11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 11:41–43

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور نوح نے کہا کہ کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کشتی کا چلنا اور ٹھرنا اللہ کے نام سے ہے، بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ (کشتی) ان کو لئے جاتی تھی پہاڑ جیسی موجوں میں اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا کہ اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ (تو بھی) سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ کہنے لگا کہ میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں اور وہ مجھ کو پانی (میں غرق ہونے) سے بچالے گا۔ نوح نے کہا :'' آج کے روز اللہ کے قہر سے کوئی بچانے والا نہیں لیکن جس پر خدا نے رحم کیا ہے (وہی بچ سکتا ہے) '' اور ان دونوں (یعنی نوح اور ان کے بیٹے) کے درمیان میں موج حائل ہوگئی۔ پس وہ (بھی مثل دوسرے کافروں کے) غرق ہوگیا

پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بسم اللہ کہ کر کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کی برکت سے یہ کشتی پانی پر چلے گی اور ان کے نام سے ٹھرے گی۔ میرا رب غفور الرحیم ہے، رحم کھاکر بخشش کی اور کافروں کو ہلاک کیا۔ تفسیر ضحاک میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جب چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ کہتے تھے، چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ تھم جائے تو بسم اللہ کہتے تھے۔ اسی واسطے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے امتی جب کشتی میں سوار ہونے کے وقت بسم اللہ الملک وما قدر واللہ حق قدرہ اور بسم اللہ مجرھا ومرسھا ان ربی لغفور الرحیم کہیں گے تو ڈوبنے سے محفوظ رہیں گے۔ اب آگے اس کشتی کے بہنے کی کیفیت بیان فرمائی کہ اس طرح بہتی پھرتی تھی جیسے پہاڑ، بلکہ اونچے سے اونچے پہاڑ سے تیس چالیس گز بلندی پر تیرتی تھی۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے چھوٹے بیٹے یام کو جس کا دوسرا نام کنعان بھی تھا اور وہ کنارے پر کھڑا تھا آواز دی کہ بیٹا تو بھی ایمان لاکر کشتی میں میرے پاس چلا آ اور کافروں کا ساتھ نہ دے۔ نہیں تو بھی ڈوب جائے گا، اس نے نہ مانا اور جواب دیا میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤں گا وہاں پانی سے پناہ مل جاوے گی اور ڈوبنے سے بھی بچ جاؤں گا، وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ پانی کیا پہاڑ سے بھی اوپر تک آجاوے گا۔ پھر ححرت نوح (علیہ السلام) نے اس کا جواب دیا کہ پہاڑ کی کیا ہستی ہے، آج کوئی کسی کو خدا کے عذاب سے پناہ نہیں دے سکتا ہاں جس پر خدا رحم کرے گا وہ بیشک نہیں ڈوبے گا جیسے اس کشتی والے بچ گئے۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے کے درمیان میں ایک ایسی لہر آئی کہ ان کے بیٹے کو بہا کرلے گئی اور وہ ڈوب گیا۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور (کفار سب غرق ہوچکے تو) تو حکم ہوگیا :'' اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان (برسنے سے) تھم جا '' اور (دونوں باتیں ہوگئیں) پانی خشک کردیا گیا اور حکم الہی پورا ہوچکا اور کشتی ٹھر گئی جودی پہاڑ پر، اور فرمایا گیا کہ ظالم قوم ہلاک ہوجائے

جب سب کفار ڈوب گئے بلکہ کوئی جاندار سوائے ان کشتی والوں کے نہ بچا، تو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو یہ حکم دیا کہ اب پانی نہ برسا تھم جا اور زمین کو یہ حکم دیا کہ تو نے جتنا پانی اگلا ہے نگل جا۔ خدا کا حکم پورا ہوچکا سب کفار ہلاک ہوگئے مینہ تھم گیا اور پانی سوکھ چلا تو کشتی اپنے سواروں کے لئے ہوئے جودی پہاڑ پر آلگی اور فرمایا کہ دنیا میں ساری قوم ظالموں کی خدا کی رحمت سے دور ہوگئی یعنی ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 11:45–47

