7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 7:151–152

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کی :'' اے پروردگار مجھے اور میرے بھائی اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل کرلے اور تو تمام مہربانی کرنے والوں سے زیادہ مہربان ہے ''

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا عنقریب اس گروہ پر غضب ان کے پروردگار کی طرف سے پہنچے گا اور دنیا کی زندگی میں رسوائی (ہوگی) اور افترا پردازوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

ان آیتوں میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کا حل بیان فرمایا ہے جنہوں نے بچھڑا بناکر اس کو پوجا تھا اور ان پر خدا کا غضب نازل ہوا، وہ یہ کہ ان لوگوں نے آپس میں ایک کو ایک نے قتل کیا اور دنیا میں بہت ذلیل ہوئے، ملک سے نکالے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :'' جس طرح ان لوگوں پر غضب نازل ہوا اور ذلت نصیب ہوئی اسی طرح ان جھٹلانے والوں کی بھی یہی گت ہم کرتے ہیں ''۔ اس کے بعد اللہ پاک نے یہ بھی فرمادیا کہ جن لوگوں نے خواہ کسی قسم کا گناہ کیا ہو چھوٹا یا بڑا یہاں تک کہ شرک اور کفر بھی اگر ایسے لوگوں نے گناہ کے بعد سچے دل سے توبہ کی تو اللہ پاک بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے، اس کی توبہ قبول کرے گا۔
Ayahs 7:153–154

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برے کام کرکے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمال لے آئے تو توبہ کے بعد تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ غصہ سے ٹھنڈا ہوا تو اپنی تختیوں کو اٹھالیا اور ان کی تحریر میں خدا سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

جب حضرت موسیٰ کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو الواح توریت جو غصہ کی حالت میں زمین پر پھینک دی تھیں وہ پھر اٹھالیں۔ تو اس میں ہدایت اوت خدا کی رحمتیں پائیں جن سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے کہا اے رب میں اس لوح میں دیکھتا ہوں کہ ایک امت ساری امتوں سے بہتر وہ تیرے حکم کو بجالاوے گی اور جن باتوں سے تو نے منع کیا اس سے وہ باز رہے گی۔ اے اللہ ! وہ امت میری ہی امت بنا۔ فرمایا کہ وہ امت امت محمدیہ ہے۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے ستر مرد اپنی قوم میں سے ہمارے وعدے پر لانے کے لئے منتخب کئے پھر جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ نے کہا :'' اے پروردگار میرے ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی مجھ کو اور ان لوگوں کو ہلاک کردیتا، کیا تو ہمیں ہلاک فرمائے گا اس پر جو (برا کام) ہماری قوم میں سے چند احمقوں نے کیا '' یہ تو تیری صرف آزمائش ہے پس اس آزمائش سے تو تو گمراہ کرے جس کو چاہے، اور تو راہ دکھائے جس کو چاہے تو ہی ہمارا مولیٰ ہے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر مہربانی فرما اور تو سب بخشنے والوں سے بہتر ہے

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ ستر آدمی اپنی قوم میں سے چن کر میرے پاس لے آؤ اور گئو سالہ پوجنے کی عذر خواہی کرو ''۔ حجرت موسیٰ (علیہ السلام) ستر آدمی بوڑھے لے کر وقت مقررہ پر حاضر ہوئے، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں تو ان ستر آدمیوں نے حجرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تو ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ جل شانہ کو صاف صاف نہ دیکھیں۔ اتنا کہنا تھا کہ ایک زلزلہ آیا اور بجلی چمکی اور ان لوگوں پر گری یہ ستر آدمی ایک دم ہلاک ہوگئے جس کا ذکر سورة بقرہ میں صاف آچکا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس حال میں دیکھنے سے بہت قلق ہوا۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ پاک سے دعا کی :'' تو رحم کر ہمارے حال پر، اور ہمیں بخش دے تو ہی بڑا بخشنے والا ہے '' تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان لوگوں کا وہ گناہ معاف فرما کر پھر ان لوگوں کو زندہ کردیا۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے مقدر میں اس دنیا میں (بھی) بھلائی لکھ دے اور آخرت میں (بھی) بیشک ہم تیری طرف رجوع ہوئے۔ فرمایا :'' خدا نے میں اپنا عذاب تو اسی پر ڈالتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو گھرے ہوئے ہے، پس میں لکھوں گا اپنی رحمت کامل کو واسطے ان لوگوں کے جو پرہیزگاری کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دوسری دعا مانگی تھی جو حصول مقصفد کے لئے اور دنیا میں نیک عملوں کی توفیق اور رزق میں وسعت رہے اور آخرت میں بہشت عطاکر۔ ہم نے توبہ کی اور تیری طرف رجوع ہوتے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں ہر چیز میں میرا حکم جاری ہے۔ میں جس پر چاہتا ہوں عذاب بھیجتا ہوں اور جس پر چاہتا ہوں رحمت نازل کرتا ہوں۔ میرا عذاب اور رحمت کسی خاص فرقہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، رحمت خاص اسی کے حصہ میں ہے جو خدا سے ڈرتا ہے اور اپنے مال میں سے خدا کی راہ پر دیتا ہے، اور اپنے نفس کو شرک اور کفر سے بچاتا ہے اور میری آیتوں اور ساری کتابوں پر ایمان لاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غصہ پر غالب ہے۔ کیونکہ ایک حصہ رحمت کا دنیا میں اتارا ہے اور ننانوے حصے اپنے پاس رکھے ہیں۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

