7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 7:111–126

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے کہا :” اے فرعون ! اسے اور اس کے بھائی (ہارون) کو مہلت دے اور شہروں میں لوگ جمع کرنے والے (یعنی نقیب) بھیج دے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ وہ ہر سمجھدار جادوگر کو تیرے پاس لے آویں

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

اور فرعون کے سامنے جادوگر آئے بولے کچھ ہمیں انعام ملے گا اگر ہم غالب آئیں “

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں اور تم ہمارے مقرب لوگوں میں داخل ہوجاؤگے

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

(جادوگروں نے) کہا اے موسیٰ ! یا تو آپ پہلے ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں گے

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا :” تم ہی ٖڈالو “ پھر جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نگاہوں پر جادو کردیا اور ان لوگوں کو ڈرادیا اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھایا

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ تم بھی اپنا عصا ڈال دو ، پس ناگہاں وہ عصا (اژہا بن کر) ان کے تمام بنے ہوئے کھیل کو نگلنے لگا

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس حق ثابت ہوگیا اور باطل ہوگیا جو کچھ وہ کرتے تھے

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

پس وہ جادوگر اس جگہ پر مغلوب ہوگئے اور خوب ذلیل ہوکر پلٹے

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور جادوگر سب سجدے میں گرادئے گئے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العلمین پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا تم موسیٰ پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں یہ تمہارا ایک بڑا مکر ہے جو تم سب نے اس شہر میں آکر گانٹھا ہے تاکہ اس شہر کے رہنے والوں کو یہاں سے نکال دو ، پس تم کو ابھی معلوم ہواجاتا ہے

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

کہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ (یعنی داہنا) دوسری طرف کا پاؤں (یعنی بایاں) ضرور کاٹوں گا، پھر تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ (کچھ پروا نہیں) ہم مر کر اپنے پروردگار ہی کی طرف جاویں گے

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو ہم سے یہی بیر (دشمنی) کرتا ہے کہ ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لائے جب جب وہ ہمارے پاس آئیں اے رب ہمارے ! ہم پر صبر کا فیض ڈال اور ہماری جان حالت اسلام پر نکلے

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب بنی اسرائیل کو اس بات کی خبر پہنچی کہ وہ ملعون پھر ویسا ارادہ کرتا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی شکایت کی۔ آپ نے جواب دیا کہ خدا سے مدد چاہو اور صبر کرو آخر میں خدا سے ڈرنے والوں بھلائی اور بہتری ہوگی۔ گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرعون پر فتح پانے کا وعدہ کیا تو ان کی قوم نے کہا کہ ہماری تو ہمیشہ یہی حالت رہی کہ جب آپ نہیں تھے جب بھی اسی مصیبت میں گرفتار تھے کہ ہمارے لڑکے قتل کردئے جاتے تھے اور اب بھی وہی تکلیف ہے یہ کم بخت پھر وہی حکم جاری کررہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں بہت جلد خدا تمہارے دشمنوں کو غارت کرے گا اور یہ کافر مع اپنے ہوا خواہوں (مدد گاروں) کے ہلاک ہوگا اور تم لوگ دنیا میں سلطنت کی باگ ہاتھ میں لوگے۔ پھر اللہ تعالیٰ تمہیں آزماوے گا کہ تم کیا عمل کرتے ہو چناچہ یہ بات ظہور میں بھی آگئی۔
Ayahs 7:127–130

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لئے چھوڑتا ہے کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑ دے فرعون نے کہا کہ ہم اب بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی لڑکیوں کو اور ہم بیشک ان پر غالب ہیں

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ مے اپنی قوم سے فرمایا کہ مدد طلب کرو خدا سے اور صبر کرو (گھبراؤ مت) بیشک زمین اللہ کی ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنائے اور آخر کار کامیابی انہی کی ہوتی ہے جو پرہیزگاری کرتے ہیں

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

انہوں نے کہا :” ہم کو آپ کے آنے سے پہلے بھی ایذائیں دی گئیں اور آپ کے تشریف لانے کے بعد (بھی) “ موسیٰ نے کہا :” امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور بجائے ان کے تم کو زمین کا خلیفہ کرے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو “

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے مبتلا کیا فرعون کی قوم کو قحط سالی میں اور میوؤں کی کمی میں اس لئے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں

