7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمظہر القرآن

Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے واسطے آگ سے بچھونا ہے اور اوپر سے ان کے لئے آگ ہی سے اوڑھنا ہے اور ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں ظالموں کو

اہل جنت و دوزخ کی گفتگو ان آیتوں میں قرآن پر ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کا ذکر فرمایا، اور یہ بھی جتلایا کہ ایمان لانا اور نیک عمل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے باہر تکلیف نہیں دیتا۔ پھر فرمایا کہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش ہوگی وہ جنت میں جانے سے پہلے نکال دی جاوے گی۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان والے دوزخ سے نجات پاویں گے تو بہشت و دوزخ کے درمیان میں ایک پل پر ٹھہرائے جائیں گے اور ان ظلموں کا بدلہ جو دنیا میں ان کے ذمہ تھے ہوگا۔ اس بدلے کے بعد جب ان کے دل بغض سے پاک وصاف ہوجاویں گے تو پھر ان کو بہشت میں جانے کا حکم ہوگا اور تمام بہشتی لوگ بطور شکریہ کے کہیں گے کہ اگر خدا تعالیٰ ہم کو ہدایت نہ کرتا تو کا ہے کو ہم ہدایت پاتے۔ اور جب بہشتی لوگ جنت میں داخل ہوچکیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : ” اے جنتیو ! تمہارے واسطے یہ حکم ہے کہ تم جیتے رہو اور کبھی نہ مرو اور تندرست رہو، کبھی بیمار نہ ہو جوان بنے رہ بوڑھے نہ ہو۔ چین کرو کبھی رنجیدہ نہ ہو “ یہ آواز سب جنتیوں کے کان میں پہنچے گی۔
Ayahs 7:42–43

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے وہ لوگ رہنے والے جنت کے ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے (یعنی خفگی) نکال دیئے ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے : ” شکر ہے کہ اس خدا کا جس نے ہماری رہنمائی کی اس بہشت کی طرف اور ہم راہ نہ پاتے اگر ہم کو اللہ راہ نہ دکھاتا بیشک ہمارے پروردگار کے بھیجے ہوئے رسول آئے صداقت کے ساتھ “۔ اور (وہاں) ان کو سنادیا جائے گا کہ تم اس جنت کے وارث کئے گئے ہو ان عملوں کی وجہ سے جو تم کرتے تھے

مطلب یہ ہے جس وقت جنتی اور دوزخی داخل ہوچکیں گے اور اپنی اپنی جگہ ٹھہر جاویں گے تو جنتی لوگ دوزاخیوں کو حسرت دلانے کی غرض سے پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا جو اس نے اپنے رسولوں کی معرفت کیا تھا۔ تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا کہ تم اپنے اعمال سزا کو پہنچے یا نہیں۔ اس وقت دوزخی سخت نادم وقائل ہو کر کہیں گے کہ ہاں ہم نے بھی اللہ کا وعدہ سچا پایا۔ غرضیکہ اس گفتگو کے بعد ایک پکارنے والا پکارے گا کہ لعنت خدا کی ان ظالموں پر جو خدا کی راہ سے لوگوں کو روکتے اور سیدھے راستے پر لوگوں کو چلنے نہیں دیتے تھے اور اس میں کجی چاہتے تھے اور آخرت کا انکار کرتے اور حساب وکتاب کا کچھ خوف نہیں کرتے تھے۔
Ayahs 7:44–46

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور اہل جنت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ ہم نے تو جو کچھ ہمارے پروردگار نے ہم سے وعدہ کیا تھا اس کو حق پایا پس کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے پروردگار نے سچا وعدہ تمہیں کیا تھا کہیں گے ہاں پس پکارے گا پکارنے والا درمیان ان کے خدا کی لعنت ہے ظالموں پر

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے ان کے واسطے راہ ٹیڑھی اور وہ آخرت پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور دوزخ وجنت کے درمیان ایک پردہ ہے اور اعراف پر کچھ ایسے آدمی ہوں گے کہ جو ہر فریق کو (یعنی اہل بہشت اور اہل دوزخ کو) ان کی نشانیوں سے پہچانیں گے اور وہ آوازیں دیں گے اہل جنت کو : ” السلام علیکم “ یہ (اعراف والے ابھی) جنت میں نہیں آئے مگر وہ (آنے کی) تمنا رکھتے ہیں

