11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الۗرٰ۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات (پہلے) پختہ کی گئی ہیں پھر ان کی تفصیل بیان کی گئی ہے اس ہستی کی طرف سے جو حکیم اور خبیر ہے

آیت 1 الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن مجید میں شروع شروع میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ حجم کے اعتبار سے تو چھوٹی ‘ لیکن بہت جامع اور گہرے مفہوم کی حامل ہیں ‘ جیسے کو زے میں سمندر کو بند کردیا گیا ہو۔ مثلاً سورة العصر ‘ جس کے بارے میں امام شافعی فرماتے ہیں : لَوْلَمْ یُنَزَّلْ مِنَ الْقُرْآنِ سِوَاھَا لَکَفَتِ النَّاس یعنی ”اگر اس سورت کے علاوہ قرآن میں کچھ بھی نازل نہ ہوتا تو بھی یہ سورت لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی“۔ امام شافعی سورة العصر کے بارے میں مزید فرماتے ہیں : لَوْ تَدَبَّرَ النَّاسُ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ لَوَسِعَتْھُمْ ”اگر لوگ اس سورت پر ہی تدبر کریں تو یہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوجائے گی“۔ چناچہ قرآن مجید کی ابتدائی سورتیں اور آیات بہت محکم اور جامع ہیں اور بعد میں انہی کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ اور اس کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے :
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے۔ یقیناً میں ہوں تمہارے لیے اسی کی جانب سے خبردار کرنے والا اور بشارت دینے والا

آیت 2 اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ انبیاء ورسل کے لیے قرآن میں بشیر اور نذیر کے الفاظ بار بار آتے ہیں۔ جیسے سورة النساء میں فرمایا : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِط وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا اور سورة الانعام میں فرمایا : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ آیت 48
Ayahs 11:3–4

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے رب سے استغفار کرو پھر اس کی جناب میں توبہ کرو وہ تمہیں (دُنیوی زندگی میں) مال و متاع دے گا بہت اچھا ایک وقت معین تک اور ہر صاحب فضل کو اس کے حصے کا فضل عطا کرے گا اور اگر تم پھر جاؤ گے تو مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

اللہ ہی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے

آیت 3 وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ یہاں ذِیْ فَضْلٍ سے مراد ہے مستحق فضل۔ یعنی جو بھی فضل کا مستحق ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اسے اپنا فضل ضرور عطا فرمائے گا۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

آگاہ ہوجاؤ یہ لوگ اپنے سینوں کو دہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپ جائیں آگاہ ہوجاؤ کہ جب وہ اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں تب بھی اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا رہے ہوتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ تو اس کو بھی جانتا ہے جو کچھ سینوں کے اندر ہے

آیت 5 اَلاآ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔ ثَنٰی یَثْنِیْ کے معنی پھیرنے ‘ موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ مکہ میں رسول اللہ کی دعوت کے مخالفین میں سے کچھ لوگوں کا رویہ ایسا تھا کہ آپ کو آتے دیکھتے تو رخ بدل لیتے یا کپڑے کی اوٹ میں منہ چھپالیتے ‘ تاکہ کہیں آمنا سامنا نہ ہوجائے اور آپ انہیں مخاطب کر کے کچھ اپنی باتیں نہ کہنے لگیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ حق کا سامنا اور حقیقت کا مواجہہ کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ حالانکہ کسی کے گریز کرنے سے حقیقت غائب نہیں ہوجاتی۔ شتر مرغ طوفان کے دوران اگر ریت میں سر چھپالے تو اس سے طوفان کا رخ تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس کے علاوہ ایک رائے وہ ہے جو بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رض کے حوالے سے نقل ہوئی ہے کہ کچھ اہل ایمان پر حیا کا بہت زیادہ غلبہ تھا مثلاً حضرت عثمان ان اصحاب میں بہت نمایاں تھے ایسے لوگ کبھی غسل کے وقت بھی عریاں ہونا پسند نہیں کرتے تھے اور ایسے مواقع پر اس انداز سے جھک جاتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو ستر چھپا رہے۔ اسی طرح قضائے حاجت کے وقت بھی پورے ستر کا اہتمام کرتے تھے۔ اس حوالے سے اس حکم کا منشا یہ ہے کہ تم اس سلسلے میں جو کچھ بھی کرلو ‘ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے تو نہیں چھپ سکتے ہو۔ لہٰذا ستر چھپانے کے بارے میں جو بھی احکامات ہیں ان کی معروف طریقے سے پیروی کرو۔ اس طرح کے کسی بھی معاملہ میں غلو کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جاندار) زمین پر مگر اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے اور وہ جانتا ہے اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی اور اس کے عارضی طور پر سونپے جانے کی جگہ کو بھی یہ سب کچھ ایک روشن کتاب میں (در ج) ہے

