11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ را ۔ یہ کتاب ہے جس کی آیتیں مضبوط کی گئیں پھر کھول کر واضح کردی گئیں یہ اس کی طرف سے ہے جو حکمت والا ساری باتوں کی خبر رکھنے والا ہے

حروف مقطعات ان حروف کو کہتے ہیں جو حرف حرف کر کے پڑھے جائیں 1 ؎ قرآن کریم میں کل انتیس سورتیں ہیں جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہیں اور حروف مقطعات میں کل چودہ حروف ہیں جو استعمال ہوئے ہیں اور ان کی تفصیل ہم نے سورة البقرہ ہی کی ابتداء میں کردی ہے بار بار بحث کی ضرورت نہیں اس لئے سورة البقرہ کی پہلی آیت ہی کی طرف مراجعت کریں۔ اس کی آیتیں مضبوط بھی ہیں اور کھول کر بیان بھی کی گئی ہیں 2 ؎ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مضبوط ہیں اس لئے کہ ان کے ساتھ دلائل و شواہد موجود ہیں اور یہ کہ ان میں کسی طرح کا خلل اور نقص موجود نہیں اور نہ ہی ممکن ہے اور فصلت تفصیل سے ہے یعنی ان کا مدعا اتنا واضح کردیا گیا ہے کہ اس میں کسی قسم کا التباس نہیں مختصر یہ کہ یہ کتاب الفاظ اور عبارت کے لحاظ سے نہایت پختہ ہے اس میں کوئی کمی اور خامی و نقص موجود نہیں اور معنی کے لحاظ سے بھی ہر قسم کے شک و التباس سے پاک ہے یعنی صورتا ً اور معنا ً درجہ کمال پر فائز ہے اور ان دونوں باتوں کیلئے اس کا چیلنج موجود ہے جس کا کوئی جواب تھا ، ہے اور نہ ہوگا ۔ اس میں یہ استحکام اور تفصیل کہاں سے آئی ؟ فرمایا یہ اس ذات اقدس کی طرف سے آئی جو اپنی بات اور کام دونوں میں پکا ہے اور وہ حکیم بھی ہے ، علیم بھی ، اس کتاب میں اس نے جا بجا گزشتہ دعوتوں ، گزشتہ قوموں کے ایام و وقائع کا بھی ذکر کیا ہے اور پھر ہر جگہ جب مقام ایک خاص موعظت اور خاص استدلال ہے ازاں جملہ یہ سورت ہے جس کے مضامین بیان کئے جا رہے ہیں جس میں نوح (علیہ السلام) سے لے کر موسیٰ (علیہ السلام) تک کی گزشتہ دعوتوں کی سر گزشتیں بیان کی گئی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ترتیب بھی تاریخی ہے یعیہ جس دعوت کا ذکر جس دعوت کے بعد کیا گیا ہے وہی اس کی تاریخی جگہ ہے۔ ان مضامین کے اعتبار سے سورة اعراف کے بعد سب سے بڑی سورت ہے۔ یہ کتاب اس ذات کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز سے با خبر ہے 3 ؎ کتاب کیا ہے ؟ فرمان شاہی ہے اور اس کے نازل کرنے والا صحیح معنوں میں اس کا مستحق ہے کہ اس کو شہنشاہ کہا جائے جس کو ہماری زبان میں بادشاہوں کا بادشاہ کہا جا ات ہے۔ اس کی باتوں میں صرف لفاظی ، خطابت کی ساحری اور تخیل کی شاعری نہیں بلکہ ٹھیک ٹھیک حقیقت بیان کی گئی ہے۔ اس کی ہر بات واضح ، ہر بات فصیح اور غیر مبہم ہے کیونکہ اس کے نازل کرنے والا حکیم کل بھی ہے اور ہرچیز کی کنہہ و حقیقت سے با خبر بھی ۔ اس لئے اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے بیک وقت ایک مبتدی اور عالم مستفید ہو سکتے ہیں اور ہر ایک کی ضرورت یکسانیت کے ساتھ وہ پوری کرتی ہے اور اس کے نازل کرنے والے کے نزدیک سارے انسانوں کی پہلی ضرورت توحید الٰہی کا پیغام ہے۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو یقین کرو میں اس کی طرف سے تمہیں خبردار کرنے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں

اس کا سب سے پہلا اعلان وہی عالم گیر اعلان ہے جو ساری دعوتوں کا پیغام اول ہے 4 ؎ قرآن کریم کو اس شان و عظمت سے نازل کرنے کا مدعا کیا ہے ؟ صرف اس بات کا اعلان جو اول دن سے تمام دعوتوں کا عالمگیر اعلان رہا ہے کہ : 1۔ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ 2۔ میں اس رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے مامور ہوں اور اس لئے مامور ہوں کہ تشیر اور تنذیرکا فرض رسالت ادا کروں اور ایمان و نیک عمل کی کامرانیوں کی خوش خبری سنا دوں ۔ 3۔ میرا پیام یہ ہے کہ تمہاری جبین نیاز صرف اس کی بارگاہ صمدیت میں زمین بوس ہو اور تم ہر جائی نہ بنو ، تمہاری جبہہ فرسائی کلئے صرف اور صرف ایک ہی ذات گرامی ہو جو سب کا معبود و الٰہ ہے۔
Ayah 11:3

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے معافی کے طلبگار ہو اور اس کی طرف لوٹ جاؤ وہ تمہیں ایک وقت مقررہ تک زندگی کے فوائد سے بہت اچھی طرح بہرہ مند کرے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو اس کی سعی مزید کا اجر بھی دے گا لیکن اگر تم نے روگردانی کی تو میں ڈرتا ہوں کہ تم پر عذاب کا ایک بڑا دن نمودار نہ ہو جائے

اس سے مغفرت طلب کرتے رہو کہ وہ معاف کردینے والا ، دعائوں کو قبول کرنے والا ہے 5 ؎ اگر تم سے کوئی غلطی سر زد ہوجائے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اس چیز کا نام توبہ وانابت ہے ۔ اچھی طرح یاد رکھو کہ تقویٰ و طہارت کی زندگی اختیار کرنے سے دنیا کا عیش کچھ گھٹ نہیں جاتا بلکہ یہ صالحانہ زندگی حصول راحت و سکون میں معین و مدد گار ہی ہوتی ہے اور معافی طلب کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ پہلے ضرور کوئی گناہ کیا ہو تب ہی معافی طلب کرے اور جرم کیا ہو تب ہی معافی مانگے بلکہ مغفرت کی دعا کرنا عبادت ہے۔ چناچہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصب ہوجائے اور تم دیکھ لو کہ لوگ فوج درج فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسیحی کرو اور اس سے مغفرت کی دعا مانگو ، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ کوئی گناہ یا جرم نہیں ہوا جس کی معافی و مغفرت مانگنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کی صفات میں فرمایا کہ وہ رات بھر عبادت کرنے کے باوجود آخر میں رات بھر عبادت کرنے پر فخر کرنے کی بجائے معافی طلب کرتے ہیں اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ خوش خبری ہے اس کیلئے جو اپنے اعمال نامہ میں بہت زیادہ استغفار پائے۔ ( الترغیب ج 2 ص 468) آپ ﷺ نے فرمایا کہ بلا شبہ میں اللہ تعالیٰ سے روانہ سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ ( مشکوٰۃ ص 203) حدیث میں ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! نماز جیسی عبادت مکمل کرنے کے بعد کونسی دعا مانگا کروں ؟ تو نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنے یار غار سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو جو دعا سکھائی ہے وہ رب انی ظلمت نفسی الخ ہے ۔ غور کرو کہ صدیق اکبر ؓ نے کیا کیا ہے ؟ نماز ادا کی ہے اور پھر نماز جیسی عبادت کے بعد جو دعا سکھائی ہے وہ اقرار ہو رہا ہے اپنی جان پر ظلم کرنے کا ۔ کیا نماز ادا کرنا ظلم ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں پھر اس میں کیا راز ہے ؟ راز یہ ہے کہ نماز ادا کرنے والا نماز ادا کرنے کے باوجود اقرار کرے کہ مجھ سے ویسی عبادت نہیں ہوسکی جیسی کہ مجھے کرنی چاہئے تھی ۔ نماز ادا کی ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے مجھے نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی اگر اس سے توفیق حاصل نہ ہوتی تو میں کون تھا عبادت کرنے والا ؟ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب فرض نماز با جماعت ادا فرماتے تو سلام کے بعد سب سے پہلے تین بار استغفر اللہ ، استغفر اللہ ، استغفر اللہ فرماتے ۔ کیوں ؟ قوم کو سبق دینے کیلئے کہ بندہ خواہ وہ کون ہی ہو ، بندہ ہی ہے۔ اس لئے اپنے مالک حقیقی کے سامنے اعتراف بندگی کے لئ مغفرت طلب کرنا عبادت قرار پایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرنے کے بعد جو دعا سکھائی اس میں بھی مغفرت طلب کرنے کی ہدایت ہے اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ معافی مانگنے پر دنیا میں عذاب رک جاتا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ وَمَا کَانَ اللہ ُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ ط وَمَا کَانَ اللہ ُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (الانفال 8 : 33) ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص استغفار میں لگا رہے اللہ تعالیٰ اس کیلئے ہر دشواری سے نکلنے کے راستے پیدا فرمائے گا اور ہر تنگی اور فکر میں کشادگی عطا فرمائے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہیں ہوگا۔ ( مسلم) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس وقت کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو اس دنیا سے منتقل کر دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کریں گے اور پھر اللہ سے مغفرت طلب کریں گے ، پس اللہ ان کو بخش دے گا “۔ ( رواہ مسلم) ان احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے سے عبادت کا اجر حاصل ہوتا ہے اور لغزشوں کا کفارہ بھی۔ ” وہ تمہیں ایک وقت مقرر تک زندگی کے فوائد سے بہت اچھی طرح بہرہ مند کرے گا “۔ اس زندگی سے کونسی زندگی مراد ہے ؟ آخرت کی زندگی تو یقینا ان لوگوں کی اچھی ہوگی لیکن دنیوی زندگی بھی ان کی اچھی ہوگی ۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اسکے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر قسم کی لذتوں سے کنارہ کش ہوجائے ۔ چہرہ پر محرومی کا غازہ لگا لے اور غربت و ناداری کے قفس میں پھڑپھڑاتے رہنے کیلئے تیار ہوجائے۔ اس جگہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعتراف کرلیا ، اپنے گناہوں پر استغفار کیا اور دعا کے طور پر بھی استغفار کرتے رے اور ساری زندگی صرف ایک اللہ کے ہو رہے تو تم کو ہر طرح کی لذت و راحت ، عزت و آرام اور فوز و فلاح سے سرفراز کردیا جائے گا ۔ اللہ کے بن جانے کا یہ مقصد نہیں کہ انسان ہر قسم کی محرومیوں کا شکار ہوجائے بلکہ جو سچے دل سے اس کا ہوجاتا ہے تو اس کیلئے رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ ” اور زیادہ عمل کرنے والوں کو ان کی سعی مزید کا اجر بھی دے گا “ ۔ یعنی ہر نیک انسان کو اس کے اعمال حسنہ کی جزاء اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے نیکیوں میں جتنا کوئی بڑھتا جائے گا اس انداز سے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے خزانے عامرہ سے مالا مال کرتا جائے گا ۔ اگر تم نے روگردانی کی تو تم کو کسی نہ کسی عذاب میں گرفتار کردیا جائے گا 6۔ اگر تم سر کشی سے باز نہ آئے اور نہ ہی توبہ و استغفار کی بلکہ گناہوں میں ترقی کرتے چلے گئے تو تم یقینا عذاب الٰہی میں گرفتار ہو جائو گے۔ ” یوم کبیر “ سے یا تو روز قیامت مراد ہے اور یا پھر عذاب کا کوئی مقرر دن جو علم الٰہی میں ہے۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم سب کو اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور اس کی قدرت سے کوئی بات باہر نہیں