بندوں کی تکلیف اور پریشانی میں حکمت الہی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے فرعون اور اس کئ ساتھیوں کا امتحان لیا اور قحط میں ڈال دیا۔ درختوں میں پھل لگنے موقوف ہوگئے کھجور کے درختوں میں ایک ایک کھجور پھلتی تھی۔ چشمہ نیل بالکل خشک ہوگیا مینہ برسنا بند ہوگیا۔ یہ جانچ تھی کہ شاید کہ مصیبت کے وقت میں ان کے دل نرم ہوجاویں اور خدا سے رجوع ہوں اور رسول کی باتوں کو مانیں مگر کچھ کار آمد نہیں ہوا۔ اپنے کفر پر جمے رہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا جب یہ تکلیف دور ہوگئی اور آرام کی گھڑی آگئی آگئی تو کہنے ہم اسی کے مستحق تھے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی تو موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ بات دھرتے اور کہتے کہ ان کے باعث سے یہ سال نحوست ہوا۔ اور یہ نہ سمجھے کہ خوشی کا وقت خدا کے فضل سے نصیب ہوا، اور رنج کی گھڑی اس کی آزمائش ہے۔ اس لئے فرمایا کہ خوشی اور تکلیف سب خدا ہی کی طرف سے ہے اس میں کسی کی نحوست کو کچھ دخل نہیں ہے۔ یہ سب خدا کی طرف سے ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں۔
Ayahs 7:131–132

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

تو جب انہیں کوئی خوشحالی پیش آتی تو کہتے :” یہ ہمارے لائق ہے “ اور اگر ان کو کوئی سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی بد شگونی لیتے، آگاہ ہو کہ ان کی یہ بدشگونی اللہ ہی کے لئے یہاں ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں نے کہا :” اے موسیٰ ! تم کتنی ہی نشانیاں ہمارے سامنے لے آؤ کہ اس کے ذریعہ سے تم ہم پر جادو چلاؤ ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں “

فرعون پر پانی، ٹڈی، کیڑے، مینڈک، خون اور آخر کار غرق ہونے کا عذاب ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرعون اور اس کی قوم کے کفر اور سرکشی کا حال بیان کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے تھے کہ تم معجزہ کے طور پر جو نشانی لاؤ گے ہم اس کو نہیں مانیں گے۔ جو تم عجائبات دکھاتے ہو خدا کا دیا ہوا معجزہ نہیں ہے تم ایک جادوگر ہو، ہم پر جادو کرتے ہو اور ہماری نظر بندی کردیتے ہو جس سے یہ تماشے دکھائی دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کا طوفان بھیج دیا اور یہ پانی سات روز تک برابر برستا رہا۔ لوگ بہت پریشان ہوگئے پھر آخر عاجز ہوکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے خدا سے دعا کرو کہ پانی کھل جاوے ہم بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے پانی کھل گیا ایک مہینہ تک اسی حالت میں رہے، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے :” ہم تم پر ایمان نہیں لاویں گے اور نہ بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیجیں گے “۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ٹڈیوں کا طوفان بھیجا جس سے ان کو سخت پریشانی ہوئی لیکن پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی اور وعدہ کیا اب ہم ایمان لاویں گے اور بنی اسرائیل کو بھی بھیج دین گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر دعا کی۔ ان کی دعا سے وہ طوفان بھی دور ہوگیا مگر یہ لوگ ایمان نہ لائے اور کہنے لگے :” ہم نے اپنا بندوبست کرلیا ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے گھن کو بھیج دیا کہ تمام غلہ میں کیڑے گھن کے نظر آنے لگے۔ مجبور ہوکر پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کو کہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر دعا کی جس سے وہ کیڑے رفع ہوگئے۔ پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لائے اور نہ بنی اسرائیل کو ساتھ کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مینڈک کا وبال بھیجا کہ ہر جگہ مینڈک ہی مینڈک نظر آنے لگے۔ یہاں تک کہ کھانے میں، پینے میں، پاخانے میں، برتنوں میں، آدمیوں کے منہ میں، سب جگہ مینڈک ہی مینڈک تھے۔ اس سے بہت ہی پریشان ہوکر آخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پھر دعا کو کہا اور ان کی دعا سے یہ عذاب بھی دور ہوگیا۔ پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لائے اور نہ بنی اسرائیل کو چھوڑا۔ پھر الل تعالیٰ نے ان کے واسطے دریا، نہروں اور کنووں کے پانی خون کردیا تو لوگوں نے فرعون سے شکایت کی کہ ہم کو پانی نہیں ملتا بجائے پانی کے خون ہوگیا ہے “۔ اس کے کہا :” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تم پر جادو کردیا ہے۔ کہنے لگے :” جادو کیسا ہم مٹکوں میں پانی بھر کر رکھتے ہیں وہ سارا خون ہوجاتا ہے “۔ ناچار پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کے طلب گار ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پھر دعا کرتے ہیں اور یہ آفت ٹل جاتی ہے مگر وہ لوگ ایمان نہیں لاتے، اور نہ بنی اسرائیل کو جانے دیتے ہیں۔ اتنے تکبر اور نخوت میں پڑے رہے اپنے اقرار اور وعدے توڑ توڑ کر مجرم ہوئے۔
Ayahs 7:133–134

