7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 7:1–2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

(اے محبوب) یہ کتاب (الٰہی یعنی قرآن) تمہاری طرف نازل کی گی تو چاہئے کہ اس (کے احکام کی تبلیغ) سے تمہارا جی نہ رکے اور اس لئے کہ تم اس کے ذریعہ سے (کافروں کو) ڈراؤ اور مسلمانوں کے لئے نصیحت ہے

خواص سورة الاعراف : تین مرتبہ سورة اعراف کو سورة اخلاص کے ساتھ ہر روز پڑھنا عقوبت آخرت سے نجات دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تمہارا کام فقط اللہ کا کلام ان کو پہنچا دینا ہے۔ جب اہل مکہ باوجود اپنی فصاحت کے دعوے کے قرآن کی منند ایک چھوٹی سی سورة بھی بنا کر پیش نہ کرسکے اور ان کے دل میں خیال پیدا ہوگیا کہ قرآن طاقت بشری سے باہر ایک کلام ہے تو ان کے قائل کرنے کو فرمایا کہ اب ہٹ دھرمی نہ کرو قرآن کو کلام الٰہی جانو اور اس کی پیروی کرو۔ سب طرح کے کفر وشرک کو چھوڑ دو سرائے خدا کے کسی کو اپنا کام بنانے والا نہ ٹھہراؤ۔ تم لوگ نصیحت کی باتوں کا بہت کم دھیان کرتے ہو ورنہ قرآن کی نصیحت تمہارے دل پر خوب اثر کرسکتی ہے۔
Ayahs 7:3–4

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) اس پر چلو جو تمہاری طرف اترا تمہارے پروردگار کی طرف سے اور اس کے سوا اور رفیقوں کے پیچھے نہ چلو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور بہتیری بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا پس ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا جب (وہ) دوپہر کے وقت سو رہے تھے

اچانک عذاب کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رسولوں کی نافرمانی کے سبب سے بہت سی بستیاں تباہ کردی گئیں۔ دونوں جہان کی ذلت ان کو حاصل ہوئی اور یہ عذاب ایسے وقت آیا کہ جبکہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے، یا دن میں دوپہر کا وقت تھا جب مصروف راحت تھے نہ عذاب کے نزول کی کوئی نشانی تھی اچانک عذاب آگیا۔ اس سے کفار کو جتایا جاتا ہے کہ وہ اسباب امن و راحت پر مغرور نہ ہوں۔ عذاب الٰہی جب آتا ہے تو دفعۃ آجاتا ہے۔ عذاب آنے پر انہوں نے اپنے جرم کا اقرار کیا مگر اس وقت اقرار فائدہ مند نہ تھا قیامت کے روز پروردگار پچھلی امتوں سے قائل کرنے کے طور پر پوچھے گا کہ تم نے ہمارے رسولوں کی کیا فرمانبرداری کی اور رسولوں سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے ہمارے پیغام ان کو پہنچائے یا نہیں ؟ اللہ کے رسول جواب دیں گے کہ یا اللہ ! ہم نے ان لوگوں کو تیرے سب سزا وجزا کے احکام پہنچا دیئے لیکن ان لوگوں نے احکام کو نہیں مانا۔ اس پر پچھلی امتوں کے لوگ اللہ کے رسولوں کو جھٹلادیں گے۔ اللہ تعالیٰ رسولوں سے شہادت طلب فرماوے گا، اس پر امت محمدیہ گواہی دے گی اور کہے گی کہ یا اللہ ! تو نے ہمارے نب آخر الزمان پر جو قرآن اتارا ہے، اس میں پہلے نبیوں کا اور پہی سب امتوں کا سب ذکر ہے، اس واسطے ہم تیرے کلام کے موافق تیرے رسولوں کے سچا ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے روبرو رکھا جائے گا جو سب عملوں کا احوال ظاہر کرے گا اور ان لوگوں کو قائل کیا جاوے گا۔
Ayahs 7:5–8

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

تو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ابن کے منہ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلی کہ واقعی ہم ظالم تھے

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

تو بیشک ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے کہ جن کے پاس رسول بھیجے تھے اور بیشک ہم رسولون سے بھی ضرور پوچھیں گے