تم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اس کے علم سے کچھ بھی باہر نہیں 7 ؎ زیر نظر آیت میں پچھلی آیت کی مزید وضاحت فرما دی کہ تم جیسا کرو گے یقینا ویسا ہی بھرو گے اور دنیا میں تم جو کچھ بھی کرو گے اچھا یا برا انجام کار تم سب کو مرنے کے بعد اس مالک حقیقی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ اس کیلئے کچھ مشکل نہیں کہ مرنے اور خاک ہونے کے بعد تم کو دوبارہ جمع کر کے از سر نو انسان بنا کر کھڑا کر دے۔ کیونکہ وہ پیدائش تمہاری دنیوی زندگی کی پیدائش نہیں ہوگی جس کے ساتھ مرنا لازم کیا گیا ہو اور تم آہستہ آہستہ بڑھ کر جوان ہو اور بلوغت کو پہنچوتا کہ تمہارے اعمال دیکھے جائیں کہ تم کیا کرتے ہو ۔ یہ دارالعمل کے لئے پیدائش نہیں بلکہ دارالجزاء کیلئے پیدائش ہے اور وہ ایک بار ایک ہی طرح کی پیدائش ہوجائے گی تمہارا توالد و تناسلدوبارہ نہیں ہوگا بلکہ تم سب ایک ہی جیسی مخلوق ہو گے اور تمہارا حسب و نسب وہی رہے گا جس کی وساطت سے تم درالعمل میں داخل ہوئے تھے اور کوئی تم میں بیٹا تھا تو کوئی باپ ۔ اس پیدائش کے اعتبار سے تم سب اللہ کی مخلوق ہو گے وہی مخلوق جو پہلے اس درالعمل میں رہ کر گئے۔ رہا عذاب وثواب کا معاملہ تو وہ روح کے ساتھ مختص ہے تمہیں جو جسم عطا ہوگا ضروری ہے کہ وہ ایک انسان ہی کا ہو اور ہو بہو وہی ہو جو اس دنیا میں تم کو دیا گیا تھا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو اور پھر جب اس جسم کے ساتھ جو عام مثال میں موجود تھا تمہارا تعلق قائم ہوگیا تو عذاب وثواب کا احساس بھی جاری ہوگیا گویا ایک بےہوش کو دوبارہ ہوش میں لے آیا گیا اور اس آپریشن کا احساس اس وقت ہوا جب ہوش و حواس درست ہوئے بس اس آخرت کی زندگی اور جسم کو سمجھنے کیلئے اس پر قیاس کرلو لیکن اصل حقیقت حال تو اللہ ہی کی ذات جانتی ہے جو سارے غیبوں کا جاننے والا ہے یعنی جو چیزیں ہمارے لئے غائب ہیں اس کیلئے غائب نہیں۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے سینوں کو لپیٹتے ہیں کہ اللہ سے چھپیں مگر یہ لوگ جب اپنے سارے کپڑے اپنے اوپر ڈال لیتے ہیں تو اس وقت بھی نہیں چھپ سکتے ، جو کچھ یہ چھپا کر کریں اور جو کچھ کھلم کھلا کریں سب اللہ کو معلوم ہے وہ تو سینے کے اندر کے بھید جاننے والا ہے

اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اس کیلئے کپڑے ڈالنے والا اور ننگا برابر ہیں 8 ؎ اس میں ایک طرح سے منافقین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم لوگ اپنی عداوت اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کو اپنے نزدیک خوب چھپانے کی کوشش کرتے ہو تمہارے سینوں میں حسد و بغض کی آگ بھری ہوئی ہے اور تم اس پر پردہ ڈال کر یہ خیال کرتے ہو کہ ہمارا اصل حال کسی کو معلوم نہیں ہوگا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تم کپڑوں کی تہہ میں اور پردوں کی اوٹ میں جو کچھ کرتے ہو وہ اللہ سے تو مخفی نہیں اور پھر جب اللہ پر روشن ہے تو وہ اپنے رسول ﷺ کو جس جس بات سے چاہے گا واقف کر دے گا ۔ لہٰذا تمہارے اعمال کا ذرہ ذرہ اللہ کے سامنے ہے اس کے علم سے جب ایک چیونٹی کا سوراخ بھی پوشیدہ نہیں تو انسان کے انکار و اعمال کیونکر پوشیدہ رہ سکتے ہیں۔ کیا تم اپنے سینوں میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف آگ رکھ کر اور پھر سینوں کپڑے اوڑھ کر اس آگ کو چھپائے بیٹھے ہوئے حالانکہ تمہاری ساری حالت اس بذات الصدور پر روشن ہے۔ پھر غور کرو اور اچھی طرح سن لو کہ جب تم خوب کپڑے اوڑھ لیتے ہو یا ان کپڑوں کو اتار پھینکتے ہو تو تمہاری یہ دونوں حالتیں اللہ تعالیٰ پر ایک جیسی ہیں وہ تمہارے ہر قسم کے ظاہر اور ہر قسم کے باطن سے اچھی طرح واقف ہے اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔ تمہارا چھپا کر کیا اور ظاہر کیا دونوں اللہ پر واضح ہیں 9 ؎ کس طرح ان کی غلط فہمی دور کی جا رہی ہے کہ وہ ان تمام کاوشوں اور کوششوں کے باوجود اپنے عزائم کو اللہ سے نہیں چھپا سکتے اس کے رسول ﷺ کے متعلق بغض وعناد کے جو گھنائونے جذبات انہوں نے اپنے دلو کے نہاں خانوں میں بڑے مہارت سے چھپائے ہوئے ہیں وہ ان سے اچھی طرح آگاہ ہیں بلکہ جب رات کے وقت وہ بستر پر دراز ہوتے ہیں اور ہر طرح کا اندھیرا چھایا ہوتا ہے اور ہو کا عالم ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو لحاف یا چادر میں لپیٹ لیتے ہیں اس وقت بھی وہ علیم وخبیر اور سمیع وبصیر ان کی ہر حرکت کو جان رہا ہوتا ہے تو ایسے ہمہ دان اور ہمہ بین خدائے ذوالجلال والاکرام سے چھپانے کی کوشش کرنا محض نفس فریبی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نادانو ! تم کس سے چھپ رہے ہو اور کس سے اپنے دلوں کے نفاق اور اسلام دشمنی کو چھپا رہے ہو اس ذات پاک سے اس ہمہ دان اور ہمہ بین سے جو تمہارے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور تمہارے باطن کو بھی جو تمہارے ان اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے جو تم چھپا کر کرتے ہو اور ان کو بھی جن کو تم بر ملا اور بےجھجھک کرتے ہو وہ تو ذات ہے جس سے تمہارے سینوں میں چھپا ہوا کوئی راز بھی مخفی نہیں اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ تم بھی عجیب ہو کہ اپنے سینوں کے بھیت چھپاتے ہو اور نہیں سمجھتے کہ اس ذات الٰہ کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ۔ اس مضمون پر گیارہو واں پارہ ختم ہو رہا ہے۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین میں چلنے پھرنے والا کوئی جانور نہیں ہے جس کی روزی کا انتظام اللہ پر نہ ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ اس کا ٹھکانا کہاں ہے اور وہ جگہ کہاں ہے جہاں بالآخر اس کا وجود سونپ دیا جائے گا ، یہ سب کچھ کتاب میں مندرج ہے