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا پھر عرض کیا :'' اے میرے پروردگار ! بیشک میرا بیٹا بھی تو میرے گھر والوں میں ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑھ کر حکم والا ہے۔ ''

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا :'' اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے بیشک اس کے کام بڑے ناکارے ہیں پس تو مجھ سے وہ سوال نہ کر جس کا تجھے علم نہیں بیشک میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ تو نادان نہ بن ''

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

(نوح نے) عرض کی :'' اے پروردگار میرے ! میں اس بات کے سوال کرنے سے کہ جس کا مجھے علم نہیں تیری پناہ مانگتا ہوں اور اگر تو مجھے معاف نہ کرے گا اور مجھ پر رحم نہ فرمائے گا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا ''

جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب یہ کنعان میرا بیٹا ہے یہ میرے اہل میں سے ہے اور تو نے وعدہ کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ کشتی میں اپنی اہل کو بھی ساتھ لے لوں اور تیرا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے۔ پھر یہ کیونکر ڈوب گیا تو بڑا انصاف والا ہے حکم ہوا کہ اللہ نے تو ان لوگوں کے لئے وعدہ کیا تھا جو ایمان لائیں۔ یہ لڑکا تو انہیں لوگوں میں تھا جن کے حق میں کہا گیا تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے اور آخر کو ڈوب جاویں گے۔ تمہیں مناسب نہیں ہے کہ جس بات کو نہ جانتے ہو اس کا سوال کرو۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بہت جلدی خدا سے پناہ چاہی کہ میں ایسی بات پوچھوں جس کا علم مجھے نہ ہو اگر تو اس قصور کو جو لاعلمی میں مجھ سے ہوا ہے نپہ بہ بخشے گا تو میں اپنے عمل میں بہت گھاٹے میں رہوں گا۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا :'' اے نوح ! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی کچھ امتوں پر اور (بعد میں) کچھ امتیں ایسی بھی ہیں جنہیں ہم (دنیا میں چند روزہ) عیش دیں گے پھر (آخرت میں) ان کی بد کاری سے ان پر ہماری طرف سے عذاب درد دینے والا پہنچے گا

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل کا حال اور کشتی سے اترنے کی کیفیت اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :'' اے نوح ! ہماری سلامتی کے ساتھ کشتی سے اترو اور ہماری جانب سے تمہارے ہاں برکتیں ہوں گی ''۔ یعنی تمہاری نسل میں یہاں تک کہ تمام بنی آدم تمہاری اولاد کہلائے گی مگر علم الہی کے موافق تمہاری نسل میں دو فرقے ہوں گے۔ ایک تو راہ راست پر آنے والا فرقہ ہوگا جو دنیا اور عقبیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور دوسرا نافرمان لوگوں کا فرقہ ہوگا جو دنیا کی چند روزہ راحت اٹھا کر پھر عقبیٰ اور دنیا کے طرح طرح کے عذابوں میں پکڑا جاوے گا۔ قوم عاد سے لے کر قریش تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل کی جو حالت دنیا میں پیدا ہونے کے بعد گزری، ان قوموں کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے موافق مبہم طور پر وہ سب حالت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جتلادی۔ اسی قسم کی آئندہ کی سچی پیشین گوئیوں سے قرآن شریف کا کلام الہی ہونا اور حضرت محمد رسول ﷺ کا برحق رسول ہونا ثابت ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ کشتی کا منہ مکہ کی طرف تھا اور کشتی مکہ کے گرد پھرا کر اس کا منہ اللہ تعالیٰ نے جودی پہاڑ کی طرف پھیر دیا وہاں آکر ٹھری۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نیچے اترے اور ایک گاؤں بسایا جس کا نام ثمانین رکھا۔ اس دن انہوں نے شکریہ کا روزہ رکھا تھا عاشورہ کا دن تھا۔ آنحضرت ﷺ کو جب معلوم ہوا تو حضور نے بھی عاشورہ کا روزہ رکھا اور اصحاب کو بھی حکم دیا۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (نوح کا قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے کہ جس کو ہم (اے محبوب دوعالم ﷺ) تمہاری طرف وحی کرتے ہیں (اس سے پہلے نہ تم) ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم کے لوگ جانتے تھے پس (اپنی قوم کی ایذاؤں پر) صبر کرو بیشک بھلا انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے

مشرکین کو قائل کرنے کا ذکر اس آیت میں مشرکوں کو قائل کرنے کو یہ فرمایا کہ یہ قصہ اور اسی طرح کے زمانہ گزشتہ کے اور قصے غیب کی خبریں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے جتلایا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ جتلاتا ہے اسی کو صحیح طور پر یہ قصے معلوم ہوتے ہیں دوسرے کو ان قصوں کا حال کیا معلوم ہوسکتا ہے۔ مشرکین مکہ تو ان پڑھ لوگ ہیں، اس طرح کی غیب کی خبروں کا ان کا انکار کرنا تو محض سرکشی کے سبب سے ہے۔ کچھ دنوں ان کی سرکشی پر اے محبوب ﷺ تم کو صبر کرنا چاہئے انجام کار یہی ہوگا کہ اے اللہ کے رسول ! تم کو اور تمہارے ساتھ جو اللہ سے ڈرنے والے پرہیزگار لوگ ہیں ان کو غلبہ ہوگا اور اللہ کی وحی اور غیب کی خبروں کے جھٹلانے والے یہ سرکش لوگ آخر ذلیل ہوں گے۔
Ayahs 11:50–53

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو (پیغمبر بناکر) بھیجا ہود نے کہا :'' اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تم تو محض جھوٹی باتیں باندھ لینے والے ہو

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم (کے لوگو) میں تم سے اس پیغام پر کچھ اجرت نہیں چاہتا میری مزدوری تو اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر کیا تم کو عقل نہیں ہے

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اے میری قوم ! اپنے پر روردگار سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تاکہ وہ تم پر خوب بارش برسادے اور (ایمان وعمل کی برکت سے) تم کو اور قوت دے کر تمہاری قوت (موجودہ) میں ترقی کردے گا اور نہ پھرو تم گنہگار ہوکر ''

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

کہنے لگے :'' اے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں لائے اور ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں تمہارے کہنے سے اور نہ ہم تمہاری بات پر یقین لائیں

قوم ہود کا ذکر ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے قوم عاد کی ہدایت کے واسطے اسی قبیلہ میں سے ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا۔ انہوں نے فرمایا '' اے قوم میری ! تم اس خدا کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ تم جن بتوں کو پوجتے ہو اس خیال میں جھوٹے ہو، کوئی سند تمہارے پاس اس کی نہیں ہے کہ سوا اللہ کے اور کوئی معبود ہے۔ میں جو نصیحت کرتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں۔ اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا ہوں، یہ محض اللہ کے لئے ہے وہی اجر دے گا جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ ایک شخص بلا اجرت مفت میں تمہاری دنیا و آخرت کو درست کر رہا ہے اور تم اس کا کہنا نہیں مانتے۔ اپنے سرکش سرداروں کے کہنے پر چلتے ہو۔ اے قوم ! تم کو بھی ضروری ہے کہ جو کچھ تم سے گناہ ہوچکے ہیں اس کے لئے خدا سے استغفار کرو اور آئندہ کے لئے توبہ کرلو کہ اب گناہ کے پاس نہ جائیں گے۔ اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے موسلا دھار مینہ برسائے گا تمہاری ساری کھیتیاں سرسبز ہوجائیں تمہارے رزق میں ترقی ہوجائے گی اور تمہاری قومیں بھی بڑھ جائیں گی اور اگر میری نصیحت سے منہ موڑو گے تو مجرم ٹھروگے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اے ہود ! تمہارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے تمہارے دعوے کی صحت ہو اور ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں۔ ہود (علیہ السلام) کو بھی خد کی طرف سے عجئب و غریب معجزے ملے تھے۔ قوم عاد نے یہاں پر فقط مخالفت کی راہ سے یہ بات کہی تھی کہ تم سند لے کر نہیں آئے عاد ایک شخص کا نام تھا اسی کے نام پر ایک قبیلہ مشہور ہوگیا۔ حضرت ہود علیہ السلام، نوح (علیہ السلام) سے آٹھ سو برس کے بعد دنیا میں آئے ان کی عمر چار سو چونسٹھ برس کی ہوئی۔ قوم عاد بتوں کی پرستش کرتی تھی۔
Ayahs 11:54–60

