11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 11:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں۔

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم کو ایک وقت مقرر تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور صاحب بزرگی کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب سے ڈر ہے۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر سورة ھود آیت : ( 1-4) (کتب) یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ (احکمت ایتہ) ” جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ “ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے ‘ اس کی خبریں سچی ‘ اس کے او امر و نواہی عدل پر مبنی ‘ اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں۔ (ثم فصلت) ” پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی “ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی وبیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ (من لدن حکیم) ” حکمت والے کی طرف سے “ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاجا اس کی حکمت کرتی ہے (خبیر) وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔ جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال ‘ حکمت و کمال اور بےکراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لئے نازل فرمایا (الا تعبدوا الا اللہ) ” کہ عبادت صرف اللہ کی کرو “ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے خالص کرنے کے لئے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ (انی لکم) ” بیشک میں تمہارے لئے) (منہ) ” اس کی طرف سے “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے (نذیر) ” ڈر سنانے والا “ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ (وبشیر) ” اور خوشخبری دینے والا۔ “ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔ (وان استغفروا ربکم) ” اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو “ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں۔ (ثم توبوا الیہ) ” پھر اس کی طرف توبہ کرو۔ “ یعنی اپنے عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیی کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ‘ انہیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ و استغفار پر مترتب ہوتے ہیں۔ فرمایا : (یمتعکم متاعا حسنا) ” وہ تمہیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا “ یعنی وہ تمہیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ (الی اجل مسمی) ” ایک وقت مقرر تک “ یعنی تمہاری وفات تک (ویوت کل ذی فضل فضلہ) ” اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔ “ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انہیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ (وان تولوا) ” اگر تم نے روگردانی کی۔ “ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمہیں پیش کی ہے ‘ بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے۔ (فانی اخاف علیکم عذاب یوم کبیر) ” تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے “ اور وہ ہے روز قیامت ‘ جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔ (الی اللہ مرجعکم) ” تمہی اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے “ تاکہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے ‘ تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے ‘ تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (وھو علی کل شیء قدیر) ” وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مروں کو زندہ کرنا بھی ” ہر زیا “ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سُن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے۔

آیت : (5) اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کی گمراہی کی شدت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (یثنون صدور ھم) ” وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں “ (لیستخفوا منہ) ” تاکہ اس (اللہ) سے پردہ کریں۔ “ یعنی ‘ تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپائیں۔ پس ان کے سینے اللہ کے علم کے لئے رکاوٹ بن جائیں ‘ تاکہ وہ ان کے احوال کو جان نہ سکے اور اس کی نگاہ کے لئے بھی ‘ تاکہ وہ ان کے حالات کو دیکھ نہ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس ظن باطل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے (الاحین یستغشون ثیابھم) ” سن لو جس وقت اوڑھتے ہیں وہ اپنے کپڑے یعنی جب وہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی ان کو خوب جانتا ہے جو کہ مخفی ترین حال ہے ‘ بلکہ (یعلم مایسرون) ” وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں “ یعنی وہ جو اقوال و افعال چھپاتے ہیں (وما یعلنون) ” اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ “ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ (انہ علیم بذات الصدور) ” دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ان ارادوں ‘ وسوسوں ‘ اور سوچوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ سرایا جہرا نطق زبان سے بھی ظاہر نہیں کرتے۔۔۔۔ تب تم اپنے حال کو اپ نے سینے کو موڑ کر اس سے کیسے چھپا سکتے ہو ؟ اس آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والوں اور آپ کی دعوت سے غافل لوگوں کے اعراض کا ذکر کرتا ہے ‘ یعنی جب وہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو شدت اعراض کی وجہ سے اپنے سینوں کو موڑ لیتے ہیں ‘ تاکہ آپ ان کو دیکھ سکیں نہ ان کو اپنی دعوت سنا سکیں اور نہ ان کو ان باتوں کی نصیحت کرسکیں جو ان کے لئے مفید ہیں۔ کیا اس اعراض سے بھی بڑھ کر اعراض کی کوئی صورت ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ انہیں وعید سناتا ہے کہ وہ ان کے تمام احوال کو جانتا ہے اور وہ اس سے مخفی نہیں ہیں اور وہ عنقریب ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دے گا۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی چلنے پھر نے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے۔ وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔

روئے زمین پر چلنے والا ہر جاندار، خواہ انسان ہو یا حیوان، خشکی کا جانور ہو یا پانی کا جانور، ان کی خوراک اور رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ (ویعلم مستقرھا ومستود عھا) ” اور وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ “ یعنی وہ تمام جانداروں کے ٹھکانوں کو جانتا ہے (مستقر) سے مراد وہ جگہ ہے جہاں جانور رہتے ہیں، جسے ٹھکانا بناتے ہیں اور جہاں پناہ لیتے ہیں اور (مستودع) سے مرادوہ جگہ ہے جہاں، اپنی آمد و رفت اور مختلف احوال میں منتقل ہوتے ہیں۔ (کل) ” یہ سب کچھ “ ان کے احوال کی تمام تفاصیل (فی کتب مبین) ” واضح کتاب میں ہے “۔ یعنی ہر چیز لوح محفوظ میں مرقوم ہے، جو ان تمام حوادث و واقعات پر مشتمل ہے جو اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تمام حوادث کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ اس نے ہر چیز کی تقدیر لکھ دی ہے ہر چیز پر اس کی مشیت نافز ہے اور ہر ایک کے لئے اس کا رزق وسیع ہے۔ دل، اس ہستی کی کفایت پر مطمئن ہوجانے چاہیء ں، جو ان کے رزق کی کفالت کرتی ہے اور جسم کے علم نے مخلوق کی ذات وصفات کا احاطہ کر رکھا ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کے، تاکہ وہ آزمائے تمہیں کہ کون سا تمہارا اچھا عمل ہے (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بیشک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر۔ اور البتہ اگر موخر کردیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کونسی چیز روک رہی ہے اس کو ؟ آگاہ رہو ! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سے، اور گھیر لے گا انہیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے (خلق السموت والارض فی ستتہ ایام) ” پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں “ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا (وکان عرشہ علی الماء) اس کا عرش پانی پر تھا “ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لئے فرمایا (لیبلوکم ایکم احسن عملاً ) ” تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے “۔ تاکہ وہ اپنے اوامرو نو اہی کے ذریعے سے تمہارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔ فضیل بن عیاض (رح) نے فرمایا : ” سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو “۔ ان سے پوچھا گیا ” سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے ؟ “ فرمایا : ” اگر عمل خالص ہو مگر صحیح ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو “۔ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون) ” میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں “۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے، تاکہ تم لوگوں کو معلم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ “ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء وصفات کی معرفت کے لئے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کردیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا، تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامراونواہی کی بناد پر جزا دے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ فرمایا : (ولئن قلت انکم مبعوثون من بعد الموت لیقولن الذین کفرو ان ھذا الا سحر مبین) ” اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے “۔ یعنی اگر آپ ان سے کہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے بارے میں ان کو آگاہ کریں تو یہ آپ کی تصدیق نہیں کریں گے، بلکہ وہ نہایت شدت سے آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کی دعوت میں عیب چینی کریں گے اور کہیں گے (ان ھذا الا سحر مبین) ” یہ تو کھلے جادو کے علاوہ کچھ نہیں “ مگر آگاہ رہو کہ یہ واضح حق ہے۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب کو روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزأ کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔

(ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ) ” اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک “ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آے گا، تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں : (مایحبسہ) ” کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے ؟ “ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طور پر نہ آنے کو رسول ﷺ کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنہوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے ! (الا یوم یاتیھم لیس مصروفاً عنھم) ” دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں “ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کرسکیں (وحاق بھم) ” اور ان کو گھیر لے گا “ یعنی نازل ہوگا ان پر (ماکانو بہ یستھزون) ” وہ (عذاب) جس کے ساتھ یہ استہزا کیا کرتے تھے۔ “ کیونکہ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتے تھے حتیٰ کہ جو ان کو عذاب کی وعید سناتا تھا وہ قطعی طور پر اسے جھو ٹاسمجھتے تھے۔
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اسکو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا ہے )

اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بیشک (ہوجاتا ہے) وہ انتہائی ان امید، بہت ناشکرا۔ اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلا شبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھانے والا ہے۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور عمل کئے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت اور اجر بہت بڑا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے، تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی ہے اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کرسکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بیشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنیوالا ہے۔

اور جب اللہ تعالیٰ اسے تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے (ذھب السیات عنی انہ لفرخ فخور) ” دور ہوگئیں برائیاں مجھ سے، بیشک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے “ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا ہے اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الہٰی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انہیٰں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہوسکتا ہے ؟
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

یہ ہے انسان کی فطرت، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت پر اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستجبات پر عمل کرتے ہیں۔ (اولیک لھم مغفرۃ) ان کے لئے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہوجاتا ہے۔ (واجر کبیر) ” اور بڑا اجر ہے “ اور یہ نعمتوں سے بھر پور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو ۔ اس (خیال) سے تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا ؟ یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ (اے محمد) تم تو صرف نصیحت کرنیوالے ہو اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کی تکذیب پر اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے : (فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک وضائق بہ صدرک ان یقولوا) ” شاید آپ پر کچھ چیز وحی میں سے جو آپ کے پاس آتی ہے چھوڑ دیں اور اس (خیال) سے آپ کا دل تنگ ہو کہ یہ (کافر) کہنے لگیں “ یعنی آپ جیسی ہستی لائق نہیں کہ ان کا قول آپ پر اثر انداز ہو اور آپ کو اپنے راستے سے روک دے اور آپ وحی کے کچھ حصے کو ترک کردیں اور ان کی عیب چینی اور ان کے اس قول پر تنگ دل ہوں کہ (لولا انزل علیہ کنز اوجاء معہ ملک) ” کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ “ کیونکہ یہ قول عیب چینی، ظلم، عناد اور دلائل سے جہالت کی بنا پر جنم لیتا ہے۔ پس آپ اپنے راستے پر گامزن رہیے اور ان کے یہ رکیک الفاظ آپ کی راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں جو صرف ایک انتہائی بیوقوف آدمی ہی سے صادر ہوسکتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل نہ ہوں۔ کیا انہوں نے آپ کے سامنے کوئی ایسی دلیل پیش کی ہے، جس کا آپ جواب نہیں دے پائے ؟ یا انہوں نے اس چیز کی برائی اس انداز میں بیان کی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں کہ وہ اس میں موثر ثابت ہوئی ہے اور جس سے اس کی قدر و منزلت کم ہوئی ہے۔ پس آپ اس سے تنگ دل ہوئے ہیں ؟ یا ان کا حساب آپ کے ذمہ ہے اور آپ سے ان کی جبری ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے ؟ (انما انت نذیر واللہ علی کل شئی وکیل) ” آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمے دار ہے۔ “ پس وہ ان جھٹلانے والوں پر نگران ہے، وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن از خود بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ خدا کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا بھی لو

(ام یقولون افترہہ) ” کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود بنا لیا ہے “ یعنی اس قرآن کو محمد ﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (قل) ان سے ” کہہ دیجیے ! “ (فاتو بعشر سورمثلہ مفتریت وادعو من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین) ” اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس صورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو۔ “ یعنی اگر اس قرآن کو تمہارے قول کے مطابق۔۔۔ محمد ﷺ نے اپنی طرف سے تصنیف کیا ہے، تب تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے تمہیں اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں اور تم حقیقی دشمن ہو اور محمد ﷺ کی دعوت کے ابطال کے لئے انتہائی حریص ہو۔۔۔ اگر تم اپنے موقف میں سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئے۔