زمین کا کوئی جانور ایسا نہیں جس کا مستقل ٹھکانا اور عارضی ٹھکاٹا وہ نہ جانتا ہو 10 ؎ دآبۃ کیا ہے ؟ ہر ذی روح حیوان پر دابہ کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ مستقرقرار پکڑنے کی جگہ ہے د ’ مستودع “ امانت رکھنے کی جگہ ۔ بغوی نے معالم میں لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے نزدیک ” مستقر “ سے مراد رحم مادر اور ” مستودع “ سے مراد مرنے کا مقام ۔ عطاء کا قول ہے ” مستقر “ رحم مادر اور ’ ’ مستودع “ پست پدر ہے۔ سعید بن جبیر ؓ ، علی بن ابی طلحہ ؓ اور عکرمہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول نقل کیا ہے لیکن ابن مقسم ؓ نے کہا کہ ابن عباس ؓ کے نزدیک ” مستقر “ سے مراد شب و روز رہنے کی جگہ اور ” مستودع “ سے مراد قبر ہے اور بعض کے نزدیک ” مستقر “ سے مراد جنت یا دوزخ اور ” مستودع “ سے مراد قبر ہے اور بعض کے نزدیک دن کے جولان گاہ کو ” مستقر “ اور رات کی آرام گاہ کو ” مستودع “ کہا گیا ہے اور ” کتاب مبین “ سے مراد لوح محفوظ ہے ۔ تمام جانداروں کا رزق اللہ کے ذمہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق کے سب سامان پیدا کر رکھے ہیں ۔ یہ مطلب نہیں کہ انسان کو معاش یا رزق کی فکر نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس کا مطلب بھی آیت نمبر 3 کی طرح یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے دنیا کے سامان چھن نہیں جاتے بلکہ رزق تو ہر حال میں پہنچ سکتا ہے نیز بتایا جا رہا ہے کہ تم جانتے ہو کہ دنیا میں ان گنت قسم کے جانور ہیں اور ہر قسم کے اتنے افراد ہیں کہ ان کا شمار کرنا کسی کے بس میں نہیں تو پھر کون ہے جو چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک اور ممولے سے لے کر شہباز تک اور مینڈک اور جھینگے سے لے کر مگر مچھ تک ہر جاندار کو اس کی مخصوص خوراک مطلوبہ انداز پر بلاناغہ بہم پہنچا رہا ہے ۔ کسی کی مجال ہے کہ وہ یہ ذمہ داری اٹھا سکے ۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس کا لنگر کھلا ہوا ہے ، جس کا دستر خوان کرم بچھا ہوا ہے اور ہرچیز کو اس کی مطلوبہ خوراک مہیا کی جا رہی ہے۔ یہ اس ذات نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے کہ وہ ہرچیز کی ضرورت کا انتظام خود فرمائے گا ۔ اگر مولا کریم کو ہرچیز کا ٹھکانہ معلوم نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟ لیکن اس کو تو مرنے کے بعد بھی جہاں جہاں کوئی مدفون ہوگا اس کا بھی علم ہے ۔ اے گمراہو ! وہ اللہ جس سے کسی چٹان میں کوئی چھپا ہوا کیڑا بھی مخفی نہیں ، جو رات کے اندھیروں میں تاریک غار میں رینگنے والی چیونٹی کو بھی دیکھ رہا ہے تم ہزار اس سے چھپنے کی کوشش کرو اس سے چھپ نہیں سکتے ۔ تم ہزار اس سے کچھ چھپانے کی کوشش کرو اس سے کچھ چھپا بھی نہیں سکتے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ ایام میں پیدا کیا اور اس کے تخت کی فرمانروائی پانی پر تھی اور اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائش میں ڈالے اور یہ بات ظاہر ہوجائے کہ کون عمل میں بہتر ہے اور اگر تو ان لوگوں سے کہے کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو جو لوگ منکر ہیں وہ ضرور بول اٹھیں گے کہ یہ تو صریح جادو کی سی بات ہے

وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے سب کو چھ ادوار میں پیدا کیا 11 ؎ کائنات کی ساری چیزوں کو چھ ” ایام “ میں پیدا کرنے کا مفہوم ہم پیچھے سورة الاعراف کی آیت 54 اور سورة یونس کی آیت 3 میں پوری وضاحت سے بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور خصوصاً اس جلد میں سورة یونس کی آیت 3 کو دوبارہ پڑھ لیں ۔ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کے بیان کے بعد اس کی قدرت کاملہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ قرآن کریم میں کائنات کی تخلیق کی مدت چھ ادوار بیان کی گئی اور پھر یہ بات کہ ہر دور کی کل کتنی مقدار ہے ؟ یہ بات ہمارے فہم و ادراک سے باہر ہے۔ ” اس کے تخت کی فرمانروائی پانی پر تھی ۔ “ کیا مطلب ؟ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ارض و سماء سے پہلے پانی کی تخلیق ہوچکی تھی اور یہی اصل کائنات ہے اور یہی منبع حیات ہے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ ” ہم نے تمام زندہ اجسام پانی سے پیدا کئے “ ( الانبیاء 21 : 30) معلوم ہوا کہ زمین پر ایک ابتدائی دور گزر چکا ہے جب کہ پانی ہی پانی تھا یا ایسی چیز تھی جس کو پانی سے تعبیر کیا گیا ہے اور قوانین الٰہی اس میں اپنے کام کر رہے تھے اور اس کی اصل حقیقت حال اللہ ہی کے علم میں ہے ہم اس کو ایمان بالغیب کے تحت تسلیم کرتے ہیں اور دوسری قسم کی ٹامک ٹوئیوں میں ہمیں گم ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے موضوع سے خارج ہے اور جنہوں نے یہ کام اپنے ذمہ لیا ہے انہی کو مبارک ہو۔ مخلوق کی یہ تخلیق کیوں کی گئی ؟ فرمایا اس لئے کہ تمہاری آزمائش ہو جائے 12 ؎ یعنی دنیا میں انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اس نے اس لئے شروع کیا ہے کہ ان کا امتحان لے اور یہ دیکھے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے۔ اس ایک مختصر سے فقرے میں بہت سی حقیقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ 1۔ یہ کہ موت اور حیات اس کی طرف سے ہے کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا ہے نہ موت دینے والا ۔ 2۔ یہ کہ انسان جیسی ایک مخلوق ، جیسے نیکی اور بدی کرنے کی قوت عطا کی گئی ہے اس کی نہ زندگی بےمقصد ہے اور نہ موت ۔ خالق نے اس یہاں امتحان کیلئے پیدا کیا ہے اور زندگی اس کیلئے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا ۔ 3۔ یہ کہ اس امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کرکے اپنی اچھائی یا برائی کا اظہار کرسکے اور عملاً یہ دکھا دے کہ وہ کیسا انسان ہے ؟ ۔ 4۔ یہ کہ خالق ہی دراصل اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا برا ؟ اعمال کی اچھائی اور برائی کا معیار تجویز کرنا امتحان دینے والوں کا کام نہیں ہے بلکہ امتحان لینے والے کا کام ہے لہٰذا جو بھی امتحان میں کامیاب ہونا چاہے اسے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ممتحن کے نزدیک حسن عمل کیا ہے ؟۔ 5۔ یہ نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جیسا عمل ہوگا اس کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی کیونکہ اگر جزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے علم و عمل سے گلشن ہستی میں بہار آتی ہے یا تباہی اور بربادی کی خاک اڑنے لگتی ہے ؟ کیا وہ اپنی زبان اور اپنے قلم کو انسانیت کے چاک گریبانوں کو رفو کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے یا وہ انسانوں کی قباء اشرف کو تار تار کردیتا ہے ؟ کیا اس نے اپنی ساری صلاحیتیں نفس پرستی ، عیش کوشی اور فتنہ پردازی میں صرف کردیں یا اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرنے کیلئے انہیں استعمال کیا ۔ بس اس آزمائش کیلئے انسان کو پیدا فرمایا گاب ۔ یہ دنیا کھیل کود کا میدان نہیں ہے بلکہ امتحان گاہ ہے ۔ ہر قدم اٹھانے سے پہلے خوب غور و فکر کرلینا چاہئے کہ یہ میں کدھر لے جائے گا ۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی زندگی پر ان کو یقین نہیں آتا اس لئے اس کو جادو کہتے ہیں 13 ؎ مومن اور کافر کا فرق کیا ہے ؟ فرمایا مومن وہ ہے جو اپنے ” آج “ کو ” کل “ سے وابستہ سمجھتا ہے اور کافر وہ ہے جو ” آج “ میں اس قدر مست ہے کہ ” کل “ کا اس کو کوئی ہوش نہیں ۔ یعنی ان لوگوں کی نادانی کا یہ حال ہے کہ کائنات کو ایک کھلنڈرے کا کھیل اور اپنے آپ کو اس کے جی بہلانے کا کھلونا سمجھتے ہیں اور اس احمقانہ تصور میں اتنے مگن ہیں کہ جب تم انہیں اس کار گاہ حیات کا سنجیدہ مقصد اور خود ان کے وجود کو معقول غرض وغایت سمجھاتے ہو تو قہقہہ لگاتے ہیں اور تم پر بھی پھبتی کستے ہیں کہ یہ شخص تو جادو کی سی باتیں کرتا ہے۔ خود تو وہ حقیقت کو سمجھتے نہیں اور اگر انہیں سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بھائیو ! اس عمر عزیز کو تو ضائع نہ کرو ۔ ان قوتوں سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کیلئے وبال جان نہ بنو ۔ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ بارگاہ رب العزت میں تمہاری پشیس ہوگی اور تم سے تمہارے ان اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا تو الٹا الزام لگانے لگتے ہیں کہ جس کتاب کی آیتیں پڑھ کر تم ہمیں سناتے ہو یہ تو کوئی جادو منتر کی کتاب ہے اللہ کا کلام تو ایسا نہیں ہو سکتا ؟ کیوں ؟ اس لئے کہ جب ہم مرمٹ گئے اور مٹی کے ساتھ مل کر بس مٹی بن گئے تو دوبارہ زندگی کیسے ؟ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ان کو عدم سے وجود میں لانے والا دوبارہ کیسے زندہ کرے گا ؟ حالانکہ بات کتنی واضح اور کتنی صاف ہے کہ بالکل اسی طرح جس طرح تم کو اس نے پہلی بار پیدا کر دکھایا ۔ کیا تم پہلی بار پیدا نہیں ہوئے ؟ اچھا ہوئے ہو تو وہ کون ہے جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا ؟ وہ اللہ ہے تو پھر وہ دوبارہ پیدا کیوں نہیں کرسکتا ؟ کیا پہلی بار پیدا کرنا مشکل ہے یا دوسری بار پیدا کرنا ؟
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ان پر عذاب کا نازل کرنا ایک مقررہ مدت تک ہم تاخیر میں ڈال دیں تو یہ ضرور کہیں گے کہ کونسی بات ہے جو اسے روک رہی ہے ؟ سو سن رکھو جس دن عذاب ان پر آئے گا تو پھر کسی کے ٹالے ٹلنے والا نہیں اور جس بات کی یہ ہنسی اڑایا کرتے تھے اسی نے انہیں آگھیرا