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پس ہم ضرور ان کو بتلادیں گے اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس دن انصاف سے اعمال کا تلنا (وزن ہونا) حق ہے پھر جس کسی شخص کا پلہ نیکیوں کا بھاری ہوگیا

حشر کا بیان مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کے دن عملوں کو ایک طرح کا جسم دیا جائے گا جس سے جسم میں نیکی کے سبب سے ایک بھاری پر اور بدی کے سبب سے ہلکا پن ہوگا۔ اب عملوں کے تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پاویں گے، اور جن کا نیکی کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ دوزخ میں جاویں گے۔ دوزخ میں جانے کے بعد جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا آخر کو وہ دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیجا جاوے گا، اور برابر والا اعراف پر، جنتیوں اور دوزخیوں کے فیصلہ آخیر تک ٹھہرائے جا کر پھر جنت میں جاوے گا۔ اعراف : جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے۔ قیامت کے تین مقام بڑے خوفناک اور بڑے پریشانی کے ہیں : (1) ایک مقام اعمال تولنے کا (2) دوسرا مقام نامہ اعمال کے دائیں اور بائیں ہاتھ میں آنے کا۔ (3) تیسرا مقام پل صراط پر گزرنے کا ہے۔
Ayahs 7:9–10

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

وہی کامیاب ہوگا اور جس کسی شخص کا نیکیوں کا پلہ ہلکا ہوگیا سو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے حق میں نقصان کیا اس سبب سے کہ وہ ہماری آیتوں میں زیادتیاں کرتے تھے

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تم کو زمین میں جماؤ دیا (آبد کیا) اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان زندگی پیدا کیا تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کے شکر گزار ہو اور سوا اللہ کے اوروں کی پرستش چھور دو ۔ اس لئے فرمایا کہ ہم نے تم کو زمین میں رہنے اور گھر بنانے، باغ وکھیتی کرنے کی تم کو عقل دی۔ غرضیکہ ہر طرح کی نعمت دی باوجود اس کے تمہاری یہ ناشکری ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اوروں کی پوجا کرتے ہو۔ علاوہ اس کے تمہارے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی یہ بزرگی عطا فرمائی کہ تمام فرشتوں کو حکم سجدہ کرنے کا دیا، سب فرشتوں نے سجدہ کیا ابلیس نے نہیں کیا بہ سبب حسد کے اور عدول حکمی (نافرمانی) کی اور یہ ابلیس تمہارا موروثی دشمن ہے۔ اس سے بچتے رہو۔
Ayahs 7:11–12

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تم کو پیدا کیا (یعنی آدم کو) پھر ہم نے ہی تمہاری صورت بنائی (یعنی تمہارے باپ آدم کی) پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ سجدہ کرو آدم کو۔ پس سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس، یہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

فرمایا : ” کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا “ بولا : ” میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجے آگ سے پیدا کیا اور پیدا کیا تو نے اس کو مٹی سے

مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) علم الٰہی میں نیک قرار پائے تھے، اس لئے گیہوں کھانے کے قصور کے بعد ان کو توبہ آسان ہوگئی اور شیطان علم الٰہی میں بد قرار پا چکا تھا، اس لئے سجدہ نہ کرنے کے قصور سے اس کو توبہ آسان نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اپنے قیاس سے اس قصور کو قصور نہیں جانا۔
Ayah 7:13

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا : ” تو یہاں (جنت) سے اتر جا تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو تکبر کرے یہاں رہ کر، پس نکل جا بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے

شیطان کا حملہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا کرم کرنا جب شیطان نے بموجب حکم خدا کے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ نہیں کیا تو خدا تعالیٰ نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال دیا اور فرمایا کہ جنت میں رہ کر تجھ کو تکبر کرنا نہیں پہنچتا، کیونکہ جنت فرمانبرداروں کی جگہ ہے، نافرمانوں کی جگہ نہیں ہے۔ اس وقت شیطان نے سوچ کر اپنے لئے قیامت تک جیتے رہنے کی مہلت مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلے صور تک کی مہلت دی تاکہ شیطان کے بہکانے کے بعد فرمانبردار اور نافرمان بندے پہچانے جاویں۔ مہلت مل جانے کے بعد شیطان نے سرکشی سے کہا کہ جس طرح میں گمراہ ہوا، اسی طرح میں تیرے بندوں کو جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ہوں گے گمراہ کروں گا، اور ہر طرف سے سامنے اور پیچھے، دائیں اور بائیں سے ان کے پاس آکر ان کو بہکاؤں گا۔ جب شیطان نے اللہ تعالیٰ کے روبرو بنی آدم کے بہکانے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر توبہ و استغفار کرنے والاے گناہ گاروں کے گناہ معاف فرمادینے کا وعدہ فرمایا۔ (یہ اس کریم کے کرم کی انتہا ہے)
Ayahs 7:14–17