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم کو کچھ جھپٹ پہنچی ہے (یعنی مثل جنون وغیرہ کے) ہمارے کسی معبود کی '' (ہود نے) کہا کہ بیشک میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جن کو تم اللہ کے سوا شریک ٹھراتے ہو

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

پس تم سب مل کر میرے حق میں (ہر طرح کی) بدی کرو پھر مجھے (ذرا بھی) مہلت نہ دو

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

بیشک میں نے تو اللہ پر بھروسہ کیا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے، جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں سب کی چوٹی اس نے پکڑ رکھی ہے (یعنی سب پر غالب ہے) بیشک میرا پروردگار سیدھے رستے پر (ملتا) ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم (راہ حق سے) منہ پھیرو تو میں معذور سمجھا جاؤں گا (کیونکہ) جو پیغام دے کر مجھ کو بھیجا گیا تھا وہ تم کو پہنچا چکا ہوں اور میرا پروردگار تمہارے سوا دوسری قوم کو (تمہارا) جانشین کردے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے اور بیشک میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے ''

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب کے لئے) پہنچا ہم نے ہود کو اور جو لوگ ایمان والے اس کے ساتھ تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچالیا اور ان کو سخت عذاب سے نجات دی

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ جن کا ذکر ہوا عاد ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور انہوں نے ہر ایک سرکش ہٹ دھرم کا حکم مانا

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

(اور ان افعال کا نتیجہ یہ ہوا کہ) اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگی اور قیامت کے دن بھی، آگاہ ہو بیشک عاد نے اپنے رب کا انکار کیا، آگاہ ہو دور ہوں (خدا کی رحمت سے) عاد ہود کی قوم

حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم عاد پر ہوا کا عذاب آنا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تم اکثر ہمارے معبودوں کو برا کہتے رہتے ہو اور اس کے برے اثر سے تم مجنوں اور دیوانے ہوگئے ہو۔ آخر لاچار ہوکر حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا کہ مجھے جو تم کو نصیحت کرنی تھی وہ کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا۔ آخر وہی ہوا کہ سخت ہوا سے یہ لوگ غارت ہوئے اور قوم ثمود ان کی جگہ آباد ہوئی۔ دوسرا جواب ہود (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ دیا کہ اے قوم میں اللہ کو گواہ ٹھراتا ہوں، اور تم لوگ بھی اس کے گواہ رہو کہ میں تمہاری اب شرک کی باتوں سے بیزار ہوں کہ تمہارے بتوں کو یہ قدرت ہے جو انہوں نے مجھ کو دیوانہ بنا دیا تھا تمہارے بتوں کو اگر یہ اختیار ہوتا تو تمہارا قحط دفع کردیتے، یا تمہاری عورتوں کو اچھا کرتے۔ اگر تمہارا یہی غلط خیال ہے کہ ان بتوں کو کچھ اختیار ہے تو تم اور تمہارے بت مل کر جھٹ پٹ مجھ کو کچھ صدمہ پہنچا دو ۔ میرا بھروسہ تو اس ذات پاک پر ہے، جس کا اختیار ہر ایک پر چلتا ہے اور میں یہ خوب جانتا ہوں کہ میں سیدھے راستہ پر ہوں اور اللہ تعالیٰ کا انتظام بھی سیدھا ہے وہ کسی بےگناہ کو کسی آفت میں نہیں پھنسنے دیتا اور مجھے نصیحت جو کرنی تھی وہ میں تمہیں کرچکا۔ تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تمہیں غارت کرکے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا اور جب اللہ تم کو ہلاک کرنا چاہے گا تو تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکوگے، اور اللہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ سب چیزیں اس کی نگہبانی میں ہیں تم مجھ کو نقصان پہنچانا چاہوگے تو مجھ کو اللہ کی نگہبانی کافی ہے ''۔ نبی کی بد دعا سے قوم عاد پر جو دنیا میں سخت ہوا کا عذاب آیا اور وہ لوگ سخت عذاب میں گرفتار ہوئے اب آگے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا کہ اس عذاب سے ہود اور ان کے ساتھ کے ایماندار لوگ تو بچ گئے اور ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ عاد کی ہلاکت کے قصہ کا حاصل یہی ہے کہ سات راتیں اور آٹھ دن سخت ہوا ان لوگوں پر مسلط رہی، جس سے ہلاک ہوگئے۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