ان کا عذاب ہم نے موخررکھا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ سنبھلناچا ہیں تو سنبھل لیں 14 ؎ جاہلیت کے ذہن پر مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ یہ بھی عجیب الٹی سمجھ کے لوگ ہیں ۔ جس عذاب کے یہ ہر طرح مستحق ہیں اسے ہم عارضی طور پر روکتے تو اپنی کسی حکمت و مصلحت سے ہیں اور یہ مسلمانوں سے طنز و تعریض کے ساتھ دریافت کرنے لگتے ہیں کہ آخر اس عذاب موعود میں اب دیر ہی کیا ہے ہم پر آ کیوں نہیں پڑتا ؟ یعنی ان منکرین حق کا ایک نرالا انداز ہے جب ان کے سامنے حق پیش کیا جاتا ہے تو اسے رد کردیتے ہیں اور جب ان کے اس بلاوجہ انکار پر عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا ہے تو بڑی شوخی اور بےباکی سے کہتے ہیں کہ لے آئو اس عذاب کو دیکھیں تو وہ کیسا ہوتا ہے ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ کسی حکمت اور مصلحت کے باعث نزول عذاب میں تاخیر فرما دے تو اسے اس کا احسان اور فضل نہیں سمجھتے اور ان مہلت کی گھڑیوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹا طعنے دینے لگتے ہیں کہ کہاں گیا وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈرایا کرتے تھے۔ جس عذاب کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے وہی انہیں آ کر دبوچ لے گا 15 ؎ ” وہ کس گھمنڈ سے کہتے ہیں کہ کیا چیز اسے روک رہی ہے ؟ سن رکھو کہ جس دن وہ ان پر آپڑے گا تو ان سے ٹل نے سکے گا “ ۔ اب انہیں بتایا جارہا ہے کہ جب مقرر گھڑی آپہنچے گی تو عذاب الٰہی یقینا تم پر نازل ہو کر رہے گا اور اس وقت تم چلائو گے ، شور مچائو گے ، واویلا کرو گے ، بھاگنے کی کوشش بھی کرو گے لیکن سب بےسود وہ عذاب تم کو نیست و نابود کر دے گا اگر یقین نہیں آ رہا تو تم کوئی نئی امت نہیں اور تمہارا رسول کوئی نیا رسول نہیں تم سے پہلے کتنی امتیں گزر چکی ہیں ان گزشتہ امتوں پر ایک بارنگاہ ڈالو ۔ ان کے انبیائے کرام (علیہ السلام) نے ان کو کیا کہا تھا ؟ اور انہوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو کیا جواب دیا تھا اور پھر ان کے اس سوال و جواب کا انجام کیا ہوا ؟ سب بات تم پر روشن ہوجائے گی ۔ اس لئے ان مہلت کی گھڑیوں کو ضائع نہ کرو ، رحمت کا دروازہ کھلا ہے آئو توبہ کرو ، معافی مانگ لو ، بخش دیئے جائو گے۔ لیکن اگر تم نے ہماری نصیحت پر کان نہ دھرا تو انجار کار تم کو وہی عذاب الٰہی گھیر لے گا جس کا تم مذاق اڑایا کرتے تھے۔۔
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھائیں اور پھر اس سے وہ ہٹا لیں تو وہ یک قلم مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے

دیکھو جب ہم کسی کو رحمت کا مزہ چکھائیں اور پھر ہٹا لیں تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں 16 ؎ حالت بشری بھی بڑی عجیب چیز ہے کہ اگر مصیبت پیش آتی ہے تو فوراً مایوس ہوجاتا ہے اور راحت پیش آتی ہے تو بےپروا ہو کر ڈینگیں مارنے لگتا ہے۔ زیر نظر آیت میں انسان کی پوری زندگی کا نقشہ بالکل مختصر الفاظ میں کھینچ کر رکھ دیا گیا۔ فرمایا غور کرو کہ انسان کو اس دنیوی زندگی میں مختلف قسم کے حالات سے واسطہ پڑتا ہے۔ کبھی اس کے مطلع حیات پر خوشی کے ستارے جگمگاتے ہیں اور کبھی اسے ایسی شکست سے دو چار ہونا پڑتا ہے جس کا اسے تصورتک بھی نہیں ہوتا ، کبھی وہ تندرست و توانا ہوتا ہے اور کبھی بیمار و رنجور ۔ ان مختلف حالات میں دو قسم کے انسانوں یعنی کافروں اور مومنوں کا جو طریق کار اور ردعمل ہوتا ہے اس کو یہاں بڑے موثر پیرایہ میں ذکر کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی بھلائی اور اپنے وقار کی خاطر بہتر راستہ اختیار کرسکے۔ انسانی نفسیات کا یہ ایسا حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے جس میں ذرا بھی شک و شبہ کی گنجائش موجود نہیں ۔ جو لوگ معرفہ اور نکرہ کے استعمال پر بضد ہوتے ہیں ان کو اس آیت کے الفاظ پر زیادہ غور کرنا چاہئے تاکہ ان کی فکری اور عملی صلاحیت بڑھے اور وہ حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز نہ کریں ۔ زیر نظر آیت میں ” الانسان “ کا لفظ آیا ہے لیکن اس سے کوئی خاص انسان مراد نہیں بلکہ جنس انسان مراد ہے اور ” رحمت “ سے مرادصحت ، امن و عافیت ، اقبال مندی اور خوشحالی غرضیکہ ہر قسم کی نعمتیں مراد ہیں۔ ” یوس “ مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بالکل مایوس ہوجانے والا جسے حالات کے بہتر ہونے کی کوئی توقع باقی نہ رہے اور اس طرح ” کفور “ بھی مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بہت نا شکری کرنے والا ۔ پہلے جب اس کو گونا گوں نعمتوں سے نوازا گیا تھا تو اس نے کبھی اپنے خالق ومالک کا شکریہ ادا نہ کیا اور اب بھی جب کہ اس کی زندگی ایک گوشہ تاریک ہے لیکن کئی گوشے ایسے بھی تو ہیں جہاں سکون و طمانیت کی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ تھوڑی سی تکلیف کے باعث اس کا دوسری ساری نعمتوں سے بھی آنکھیں بند کرلینا کیا یہ ناشکری نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور پھر یہ بھی غور کرو کہ اس کی زندگی کا جو گوشہ تاریک ہوا ہے اس تاریکی کو دور کرنے والا کون ہے ؟ تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کی بجائے مایوسی اور نا شکری پر کیوں اتر آیا ؟ یہ اس کی سمجھ داری ہے یا ناسمجھی ؟ ہم نے الفاظ میں اشارات کردیئے ہیں سمجھنا آپ کا اپنا کام ہے۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر اسے دکھ پہنچا ہو اور اس کے بعد راحت کا مزہ چکھائیں تو پھر کہتا ہے کہ اب تو برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں حقیقت یہ ہے کہ انسان خوش ہوجانے والا ڈینگیں مارنے والا ہے