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگا کہ مجھ کو مہلت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں (یعنی قیامت تک)

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھے مہلت ہے

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

پھر وہ کہنے لگا : ” بسبب اس کے کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے قسم کھاتا ہوں کہ میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے داہنے سے اور ان کے بائیں سے اور تو ان میں سے اکثر کو شکر کرنے والا نہ پاوے گا

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ شیطان چاروں طرف سے انہیں گھیر کر راہ راست سے روکے گا، نجات کا راستہ ایک ہے، شیطانی راستے بہت سے ہیں۔ اس آیت میں پھر اللہ پاک نے شیطان سے تاکیدا فرمایا کہ نکل بہشت سے مردود۔ قسم ہے مجھ کو بھی کہ جو کوئی تیری تابعداری کرے گا میں بھی جہنم کو سب سے بھر دوں گا۔ اس جواب خداوندی میں جس قدر خوف ہے اس کا اندازہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کے جہنم میں وہی گنہگار جاویں گے جو ہمیشہ گناہ کرتے ہیں اور خالص دل سے توبہ نہیں کرتے۔
Ayahs 7:18–19

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : ” آسمان سے نکل جا مذمت کیا ہوا مردود کیا گیا، بیشک ان میں سے جو کوئی تیری پیروی کرے گا تو یقینا میں ضرور جہنم کو تم سب سے بھر دوں گا “

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور ہم نے حکم دیا اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو پھر کھاؤ جس جگہ سے چاہو اور اس درخت کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو گے

ان آیتوں میں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا (علیہ السلام) پر سوائے ایک درخت کے کل میوے اور پھل جنت کے مباح کردیئے تھے کہ جہاں سے چاہو بےروک ٹوک کھاؤ۔ اس کا حسد شیطان کو ہوا چاہا کہ کسی طرح یہ نعمتیں ان سے چھینی جاویں۔ اس لئے فریب کی راہ سے کہا کہ : اس درخت کے پھل سے جو تم کو منع کیا گیا ہے اس میں بھید ہے کہ کہیں تم فرشتے یا ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے والے نہ ہوجاؤ، اور قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ خدا کا نام سن کر دشمن کے دھوکے میں آگئے۔ پہلے حضرت حوا کو بہکا کر گیہوں کے دانے کھلائے، اور پھر حضرت حوا کی رغبت دلانے سے آخر حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی گیہوں کے دانے کھالئے جس کے نتیجہ کا ذکر آگے آیت میں ہے۔
Ayahs 7:20–21

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پس شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ جو کچھ ان ( کی نظر) سے پوشیدہ تھا (ان کی شرمگاہیں) وہ ان پر بےپردہ کردے، اور کہنے لگا : ” تمہیں تمہارے پروردگار نے اس درخت (کے پھل کھانے) سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ (زندہ) رہنے والوں میں سے ہوجاؤ “

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان دونوں کے روبرو قسم کھائی کہ میں یقینا تم دونوں کا خیر خواہ ہوں

