11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمظہر القرآن

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا :'' اے لوط ! (علیہ السلام) بیشک ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں وہ تم تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے پس تم اپنے گھر والوں کے لے کر کچھ رات گزرنے پر (یہاں سے باہر) چلے جاؤ اور تم میں سے کوئی شخص بھی مڑ کر (اس بستی کی طرف) نہ دیکھے مگر تمہاری بیوی، بیشک اسے بھی وہی عذاب پہنچنے والا ہے جو ان لوگوں کو پہنچے گا۔ البتہ ان لوگوں کے لئے عذاب کا مقررہ وقت صبح کا ہے کیا صبح قریب نہیں ہے ؟

جب حضرت لوط علیہ السلان قوم کے لوگوں کے حملہ سے بہت ہی پریشان ہوئے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی دور کرنے کی غرض سے ان فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جتلا یا کہ : ہم اللہ کے فرشتے ہیں، اور پتھروں کا مینہ برساکر اور بستی الٹ کر اس قوم کو ہلاک اور بستی کو نیست و نابود کریں گے۔ آپ معہ اہل و عیال کے فقط اپنی بیوی کو چھوڑ کر اس بستی سے چلے جائیں۔ صبح اس قو پر عذاب آئے گا اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے ''۔ بعض سلف کا قول ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کی سرکشی سے یہاں تک تنگ آگئے تھے کہ انہوں نے رات ہی کو عذاب کے آجانے کی تمنا ظاہر کی۔ اس کا جواب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے یہ دیا کہ عذاب کے آنے کا مقررہ وقت صبح ہے اور صبح بھی نزدیک ہے کچھ دور نہیں ہے۔
Ayahs 11:82–83

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم (عذاب کے لئے) پہنچا تو ہم نے اس بستی کو (الٹ کر اس کے) اوپر (والے حصے کو اس کے) نیچے کردیا اور اس پر لگاتار پتھر کے کنکر برسائے۔ جو تمہارے پروردگار کے ہاں (ان کے لئے) نشان کئے ہوئے تھے

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

اور وہ (پتھراؤ کی جگہ ان) ظالموں (یعنی کفار مکہ) سے کچھ دور (بھی) نہیں ہے۔ (تو چاہئے کہ اس کے حال سے عبرت پکڑیں)

مطلب یہ ہے کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) خدا کے حکم سے باہر چلے گئے اور خدا کا عذاب آیا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا پر زمین کے اندر ڈال کر اس زمین کا طبقہ اٹھا لیا اور آسمان کی طرف لے گئے۔ آسمان والوں نے اس وقت مرغوں کے بولنے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اس طبقہ کو اٹھا کر زمین کی طرف پھینک دیا یہ لوگ اوندھے آکر زمین پر پڑے۔ پھر پتھر کی کنکریوں کی بھرمار اوپر سے ہوئی۔ ان کنکریوں پر لوگوں کے نام کی مہریں لگی ہوئی تھیں، جس کے نام کی کنکری ہوتی اسی پر پڑتی تھی۔ پھر خدا نے فرمایا کہ یہ بات ظالموں سے کچھ بعید نہیں۔ وہ لوگ اپنے ظلم کے سبب سے اسی لائق تھے وہاں کی زمین تلے اوپر کردی جائی۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور ہم نے (قبیلہ) مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب (علیہ السلام) کو (پیغمبر بناکر) بھیجا اس نے کہا :'' اے میری قوم ! تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اور تم ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر اس دن کے عذاب سے جو (ہر طرح کی مصیبتوں کو) گھیر لے گا

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قبیلہ مدین کا بھائی فرمایا۔ مدین والے بہت خوشحال تھے اب میں ایک عادت علاوہ بت پرستی کے یہ بھی تھی کہ جب وہ سودا خریدتے تھے تو بڑھتی لیتے تھے اور جب بیچتے تھے تو کم دیتے تھے۔ دوقسم کے پیمانے اور بٹے بنا رکھے تھے، بیچنے کا اورا خریدنے کا اور۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور نبی بناکر حکم دیا کہ ان کو خدا کی طرف بلاؤ۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان کو ہدایت کی کہ : تم خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور ناپ تول میں کمی بیشی نہ کیا کرو۔ پورا پورا تول کرلو اور پورا پورا تول کر دو ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آسودہ حال بنایا ہے اگر ایسا نہ کروگے تو خوف ہے کہ یہ نعمت تم سے چھن جائے گی اور سختی و تنگی کا سامنا ہو۔ اور تم پر ایسا عذاب آئے کہ تم اس سے بچ نہ سکو۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرا کرو