آیت 6 وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ الاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے اندر تقسیم رزق کا جو نظام وضع کیا ہے اس میں اس نے ہر جاندار کے لیے اس کی ضروریات زندگی فراہم کردی ہیں۔ بچے کی پیدائش بعد میں ہوتی ہے مگر اس کے لیے ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ اللہ کے اس نظام اور اس کے قوانین کو پس پشت ڈال کر کوئی ایسا نظام یا ایسے قوانین وضع کرے جن کے تحت ایک فرد کے حصے کا رزق کسی دوسرے کی جھولی میں چلا جائے ‘ تو رزق یا دولت کی تقسیم کا خدائی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس لوٹ کھسوٹ کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کہیں دولت کے بےجا انبار لگیں گے اور کہیں بیشمار انسان فاقوں پر مجبور ہوجائیں گے۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی رزق کی تقسیم میں کوئی کمی بیشی نظر آئے تو سمجھ لو کہ اس کا ذمہ دار خودانسان ہے۔ وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَمُسْتَوْدَعَہَا مُستَقَر اور مستودَع دونوں الفاظ کی تشریح سورة الانعام کی آیت 98 میں تفصیل کے ساتھ ہوچکی ہے۔ وہاں ان الفاظ کے بارے میں تین مختلف اقوال بھی زیر بحث آ چکے ہیں۔ کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ وہی روشن اور واضح کتاب جو علم الٰہی کی کتاب ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور اس کا تخت تھا پانی پر تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون ہے تم میں سے اچھے عمل کرنے والا اور اگر آپ کہیں کہ تمہیں اٹھایا جائے گا مرنے کے بعد تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے

آیت 7 وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ میرے نزدیک یہ آیت آج بھی متشابہات میں سے ہے ‘ لیکن شاید یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب یہ دنیا معرض وجود میں آئی۔ زمین کی تخلیق کے بارے میں سائنسی اور تاریخی ذرائع سے اب تک ملنے والی معلومات کو مجتمع کر کے جو آراء سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زمین جب ٹھنڈی ہونی شروع ہوئی تو اس سے بخارات اور مختلف اقسام کی گیسیں خارج ہوئیں۔ انہی گیسوں میں سے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے پانی پیدا ہوا جو لاکھوں سال تک بارشوں کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر جب زمین ٹھنڈی ہو کر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز پیدا ہونے سے پہاڑ اور سمندر وجود میں آئے۔ اس وقت تک کسی قسم کی کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس زمین کی حد تک اللہ تعالیٰ کا تخت حکومت اس کا تصور انسانی ذہن سے ماوراء ہے پانی پر تھا۔ پھر وہ دور آیا جب زمین کی آب وہوا زندگی کے لیے موافق ہوئی تو مٹی اور پانی سے وجود میں آنے والے دلدلی علاقوں میں نباتاتی یا حیوانی مخلوق کی ابتدائی شکلیں پیدا ہوئیں۔ واللہ اعلم ! لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً یعنی انسانی زندگی کا وہ حصہ جو اس دنیا میں گزرتا ہے اس کا اصل مقصد امتحان ہے۔ علامہ اقبال نے اس شعر میں اس آیت کی بہت خوبصورت ترجمانی کی ہے : قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی !
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر مؤخر کیے رکھیں ہم ان سے عذاب کو ایک خاص مدت تک تو وہ کہتے ہیں کہ کس چیز نے روک رکھا ہے اسے آگاہ ہوجاؤ ! جس دن یہ ان پر آجائے گا تو ان کی طرف سے پھیرا نہیں جائے گا اور ان کو گھیرے میں لے لے گی وہی چیز جس کا یہ لوگ استہزا کیا کرتے تھے

آیت 8 وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ کہ اتنے عرصے سے آپ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ تم پر عذاب آنے والا ہے ‘ مگر اب تک وہ عذاب آیا کیوں نہیں ؟ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے ؟
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم مزہ چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا پھر (جب) ہم اس سے وہ چھین لیتے ہیں تو وہ ہوجاتا ہے بالکل مایوس نہایت نا شکرا

ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ ۚ اِنَّهٗ لَيَـــُٔــوْسٌ كَفُوْرٌ انسان بنیادی طور پر کوتاہ نظر اور ناشکرا ہے۔ کسی نعمت کامیابی یا خوشی کے بعد اگر اسے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ اس پر کبھی اللہ کی نظر کرم بھی تھی۔ چاہیے تو یہ کہ اچھے حالات میں انسان اللہ کا شکر ادا کرے اور جب کوئی سختی آجائے تو اس پر صبر کرے اور ساتھ ہی ساتھ دل میں اطمینان رکھے کہ ہر طرح کے حالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اگر آج سختی ہے تو کل آسائش بھی تو تھی۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر ہم مزہ چکھائیں اسے نعمتوں کا کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی ہوئی تھی تو ضرور کہے گا کہ میرے تو سارے دلدّر دو رہو گئے بیشک وہ اترانے والا اور فخر جتانے والا ہے

اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُــوْرٌ جب کسی سختی کے بعد انسان کو آسائش یا کوئی نعمت مل جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ اسے اللہ کی رحمت اور اس کا انعام سمجھتے ہوئے سجدۂ شکر بجا لائے وہ اس پر اترانا اور ڈینگیں مارنا شروع کردیتا ہے اور اسے اپنی تدبیر کا نتیجہ اور اپنی محنت کا صلہ قرار دیتا ہے۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کی روش اختیار کی اور نیک اعمال کیے انہی کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اج رہے

آیت 11 اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یعنی سب انسان ایک جیسے نہیں ‘ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو اللہ نے حقیقی ایمان کی نعمت سے نواز رکھا ہے اور ایمان کے نتیجے میں ان کے دل صبر کی دولت سے مالا مال ہیں اور ان کے کردار سے اعمال صالحہ کے نور کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

