8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمظہر القرآن

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے محبوب ! ) تم سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں تم فرماؤ :'' غیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں '' پس اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات کی اصلاح کرو اور فرمانبرداری کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اگر تم مسلمان ہو

جنگ بدر میں مال غنیمت کا فیصلہ شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بدر میں بوڑھے مسلمان اسلامی جھنڈے کے نیچے کھڑے رہے اور جوان دلیر لوگ آگے بڑھ کر کفار سے لڑے۔ جب مال غنیمت تقسیم ہونے لگا تو نوجوانوں نے کہا کہ یہ ہمارا ہی حق ہے کیونکہ ہم قوت بازو سے کافروں کو شکست دے کر یہ مال لائے ہیں۔ بوڑھے بولے :'' اس میں ہم بھی شریک ہیں کیونکہ تم ہماری قوت سے لڑے ہو اس لئے کہ ہم تمہارے مدد گار اور پشت پناہ تھے ''۔ اس پر جھگڑا ہونے لگا اور حضور ﷺ سے فیصلہ چاہا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں او فتح اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے نہ نوجوانوں کی قوت نہ بڈھوں کی پشت پناہی سے ہے۔ ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور اس کا نائب رسول جو اسی کا مقرر کیا ہوا دنیا میں موجود ہے۔ اس لئے اس کو اختیار ہے وہ جس طرح حکم الہی پائے گا تقسیم کردے گا۔ بعد میں ظاہر فرمایا کہ سارے مال کے پانچ ٹکڑے ہوں۔ چار حصے لشکر سپاہی مجاہدین میں تقسیم ہوں اور ایک حصہ بیت المال میں محفوظ رہے، وہ اپنے موقع پر خرچ کیا جاوے۔
Ayahs 8:2–4

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ اٹھیں اور جب اس کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو اس سے ان کا ایمان اور زیادہ ہوجائے اور وہ لوگ اپنے پروردگار ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

وہ لوگ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور اس رزق میں سے جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے (راہ خدا میں) خرچ کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی لوگ سچے ایمان والے ہیں ان کے واسطے ان کے پروردگار کے پاس (بڑے) مرتبے ہیں اور بخشش ہے اور عزت کی روزی ( اس کو ویسا ہی سمجھو)

کامل مومن کی پہچان مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں پانچ صفتیں ایماندار کی بیان فرمائیں :۔ (1) اول یہ کہ کامل مومن وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو اور دل میں خدا کے ذکر سے خوف پیدا ہو جس سے عقبیٰ کے عذاب کا خیال مراد ہے۔ (2) دوسرے قرآن کی آیتیں سننے سے وحدانیت کی دلیلیں اور نیک خصلتیں زیادہ ہوں، (3) تیسرے ہر کام میں خدا کا بھروسہ کرے دوسرے کو شریک نہ کرے (4) چوتھی اور پانچویں صفت جو ظاہر کی تھی وہ نماز کی شرائط اور امور نماز کے مثل وضو سب کو ادا کرنا اور خیرات کرنا زکوۃ سب داخل ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کی تعریف فرمائی کہ ان کے ایمان میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے، ان کے لئے جنت میں درجے ہیں۔
Ayah 8:5

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

جس طرح (اے محبوب مدینہ سے بدر کی طرف) تمہارے پروردگار نے تمہارے گھر سے تمہیں حق کے ساتھ برآمد کیا اور بیشک ایک گروہ مسلمانوں کا (اس سے) نا خوش تھا

بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو فرشتوں کی امداد شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو سفیان کا شام سے مال لے کر راستہ میں ہونے کی خبر سن کر جب مدینہ سے آنحضرت ﷺ نکلے اور ہزار آدمیوں کی جمعیت سے اہل قریش ابو سفیان کی مدد کو آگئے۔ ابو سفیان کا قافلہ تو سمندر کے کنارے کنارے مکہ کو چلا گیا تو اکثر مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ہم تو فقط ابو سفیان کا قافلہ لوٹنے کی نیت سے مدینہ سے نکلے تھے لڑائی کے لئے حسب دلخواہ اس وقت ہم میں طاقت نہیں ہے، نہ ہمارے پاس سامان ہے۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح لڑائی کے ختم ہونے کے بعد تم نے مال غنیمت میں جھگڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ فیصلہ کردیا۔ اسی طرح لڑائی سے پہلے بھی تم نے لڑائی کے چھیڑنے اور نہ چھیڑنے میں جھگڑا کیا تھا، اور فقط شام کے ملک سے ابو سفیان کے ساتھ جو قافلہ آرہا تھا اسی کا لوٹ لینا تمہارا مقصود تھا مگر اللہ تعالیٰ نے تدبیر سے تم لوٹ کا مال بھی دلوادیا، اور جس ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مدینہ سے بدر کی طرف نکالا تھا وہ ارادہ بھی پورا کردیا۔ بعضے کافروں کو زیر اور تم کو صحت مند کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بدر کی لڑائی سے ایک رات پہلے اپنے رسول ﷺ کو یہ بتلادیا تھا کہ مشرکین مکہ میں سے بڑے بڑے سرکش لوگ مارے جائیں گے بلکہ ان لوگوں کی لاشوں کے پڑے رہنے کے مقامات بھی بتلادئے تھے۔
Ayah 8:6