(فالم یستجیبو الکم) ” پس اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں “ یعنی وہ اس کا کوئی جواب نہ دیں (فاعلمو انما انزل بعلم اللہ ) ” تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کے علم سے “ دلیل و مقتضی کے قیام اور معارض کی نفی کی بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (وان لا الہ الا ہو) ” اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں “ یعنی یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ نہیں، وہی الواہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔ (فھل انتھم مسلمون) ” تو کیا مسلمان ہوتے ہو ؟ “ یعنی کیا تم اس کی الواہیت کو مانتے ہو اور اس کی عبادت کے لئے سر تسلیم خم کرتے ہو ؟ ان آیات کریمہ میں اس امر کی طرف راہ نمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کے لئے مناسب نہیں کہ دعوت پر اعتراض والے معترضین کے اعتراضات اور دو قدح کی بنا پر دعوت دین سے رک جائے۔ خاص طور پر جبکہ اس رد و قدح پر کوئی دلیل نہ ہو اور دعوت میں کوئی خامی بھی نہ ہو۔ نیز یہ کہ داعی کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے اپنی دعوت پر مطمئن ہونا چاہیے، وہ اپنے راستے پر گامزن رہے اور اپنی منزل کو سامنے رکھے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ داعی نئے نئے مطالبات پیش کرنے والوں کو اہمیت نہ دے، صرف دلائل ہی ان کے سامنے رکھے۔ تمام مسائل پر ایسے دلائل کا قائم کردینا جن کا توڑ نہ کیا جاسکے یہی کافی ہے۔ اور اس آیت کریمہ میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ یہ قرآن بنفسہ معجزہ ہے، کوئی بشر ایسی کتاب نہیں لاسکتا، کتاب تو کیا اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت ہی نہیں بنا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے بڑے بڑے بلغاء و فصحاء کو مقابلے کی دعوت دی مگر انہوں نے مقابلہ نہ کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسی کتاب بنانے کی قدرت نہیں رکھتے ،۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ امور جن میں محض غلبہ ظن کافی نہیں، بلکہ علم یقینی مطلوب ہے، وہ ہیں علم القرآن اور علم التوحید، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (فاعملوا انما انزل بعلم اللہ وان لا الہ الا ھو) ” تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ “
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طا لب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں انکی حق تلفی نہیں کی جاتی۔

(من کان یرید الحیوۃ الدنیا وذینتھا) ” جو چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی رونق “ یعنی جس شخص کا بھی ارادہ، دنیاوی زندگی اور اس کی زیب وزینت ہی کے گرد گھومتا ہے، مثلاً عورتوں اور بیٹوں کے حصول کی خواہش، سونے اور چاندی کے خزانوں کی ھرص، نشان زدہ گھوڑوں، مویشیوں اور کھیتیوں کی چاہت، اس نے اپنی رغبت، عمل اور کوشش کو صرف انہی چیزوں پر مرکوز رکھا ہے اور وہ آخرت کے گھر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا شخص کافر کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اگر وہ مومن ہوتا تو اس کا ایمان اسے اس بات سے روک دیتا کہ اس کا تمام ارادہ صرف دنیا پر مرکوز رہے، بلکہ اس کا ایمان اور اس کے نیک اعمال، اس کے ارادہ آخرت ہی کے آثار ہیں۔ مگر یہ کافر بدبخت تو گویا صرف دنیا ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے (نوف الیھم اعمالھم فیھا) ” بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا ہی میں “ یعنی ہم ان کو وہ دنیاوی ثواب عطا کردیتے ہیں جو ان کے لئے لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے۔ (وھو فیھا لا یبخسون) ” اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔ “ یعنی جو کچھ ان کے لئے مقرر کیا گیا ہوتا ہے اس میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جاتی۔ مگر یہ ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کو منتہا ہے۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں (آتش جہنم) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا۔

(اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار) ” یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگے کے، وہ اس میں ابد لا باد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انہیں محروم کردیا جائے گا۔ (وحبط ما صنعو فیھا) ” اور برباد ہوگیا جو کچھ انہوں نے کیا دنیا میں “ یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہوجائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لئے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہوجائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ایمان ہے۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے ؟ ) یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لانے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ آپ کے قائم مقام، آپ کے دین کو قائم کرنے والے آپ کے ورثاء کا حال اور اہل ایقان کے دلائل کا ذکر کرتا ہے اور یہ ایسے اوصاف ہیں جن سے ان کے سوا کوئی اور متصف نہیں ہے اور نہ ہی ان جیسا کوئی اور ہے۔ فرمایا : (افمن کان علی بینۃ من ربہ ) ” بھلا وہ شخص جو ہے واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے “ یعنی اس وحی کے ذریعے سے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہم مسائل اور ان کے ظاہری دلائل نازل کئے ہیں پس ان سے یہ ثبوت اور دلیل مزید متیقن ہوجاتی ہے۔ (ویتلوہ) ” اور اس کے پیچھے ہے “ یعنی اس دلیل اور برہان کے پیچھے ایک اور دلیل ہے۔ (شاھد منہ) ” ایک گواہ اس کی طرف سے “ اور وہ ہے فطرت مستقیم، عقل سلیم۔ فطرت سلیم اس شریعت کی حقانیت کی گواہی دیتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے نازل اور مشروع فرمایا اور بندہ اپنی عقل کے ذریعے سے اس کے حسن کو معلوم کرلیتا ہے پس اس کے ایمان میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ (وَ ) ” اور “ وہاں ایک تیسرا شاہد بھی ہے (من قبلہ) ” اس سے پہلے “ اور وہ ہے (کتب موسیٰ ) ” موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب “ یعنی تورات (اماماً ) ” پیشوا “ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے امام (ورحمۃً ) ” اور رحمت بنایا ہے۔ “ یہ تورات قرآن کی صداقت پر گواہی دیتی ہے اور اس حق کی موافقت کرتی ہے جو اس کے اندر نازل کیا گیا۔۔۔ یعنی جس کا یہ وصف ہو کہ تمام شواہد ایمان اس کی تائید کرتے ہوں اور اس کے پاس تمام دلائل یقین قائم ہوں، کیا وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو تاریکیوں اور جہالتوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ان میں سے نکل نہیں سکتا ؟ یہ دونوں اللہ کے ہاں برابر ہیں نہ اللہ کے بندوں کے ہاں۔ (اولیک) ” یہی “ یعنی وہ لوگ جن کو دلائل قائم کرنے کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ (یومنون بہ) ” اس پر ایمان لاتے ہیں۔ “ یعنی قرآن پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں ان کے نتیجے میں انہیں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا ہوتی ہے۔ (ومن یکفر بہ من الاحزاب) ” اور جو منکر ہو اس سے سب فرقوں میں سے “ یعنی روئے زمین کے تمام گروہ، جو حق کو ٹھکرانے پر متفق ہیں۔ (فالنار موعدہ) ” پس دوزخ اس کا ٹھکانا ہے “ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ (فلا تک فی مریۃ منہ) ” تو آپ اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ “ یعنی آپ اس کی طرف سے ادنیٰ سے شک میں بھی مبتلا نہ ہوں۔ (انہ الحق من ربک ولکن اکثر الناس لا یومنون) ” بیشک وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ، “ یعنی یا تو جہالت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے یا ظلم، عناد اور بغاوت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے۔ ورنہ جس کا مقصد اچھا اور فہم درست ہے وہ اس پر ضرور ایمان لئے گا، کیونکہ اسے اس میں وہ صداقت نظر آتی ہے جو اسے ہر لحاظ سے ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ؟ ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

(ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً ) ” اور وہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے “ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں (اولیک یعرضون علی ربھم) ” یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے “ تاکہ وہ انہیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سکت عذاب کا فیصلہ سنائے گا (ویقول الاشھاد) ” کہیں گے گواہی دینے والے “ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب وافترا پر گواہی دیں گے (ھٰولاء الذین کذبو علی ربھم الا لعنۃ اللہ علی الظلمین) ” یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار ! اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے جھوٹوں پر۔ “ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا، کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : (الذین یصدون عن سبیل اللہ) ” جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے “ پس انہوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء ومرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلا تے ہیں۔ (ویبغونھا) ” اور اس میں چاہتے ہیں “ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں (عوجاً ) ” کجی “ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کریت ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اللہ ان کا برا کرے (وھم بالاخرۃ ھم کفرون) ” اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے۔