تو (اے نبی !) شاید آپ کچھ چیزیں چھوڑ دیں اس میں سے جو آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے اور آپ کا سینہ اس سے تنگ ہو رہا ہے جو وہ کہہ رہے ہیں کہ کیوں نہیں ان کے اوپر اتار دیا گیا کوئی خزانہ یا کیوں نہیں آیا ان کے پاس کوئی فرشتہ اے نبی !) آپ تو صرف خبردار کرنے والے ہیں اور ہرچیز کا ذمہ دار اللہ ہے

وَضَاۗىِٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ۭ یہ مضمون اس سے پہلے بڑی وضاحت کے ساتھ سورة الانعام میں آچکا ہے لیکن زیر مطالعہ گروپ کی مکی سورتوں میں بھی جا بجا مشرکین کی ایسی باتوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں گروپس میں شامل یہ تمام مکی سورتیں ایک ہی دور میں نازل ہوئی ہیں۔ یہاں مکی سورتوں کی ترتیب مصحف کے بارے میں ایک اہم نکتہ سمجھ لیں۔ رسول اللہ کے قیام مکہ کے بارہ سال کے عرصے کو اگر چار چار سال کے تین حصوں میں تقسیم کریں تو پہلے حصے یعنی پہلے چار سال میں جو سورتیں نازل ہوئیں وہ قرآن مجید کے آخری دو گروپوں میں شامل ہیں ‘ یعنی سورة قٓ سے لے کر آخر تک۔ درمیانی چار سال کے دوران نازل ہونے والی سورتیں درمیانی گروپوں میں شامل ہیں اور آخری چار سال میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ شروع کے دو گروپوں میں شامل ہیں۔ ایک گروپ میں سورة الانعام اور سورة الاعراف جبکہ اس دوسرے گروپ میں سورة یونس تا سورة المؤمنون اس میں صرف ایک استثناء ہے جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ اس دور کی سورتوں میں مختلف انداز میں بار بار حضور کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کا فرض منصبی یہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو خبردار کردیں۔ اس کے بعد تمام معاملات اللہ کے حوالے ہیں۔ وہ بہتر جانتا ہے کہ ایمان یا ہدایت کی توفیق کسے دینی ہے اور کسے نہیں دینی۔ کوئی معجزہ دکھانا ہے یا نہیں نافرمانوں کو کب تک مہلت دینی ہے اور کب ان پر عذاب بھیجنا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) اس نے خود گھڑ لیا ہے آپ کہیے کہ اچھا تم لوگ بھی لے آؤ اس جیسی دس سورتیں گھڑی ہوئی اور (اس کے لیے) بلا لو تم جس کو بھی بلا سکتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو

قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ مشرکین کو یہ چیلنج مختلف درجوں میں بار بار دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے انہیں کہا گیا تھا کہ اس جیسا قرآن تم بھی بنا کر دکھاؤ بنی اسرائیل : 88۔ یہاں دوسرے درجے میں 10 سورتوں کا چیلنج دیا گیا۔ پھر اس کے بعد برسبیل تنزل صرف ایک سورت بناکر لانے کو کہا گیا ‘ جس کا تذکرہ سورة یونس آیت 38 میں بھی ہے اور سورة البقرۃ آیت 23 میں بھی۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پھر اگر وہ (تمہارے مدد گار) تمہاری اس دعا کو قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے نازل ہوا ہے اور یہ کہ کوئی معبود نہیں ہے سوائے اس کے۔ تو کیا اب تم سرتسلیم خم کرتے ہو

آیت 14 فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ یعنی اگر وہ اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرأت نہ کرسکیں اور تمہاری مدد کو نہ پہنچ سکیں : فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَاَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ یہ کفار ہی سے خطاب ہے کہ تم لوگ اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے اپنے معبودوں کو پکار دیکھو کچھ خود محنت کرو اور کچھ ان سے کہو کہ وہ القاء اور الہام کریں اور اس طرح مل جل کر دس سورتیں بنا لاؤ۔ اور اگر تمہارے یہ معبود تمہاری اس درخواست کو قبول نہ کرسکیں تو جان لو کہ نہ صرف یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے بلکہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی نہیں۔ تو اس سب کچھ کے بعد بھی کیا تم ماننے والے نہیں ہو ؟ زور استدلال ملاحظہ ہو کہ ایک ہی دلیل سے قرآن حکیم کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت بھی دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا بھی۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ انہیں اسی (دنیا کی زندگی) میں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی

آیت 15 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا جن لوگوں کا مقصد حیات ہی دنیوی مال و متاع کو حاصل کرنا ہو اور اسی کے لیے وہ رات دن دوڑ دھوپ میں لگے ہوں تو : نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ ان لوگوں کے دل و دماغ پر دنیا پرستی چھائی ہوئی ہے ‘ اور انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں دنیوی زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے لیے ہی صرف کردی ہیں۔ ان کی ساری منصوبہ بندی اسی دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے ہے۔ چناچہ ان کی اونچی اونچی عمارات بھی بن گئی ہیں ‘ کاروبار بھی خوب وسیع ہوگئے ہیں ‘ ہر قسم کا سامان آسائش بھی ان کی دسترس میں ہے ‘ عیش و عشرت کے مواقع بھی حسب خواہش انہیں میسر ہیں۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ :
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگ کے اور اس (دُنیا) میں انہوں نے جو کچھ کیا وہ سب حبط ہوجائے گا اور جو اعمال انہوں نے کیے وہ بھی ضائع ہوجائیں گے