اس آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی امت کو نصیحت کی تھی کہ تم لوگوں کے زمانہ سے تھوڑے ہی زمانہ پہلے قوم لوط (علیہ السلام) کے لوگ عذاب الہی میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ سرکشی کروگے تو تم لوگ بھی عذاب الہی میں گرفتار ہوجاؤ گے۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

جو نفع کہ اللہ نے حلال کردیا ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں ہوں ''

جب حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم مدین کو خالص خدا ہی کی عبادت کرنے اور ناپ تو میں پورا پورا لینے دینے کو کہ چکے، تو پھر فرمایا کہ پورا پورا ناپنے اور تولنے کے بعد جو خدا کا دیا ہوا تم کو بچ رہے وہ تمہارے لئے بالکل پاک اور حلال ہے اور میں تمہارا نگہبان ہوں کہ تمہیں گناہ میں نہ پڑنے دوں یا میرے ہاتھ میں تمہارا حساب وکتاب نہیں ہے جس کا بدلہ میں تمہیں دوں۔ میں تو خدا کی طرف سے صرف تمہاری جس نصیحت کو بھیجا گیا ہوں اس نصیحت کا مطلب میں نے تمہیں سمجھا دیا۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے :'' اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے یا ہم اپنے مالوں میں اپنی خواہش کے موافق معاملہ نہ کریں، پس تم ہی تو عقلمند اور معاملہ کے اچھے ہو ''

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا جواب حضرت شعیب (علیہ السلام) پہلے رسولوں میں سے زیادہ نماز پڑھا کرتے تھے اسی واسطے ان کی قوم نے یہ جواب دیا کہ یہ سب تمہاری نماز کا اثر ہے جو تم ہم لوگوں کو ہر بات سے منع کرتے ہو ایسا کب ممکن ہے جو ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے۔ اور اپنے مال کے بھی ہم مختار ہیں جس طرح چاہیں گے الٹ پھیر کریں گے تم کون ہو منع کرنے والے۔ پھر بطور طعن کے یہ بات کہی کہ تم بڑے بردبار اور نیک بخت ہو کہ ہماری عادتوں کو برا جانتے ہو۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

شعیب نے کہا :'' اے میری قوم ! بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے نیک روزی دی (یعنی نبوت تو پھر کیسے تبلیغ نہ کروں) اور میں یہ نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے میں تمہیں منع کرتا ہوں میں خود اس کے خلاف کرنے لگوں، جہاں تک میرے امکان میں ہے اصلاح ہی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور مجھ کو جو کچھ (عمل و اصلاح کی) توفیق ہوجاتی ہے صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں

یہ جواب ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا تھا کہ اے قوم ! خدا نے مجھے یہ ظاہر ظاہر معجزے دیئے اور نبوت دی اور مجھے دنیا میں پاک اور حلال روزی دے رکھی ہے۔ میں جن باتوں سے تمہیں روکتا ہوں چھپ چھپ کر میں بھی ان کو نہیں کروں گا۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمہیں تو کسی کام سے منع کروں اور میں آپ اس کو کروں میرا ارادہ تو اصلاح کا ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہو تمہاری آخرت اور دنیا دونوں درست ہوجاویں اور میں تابمقدور تمہارے معاملات درست کرنا چاہتا ہوں اور میرا ہدایت کرنا اور راہ حق بتانا خدا کی مدد سے ہے اور اسی پر میرا بھروسہ بھی ہے اور میں اسی کی طرف پھر کر جانے والا ہوں
Ayahs 11:89–90