اور لکھوں گا رحمت آخرت کی واسطے ان لوگوں کے جو تابع ہوتے ہیں اس نبی کے جو امی ہے کہ وہ پاتے ہیں نعت اس کی لکھی ہوئی اپنے پاس توریت اور انجیل میں وہ انہیں حکم فرماتا ہے اچھے کام کا اور منع فرماتا ہے ان کو برے کام سے اور پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال فرماتا ہے اور گندی چیزیں ان پر حرام فرماتا ہے اور ان سے ان کا بھاری بوجھ اور وہ مشقتیں جو ان پر تھیں دور کرتا ہے پس جو لوگ کہ (نبی رحمت ﷺ) پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

آنحضرت ﷺ کو تمام رسولوں پر فضیلت شان نزول : جب قوم موسیٰ نے اس سے پہلے کی آیت سنی تو رحمت الہی کے آرزو مند ہوکر بولے کہ ہم بھی اللہ کی آیتوں یعنی توریت پر یقین رکھتے ہیں، اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ لہذا ہم بھی اللہ کی وسیع رحمت میں شامل ہیں۔ اس پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی جس میں رحمت کامل کو امت محمدیہ کے ساتھ خاص فرمایا گیا۔ امتیازات مصطفےٰ کریم علیہ التحیۃ والتسلیم اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو پچھلی کتابوں میں '' امی '' لقب سے یاد فرمایا ہے اس لئے کہ آپ ان پڑھ تھے یا اس وجہ سے کہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان پڑھ ہونا حضور کے لئے بڑا فخر ہے کہ نہ پڑھے نہ لکھے اور وحی کے ذریعے سے بڑے بڑے پڑھے لکھوں کو دنیا اور دین کے انتظام سکھادیئے۔ آنحضرت ﷺ نے قوم یہود کے وہ بھاری بوجھ اور سخت احکام کے پھندے جو ان پر پڑے ہوئے تھے سب اتاردیئے کہ نماز روزہ و طہارت، فدیہ وغیرہ تمام احکام موسوی شریعت میں سخت تھے، سب کو ہلکا کردیا۔ اور کھانے کی چیزوں میں جو کچھ تنگی تھی، اس کو آسانی سے بدل دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کے حق میں دنیا اور آخرت کی نیکی جو مانگی تھی اس سے مراد یہ تھی کہ دنیا اور آخرت میں سب امتوں پر مقدم رہیں۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عذاب اور رحمت کسی فرقے پر مخصوص نہیں ہے۔ عذاب تو اسی پر ہے جس کو عذاب دینا چاہوں، اور رحمت سب کو شامل ہے لیکن وہ رحمت خاص جس کی حرص ہر ایک کو ہے خاص ان کے نصیب میں لکھی ہے جو اللہ کی ساری باتوں پر یقین کریں گے۔ یعنی آخری امت امت محمدیہ پر جو سب کتابوں پر ایمان لاویں گے اور ہمارے نبی امی محمد ﷺ کے نائب بنیں گے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے جو لوگ نور یعنی قرآن شریف پر ایمان لائے وہ اس نعمت کو پہنچے اور ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا لگی۔
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے محبوب ! ) تم فرماؤ :'' اے لوگو ! بیشک میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں کہ جس کی آسمان اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جو کہ خدا کی اور اس کے سب کلام کی تصدیق کرتا ہے، اور (ان رسول کے) تابع ہو تم راہ پاؤ

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں سے صاف صاف کہ دو کہ میں تم سب لوگوں کی طرف کیا عجم اور کیا عرب، مغرب سے مشرق تک جنوب سے شمال تک سارے جہان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بناکر بھیجا گیا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزیں مجھ کو دی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور یہ بات میں کچھ فخر کی راہ سے نہیں کہتا ہوں۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ہے کہ جو (دین) حق کی راہ بتاتا ہے اور اسی کے موافق انصاف کرتا ہے

یہ آیت ان لوگوں کی شان میں اتری ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے تھے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی الہ عنہ وغیرہ۔ انہی کو فرمایا کہ موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ہے جو حق بات کا پیرو اور صاحب انصاف ہے۔ یعنی نبی آخر الزماں کے اوصاف اور توریت کے مسائل کے ظاہر کرنے میں ناحق پسندی اور ناانصافی نہیں کرتے۔
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ خاندان میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کردی اور (ایک انعام یہ کیا کہ) ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی جب اس سے اس کی قوم نے پانی مانگا کہ اپنا عصا اس پتھر پر مارو پس فوراً اس پتھر سے بارہ چشمے جاری ہوگئے پھر ہر ایک گروہ اپنا گھاٹ (یعنی پانی پینے کی جگہ) پہچان گیا اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا اور ہم نے ان پر من اور سلویٰ اتارا (کہا ہم نے): تم کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں " (باوجود ان احسانات کے وہ ہماری نافرمانی کرتے رہے) اور انہوں نے تو ہمارا نقصان نہیں کیا لیکن پنی ہی جانوں کا نقصان کرتے تھے

اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا انجام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بارہ گروہ تھی ایک ہی دادا کی اولاد۔ اصل میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا انہیں کی اولاد میں یہ لوگ تھے اس لیے ان کو بنی اسرائیل کہتے تھے اور یہ لوگ علیحدہ علیحدہ گروہ میں کثیر التعداد آدمی رہ گئے تھے۔ اس لیے ان کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بارہ فرقے الگ الگ کردیے گئے۔ سورة بقرہ اور مائدہ میں گزر چکا ہے کہ کنعانی قوم کے ساتھ لڑنے سے جب بنی اسرائیل نے انکار کیا تو اس میں شرارت کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے چالیس برس تک بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں قید کیا۔ وہاں دھوپ کی شدت ہوئی، پانی کو ترس گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی آئی کہ اپنا عصا پتھر پر مارو اس کے مارنے سے بارہ چشمے جاری ہوگئے۔ اور بنی اسرائیل کے ہر ایک گروہ نے اپنا اپنا الگ گھاٹ بنا لیا اور پانی پینے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بادل کو حکم دیا ان کے سروں پر سایہ کہ دھوپ سے امن میں ہوگئے۔ پھر خدائے تعالیٰ نے من وسلوی اتار کر ان کو کھانے کا حکم دیا اس پر انہوں نے قناعت نہ کی۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے کسی پر ظلم نہ کیا ان لوگوں نے آپ اپنی جان پر ظلم کیا ہے میری حکم عدولی کی اور اس کھانے پر صبر نہیں کیا اور چیزوں کی ہوس دل میں کرنے لگے۔ پھر فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ اس شہر بیت المقدس میں داخل ہوجاؤ اور جہاں چاہو وہاں کھاؤ پیو مگر یہ بھی کہ دیا تھا کہ جب دروازہ شہر میں داخل ہونے لگو تو شکریہ کے سجدہ کے طور پر جھک کر سر کے بدل اور حطۃ کہتے ہوئے داخل ہونا۔ مگر ان لوگوں نے میرا کہنا نہ مانا۔ جب شہر میں داخل ہوئے تو حطۃ کی جگہ حنطۃ لی شعرۃ کہا اور سجدہ کے عوض ایڑیاں رگڑتے ہوئے چوتڑوں کے بل داخل ہوئے میں ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر میرے حکم کے خلاف کیا تو میں نے آسمان سے وہاں ان پر بھیج دی جس سے دوپہر کے عرصہ میں ستر ہزار کے قریب آدمی ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 7:161–163

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں رہو اور کھاؤ اس میں جہاں سے تمہارا جی چاہے اور کہو کہ حطۃ (یعنی گناہ اترے) اور (شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے نیکی کرنے والوں کو عنقریب ہم زیادہ (انعام) عطا فرمائیں گے

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

پس ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا پھر ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بسبب اس کے کہ وہ ظلم کرتے تھے

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور (اے محبوب ! ﷺ) ان یہود سے اس بستی کا حال پوچھو جو دریا کے قریب آباد تھی، جب وہ حد سے گزر جاتے تھے ہفتہ کے دن جب کہ وہ ہفتہ کی تعظیم میں مشغول ہوتے تھے تو (ان کے دریا) کی مچھلیاں پر تیرتی ان کے سامنے آتی اور ان کے سامنے نہ آتی تھیں جس دن وہ ہفتہ کی تعظیم نہیں کرتے تھے ہم اسی طرح ان کی آزمائش کرتے تھے۔ ان کی بےحکمی کے سبب سے

یہ قصہ حضرت داود (علیہ السلام) کے وقت کا ہے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ یہود سے آپ ہفتہ کے دن شکار کھیلنے والوں کا حال دریافت کریں اور ان لوگوں پر بسبب مخالفت حکم الہی کے عذاب نازل ہوا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اسی طرح عذاب آوے۔ تم میری صفت کو جو کتابوں میں لکھی ہوئی ہے چھپاتے ہو۔ وہ لوگ بحر قلزم کے کنارے رہتے تھے۔ ان کو ہفتہ کے روز شکار کرنے کو منع کیا گیا تھا مگر حیلہ سے مچھلیاں پکڑنے لگے۔ پھر بھی وہ ہاتھ نہیں آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عدول حکمی کا یہ مزہ چکھایا کہ ان کو بندر بنادیا۔
Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب کہا ایک گروہ نے اس بستی والوں میں سے کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والا ہے۔ یا سخت عذاب انہیں دینے والا ہے۔ بولے تمہارے رب کے سامنے عذر کرنے کے لئے اور شاید کہ وہ ڈر بھی جائیں