قوم ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا انہوں نے کہا :'' اے قوم میری ! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اسی نے تم کو زمین (یعنی مٹی) سے پیدا کیا اور تم کو اس (زمین) میں آباد کیا پس اس سے (پہلے گناہوں کی) معافی مانگو پھر (ایمان لاکر) اس کی طرف متوجہ ہو، بیشک میرا رب نزدیک ہے دعا قبول کرنے والا

حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے درمیان میں سو برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی عمر دو سو اسی برس کی ہوئی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کو '' عاد اولیٰ '' اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کو '' عاد ثانی '' کہتے ہیں۔ تین سو سے ہزار برس تک کی عمر کے لوگ اس قوم میں گزرے ہیں۔ سورة اعراف میں ان کی قوم کا قصہ گزرچکا ہے۔ اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہم نے قوم ثمود کے پاس ان ہی کی قوم کے آدمی صالح کو پیغمبر بناکے بھیجا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ جس میں کمال کی سب صفتیں موجود ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس ذات مقدس نے تم کو زمین سے پیدا کیا یعنی آدم (علیہ السلام) کو خاک سے پیدا کیا اور تم زمین میں عمارتیں راحت اور آرام لینے کی جگہ بناتے ہو۔ نہریں اور درخت زمین میں تمہارے واسطے ہیں۔ پس اس کی درگاہ سے مغفرت چاہو اور ایمان لاؤ تاکہ تم کو بخش دے۔ اور پھر ایمان کے بعد کفر نہ کرنا، صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میرا پروردگار رحمت کے امیدواروں کے قریب ہے۔ ان پر رحمت نازل کرتا ہے اور جو دعا مانگتے ہیں ان کی دعا کو سنتا ہے ''۔
Ayahs 11:62–63

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے :'' اے صالح ! اس سے پہلے تو ہمیں تم سے (بڑی) امید تھی کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں اور جس (بات) کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو اس سے تو ہم ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں ''

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

کہا :'' اے میری قوم ! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی طرف سے مجھے رحمت (نبوۃ) بھی دی تو مجھے کون بچائے گا اللہ (کے عذاب) سے اگر میں اس کی نافرمانی کروں، پس تم مجھے سوا نقصان کے کچھ نہ بڑھاؤ گے

حضرت صالح (علیہ السلام) کی نصیحت توحید ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو خدا کا پیغام پہنچایا کہ : تم خالص خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پوجا سے باز آؤ تو یہ جواب ان لوگوں نے دیا کہ ہم لوگوں کو تجھ سے بڑی امیدیں تھیں۔ ہم سمجھتے تھے تو بڑا ہونہار لڑکا ہے باپ دادا کے دین کو ترقی دے گا۔ اور تھے ہر ایک بات میں ہم کو مدد ملے گی افسوس ہماری ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ تو ہم لوگوں کو باپ دادا کے قدیم راہ ورسم سے روکنے لگا۔ ہمارے باپ دادا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے ان کو کیونکر ہم چھوڑ سکتے ہیں۔ ہمیں تو تیری طرف سے شک ہوگیا ہے کہ جس بات کی تو ہمیں نصیحت کرتا ہے اور جس کی طرف تو بلاتا ہے۔ اس پر ہم لوگوں کو اطمینان نہیں ہے ''۔ پھر حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیا کہ اچھا تم بتلادو کہ خدا نے تو مجھے طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے کر اور رسول بنا کر تمہاری طرف بھیجا، اگر میں تم لوگوں کا لحاظ اور پاس کرکے خدا کا پیغام پہنچانے سے کسی طرح دریغ کروں، اور تمہیں اس کی طرف بلانے میں سستی کروں تو پھر کون میری مدد کرے گا اور کون خدائے قہار کے عذاب سے نجات دے گا اس لئے میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا، کیونکہ تم سے گھاٹے او نقصان کے سوا کچھ بھی نہیں حاصل ہوگا ''۔
Ayahs 11:64–68