جنت میں آدم وحوا کا لباس شیطان نے قسم کا دھوکا دے کر اس درخت یعنی گہیوں کے دانے کھانے پر کہ جس کو منع کیا گیا تھا ان کو آمادہ کر کے جنت سے نکلوادیا۔ گیہوں کے کا ھاتے ہی ان کے ستر کھل گئے، جنت کے کپڑے بدن پر سے اتر گئے، جو بدن چھپا ہوا تھا وہ ظاہر ہوگیا۔ انجیر کے پتے لے کر ستر چھپانے لگے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جب جنت میں آباد ہوئے تو ان کو ایک کپڑا پہنایا گیا تھا وہ چھین لیا گیا۔ کچھ کچھ انگلیوں پر اس کا نشان باقی رہ گیا جس نشان کو ناخن کہتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد ساٹھ گز کا تھا۔ جب گیہوں کے کھانے سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا جنتی لباس اتر گیا تو وہ شرما کر بھاگے، مگر قد لمبا اور سر پر بال ہونے کے سبب سے ان کے بال جنت کے پیڑوں میں الجھ گئے۔ اس وقت آواز دے کر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ آدم کیا تو مجھ سے باھاگتا ہے۔ عرض کیا : ” نہیں مگر مجھ کو تجھ سے شرم آتی ہے “۔ فرمایا : ” ہم نے جو کچھ تجھ کو جنت کی نعمتیں دیں کیا وہ تجھے کافی نہ تھیں جو تو مناہی کی (ممنوعہ) چیز کی طرف مائل ہوا “۔ عرض کیا : ” اے ہمارے پروردگار قسم ہے تیری عزت کی ! میں نے یہ نہ جانا تھا، کہ کوئی تیری جھوٹی قسم بھی کھاتا ہے “۔ فرمایا : ” قسم ہے مجھ کو اپنی عزت کی کہ میں تجھ کو زمین میں اتاروں گا، پھر محنت مشقت سے تو زندگی بسر کرے گا “۔
Ayahs 7:22–24

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

پس فریب سے ان دونوں کو پستی کی طرف اتار لایام پھر جب ان دونوں نے اس درخت (کے پھل) کو چکھا تو ان پر ان کی شرمگاہیں کھل گئیں اور دونوں اپنے بدن پر جنت کے (درختوں کے) پتے ڈھانپنے لگے، اور انہیں ان کے پروردگار نے فرمایا کہ کیا میں نے تم کو منع نہ کیا تا اس درخت سے اور میں نے تم سے یہ نہ فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تمہارا ظاہر دشمن ہے

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں نے عرض کی : ” اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تو اگر ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو البتہ ہم ہوں گے نقصان والوں میں “

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اتر جاؤ تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہیں زمین میں ایک وقت معین (یعنی موت) تک ٹھہرنا اور فائدہ حاصل کرنا ہے

شیطان کی حقیقت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا (علیہما السلام) ابلیس و سانپ سب کو فرمایا کہ آسمان سے زمین پر اترو اور وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان آدمی کے بہکانے کی دشمنی، اور سانپ آدمی کے کاٹنے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آویں گے۔ آدمی کو چاہیے کہ ان سے بچتا رہے۔ پھر فرمایا کہ ایک مدت تک زمین تمہارے رہنے اور ٹھہرنے کا مقام ہے۔ اسی میں تمہارا جینا مرنا ہے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند روزہ زندگی کے بعد مرنا اور پھر دوبارہ جینا ہے، اور دوبارہ جینے کے بعد اگلے پچھلے سب کو اکٹھا کر کے خدا تعالیٰ ہر ایک کو اس کے عملوں کی سزا دے گا۔
Ayahs 7:25–26

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اسی زمین میں جیو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں سے اٹھائے جاؤ گے

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس اتارا کہ چھپائے تمہاری شرم کی چیزیں اور اتارے کپڑے ہم نے زینت دار، اور لباس پرہیزگاری کا یہ سب سے بہتر ہے، یہ نشانیوں میں سے ہے اللہ کی تاکہ وہ نصیحت مانیں