آیت 16 ااُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ان کی ساری محنت اور بھاگ دوڑ اسی دنیا کے لیے تھی ‘ لہٰذا ہم نے ان کی محنت کا صلہ اسی دنیا میں دے کر ان کا حساب چکا دیا ہے۔ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْہَا وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ روز محشر انہیں معلوم ہوگا کہ جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا اور جس کے لیے اپنی تمام تر استعدادات اور صلاحیتیں صرف کیں وہ سب ملیامیٹ ہوچکا ہے ‘ اور اگر انہوں نے اپنے دل کو بہلانے کے لیے کوئی جھوٹی سچی نیکی کی ہوگی تو وہ بھی بےبنیاد ثابت ہوگی۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے آئے اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی اور اس سے پہلے کتاب موسیٰ بھی موجود تھی جو امام (راہنما) بھی تھی اور رحمت بھی یہی لوگ ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لائیں گے اور جو اس کا انکار کرے گا ان گروہوں میں سے تو آگ ہی اس کے وعدہ کی جگہ ہے تو آپ اس کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑیں یقیناً یہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں

آیت 17 اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ بَیِّنَۃ واضح دلیل سے مراد انسان کی فطرت سلیمہ ہے۔ انسان کے اندر جو روح ربانی پھونکی گئی ہے اس کی وجہ سے اللہ کی معرفت اس کے اندر موجود ہے۔ مگر یہ معرفتِ الٰہی انسان کے اندر خوابیدہ dormant ہوتی ہے۔ پھر جب وحی کے ذریعے واضح ہدایت اس تک پہنچتی ہے تو وہ خوابیدہ معرفت فوراً جاگ جاتی ہے۔ وَیَتْلُوْہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ یعنی ایک سلیم الفطرت شخص جس کو خود اپنے وجود میں اور زمین و آسمان کی ساخت اور کائنات کے نظم و نسق میں توحید باری تعالیٰ کی واضح شہادت مل رہی تھی ‘ جب اس کے پاس قرآن کی صورت میں اللہ کی طرف سے ایک گواہی بھی آگئی ‘ تو یہ ”نورٌ علٰی نورٍ“ والا معاملہ ہوگیا۔ اور پھر اس پر مستزاد تورات کی تصدیق۔ وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَۃً ایسا سلیم الفطرت شخص کیونکر ایمان نہیں لائے گا ؟ یہ تمثیل زیادہ وضاحت کے ساتھ سورة النور میں بیان ہوئی ہے۔ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗ تو اب جو بھی اس کتاب کے منکر ہوں چاہے وہ مشرکین مکہ میں سے ہوں ‘ دوسرے کفار میں سے ‘ یا اہل کتاب میں سے ‘ ان کا موعود ٹھکانا بس دوزخ ہے۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یہ وہ لوگ ہیں جو پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ کہا تھا اپنے رب پر آگاہ ہوجاؤ ! ایسے ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے

آیت 18 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا جس نے خود کوئی چیز گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردی۔ اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ان جھوٹ گھڑنے والوں میں غلام احمد قادیانی آنجہانی اور اس جیسے دوسرے مدعیان نبوت بھی شامل ہوں گی۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں اور یہی لوگ آخرت کے منکر ہیں

آیت 19 الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًا تعلیماتِ حق اور طریق ہدایت پر خواہ مخواہ کے اعتراضات کرتے ہیں تاکہ لوگ اس راستے کو اختیار نہ کریں۔ وَهُمْ بالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ یہ وہی بات ہے جو ہم سورة یونس میں بار بار پڑھ آئے ہیں : لَاْ یَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا کہ انہیں ہم سے ملاقات کی امید ہی نہیں اور ان کی اصل بیماری بھی یہی ہے کہ وہ دل سے آخرت کے منکر ہیں اور اسی وجہ سے ان کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں (اللہ کو) ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی حمایتی ہے ان کے لیے عذاب دو گنا کیا جاتا رہے گا اس لیے کہ) نہ تو وہ سننے کی صلاحیت رکھتے تھے اور نہ ہی دیکھتے تھے

آیت 20 اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ یہ لوگ اللہ کے قابو سے باہر نہیں ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کو ہرگز شکست نہیں دے سکتے۔ مَا کَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ وہ بالکل اندھے اور بہرے ہوگئے تھے۔ سورة البقرۃ میں ایسے لوگوں کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے : صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ حق کے لیے ان لوگوں کے اسی رویہ کی وجہ سے ان کا عذاب بڑھایا جاتا رہے گا۔
Ayah 11:21

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو برباد کرلیا اور ان سے گم ہوگیا جو کچھ وہ افترا کیا کرتے تھے

آیت 21 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ تب انہیں اپنے جھوٹے معبود اور سفارشی ‘ من گھڑت عقائد و نظریات اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازیوں میں سے کچھ بھی نہیں سوجھے گا۔ یہ سب کچھ پادر ہوا ہوجائے گا۔
Ayahs 11:22–23

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ آخرت میں سب سے بڑھ کر خسارہ پانے والے یہی لوگ ہوں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

اس کے برعکس) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی وہ ہوں گے جنت والے اور اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش

آیت 22 لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ واضح رہے کہ ”اَخْسَرُ“ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ اہل جہنم کے تذکرے کے بعد فوری تقابل simultaneous contrast کے لیے اب اہل جنت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 11:24–26

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

ان دونوں گروہوں کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شخص اندھا اور بہرہ ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا کیا یہ دونوں برابر ہیں مثال کے اعتبار سے ؟ تو کیا تم نصیحت اخذ نہیں کرتے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف (تو آپ نے کہا) کہ میں تمہارے لیے ایک کھلا خبردار کردینے والا ہوں

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ مت پوجو کسی کو سوائے اللہ کے۔ مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دردناک دن کے عذاب کا

هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ کیا تم اس مثال سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے ؟ اب اگلے چھ رکوع انباء الرسل پر مشتمل ہیں۔ ان میں انہی چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر ہم سورة الاعراف میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یعنی حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ یہ چھ رسول ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب ان سب رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ جس خطے میں یہ رسول اپنے اپنے زمانے میں مبعوث ہوئے اس کے بارے میں کچھ تفصیل ہم سورة الاعراف میں پڑھ آئے ہیں۔ یہاں ان میں سے چیدہ چیدہ معلومات ذہن میں پھر سے تازہ کرلیں۔ اگلے صفحے پر جو نقشہ دیا گیا ہے یہ گویا ”ارض القرآن“ کا نقشہ ہے۔ قرآن مجید میں جن رسولوں کے حالات کا تذکرہ ہے وہ سب کے سب اسی خطے کے اندر مبعوث کیے گئے۔ نقشے میں جزیرہ نمائے عرب کے دائیں طرف خلیج فارس اور بائیں طرف بحیرۂ قلزم بحیرۂ احمر ہے ‘ جو اوپر جا کر خلیج عقبہ اور خلیج سویز میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ نقشے پر اگر خلیج فارس سے اوپر سیدھی لکیر کھینچی جائے اور خلیج عقبہ کے شمالی کونے سے بھی ایک لکیر کھینچی جائے تو جہاں یہ دونوں لکیریں آپس میں ملیں گی ‘ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر حضرت نوح کی قوم آباد تھی۔ یہیں سے اوپر شمال کی جانب ارارات کا پہاڑی سلسلہ ہے ‘ جس میں کوہ جودی پر آپ کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔ اس علاقے میں سیلاب کی صورت میں حضرت نوح کی قوم پر عذاب آیا ‘ جس سے پوری قوم ہلاک ہوگئی۔ اس وقت تک پوری نسل انسانی بس یہیں پر آباد تھی ‘ چناچہ سیلاب کے بعد نسل انسانی حضرت نوح کی اولاد ہی سے آگے چلی۔ حضرت نوح کے ایک بیٹے کا نام سام تھا ‘ وہ اپنی اولاد کے ساتھ عراق کے علاقے میں آباد ہوگئے۔ اس علاقے میں ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیداہوئیں۔ انہیں میں سے ایک قوم اپنے مشہور سردار ”عاد“ کے نام کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ قوم عاد جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ اس قوم میں جب شرک عام ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے بہت سے نبی بھیجے۔ ان انبیاء کے آخر میں حضرت ہود ان کی طرف رسول مبعوث ہو کر آئے۔ آپ کی دعوت کو رد کر کے جب یہ قوم بھی عذاب الٰہی کی مستحق ہوگئی تو حضرت ہود اپنے اہل ایمان ساتھیوں کو ساتھ لے کر عرب کے وسطی علاقے حجر کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہاں پھر ان لوگوں کی نسل آگے بڑھی۔ ان میں سے قوم ثمود نے خصوصی طور پر بہت ترقی کی۔ اس قوم کا نام بھی ثمود نامی کسی بڑی شخصیت کے نام پر مشہور ہوا۔ یہ لوگ فن تعمیر کے بہت ماہر تھے۔ چناچہ انہوں نے میدانی علاقوں میں بھی عالی شان محلات تعمیر کیے اور Granite Rocks پر مشتمل انتہائی سخت پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت مکانات بھی بنائے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح مبعوث کیے گئے۔ یہ تینوں اقوام قوم نوح قوم عاد اور قوم ثمود حضرت ابراہیم کے زمانے سے پہلے کی ہیں۔ دوسری طرف عراق میں جو سامئ النسل لوگ آباد تھے ان میں حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے۔ آپ کا تذکرہ قرآن میں کہیں بھی ”انباء الرسل“ کے انداز میں نہیں کیا گیا۔ یہاں سورة ہود میں بھی آپ کا ذکر ”قصص النبیین“ کی طرز پر آیا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم نے عراق سے ہجرت کی اور بہت بڑا صحرائی علاقہ عبور کر کے شام چلے گئے۔ وہاں آپ نے فلسطین کے علاقے میں اپنے بیٹے حضرت اسحاق کو آباد کیا جبکہ اس سے پہلے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو آپ مکہ میں آباد کرچکے تھے۔ حضرت لوط آپ کے بھتیجے تھے۔ شام کی طرف ہجرت کرتے ہوئے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ حضرت لوط کو اللہ تعالیٰ نے رسالت سے نواز کر عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ شہر بحیرۂ مردار Dead Sea کے کنارے پر آباد تھے۔ لہٰذا قوم ثمود کے بعد انباء الرسل کے انداز میں حضرت لوط ہی کا ذکر آئے گا۔ حضرت ابراہیم کی جو اولاد آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے ہوئی وہ خلیج عقبہ کے مشرقی علاقے میں آباد ہوئی۔ اپنے کسی مشہور سردار کے نام پر اس قوم اور اس علاقے کا نام ”مدین“ مشہور ہوا۔ اس قوم کی طرف حضرت شعیب کو مبعوث کیا گیا۔ انباء الرسل کے اس سلسلے میں حضرت شعیب کے بعد حضرت موسیٰ کا ذکر آتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو مصر میں مبعوث کیا گیا جو جزیرہ نمائے عرب سے باہر جزیرہ نمائے سینا Senai Peninsula کے دوسری طرف واقع ہے۔ آپ کی بعثت بنی اسرائیل میں ہوئی تھی ‘ جو حضرت یوسف کی وساطت سے فلسطین سے ہجرت کر کے مصر میں آباد ہوئے تھے۔ سورۂ یوسف میں اس ہجرت کی پوری تفصیل موجود ہے۔ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء و رسل دنیا کے مختلف علاقوں میں مبعوث فرمائے۔ ان تمام پیغمبروں کی تاریخ بیان کرنا قرآن کا موضوع نہیں ہے۔ قرآن تو کتاب ہدایت ہے اور انبیاء ورسل کے واقعات بھی ہدایت کے لیے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔ اس ہدایت کے تمام پہلو کسی ایک رسول کے قصے میں بھی موجود ہوتے ہیں مگر مذکورہ چھ رسولوں کا ذکر بار بار اس لیے قرآن میں آیا ہے کہ ان کے ناموں سے اہل عرب واقف تھے اور ان کی حکایات و روایات میں بھی ان کے تذکرے موجود تھے۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو اس کی قوم کے ان سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی کہ ہم نہیں دیکھتے (اے نوح) آپ کو مگر اپنے جیسا ایک انسان اور ہم نہیں دیکھتے مگر یہ کہ آپ کی پیروی کرنے والے بظاہر ہم میں ادنیٰ درجے کے لوگ ہیں اور ہمیں نظر نہیں آتی اپنے مقابلے میں تم لوگوں میں کوئی بھی فضیلت بلکہ ہمارا گمان تو یہی ہے کہ تم لوگ جھوٹے ہو