اعراف کی تشریح مطلب یہ ہے کہ جنت اور دوزخ کے بیچ میں ایک دیوار پہاڑ کی طرح ہے۔ اس کا نام اعراف ہے۔ جن لوگوں کی بدیاں اور نیکیاں برابر ہوں گی، ان کا فیصلہ سب سے پیچھے قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ نہ ان کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا کہ فورا ان کو جنت کا حکم ہوجاوے، نہ بدیاں ایسی ہوں گی کہ دوزخی ٹھہر جاویں۔ اس لئے زیادہ نیکیوں والے جنت میں اور زیادہ بدیوں والے دوزخ میں جب تک حساب کتاب کے بعد جاویں گے اس وقت تک ان لوگوں کو اعراف دیوار پر کھڑا کردیا جاوے گا۔ یہ وہاں سے جنتی اور دوزخی دونوں گروہ کے لوگوں کو جنت اور دوزخ میں جاتے ہوئے دیکھیں گے اور باتیں کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل اعراف دوزخیوں کو چہرہ کی سیاہی سے پہچان کر پروردگار سے پناہ مانگیں گے کہ ہم کو ان ظالموں کے ساتھ نہ کیجئیو اور جنت والوں پر سلام کریں گے۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب پھریں گی اہل اعراف کی آنکھیں اہل دوزخ کی طرف تو کہیں گے : اے پروردگار ہمارے ! ہمیں (اس) ظالم گروہ کے ساتھ شامل نہ کرنا

اعراف کا بیان اور دوزخیوں کا ذکر اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اعراف والے بڑے بڑے مشرک اور کافروں سے کہ جن کو پہچانتے ہوں گے، جھڑکی کے طور پر کہیں گے کہ تمہارا وہ مال جو تم نے دنیا میں جمع کیا تھا یا تمہاری کثرت اور جمعیت اور تکبر آج تمہارے کچھ کام نہ آیا۔ آخر عذاب میں گرفتار ہوئے پھر ان کو حسرت دلانے کی غرض سے غریب مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے حق میں تم کہا کرتے تھے کہ ان پر خدا کی رحمت نہ ہوئی اور نہ یہ جنت میں جاویں گے۔ لو اب یہی لوگ تمہارے سامنے جنت میں جاتے ہیں۔ پھر اہل اعراف سے کہا جائے گا کہ تم بھی جنت میں داخل ہو تم کو کچھ خوف وغم نہیں ہے۔
Ayahs 7:48–50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف کچھ آدمیوں کو آوازیں دیں گے جنہیں وہ ان کے قیافہ (پیشانی) سے پہچانتے ہیں کہیں گے : ” تمہارے (آج) کچھ کام نہیں آئی جمعیت اور وہ جو تم (اللہ کے احکام سے) سرکشی کرتے تھے “

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہ وہ لوگ ہیں جن کی نسبت تم قسم کھاتے تھے کہ ان پر اللہ (اپنی) رحمت ہرگز نہ کرے گا، ان کو یوں کہا گیا کہ جنت میں جاؤ جنت میں تم پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ تم غمگین ہو گے

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے (اور ان سے التجا کریں گے) کہ ہمارے اوپر ڈال دو (جنت کا) کچھ پانی یا اس میں سے دو جو تمہیں اللہ نے روزی دی ہے (جنت والے) جواب دیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں چیزوں کو کافروں پر حرام کیا ہے

مطلب یہ ہے کہ دوزخ والے جنت والوں سے بھیک کی طرح گڑگڑا کر تھوڑے سے پانی اور کھانے کا سوال کریں گے، مگر ان کو کچھ نہ دیا جائے گا، بلکہ جنتی صاف جواب دیویں گے کہ جنت کی یہ دونوں چیزیں خدائے تعالیٰ نے تم پر حرام کردیں ہیں، اس لئے تم کو کوئی چیز نہیں مل سکتی ہے۔ کیونکہ تم نے دنیا میں نافرمانی کی اور جس طرح دنیا میں تم لوگوں نے مجھ کو بھلا دیا تھا اسی طرح آج میں بھی بھولے بسروں کی طرح تم لوگوں کو اپنی نظر رحمت سے دور ڈالتا ہوں۔
Ayahs 7:51–52

