7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 7:190–191

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

پھر جب خدا نے انہیں تندرست فرزند عطا فرمایا تو مقرر کرنے لگے شریک اس میں جو کچھ کہ اللہ نے انہیں دیا تھا پس ان کے شرک سے اللہ پاک ہے

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسے کو شریک ٹھراتے ہیں جو نہ بناسکیں کسی چیز کو اور وہ خود ہی بنائے جاتے ہیں

مشرکین کو تنبیہ اور صلہ رحمی کا ذکر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا تم ایسی چیزوں کو معبود ٹھراتے ہو جن میں کسی شے کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، اور عبادت تو خالق کارساز کو زیبا ہے مخلوق کسی طرح عبادت کی مستحق نہیں ہے۔ ان بتوں سے تو ہزات درجہ تم بہتر ہو کہ تم میں چلنے پھرنے کی طاقت ہے، کھاتے پیتے ہو، بتوں میں کیا قدرت ہے۔ اگر کوئی آکر ان کے ٹکڑے کرڈالے تو یہ کیا اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں ؟ پھر جب اپنا اختیار نہیں ہے اور اپنے نفع و نقصان سے یہ بالکل نے خبر ہیں تو تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں اور نہ ان میں سماعت ہے نہ بصارت۔ تم انسان اشرف المخلوقات ہو اور یہ بت پتھر کی مورتیں ہیں۔ اگر تم دعوے میں سچے ہو تو ان کو پکار کر دیکھو، نہ ان کے پیر ہیں جو وہ چل سکیں نہ پکڑ سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ان مشرکوں سے کہو کہ تم اپنے معبودوں کی دھمکیاں دے کر کیا ڈراتے ہو۔ جہاں تک ہوسکے کمی نہ کرو اپنے سارے معبودوں کو پکار کر مکر کرلو، اور جو کچھ جی میں آئے کر گزرو مجھے اس سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ میرا ولی اور حمایتی خدائے واحدہ لا شریک ہے۔ جس نے اپنے رسولوں پر کتابیں اتاری ہیں وہ میری حمایت کرے گا۔ اور نیک لوگوں کی بھی وہی حمایت کرتا ہے۔ تمہارے معبود میں خاک کسی قسم کی قدرت نہیں ہے، نہ ان کو اپنی ذات کی بھلائی کی قدرت ہے نہ تمہیں کچھ ان سے مدد مل سکتی ہے، نہ سن سکتے ہیں۔ ظاہر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ جو شخص ان تصویروں کی طرف نظر کرتا ہے اسے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بت ادھر ہی نظر کئے ہوئے ہیں، مگر در حقیقت ان کی آنکھ تو ہے نہیں جو وہ کچھ دیکھ سکیں۔ اہل مغازی نے یہاں ایک قصہ بیان کیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ میں ہجرت کرکے آئے تو دو نوجوان معاذ بن عمرو الجموح اور معاذ بن جبل آپ کے پاس آکر مسلمان ہوگئے۔ یہ دونوں راتوں کو جاکر بتوں کو توڑتے تھے تاکہ ان کی قوم کو عبرت ہو۔ ایک اور شخص عمرو بن الجموح اپنی قوم میں سردار شمار کیا جاتا تھا اس کے ہاں ایک بت تھا جس کو وہ روز خوشبو مل کر عبادت کرتا تھا۔ یہ دونوں رات کو جاکر اس بت کو اوندھا کردیتے اور نجاست مل دیتے تھے۔ عمرو بن الجموح صبح آکر دیکھتا تھا اور پھر دھو دھلا کر اس کو آخوشبو ملتا تھا۔ ایک روز اس نے اس بت کے پاس تلوار رکھ دی تاکہ جو شخص اس بت کو تکلیف دینے آتا ہے اس سے بدل لے لیوے، مگر اس بت سے کیا ہوسکتا تھا۔ ایک روز دونوں نے اس بت کو کھینچ کر ایک مردار کتے کے پاس ڈال دیا۔ پھر ایک روز پیر میں رسی باندھ کر اس کو کنوئیں میں لٹکا دیا۔ آخر عمر بن الجموح کے دل میں خیال گزرا کہ یہ دین محض ڈھکو سلا ہے، یہ بت کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور توبہ کرکے مسلمان ہوگیا اور ایسا پکا مسلمان ہوا کہ شہادت کا درجہ پایا۔ جنگ احد میں شہید ہوگیا۔
Ayahs 7:192–199

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور وہ اپنے پوجنے والوں کو کچھ مدد نہیں دے سکتے اور نہ وہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاؤ تو وہ تمہارے پیچھے نہ آویں تو تم کو یکساں ہے، چاہے تم بلاؤ ان کو یا خاموش رہو

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

بیشک وہ جن کو تم پوجتے ہو سوائے اللہ کے (وہ بھی تو) تم ہی جیسے بندے ہیں تو انہیں پکارو پس چاہئے کہ وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان (پتھر کے بتوں) کے پاؤں ہیں کہ جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں کہ جس سے پکڑیں یا کیا ان کی آنکھیں ہیں کہ جن سے دیکھتے ہیں یا کیا ان کے کان ہیں جس سے وہ سنتے ہیں، (اے محبوب ! ) تم فرماؤ کہ اپنے سب شریکوں کو بلاؤ، پھر سب مل کر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو اور مجھے مہلت بھی نہ دو

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

بیشک میرا دوست تو وہ اللہ ہے کہ جس نے یہ کتاب (قرآن) نازل فرمائی اور وہی نیک بختوں کو دوست رکھتا ہے