عورت مرد کے لباس کا حکم اس آیت میں فرمایا کہ جب شیطان تمہارے دشمن نے تم سے لباس بہشتی چھنوادیا تو پھر ہم نے تمہارے لئے دنیا کا لباس اتارا کہ مینہ کے ذریعے زمین میں روئی پیدا کی۔ جس سے طرح طرح کے کپڑے بننے کی تدبیر تم کو سکھائی۔ سو تم اب پرہیزگاری کا لباس پہنو۔ مرد ریشمی اور ٹخنوں سے نیچا کپڑا اور عورت بہت باریک کپڑا کہ جس میں بدن دکھائی دے، نہ پہنے۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے خدا کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا لباس مطلب یہ ہے کہ جنت سے علیحدہ ہونے سے پہلے حضرت آدم (علیہما السلام) کالباس ایسا تھا جس طرح ناخن ہیں۔ گیہوں کھانے سے تمام بدن کا لباس اتر کر فقط انگلیوں پر اس لباس کی نشانی باقی رہ گئی جس کو ناخن کہتے ہیں۔ پاخانہ کے وقت آڑ کا حکم ہے، کیونکہ ننگے آدمی کو شیطان بہکاتا ہے۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ! تم کو شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا کہ نکالا تمہارے ماں باپ کو جنت سے اتروادئے ان کے لباس کہ ان کو ان کی شرم کی چیزیں نظر پڑیں، بیشک شیطان اور اس کی قوم تم کو وہاں سے دیکھتی ہے کہ تم انہیں نہیں دیکھتے ہو، بیشک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا کارگزار بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے

مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے جسم میں خون کی طرح پھرتا ہے۔ دل آدمی کا خاص شیطان کی جگہ ہے مگر جس کو خدا بچاوے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک روز اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھ کو انسان کے بہکانے کے وقت شیطان کا ٹھکانا دکھلادے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کا دل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دکھلایا کہ سانپ کے پھن کی صورت میں شیطان اس پر چھایا ہوا تھا، لیکن جب وہ شخص کچھ اللہ کا ذکر کرتا تھا وہ سانپ کا پھن اس کے دل پر سے ہٹ جاتا تھا۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور وہ جب کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے پایا اور اللہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے تم فرماؤ : ” بیشک اللہ ہرگز بری باتوں کا حکم نہیں دیتا ہے، کیا وہ بات لگاتے ہو اللہ پر جس کی تم کو خبر نہیں “

مطلب یہ ہے کہ مکہ کے مشرک ننگے ہوکر خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور کہتے کہ یہ رسم باپ دادا کی اور خدا کا حکم ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کو نازل کر کے فرمایا کہ پیشتر تم ابھی جان چکے ہو کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے جو سب کے باپ ہیں شیطان کا دھوکا کھایا، تو پھر کسی بےحیائی کے کام پر باپ دادا کا حوالہ دینا اور اس کو خدا کا حکم سمجھنا بڑی نادانی ہے۔ خدائے پاک نے ایسے ناپاد اور بےحیائی کے فعل کا حکم دیا ہے۔ یہ یہ کیونکہ ہوسکتا ہے بغیر جانے بوجھے کیوں خدا پر جھوٹ باندھتے ہو۔ بلکہ خدا نے تو عدل اور انصاف اور مسجد میں خالص اسی کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے اور مرنے کے بعد زندہ کرے گا اس حال پر جس پر وہ تھا۔
Ayahs 7:29–31

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

تم فرماؤ : ” بیشک میرے پروردگار نے انصاف کا حکم دیا ہے اور فرمایا کہ اپنا منہ سیدھا کرو (کعبہ کی طرف) ہر نماز کے وقت اور خاص اس کی عبادت کرو اسی کے فرمانبردار ہوکر جیسا اس نے تم کو شروع پیدا کیا اسی طرح ہی پلٹو گے “

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک فرقے کو راہ دکھائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہوئی، البتہ انہوں نے شیطان کو بنا لیا ہے دوست اللہ کو چھوڑ کر اور گمان یہ کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ! اپنی زینت لو (یعنی لباس پہن لیا کرو) ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں

حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے کی تنبیہ کا حکم شان نزول : زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ مرد اور عورتیں رات کو سب ننگے طواف کرتے تھے اور بعضے قبیلہ کے لوگ بعضے چیزوں کا کھانا بھی حج کے موسم میں اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے۔ اس رسم کے مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ حرام وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اپنے رسول کی معرفت حرام فرمائی ہے۔ جن لوگوں نے طواف کے وقت کپڑوں کا پہننا، موسم حج میں چکنائی یا گوشت کا کھانا چھوڑ رکھا ہے، ان لوگوں کی ایک رسم ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی حکم سے ابن چیزوں کو ان لوگوں کی ملت ابراہیمی میں حرام نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ طواف اور نماز میں بنی آدم اپنے ستر کو ڈھانکیں، اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرادی ہیں، ان کا کھانا موسم حج میں یا کسی وقت میں اپنی طرف سے حرام نہ ٹھہراویں۔ پھر فرمایا کہ اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! ان مشرکوں سے کہہ دو کہ دنیا کی ضرورت کی چیزیں چیزیں اصل میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے واسطے پیدا کی ہیں، جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو برت کر اس کے شکریہ میں خالص دل سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اور مشرک لوگ ان نعمتوں سے دین ودنیا سے محروم کردیئے جاویں گے۔ آخر کو فرمایا کہ جن کو کچھ سمجھ ہے ان کو قرآن شریف کی آیتوں میں اس طرح ہر آیت کی تفصیل سمجھائی جاتی ہے۔ اس پر بھی جو نصیحت کو نہ مانے گا وہ پچھتاوے گا لیکن اس وقت کا پچھتانا کام نہ آوے گا۔
Ayahs 7:32–33

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

تم فرماؤ : ” کس نے حرام کی ہے اللہ کی وہ زینت کہ جس کو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے، اور کس نے حرام کیا ہے پاکیزہ چیزوں کو رزق میں سے “ تم فرماؤ کہ وہ مسلمانوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں اور روز قیامت میں ، تو خاص انہیں کے لئے ہے ہم اسی طرح مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں علم والوں کے لئے

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

تم فرمؤ کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائیوں کو حرام کیا ہے کہ جو ان میں سے ظاہر ہیں یا پوشیدہ ہیں اور حرام کیا ہے گناہ اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کا شریک مقرر کرو اس چیز کو کہ خدا نے کوئی سند اس پر نازل نہیں فرمائی اور یہ کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا تم علم نہیں رکھتے ہو

مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت دار نہیں ہے، اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس آیت میں چھپی، کھلی بےحیائی اور گناہ اور ناحق کی زیادتی اور شرک اور خدا پر جھوٹ بولنے کو حرام فرمایا ہے۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر گروہ کے واسطے ایک میعاد مقرر ہے پس جب ان کا مقررہ وعدہ آئے گا تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہو اور نہ آگے ہو

اہل مکہ مکرمہ عذاب کی جلدی جو کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ہر کام کا وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے، جب اللہ کو منظور ہوگا تو عذاب آوے گا۔ غرض عذاب کا وقت ایسا ہی مقرر ہے جس طرح سب کی آنکھوں کے سامنے ہر ایک شخص کے لئے ہر زمانہ میں موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اس سے ایک ساعت کوئی آگے پیچھے نہیں ہوتا۔ وعدہ کم نہ زیادہ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے رسول تم میں سے تمہارے پاس ہماری آیتیں لا کر بیان کریں گے تو جو کوئی پرہیزگاری اختیار کرے گا اور رسولوں کی فرمانبرداری کر کے اپنے حال کو سنوارے گا اور مناہی کی چیزوں سے بچا رہے گا اس کو قیامت کے روز کچھ خوف نہ ہوگا۔ اور جو ہماری آیتوں اور رسولوں کو جھٹلاوے گا اور تکبر سے ان پر عمل نہ کرے گا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
Ayahs 7:35–37

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

(کہا ہم نے) ” اے آدم کی اولاد ! اگر آویں تمہارے پاس رسول تم میں سے تم پر میری آیتیں پڑھیں پس جو کوئی پرہیزگاری کرے اور سنور جاوے تو نہ کچھ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے “

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور سرکشی کی ان کے قبول کرنے میں تو وہ لوگ دوزخ کے رہنے والے ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پس کون ہے زیادہ ظالم اس شخص سے جس نے جھوٹ باندھا اللہ پر یا جھٹلایا اس کی آیتوں کو، یہی لوگ ہیں جن کو ان کا حصہ (لوح محفوظ کے) لکھے ہوئے میں سے پہنچے گا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کو آویں گے تو ان سے کہیں گے، کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے سوائے خدا کے کہیں گے وہ ہم سے گم ہوگئے اور وہ اپنے اوپر اس بات کا اقرار کریں گے کہ بیشک وہ کافر تھے