آیت 27 فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰٹک الاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا انہوں نے کہا کہ آپ تو بالکل ہمارے جیسے انسان ہیں۔ آپ میں ہمیں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ ہم آپ کو اللہ کا فرستادہ مان لیں۔ وَمَا نَرٰٹکَ اتَّبَعَکَ الاَّ الَّذِیْنَ ہُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ ہمیں بلا تامل نظر آ رہا ہے کہ چند مفلس ‘ نادار اور نچلے طبقے کے لوگ آپ کے گرد اکٹھے ہوگئے ہیں ‘ جبکہ ہمارے معاشرے کا کوئی بھی معزز اور معقول آدمی آپ سے متاثر نہیں ہوا۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

نوح ؑ نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا غور کرو اگر میں (پہلے سے ہی) اپنے رب کی طرف سے بیّنہ پر تھا اور (اب) اس نے مجھے اپنے پاس سے خاص رحمت بھی عطافرما دی ہے (اور یہ وہ چیز ہے) جس کو تمہاری نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے تو کیا ہم چپکا دیں تم پر اس کو (زبردستی) جبکہ تم لوگ اس کو ناپسند کرتے ہو

آیت 28 قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ یہ لفظ بَیِّنَۃ اس سورت میں بار بار آئے گا۔ یعنی میں نے اپنی زندگی تمہارے درمیان گزاری ہے ‘ میرا کردار ‘ میرا اخلاق اور میرا رویہ ‘ سب کچھ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تم لوگ جانتے ہو کہ میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان ہوں۔ لہٰذا تم لوگ غور کرو کہ پہلے بھی اگر میں ایسی شخصیت کا حامل انسان تھا : وَاٰتٰٹنِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ یعنی میرے اوپر اللہ کی رحمت سے وحی آتی ہے جس کی کیفیت اور حقیقت کا ادراک تم لوگ نہیں کرسکتے۔ میں اس کے بارے میں تم لوگوں کو بتا ہی سکتا ہوں ‘ دکھا تو نہیں سکتا۔ اَنُلْزِمُکُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا کٰرِہُوْنَ اب اگر ایک بات آپ لوگوں کو پسند نہیں آرہی تو ہم زبردستی اس کو تمہارے سر نہیں تھوپ سکتے۔ ہم آپ لوگوں کو مجبور تو نہیں کرسکتے کہ آپ ضرور ہی اللہ کو اپنا معبود اور مجھے اس کا رسول مانو۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! میں تم سے اس کے بدلے کوئی مال طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں ان کو دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں وہ یقیناً اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت میں مبتلا ہوگئے ہو

آیت 29 وَیٰقَوْمِ لَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالاً ط اِنْ اَجْرِیَ الاَّ عَلَی اللّٰہِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا جن لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ وہ ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ‘ وہ سب اہل ایمان ہیں ‘ اور اس لحاظ سے میرے نزدیک وہ بہت اہم اور معزز لوگ ہیں۔ اب میں تمہارے کہنے پر ان کو خود سے دور نہیں ہٹا سکتا۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! (ذرا سوچو کہ) اگر میں ان کو اپنے ہاں سے بھگا دوں گا تو کون میری مدد کرے گا اللہ کے مقابلے میں تو کیا تم لوگ نصیحت اخذ نہیں کرتے