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے بعد اس کے کہ حق ظاہر ہوچکا تھا گویا وہ موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں اور وہ (اس حالت کو) دیکھ رہے تھے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ تم سے حق بات میں جھگڑتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دیدہ و دانستہ موت کے منہ میں جھونکے جاتے ہیں حالانکہ ان پر حق بات ظاہر ہوگئی ہے کہ رسول کا حکم بغیر خدا کے نہیں ہوتا ہے۔
Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور یاد کرلو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں میں سے ایک تمہارے لئے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں وہ تم کو ملے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ ثابت کردے دین کو اپنے حکموں سے اور کافروں کی جڑ کاٹے

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

(اور چاہتا تھا) کہ دین حق کو سچا کرے اور باطل کو جھوٹا کرے اور مجرم (لوگ) پڑے برا مانا کریں

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان دو گروہ میں سے ایک کا وعدہ میں کرچکا ہوں کہ ایک تمہارا ہے۔ تم ان میں سے ایک پر غالب ہوجاؤگے۔ انہیں قتل کرو اور مال غنیمت لو وہ تمہیں دفع نہیں کرسکے گا، اور جو یہ چاہتے ہو کہ نرم لقمہ تمہارے ہاتھ لگے، ابو سفیان کا قافلہ بےلڑے بھڑے لوٹ لو یہ قافلہ بےہتھیار ہے۔ تو یہ بات اللہ کو پسند نہیں ہے۔ خدا کا ارادہ تو یہ ہے کہ مشرکین کی جو فوج سامان جنگ سے درست ہے، ہتھیار لگائے ہوئے ہے اس پر تمہیں فتح مند کرے اور اپنی حق بات پوری کرے اور کفار کو نیست ونابود کرے۔ بہت سے لوگ قید ہوں اور بہت سامان تمہارے ہاتھ لگے۔ حق کو غلبہ ہو جھوٹ مغلوب ہو۔ یہ بات اچھی ہے یا وہ بات اچھی ہے جس کو تم اچھا جانتے تھے۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب کہ تم اپنے پروردگار فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا سن لی (وعدہ کیا) کہ میں تمہاری مدد کرنے والا ہوں ہزار فرشتوں سے جو لگاتار آنے والے ہیں

مطلب اس ٓیت کا یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے مشرکین کی فوج کے ہزار آدمی اور اپنی طرف کے کچھ اگلے تین سو دیکھے تو آپ کو بڑا اندیشہ ہوا۔ اس لئے جس صبح کو مقابلہ ہونے والا تھا، اس رات کو اللہ تعالیٰ سے مدد اور فتح کی دعا بڑی عاجزی سے مانگی، اور آپ کی دعا قبول ہوگئی اور اللہ کی مدد آن پہنچی۔ ایک طرف حضرت جبرئیل (علیہ السلام) پانچ سو فرشتوں کی فوج سے اور دوسری طرف حضرت میکائیل (علیہ السلام) پابچ سو فرشتوں کی فوج سے لشکر اسلام کے دائیں بائیں موجود تھے۔ فرشتے اگرچہ مسلمانوں کی دلجمعی کے لئے اور لڑائیوں میں بھی لشکر اسلام کی مدد کو آئے ہیں۔ ہر شخص کو چاہئے کہ دل لگا کر اصرار اور عاجزی سے دعا مانگے ضرور قبول ہوگی۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور یہ مدد تو اللہ تعالیٰ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کو اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان ہو اور فتح تو اللہ ہی کی طرف سے ہے بیشک خدا غالب اور مظبوط تدبیر والا ہے

بدر کی لڑائی میں مسلمان بہت تھوڑے اور کافر بہت تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی طرح طرح کی مدد کی اور اور کئی طرح کے اسباب دلجمعی کے ان کے لئے مہیا کئے : (1) آسمان سے اول ایک ہزار پھر تین ہزار پھر پابچ ہزار تک فرشتے ان کی مدد کو بھیجے۔ (2) کافروں نے پانی پر قبضہ کرلیا اللہ تعالیٰ نے مینہ برسادیا۔ (3) مسلمانوں کو رات جاگنے سے تکان ہوگئی تھی دشمن کے مقابلے سے پہلے ان کو ایک طرح کی اونگھ میں کر کرے وہ تکان رفع کردی۔ (4) دشمنوں کے دلوں میں رعب اور ان کے دلوں میں دلیری پیدا کردی۔ سب اسباب کے بعد اس آیت میں فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارا دل خوش کرنے اور تمہاری راحت کے لئے کردیا ہے، ان اسباب پر فتح منحصر نہیں۔ فتح اللہ کی مرضی پر ہے جب وہ چاہتا ہے فتح ہوتی ہے۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