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک نشانی ہے پس اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگانا تم کو عنقریب عذاب الہی پہنچے گا

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

پس انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں تب صالح نے کہا :'' (اچھا) تین روز تک اپنے گھروں میں اور مزے کرلو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا ہونے والا نہیں ''

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

ہھر جب ہمارا حکم آپہنچا (یعنی عذاب) تو ہم نے صالح کو اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی مہربانی سے بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی نجات دی بیشک تمہارا پروردگار قوی اور غالب ہے

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور ظالموں کو چنگھاڑ (یعنی سخت آواز) پکڑ لیا پس صبح اپنے گھروں میں اوندھے (یعنی مردہ) پڑے رہ گئے گویا کبھی یہاں رہتے ہی نہ تھے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

آگاہ ہو بیشک ثمود نے اپنے رب کا نکار کیا آگاہ ہو لعنت ہو ثمود پر

حکم الہی کی مخالفت پر عذاب الٰہی قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا حضرت صالح (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔ اور پتھر کے اندر سے ایک اونٹنی پیدا کردی اور اونٹنی نے اسی وقت ایک بچہ دیا اور وہ بچہ بھی اسی وقت ماں کے برابر ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا یہ خدائی اونٹنی ہے اسے چھوڑ دو ، جہاں اس کا جی چاہے گا چرے گی تم اسے نہ ستانا اور نہ بری طرح چھیڑنا۔ اگر ستاؤگے تو یاد رکھو بہت جلد عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ قوم نے آخر اونٹنی کو ستایا حکم الٰہی کی مخالفت کی اور بچہ اونٹنی کا پہاڑ پر چڑھ گیا اور تین بار چلایا اور حضرت صالح (علیہ السلام) اس وقت قوم میں نہ تھے۔ جب آئے اور لوگوں نے ان سے یہ حال بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ '' تین آوازوں سے یہ مطلب ہے کہ تین دن بعد تم پر عذاب الہی نازل ہوگا تین دن تم اور زندگی سے فائدہ اٹھا لو یعنی بدھ، جمعرات اور جمعہ، یہ تین روز تمہاری زندگی کے ہیں۔ اور ہفتہ کے روز تم پر عذاب نازل ہوگا یہ وعدہ سچا ہے جھوٹا نہیں ''۔ بدھ کے روز ان کے چہرے زرد ہوگئے اور جمعرات کو سرخ اور جمعہ کو سیاہ اور ہفتہ کو وہ سب سوئی تھے کہ یک بیک آسمان سے اتنے زور کی آواز آئی کہ ان بد بختوں کے کلیجے پارہ پارہ ہوگئے اور جس طرح پڑے سوئے تھے ویسے کے ویسے مر کر رہ گئے اور بالکل پیوند زمین ہوگئے گویا یہ شہر ان سے بسا ہی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) اور مومنین کو اپنی رحمت سے اس عذاب سے بچالیا اور ان لوگوں کی طرح رسوائی سے الگ رکھا۔ پھر خدا نے فرمایا کہ دکھو قوم ثمود نے توحید کا انکار کیا اور کافر کے کافر رہے اسی واسطے خدا کی رحمت سے دور پڑے گئے۔
Ayahs 11:69–73

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور بیشک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے بشکل بشر) ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر آئے (اور) سلام کیا ابراہیم کو، ابراہیم نے بھی سلام کیا پھر کچھ بھی دیر نہ لگی کہ ابراہیم ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے (مہمانوں کے کھانے لئے)