تین فرقوں کا ذکر اور یہود کی بربادی اور بندروں کی صورت میں بدلنا اللہ تعالیٰ نے ان صحاب سبت کا حال بیان فرمایا کہ جو اس قریہ میں تین فرقے ہوگئے : (1) ایک تو ہفتہ کے روز شکار کھیلتا۔ (2) دوسرا منع کرتا۔ (3) تیسرا نہ منع کرتا نہ کھیلتا۔ ہاں منع کرنے والوں کو یہ کہتا کہ تم کیوں منع کرتے ہو ان کو اپنے حال پر رہنے دو ۔ عنقریب عذاب ان پر اللہ تعالیٰ بھیجنے والا ہے، ہلاک ہونے سے کبھی یہ بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا کہ جو فرقہ منع کرتا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا، اور جو لوگ ہفتہ کے دن شکار کرنے سے باز نہیں آتے تھے، ان پر سخت عذاب نازل کیا گیا۔ ایک روز رات کو اپنے گھروں میں سوئے تھے کہ یکایک سب کے سب بندر ہوگئے اور تین روز تک سر پٹک پٹک کر مرگئے۔ تیسرے فرقے کو اللہ تعالیٰ نے ضعیف الایماندار ٹھراکر اگر عذاب سے بچالیا ہو تو اس کی رحمت سے کچھ دور نہیں۔
Ayahs 7:165–167

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پس جب وہ بھول گئے جو نصیحت انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ہم نے بڑے عذاب میں پکڑا اس سبب سے کہ نافرمانی کرتے تھے

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان کو حکم دیا کہ پھٹکارے ہوئے بندر ہوجاؤ

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (یاد کرو) کہ جب تمہارے پروردگار آگاہ کردیا کہ ان یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہوں گا جو ان کو سخت تکلیف پہنچائے، بیشک تمہارا پروردگار جلد سزا دینے والا ہے۔ اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

یہ آیت یہود کی شان میں اتری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے بیان فرمایا کہ ہم نے یہود سے یہ بات پکی کرلی تھی کہ اگر توریت کے احکام توڑدوگے تو یاد رکھو قیامت تک تمہیں عزت نصیب نہیں ہوگی، ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ذلیل و خوار رہو گے۔ ایسی قوم کو تم پر مسلط کردیں گے جو طرح طرح کے برے عذاب تم پر کیا کرے گی۔ یہ بات خدائے تعالیٰ کی پوری ہو کر رہی۔ ان لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف کیا اور طرح طرح کے حیلے بہانے نکال کر مجرم ہوتے رہے۔ کہا جاتا ہے پہلے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ان پر اخراج لگایا پھر اوروں نے جزیہ اور خراج لیا۔ پھر مسلمانوں کے زیر حکومت رہ کر برابر جزیہ اور خراج دیتے رہے جو کہ قیامت تک ایسے ہی ذلیل ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ خدا بہت جلد عذاب کرنے والا ہے اور بہت بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں بنی اسرائیل کے متفرق گروہ گروہ کردئیے ان میں بعض اچھے ہیں اور بعض اور طرح کے ہیں (یعنی بدکار) اور ہم نے ان کو نعمتوں سے اور مشقتوں سے آزمایا تاکہ پلٹیں سیدھی راہ کی طرف

یہود کی سلطنت جب تباہ ہوئی تو آپس میں پھوٹ پڑگئی کہ مختلف شہروں میں جا بسے اور مختلف مذہب اختیار کرلیے۔ اسی بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ہم نے یہود کو متفرق گروہ بنا دیا اور ایک دوسرے سے جدا کردیا۔ سلطنت ان کے ہاتھ ساے نکل گئی یہ لوگ ہر سرزمین میں پریشان ہوگئے۔ پھر فرمایا کہ بعض ان میں صالح اور نیک بخت ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے اپنے دین پر قائم رہے کوئی تبدیلی اور تحریف کتاب آسمانی میں انہوں نے نہیں کی اور مرتے دم تک خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے رہے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے۔ اور بعضے یہود ایسے بدکردار تھے جنہوں نے احکام الہی کو بدل ڈالا اور اپنے دین سے پھرگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر طرح سے جانچا کبھی تندرستی اور فارغ البالی دی، کبھی تکلیف و نج ان پر نازل کیا، کبھی عذاب بھیج کر آزمایا کہ شاید اپنے فعل پر نادم ہوکر حق کی طرف رجوع کریں، لیکن کبھی کچھ نہ ہوا۔ اور جو اولاد ہوئی وہ بھی ایسی نا خلف ہوئی کہ توراۃ کے وارث بن کر دنیا کی طمع کرنے لگے۔ رشوت لینے لے پھر یہ امید رکھی کہ اللہ معاف کرے گا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا ان سے توراۃ میں یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ حق کے سوا اور کچھ نہ کہنا، حق کو کبھی نہ چھپانا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آخرت تو اسی کے حصہ میں ہے جو خدا سے ڈرتا ہو اور وہاں جو کچھ بہتری ہونے والی ہے انہیں متقیوں کو ہوگی یہ لوگ تو سمجھ کے اندھے کچھ بھی عقل سے کام نہیں لیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو کتاب کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں کہ اس کے ہر ایک امر و نہی کو بجا لاتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ ہم صلاحیت اور نیکی پر قائم رہنے والوں کا بدلہ اور اجر ضائع نہیں کرتے
Ayahs 7:169–171