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا (مینہ کا) اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون کا یہ ہماری جدا جدا نشانیاں تھیں پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ ایک نافرمان قوم تھی

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب تان پڑتا ان پر عذاب تو کہتے :” اے موسیٰ ! ہمارے لئے اپنے خدا کی جناب میں دعا کر ان ناموں اور دعاؤں کے داتھ جو تم کو وحی کی ہے، بیشک اگر تم نے ہم سے عذاب دور کردیا تو ہم ضرور تمہارے معتقد ہوجائیں گے اور بیشک تمہارے ہمراہ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پانچ عذاب جو ان لوگوں پر پے درپے آئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ٹل بھی گئے لیکن انہوں نے اپنا اقرار پورا نہیں کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا کہ ہم نے ان کے وعدے اور اقرار کرنے پر یہ عذاب اسوقت تک روکے رکھا جب تک وہ قلزم میں غرق نہ ہوئے۔ تب بھی تو وہ ایمان نہ لائے، منکر کے منکر رہے۔ ایک جگہ یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ چھٹا عذاب ان پر طاعون کا آیا جس سے ستر ہزار آدمی ہلاک ہوئے تھے۔
Ayahs 7:135–136

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان سے وہ عذاب ایک مدت تک کے لئے جس کو وہ پہنچنے والے تھے اٹھادیا تو وہ فورا عہد شکنی کرنے لگتے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا پس ان کو دریا میں غرق کردیا اس سبب سے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور وہ ان سے بالکل بیخبر تھے

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک روز آدھی رات کو سارے شہر میں وبا پھیل گئی لوگ مرنے لگے۔ جبکہ یہ اپنی جانوں کی فکر میں تھے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر شہر سے نکل گئے۔ جب فرعون کو اس کی خبر ہوئی تو لشکر تیار کرکے ان کے پیچھے بھاگا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مع بنی اسرائیل کے دریائے قلزم کی طرف جاتے دیکھا۔ یہ بھی مع لشکر کے وہاں پہنچا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنی قوم کے دریا میں گھس گئے۔ دریا نے خدا کے حکم سے بارہ راستے بنادئے اور یہ سب کے سب ان راستوں سے دریا کے پار ہوگئے۔ فرعون بھی مع اپنے لشکر کے دریا میں گھس پڑا جب بیچوں بیچ پہنچا تو دریا دونوں طرف سے آکر مل گیا اور یہ لوگ اول سے آخر تک ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ اسی کو اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلایا کرتے اور ایمان لانے سے غفلت کرتے تھے۔ اس لئے ہم نے ان سے بدلہ لیا کہ کافروں کو دریا میں غرق کردیا۔ پھر فرمایا ان کی جگہ بنی اسرائیل کو دی جن کو فرعون اور اس کی قوم قبط ذلیل و خوار سمجھے ہوئے تھے۔ ان ہی کا مصر اور شام کے چاروں طرف کے ملک پر قبضہ کرادیا اور ملک میں ایسی برکت دی کہ وہاں کے پھل میوے اور کھیتی بڑے زوروں پر ہونے لگی۔
Ayahs 7:137–138