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اے میری قوم ! کہیں میری ضد تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہوجائے کہ تم پر بھی وہی مصیبت آپڑے جیسی کہ قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر پڑگئی تھی، اور قوم لوط (کا معاملہ) تم سے بہت دور (زمانہ کا ( نہیں ہے

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے رب سے گناہوں کی معافی چاہو پھر اس کی طرف متوجہ ہو۔ بیشک میرا پروردگار مہربان محبت والا ہے ''

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میری ضد میں آکر کبھی تم اپنی بات پر نہ اڑے رہنا۔ میرے کہنے پر عمل کرو نہیں تو جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا اور ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح تم پر بھی عذاب آجائے گا اور پھر کچھ بن نہ آئے گا۔ ابھی کچھ زیادہ دن نہیں ہوئے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہلاک ہوچکی ہے۔ کل کی بات ہے وہ سرزمین بھی کچھ زیادہ دور نہیں قریب ہی ہے۔ تم کو واجب ہے توبہ استغفار کرو، خدا مہربان ہے اپنے بندوں سے اس کو محبت ہے وہ تمہاری توبہ قبول کرلے گا اور گناہ بخش دے گا۔
Ayahs 11:91–92

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

وہ بولے :'' اے شعیب ! ہم نہیں سمجھتے ہیں تمہاری بہت سی باتیں جو تم کہتے ہو اور بیشک تم کو ہم اپنے کمزور لوگوں میں دیکھتے ہیں اگر تمہاری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تمہیں سنگسار کردیتے اور تم کچھ ہماری نگاہ میں عزت دار نہیں ہو ''

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

شعیب (علیہ السلام) نے کہا :'' اے میری قوم ! کیا میری برادری کا دباؤ تم پر (نعوذ باللہ) اللہ سے بھی زیادہ ہے ؟ اور تم نے اس کو پس پشت ڈال رکھا بیشک جو کچھ تم کرتے ہو سب میرے پروردگا کے بس میں ہے

جب حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے ہی گئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) ! تم جس قدر ہم لوگوں کو سمجھاتے ہو ہماری سمجھ میں ایک نہیں آتا اور تم ہم لوگوں سے بہت کمزور ہو، ہمیں تمہارے بھائی بندوں کا خیال ہے نہیں تو تم کو سنگسار کردیتے تم ان باتوں سے اب ہم کو اچھے نہیں لگتے ''۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) خدا کی محبت میں اتنا روئے تھے کہ ان کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ پھر شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی بندوں کا خیال ہے وہ کیا خدا سے بھی زیادہ تمہیں عزیز ہیں۔ ان کی عزت کا خیال کر کے مجھے چھوڑتے ہو اور خدا کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ جس کی عزت کے سامنے کسی کی بھی عزت نہیں خری جو کچھ تم کرتے ہو اور جتنے عمل تمہارے ہیں سب کو خدا کا علم گھیرے ہوئے ہے وہ ذرہ ذرہ جانتا ہے تمہیں اس کا بدلہ دے گا ''۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم تم اپنے طور پر عمل کرتے رہو میں بھی اپنے (اپنے طور پر) عمل کرتا ہوں سو اب جلدی تم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آنے والا ہے کہ اسے رسوا کرے گا اور وہ کون شخص ہے جو جھوٹا ہے اور تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

جن ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا تو آخر درجہ انہوں نے یہ فرمایا کہ '' خیر تمہارا جو جی چاہے وہ کرو، اب تم کو معلوم ہوجاوے گا کہ تمہاری کیا رسوائی ہونے والی ہے '' آخر وہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں عذاب آگیا۔
Ayahs 11:94–95

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب کے لئے) پہنچا (تو) ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ میں اہل ایمان تھے ان کو اپنی رحمت سے بچالیا اور پکڑ لیا ان لوگوں کو ایک شخص کی آواز نے جنہوں نے ظلم کیا تھا پس صبح اپنے گھروں میں (مردہ ہوکر) اوندھے پڑے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے آگاہ ہو قوم مدین کو رحمت سے دوری ہے جیسا کہ ثمود والے رحمت سے دور ہوئے تھے