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ ناخلف آئے جو توریت کے وارث ہوئے اس دنیا کا مال و متاع لیتے ہیں جو ناقص ہے اور کہتے ہیں کہ ضرور ہماری بخشش ہوگی اور اگر ایسا ہی اور مال و متاع ان کے پاس آوے تو اسے بھی لے لیں کیا نہیں لیا گیا ہے ان سے وہ اقرار کہ جو توریت میں ہے کہ خدا پر بجز سچ کے اور کچھ نہیں کہیں اور کو پڑھا ہے انہوں نے جو کچھ توریت میں ہے، اور بیشک آخرت کا گھر (اس دنیا سے) پرہیز گاروں کے لیے بہتر ہے تو کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے ہو

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب (الہی) کو مضبوط تھامتے رہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں، بیشک ہم ضائع نہیں کرتے اجر نیکوں کا

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور یاد کرو کہ جب ہم نے بنی اسرائیل پر سائبان کی طرح پہاڑ اٹھایا اور انہیں گمان ہوا کہ بیشک وہ ان پر گر پڑے گا ان سے ہم نے کہا : کہ قوت سے تھام لو جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے (یعنی توریت) اور یاد کرو جو اس میں ہے تاکہ تم عذاب سے بچو

زبردستی احکام توریت قبول کرنا جب فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو خوشی اور آزادی حاصل ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی خواہش کی۔ اس پر جب توریت نازل ہوئی تو بنی اسرائیل نے اس کے احکام سخت خیال کرکے ان کے قبول کرنے سے انکار کیا، تو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے بحکم الہی ایک بڑا پہاڑ اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے سروں کے قریب کردیا اور ان سے کہا گیا کہ " توریت کے احکام قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سجدے میں گر گئے اور قبول کیا۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور (اے محبوب یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا کہا :'' کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں '' بولے :'' بیشک تو ہے ہم سب گواہ ہوئے '' (اس گواہی کا دینا اس لئے تھا) ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو البتہ ہم بیخبر تھے

عہد و میثاق کا ذکر آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو ان کی جتنی ہونے والی اولاد تھی، ان سب کو حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی پشت سے نکال کر ان سے اس بات کا عہد لے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ! کیا میں تمہارا مالک نہیں ہوں ! جس کا جواب انہوں نے ایک زبان ہوکر یہی دیا تھا کہ بیشک تو ہمارا رب ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں۔ پھر فرمایا یہ عہد و میثاق اس لئے کیا تھا کہ شاید یہ لوگ قیامت کے دن عذر کریں کہ ہمیں اس بات کی خبر نہ تھی دنیا میں بھول گئے۔ اس واسطے رسول بھیج کر اس کو جتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ ان کو یہ بھی عذر نہ رہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جو فعل کرتے دیکھا وہی ہمارا بھی مذہب و دین رہا اور ہم انہی کے قدم بقدم چلے اس وجہ سے ہماری ہلاکت نہیں ہونی چاہئے۔ پھر فرمایا کہ ہم اپنی نشانیاں یعنی معجزے بتلاتے ہیں تاکہ لوگ توحید کی طرف رجوع ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دہناء جو ملک ہند ایک مقام کا نام ہے جہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے اتارا تھا وہاں یہ عہد میثاق کیا گیا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بطن نعمان میں جو عرفات کے قریب ہے وہاں ان کی اولاد کو نکال کر یہ عہد میثاق لیا گیا۔
Ayahs 7:173–175

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

(اس توحید سے) یا یہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کیا تھا اور ہم تو ان کی نسل کے ان کے پیچھے ہوئے پس تو کیا ہم کو اس کے بدلے میں ہلاک کرتا ہے جو بدکاروں نے کیا

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور ہم اس طرح بیان کرتے ہیں صاف صاف آیتیں اس لئے کہ (توحید کی طرف رجوع ہوں

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) سناؤ انہیں اس شخص کا حال کہ جس کو ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تو وہ ان آیتوں کی پابندی سے صاف نکل گیا، پھر اس کے پیچھے شیطان پڑگیا تو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا

واقعہ بلعم باعور (جس کی زبان سینہ تک آگئی) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ تم یہود کو اس شخص کے حال کی اطلاع دے دو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں دی تھیں، اور وہ نشانیاں اس کے کفر کی وجہ سے اس طرح نکل گئیں جیسے سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جبارین سے جنگ کا قصد کیا اور سرزمین شام میں نزول فرمایا تو بلعم باعور کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت تیز مزاج ہیں اور ان کے ساتھ کثیر لشکر ہے۔ وہ یہاں آئے ہیں ہمیں اس شہر سے نکالیں گے اور قتل کریں گے، اور بجائے ہمارے بنی اسرائیل کو اس سرزمین میں آباد کریں گے۔ تیرے پاس اسم اعظم ہے اور تیری دعا قبول ہوتی ہے تو نکل اور اللہ تعالیٰ سے دعا کر کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہاں سے ہٹادے۔ بلعم باعور نے کہا تمہارا برا ہو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی ہیں، اور ان کے ساتھ فرشتے ہیں اور ایماندار لوگ ہیں، میں کیسے ان پر بد دعا کروں۔ میں جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا مرتبہ ہے اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت برباد ہوجاوے گی۔ مگر قوم اس سے اصرار کرتی رہی اور بہت اصرار کیا تو بلعم باعور نے کہا کہ میں اپنے رب کی مرضی معلوم کرلوں اس کا یہی طریقہ تھا چناچہ خواب میں اس کو جواب مل جاتا تھا۔ چناچہ خواب میں اس کو منع کیا گیا کہ ان کے خلاف دعا نہ کرنا۔ قوم نے پھر اصرار کیا تو اس نے پھر وہی کہا لیکن دوسری مرتبہ کچھ جواب نہ ملا تو قوم کہنے لگی :'' اللہ کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح اب بھی منع کردیتا ''۔ جب بہت اصرار کیا اور لالچ دیا تو آخر کار وہ بد دعا کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھا تو جو بد دعا کرتا تھا اللہ تعالیٰ اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا، اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا بجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اس کی زبان پہ آتا تھا۔ قوم نے کہا کہ اے بلعم ! یہ کیا کر رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے لئے دعا کرتا ہے اور ہمارے لئے بد دعا، اس نے کہا :'' یہ میرے اختیار میں نہیں۔ میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے ''۔ اور اس کی زبان باہر نکل پڑی اور سینہ تک لٹک گئی تو اس نے اپنی قوم سے کہا :'' میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہو گئیں ''۔
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کے سبب سے اس کو بلند (مرتبہ) کردیتے و لیکن وہ خود پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خوہش پر چلا پس اس کا حال کتے کی طرح ہے اگر اس پر کوئی دوڑنے کی مشقت ڈالی جائے تو اس پر زبان باہر نکالے یا چھوڑ دے تو زبان باہر نکالے یہی حال اس گروہ کا ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا پس تم ان کو یہ نصیحت سنا دو تاکہ وہ غور کریں

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : " بلعم کو اسم اعظم کا علم دیا تھا، دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ اگر ہم چاہتے تو اس کو بہت بڑا مرتبہ دیتے مگر وہ دنیا حاصل کرنے کی طرف مائل ہوگیا۔ اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ ہر وقت ہانپتا رہتا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کی بھی حالت ہے جو عقبی کے منکر اور دنیا کی حرص میں لگے رہتے ہیں اور ان کو نصیحت کام نہیں دتی۔ کتنی ہی نصیحت کی جاوے یہ لوگ راہ راست پر نہیں آسکتے۔ اسی کو فرمایا کہ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو عقبی کو جھٹلاتے ہیں کہ کبھی یہ ہدایت نہیں پا سکتے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا کہ اب لوگوں سے ان قصوں اور مثالوں کو بیان فرمادیں تاکہ شاید یہ لوگ غور و فکر کریں۔ پھر فرمایا کہ جو قوم احکام الہی کو جھٹلاتی ہے اس کی بہت ہی بری مثال ہے۔ یہ لوگ آپ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ۔
Ayahs 7:177–178

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

کیا بری کہاوت ہے اس قوم کو جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے تھے

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پاتا ہے اور جس کو گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے اور بیشک ہم نے بہت سے جن اور آدمی جہنم کے لیے پیدا کیے ان کے دل تو ہیں (مگر) ان سے سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں (مگر) ان سے دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں (مگر) ان سے سنتے نہیں (غرض) وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گمراہ، یہ وہ لوگ ہیں جو (دین سے بالکل) بیخبر ہیں

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت فرمائی کہ ہدایت و گمراہی دونوں خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے بہت سے جن اور آدمی جہنم کے لیے پیدا کیے ان کے دل تو ہیں (مگر) ان سے سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں (مگر) ان سے دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں (مگر) ان سے سنتے نہیں (غرض) وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گمراہ، یہ وہ لوگ ہیں جو (دین سے بالکل) بیخبر ہیں

جنات کے وجود کی تحقیق اکثر فلسفی اور دہریہ وغیرہ جنات کے وجود کے جو منکر ہیں ان کا بےراہ ہونا اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس کے پیدا کرنے کی خبر اپنے کلام پاک میں دی وہ ضرور موجود اور دنیا میں اس کا وجود ہے۔ اس کے وجود سے انکار کرنا کلام الٰہی سے انکار کرنا ہے۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جن و انس سب کی طبیعت میں عقتبی کی بہبودی کی صلاحیت رکھی ہے۔ لیکن ان میں بہت سے ایسے ہیں جو علم الہی میں دوزخی قرار پا چکے ہیں۔ اس لیے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد عقبی کی بہبودی، باتوں کے کانوں سے سننے، آنکھوں سے دیکھنے میں ان کا دل نہیں لگتا بلکہ جانوروں کی طرح دنیاوی باتوں پر ان کی زیست کا دار و مدار ہے۔ اور عقبی کے حساب سے وہ گویا دوزخ کا ایندھن بننے کے لیے دنیا میں پیدا ہوئے گ ہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ خدائے تعالیٰ سے پناہ مانگتا رہے اور ثابت قدمی سے اعمال صالح کی دعا کرتا رہے ایسا نہ ہو کہ آخر عمر میں کوئی برا کام خدائے تعالیٰ کی ناخوشی کا اس سے سرزد ہو کر اس کے خاتمہ کو بگاڑ دے۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے سب نام اچھے ہیں تو اس کو انہیں ناموں سے پکارو، اور چھوڑ دو انہیں جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں وہ لوگ جلد اپنے کیے کا بدلہ پا لیں گے

اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فضیلت صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ایک کم سو نام ہیں۔ جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں جاوے گا۔ یہی نام مشہور ہیں جو چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن اللہ کے ناموں کا حصر ان ناموں میں نہیں ہے بعض حدیث سے ثابت ہے کہ ہزار نام تک اللہ تعالیٰ کے چنے ہیں اور رفع غم کی دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ تو نے اپنے جو نام لوگوں کو بتلائے ہیں، اور جو تیرے نام تیرے علم غیب میں مخفی ہیں ان سب ناموں کے طفیل سے یہ غم دور ہوجائے۔ دعا مقبول ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں کو بگاڑ کر غیروں یعنی بتوں کے نام رکھنا ناجائز ہے۔ جیسے مشرکین مکہ نے لفظ الہ سے لات اور لفظ منات سے مناۃ کا لفظ تراش کر بتوں کے یہ نام ٹھہرا لیے تھے۔ جن بتوں کو وہ اللہ تعالیٰ کا شریک جانتے تھے۔ ایک مسلمان شخص یا رحمن یا رحیم کہہ کر دعا مانگا کرتا تھا۔ ایک مشرک شخص نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ تم مسلمان لوگ اللہ کو وحدہ لا شریک جانتے ہو پھر اللہ کے یہ دو نام کیوں لیتے ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ شریعت الہی میں اللہ تعالیٰ کے جو نام آ چکے ہیں دعا کے وقت وہ لیے جاسکتے ہیں اور ان مشرکوں نے کجروی سے جو انم تراش لیے ہیں ان کو وقت مقررہ پر ان کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری پیدائش سے ایک وہ گروہ بھی ہے کہ جو دین کی رہنمائی کرتے ہیں اور اسی پر انصاف بھی کرتے ہیں

مسلمان اور کافر کا ذکر یہ آیت خاص آنحضرت ﷺ کی امت کی شان میں نازل ہوئی ہے کہ ایک گروہ وہ بھی ہے جو ہمیشہ دین حق پر قائم اور اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہے گا اور اپنے ہر کام کا اسی پر ہر کام کا اسی پر دارومدار رکھ کر فیصلہ کیا کرے گا۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ہم ان کو آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے کہ ان کو خبر نہ ہوگی

مطلب یہ ہے کہ جو قرآن کی آیتوں کو نہیں مانتے اور اس کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ جس سے مراد کافر ہیں۔ فرمایا ایسے لوگوں کو ہم آہستہ آہستہ پکڑیں گے ان کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔ پہلے اس طرح ڈھیل دی جاوے گی کہ ان کی روزی رزق میں ترقی کردیں گے مال و دولت بےانتہا دیں گے۔ ہر طرح ان کو خوش و خرم رکھیں گے اور وہ لوگ ان نعمتوں کو دیکھ کر یہ گمان کرنے لگیں گے کہ وہ راہ راست پر ہیں۔ اس لیے ان پر اللہ کا یہ فضل ہے مگر حقیقت میں یہ فضل انعام نہیں بلکہ ڈھیل ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی پکڑ اس طرح پر ہوگی کہ جب وہ لوگ خوب مال سے مست ہوجاویں گے تو ہم ان کو ایک دفعہ ہی اس طرح مضبوطی کے ساتھ پکڑیں گے کہ ان کی رہائی نہ ہوگی۔
Ayahs 7:183–184

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو ڈھیل دوں گا بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس بات میں غور نہیں کیا کہ ان کے صاحب (پیغمبر) کو کوئی جنون نہیں ہے وہ تو صرف صرف صاف صاف (عذاب سے) ڈرانے والے ہیں

مطلب یہ ہے کہ نبی وقت جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں وہ بڑی سمجھ کی باتیں کرتے ہیں، دیوانوں کی باتیں نہیں ہیں۔ ہر ایک زمانہ کے دنیا دار لوگ کثرت سے ذکر الہی میں مصروف رہنے والوں کو دیوانہ کہیں گے۔ آنحضرت ﷺ قریش کو عذاب دوزخ سے ڈرایا کرتے تھے۔ آگے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ سب دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ انسان کو اپنے مرنے کا وقت معلوم نہیں کہ ناگہانی طور پر کسی وقت موت سر پر آن کھڑی ہو، اس لئے انسان کو چاہئے وہ ہر وقت اپنے آہ کو قبر کا مردہ سمجھے۔
Ayahs 7:185–187

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا نظر نہیں کی انہوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے پیدا کی (سب میں اس کی قدرت کی روشن دلیلیں ہیں) اور یہ کہ شاید ان کی اجل نزدیک آگئی ہو، پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر ایمان لاویں گے

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور اللہ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتا ہوا چھوٹ دیتا ہے

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقت مقرر کب ہے ؟ تم فرماؤ کہ اس کی خبر تو میرے رب ہی کے پاس ہے اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں وہ تم پر آوے تو اچانک ہی آوے گی وہ تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا، تم فرماؤ کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