یاد کرو جب اللہ اپنی طرف سے تسکین (دینے) کے لئے تم پر اونگھ طاری کرتا تھا اور تم ہر آسمان سے پانی اتارتا تھا تاکہ تم کو اس سے پاک کرے اور شیطان کی نجاست تم سے دور کردے اور تاکہ مظبوط کردے تمہارے دلوں کو اور اسی سے تمہارے قدم جمادے

بدر میں چونکہ مشرکین پہلے سے جا پہنچے تھے اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا اور مسلمان بعد میں پہنچنے کے سبب ریگستان میں اترے تھے۔ جہاں پانی نہ ہونے کے سبب سے پیاس کی بھی شدت محسوس ہونے لگی اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز تھے، اور تیمم کا حکم اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا۔ اس پر طرہ یہ ہوا کہ رات کو مسلمانوں کو نہانے کی حاجت ہوگئی اور ریت کی زمین تھی، جس کی وجہ سے نہ انسان کے پاؤں جمتے تھے نہ جانور چل سکتے تھے۔ صبح نماز وحوائج ضروری ادا کرنے سے مجبور ہوئے جس کا ان کے دل پر بہت برا اثر ہوا۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کی دعا سے ایک ہزار فرشتے ان کی مدد کے لئے بھیج دیئے۔ جیسا کہ اوپر کی آیت میں گزر چکا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ کا غلبہ کردیا جس اونگھ سے یہ لوگ بہت جلدی چونک پڑے اور دل میں جو کچھ خوف تھا وہ سب جاتا رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مینہ برسایا زمین سخت ہوگئی۔ لوگوں کی پیاس بجھی۔ اپنے اپنے برتن پانی سے بھر گئے۔ حوائج ضروری سے فارح ہوئے۔ وضو کیا غسل کیا پاک و طاہر ہوگئے۔ اس کو فرمایا کہ تمہارے رب نے تم سے شیطانی وسوسہ دور کردیا، کیونکہ حاجت غسل کو بھی علماء شیطانی وسوسہ خیال کرتے ہیں۔ پھر فرمایا اب تمہارے دل مطمئن ہوئے خاطر جمع ہوئی (تسلی ہوئی) اور اب تمہارے قدم ریت کی زمین پر جمیں گے، اور تمہارے جانور آسانی سے چلے پھریں گے۔
Ayahs 8:12–14

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

(اے محبوب کائنات ﷺ) جبکہ تمہارا پروردگات فرشتوں کو بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم مسلمانوں کو ثابت (قدم) رکھو عنقریب میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا پس (کافروں کی) گردنوں سے اوپر مارو اور ان کے ہر ایک جوڑ ہر مارو

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ تو چکھو (دنیا میں) اور بیشک کافروں کے واسطے آگ کا عذاب ہے (آخرت میں)

جنگ بدر میں مسلمانوں کی غیبی امداد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اے فرشتو ! تم مومنوں کے دل کو جاکر مظبوط اور قوی کرو ہم کفار کے دلوں میں خوف و رعب ڈال دیں گے۔ فرشتے آئے تو انہوں نے مسلمانوں کے دلوں کو مظبوط کیا اور لڑائی میں مسلمانوں کا ہاتھ بٹایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کافروں کے سر پر مارو اور ہاتھ پر اور مونڈھے وغیرہ ہر ایک جوڑ پر ضرب لگاؤ۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ یہ خدا اور رسول کی مخالفت کی سزا ہے۔ ان مشرکوں نے خدا اور رسول کی مخالفت کی تھی۔ یہ نہیں جانتے تھے کہ خدا بڑا سخت عذاب کرنے والا ہے۔ پھر کافروں کو مخاطب ٹھرا کر فرمایا کہ اب تو دنیا میں یہ عذاب چکھ لو، قتل و گرفتار ہو اور آخرت میں کفار کے واسطے الگ جہنم میں عذاب ہوگا۔
Ayahs 8:15–16

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے مسلمانو جب کافروں سے (جہاد میں) اکٹھے ہو کر بھڑو تو انہیں تم اپنی پیٹھ نہ دکھاؤ (یعنی سینہ سپر ہوکر مقابلہ کرو)

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو کوئی اس دن ان کی طرف سے اپنی پیٹھ پھیرے گا بجز اس کے کہ جو لڑائی کے لئے ہنر کرتا ہو یا اپنے لشکر میں جاملنے کو آتا ہو وہ مستثنی ہے باقی اور جو ایسا کرے گا تو بیشک وہ اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور بری جگہ ہے پلٹنے کی

میدان جنگ سے بھاگنے اور فخر کی ممانعت اس آیت میں اللہ تعالیٰ لڑائی سے بھاگنے والوں کو فرماتا ہے کہ دشمنوں سے بھاگو نہیں اور جو بھاگے گا وہ خدا کا غضب لے کر گھر کو پھرے گا، اور اس کا ٹھکانہ جہنم میں بہت ہی بری جگہ ہے۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