“ (اولئک لم یکونو معجزین فی الارض ) ” وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے، کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں (وماکان لھم من دون اللہ من اولیاء ) ” اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست “ جو ان کی تکلیف دور کرسکیں یا ان کے لئے کوئی فائدہ حاصل کرسکیں، بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔ (یضعف لھم العذاب) ” دوگنا ہے ان کے لئے عذاب “ ان کے لئے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا “ کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ (ماکانویستطیعون السمع) ” نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی “ یعنی حق کے خلاف بعض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ متفع ہوسکیں (فمالھم عن التذکرۃ معرضین۔ کانھم حمر مستنفرۃ۔ فرت من قسورۃ) ” انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بد کے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں۔ “ (وما کانو یبصرون) ” اور نہ دیکھتے تھے “ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں۔
Ayah 11:21

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتارہا۔

(اولئک الذین خسرو انفسھم) ” وہی لوگ ہیں جنہوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو “ کیونکہ وہ سب بڑے ثواب سے محروم ہوگئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے (وصل عنھم ماکون یفترون) ” اور گم ہوگیا ان سے وہ جھوٹ باندھتے تھے “ یعنی ان کا وہ دین، جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے، مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آگیا، تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی عبادت کیا کرتے تھے۔
Ayah 11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سب زیادہ نقصان پانیوالے ہیں۔

(لاجرم) ” بلا شبہ “ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ (انھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون) ” وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کردیا ہے، بلکہ ان کے لئے شدید ترین خسارہ مقرر کیا، کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہوگا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی یہی صاحب جنت ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کی جزابیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا : (ان الذین امنو) ” جو لوگ ایمان لائے۔ “ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا، تو انہوں نے امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ (وعملوالصلحت) ” اور عمل نیک کئے۔ “ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں۔ (واخبتوا الی ربھم) ” اور عاجزی کی انہوں نے اپنے رب کے سامنے “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے فرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بےمائیگی کا اظہار کیا (اولئک ) ” یہی “ یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں (اصحب الجنۃ ھم فیھا خلدون) ” جنتی ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انہوں نے حاصل نہیں کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انہوں نے سبقت نہ کی ہو۔
Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فرقوں (یعنی کافر ومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہر ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

(مثل الفریقین) ” مثال دو گروہوں کی “ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ (کالا عمیٰ والاصم) ” اندھے اور بہرے کی مانند ہیں “ یعنی ان بدبختوں کا گروہ (والبصیر والسمیع) ” اور دیکھنے، سننے والے کے مانند ہیں “ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ (ھل یستوین مثلاً ) ” کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ “ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں، بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ (افلا تذکرون) ” پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے “ ان اعمال کی طرف جو تمہیں فائدہ دیں اور تم انہیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمہارے لئے نقصان دہ ہیں، پس تم ان کو چھوڑ دو ۔
Ayah 11:25

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو انکی قوم کی طرف بھیجا تو (انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے (اور پیغام پہنچانے) آیا ہوں

ولقد ارسلنا نوحاً ) ” اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ “ یعنی ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ (الی قومہ ) ” ان کی قوم کی طرف۔ “ جو انہیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا : (انی لکم نذیر مبین) ” میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔ “ یعنی میں نے جس چیز سے تمہیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کردیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
Ayah 11:26

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔

(ان لا تعبدو الا اللہ ) ” کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ “ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ (انی خاف علیکم عژاب یوم الیم) ” مجھے تمہاری نسبت درد ناک عذاب کا اندیشہ ہے۔ “ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر درد ناک عذاب کا ڈر ہے۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں اور وہ بھی رائے ظاہرے سے (نہ غور وتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