اگر ہم اس کا دکھ دور کر کے راحت و آرام کا مزہ چکھا دیں تو پھر آپے سے باہر ہونے لگتا ہے 17 ؎ اب پھر اس فطرت بشری کا بیان شروع ہے اور اس کے مقتضائے طبعی کا بیان جاری ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ دیکھو واقعی ان گھڑ ، تربیت سے محروم انسان بھی کیسا افراط وتفریط کے دونوں سروں کے درمیان جھولا کرتا ہے۔ فرمایا کہ اگر ہجوم مصائب سے اسے نجات دے دی جاتی ہے۔ تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کرم کیا اور میری بےکسی پر رحم فرمایا ہے بلکہ مصائب کے ٹل جانے کو حادثات روزگار سے منسوب کرتا ہے اور خوش ہو کر اترانے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ عزتیں اور یہ اقبال مندیاں ، یہ مال و دولت کی فراوانیاں ایسی چیزیں ہیں جن کا وہ اپنی ذاتی اہلیت کی وجہ سے مستحق تھا۔ ذرا غور کرو کہ جس انسان کی یہ حالت ہو ناکامی اور نا مرادی کے قت وہ حوصلہ ہار کر اور پائوں پسار کر بیٹھ رہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں بالکل مایوس ہوجائے اور اگر اس پر فارغ البالی اور آسائشی کا دور آئے تو کبر و غرور سے زمین پر اترا کر چلنے لگے کیا اس سے کسی اچھی کام کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اگر اس کے رنج و محن کا دور اس کی ذات کیلئے تباہ کن ہوتا ہے تو اس کے عروج کا زمانہ خلق خدا کیلئے مصیبت اور بد بختی کا زمانہ ہوتا ہے ۔ ایسے شخص کی زندگی کبھی مثالی زندگی نہیں بن سکتی۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر ہاں ! جو صبر کرتے ہیں اور نیک عملی کی راہ چلتے ہیں تو ان کا حال ایسا نہیں ہوتا ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لیے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے

ان نا سمجھوں کے ساتھ کچھ سمجھ والے بھی ہیں جو فی الواقع اجر کے مستحق ٹھہریں گے 18 ؎ فرمایا اس عام حالت سے جس کا ذکر پچھلی آیات میں کیا گیا کچھ لوگ مستثنیٰ بھی ہیں جن کے اندر صبر و ثبات کی روح پیدا ہوگئی ہے اور جنہوں نے نیک عمل کی راہ اختیار کی وہ نہ تو مصیبت میں مایوس ہونے والے ہیں اور نہ عیش و راحت میں غافل و ناشکر گزار ۔ یہاں یہ بات اس لئے بیان کی گئی کہ منکرین حق عذاب کی خبر سن کر ہنسی اڑاتے تھے اور مومنوں پر مصیبت کی گھڑیاں شاق گزرتی تھیں پس فرمایا کہ منکروں کی یہ حالت کوئی معمولی حالت نہیں ہے۔ انسان خوشحالیوں میں پڑ کر اس طرح غافل ہوجاتا ہے اور ڈینگیں مارنے لگتا ہے لیکن مومنوں کو چاہئے کہ وقت کی مصیبتوں سے دت تنگ ہو کر مایوس نہ ہوجائیں۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

پھر کیا تو ایسا کرے [ گا کہ جو کچھ تجھ پر وحی کیا جاتا ہے اس میں سے کچھ باتیں چھوڑ دے گا اور اس کی وجہ سے تنگ دل رہے گا ؟ اور یہ اس لیے کہ لوگ کہہ اٹھیں گے ، اس آدمی پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتر آیا یا ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ آ کر کھڑا ہوجاتا ؟ کہ توُ تو خبردار کردینے والا ہے اور ہرچیز پر اللہ ہی نگہبان ہے

اے پیغمبر اسلام ! کیا آپ ﷺ ایسا کریں گے کہ بعض وحی کی گئی باتوں کو ترک کردیں ؟ 19 ؎ دنیا میں ایک انسان کی زبان سے جتنی باتیں نکل سکتی ہیں ان میں کوئی بات بھی اس سے بڑھ کر بوجھل اور تھکا دینے والی نہیں کہ ایک آدمی ایک مطمئن اور خوش و خرم قوم کے سامنے آکھڑا ہو اور اچانک اعلان کر دے کہ ” تمہاری ہلاکت کی گھڑی سر پر آگئی ، اگر سر کشی سے باز نہ آئو گے تو نیست و نابود کردیئے جائو گے “ کتنا بڑا اور عجیب اعلان ہے ؟ کتنی عظیم اس کی ذمہ داری ہے ؟ اور کس درجہ مافوق انسانیت صبر و تحمل کی ضرورت ہے کہ وہ سب کچھ جھیل لیا جائے جو یہ اعلان سن کر لوگوں کی زبان سے نکلے گا ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو یہ بوجھ اٹھانا پڑا کیونکہ وہ اس کیلئے مامور من اللہ تھے۔ یہی مرحلہ پیغمبر اسلام ﷺ کو بھی پیش آیا اس لئے وحی الٰہی جا بجا اس بات پر زوردیتی ہے کہ لوگوں کی باتوں سے دل تنگ نہ ہو اور اعلان امر میں ذرا بھی تامل نہ کرو۔ چناچہ زیر نظر آیت میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے۔ زیر نظر آیت کے اگر تین حصے کر لئے جائیں تاکہ بات ذہن نشین ہوجائے تو ان میں سے پہلے حصہ کا یہ سبق ہے جو اس جگہ بیان ہوا ۔ لوگوں کی باتوں پر کہ اس آدمی پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترتا وغیرہ سے آپ دل تنگ نہ ہوں 20 ؎ کفار کی طرف سے یہ دوسرا اعتراض ہے جس کا ذکر آیت کے اس حصہ میں کیا گیا فرمایا کفار کیا کہتے ہیں ؟ یہی کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو آپ ﷺ کے پاس سونے ، چاندی ، لعل و جواہر کے خزانے کیوں نہیں ؟ اگر آپ ﷺ سچے ہوتے تو یقینا ایسا ہوتا اور آپ ﷺ ان خزانوں کو لوگوں میں تقسیم کرتے اور لوگ آپ ﷺ کی مانتے یا آپ ﷺ کے ہمراہ کوئی فرشتہ ہوتا جو لوگوں کو آپ ﷺ کی صداقت کا یقین دلاتا اور جو ماننے سے انکار کرتا اس کی گردن مروڑ کر رکھ دیتا پھر جب دو چار کے ساتھ ایسا کیا جاتا تو کسی کو آپ ﷺ کی دعوت رد کرنے کی جرأت ہی نہ ہوتی ۔ لیکن آپ ﷺ کا حال کیا ہے ؟ یہ کہ آپ ﷺ کو نان جویں بھی میسر نہیں تو کسی کو کیا دیں گے اور تم پر لوگ تو آوازے کستے ہیں ، پتھر مارتے ہیں ، غلاظت پھینکتے ہیں ، راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں اور ایسا کرنے والوں کے تو سر میں کبھی درد بھی نہیں ہوا ۔ آپ خود ہی غور کر لئے تے کہ آپ جیسے نبی کا اتباع کرنے کی کسی کو کیا ضرورت ہے ؟ اس لئے اگر آپ نبی ہیں اور سچے نبی ہیں تو اپنے اللہ سے درخواست کرو کہ ان چیزوں کی فروانی آپ کو میسر آئے ۔ دنیا کے اقتدار پر براجمان ہونے والوں کی یہی سوچ ہوتی ہے جو ان لوگوں کی اس جگہ بیان کی گئی ۔ اس وقت بھی ایسا ہی تھا اور آج بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں نے جنہوں نے مذہبی پارٹیوں کی باگ ڈورسنبھالی وہ انہی جیسی باتوں سے متاثر ہو کر میدان جمہوریت میں کو دپڑے۔ پہلے قوم سے اوپر نیچے ہو کر روپیہ پیسہ بٹورا اور پھر انہی عوام کے بل بوتے پر وہ سیاست میں داخل ہوگئے اور پھر وہاں پہنچتے ہی وہ آرام کھانے میں ایسے مصروف ہوئے کہ انہوں نے اس کو باوا آدم کی جنت سمجھ لیا اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ کرنے لگے ۔ یہ بیان زیر نظر آیت کے درمیانہ حصہ کا ہے اور اب آخری حصہ کی طرف متوجہ ہوں۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ کا کام کیا ہے اور ان کا مطالبہ کیا ، کیا اس میں کوئی نسبت بھی ہے ؟ 21 ؎ منکرین حق نے کیا کہا ؟ یہی کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی ہی تمہاری رسائی ہے تو کیوں نہیں کہتے کہ اللہ تم پر ایک خزانہ اتار دے یا فرشتے بھیج دے کہ تمہاری ہاں میں ہاں ملائیں اور اس معاملہ کو سب دیکھ رہے ہوں کہ فرشتے اس پر نبی کی تصدیق کر رہے ہیں فرمایا اے رسول ﷺ ! آپ ان کے اس استہزاء سے دل تنگ نہ ہوں کیونکہ تم تو صرف نذیر ہو ، کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے کہ ان کے مان لینے کے بھی تم ذمہ دار ہو پھر ” نذیر “ کی حیثیت پر زور دے کر یہ بات بھی واضح کردی کہ پیغمبر اس لئے نہیں آتے کہ خزانے بانٹتے پھریں یا طرح طرح کے اچنبھے دیکھائیں ۔ ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ انکار وبد عملی کے نتائج سے خبردار کردیں اور سچاء کی راہ ان کو دکھا دیں ۔ اس لئے ان کے مطالبہ اور آپ ﷺ کے کام میں کوئی مناسبت موجود نہیں اس لئے جو وہ کہتے ہیں ان کو کہنے دیں اور ان کے کہنے سے آپ بالکل دل تنگ نہ ہوں بلکہ بحکم الٰہی اپنا کام کرتے چلے جائیں اور انجام اللہ پر چھوڑ دیں کہ اس کی ذمہ داری آپ پر لازم نہیں کہ ان کو کسی نہ کسی طرح سے منوا کرچھوڑیں۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