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشہ بنا لیا تھا اور دنیا کی (چند روزہ) زندگی نے ان کو فریب میں ڈال رکھا تھا ہم بھی پس آج انہیں بھول جاویں گے جیسے وہ اپنے اس دن کے پیش آنے کو بھول گئے تھے اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے ان کو ایک کتاب پہنچا دی ہے کہ جس کو ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مفصل اور مشرح کتاب ان کے پاس بھیج دی تاکہ ان مشرک اور کافروں کو کوئی عذر کرنے کا موقع نہ رہے، اور ایمان والوں کے لئے یہ کتاب سراسر ہدایت اور رحمت ہوجائے۔ اس کتاب میں جو وعدہ عذاب ہے، کیا منکر اس کے آنے کی راہ دیکھ رہے ہیں تو قیامت کے روز کافر چاہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کرے یا دنیا میں پھرجانا ہم کو نصیب ہو تو اچھے کام کریں۔ غرضیکہ اس دن اپنا نقصان ان کو معلوم ہوگا اور سب جھوٹ ان کا جو دنیا میں بناتے تھے بیکار ہوجائے گا۔ عقبیٰ کے عذاب کے وقت یہ نافرمان لوگ اپنی نافرمانی پر بہت پچھتاویں گے، اور عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی سفارشی ڈھونڈیں گے مگر سزا کے وقت مجرم کا پچھتانا نہ کچھ سود مند ہو سکتا ہے، نہ بغاوت کے جرم کا کوئی سفارشی پیدا ہو سکتا ہے۔ جس کے سبب سے نتیجہ یہی ہوگا کہ دنیا یا عقبیٰ کے عذاب کے وقت یہ لوگ اپنی اکڑائی کی باتیں تو سب بھول جاویں گے اور ان باتوں کے سبب سے بہت بڑا وبال ان کی جانوں پر پڑجاوے گا۔
Ayahs 7:53–54

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

یہ کافر لوگ کا ہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے (یعنی قیامت) جس دن اس کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی اس روز جو لوگ پہلے سے بھلا بیٹھے تھے یوں کہیں گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے رسول ہمارے پاس سچی سچی باتیں لائے تھے، پس اب کوئی ہیں ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم دنیا کی طرف واپس بھیجے جائیں تاکہ ہم لوگ جو عمل کرتے تھے اس کے خلاف کریں، بیشک انہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں، پھر عرش پر جلوہ افروز ہوا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے) چھپا دیتا ہے رات سے دن کو ایسے طور پر کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے طلب کرلیتی ہے، اور پیدا کیا سورج اور چاند اور ستاروں کو سب اس کے حکم کے تابع ہیں، اور (یاد رکھو) اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم دینا، نہایت بزرگ ہے اللہ جو سارے جہان کا پروردگار ہے

پیدائش عالم کا ذکر اور خدائے تعالیٰ کی قدرت کا بیان اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابوہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ زمین اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے روز پیدا کی، اور اتوار کو پہاڑ اور منگل کو موذی جانور اور زہریلی چیزیں اور نور بدھ کے دن، اور چوپائے جمعرات کے دن اور جمعہ کے روز حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے۔ سب سے پہلے پانی پیدا ہوا، عرش الٰہی پانی پر تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان اور مخلوقات کا پیدا کرنا منظور ہوا تو چھ روز میں اتوار سے لے کر جمعہ تک سب کچھ پیدا کیا۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة حم سجدہ (پارہ 24) میں آوے گی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان، سورج اور سورج کی گردش کے پیدا ہوجانے کے بعد چھ دن کی مقدار جس قدر ہوتی ہے، اس قدر مدت میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی بڑی ہے کہ ایک دم میں وہ جو چاہے سو کر دے لیکن اس میں بندوں کو سہولت سکھائی گئی ہے کہ وہ کسی کام میں جلدی نہ کریں۔ کیونکہ آیت میں اہل دنیا سے خطاب ہے۔ آگے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سے عرش پر ہونا اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب ہے، اسی طرح بلا مشابہت دنیا کے بادشاہوں کے اللہ تعالیٰ جل شانہ عرش پر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رات دن کو اور دن رات کو چھپا لیتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کی طلب میں سرگرم اور تیز رو ہے۔ سورج چاند اور تارے سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ اس واسطے فرمایا کہ اسی کا پیدا کیا ہوا سب ملک اور اسی کا حکم اور تصرف سب جگہ ہے، سوائے اس کے نہ کوئی مالک ہے نہ اختیار والا۔ وہ بڑی برکت والا ہے۔
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