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو جو بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے مشرق اور غرب کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور تمہارے پروردگار کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کے سبب سے پورا ہوگیا اور ہم نے سب کو برباد کردیا اور جو کچھ اونچی اونچی عمارتیں وہ بناتے تھے

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا تو ان کا ایک ایسی قوم پر گزر ہوا کہ جو اپنے بتوں کو پوجنے میں لگ رہے تھے، بنی اسرائیل کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایک معبود بنا دے جیسے ان کے لئے اتنے معبود ہیں، موسیٰ نے کہا :” بیشک تم ضرور جاہل لوگ ہو “

جب فرعون دریائے قلزم میں مع اپنے لشکر کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی ادرائیل کو ساتھ لئے ہوئے پار ہوگئے تو ان لوگوں کا گزر شہر رقہ میں ہوا جو اسی دریا کے کنارہ پر واقع ہے۔ یہاں قبیلہ کنعانی کے لوگ جن سے موسیٰ (علیہ السلام) کو لڑنے کا حکم ہوا تھا مورتیں (مجسمے) پوج رہے تھے۔ گائے کی شکل کے بت بنا رکھے تھے جن کی وہ پوجا کیا کرتے تھے۔ انہیں بت پوجتے ہوئے دیکھ کر بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلم سے درخواست کی کہ آپ بھی ہمارے لئے بت بناویں، ہم بھی اسی طرح ان بتوں کی پوجا کریں گے جس طرح یہ لوگ مورتیں پوج رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ بت پرستی کے وبال میں ان لوگوں پر عذاب الہی آجاوے گا تو اس سے ان کے بت ان کو نہیں بچاسکتے۔ پھر اس طرح کی بےاختیار چیز کی پوجا سے کیا فائدہ ہے۔ ایسی بےفائدہ چیز کی عبادت کی خواہش کرنا نادانی اور جہالت کی خواہش ہے۔ اس نصیحت سے بنی اسرائیل کے اس وسوسہ کو رفع فرمادیا۔
Ayahs 7:139–140

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

البتہ یہ حال تو بربادی کا ہے جس (مذہب) میں یہ لوگ ہیں اور جو کچھ یہ کرتے ہیں نرا باطل ہے

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا :” کیا سوائے اللہ کے تمہارے واسطے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں فضیلت دی ہے سارے جہان والوں پر “

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بنی اسرائیل کو نصیحت پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر کہا کہ کیا خدا کے سوا کوئی اور معبود میں تمہارے لئے تلاش کروں۔ بڑے حیف کی بات ہے کہ جس خدا نے تمہیں ذلت و رسوائی سے رہائی دی فرعون و قبطی تمہیں ذلیل و خوار سمجھتے تھے ان دشمنوں کو غارت کرکے ان کی سلطنت تمہیں بخشی۔ تمہیں روئے زمین کا خلیفہ بنایا اسے چھوڑ کر اوروں کی عبادت کب زیبا ہے۔ کیا اس کے انعام و فضل کا یہی شکر اور مقابلہ ہے جس کا وسوسہ تمہارے دل میں گزرا ہے۔
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور تم یاد کرو ہماری وہ نعمتیں جب ہم نے فرعون والوں سے نجات بخشی کہ تم کو سخت ایذا پہنچاتے تھے تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے، اور اس واقعہ میں تمہاری بڑی آزمائش تھی تمہارے پروردگار کی طرف سے

یہ بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے نصیحت کے طور پر کہی وہ وقت یاد کرو جب فرعون تم سے بری طرح پیش آتا تھا۔ تمہارے لڑکے قتل کردیا کرتا تھا اور لڑکیاں زندہ چھوڑ دیا کرتا تھا۔ کیا یہ خدا کا احسان تم پر نہیں ہے اس نے تم کو اس بلا سے چھڑایا اور جب اس کا اتنا بڑا احسان تم پر ہے تو عبادت بھی اسی کی واجب ہے غیر کی تعظیم اور عبادت تم کو ہرگز لائق نہیں ہے۔ اس بیہودہ سوال سے باز آؤ۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے (توریت دینے کے لئے) تیس رات کا وعدہ فرمایا اور اس (میعاد) کو ہم نے دس رات اور بڑھا کر پورا کیا، پس ان کے پروردگار کی (مقرر کی ہوئی) میعاد چالیس رات میں پوری ہوئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم میری قوم میں میرے نائب رہنا اور اصلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کی راہ کی پیروی نہ کرنا