پھر کیا لوگ ایسا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن اپنے جی سے گھڑ لیا ہے ؟ تو کہہ دے اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو اس طرح کی دس سورتیں گھڑی ہوئی بنا کر پیش کر دو اور اللہ کے سوا جس کسی کو پکار سکتے ہو پکار لو

کیا یہ لوگ آپ پر اے پیغمبر اسلام ﷺ ! یہ الزام رکھتے ہیں کہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے ؟ 22 ؎ سورة بنی اسرائیل مکی سورت ہے اگرچہ وہ مکی زندگی کے آخری سالوں ہی میں نازل ہوئی تھی ۔ اس میں ارشاد الٰہی تھا کہ : ” اے پیغمبر اسلام ! اس بات کا اعلان کردیں کہ اگر تمام انسان و جن اکٹھے ہو کر چاہیں کہ اس قرآن کریم کی مانند کوئی کلام پیش کردیں تو کبھی پیش نہ کرسکیں گے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مدد گار ہی کیوں نہ ہو “۔ ( بنی اسرائیل 17 : 88) ظاہر ہے کہ اس سے وہ سارا قرآن کریم ہی مراد لیا جائے گا جتنا حصہ اس کا اس وقت جب یہ چیلنج کیا گیا اتر چکا تھا لیکن اس کے بعد سورة ہود کی زیر نظر آیت میں ارشادہوا کہ : ” پھر کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس آدمی نے قرآن کریم اپنے جی سے گھڑ لیا ہے ؟ اے پیغمبر اسلام ! تو کہہ دے اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو اس طرح کی دس سورتیں گھڑی ہوئی بنا کر پیش کر دو اور اللہ کے سوا جس کسی کو پکار سکتے ہو پکار لو “۔ ( ہود 11 : 13) اور اس کے بعد سورة یونس میں یہ اعلان کیا گیا کہ : ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یعنی پیغمبر اسلام ﷺ نے اللہ کے نام پر یہ افتراء کیا ہے ؟ تم کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو قرآن کی مانند ایک سورة بنا کر پیش کر دو اور اللہ کے سوا جن ہستیوں کو اپنی مدد کیلئے بلا سکتے ہو بلا لو ۔ “ ( یونس 10 : 38) اور پھر اس کے بعد سورة البقرہ کی آیت 23 میں فرمایا کہ : اور دیکھ اگر تمہیں اس کلام کی سچاء میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا تو تم بھی انسان ہو زیادہ نہیں تو اس کی سی ایک سورة ہی بنا لائو اور اللہ کے سوا جن کو تم نے اپنے حمایتی سمجھ رکھا ہے ان سب کو بھی اپن مدد کیلئے بلا لو ، پھر اگر تم ایسا نہ کرسکو اور حقیقت یہ ہے کہ تم کبھی بھی نہ کرسکو گے تو اس آگ کے عذاب سے ڈرو جو لکڑی کی جگہ انسان اور پتھر کے ایندھن سے سلگتی ہے اور منکرین حق کیلئے تیار ہے۔ ( البقرہ 2 : 23) تفصیل کیلئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی یہی آیت دیکھو۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پھر اگر وہ تمہاری پکار کا جواب نہ دیں تو سمجھ لو کہ قرآن اللہ ہی کے علم سے اترا ہے اور یہ بات بھی سچی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اب بتلاؤ کیا تم یہ بات تسلیم کرتے ہو ؟

اگر وہ تمہاری بات کا جواب نہ دیں تو ان کے پیچھے پڑنے کی بھی ضرورت نہیں 23 ؎ ” پھر اگر وہ آپ لوگوں کی پکار کا جواب نہ دیں “ ۔ یہ خطاب جمع عام مومنین سے ہے۔۔۔۔۔ تحدی جس طرح رسول اللہ ﷺ کرسکتے تھے ساری امت بھی اسی طرح کرسکتی ہے۔ ( بیضاوی) اے مومنین کفار سے کہو کہ یقین کرلو کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم وقدرت سے اترا ہے نہ کسی اور کے علم اور قدرت سے ۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہو سکتا ہے کہ اے مسلمانو ! اگر وہ اس چیلنج کا جواب نہ دے سکیں تو تم جان لو کہ یہ کلام الٰہی ہے اس صورت میں لکم اور فاعلموا میں جو ضمیر ہے دونوں کا مرجمع مسلمان ہوں گے لیکن آیت کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ مسلمان تو پہلے ہی قرآن کریم کو منزل من اللہ سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر بھی انہیں یقین ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ مسلمان کیوں ہوتے ، پھر انہیں خطاب کی کیا ضرورت تھی ؟ اس لئے مناسب یہ ہے کہ حکم کا مرجمع مشرکین ہوں اور خطاب بھی انہیں سے ہو یعنی اے مشرکو ! اگر تم قرآن کریم کا مثل بنانے کیلئے اپنے بڑے بڑے فصیح وبلیغ شاعروں اور خطیبوں کو دعوت دو اور وہ اس دعوت کو قبول کرنے کی جرأت نہ کرسکیں تو پھر تم بھی جان لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ بھی یقین کرلو کہ اس کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ دیکھو اب تو حقیقت روشن ہوگئی اور حق واضح ہوگیا کیا اب بھی اسلام لانے میں پس و پیش کرو گے اور پھر اگر کرو گے تو کیا وہ ہٹ دھرمی اور ضد نہ ہوگی ؟ باز آئو ، ضد نہ کرو اور جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور معبود ہونے کے وہی لائق ہے جس نے قرآن کریم جیسی روشنی کو نازل کیا ۔ اچھا یہ بتائو کہ اب تم فرمانبردار ہوئے ہو یا نہیں ؟
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی دلفریبیاں ہی چاہتا ہے تو ہم اس کی کوشش و عمل کے نتائج یہاں پورے پورے دے دیتے ہیں ایسا نہیں ہوتا کہ دنیا میں اس کے ساتھ کمی کی جائے

جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی دلفریبیاں ہی چاہتا ہو تو ہم اس کو دے دیتے ہیں 24 ؎ مخالفین اسلام کو جب عذاب الٰہی کی وعیدیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اپنی خیرات و صدقات اور خدمت خلق اور رفاہ عام کے کاموں کو سند میں پیش کرتے تھے کہ ہم ایسے نیک کام کرتے ہیں پھر ہم کو عذاب ، آخر کیوں ؟ غور کرو گے تو پائو گے کہ اس آیت میں ایک بڑی تلخ مگر گہری حقیقت کا اعلان ہے جو لوگ یا تو سر تا سر دنیا ہی کو اور اس کی ” ترقیوں “ کو اپنا منتہائے نظر اور نصب العین بنائے ہوئے ہیں اور اپنی ساری سرگرمیوں کا مرکز اس کو رار دیتے ہیں وہ گھبرائیں نہیں ، انہیں مایوسی نہیں ہوگی ۔ انہیں اپنی ساری جدوجہد کا صلہ یہیں اور ابھی ملا جاتا ہے۔۔۔ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ دولت تو پھر ان کا ایک ایک فرد قارون وقت ہو کر رہے گا ۔ انہیں حکومت کی ہوس ہے دنیا کے سارے ملک انہیں کے درمیان تقسیم ہو کر رہیں گے ۔ انہیں عزت و ناموری اور فتح مندی کی چاٹ ہے تو اچھا وہ دل کھول کر اپنے دل کے ارکان نکال کر رہیں ’ ’ جو شخص دنیا ہی کی زندگی اور اس کی رونق کو مد نظر رکھتا ہے “ ۔ حیات وزینت حیات سے الفت تو ایک امر طبعی ہے اور ہر انسان بڑے سے بڑا متقی انسان بھی کسی درجہ میں اس کا آرزو مند ضرور رہتا ہے البتہ حیات دنیوی کو آخرت کی طرف سے آنکھیں بند کر کے اپنا مقصود بنا لینا اور اپنے وقت وقوت کو اس میں خرچ کئے چلے جانا یہ ایک بالکل دوسری چیز ہے اور اس جگہ اس کا ذکر ہے جیسا کہ لفظ یرید سے ظاہر ہے اور آج تو بہت سے ناواقف مسلمان بھی اس شبہ میں گرفتار نظر آتے ہیں کہ جو کافر ظاہری اعمال و اخلاق درست رکھتے ہیں خلق خدا کی خدمت میں خیرات و صدقات کرتے ہیں ۔ سڑکیں ، پل ، شفا خانے ، پانی کی سبیلیں بناتے اور چلاتے ہیں ۔ ان کو مسلمانوں سے اچھا جانتے ہیں ۔ بس اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ خلاصہ کلام یا خلاصہ جواب یہ ہے کہ ہر عمل کے مقبول اور باعث نجات آخرت ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ عمل اللہ کی رضا کیلئے کیا گیا ہو اور اللہ کیلئے کرنا وہی معتبر ہے جو اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر کیا گیا ہو لیکن جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان ہی نہیں رکھتا اس کے تمام اعمال و اخلاق ایک بےروح ڈھانچہ ہے جس کی شکل و صورت تو اچھی بھلی ہے مگر دوزخ نہ ہونے کی وجہ سے دار آخرت میں اس کا کوئی حزن اثر نہیں ہوگا ہاں ! دنیا میں چونکہ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور ظاہری صورت کے اعتبار سے وہ نیک عمل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال عدل و انصاف کی بناء پر اس عمل کو بھی بالکل ضائع قرار نہیں دیا اس کے کرنے والے کے نزدیک جو کچھ مقصد تھا کہ دنیا میں اس کی عزت ہو ، لوگ اس کو سخی ، کریم اور بڑا آدمی سمجھیں ۔ دنیا کی دولت ، تندرستی اور راحت نصیب ہو اللہ تعالیٰ نے اس کو سب کچھ مع شے زائد دنیا میں دے دیا اور آخرت کا تصور اور وہاں کی نجات گو زندگی اس کے پیش نظر ہی نہ تھی اور نہ اس کا بےروح عمل واں کی نعمتوں کی قیمت بن سکتا تھا اس لئے اس کے ان اعمال کا وہاں کچھ عوض نہ ملے گا اور کفر و مصیبت کی وجہ سے جہنم میں رہے گا ۔ یہ مضمون قرآن کریم نے مختلف انداز سے سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن یہی وہ مشکل ترین چیز ہے جو بہت کم لوگوں کے ذہن میں بیٹھتی ہے جس نے اس کو مانا اور تسلیم کیا ہے اس نے بھی بہت کم ایسا ہوا ہے کہ سمجھ کر اور عقل و فکر کے تقاضوں کے ساتھ اس کو تسلیم کیا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو عمل عقل و فکر سے سمجھ کر نہ کیا جائے اس کا کبھی صحیح نتیجہ نہیں نکلتا چونکہ نتیجہ عمل کے ساتھ وابستہ ہے جب عمل ہی ان نیچرل ہے تو اس کا نتیجہ نیچر کے مطابق کیسے نکل سکتا ہے ۔ ہمارے علمائے کرام کی اکثریت نے دین کو بغیر سمجھے صرف سینہ زوری کے ساتھ ایک بات منوانے کی کوشش کی ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو اسی طرح سینہ زوری سے وہ سکھائی گئی تھی اور وہ محض رسما ً اس کو سیکھے تھے اور رسما ً اس کو منوانا چاہتے ہیں اور ظاہر ہے جو چیز جو کام جو بات محض رسما ًکی جائے اس کا نتیجہ رسما ً ہی نکلے گا ۔ اصولا ً نہیں نکل سکتا اور نتیجہ رسما ً کیا ہے ؟ یہی کہ اس رسم کو کرنے والوں اور کرانے والوں نے اس کے پورا کرنے کو سراہا ہے اور اس کو جس نے رسم کی داد دی ہے کہ ” واہ بھائی واہ “ آپ نے خوب رسم ادا کی ہے کہ آج تک ایسی رسم کوئی نہ ادا کرسکا یہ ” واہ بھائی واہ “ کیا ہے ؟ یہ اس رسم کا نتیجہ ہے جو اس رسم ادا کرنے والے کو مل گیا کہ اس کی ” واہ واہ “ ہوگئی ۔ اب غور کرو اور سمجھ سوچ کر بتائو کہ اس ” واہ واہ “ کو کونسا ثبات حاصل ہے جو دیر تک باقی رہے گا اور اس کو آڑے وقت کام آئے گا ۔ ہاں جب اس پر کوئی مشکل وقت آجائے تو یہی ” واہ واہ “ اس کیلئے تضحیک کا باعث ہو سکتی ہے اور یہی بات قرآن کریم تفہیم کرانا چاہتا ہے
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا جو کچھ انہوں نے یہاں بنایا ہے سب اکارت جائے گا اور جو کچھ کرتے رہے ہیں سب نابود ہونے والا ہے