اپنے پروردگار سے دیا کرو گڑگڑتے اور آہستہ، بیشک حد سے بڑھنے والے اس کو پسند نہیں

آداب دعا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا مانگنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ گڑگڑا کر دعا مانگو۔ دعا میں حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ دعا میں حد سے بڑھنا یہ کہ پیغمبروں کے درجہ کا سوال نہ کرے اور بڑی بات منہ سے نہ نکالے۔ جہاں تک ہو سکے دعا جامع ومختصر ہو۔ پھر فرمایا : ” خدا تعالیٰ نے کتابوں اور رسولوں کو بھیج کر زمین کو سنوار دیا تو اب اس زمین کا بگاڑنا کفر، اور شرک کی رسمیں پھیلانی اور قتل وزنا وغیرہ کا پھیلانا قطعی حرام ہے۔ پھر فرمایا کہ پکارو اس کو ڈر سے اور ثواب کا امید وار ہو کر دعا مانگنی چاہئے۔ پھر فرمایا جو اس طریقہ اور آداب سے کلوص کے ساتھ خدا سے دعا منگتے ہیں وہ نیکوکار ہیں، اور اللہ کی رحمت ان نیکوگاروں کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بندہ کی عاجزی بہت پسند اور تکبر ناپسند ہے
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کی اصلاح کے بعد اور تم اللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور امید وار رہتے ہوئے، بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ میں اپنی قدرت کو بیان فرمایا کہ جس طرح ہم دنیا میں تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوائیں چلاتے ہیں اور پھر مینہ برساتے ہیں اور ان سے ہر قسم کا سبزہ نکالتے ہیں، اسی طرح ہم قیامت کے دن مردوں کو قبروں سے نکالیں گے۔ مینہ کی مثال سے مطلب یہ ہے کہ جس نے علم وہدایت سے جو خدا تعالیٰ نے بھیجا آپ بھی فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو بھی نفع پہنچایا اور جس نے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول نہ کیا اور نہ اس سے فائدہ اٹھایا اور نہ اوروں کو نفع دیا۔
Ayahs 7:57–58

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے خوشخبری دینے والی اپنی رحمت سے پہلے (یعنی بارش کی) یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ان کو روانہ کرتے ہیں طرف کسی شہر مرے ہوئے (یعنی خشک) کے، پھر ہم ان بادلوں سے پانی برساتے ہیں پھر ہم اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت مانو

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ نکلتا ہے اللہ کے حکم سے، اور جو زمین خراب ہے اس میں سبزہ نہیں نکلتا ہے مگر ناقص دیر سے نکلنے والا، ہم یوں ہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں اس قوم کے لئے جو احسان مانیں

حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب (علیہ السلام) تک چند صاحب شریعت انبیاء کے قصے ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی تسکین وتشفی کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تاکہ آپ کو یہ اطمینان ہوجاوے کہ سرکش قوموں پر انبیاء کے جھٹلانے کا ہمیشہ سے جس طرح وبال پڑا ہے اگر اہل مکہ مکرمہ مارے گئے اور آپ نے ان کی لاشوں پر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ خدا کے وعدے کو تم نے دیکھ لیا اور بقیہ اہل مکہ مکرمہ فتح مکہ پر اسلام لے آئے۔ اگر قضا وقدر میں ان کا ایمان لانا نہ ٹھہرا ہوتا تو پچھلی امتوں کی طرح ضرور سب اہل مکہ ہلاک ہوجاتے۔ سو اس تشفی کے لئے ان قصوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے، کیونکہ ان پڑھ شخص بغیر تائید غیبی کے اس طرح سینکڑوں برس پیشتر کا تاریخی حال ممکن نہیں کہ بیان کرسکے۔ پھر تاریخی حال بھی ایسا کہ اس تاریخی حال سے آئندہ نتیجہ بھی جو بیان کیا گیا وہی واقع ہوا۔ بھلا یہ غیب دانی بغیر غیب دان حقیقی کے کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔ توحید کی تعلیم اور شرک کا مٹانا حضرت نوح (علیہ السلام) کی نبوت سے شروع ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ادریس (علیہ السلام) کے پڑپوتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی پیدائش اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات میں ایک سو چھبیس برس کا فاصلہ ہے۔ طوفان کے بعد تین سو برس تک حضرت نوح (علیہ السلام) زندہ رہے۔
Ayahs 7:59–65