قیامت کب ہے اور علم غیب کا بیان شان نزول : قریش نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ ہم کو یہ تو بتلایئے کہ جس قیامت سے آپ ہم کو ڈراتے ہیں آخر وہ قیامت کب آئے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کے حاصل معنی یہ ہیں کہ قیامت ایسی سخت چیز ہے کہ انسان کی تو اصل کیا ہے، اس کا آنا زمین و آسمان سب پر بھاری ہے۔ جب وہ آوے گی عالم علوی و عالنٓم سفلی سوا ذات پاک اس وحدہ لا شریک کے، سب کچھ فنا ہوجائے گا۔ اس لئے ایسی بڑی چیز کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ اگر اس کا وقت معلو ہوتا تو اس وقت کو قریب آتا دیکھ کر زمین و آسمان اور فرشتے کوئی اپنے حال پر باقی نہ رہتا اور انتظام الہی میں خلل پڑجاتا، وہ ناگہاں بیخبر ی میں ایک دفعہ ہی آوے گی۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

تم فرماؤ میں اپنی جان کے برے بھلے کا خود مختار نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں خوب غیب جان لیا کرتا تو بہت کچھ بھلائی حاصل کرلیتا اور مجھ کو کچھ برائی نہ پہنچتی میں تو محض (احکام شرعیہ بتا کر) ڈرانے والا (کافروں کو عذاب سے اور خوشخبری سنانے والا ثواب کی) ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں

مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ لوگ تم سے قیامت کا حال پوچھتے ہیں کہ کب ہے، تو تم ان سے یہی کہہ دو کہ مجھے علم نہیں ہے، خدا ہی جانے کب آئے گی مگر ایک نہ ایک دن آنے والی ضرور ہے۔ اسی کی تاکید اس آیت میں فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی بھلائی برائی کے حال کو خود بخود جان لینا ایک علم غیب ہے۔ جس کا حال سوائے خدائے تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں، ہاں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے بذریعہ وحی کے غیب کی باتیں بتلا دیتا ہے۔ مثلاً بدر کی لڑائی میں جو نافرمان لوگ مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہونے والے تھے، ان کا حال پہلے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ ولسم کو بتا دیا تھا۔ تفسیر روح البیان جلد 3 میں ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو شب معراج میں جو علم دیا گیا، علم اولین اور آخرین اور کئی قسم کے علوم تعلیم فرمائے ایک علم تو ایسا ہے جس کے چھپانے پر مجھ سے عہد لے لیا کہ میں کسی کو نہ بتاؤں اور اور میرے سوا کسی اور کو اس کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اور ایک ایسا علم جس کے چھپانے اور سکھانے کا مجھے اختیار دیا اور ایک ایسا علم جس کے سکھانے کا ہر خاص و عام امتی کی نسبت حکم فرمایا۔ اب حدیث اور تفسیر سے ثابت ہوا کہ امر محقق یہی ہے کہ اسرار الہی کا علم جو آنحضرت ﷺ کو مرحمت ہوا ہے، اس کا افشاء حرام ہے۔ ذاتی علم غیب حضور کو نہیں تھا اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے ہوا تھا (علم المصطفی صفحہ 107)
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ اللہ ایسا ہے جس نے کہ تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اپنے جوڑے سے آرام حاصل کرے، پس جب میاں نے بی بی سے قربت کی تو اس کو حمل رہ گیا ہلکا سا، سو وہ اس کو لیے ہوئے پھرتی رہی، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے اپنے اللہ سے دعا کی : اگر تو ہم کو تندرست فرزند دے گا تو بیشک تیرے شکر گزار ہوں گے

بچے کا نام نیک رکھنے کی ہدایت ان آیتوں میں فرمایا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرکے پھر ان کی پسلی سے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا تاکہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہما السلام) دونوں میں انسیت ہو اور نسل قائم ہو۔ جب جنت سے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہما السلام) روئے زمین پر اتار دیے گئے تو فرمایا کہ جب حضرت حضرت آدم (علیہ السلام) حوا کے ساتھ ہم بستر ہوئے تو حوا کو حمل رہ گیا۔ اور جب تک حمل کا ابتدائی زمانہ رہا کوئی تکلیف حوا کو نہیں ہوئی۔ نہ چلنے پھرنے میں نہ کھانے پینے میں، نہ کام کاج میں، سب آصانی سے کرلیا کرتی تھیں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد حوا کو بوجھ معلوم ہوتا گیا تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ پیٹ میں حمل قائم ہوگیا ہے اور ایک روز ہماری جنس سے بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ اسی واسطے دعائیں کرنے لگے کہ یا اللہ اگر تو صالح لڑکا ہمیں دے گا تو ہم بہت شکر گزار ہوں گے۔ غرضیکہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی مرضی کے موافق صالح اولاد عنایت کی تو انہوں نے شیطان کے بہکانے سے اس بچہ کے نام کے رکھنے میں شرک کی باتیں کیں کہ اس کا نام عبدالحارث رکھا جو شیطان نے بتلایا تھا۔ حضرت حوا (علیہما السلام) کو یہ نام رکھنے کی خرابی تفصیل سے معلوم نہ تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے بالکل علیحدہ ہے جن کو تم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : عبداللہ اور عبدالرحمن یا اور نام جن ناموں میں اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا اقرار نکلے وہ نام اللہ کو بہت پسند ہیں۔