پس تم نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور (اے محبوب ﷺ ! ) وہ (خاک) جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں پر اپنی طرف سے اچھا انعام کرے ، بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

شان نزول : اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی فتح کے بعد کچھ مسلمان آپس میں فخر کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ایک اپنی بہادری کو فتح کا سبب قرار دیتا اور دوسرا اپنی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت شریف نازل فرمائی اور فرمایا مسلمانوں کا دشمنوں پر غالب ہونا اللہ کے رسول ﷺ کی ایک مٹھی خاک سے او دشمنوں کا پست ہوجانا یہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہوا۔ اس لئے بجائے ان فخر کی باتوں کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کے احسان کی شکرگزاری کا تذکرہ آپس میں کیا کریں تاکہ اس شکرگزاری کے بدلے میں اس کے احسانات کی اور زیادتی ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی شکرگزاری کی نیت کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

ایک بات تو یہ ہوئی اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کا حیلہ کمزور کرنے والا ہے

جنگ بدر کے حالات اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب معمتیں جن کا اوپر ذکر ہوا اللہ تعالیٰ کی تھیں جو ایمان والوں پر کی گئیں، اس کے بعد اس آیت میں بشارت دی گئی کہ یہ سب تدبیریں جو تمہارے مفید مطلب اللہ کی قدرت سے ہوئیں، وہ اس واسطے ہوئیں کہ اللہ تعالیٰ کفار کے مکر و حیلہ کو سست کردیتا ہے اور ان کی کوئی تدبیر پیش نہیں چلنے دیتا۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(اے کافرو ! ) اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو تمہارے سامنے آچکا یہ فیصلہ (یعنی جنگ بدر کا نتیجہ نکل چکا) اور اگر باز آجاؤ تو تمہارے لئے بہت بہتر ہے اور اگر تم پھر شرارت کرو گے تو ہم پھر سزا دیں گے اور کچھ بھی کام نہ آوے گی تم کو تمہاری جماعت اگرچہ وہ بہت ہی کیوں نہ ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے

اللہ تعالیٰ کفار کی طرف خطاب کرکے فرماتا ہے کہ تم اللہ سے فتح چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ لوگ اپنے مخالف مومنین پر کب فتح یاب ہوں گے، تو دیکھ لو تمہارا سوال پورا ہوگیا کہ کس کی فتح ہوئی اور مومنوں کے درمیان فیصلہ بھی ہوگیا۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے فرمایا کہ اگر اب بھی تم اپنے کفر اور گمراہی سے باز رہوگے تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور اگر تم پھر اسی شرک کی حالت پر رہے تو ہم پھر بھی تمہیں ایسا ہی ذلیل و خوار کریں گے۔ کیونکہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے ہمیشہ انہیں فتح دے گا۔
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے مسلمانو ! فرمانبرداری کرو خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اس سے منہ نہ پھیرو اور حالانکہ تم سنتے ہو

خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اوپر یہ فرما کر کہ اللہ ایمانداروں کے ساتھ ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم ایمانداروں کو فرمایا، اور اس میں کوتاہی کرنے اور پھرجانے سے منع فرمایا ہے۔ ہم کو اللہ کا کلام بلا واسطہ رسول کے نہیں آتا۔ اس واسطے رسول کی فرمانبرداری کا خاص طور پر آیت میں ذکر کیا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ رسول کی فرمانبرداری کی کوتاہی عین اللہ کی فرمانبرداری کی کوتاہی ہے۔
Ayahs 8:21–23

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور نہ ہونا مانند ان لوگوں کے جو کہتے ہیں ہم نے سنا اور وہ نہیں سنتے

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک تمام جانداروں سے بد تر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی بہرے گونگے ہیں جو عقل نہیں رکھتے ہیں

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اگر خدا ان میں کچھ بھلائی جانتا تو ان کو سننے کی توفیق دیتا اور اگر ان کو سناتا بھی تو (انجام کار) منہ پھیر کر پلٹ جاتے