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا : ” اے قوم میری ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک مجھے تمہاری نسبت عذاب کا خوف ہے۔ ایک بڑے دن کے “

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس کی قوم کے سرداروں نے کہا : ” ہم تمہیں صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں “

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

(نوح نے) کہا : ” اے قوم میری ! مجھ میں گمراہی کچھ نہیں میں تو رسول ہوں پروردگار عالم کی طرف سے

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا بھلا چاہتا ہوں، اور خدا کے ہاں کی میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت آئی تم میں سے ایک شخص کی معرفت تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر مہربانی کی جائے “

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

پس انہوں نے اس کو جھٹلایا پھر ہم نے اس کو اور جو لوگ اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائی تھیں ان کو غرق کردیا، بیشک وہ اندھی قوم تھی

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا : ” اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، تو کیا تمہیں ڈر نہیں “

حضرت ہود علیہ السلام، آندھی کے عذاب کا ذکر حضرت ہود (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضر موت سے عمان وغیرہ تک تھا اور بڑا شاداب ملک تھا۔ قوم عاد کے لوگ بڑے قوی، ساٹھ ساٹھ گز کے قد تک کے تھے۔ عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی، پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ، اور ان کے جانور ہلاک ہوئے، پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے۔ آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کا عذاب پھیلا۔ تین برس تک رہا۔ چند آدمی ان میں مکہ مکرمہ میں قحط رفع ہونے کے لئے دعا مانگنے گئے۔ مکہ مکرمہ میں ان دنوں مالقہ لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پوتے عملیق کی اولاد میں ہیں وہ رہتے تھے۔ ابھی یہ دعا مانگنے والے لوگ مکہ مکرمہ ہی میں تھے کہ یہاں آندھی کا عذاب آن کر قوم ختم ہوگئی۔ عذاب کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) یمن چلے گئے۔ پھر حضر موت میں آکر وفات پائی۔ وہیں آپ کا مدفن ہے۔ اس روز ہوا ایک ایک انگوٹھی کے سوراخ کے برابر عادت سے زیادہ کھولی گئی تھی۔
Ayahs 7:66–73

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : ” بیشک ہم تو تمہیں بیوقوفی مین دیکھتے ہیں اور البتہ ہم تم کو جھوٹھوں میں گمان کرتے ہیں “

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

اس نے کہا : ” اے قوم میری ! مجھ میں کچھ بھی بیوقوفی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کی طرف سے رسول ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

تم کو پیغام پہنچاتا ہوں اپنے پروردگار کے اور میں تمہارا امانتدار خیرخواہ ہوں “

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی، تمہیں میں سے ایک شخص کی معرفت تاکہ تمہین ڈرائے، اور یاد کرو اس نعمت کو کہ جب اس نے تم کو جانشین کیا بعد قوم نوح کے، اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے : ” کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کریں اور چھوڑ دیں اس کو جو کچھ پوجتے تھے ہمارے باپ دادا۔ پس ہم کو جس عذاب کا وعدہ دیتے ہو اس کو ہمارے پاس لاؤ اگر تم سچے ہو “

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا : ” بیشک اب خدا کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب ثابت ہوا، کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے تھے، ان کے معبود ہونے کی خدا نے کوئی سند نہیں اتاری، پس تم انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں “

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو تو نجات دی اپنی رحمت سے، اور کاٹ ڈالی ہم نے جڑ ان لوگوں کی جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے اور وہ ایمان والے نہیں تھے