آیت 30 وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّہُمْ یہ سب سچے مؤمنین ‘ اللہ کا ذکر کرنے والے اور اس سے دعائیں مانگنے والے لوگ ہیں۔ اگر میں تمہارے کہنے پر ان کو دھتکار دوں تو اللہ کی ناراضگی سے مجھے کون بچائے گا۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ میں یہ کہہ سکتا ہوں ان لوگوں کے بارے میں جنہیں تمہاری آنکھیں حقیر دیکھ رہی ہیں کہ اللہ انہیں کوئی خیر نہیں دے گا اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے (اگر میں ان کو دور کر دوں) تب تو یقیناً میں خود ظالموں میں سے ہوجاؤں گا۔

آیت 31 وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ اللہ کے خزانوں پر میرا اختیار ہے۔ یہ وہی بات ہے جو ہم سورة الانعام آیت 50 میں محمد رسول اللہ کے حوالے سے پڑھ چکے ہیں۔ وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا کیا معلوم اللہ کے ہاں وہ بہت محبوب ہوں ‘ اللہ انہیں بہت بلند مراتب عطا کرے اور اخروی زندگی میں فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعہ کا مستحق ٹھہرائے۔ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ښ اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اپنے ایمان کے دعوے میں کتنا مخلص ہے اور کس کے دل میں اللہ کے لیے کتنی محبت ہے۔ اگر میں تمہارے طعنوں سے تنگ آکر ان اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دوں تو میرا شمار ظالموں میں ہوگا۔
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اے نوح ! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا پس لے آؤہم پر وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اگر تم سچے ہو

آیت 32 قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَکْثَرْتَ جِدَالَنَا جب حضرت نوح کی ان تمام باتوں کا علمی ‘ عقلی اور منطقی سطح پر کوئی جواب ان لوگوں سے نہ بن پڑا تو وہ خواہ مخواہ ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے کہ بس جی بہت ہوگیا بحث مباحثہ ‘ اب چھوڑیں ان دلیلوں کو اور :
Ayah 11:33

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

آپ نے فرمایا کہ وہ (عذاب) تو اللہ ہی لائے گا تمہارے اوپر اگر وہ چاہے گا اور پھر تم اس کو شکست نہیں دے سکو گے

آیت 33 قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ بِہِ اللّٰہُ اِنْ شَآءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ اگر اس نے تمہیں عذاب دینے کا فیصلہ کرلیا تو پھر تم لوگ اس کا مقابلہ کر کے اس کے عذاب سے بچ کر بھاگ نہیں سکو گے۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور تم لوگوں کو میری نصیحت کچھ فائدہ نہیں دے سکتی اگر میں تمہیں نصیحت کرنا بھی چاہوں اگر اللہ ہی تمہاری گمراہی کا فیصلہ کرچکا ہے وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹا دیے جاؤ گے

آیت 34 وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ اگر تمہاری اس خواہ مخواہ کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث اللہ نے تمہاری گمراہی کے فیصلے پر مہر ثبت کردی ہو تو پھر میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے حق میں کچھ بھی مفید نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 11:35–36

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمد) نے اس (قرآن) کو گھڑ لیا ہے ؟ آپ کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو اس کا وبال مجھ ہی پر آئے گا اور میں بری ہوں اس سے جو جرم تم کر رہے ہو

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور وحی کردی گئی نوح کی طرف کہ اب کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا تمہاری قوم میں سے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لا چکے ہیں تو جو کچھ وہ کر رہے ہیں آپ اس کی وجہ سے غمگین نہ ہوں

آیت 35 اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت نوح کے ذکر کے درمیان آگیا ہے۔ اس میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! یہ تمام باتیں جو ہم آپ کو بذریعہ وحی بتاتے ہیں ‘ جیسے حضرت نوح اور آپ کی قوم کی گفت و شنید نقل ہوئی ‘ تو مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اور قصے آپ خود اپنی طرف سے بنا کر انہیں سناتے ہیں۔ آپ ان پر واضح کردیں کہ میں اگر واقعی یہ جرم کر رہا ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ ہی پر آئے گا۔ مگر آپ لوگ اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو جھٹلا کر تم لوگ جس جرم کے مرتکب ہو رہے ہو ‘ اس کے نتائج بھی پھر تم لوگوں کو ہی بھگتنا ہیں۔ بہر حال میں علی الاعلان کہے دیتا ہوں کہ میں تمہارے اس جرم سے بالکل بری ہوں۔ اس جملہ معتر ضہ کے بعد حضرت نوح کے ذکر کا سلسلہ دوبارہ وہیں سے جوڑا جا رہا ہے۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور (اب) آپ کشتی بنائیے ہماری نگاہوں کے سامنے اور ہماری ہدایات کے مطابق اور جو ظالم ہیں ان کے بارے میں اب مجھ سے بات نہ کیجیے گا اب) یہ سب کے سب غرق کیے جائیں گے