شعیب (علیہ السلام) کی ظالم قوم پر عذاب کا آنا : جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناامید ہوگئے اور جان لیا کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے تو اس وقت خدا کا عذاب آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول شعیب (علیہ السلام) کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو اپنی رحمت سے بچالیا اور قوم شعیب (علیہ السلام) کو جنہوں نے ظلم کیا تھا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہیں لائے۔ یہ سب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی ایک سخت چیخ سے اس طرح ہلاک ہوگئے جس طرح قوم ثمود چنگھاڑ سے ہلاک ہوئی اس لئے یہاں ثمود کا نام لیا قوم لوط کا نام نہیں لیا۔
Ayahs 11:96–99

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل کے ساتھ فرعون اس کے سرداروں کی طرف بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

تو وہ لوگ (بھی) فرعون کے کہنے پر چلے اور فرعون کا کام ٹھیک نہ تھا

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا، پھر ان کو دوزخ میں لا اتارے گا، وہ بہت ہی بری جگہ ہے (دوزخ) اترنے کی

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور ان کے پیچھے اس جہان میں لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی کیا ہی برا انعام ہے جو انہیں دیا گیا

رسول اللہ ﷺ کے فائدے کے لئے پچھلے واقعات کا ذکر اوپر کے قصوں کے بعد ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے فرعون بادشاہ مصر اور اس کے وزیروں اور سرداروں کے پاس بھیجا۔ کوئی بھی ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا، فرعون ہی کے دین پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فرعون کا طریقہ کوئی نیک انجام نہ تھا، بالکل گمراہی کا طریقہ تھا اس لئے جس طرح وہ لوگ دنیا میں فرعون کے تابعدار رہے اسی طرح قیامت کے دن بھی یہ لوگ فرعون کے پیرور رہیں گے۔ اور فرعون کے پیچھے پیچھے دوزخ میں چلے جائیں گے یہ لوگ جس گھاٹ پر جائیں گے وہ بہت ہی برا گھاٹ ہوگا۔ پھر فرمایا کہ ان پر دنیا میں بہت لعنت ملامت ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے لوگ ان کے بعد ہوں گے اور ان کا قصہ سنیں گے ان پر لعنت کریں گے اور آخرت میں بھی اہل محشر اب پر لعنت بھیجیں گے۔
Ayahs 11:100–101

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ چند بستیوں کے حالات ہیں جنہیں ہم تم کو سناتے ہیں ان میں سے کچھ تو بستیاں اب تک باقی ہیں اور کچھ غارت ہوگئی ہیں

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے تو ان پر کچھ ظلم نہیں کیا تھا بلکہ خود انہیں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور ان جھوٹے معبودوں سے ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں بڑھا سوائے ہلاکت کے

اوپر چند قصے بیان فرما کر اب نتیجہ کے طور پر فرمایا :'' اے رسول اللہ کے (ﷺ) ! یہ پہلی امتوں کی خبریں ہیں یعنی ان لوگوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ جیسا کیا ویسا پایا۔ یہ گاؤں اور شہر جن پر عذاب آتا گیا بعض تو ایسے ہیں کہ بالکل نیست و نابود نہیں ہوئے ویران کردیئے گئے، اور بعضوں کا طبقہ ہی الٹ دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں تھا آپ ہی ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور نہ راہ حق پر آئے بتوں کی پرستش کرتے رہے، اور جب عذاب آیا تو ان کے وہ جھوٹے معبود کچھ نہ کرسکے۔ آخر کار یہی ہوا کہ ان کی بت پرستی نے ان کو ہی کر کے چھوڑا۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار کی ایسی ہی پکڑ ہے جب وہ بستیوں (والوں) کو پکڑ تا ہے اس حالت میں کہ وہ ظلم کرتے ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی درد دینے والی سخت ہے

اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے رسول برحق ﷺ کو یہ خبر دی کہ تمہارے خدا کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب کسی ظالم کو پکڑ لیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ جیسے یہ بستی جس میں یہ ظالم بستے تھے جن کا ذکر ہوچکا ہے کہ آخر برباد ہی کردیئے گئے۔ اس کی پکڑ بہت دردناک ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ حکم انہیں گاؤں اور بستیوں کے لئے تھا اوروں کے واسطے نہیں ہے نل کہ ہر ایک ظالم کا یہی نتیجہ ہوگا۔
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