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کی برادری سے صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا : ” اے میری قوم ! تم اللہ کی عبادت کرو تمہارا نہیں ہے کوئی معبود اس کے سوا، بیشک تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آئی، یہ اللہ کی اونٹنی پیدا کی ہوئی تمہارے لئے ایک نشانی ہے پس اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرا کرے اور اس کو برائی سے ہاتھ مت لگانا کہ اس وقت تم پر آپڑے گا درد دینے والا عذاب

حضرت صالح (علیہ السلام) اور عذابچنگھاڑ کا ذکر حضرت صالح (علیہ السلام) بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان سے ہیں۔ قوم عاد کی ہلاکت کے بعد اس سرزمین میں قوم صالح کے لوگ جن کو ثمود کہتے ہیں بسے۔ بڑی بڑی عمر کے لوگ اس قوم میں ہوئے۔ اینٹ مٹی کے مکان ان کی عمر بھر میں کافی نہ ہوئے تو انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے۔ نوعمری سے حضرت صالح (علیہ السلام) نبی ہوئے۔ نصیحت کرتے کرتے بڈھے (بوڑھے) ہوگئے مگر ان میں سے چند ایک ہی ایمان لائے۔ سال بھر میں ایک روز ان کی عید کا ہوتا تھا۔ اس روز انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے لئے ایک معجزہ کی اپنے اللہ سے دعا کرو اور ہم بتوں سے اسی معجزہ کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر تمہارے خدا نے معجزہ پورا کردیا تو ہم تم کو سچا نبی جان کر تم پر ایمان لے آویں گے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا : ” تم کیا معجزہ چاہتے ہو۔ جندع بن عمرو ایک شخص ثمود میں سردار تھا۔ اس نے پہاڑ میں حاملہ اونٹنی پیدا ہونے کا معجزہ چاہا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے دو رکعت نماز پڑھ کر پھر اللہ تعالیٰ سے اونٹنی کے پیدا ہونے کی دعا مانگی فورا پتھر سے اونٹنی پیدا ہوئی اور پھر اس نے بچہ دیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر جندع اور چند شخص ایمان لائے۔ ثمود کے ملک میں پانی کی کمی تھی اس واسطے حضرت صالح (علیہ السلام) نے یہ بات ٹھہرادی تھی کہ ای کی روز وہ اونٹنی پانی پیا کرے اور ایک روز لوگوں کے جانور پانی پیا کریں۔ جانور اونٹنی سے ڈر کر بھاگتے تھے اور وہ انٹنی سب پانی کنوئیں کا پی جاتی تھی، اور دودھ بھی اتنا دیتی تھی کہ ثمود کے تمام گھروں کے برتن بھر جاتے تھے لیکن جانوروں کے ڈرنے اور پانی کے زیادہ پینے سے ثمود اس انٹنی کو بری نظروں سے دیکھتے تھے۔ جن کے پاس جانور تھے وہ تو اس اونٹنی کی جان کے دمن ہوگئے۔ آخر نو آدمیوں کے گروہ نے اتفاق کر کے ایک روز اس اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔ قدار بن سالف ایک شخص ثمود میں بڑا شریر تھا، اس نے اونٹنی کے تیر مارا اور اس اونٹنی کی ہلاکت کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) نے ثمود سے فرمایا کہ اب تین یوم میں تم پر عذاب آوے گا۔ شہر لے لوگ عذر کرنے لگے کہ ان نو آدمیوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا ہے ہم بےقصور ہیں۔ آپ نے فرمایا : ” دیکھو اس کے بچے کو ڈونڈو اگر وہ بچہ مل جاوے گا تو شاید عذاب ٹل جاوے گا “۔ وہ بچہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور پتھر میں غائب ہوگیا۔ آخر ایک چنگھاڑ کی آواز آسمان سے آئی اور کلیجہ پھٹ کر سب ہلاک ہوگئے۔ ایک شخص ابو غال حرم میں ہونے کے سبب سے کچھ دنوں بچ گیا جب حرم سے نکلا تو وہ بھی ہلاک ہوگیا۔
Ayahs 7:74–80

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور تم وہ نعمت یاد کرو جبکہ اللہ نے تم کو عاد کے بعد جانشین کیا اور تم کو جگہ دی زمین میں کہ اس کی نرم زمین میں محل بناتے ہو، اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو، پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