آیت 37 وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا اس حکم سے یوں لگتا ہے کہ کشتی کی تیاری کے ہر مرحلے پر حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات مل رہی تھیں ‘ مثلاً لمبائی اتنی ہو ‘ چوڑائی اتنی ہو ‘ لکڑیاں یوں تیار کرو ‘ وغیرہ۔ وَلاَ تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اب ان منکرین میں سے کسی کے بارے میں کوئی درخواست ‘ دعا یا سفارش وغیرہ آپ کی طرف سے نہ آئے ‘ اب اس کا وقت گزر چکا ہے۔
Ayahs 11:38–39

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور آپ کشتی بنا رہے تھے اور جب بھی آپ کے پاس سے گزرتے آپ کی قوم کے سردار تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے نوح فرماتے کہ اگر (آ ج) تم ہم سے تمسخر کر رہے ہو تو (وہ وقت قریب آنے والا ہے کہ) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے جیسے کہ اب تم تمسخر کر رہے ہو

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

تو عنقریب تم جان لوگے کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر اترتا ہے وہ عذاب جو قائم رہنے والا (دائمی) ہوگا

آیت 38 وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ حضرت نوح اور آپ کے اہل ایمان ساتھی جس جگہ اور جس علاقے میں یہ کشتی بنار ہے تھے ظاہر ہے کہ وہاں ہر طرف خشکی ہی خشکی تھی ‘ سمندر یا دریا کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ان حالات میں تصور کریں کہ کیا کیا باتیں اور کیسے کیسے تمسخر آمیز فقرے کہے جاتے ہوں گے کہ اب تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بالکل ہی مت ماری گئی ہے کہ خشکی پر کشتی چلانے کا ارادہ ہے !
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور جوش سے ابل پڑا ہم نے کہا : (اے نوح !) اپنی اس کشتی میں تمام جانداروں کا ایک ایک جوڑا رکھ لو اور اپنے اہل و عیال کو بھی سوائے ان کے جن کے بارے میں پہلے حکم گزر چکا ہے اور ان لوگوں کو بھی (سوار کرلیں) جو ایمان لائے ہیں اور نہیں ایمان لائے تھے آپ کے ساتھ مگر بہت ہی کم

آیت 40 حَتّٰیٓ اِذَاجَآءَ اَمْرُنَا وَفَار التَّنُّوْرُ مشرق وسطیٰ کے اس پورے علاقے میں ایک بہت بڑے سیلاب کے واضح آثار بھی ملتے ہیں ‘ اس بارے میں تاریخی شہادتیں بھی موجود ہیں اور آج کا علم طبقات الارض Geology بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ H.G.Wells نے اس سیلاب کی تاویل یوں کی ہے کہ یہ علاقہ بحیرۂ روم Mediterranean کی سطح سے بہت نیچا تھا ‘ مگر سمندر کے مشرقی ساحل یعنی شام اور فلسطین کے ساتھ ساتھ موجود پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے سمندر کا پانی خشکی کی طرف نہیں آسکتا تھا۔ جیسے کراچی کے بعض علاقوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سطح سمندر سے بہت نیچے ہیں مگر ساحلی علاقہ کی سطح چونکہ بلند ہے اس لیے سمندر کا پانی اس طرف نہیں آسکتا۔ H.G.Wells کا خیال ہے کہ اس علاقے میں سمندر سے کسی وجہ سے پانی کے لیے کوئی راستہ بن گیا ہوگا جس کی وجہ سے یہ پورا علاقہ سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ قرآن مجید کے الفاظ کے مطابق اس سیلاب کا آغاز ایک خاص تنور سے ہوا تھا جس کے نیچے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ اس کے ساتھ ہی آسمان سے غیر معمولی انداز میں لگاتار بارشیں ہوئیں اور زمین نے بھی اپنے چشموں کے دہانے کھول دیے۔ پھر آسمان اور زمین کے یہ دونوں پانی مل کر عظیم سیلاب کی صورت اختیار کر گئے۔ سورة القمر میں اس کی تفصیل بایں الفاظ بیان کی گئی ہے : فَفَتَحْنَآ اَبْوَاب السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْہَمِرٍ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَآءُ عَآٰی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ”پس ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے جن سے لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین کو پھاڑ دیا کہ ہر طرف چشمے پھوٹ پڑے اور یہ دونوں طرح کے پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گئے جو مقدر کردیا گیا تھا۔“ قُلْنَا احْمِلْ فِیْہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَہْلَکَ الاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ ” یہ استثنائی حکم حضرت نوح علیہ السلام کی ایک بیوی اور آپ کے بیٹے ”یام“ کنعان کے بارے میں تھا ‘ جو اسی بیوی سے تھا ‘ جبکہ آپ کے تین بیٹے حام ‘ سام اور یافث ایمان لا چکے تھے اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ حضرت سام اور ان کی اولاد بعد میں اسی علاقے میں آباد ہوئی تھی۔ چناچہ قوم عاد ‘ قوم ثمود اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سب سامئ النسل تھے۔ حام اور یافث دوسرے علاقوں میں جا کر آباد ہوئے اور اپنے اپنے علاقوں میں ان کی نسل بھی آگے چلی۔ وَمَنْ اٰمَنَط وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٓٗ الاَّ قَلِیْلٌ یہاں پر لفظ قلیل انگریزی محاورہ " the little" کے ہم معنی ہے ‘ یعنی بہت ہی تھوڑے ‘ نہ ہونے کے برابر۔