بیشک اس بیان میں اس شخص کے لئے نشانی ہے جو ڈرتا ہے عذاب آخرت سے وہ ایک ایسا دن ہے جس میں سب لوگ جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے

انبیائے سابق اور ان کی امتوں کے ذکر کے دو فائدے تو اوپر مذکور ہوچکے۔ یہ تیسرا فائدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ حاصل اس فائدہ کا یہ ہے کہ کافر اور منافق کے دل تو ایسے سخت ہوگئے ہیں کہ ان کے دل پر کسی نصیحت کا اثر نہیں ہے۔ ہاں جو لوگ اللہ اور رسول اور قیامت کے قائم ہونے پر ایمان لاچکے ہیں ان پچھلے قصوں سے ان کو ایک بڑی عبرت ہونی چاہئے۔ اس واسطے کہ پچھلی امتوں کا دنیا کا عذاب سن کر پورا یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے وعدے کا ظہور جس طرح دنیا میں ہوچکا، اسی طرح آخرت کے عذاب کا اس کا وعدہ سچا ہے اور ضرور ایک مقررہ دن پر اس کا ظہور ہونے والا ہے۔ اس دن کے لئے کچھ نیکی کرنی چاہئے تاکہ اس دن چھٹکارا ہو۔
Ayahs 11:104–105

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اس کو (یعنی روز قیامت کو) پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

(پھر) جس وقت وہ دن آوے گا تو کوئی بےحکم خدا بات نہ کرے گا، پھر کچھ تو ان میں سے بد بخت (یعنی کافر) ہیں۔ اور کچھ نیک (یعنی مومن) ہیں

اس آیت میں فرمایا کہ قیامت کے آنے میں دیر اس لئے ہورہی ہے کہ خدا نے یہ بات اس لئے ٹھرائی ہے کہ جب تک دنیا کے تمام پیدا ہونے والے لوگ پیدا نہ ہولیں گے اور ان کے پیدا ہونے کے لئے مدت مقرر ہے وہ پوری نہ ہوجائے گی اس دن تک قیامت نہ آئے گی۔ پھر فرمایا کہ جب وہ دن آئے گا تو کسی کی مجال ہے جو بغیر حکم خدا کے ایک بات بھی زبان سے نکال سکے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جتنے لوگ ہوں گے ان میں سے بعض بد بخت ہوں گے جن کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور بعض نیک بخت ہوں گے جن کے لئے جنت بنائی گئی ہے۔
Ayahs 11:106–107

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

پس جو لوگ کہ بد بخت ہیں تو وہ آگ میں ہوں گے کہ اس میں (گدھے کی طرح سے) چیختے چلاتے رہیں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے، بیشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کرتا ہے

بد بختوں اور نیک بختوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بد بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے دین قبول کرنے سے انکار کیا اور کجروی سے باز نہیں آئے اور بد بخت کے بد بخت ہی رہے، ان کے واسطے دوزخ میں جگہ ہے۔ وہاں یہ لوگ خوب روئیں گے چیخیں گے چلائیں گے دھاڑیں گے، پھر بھی یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ مگر خدا جس پر چاہے گا ایک عذاب ہمیشہ نہیں رکھے گا بلکہ اس کو بدل کر دوسرا عذاب بھیج دے گا۔ مثلا اگر چاہے گا گرم دوزخ میں سے نکال کر ٹھنڈی دوزخ میں ڈال دے گا۔ ہر دوزخ میں طرح طرح کے عذاب ہیں، انہی میں سے آگ کا عذاب بھی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا جو چاہے کرسکتا ہے۔
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو نیک بخت ہیں وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی

جس طرح وہاں اوپر بد بختوں کا حال بیان کیا یہاں نیک بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ نیک بخت ہیں۔ رسولوں کی پیروی کی، دین حق کو قبول کیا ان کے واسطے جنت ہے، اور ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ یعنی ان پر ایسی بخشش ہوگی جس کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کل مخلوقات کا حساب و کتاب ہوجائے گا اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت بلائی جائے گی وہ ایک بھیڑ کی صورت میں آئے گی اس کو ذبح کرکے کہا جائے گا کہ اے جنت والو ! اب موت نہیں ہے۔ اب تم ہمیشہ جنت میں رہو اور اے دوزخ والو ! اب موت نہیں ہے تم ہمیشہ دوزخ میں رہو۔
Ayahs 11:109–110