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنا احسان اس بات کو جتلایا کہ ہم نے تمارے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں اور ان کو تمہاری ہدایت کے لئے توریت بھی دی۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتیں پوری کرنے کو کہا یعنی ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلہ میں بیٹھے تھے دن کو روزہ رکھتے تھے۔ جب تیس راتیں پوری ہوگئیں تو انہوں نے روزے کی حالت میں مسواک کی اور منہ کو صاف کیا، کیونکہ روزہ دار کے منہ سے ایک طرح کی بو آنے لگتی ہے جس کو اللہ پاک مشک کی خوشبو سے اچھا سمجھتا ہے۔ مسواک کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اور دس راتیں چلے میں بڑھادیں تاکہ روزہ رکھنے سے پھر وہی بو پیدا ہوجائے جب چالیس راتیں پوری ہوگئیں تو ذی الحج کی دسویں تاریخ کو اللہ پاک نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کیں، اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلہ پورا کرنے جانے لگے تھے تو انہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو خلیفہ بنا کر یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل کی میرے پیچھے خبر گیری رکھی جاوے کہ کوئی فساد نہ ہونے پاوے۔ اگر کوئی فساد برپا کرے تو اس کی طرفداری تم نہ کرنا۔ ان کی قوم بنی اسرائیل اس عرصہ میں بہک گئی اور تیس راتیں گزرنے کے بعد بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کا انتظار نہ کیا اور بچھڑے کی پوجا شروع کردی جس کا قصہ سورة بقرہ میں گزرچکا ہے اور سورة میں بھی آگے آوے گا۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے پروردگار نے کلام فرمایا تو موسیٰ نے عرض کی :'' اے پروردگار میرے مجھے (اپنا دیدار) دکھادے تاکہ میں تیری طرف (ایک نظر) دیکھوں '' اللہ نے فرمایا :'' تو مجھے (دنیا میں) ہرگز نہیں دیکھ سکے گا لیکن تو اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ برقرار رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا '' پھر جب اس کے پروردگار نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا تو اس پہاڑ کے ریزے ریزے کردئے اور موسیٰ بیہوش ہوکر گرے پس جب ہوش آیا تو عرض کیا :'' پاکی سے یاد کرتا ہوں تجھ کو اور تیری طرف توبہ کی میں نے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ''

اللہ تعالیٰ کے جلوہ سے پہاڑ کا ریزہ ریزہ ہونا جب حضرت موسیٰ علیہ السلان چلہ پورا کرچکے تو وقت مقررہ پر خدا کے حکم سے کوہ طور پر گئے۔ اللہ پاک نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بلا واسطہ کسی فرشتے کے باتیں کیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب جب تو نے مجھ سے کلام کیا تو اب اپنے آپ کو مجھے دکھلا بھی دے، میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا :'' سے موسیٰ اس خیال سے باز آ تجھ میں یہ طاقت نہیں ہے کہ تو مجھ دیکھ سکے ''۔ یعنی آنکھوں سے سوال کرکے بلکہ دیدار الہی بغیر سوال کے محض ہمارے عطا و فضل سے حاصل ہوگا وہ بھی اس فانی آنکھ سے نہیں بلکہ باقی آنکھ سے۔ پہاڑ جو تجھ سے کہیں مظبوط اور سخت ہے تو اسے دیکھتا رہ کہ بھی میرے جلوہ کی مطلق تاب نہیں رکھتا۔ اگر یہ پہاڑ میرے جلوہ کے بعد قائم رہ گیا تو جان لیجیئو کہ تو مجھے دیکھ سکے گا ''۔ پھر جب اللہ پاک کی تجلی ہوئی تو پہاڑ چکناچور ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی مارے دہشت کے بیہوش ہوگئے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہوش میں آئے تو اللہ پاک کی پاکی بیان کی کہ اے اللہ تو پاک ہے اور میں توبہ کرتا ہوں کہ پھر تجھ سے سوال کروں کہ میں دنیا میں تیرے دیدار کی خواہش رکھتا ہوں اور میں پہلا شخص اس زمانہ میں ہوں جو اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ تیرا دیدار اس دنیائے فانی میں کسی کو کو میسر نہیں ہوسکتا۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا :'' اے موسیٰ ! بیشک میں نے تجھے اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے لوگوں پر چن لیا پس میں نے تجھ کو جو کچھ عطا فرمایا اس کو لے اور شکر گزارواں میں سے ہو ''