وعظ و نصیحت اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی خصلت نہ اختیار کرو جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم سنتے ہیں، اور حقیقت میں وہ سنتے نہیں۔ کیونکہ سننے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے کچھ نفع بھی حاصل ہو۔ یہ منافقین یا مشرکین کی عادت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ یہ لوگ چار پایوں سے بھی بد تر بالکل بہرے گونگے ہیں کچھ سمجھ ہی نہیں رکھتے ان سے تو جانور ہی اچھے ہیں کہ وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے علم ازلی کے موافق ان کے سننے میں بھلائی اور بہتری دیکھتے تو ان کو اس کے سننے کی توفیق دے دیتے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق یہ نتیجہ قرار پاچکا ہے کہ اگر بالفرض انہیں سننے کی توفیق بھی دے دی جائے تو بھی یہ لوگ نہیں سنیں گے بلکہ نصیحت سے پیٹھ پھیرنے لگیں گے۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہوں جب رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے اور یہ (بھی جانو) کہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا کہ خدا اور اس کے رسول کی بات مانو۔ جب رسول تمہیں ایسی بات کی طرف بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے تو تمہیں سنن چاہئے، اور ہر حال میں رسول کی اطاعت کرنی چاہیئے، کیونکہ رسول کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ کی مرضی و مامرضی کی ہر ایک بات تم لوگوں کو انہیں رسول کے ذریعہ سے پہنچتہی ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو، انسان کے دل کو پیدا کیا ہے اسی دل کے ارادہ پر انسان کی آنکھ ہاتھ پیر سب چلتے ہیں۔ وہ دل کا ارادہ بھی اللہ ہی کے قبضہ وقدرت میں ہے وہ جیسے انسان کی نیت دیکھتا ہے فورا ادھر انسان کے دل کو پھیر دیتا ہے، اور آخر عمر تک قائم رہنا سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آخر آیت میں فرم ایا کہ قیامت کے دن نیک وبد سب کو اللہ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا۔
Ayahs 8:25–26

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں ہی کو نہ پہنچے گا اور جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور یاد کرو (اے مہاجرین نعمت الہی کو) جب کہ تم تھوڑے تھے زمین میں (یعنی مکہ میں) کمزور شمار کئے جاتے تھے، تم اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو (مخالف) لوگ اچک نہ لیں سو (ایسی حالت میں) اللہ نے تم کو (مدینہ میں رہنے کی) جگہ دی اور تم کو اپنی مدد سے قوت دی اور پاکیزہ چیزوں سے روزی دی تاکہ تم احسان مانو

وبا میں مرنے کے بعد نیک و بد اعمال کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کچھ لوگ بستی میں بد اعمالی کرنے لگیں گے اور اس بستی کے باقی لوگ ان بد اعمال لوگوں کو وعظ و نصیحت سے اس بد اعمالی سے نہ روکیں گے، تو اسی طرح کی ساری بستی پر بلا آوے گی۔ یہ سن کر لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا :” حضرت اس بستی میں نیک عمل کرنے والے جو لوگ تھے ان کے نیک عملوں کا کیا نتیجہ ہوا “۔ آپ نے فرمایا :” مرنے کے بعد ان کے عملوں کا بدلہ ان کو ملے گا مگر دنیا میں تو تمام بستی ہر بلا آجاوے گی “۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں خلاف شریعت کام ہوتے ہوں وہاں جن لوگوں کو وعظ ونصیحت کی طاقت ہو وہ ہرگز وعظ و نصیحت سے باز نہ رہیں۔ کیونکہ اس کے چھوڑنے سے تمام بستی ہر بلا آجانے کا خوف ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی ہجرت سے پہلے کی کمزوری کی حالت یاد دلا کر ہجرت کے بعد غیبی مدد سے ان کی حالت جو درست ہوگئی ہے۔ اس کی شکرگزاری کا ارشاد فرمایا ہے تاکہ اس کی شکرگزاری کے بدلہ میں غیبی مدد روز بروز بڑھے اور اسلام کی ترقی ہو۔ اللہ سچا ہے اور اس کا کلام سچا ہے۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ اور رسول (ﷺ) سے خیانت نہ کرو اور نہ یہ کہ آپس کی امانتوں میں (دانستہ خیانت کرو اور تم جانتے ہو (کہ خیانت بری چیز ہے)

خیانت اور حضرت ابولبابہ ؓ کا واقعہ شان نزول جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے یہود بنی قریظہ کا محاصرہ اکیس روز تک کیا اور بنی قریظہ نے آنحضرت ﷺ سے صلح کرنے کی درخواست کی تو آنحضرت ﷺ نے انکار کیا اور یہ فرمایا کہ تم سعد بن معاذ کو اپنا پنچ (منصف) قرار دے کر اپنی گڑھی سے نیچے اتر آؤ۔ بعد اترنے کے سعد بن معاذ جو مشورہ اور رائے تمہارے بارے میں دیں گے، اس کے موافق فیصلہ کیا جاوے گا۔ بنی قریظہ نے کہا :” پہلے ابو لبابہ بن عبد المنذر کو ہمارے پاس مشورہ کے لئے بھیج دو “۔ آنحضرت ﷺ نے ابولبابہ کو بھیج دیا۔ ابولبابہ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ سے بنی قریظہ کو یہ سمجھایا کہ گڑھی سے اتروگے تو قتل کردئے جاؤگے۔ پھر ابولبابہ کو اسی وقت خیال آیا میں نے رسول کی امانت میں خیانت کی کہ لشکر اسلام کا بھید ان پر اشارہ سے ظاہر کردیا۔ اس قصور میں اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا اور عہد کیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہ فرماوے گا تو میں ستون سے بندھا رہوں گا۔ آخر نو روز بےآب ودانہ ستون سے بندھے رہے، نویں روز غش کھا کر گر پڑے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کی توبہ قبول ہوئی۔ آخر آنحضرت ﷺ نے اپنے دست مبارک سے ان کی بندش کھولی۔ امانت میں خیانت کرنا منافق آدمی کی عادتوں میں سے ایک عادت ہے اس سے بچو۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو تمہارا مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے (کہ آخرت کے کاموں میں سد راہ ہوتا ہے) اور یہ کہ اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے

مال و اولاد کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے مال واولاد اگرچہ دنیاوی زندگی میں تمہارے لئے زینت ہیں مگر ساتھ ہی اس کے اکثر یہی مال واولاد فتنہ میں ڈالنے والے ہیں۔ وہ اللہ ہی ہے جس کی عبادت و فرمانبرداری میں مشغول رہنے سے ہمیشہ بہبودی کی صورت نظر آتی ہے کیونکہ دنیا وآخرت کا مالک وہی ہے اور اس کے اختیار میں طرح طرح کے اجر عظیم ہیں۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اگر تم اللہ سے ڈروگے تو تمہیں وہ قوت دے گا جس سے حق کو باطل سے جدا کرو اور دور کردے گا تم سے تمہاری برائیں اور تمہیں بخش دے گا، اور خدا بڑا فضل والا ہے

اللہ اور اس کے رسول کا حکم اس آیت میں مسلمانوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ جو حکم خدا اور اس کے رسول کا پہنچ گیا ہے اس کو بسروچشم مان کر اس کے مطابق عمل کروگے اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے اس سے بچو گے تو تمہارے دلوں میں ہدایت ڈال دی جائے گی۔ جس سے تم حق وناحق میں تمیز کرلوگے اور تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے۔ پھر فرمایا کہ گناہوں کے بخشنے کا جو وعدہ تم سے ہوا ہے یہ محض خدا کا فضل ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) وہ وقت یا کرو جب (مکہ میں) کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے تاکہ تمہیں بند کریں یا شہید کردیں یا جلاوطن کریں، اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی مخفی تدبیریں کرتا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے

ترقی اسلام پر کفار کا مشورہ حضور کی ہجرت، ثور پہاڑ کے غار کا قصہ جب اسلام ترقی کرتا چلا گیا تو آخر کار سب کافر دار الندوہ یعنی مشورہ کی جگہ میں جمع ہوئے، اور ہر ایک نے اپنی اپنی تجویز پیش کی۔ شیطان بھی ایک بوڑھے شیخ کی صورت بن کر آموجود ہوا اور بولا کہ : میں نجد کا رہنے والا ہوں۔ مکہ میں آکر تمہاری کمیٹی کی خبر سنی تھی اس لئے اپنی بھی رائے پیش کرنے حاضر ہوگیا۔ ابوالبختری بولا :” میری رائے تو یہ ہے کہ محمد ﷺ کو ایک بند مکان میں قید کردو اور وہ اسی طرح مرجائیں گے “ شیطان بولا :” یہ ٹھیک نہیں کیونکہ اس کے ہمراہی تم سے لڑ کر ان کو چھڑا لے جائیں گے “۔ پھر ہشام بن عمر نے کہا : کہ میری رائے میں حضٖرت محمد ﷺ کو اونٹ ہر سوار کرکے شہر بدر کردو۔ شیطان بولا :” یہ بھی ٹھیک نہیں “۔ آخر ابوجہل نے یہ رائے ظاہر کی کہ چند نوجوانوں کو ننگی تلواریں دے کر یہ کہا جاوے کہ وہ سب مل کر بلوہ کے طور پر حضرت محمد ﷺ کو قتل کر ڈالیں۔ جب حضرت محمد ﷺ مارے گئے تو ہر طرح اطمینان ہوجائے گا اس رائے کو بڈھے ملعون نے بھی پسند کیا اور مشورے کی مجلس برخواست ہوئی۔ اتنے میں حضرت جبریل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تشریف لائے اور جس جگہ ہمیشہ آہ سویا کرتے تھے، وہاں کے سونے سے آپ کو منع کیا اور سارے مشورے کی خبر دی اور ہجرت کا حکم بھی سنایا۔ حضرت علی ؓ کو امانتوں کی ادائیگی کے مکہ میں رہنے کا حکم دیا اور حضرت علیہ ؓ آنحضرت ﷺ کی جگہ سوئے اور آنحضرت ﷺ تو پہاڑ کے غار میں چلے گئے۔ کفار لوگ حضرت علی ؓ کو آنحضرت ﷺ کی جگہ سوتا دیکھ کر یہی خیال کرتے رہے کہ یہ آنحضرت ﷺ سوئے ہیں۔ صبح کو جب کفار نے حملہ کرنا چاہا اور حضرت علیہ ؓ بھی سوتے سے اٹھے۔ کفار نے بجائے آنحضرت ﷺ کے حضرت علیہ ؓ کو دیکھا تو حضرت علی ؓ سے آنحضرت ﷺ کا پوچھا۔ حضرت علی ؓ نے کہا :” مجھ کو معلوم نہیں “۔ کفار آنحضرت ﷺ کی تلاش میں نکلے جس غار میں آنحضرت ﷺ تشریف رکھتے تھے اس پر بھی گزر ہوا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اندھا کردیا اور آنحضرت ﷺ اپنے رفیق یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ تین رات اس غار میں رہ کر معمولی راستہ کتراتے بخیر و عافیت مدینہ جا پہنچے۔ اور کفار نے مشورہ کرکے آنحضرت ﷺ کے ساتھ مکر فریب جو کرنا چاہا تھا اس کے تذکرہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا فضل معلوم ہوجاتا ہے۔
Ayahs 8:31–32