(فقال الملاء الذین کفرو من قومہ ) ” تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔ “ یعنی جناب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے اشراف اور روئسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنہوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے : (ما نرک الا بشراً مثلنا) ” ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں “ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انہیں نوح (علیہ السلام) کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں، کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کرسکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کرسکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ (ومانرک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا ) ” اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ “ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔ حالانکہ وہ، در حقیقت، اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنہوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑح کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ (بادی الرای) ” سرسری نظر والے “ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں، بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں۔ حالانکہ انہیں معلوم نہیں کہ واضح حق ہے وہ ہے جس کی طرف عقل بد یہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں۔ (ومانری لکم علینا من فضل) ” اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔ “ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمہاری اطاعت کریں (بل نظنکم کذبین) ” بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا گمان کرتے ہیں “ انہوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا، کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی تائید کے لئے نازل فرمایا تھا، کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی تائید کے لئے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انہیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ؟ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔

(قال) بناء بریں نوح (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا : (یقوم اریتم ان کنت علی بینۃ من ربی) ” اے میری قوم ! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے “ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہوجاتی تھی۔ در حقیقت وہ سچے تھے، لہذٰا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سیر وشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لئے، تمہیں یہی قول کافی ہے۔ (واتنی رحمۃ من عندہ ) ” اور وہ دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے “ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھ ہدایت سے نوازا ہے۔ (فعمیت علیکم) ” پھر اسے تمہاری آنکھ سے مخفی رکھا “ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لئے تم اسے قبول کرنے کے لئے نہ اٹھے۔ (انلز مکموھا ) ” کیا ہم تمہیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں “ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو ؟ (وانتھم لہا کرھون) ” جب کہ تم اسے ناپسند کرتے ہو “ یہاں تک کہ تم اس چیزکو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمہارا بہتان اور ہم پر تمہاری افتراپردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمہیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لئے تمہاری عدم اطاعت کی موجودگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔ جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمہیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کرسکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنا بریں فرمایا : (انلز مکموھا وانتھم لھا کرھون) ” کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں جب کہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ “
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انکو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

(ویقوم لا اسئلکم علیہ مالاً ) ” اسے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں۔ “ یعنی میں تمہیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ (ان اجری الا علی اللہ ) ” میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے “ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بےمایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں۔ اس لئے آپ نے فرمایا : (وما انا بطارد الذین امنو) ” اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انہیں نکالنے والا نہیں ہوں۔ “ یعنی میرے لئے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکاردوں، بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ (انھم ملقو ربھم) ” وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں “ پس وہ انہیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ (ولکنی ارکم قوماً تجھلون) لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو “ کیونکہ تم مجھے اولیاء کو دھتکار نے اور اپنے دور سے کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لئے رد کردیا ہے، کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں، اور اس لئے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لئے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور برادران ملت اگر میں انکو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لئے) کون میری مدد کرسکتا ہے ؟ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(ویقوم من ینصرونی من اللہ ان طردتھم) ” اور اے میری قوم ! اگر میں ان کو دھتکاردوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا ؟ “ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ (افلا تذکرون) ” کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔ “ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمہارے لئے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے ؟
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دیگا جو انکے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں۔

(ولا اقول لکم عندی خزائن اللہ ) ” اور میں تم سے نہیں کہتا ہے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں “ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں، میں تمہیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمہیں برے انجام سے ڈراتا ہوں، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں۔ (ولا اعلم الغیب) ” اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں “ کہ میں تمہارے سینے کے بھیدوں اور تمہارے ” رازدروں “ کے بارے میں تمہیں آگاہ کرسکوں۔ (ولا اقول انی ملکٌ) ’ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ “ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں۔ (ولا اقول للذین تردری اعینکم) ” اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمہاری آنکھوں میں حقیر ہیں “ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سردار ان قوم حقیر سمجھتے تھے۔ (لن یوتیھم اللہ خیراً اللہ اعلم بما فی انفسھم) ” اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے “ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لئے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (انی اذاً ) ” بیشک میں تب “ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے (لمن الظلمین) ” ظالموں میں سے ہوں گا “ ، نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کرلیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر نازل کرو۔

جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوح (علیہ السلام) سے اپنا مقصد حاصل نہ کرسکے تو انہوں نے نوح (علیہ السلام) سے کہا : (ینوح قد جد لتنا فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین) ” اے نوح ! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آجو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے “ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انہوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انہوں نے یہ کیوں نہ کہا “ اے نوح ! (علیہ السلام) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملات کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کردیں، تاکہ ہم اس کی پیروی کرسکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں “۔۔۔۔۔ تو یہ اس شخص کے لئے انصاف پر مبنی جواب ہوتا ہے جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔
Ayah 11:33

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کو تو خدا ہی چاہے گا تو نازل کریگا۔ اور تم (اس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔

مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنابریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔ اس لئے نوح (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : (انما یاتیکم بہ اللہ ان شاء ) ” اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔ “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مثیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا، تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ (وما انتھم بمعجزین) ” اور تم اس (اللہ تعالیٰ ) کو عاجز اور بےبس نہیں کرسکتے “ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور خدا یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیر خواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے۔ اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم) ” اور انہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں، اگر اللہ کا ارادہ تمہیں گمراہ کرنے کا ہو، یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارادہ غالب ہے، کیونکہ اگر وہ تمہیں تمہارے حق کو ٹھکرادینے کی پاداش میں گمراہ کردے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمہاری خیر خواہی کروں۔۔۔۔۔۔ اور جناب نوح (علیہ السلام) نے ایسا کیا بھی۔۔۔۔۔۔ تب بھی میری یہ کوشش تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ (ھو ربکم) ” وہ تمہارا رب ہے “ تمہارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (والیہ ترجعون) ” اور اسی کی طر فتم لوٹائے جاؤ گے “ پس وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ و کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں برئی الذمہ ہوں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : (ام یقولون افتریہ) ” کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے “ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوح (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ کہہ دے۔ (قل ان افتریتہ فعلی اجرامی وانا بری ممبا تجرمون) ” کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو، تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمہارے گناہوں سے بری ہوں “ یعنی شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے (ولا تذرو ازرۃ وزر اخریٰ ) ” کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ “ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرم ﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے قصہ کے اثناء میں، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنہیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے سامنے حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپ ﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چناچہ فرمایا : (ام یقولون افترہ) ” کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ “ یعنی قرآن کو محمد ﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے، کیونکہ انہیں علم ہے کہ آپ ﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں، اہل کتاب کے علوم سیکھنے کے لئے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افتر اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت، حق سے عناد رکھتے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا، بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں۔ اس لئے فرمایا : (قل ان افتریتہ فعلی اجرامی ) ” کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ “ یعنی میرا گناہ جھوٹ میرے ذمہ ہے (وانا بری مما تجرمون) ” اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں۔ “ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کررہے ہو۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جو کام یہ کر رہے ہیں انکی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔

(واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد امن) ” نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا، مگر جو ایمان لا چکا “ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں۔ (فلا تبتئس بما کانو یفعلون) ” پس آپ غم نہ کریں ان کا موں پر جو وہ کر رہے ہیں “ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے۔

(واصنع الفلک باعیننا ووحینا) ” اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ “ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ (ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا) ” اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا “ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں۔ (انھم مغرقون) ” بیشک یہ غرق ہوں گے “ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہوچکا ہے۔
Ayah 11:38

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو (نوح نے) کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب انکی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے ' وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کردی (وکلما مر علیہ ملا من قومہ ) ” جب کبھی سردار ان قوم ان کے پاس سے گزرتے “ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے (سخرو منہ قال ان تسخرو منا ) ” تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر مذاق کرتے ہو ہم سے “ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو (فانا نسخر منکم کما تسخرون۔ فسوف تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ ویحل علیہ عذاب مقیم) ” تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب “ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر ؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انہیں معلوم ہوگیا۔