گا، یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا

منافقوں کے لئے دعائے مغفرت کی مناہی (ممانعت) اس آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ ان منافق لوگوں کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے اور ایسے لوگوں کی مغفرت نہ ہونے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اس لئے یہ لوگ ہرگز اس لائق نہیں ہیں ان کے واسطے استغفار کی دعا کی جاوے۔ کیونکہ اگر ستر بار بھی ان کے واسطے آپ استغفار کریں گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ اس واسطے کہ استغفار اور خطاوار کے حق میں فائدہ مند ہے نہ کہ جو سرے سے خدا اور رسول کے ساتھ کفر کرکے بغیر توبہ کے مر گئے۔ اس لئے ان میں کے جو لوگ اس حال میں مرگئے نہ تو ان کی مغفرت ہوسکتی ہے اور نہ ان کے زندہ لوگوں کو توبہ پر مجبور کیا جاوے گا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق جیتے جی یہ لوگ اپنی اس گمراہی میں پڑے رہیں گے۔