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

پس (اے مخاطب ! ) جس چیز کی یہ کافر پوجا کرتے ہیں اس کے بارے میں دھوکے میں نہ پڑو، یہ لوگ بھی اس طرح (خلاف دلیل) پوجتے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے۔ اور ہم یقینا (قیامت کو) ان کا حصہ (عذاب کا) ان کو پورا پورا بغیر گھٹائے پہنچائیں گے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (یعنی توریت) دی پھر اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی پہلے سے ایک بات مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو جب بھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک وہ اس کی طرف سے ایسے شک میں (پڑے) ہیں (جس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے)

کفار کی مذمت اللہ پاک نے حضرت رسول خدا ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ یہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں ان کے مشرک ہونے میں تم کچھ شک نہ کرو مشرکین مکہ بت پرستی کو ملت ابراہیمی بتلاتے تھے جس سے ناواقف مسلمانوں کو دھوکا ہوتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھرا کر ان ناواقف مسلمانوں کو یہ جتلایا کہ بت پرستی کے شرک نہ ہونے کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔ یہ فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں ہم ان کا بدلہ پورا پورا ان کو دیں گے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی۔ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعضے ایمان لائے اور بعضے ایمان نہیں لائے تم پر بھی جو قرآن اتارا گیا ہے تو بعضے ایمان لے آئے اور بعضے ایمان نہیں لاتے ہیں۔ یہ اختلاف پہلے سے ہوتا آرہا ہے اس کا کچھ غم نہیں کرنا چاہئے۔ پھر فرمایا کہ اگر ایک خاص مدت تک دنیا کا قائم رکھنا اللہ کو منظور نہ ہوتا اور اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب نہ ہوتی تو ابھی اس کا فیصلہ ہوجاتا۔ پھر فرمایا جو لوگ خدا کی کتاب کی طرف سے اپنے جی میں شک کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی جزا سزا اچھی طرح پوری دی جائے گی۔ خدا کو ان کے ہر ایک عمل کی خبر ہے۔
Ayahs 11:111–113

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور بیشک ہر ایک کو تمہارا رب ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا۔ بیشک اس کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ کررہے ہیں

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

پس جس طرح تم کو حکم ہوا ہے (راہ دین پر) قائم رہو اور وہ لوگ بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ہے اور (اے لوگو ! ) حد سے بہ بڑھو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے اور (اے مسلمانو ! ان ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تم کو (دوزخ کی) آگ چھوئی گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں ہے پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو ! ان ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تم کو (دوزخ کی) آگ چھوئی گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں ہے پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے

مستعد ہونے کا حکم، ظالموں یا کافروں سے دوستی نہ کرو اگرچہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب ٹھرایا ہے لیکن اس حکم میں آپ کی امت اول سے آخر تک سب شامل ہے۔ حکم یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کا حکم ہوا ہے اس پر قائم رہو۔ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ مستعد ہوجاؤ مستعد ہوجاؤ پھر آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہی وہ آیت ہے جس سے شرع کے کل احکام نکلتے ہیں۔ یہ خطاب مسلمانوں سے ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ حد سے نہ گزرو، دیکھو اللہ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے۔ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ اے مسلمانو ! جو لوگ ظالم ہیں یا کافر ہیں ان کی طرف میلان نہ کرو یعنی ان سے دوستی کا خیال نہ کرو ورنہ دوزخ میں جاؤگے۔ اللہ کے سوا تمہیں کوئی عذاب دوزخ سے بچانے والا نہیں اگر تم دوزخ میں داخل کئے گئے تو پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں سروں پر (یعنی نماز فجر اور ظہر وعصر) اور جو کچھ رات کے حصوں میں (یعنی مغرب وعشا) بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لئے