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں :” ہاں ! ہم نے سنا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس طرح کی باتیں کہ دیں یہ تو کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کے افسانے “

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب کہ کافروں نے یہ کہا کہ اے اللہ اگر یہ (یعنی قرآن) تیری جانب سے حق ہے تو ہم پر برسادے مینہ پتھروں کا آسمان سے، یا ہم پر (کوئی دوسرا) عذاب دردناک لا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کی بددعا ابوجہل اور بضر بن حارث نے کی تھی، اس طرح کی بددعا مسلمان شخص کو کسی حال میں جائز نہیں ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ انہیں عذاب کرے اس حالت میں کہ (اے محبوب ! ﷺ) تم (جیسے باعث رحمت) ان میں (موجود) ہو اور اللہ (ایسا بھی) نہیں ہے کہ انہیں عذاب کرے اس حالت میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں

آنحضرت ﷺ کا وجود کفار کے لئے بھی باعث رحمت تھا۔ اس لئے جب تک آپ ان میں رہے اس وقت تک ان پر کوئی عذاب نازل نہ ہوا مگر جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ گنہگار گو کیسا ہی بڑے سے بڑا گناہ کرلے دوچیزیں پناہ کی ہیں : ایک تو میرا وجود، دوسرے استغفار۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور ان کو (اس بات سے) کیا (اطمینان) ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے گا، حالانکہ وہ لوگ مسجد حرام (میں لوگوں کو عبادت کرنے) سے روکتے ہیں، اور (حقیقت یہ ہے) وہ اس جگہ کے متولی ہونے کے لائق نہیں، اس کے متولی تو وہی ہیں جو پر ہیزگار ہیں لیکن ان میں سے اکثروں کو معلوم نہیں

قریش کی کعبہ شریف سے علیحدگی قریش اپنے آپ کو اولاد ابراہیم سمجھ کر کعبہ کا متولی ٹھراتے تھے اور جس کو چاہتے اس کو کعبہ میں نہ آنے دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تولیت نامنظور فرمائی اور یہ آیت نازل فرمائی اور یہ آیت نازل فرما کر جتلادیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنہوں نے خانہ کعبہ بنایا تھا وہ تو پکے مسلمان تھے اور یہ اہل مشرک ہیں، اتنے اختلاف عقائد پر نسب بھلا کیا کام آسکتا ہے۔ اس کے متولی وہی ہیں جو پرہیزگار اللہ کے نیک بندے مسلمان ہیں، اور فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے ہر ایک مشرک شخص کو کعبہ کے طواف سے منع فرمایا تھا۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹیاں اور تالیاں بجانا (ان سے کہا جائے گا) پس اب عذاب کا مزہ چکھو بسبب اپنے کفر کے

نماز میں مشرکین کا مسخرا پن شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو نماز میں خیال ہٹانے کی غرض سے ٹھٹھے کے طور پر اکثر مشرکین سیٹیاں اوت تالیں بجاتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس سے معلوم ہوا کہ نیک کام میں ٹھٹھے وغیرہ سے ہرج ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ اپنے کو جو کعبہ کا متولی ٹھراتے تھے، اللہ تعالیٰ نے نے ان کو یہ جواب دیا کہ کعبہ نماز اور طواف کے لئے ہے۔ طواف میں تو یہ لوگ اللہ کے نام کے ساتھ بتوں کا نام لیتے ہیں اور خود تو نماز کے قائل نہیں ہیں، اللہ کے رسول اور اس کے ساتھی اللہ کے گھر میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تو ان کا خیال ہٹانے کے لئے سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں۔ پھر بھلا ایسے لوگ کیونکر کعبہ کے متولی ٹھر سکتے ہیں، یہ لوگ اپنے کفر اور اپنی سرکشی کے سبب کسی کا کچھ نہین بگاڑتے۔ بلکہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی سزا میں انہی لوگوں دنیا اور عقبیٰ کا عذاب بھگتنا پڑا۔
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہیں وہ اپنا مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو خدا کی راہ سے روکیں، پس عنقریب وہ اسے خرچ کریں پھر وہ خرچ کرنا ان کے لئے سراسر پچھتاوا ہوگا پھر (بالآخر) وہ مغلوب کردیئے جائیں گے۔ اور جو کافر ہیں وہ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