25 ؎ زیر نظر آیت میں یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اگر انکار و سر کشی پر بھی انہیں دنیوی فوائد مل رہے ہیں تو صرف اتنی ہی بات دیکھ کر یہ مغرور نہ ہوجائیں اور نہ ہی مومنوں کو چاہئے کہ اس پر متعجب ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کیلئے ایسا ہی قانون ٹھہرایا ہے کہ انسان کا ہر عمل ایک نتیجہ رکھتا ہے اور جیسا کچھ عمل ہوتا ہے اس کے مطابق نتیجہ بھی نکلتا ہے۔ جس شخص نے عمل صرف اور صرف دنیا کی خاطر کیا اس لئے کہ آخرت کی طرف سے تو وہ بالکل غافل تھا چونکہ وہ دنیوی زندگی ہی کا خواہش مند ہے پھر بھی ایسا نہ ہوگا کہ اس کی سعی و طلب بےاثر ہوجائے اگر ایسا ہو تو یہ ظلم ہے۔ اس کی خواہش جس کی بناء پر اس نے عمل کیا ، کیا تھی ؟ دنیا طلبی اور لوگوں کا اس بات کو سراہتا سو لوگوں نے اس کو بہت سراہا اور اس کو بہت شاباش دی لہٰذا جیسی کچھ اس کو کوشش تھی اس کے مطابق اس نے نتیجہ حاصل کرلیا ۔ پھر غور کرو کہ اگر اچھی طرح ہل جوتے گا اور تخم ریزی کرے گا تو اچھی فصل پیدا ہوجائے گی اور اس کا نام اللہ کا فضل رکھیں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جہاں اس نے ہل چلایا ، جو بیچ اس نے ڈالا اس میں اصل قوت رکھنے والا وہی تھا یعنی زمین جس میں اس نے خوب ہل چلایا اس میں قوت نمو اور اس بیچ کو جس نے اس کو اچھی طرح اچھی قسم سے انتخاب کیا اس میں قوت نمو رکھنے والا وہی تھا اگر اس نے ان دونوں چیزوں میں وہ قوت و طاقت نہ رکھی ہوتی تو اس کا نتیجہ صحیح نہیں نکل سکتا لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر ادھورا کام کرے گا تو ادھورا نتیجہ نکلے گا اور اس طرح اس کے سارے کام اکارت جائیں گے اور اس کے لئے کچھ سود مند ثابت نہیں ہوں گے اس لئے کہ اس کا عمل عارضی اور ٹوٹل پورا کرنا تھا۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ریا کاروں کو مخاطب کر کے کہا جائے گا ” اے ریا کارو ! تم نے روزے رکھے ، تم نے نمازیں پڑھیں ، صدقے و خیرات دیئے ، جہاد کیا اور قرآن کریم کی تلاوت بھی کی لیکن محض اس لئے کہ لوگ تمہیں نمازی ، سخی ، مجاہد اور متقی کہا سو وہ تمہیں کہہ دیا گیا ، کہا جاتا رہا اور آج تمہارے لئے اس میں سے کچھ بھی نہیں پھر انہی لوگوں سے سب سے پہلے دوزخ کی آگ بھڑکائی جائے گی ۔ ابوہریرہ ؓ یہ روایت بیان کر کے زار وقطار رونے لگے ۔ ( قرطبی) لیکن جو لوگ دنیا کے حصول کو اپنا مطع نظر نہیں بناتے بلکہ رضائے الٰہی کے طالب ہوتے ہیں انہیں ان کا دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت کی نعمتوں سے بھی انہیں سرفراز کیا جائے گا ۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا ” جو شخص طلب آخرت کیلئے کوئی کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو غنی کردیتا ہے ، اس کے پراگندہ حال کو درست فرما دیتا ہے اور دنیا اس کے قدموں میں ذلیل ہو کر حاضر ہوتی ہے اور جس شخص کے پیش نظر دنیا کا حصول ہوتا ہے تو اس کی غربت اس کی آنکھوں کے سامنے کردی جاتی ہے اور اس کے حالات کو پراگندہ کر دیاجاتا ہے اور اس خستہ حالی کے باوجود دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ (رواہ الترمذی و رواہ احمد والدارمی) یہی بات زیر نظر آیت میں بیان فرمائی گئی ۔ فرمایا یہی تو وہ لوگ ہیں جن کیلئے آخرت میں سوائے آگ کے کچھ نہیں ہے اور جو کچھ انہوں نے نیک اعمال سے بھی کیا تھا وہ اکارت چلا گیا کیونکہ ان کا بظاہر تو اچھا تھا لیکن باطن سارا خراب تھا اس لئے انہوں نے جو کیا سب مٹ کر رہ گیا اور ان کیلئے سوائے اس صعوبت کے کچھ نہ رہا جو صعوبت انہوں نے اس کیلئے برداشت کی ۔ اس کی مثالیں زندگی میں اتنی عام ہیں کہ ذرا غور کرو گے تو ان گنت مثالیں حاضر ہوجائیں گی۔ ایک خربوزہ جو آپ کی نظروں کو بھا گیا آپ نے اس کو اٹھا لیا ، سونگھا خوب اچھی طرح اس کو دیکھا اور بیچنے والے کو منہ مانگے دام دے کر گھر اٹھالائے کتنی حفاظت کے ساتھ اس کو تھیلے میں رکھا ، کس پیار سے اس کو سنبھالا اور پھر کیا ہوا کہ اس کو ٹھنڈا کرنے کیلئے گھنٹوں اس کے انتظار میں گزارے ، بڑے اہتمام کے ساتھ اس کو چیرا لیکن اس کو دیکھتے ہی آپ بیزار ہوگئے ، بڑ بڑانے لگے اور اس ذہنی اذیت میں نہ معلوم آپ کیا کچھ کہہ گئے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اندر سے بالکل خراب تھا جس کو آپ نے فوراً کوڑے کی نذر کردیا ۔ یہ سارا کچھ کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ وہ اندر سے بالکل خراب تھا جس کو آپ نے فوراً کوڑے کی نذر کردیا ۔ یہ سارا کچھ کیوں ہوا ؟ وہی چیز جو آپ نے بڑی محبت سے خریدی اس کو کوڑے کی نذر کیوں کردیا ؟
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

پھر جو لوگ اپنے پروردگار کی جانب سے ایک روشن دلیل رکھتے ہوں اور اس کے ساتھ ہی ایک گواہ بھی اس کی طرف سے آگیا ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی پیشوائی کرتی ہوئی اور سرتا پا رحمت آ چکی ہو ، کیا یہ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں ؟ اور اس طرح گروہوں میں سے جو کوئی اس سے منکر ہوا تو یقین کرو آگ وہ ٹھکانا ہے جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے پس تم اس کی نسبت کسی طرح کے شک میں نہ پڑو وہ تیرے پروردگار کی جانب سے امر حق ہے لیکن اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے

اپنے پروردگار کی طرف روشن دلیل رکھنے والے ہی ایمان کا استحقاق رکھتے ہیں 26 ؎” بینہ “ سے کیا مراد ہے ؟ بینہ سے مراد قرآن کریم ہی سمجھتا صحیح اور درست ہے اور یہی معنی مفسرین نے قرار دیئے ہیں لیکن بعض نے اس کے معنی عقل و دلیل اور بعض نے نبی اعظم و آخر ﷺ بھی مراد لئے ہیں اور اس طرح ” شاھد “ سے بھی مختلف معنی مراد لئے گئے جیسے جبریل (علیہ السلام) نبی اعظم و آخر ﷺ کی زبان اقدس اور بعض نے کچھ اور بھی مراد لی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے طلب گار اسلام سے منہ موڑنے کیلئے بہانے تلاش کرتے رہیں لیکن وہ شخص جس کے پاس اسلام کی حقانیت کی روشن دلیل بھی ہو اور اس کے ساتھ ایک سچا گواہ کو گواہی بھی دے رہا ہو پھر تورات جیسی سراپا ہدایت کتاب بھی اس کی صداقت کا بار بار اعلان کر رہی ہو تو وہ تو کسی قیمت پر بھی اسلام سے منہ موڑنے کیلئے تیار نہ ہوگا اور نہ ہی کسی مصیبت سے ڈر کر راہ راست کو چھوڑے گا اور جو بد قسمت ان شواہد اور دلائل کے ہوئے دین مبین کا انکار کرتا رہے گا تو اس کا ٹھکانہ آتش جہنم کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے آپ خود ہی فیصلے کیجئے کہ جو شخص حق کو حق سمجھتے ہوئے اس کا انکار کرے اور اس انکار پر مصر بھی رہے تو اگر اس پر آگ کے انگارے نہیں تو کیا جنت کے پھول نچھاور کئے جائیں گے ؟ جس شخص نے بھی نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد کے بعد آپ ﷺ کا انکار کیا وہ مستحق جہنم ہو گیا 27 ؎ ہر نبی و رسول اپنی بعثت کے بعد جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوا اگر انہوں نے اس نبی و رسول کی دعوت کو تسلیم نہ کیا اور اس کی رسالت و نبوت سے انکار کیا تو کافر ٹھہرے اور ان کیلئے وہی ٹھکانہ قرار پایا جس کو جہنم کہا جاتا ہے اور یہ بات بھی مسلمات میں سے ہے کہ کسی ایک نبی و رسول کا انکار سارے انبیاء اور رسل (علیہ السلام) کا انکار ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ نبی اعظم و آخر محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد اور تشریف آوری کے بعد خواہ وہ آپ ﷺ کی نبوت اور رسالت کا انکار ہی کرتا رہے اس کیلئے یہ رعایت رکھی جائے کہ وہ اہل جنت سے قرار پائے ۔ چناچہ زیر نظر آیت نے یہ بات واضح کردی کہ جو شخص ساری شہادتوں کے باوجود آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کا منکر ہوگا وہ کافر ہی قرار پائے گا خواہ اس کے اعمال کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں وہ ایمان نہ لانے کے باعث اکارت جائیں گے۔ غور کرو کہ جس سکہ پر حکومت کی مہر اور تصدیق نہ ہو وہ کتنا ہی اچھا اور خوبصورت کیوں نہ نظر آئے وہ اس قابل کیوں ہوگا کہ وہ اس سکہ کی طرح چلتا رہے جس پر حکومت کی تصدیق موجود ہے۔ نہیں بلکہ ایسا سکہ چلانے والا حکومت کا مجرم قرار پائے گا اور اس کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ چناچہ صحیح حدیث میں بھی ہے کہ : ” رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو یہودی یا نصرانی میری دعوت کو سنے اور اس کے باوجود میری لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان نہ لائے تو وہ اہل جہنم میں سے ہوگا “۔ (صحیح مسلم عن ابی ہریرہ ؓ اے مخاطب ! کسی شک و شبہ میں نہ رہنا جو بات اوپر کہی گئی ہے وہ بلاشبہ حق ہے 28 ؎ آیت کے اس حصہ میں خطاب پھر عام مخاطبین ہی کو ہے اگرچہ بذریعہ نب کریم ﷺ ہی ہے۔ اس بات کی پوری وضاحت پیچھے سورة یونس میں کی جا چکی ہے کہ آپ ﷺ کو مخاطب فرما کر مراد عام قاری یا عام مخاطب کو لینے میں کیا حکمت ہے ؟ اور اس طرح کی تعریفیں ہر زبان اور کلام میں عام ہے اور انسان تو خیر ہر ایک انسان ہی خواہ کون ہو ؟ بعض اوقات انسان جانوروں تک کو مخاطب ہوتا ہے اگرچہ وہ اس کی زبان کو نہیں سمجھتے الایہ کہ اشارہ کے مطابق کام وہ بھی کرنے لگتے ہیں ۔ اس جگہ ماحصل آیت یہی ہے کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے دللر و حجت پر ہیں اور انہوں نے راہ حقیقت پا لی وہ انت مفرور ین دنیا کی طرح نہیں ہو سکتے ۔ ان کی راہ ہدایت الٰہی کی راہ ہے اور ہدایت الٰہی کی کامیابی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