دوزخ اور عذاب موت کا ذکر حاصل مطلب یہ ہے کہ ملک الموت اور ان کے مددگار فرشتے مشرکوں کو مرتے وقت عذاب سے ڈراتے ہیں جس سے ان کو بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ فرشتے جھڑک کر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ جن کو تم خدا کے سوا دنیا میں پکارتے اور پوجتے تھے وہ اب کہاں ہیں، ان کو بلاؤ کہ تم کو اس عذاب سے بچاویں۔ وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ وہ کدھر گم ہوگئے، وقت پر ہمارے کچھ کام نہ آئے۔ ہم کو ان سے کچھ توقع اور امید نہیں ہے۔ یہ ان کا موت کے وقت اپنی جانوں پر کفر کا اقرار ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوزخ کا داروغہ کہے گا کہ داخل ہو آگ میں ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں۔ پھر دوزخ میں داخل ہوتے ہی ایک امت دوسری امت کو لعنت کرنے لگے گی۔ مشرک مشرکوں کو، یہود یہود کو لعنت کرنے لگیں گے پچھلی امت کے لوگ پہلی امت کے لوگوں کے حق میں خدا تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ ” اے پروردگار ! انہوں نے ہم کو تیرے راستہ سے بہکایا تھا ان کو دو چند عذاب کر “۔ جواب ملے گا کہ تم سب کے واسطے دوچند عذاب ہے۔ لیکن تم نہیں جانتے کیونکہ ہم نے ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق سزا دی ہے اور پہلی امت کے لوگ پچھلی امت کے لوگوں سے کہیں گے کہ تم پر کچھ نہیں ہے۔ جس طرح ہم گمراہ ہوئے اسی طرح تم بھی گمراہ ہوئے اب اپنے کئے کی سزا چکھو۔ مطلب یہ ہے کہ بہکانے والوں کو دوگنا عذاب یوں ہوگا کہ ایک اپنے بد عملوں کا اور دوسرا لوگوں کو بہکانے کا اور بہکنے والوں کو ایک بہکاوے میں آجانے کا اور اللہ کے رسول کی نصیحت نہ سننے کا اور دوسرا بد عملوں کا۔
Ayahs 7:38–40

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

خدا حکم فرمائے گا : تم بھی ان جماعتوں کے ہمراہ جاؤ جو تم سے پہلے گزر گئی ہیں جن اور آدمیوں سے دوزخ میں۔ جب ایک جماعت داخل ہوگی تو اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جب سب کے سب جہنم میں جا پڑیں گے تو پچھلے لوگ پہلوں کی نسبت کہیں گے : ” اے رب ہمارے ! انہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا پس تو ان کو آگ کا دو چند عذاب دے “ حق تعالیٰ فرمائے گا : ” ہر ایک کو دو چند ہے لیکن تم کو معلوم نہیں ہے “

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلے لوگ پچھلوں سے کہیں گے : ” پس تم کچھ ہم سے اچھے نہ رہے سو تم چکھو عذاب بہ سبب اس کے کہ جو تم کرتے تھے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور سرکشی کی ان کے قبول کرنے میں، ان کے لئے آسمانوں کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ داخل ہو اونٹ سوئی کے سوراخ میں اور ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں مجرموں کو

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی دعا اور نیک عمل آسمان پر نہیں جاتے اور قبول نہیں ہوتے، یا جب مرتے ہیں تو ان کی ارواح کے واسطے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، اور تکبر سے ان کو نہیں مانتے، یہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ گھسے۔ یعنی اونٹ عرب کے نزدیک سب حیوانوں میں بڑا ہے اور سوئی کا ناکہ بہت چھوٹا ہوتا ہے، اس واسطے مشرک بہشت میں داخل ہونے سے قطعی محروم ہیں۔ پھر فرمایا مجرموں کی یہی سزا ہے کہ ان کی آگ کی تو شک اور آگ ہی کا لحاف ہوگا۔ ظالموں کو یہی بدلہ ملے گا۔ کیونکہ شرک بڑا ظلم ہے۔ جو اللہ کے سوا دوسروں کو شریک کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر کوئی شے بےانصافی کی دنیا میں نہیں ہوسکتی۔