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کو نہیں اٹھتے تو ان کو اجنبی سمجھا اور ان کی طرف سے دل میں ڈرنے لگے وہ بولے :'' خوف نہ کرو ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ''

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بی بھی (حضرت سارا بھی) کھڑی ہوئی (سن رہی) تھی وہ ہنس پڑی (یعنی اندیشہ کے دور ہوجانے سے خوش ہوگئیں) تو ہم نے اسے اسحٰق کے پیدا ہوجانے کی خوش خبری دی اور اسحٰق کے پیچھے یعقوب کی

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ بولی :'' اے ہے ! کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میرے بچہ ہوگا اور میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا شوہر بھی بوڑھا ہے، بیشک یہ تعجب کی بات ہے ''

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا :'' کیا تو خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہے اے گھر والو اللہ کی رحمتیں اور برکتیں تم پر (ہوں) بیشک خدا سب خوبیوں والا عزت والا ہے ''

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں فرشتوں کی مہمان داری اور بشارت دینا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ تین فرشتے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل یہ تینوں فرشتے خوبصورت لڑکوں کی صورت بن کر پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشی بتانے کو آئے اور آتے ہی سلام کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کا جواب دیا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو پہچانا نہیں مہمان سمجھا اور اپنی عادت کے موافق کہ جب کوئی مہمان آجاتا تو خاطر تواضع کرتے تھے۔ ان کے کھانے پینے کا بھی انتظام کرنے لگے اور ایک جوان گائے ذبح کر کے اس کے کباب لگائے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کے آگے کھانا رکھا تو ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھے کیونکہ فرشتوں کی غذا خدا کی تسبیح ہے۔ جب مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھے تو ابراہیم (علیہ السلام) دل میں بہت ڈرے کیونکہ اس زمانے میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی مہمان آئے اور کھانا نہ کھائے تو ڈرتے تھے کہ خدا خیر کرے یہ کسی برے ارادے سے آیا ہے۔ ایسا آدمی اس کے گھر کا نمک نہیں کھاتا تھا۔ غرض جب ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں خوف ہوا تو خدا کے حکم سے ان فرشتوں نے سمجھ لیا اور کہا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! تم ڈرو نہیں ہم خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے۔ ان کی بیوی جن کا نام سارہ تھا مہمانوں کی تواضع کے لئے پردہ کی آڑ میں کھڑی تھیں۔ جب انہوں نے سنا تو ہنسیں۔ اس کے کئی سبب بیان کئے ہیں :۔ (1) اولاد کی بشارت سن کر تعجب سے ہنس دیں کیونکہ عورتوں کو مردوں سے زیادہ خوشی ہوتی ہے اور حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی۔ (2) یا یہ کہ بڑھاپے میں اولاد کی بشارت سن کر ہنس دیں۔ غرض کہ ان کو بشارت دی گئی کہ تمہارے بطن سے حضرت اسحٰق (علیہ السلام) پیدا ہوں گے اور ان کے بعد یعقوب (علیہ السلام) تمہارے پوتے پیدا ہوں گے یہ سن کو ان کو بہت تعجب ہوا کہ میں بوڑھی میرے شوہر بالکل بوڑھے، اس عمر میں لڑکا ہونا بہت ہی تعجب کی بات ہے ''۔ فرشتوں نے جواب دیا :'' کیا تم خدا کی باتوں سے تعجب کرتی ہو، خدا کے کارخانہ قدرت میں سب کچھ ہے۔ اے گھر والو ! خدا کی رحمت تم پر ہے اور برکت بھی ہے کہ اسحاق (علیہ السلام) کے بعد تم اپنے پوتے اسحٰق (علیہ السلام) کے بیٹے کو بھی دیکھو گی۔ وہ خدا بڑا تعریف اور بزرگی کے قابل ہے ''۔
Ayahs 11:74–76

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب کہ ابراہیم کے دل سے خوف دور ہوگیا اور اسے (بیٹا پیدا ہونے کی) خوش خبری ملی تو ہم سے لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیش ابراہیم بڑا بردبار نرم دل خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہے

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

(فرشتوں نے کہا) اے ابراہیم ! اس خیال کو چھوڑدو بیشک تمہارے رب کا حکم آچکا، اور بیشک ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح پھیرا نہ جائے گا

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب خوشی سنائی گئی اور ان کا خوف بھی جاتا رہا تو یہ سن کر کہ یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے جارہے ہیں ان کا دل بہت کڑھنے لگا اور فرشتوں سے جھگڑنے لگے کہ جس گاؤں میں کچھ مسلمان ہوں گے اس کو ہلاک کرو گے۔ فرشتوں نے کہا کہ ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ پھر کہا کہ لوط (علیہ السلام) بھی تو ہیں جواب دیا کہ ہمیں معلوم ہے لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والے سوائے ان کی بیوی کے سب بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتوں سے جھگڑا جو کیا اس کا سبب یہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) بہت نرم دل تھے چاہتے تھے کہ کچھ دنوں اور عذاب تھم جائے شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں۔ پھر فرمایا کہ تم اس خیال سے باز آجاؤ خدا کا حکم جاری ہوچکا، ان پر ضرور عذاب آئے گا جو کسی طرح رک نہیں سکتا۔
Ayahs 11:77–79

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پس پہنچے تو (اس نے بھی ان کو نہیں پہچانا اور) وہ ان سے غمگین ہوا اور ان کے (آنے کے) سبب سے تنگ دل ہوا اور کہنے لگا کہ آج کا دن بہت سخت ہے

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے لوگ دوڑے ہوئے اس کی طرف آئے اور لوگ پہلے ہی سے برے کام کرتے تھے (لوط نے) کہا :'' اے میری قوم ! یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں (ان سے نکاح کرلو) پس اللہ سے ڈرو اور مجھ سے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا :'' بیشک تو جانتا ہے کہ ہم کو تیری (قوم کی) بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں (تعلق نہیں) اور تجھ کو خود معلوم ہے جو کچھ ہم چاہتے ہیں ''

حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ جب فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان کے آنے سے دل ہی دل میں بہت کڑھے اور بہت پریشان ہوئے۔ کیونکہ وہ اپنی قوم سے واقف تھے سمجھے کہ آج کا روز بہت سخت ہوگا قوم سے ان کی خاطر جھگڑنا پڑے گا۔ جب گھر میں وہ فرشتے آچکے تو ان کی بیوی نے اپنی قوم کو خبر دی کہ ہمارے گھر میں جوان جوان اور حسین حسین تین لڑکے مہمان آئے ہیں۔ ان کی قوم یہ خبر سنتے ہی دوڑ پڑی کیونکہ ان کو برے کاموں کی چاٹ لگی ہوئی تھی۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا :'' بھائیو ! میری قوم کی لڑکیاں حاضر ہیں تم ان سے نکاح کرلو۔ یہ تمہارے واسطے حلال اور پاک ہیں اور خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے خیال سے درگزر کرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی شخص نیک اور خدا سے ڈرنے والا نہیں ہے ''۔ ان کی قوم نے جواب دیا '' اے لوط (علیہ السلام) ! تمہیں پہلے سے معلوم ہے کہ ہم کو تمہاری لڑکیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم لوگ جس بات کے خواہاں ہیں تم خوب جانتے ہو ''۔ یہ لوگ خوبصورت لڑکوں سے جو بدفعلی کیا کرتے تھے ان لفظوں میں وہی خواہش انہوں نے ظاہر کی۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا :''' کیا خوب ہوتا اگر مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی زور آور قوم کی پناہ پکڑتا ''

قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب کا آنا جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نہیں مانی اور مہمانوں کے لینے میں ضد کی تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا :'' کاش مجھ میں ذاتی قوت ہوتی یا یہاں میرا کنبہ ہوتا یا کوئی اور دوست احباب حامی و مددگار وقت پر ساتھ دینے والے ہوتے تو میں ان سے کہ کر تمہیں یہاں سے دھکے دلواتا ''۔