کہا اس کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے سرکشی کی تھی ان کمزور لوگوں سے کہ جو ان میں سے ایمان لائے تھے کیا : تم یقین رکھتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں ایمان والوں نے کہا کہ بیشک ہم تو اس پر بھی پورا یقین رکھتے ہیں جو کچھ وہ دے کر بھیجے گئے ہیں

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

سرکشوں نے کہا کہ : ” جس پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں “

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پس انٹنی کو مار ڈالا اور سرکشی کی اپنے پروردگار کے حکم سے اور کہنے لگے : ” اے صالح ! جس کا تم ہم کو وعدہ دیتے ہو اس کو لاؤ اگر تم رسول ہو “

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پس آپکڑا ان کو زلزلے نے تو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

تو اس وقت صالح نے ان سے منہ پھرا اور کہا : ” اے میری قوم ! بیشک میں نے تم کو اپنے پروردگار کا پیغام پہنچایا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم نصیحت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتے “

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ” تم بےحائی کا کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا

قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے، شہر بابل سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ پھر سدوم میں رہنے کا اور اس شہر اور اس کے گردونواح کے شہر والوں کی ہدایت کا حکم ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں رہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز تھیں۔ غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی۔ شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے جو لوگ آویں ان کے ساتھ جتنے نوعمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی فاوے تو غیر لوگ تمہاری بستیوں میں ہرگز نہ آویں گے۔ شیطان کے بہانے سے اور خود خوبصورت لڑکا بن کر ان کو اغلام سکھانے سے انہوں نے ویسا ہی کیا اور پھر ان میں وہ عادت جم گئی اور اس بدفعلی کا عام رواج ہوگیا جو اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا کہ تم شہوت میں آکر عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر دوڑتے ہو تم تو بڑے ہی بیہودہ اور بدکار قوم ہو۔ اس قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو اپنے گاؤں سے نکال دو کیونکہ یہ لوگ پاکیزگی ڈھوڈتے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے عاجز آگئے اور بجائے توبہ کے ان کی سرکشی بڑھ گئی تو تین فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں دوپہر کے وقت جب کہ وہ اپنے خیمے کے سامنے بیٹھے تھے نظر آئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی مہمان نوازی کی تیاری کی۔ روٹیاں اور ایک بچھڑا لائے لیکن انہوں نے نہ کھایا۔ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ڈر گئے کہ شاید دشمن ہوں کیونکہ دشمن اس عہد میں مخالف کا کھانا نہیں کھاتے تھے۔ تب انہوں نے کہا کہ خوف نہ کرو ہم خدا کے فرشتے ہیں سدوم کو غارت کرنے آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ وہاں تو حضرت لوط (علیہ السلام) اور نیک لوگ بھی ہوں گے انہوں نے کہا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو محفوظ رکھیں گے اور وہاں پانچ شخص بھی نیک نہیں ورنہ غارت نہ کرتے۔ پھر وہاں سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور رات کو ان کے ہاں رہے، لیکن ان کی گھر والی نے جو کافرہ تھی جا کر خبر کردی کہ ہمارے ہاں بہت خوبصورت لڑکے مہمان آئے ہیں۔ وہ بدبخت سنتے ہی حضرت لوط (علیہ السلام) پر چڑھ آئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے منت کی اور کہا کہ اگر تمہیں میری (قوم کی) بیٹیاں درکار ہیں تو ان سے نکاح کرلو مگر مہمانوں کو بےعزت نہ کرو۔ لیکن کہا نہ مانا اور کو اڑ توڑنے لگے، تو فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اندر کھینچ لیا اور پر جھاڑے جس سے وہ لوگ اندھتے ہوگئے۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) دے کہا کہ علی الصبح یہ شہر غارت ہوگا تم اپنے کنبے کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ۔ سو وہ چلے مگر ان کی بیوی جو کافرہ تھی وہ پیچھے رہ گئی اور وہ نمک کا کھنبا ہوگئی۔ آخر صبح کو فرشتوں نے شہر کو الٹادیا، پھر آگ اور پتھر برسائے جس سے سب ہلاک ہوگئے۔