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تو تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم (بتوں کو) سیدھی راہ کی طرف بلاؤ تو سنیں گے بھی نہیں، اور ان (بتوں) کو تم دیکھو گویا وہ تمہاری طرف تک رہے ہیں اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے محبوب ! ) معاف کرنا اختیار کرو اور حکم کرو اچھے کاموں کے لئے اور جاہلوں سے کنارہ کرو

اس آیت میں صلہ رحمی اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے اور غصہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے سے آدمی کا غصہ اتر جاتا ہے۔
Ayahs 7:200–201

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور (اے سننے والے ! ) اگر شیطان تجھے کوئی سوسوہ ڈالے تو اللہ سے پناہ مانگ، بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو پرہیزگاری کرتے ہیں جب کبھی کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ ہوشیار ہوجاتے ہیں پھر وہ اسی وقت (راہ راست) دیکھنے لگتے ہیں

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ متقی ہیں، جب وہ شیطان کے وسوسہ میں پڑجاتے ہیں اور اس کے ورغلانے سے کوئی لغزش ان سے ہوجاتی ہے، تو وہ فورا خدا کے عذاب کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرلیتے ہیں۔ یہ لوگ صاحب بصیرت ہیں، ان کے دلوں کے اندر آنکھیں ہیں جن سے یہ خدا کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوسری قسم کے آدمیوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ کافر فاجر ہیں وہ اخوان الشیاطین ہیں۔ شیطان ان کو ہمیشہ گمراہی کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور یہ بھی اس کے ساتھ کھنچے جاتے ہیں۔ نہ شیطان ان کے بہکانے میں کمی کرتا ہے نہ یہ لوگ اس کی پیروی میں کمی کرتے ہیں۔
Ayahs 7:202–203

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور وہ جو شیطان کے بھائی) کافر) ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر ہرگز کمی نہیں کرتے

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں :'' تم اپنے دل سے کیوں نہیں بنالاتے '' تم فرماؤ :'' میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف پروردگار سے وحی ہوتی ہے '' یہ قرآن نشانیاں ہیں تمہارے پروردگات کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لئے

کفار مکہ کو تنبیہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کے معجزوں کی خواہش کرتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی کہ اے رسول اللہ ﷺ کے ! جب تم ان کو ایسی نشانی دکھاتے ہو جو ان کی مرضی کے موافق ہو تو کہتے ہیں کہ تم نے اپنے جی سے یہ معجزہ گھڑلیا ہے مثلا شق القمر جیسے معجزہ کو جادو کا اثر بتلایا۔ اس لئے تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں اپنے جی سے کوئی کام نہیں کرسکتا میں خدا کا فرمانبردار ہوں۔ خدا جو وحی کے ذریعہ سے مجھ کو بتلادیتا ہے میں وہی کرتا ہوں۔ اور قرآن سے بڑھ کر کیا معجزہ ہوسکتا ہے اگر تم ایمان لانا چاہو تو یہی کا فی ہے، اور یہ قرآن پاک مومنوں کے واسطے بصیرت و ہدایت اور رحمت ہے اہل ایمان کے تین درجے ہیں : (1) اول عین الیقین وہ ہے جس نے قرآن کی توحید اور خبیوں کو خود آنکھ سے دیکھ لیا۔ (2) دوسرے قرآن پاک کے مطلب کو اچھی طرح سمجھ لیا اس کے لئے قرآن کریم ہدایت ہے۔ یہ لوگ علم الیقین ہیں۔ (3) تیسرے وہ لوگ جو نرے مسلمان ہیں جو باتیں ان کو بتلادی گئیں ہیں ان پر ان کا ایمان ہے۔ یہ لوگ حق الیقین ہیں۔ ان کے لئے قرآن پاک رحمت ہے۔
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگاکر سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جاوے

نماز میں خاموشی کا حکم مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآن مجید پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارج نماز، اس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ یہ آیت مقتدی کے قرآن پاک کے سننے اور خاموش رہنے کے بارے میں ہے اور خطبہ بلکہ ہر وعظ میں چپکے رہنا چاہئے۔
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور یاد کرو اپنے پروردگار کو عاجزی اور خوف کے ساتھ اور بےآواز نکلے زبان سے صبح اور شام کے وقت اور غافلوں میں نہ ہونا

ذکر الہی کی فضیلت اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ذکر قلبی کیا کرے، یعنی اپنے دل میں خلوص کے ساتھ گڑ گڑا کر یاد الہی کیا کرے نہ اتنا آہستہ ہو کہ برابر والا نہ سن سکے۔ پھر فرمایا شام۔ عصر، مغرب کے درمیان کا وقت ہے کیونکہ نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور اسی طرح نماز عصر کے بعد غروب تک نماز ممنوع ہے۔ اس لئے ان وقتوں میں ذکر الہی مستحب ہے۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

بیشک وہ جو تمہارے پروردگار کے پاس ہیں اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں

مقررہ وقت سجدہ کا حکم شان نزول : مطلب یہ ہے کفار مکہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے سرکشی کرتے اور کہتے تھے :'' جس کو محمد ﷺ سجدہ کرتے ہیں کیا ہم بھی اسی کو سجدہ کرنے لگیں ''۔ اس آیت کے پڑھنے اور سننے والوں دونوں پر سجدہ لازم آتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے انسان کو اس بات کی ترغیب دلائی کہ دیکھو خدا کے فرشتے ہیں وہ تکبر نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی ہر وقت عبادت کرتے رہتے ہیں۔ سبحان اللہ ربنا، سبحان اللہ ربنا کہتے رہتے ہیں اور اسی کو سجدہ بھی کیا کرتے ہیں۔ اب تمہیں بھی مناسب ہے کہ سجدہ کرو اور ہر وقت خدا کا ذکر کرو۔