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ میں نے موجودہ زمانے میں سارے لوگوں میں تمہیں منتخب کرکے رسول بنایا اور توریت تمہیں دی اور تم سے میں نے کلام کیا تم اس بات کا شکریہ ادا کرو اس بات کا خیال نہ کرو کہ میں نے تمہیں اپنے دیدار سے منع کیا اور اپنے دیکھنے سے تمہیں باز رکھا۔ کیونکہ بجائے دیدار کے میں نے یہ نعمتیں تمہیں دیں تم ان کو لے کر خوش ہوجاؤ ''۔ گویا اس کلام سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کے لئے تختیوں میں ہر قسم کی (ضروری) نصیحت اور (احکام ضروریہ کے متعلق) ہر چیز کی تفصیل لکھ دی (اور فرمایا) پس تم اس کو مظبوطی سے لو (یعنی عمل کرو) اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں (یعنی اس کے احکام پر عامل ہوں) میں تم کو عنقریب نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا

توریت نازل ہونے اور سامری کی وجہ سے بنی اسرائیل کی گمراہی کا واقعہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے لئے چھانٹا اور تفصیل کے ساتھ احکام نصیحت ان تختیوں پر لکھ کر کندہ کئے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئے کہ وہ ان کو مظبوط ہو کرلیں اور اپنی قوم کو ان اچھی باتوں پر عمل کرنے کا حکم کریں۔ آخر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تنبیہ فرمائی ہے جس طرح اس آیت میں توریت کے موافق عمل کرنے کا حکم ہے۔ اس حکم کی تعمیل اگر یہ لوگ نہ کریں گے تو مصر سے شام کے ملک کو جاتے ہوئے ان کو قوم عاد اور ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں ملیں گی۔ ان بستیوں کو دیکھ کر انہیں بےحکمی کے نتیجہ سے ڈرنا چاہئے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ بنی اسرائیل نے جب بےحکمیپر کمر باندھی تو ان پر طرح طرح کی آفتیں آکر ان کی بادشاہت، ثروت سب کچھ جاتی رہی۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا اور جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ سب نشانیں بھی دیکھ لیں تو ان پر ایمان نہ لاویں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں تو اس میں چلنا پسند نہ کریں اور اگر گمراہی کا رستہ دیکھیں تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں (پیروی کرنے لگیں) اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بیخبر رہے

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا کہ جو لوگ اپنے لوگ اپنے ناحق دین پر خوش ہیں ان کے دلوں کو ہم اپنی نشانیوں کے سمجھنے سے پھیر دیں گے اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں گے۔ یہاں تک کہ اگر ہزار ہا نشانیاں اور معجزے بھی وہ دیکھیں گے تو ان کو اختیار نہ کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھ پائیں گے تو جھٹ اس کو اختیار کرلیں گے۔ پھر فرمایا کہ ان کا گمراہ رہنا اور ہدایت کو نہ اختیار کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے بالکل غافل ہیں۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا تو ضائع ہوگئے ان کے سب اعمال وہ بدلہ تو اسی کا پاویں گے کہ جو کیا کرتے تھے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ازلی جہنمی جو ہماری آیتیں جھٹلایا کرتے ہیں، یہ کچھ ضرور نہیں کہ ہم دنیا میں فورا ان سے مواخذہ کریں تاکہ جہنمی اور جنتی کی یہ پہچان ہو کہ جس پر دنیا میں سختی ہے وہ جہنمی اور عتاب الہی میں گرفتار ہے، اور جو خوش حال ہے وہ اس کے نزدیک محبوب ہے بلکہ ان کو دنیا میں عیش دے کر دفعۃ پکڑلیں گے۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے چلے جانے کے بعد قبطیوں کے زیور سے ایک بچھڑا بنالیا بیجان کا دھڑ جس کی آواز مثل گائے کے تھی کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ یہ بچھڑا ان سے نہ کچھ بات کرتا ہے نہ ان کو کوئی رستہ بتائے، اس کو (معبود) ٹھرالیا اور وہ بڑے ظالم تھے