صغیرہ گناہ نماز سے معاف ہوجاتے ہیں : شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوالبشر ؓ چھوہارے بیچتے تھے۔ ایک نہایت خوبصورت عورت چھوہارے خریدنے آئی۔ یہ حیلہ کرکے کہ اندر چھوہارے نہایت عمدہ رکھے ہوئے ہیں مکان میں لے گئے اور بوسہ لے لیا۔ وسوسہ شیطانی سے گناہ صغیرہ کر تو بیٹھے لیکن خوف الہی طاری ہوا تو فورا روتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام قصہ عرض کیا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی کہ نماز کو قائم کرو، دن کو بھی پڑھا کرو اور رات کو بھی، دن میں اعلی طرف کی نماز فجر کی نماز ہے، اور اسفل طرف کی نماز ظہر اور عصر کی نماز ہے اور رات کی نماز میں مغرب اور عشاء ہیں۔ پھر فرمایا کہ بیشک پانچوں وقت کی نماز سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ تم نے ظہر کی نماز میرے پیچھے پڑھی۔ کہا :'' جی ہاں '' آپ نے فرمایا کہ : پس یہ نماز اس صغیرہ گناہ کا کفارہ ہے یہ نصیحت یاد کرنے والوں کے واسطے ہے۔
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

صبر کا اجر قیامت میں ملے گا : اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت میں جن باتوں کے بجالانے کا حکم ہے اس حکم کی تعمیل میں کوئی تکلیف آوے تو اس تکلیف پر صبر ضرور ہے، اور اس کا اجر قیامت کے دن بےانتہا ملے گا۔
Ayahs 11:116–117

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

پس جو امتیں تم سے پہلے ہوگزریں ہیں ان میں ایسے سمجھدار لوگ کیوں نہ ہوئے جو کہ (دوسرے لوگوں کو) زمین میں فساد (یعنی کفر وشرک) پھیلانے سے منع کرنے بجز چند آدمیوں کے جن کو ان میں سے ہم نے (عذاب سے) بچالیا تھا اور ظالموں نے اس چیز کی پیروی کی جس میں وہ آسودہ کئے گئے تھے اور وہ گنہگار تھے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (ایسا) نہیں کہ وہ بستیوں کو ناحق ہلاک کردے اور وہاں کے رہنے والے نیک ہوں

یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ تم سے پہلے جتنی قومیں گزری ہیں ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو سمجھدار تھے اور انہوں نے رسول کی پیروی اختیار کی تھی۔ دنیا میں ظلم و فساد سے الگ الگ رہے تھے اور ہم نے ان لوگوں کو بجات دے دی مگر ایسے لوگ بہت کم تھے اور جو لوگ دنیا کے مال و دولت پر غرور کرکے شرک سے باز نہیں آئے اور انہوں نے دین حق کی پیروی نہیں کی وہی لوگ ہلاک ہوئے۔ پھر فرمایا کہ خدا ناحق کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ لوگ ہر شخص کا خیال رکھتے اور ظلم پر کمر نہ باندھتے شرک نہ کرتے تو کبھی ہلاک نہ ہوتے، یہی خود انہیں کے ظلم کا نتییجہ تھا۔
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو بیشک سب آدمیوں کو ایک ہی امت (پر) کردیتا (سب ایک ہی راہی پر چلتے) اور ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے

دنیا امتحان کے لئے پیدا کی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میں یہ بھی قدرت ہے کہ سارے جہان کو ایک ہی دین پر رکھتا سب کے سب دین دار رہتے مگر خدا کی مرضی نہ ہوئی۔ کیونکہ دنیا کو اس نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زبردستی دین دار بنانے کے لئے نہیں پیدا کیا۔ اس لئے لوگ الگ الگ فرقے فرقے ہوگئے۔ پھر فرمایا یہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے کوئی نصاریٰ ، کوئی یہود، کوئی مجوس، کوئی مشرک، اسی طرح اپنی اپنی عقل کے موافق الگ الگ مذہب قائم کریں گے مگر اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمائی گا اور راہ راست دکھائے گا وہ ملت حنفیہ یعنی دین اسلام اختیار کریں گے۔