روپیہ پیسہ بری جگہ خرچ کرنے پر مواخذہ شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین چندہ کرکے اپنے طور پر ایسے کاموں میں اپنا رپیہ خرچ کرتے تھے جن کاموں سے انہیں مسلمانوں کو ہرج پہنچانا اور ان کا زور گھٹانا منظور ہوتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اس روپیہ کے خرچ کرنے کا نتیجہ دین ودنیا میں ندامت ہے کہ باوجود روپیہ خرچ کرنے کے ان کا مقصد حاصل نہ ہوگا اور آخر مکہ فتح ہوکر مسلمانوں کے قبضہ میں آجاوے گا اور آخرت میں یہ لوگ اس کا مواخذہ بھگتیں گے۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی ایسے کام میں روپیہ خرچ کرنا جس سے نیک کام سے باز رہیں بڑے مواخذہ کی بات ہے۔
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے جدا کرے اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

مشرکین کا انجام اس آیت میں کفار کا حال بیان کیا کہ یہ لوگ باوجود اس کے کہ شکست پر شکست کھاتے گئے، پھر بھی اپنے کفر پر جمے رہے۔ دنیا میں جو کچھ ان کے مال اور جان کا نقصان ہوا۔ وہ تو ہوا ہی مگر آخرت میں بھی ان کے واسطے نقصان ہی ہے۔ یہ سب کے سب دوزخ کو ہانکے جاویں گے، اور پاک کا جدا کرنا ناپاک سے یہ ہے کہ فتح مکہ تک ان میں کے جو لوگ شرک کی ناپاکی کو ساتھ لے کر دنیا سے اٹھ گئے وہ دوزخی ہوئے، اور جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے وہ پچھلی سب ناپاکیوں سے پاک ہوگئے۔ پھر فرمایا کہ جو مال ان کفار نے اللہ کے رسول کی عداوت میں خرچ کیا ہے اس مال خبیث کو اس پاک مال سے جس کو مومنین نے آنحضرت ﷺ کی مدد کے لئے صرف کیا ہے، جدا کرکے ان کو جہنم میں ڈالاجاوے گا۔ پھر فرمایا کہ یہ کفار نہایت ہی خسارہ میں رہے ان کے مال کا بھی نقصان ہوا۔
Ayahs 8:38–40

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

تم کافروں سے فرماؤ :” اگر وہ ( اب بھی اپنے کفر سے) باز آجائیں تو ان کے گزشتہ قصور معاف کردیئے جائیں گے “ اور اگر پھر وہی کریں گے تو بیشک گزرچکا ہے دستور اگلوں کا (کہ اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے اور اپنے انبیاء و اولیاء کی مدد فرماتا ہے)

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو ! ) ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ (یعنی کفر کا غلبہ) باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے، پھر اگر وہ (کافر اپنے کفر سے) باز رہیں تو بیشک اللہ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اگر وہ پھریں تو (اے مسلمانو ! ) جان لو کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے، تو کیا ہی اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مدد دینے والا ہے

ہدایت او جنگ کا حکم ان آیتوں میں للہ تعالیٰ نے حضرت مقبول ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ابوسفیان وغیرہ کفار سے یہ بات کہ دو کہ اگر تم لوگ کفر سے اور ارادہ قتل مومنین سے باز رہ کر دائرہ اسلام میں آجاؤگے تو تمہارے جتنے گناہ ہیں وہ سب بخش دیئے جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان لوگوں سے یہ بھی کہ دو کہ اگر تم لوگ اپنے اسی کفر ونفاق پر جمے رہوگے اور اللہ کے رسول کی مخالفت کئے جاؤگے تو یاد رکھو کہ اللہ کے کارخانہ قدرت میں قاعدہ یوں ہی جاری رہا ہے کہ وہ اپنے انبیاء اور مومنین کی مدد کرتا ہے اور کفار کو ہلاک کردیتا ہے۔ پھر حضرت محمد ﷺ کو فرمایا کہ آپ اور مومنین ان کفار سے جنگ کریں یہاں تک کہ شرک باقی نہ رہے، خالص خدا کا دین ہوجائے۔ اگر یہ کفار اس لڑائی سے خائف ہوئے اور ایمان لے آئے اور کفر سے باز رہے تو تم ان لوگوں سے کہ دو کہ خدا تمہارے اعمال سے پوری واقفیت رکھتا ہے تم سے درگزر کرے گا، اور اگر پھر یہ لوگ اسی کفر پر جمے رہے اور لڑائی پر مستعد ہوئے تو یہ بات جان لیویں کہ خدا انہیں کبھی فتح یاب نہیں کرے گا، وہ تو ہمیشہ تمہارے ہی ساتھ تمہاری مدد کرتا رہے گا، اور ہر وقت تم ہی کو غلبہ دیتا رہے گا۔ اس سے بڑھ کر کوئی حمایتی نہیں ہے اور نہ اس سے زیادہ کوئی مدد گار ہے۔