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پر ہی تھے جب یہ واقعہ ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور اس کو پوج کر گمراہ ہوگئے۔ قوم بنی اسرائیل نے شادی کے بہانے سے جب یہ لوگ مصر میں ہی تھے قوم قبط سے کچھ زیور عاریۃ کے طور پر لیا تھا جو انہیں لوگوں کے پاس رہ گیا۔ کیونکہ فرعون مع اپنی قوم کے غرق ہو کر ہلاک ہوگیا۔ اس زیور کا سامری نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا، اس کے جسم سونے کا جوں کا توں رہا اس میں روح وغیرہ کچھ نہ تھی۔ اس کے منہ کے اندر ہوا کی آمد و رفت سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی اور کوئی حرکت وغیرہ نہ تھی۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ ان لوگوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ لوگ ایسی شے کو معبود ٹھراتے ہیں جس میں بات کرنے کی طاقت نہیں ہے اور نہ کوئی نفع ضرر اس سے پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی راستہ نجات کا بتلاسکتی ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس کام میں بڑے ظالم اور ناانصاف تھے، پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے واپس آئے تو یہ لوگ پشیمان ہوئے اور پچھتائے اور سمجھے کہ ہم گمراہ ہوگئے۔ پھر اپنے قصور کا اقرار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اے رب ہمارے ! اگر تو رحم نہ کرے گا اور نہ بخشے گا تو ہم بہت ہی گھاٹے میں رہیں گے۔
Ayahs 7:149–150

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب نادم ہوئے اور سمجھے کہ بیشک ہم گمراہی میں پڑگئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر مہربانی نہ کرے اور ہم کو نہ بخشے تو بیشک ہم ضرور تباہ ہوجائیں گے

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (کوہ طور سے) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ میں بھرے ہوئے جھنجھلائے ہوئے (اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قوم کی گمراہی کی خبر دے دی تھی) موسیٰ نے کہا تم نے میرے بعدمیری جانشینی (بہت) بری کی کیا تم نے اپنے پروردگار کے حکم (آنے) سے پہلے ہی جلدی کر بیٹھے اور ڈل دیں (توریت کی) تختیاں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے (ہارون نے) کہا اے میرے ماں جائے (بھائی) اس قوم نے مجھ کو کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو مارڈالیں سو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور نہ مجھ کو ظالموں کے گروہ میں شمار کر

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دو مرتبہ کوہ طور پر جانے کا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہ دی تھی کہ وہاں قوم کو سامری نے بگاڑ ڈالا اور ایک گئوسالہ (بچھڑا) بناکر آپ بھی پوجنے لگا اور بنی اسرائیل کو بھی اس میں شریک کرلیا۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غیظ و غضب میں بھرے ہوئے آئے اور آتے ہی ان لوگوں سے یہ کہا کہ یہ کیا بری حرکت تم نے میرے جانے کے بعد کی کہ گئو سالہ بناکر پوجنے لگے۔ خدا کا وعدہ جو میرے ساتھ ایک چلہ کا تھا اس کو پورا بھی نہ ہونے دیا اور ایسی جلدی کی۔ یہ کہتے ہوئے وہ تختیاں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو مرحمت فرمائی تھیں جس میں دین کے احکام کی تفصیل تھی ان کو ہاتھ سے زمین پر پھینک دیا۔ یہ لوحیں زمرد کی تھیں۔ پھر ھضرت موسیٰ (علیہ السلام) غصہ کی حالت میں اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے سر کے بال اور داڑھی پکڑ کر کھینچنے لگے کہ انہوں نے ان لوگوں کو اس فعل سے کیوں نہیں روکا ؟ ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے اپنا عذر ظاہر کیا کہ بھائی میرا کچھ قصور نہیں ہے ۔ لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ یہ مجھے قتل کر ڈالتے۔ آپ میرے ساتھ وہ کام نہ کیجئے جسے دیکھ کر دشمن خوش ہوں اور مجھ پر ہنسیں، اور مجھے آپ اس قوم گنہگار میں نہ شمار کریں میں ان سے بالکل الگ ہوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بات سن کر اللہ پاک سے اپنے اور اپنے بھائی کے لئے مغفرت چاہی۔ گویا اس فعل پر شرمسار ہوئے۔