11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الۤرٰ۔ ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں، پھر انھیں کھول کر بیان کیا گیا ایک کمال حکمت والے کی طرف سے جو پوری خبر رکھنے والا ہے۔

سورة ہود الرا دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ اس سورت میں توحید کی دعوت، انبیاء کی اس دعوت کے دوران میں عزیمت اور ان پر گزرنے والے حالات و واقعات، انھیں جھٹلانے والوں کا بدترین انجام اور ان پر آنے والے عذابوں کے تذکرے اور اہل ایمان کی نجات اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر ہے۔ چونکہ اس میں انذار (ڈرانے) کا پہلو غالب ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ پر اس کا بہت اثر ہوا، چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! قَدْ شِبْتَ ، قَالَ شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ وَالْوَاقِعَۃُ وَالْمُرْسَلاَتُ وَ (عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ) وَ (اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ) [ ترمذی، التفسیر، باب ومن سورة الواقعۃ : 3297۔ السلسلۃ الصحیحۃ : 955 ] ”یا رسول اللہ ! آپ بوڑھے ہوگئے۔“ فرمایا : ”مجھے ہود، واقعہ، مرسلات، عم یتساء لون اور تکویر نے بوڑھا کردیا۔“ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ : یہاں قرآن کریم کی چار صفات بیان ہوئی ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن (پڑھا جانے والا مجموعہ) کتاب (لکھا ہوا مجموعہ) بھی ہے، دوسری یہ کہ اس کی آیات محکم یعنی خوب پختہ، مضبوط اور اٹل نازل کی گئی ہیں، جن میں کوئی عیب یا کمی نہیں اور نہ وہ (مجموعی اعتبار سے) منسوخ ہیں، نہ منسوخ ہوں گی اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی کتاب لائی جاسکتی ہے، خواہ ساری مخلوق جمع ہوجائے، ایسی محکم آیات والی کتاب صرف یہ ہے۔ ثُمَّ فُصِّلَتْ : تیسری یہ کہ اس کی آیات ایسی واضح ہیں اور کھول کر بیان کی گئی ہیں کہ کسی آیت کے مفہوم میں ابہام یا پیچیدگی نہیں ہے، پھر ساری کتاب مختلف سورتوں اور آیتوں میں تقسیم ہے۔ ہر آیت جدا جدا ہے، اپنی جگہ مستقل، ایک بیحد خوبصورت ہار کی طرح جو رنگا رنگ مضامین توحید، آخرت، نبوت، قصص کے موتیوں سے پرویا ہوا ہے اور وہ نہایت مناسب فاصلے، ترتیب اور حسن سے اپنی اپنی جگہ جگمگا رہے ہیں، پھر نزول میں بھی آیات اور سورتیں ضرورت کے مطابق الگ الگ نازل کی گئی ہیں۔ ”فصلت“ میں یہ سب باتیں آجاتی ہیں۔ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ : چوتھی یہ کہ یہ کسی انسان، فرشتے، جن یا کسی بھی مخلوق کی تصنیف نہیں، بلکہ اس ذات پاک کا کلام ہے جو حکیم ہے۔ حکیم کا ایک معنی پختہ و محکم بنانے والا ہے، جس کی بنائی ہوئی ہر چیز نہایت محکم، پختہ اور مضبوط ہے، فرمایا : (صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ) [ النمل : 88 ] ”اس اللہ کی کاری گری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔“ یعنی پہاڑ اور ان کا قیامت کو بادلوں کی طرح چلنا اس اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ جب اس کی مخلوق کا یہ حال ہے تو اس کے کلام کے محکم ہونے کی کوئی حد ہوگی ؟ حکیم کا دوسرا معنی حکمت، یعنی دانائی والا ہے، یعنی اس کی تمام آیات کمال حکمت اور دانائی سے پُر ہیں، خبیر یعنی ان کو اتارنے والا ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، بیشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔

اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ : یعنی یہ قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، بلکہ ہر رسول کو اللہ تعالیٰ نے اسی لیے بھیجا، فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) [ الأنبیاء : 25 ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ سورة نحل (36) میں بھی ہر رسول کے بھیجنے کا مقصد ایک اللہ کی عبادت کا حکم اور طاغوت سے اجتناب کی تاکید بیان فرمایا ہے۔ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ : چناچہ آپ ﷺ نے سب سے پہلے اپنے گھر والوں ام المومنین خدیجہ، زید، علی اور اپنے خاص دوست ابوبکر ؓ کے سامنے اللہ کا حکم پیش کیا، وہ ایمان لے آئے، پھر جب یہ آیت اتری : (ۚوَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ) [ الشعراء : 214 ] ”اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا“ تو آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر قریش کے قبائل کو آواز دے کر جمع کیا اور ان تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ [ بخاری : 4770 ] پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت : (وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا) [ سبا : 28 ] تمام دنیا کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور اس کے ثواب کی خوش خبری کا پیغام پہنچانے کا کام شروع کیا۔ چناچہ دوسرے ملکوں سے پہلے جزیرۂ عرب کے لوگوں تک نرمی اور محبت کے ساتھ اور پھر جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے یہ پیغام پہنچایا اور ان سب کو اسلام کے جھنڈے تلے جمع کیا، پھر تمام دنیا کے بادشاہوں کو خطوط لکھے، جن میں بشارت بھی تھی اور نذارت بھی۔ چناچہ روم کے فرماں روان ہرقل کو خوش خبری دی کہ تم مسلمان ہوجاؤ تو سلامت بھی رہو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں دوہرا اجر دے گا اور ڈرایا بھی کہ اگر تم نے اسلام سے منہ موڑا تو تمہاری رعایا کے کفر کا بوجھ بھی تمہاری گردن پر ہوگا۔[ بخاری : 7] دوسرے تمام حکمرانوں تک بھی یہ پیغام پہنچایا، پھر آپ کے خلفاء نے مشرق سے مغرب تک یہ پیغام پہنچا دیا۔
Ayah 11:3

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تمہیں ایک معین مدت تک اچھا سازوسامان دے گا اور ہر زیادہ عمل والے کو اس کا زیادہ ثواب دے گا اور اگر تم پھرگئے تو یقینا میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ : پچھلی آیت میں ”اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں استغفار اور توبہ سے مراد غیر اللہ کی عبادت سے استغفار اور توبہ ہے، یعنی تم اللہ کے ساتھ جو بھی شرک اور اس کی نافرمانیاں کرچکے ہو ان کی معافی اور بخشش مانگو، مگر اس استغفار کا فائدہ تب ہے کہ ان گناہوں سے واپس پلٹ آؤ اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا خلوص دل سے عزم کرو، پھر اگر انسانی کمزوری سے کوئی گناہ ہوجائے تو پھر معافی مانگو اور ساتھ ہی آئندہ کے لیے خلوص دل سے پھر توبہ کرو اور یہ سلسلہ ساری زندگی ہر لغزش پر، خواہ کتنی بار بھی ہوجائے جاری رکھو۔ نہ گناہ کے بعد معافی مانگنے میں دیر کرو اور نہ معافی مانگنے کے ساتھ توبہ میں۔ تب استغفار اور توبہ کا فائدہ ہے۔ دیکھیے سورة نساء (17، 18)۔ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى : اس میں استغفار اور توبہ کا کمال فائدہ بیان فرمایا ہے۔ یہ دنیا جسے اللہ تعالیٰ نے متاع غرور بتایا ہے، اسے اللہ تعالیٰ استغفار اور توبہ کرنے والے مومن کے لیے موت تک متاع حسن بنا دے گا۔ وہ دنیا کی نعمتوں سے سرفراز ہو کر بھی متاع غرور کے بجائے متاع حسن سے فائدہ اٹھائے گا۔ وہ استغفار اور توبہ کے ساتھ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بسر کرے گا، تو اس کی نفسانی لذتیں بھی اس کے لیے ثواب بن جائیں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے فرمایا : (وَلَسْتَ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِيْ بِھَا وَجْہَ اللّٰہِ إِلاَّ أُجِرْتَ بِھَا (وَ فِيْ رِوَایَۃِ الْبُخَارِيْ : فَإِنَّھَا صَدَقَۃٌ) حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَجْعَلُھَا فِيْ فِيْ امْرَأَتِکَ) [ مسلم، الوصیۃ، باب الوصیۃ بالثلث : 1628۔ بخاری : 2742 ] ”تم جو بھی خرچ کرو گے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہو گے، اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا (بخاری کے الفاظ ہیں کہ وہی صدقہ بن جائے گا) یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔“ ایسے مومن کو دنیا میں حیات طیبہ عطا ہوتی ہے (خواہ بظاہر وہ مصیبت میں گرفتار ہو) اور آخرت کا بہترین اجر عطا ہوگا۔ دیکھیے سورة نحل (97) عمل صالح اور استغفار کی بیشمار برکات اور فوائد ہیں، چند فوائد کے لیے دیکھیے سورة ہود (52، 61، 90)۔ وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ : فضل کا معنی زائد ہے، یعنی جو اطاعت اور نیک اعمال میں جتنا زیادہ ہوگا اسے اللہ تعالیٰ دنیا یا آخرت یا دونوں میں زیادہ اجر دے گا۔ اللہ کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، اس کا قاعدہ ہے کہ جو کوئی برائی کرتا ہے اس کے لیے ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور جو نیکی کرتا ہے اس کے لیے کم از کم دس (10) نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ کا کوئی حساب نہیں، فرمایا : (وَاللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ) [ النور : 38 ] ”اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔“ ایک مطلب یہ بھی ہے کہ صدقہ عموماً اپنی ضرورت سے زائد چیز ہی کا کیا جاتا ہے، تو ہر شخص جو اپنی ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو اللہ تعالیٰ اسے ہرگز کمی نہیں ہونے دے گا، بلکہ اس کی زائد چیز ضرور اسے دے گا، پھر جو اپنی ضرورت کے باوجود صدقہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس پر کس قدر فضل فرمائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ) [ مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع : 2588، عن أبی ہریرہ ؓ ] ”کوئی صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرتا۔“ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ : بہت بڑے دن کے عذاب سے، یعنی میں تم پر دنیا کے عذاب کے علاوہ آخرت کے دن کے عذاب سے بھی ڈرتا ہوں، جو بہت بڑا، یعنی پچاس ہزار سال کا دن ہے اور جس کے بعد پھر کفار کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

اللہ ہی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ۔۔ : ”اِلَی اللّٰہ“ کے پہلے آنے سے حصر پیدا ہوگیا، یعنی اگر تمہیں آخرت کے عذاب کا اس لیے خوف نہیں کہ تم اس دن کے منکر ہو تو یاد رکھو کہ اللہ کے سوا تم کہیں جا ہی نہیں سکتے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔ جب اس نے پہلی دفعہ تمہیں پیدا کیا تو دوبارہ اپنے پاس حاضر کیوں نہیں کرسکتا۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

سن لو ! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں، تاکہ اس سے چھپے رہیں، سن لو ! جب وہ اپنے کپڑے اچھی طرح لپیٹ لیتے ہیں وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ بیشک وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ۔۔ : ”یَثْنُوْنَ“ ”ثَنَی یَثْنِیْ“ (ض) سے فعل مضارع جمع مذکر غائب ہے۔ اس کا معنی ہے دوہرا کرنا، موڑنا۔ دوسرے عدد کو ثانی اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ واحد کو دو بنا دیتا ہے۔ ”لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ“ ”اِخْتَفَی یَخْتَفِیْ“ کا معنی چھپنا اور استفعال کی سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا۔ اسی طرح ”یَسْتَغْشُوْنَ“ میں بھی سین اور تاء کے اضافے نے معنی میں اضافہ کردیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے متعلق مشرکین کے جہل اور لاعلمی کی انتہا بیان ہوئی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا : (وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ) [ حٰآ السجدۃ : 22 ] ”اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بیشک اللہ بہت سے کام جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔“ گویا ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ سے چھپ کر بھی کچھ کام ہوسکتے ہیں جن کا اسے پتا نہ چلے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا : (اِجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَیْتِ ثَقَفِیَّانِ وَ قُرَشِيٌّ، أَوْ قُرشِیَّانِ وَ ثَقِفِيٌّ، کَثِیْرَۃٌ شَحْمُ بُطُوْنِھِمْ قَلِیْلَۃٌ فِقْہُ قُلُوْبِھِمْ ، فَقَالَ أَحَدُھُمْ : أَتَرَونَ أنَّ اللّٰہَ یَسْمَعُ مَا نَقُوْلُ ؟ قَالَ الْاَخَرُ : یَسْمَعُ إِنْ جَہَرْنَا وَلاَ یَسْمَعُ إِنْ أَخْفَیْنَا، وَ قَالَ الْآخَرُ : إِنْ کَانَ یَسْمَعُ إِذْا جَھَرْنَا فَإِنَّہٗ یَسْمَعُ إِذْا أَخْفَیْنَا، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی : (وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ) ”کعبہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی جمع ہوئے، جن کے پیٹوں کی چربی بہت تھی اور دلوں کی سمجھ بہت کم تھی، تو ان میں سے ایک نے کہا : ”کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے ؟“ دوسرے نے کہا : ”اگر ہم بلند آواز سے بات کریں تو سنتا ہے، اگر آہستہ کریں تو نہیں۔“ تو اگلے نے کہا : ”اگر وہ اس وقت سنتا ہے جب ہم بلند آواز سے بولتے ہیں تو یقیناً وہ اس وقت بھی سنتا ہے جب ہم آہستہ بات کرتے ہیں۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ) [ حٰمٓ السجدۃ : 22] [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ عزوجل : (وما کنتم تستترون۔۔) : 7521 ] اس سے معلوم ہوا کہ کئی جاہل مشرکین یہ بھی سمجھتے تھے کہ آہستہ بات کریں تو اللہ تعالیٰ کو پتا نہیں چلتا۔ تو معلوم ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، البتہ جب بھی اللہ کی ناراضگی والا کوئی کام کرتے تو خوب چھپ کر تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپے رہیں، اسے پتا نہ چل جائے، کبھی کپڑوں اور دیواروں کے پردے کے پیچھے، کبھی سینہ دوہرا کرکے حاصل ہونے والی پوشیدگی کے ذریعے سے، مثلاً ملاوٹ کرنے کے لیے، دھوکا دینے کے لیے یا کوئی اور شنیع فعل کرنے کے لیے سینہ دوہرا کرکے اپنے خیال میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے چھپالیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یاد رکھو ! خوب اچھی طرح کپڑے لپیٹ کر بھی تم جو کچھ کرتے ہو اسے بھی وہ جانتا ہے، بلکہ اس سے بھی کہیں آگے جو کچھ سینوں کے حصار میں محفوظ دل کے اندر باتیں ہیں وہ انھیں بھی خوب جانتا ہے، اس لیے تمہارے یہ خیال اور یہ حرکات لغو اور باطل ہیں، ان کا تمہیں کچھ فائدہ نہیں۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ اوپر جو فرمایا تھا : (وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ) (اور اگر تم پھر جاؤ تو یقیناً میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) وہاں ظاہری اور جسمانی طور پر منہ پھیرنا مراد تھا اور یہاں دل سے اعراض مراد ہے، کیونکہ سینے سے مراد دل ہوتا ہے، جیسا کہ ”عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ“ سے بھی ظاہر ہے۔ ”يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ“ گویا سینے کو موڑنا محاورہ ہے، مراد دل کو موڑنا، اعراض کرنا، غلط سوچنا، بےاصل شبہات سے اپنے دل کو تسلی دینا، عقائد حقہ سے اعراض کرنا وغیرہ ہے، کیونکہ یہاں صدور سے مراد علوم صدر ہیں۔ (فتح الرحمان از شاہ ولی اللہ) مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے سینوں میں جو کفر و عناد رکھتے ہیں اسے چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ان کے چھپے ہوئے رازوں کی اطلاع نہ ہونے پائے۔ (شوکانی) یہ دونوں حوالے ہمارے استاذ مرحوم نے اشرف الحواشی میں نقل کیے ہیں۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک اور ہی مطلب منقول ہے کہ ایک صاحب نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ”کچھ لوگ اس سے حیا کرتے تھے کہ قضائے حاجت کے وقت اپنی شرم گاہوں کو آسمان کے سامنے ننگا کریں اور اپنی بیویوں سے جماع کریں تو شرم گاہوں کو آسمان کے سامنے ظاہر کریں، تو یہ آیت ان کے بارے میں اتری۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (ألا إنہم یثنون صدورھم۔۔) : 4681، 4682 ] اس شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غلبۂ حیا کی وجہ سے قضائے حاجت اور ہم بستری کے وقت ننگا ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اس لیے وہ ایسے موقعوں پر شرم گاہ کو چھپانے کے لیے اپنے سینے کو دہرا کرلیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رات کے اندھیرے میں جب وہ بستروں میں اپنے آپ کو ڈھانپ لیتے ہیں تو اس وقت بھی وہ ان کو دیکھتا اور ان کی چھپی اور علانیہ باتوں کو جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کا جذبہ اپنی جگہ بہت اچھا ہے، لیکن اس میں اتنا غلو اور زیادتی بھی صحیح نہیں، اس لیے کہ جس ذات کی خاطر وہ ایسا کرتے ہیں اس سے تو وہ پھر بھی چھپ نہیں سکتے تو پھر اس طرح کے تکلف کا کیا فائدہ ؟ اگرچہ یہ تفسیر حبر الامہ سے حدیث کی صحیح ترین کتاب صحیح بخاری میں آئی ہے اور بلاشبہ درست ہے، مگر اکثر مفسرین نے فرمایا کہ آیات کے سیاق کے مطابق یہ آیت کفار کے رویے ہی سے تعلق رکھتی ہے، کیونکہ پہلے اور بعد میں مسلسل انھی کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابن عباس ؓ کی تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے جو حیا کے جذبے سے ایسا کرتے تھے۔ اصول تفسیر میں اہل علم نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ صحابہ و تابعین کسی آیت کے متعلق جہاں بھی وہ منطبق ہوتی اور صادق آتی ہو کہہ دیتے ہیں ”نَزَلَتْ فِیْ کَذَا“ کہ یہ آیت فلاں چیز کے بارے میں اتری، اس لیے ایک ہی آیت کے کئی شان نزول صحابہ و تابعین سے مروی ہوتے ہیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں ہوتا بلکہ سبھی مراد ہوسکتے ہیں۔ البتہ یہ عین ممکن ہے کہ آیت کے نزول کے وقت یا اس کے قریب ان میں سے کوئی ایک واقعہ یا چند واقعات ہی ظہور پذیر ہوئے ہوں اور دوسرے واقعات انطباق کی وجہ سے شان نزول قرار دے دیے گئے ہوں۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین میں کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے اور وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے، سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ۔۔ :”دَاۗبَّةٍ“ ”دَبَّ یَدِبُّ دَبِیْبًا“ سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی آہستہ چلنا ہے۔ ہر جان دار خواہ مذکر ہو یا مؤنث، عاقل ہو یا غیر عاقل، سب پر ”دَاۗبَّةٍ“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَاۗبَّةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي بَطْنِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي رِجْلَيْنِ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰٓي اَرْبَعٍ) [ النور : 45] ”اور اللہ نے ہر چلنے والا (جان دار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے پیٹ پر یا دو یا چار ٹانگوں پر چلنے والے تمام جانداروں کو ”دَابَّۃٍ“ فرمایا۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور احاطے کا بیان تھا کہ انسان کے ظاہر اور پوشیدہ احوال ہی نہیں، وہ تو دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے۔ اس آیت میں اسی پر دلیل پیش کی ہے کہ ہر جان دار کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے روزی پہنچ رہی ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا علم وسیع نہ ہوتا تو روزی کا یہ بندوبست کیسے ممکن تھا ؟ مگر اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رزق اللہ کے ذمے ہے تو انسان اس کی کمائی اور تلاش کے لیے محنت نہ کرے، بلکہ رزق کے تمام خزانے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، مگر انسان کو محنت کا حکم ہے اور اسے وہ اسباب اختیار کرنا لازم ہے جن سے رزق حاصل ہوتا ہے، لیکن اس محنت اور ان اسباب پر بھروسا جائز نہیں، تمام اسباب مہیا کرنے کے بعد بھی بھروسا اور توکل صرف اللہ پر لازم ہے، کیونکہ وہ نہ چاہے تو تمام اسباب کے باوجود بندہ رزق سے محروم رہتا ہے اور اگر وہ چاہے تو بندہ کوئی سبب بھی مہیا نہ کرسکے تو وہ اسباب کے بغیر بھی روزی دے سکتا ہے۔ مگر حکم یہی ہے کہ رزق کی تلاش میں نکلو۔ عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَوْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا) [ ترمذی، الزہد، باب فی التوکل علی اللّٰہ : 2344 ] ”اگر تم اللہ پر توکل (بھروسا) کرو جیسا اس پر توکل کا حق ہے تو یقیناً تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے، وہ صبح نکلتے ہیں تو خالی پیٹ ہوتے ہیں، شام کو آتے ہیں تو ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔“ اس حدیث میں صبح نکلنا کسب ہے اور یہ فکر نہ کرنا کہ کل کو کیا کھائیں گے، توکل ہے۔ بہرحال اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِعْقِلْھَا وَ تَوَکَّلْ) [ ترمذی، صفۃ القیامۃ، باب حدیث اعقلھا و توکل۔۔ : 2517، عن أنس ؓ ]”اونٹنی کا گھٹنا باندھ اور توکل کر۔“ ابو امامہ باہلی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ رُوْحَ الْقُدْسِ نَفَثََ فِیْ رَوْعِيْ أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوْتَ حَتَّی تَسْتَکْمِلَ أَجَلَھَا وَتَسْتَوْعِبَ رِزْقَھَا فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَأَجْمِلُوْا فِی الطَّلَبِ وَلَا یَحْمِلَنَّ أَحَدَکُمُ اسْتِبْطَاء الرِّزْقِ أَنْ یَّطْلُبَہُ بِمَعْصِیَۃِِ اللّٰہِ فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَا یُنَالُ مَا عِنْدَہٗ إِلاَّ بِطَاعَتِہٖ) [ صحیح الجامع : 2085 ] ”بیشک روح القدس (جبریل ؑ نے میرے دل میں وحی کی کہ کوئی جان اس وقت تک فوت نہیں ہوگی جب تک اپنی مقررہ مدت پوری نہ کرلے اور اپنا پورا رزق حاصل نہ کرلے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور (رزق کی) تلاش میں اچھا طریقہ اختیار کرو اور رزق ملنے میں دیر ہوجانا تم میں سے کسی کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ وہ اسے اللہ کی نافرمانی کے ذریعے تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ (نعمت اور جنت) ہے وہ اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔“ یہ ذہن بھی غلط ہے کہ تلاش اور کوشش کے بغیر رزق نہیں ملتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی مخلوق وہ ہے جسے اسباب اختیار کیے بغیر رزق مل رہا ہے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (60)۔ وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا : یہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم ہی کا مزید بیان ہے۔ ”مُسْتَقَرٌّ“ اور ”مُسْتَوْدَعٌ“ کی تفسیر اگرچہ لوگوں نے مختلف بیان کی ہے، مگر الفاظ کے پیش نظر واضح مطلب یہی نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ تمام جگہیں بھی جانتا ہے جہاں انسان نے کچھ مدت کے لیے ٹھہرنا ہے، خواہ باپ کی پشت ہو یا ماں کا رحم، یا زمین کا کوئی حصہ جہاں اس نے زندگی میں ٹھہرنا ہے اور اللہ تعالیٰ وہ جگہیں بھی جانتا ہے جن کے سپرد انسان نے مرنے کے بعد ہونا ہے، خواہ وہ زمین میں کھودی ہوئی جگہ ہو یا کسی جانور کا پیٹ یا جو جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس کے سپرد ہونے کے لیے لکھی ہے اور وہ سب کچھ اس کے لیے قبر ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو موت اور قبر دینے کا ذکر فرمایا ہے : (ۙثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ) [ عبس : 21 ] ”پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں رکھوایا۔“ پھر قیامت کو زندہ ہو کر اسے دوزخ کے سپرد ہونا ہے یا جنت کے، یہ سب اس کے لیے ”مُسْتَوْدَعٌ“ (سونپے جانے کی جگہ) ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جان دار کی زندگی کے ہر حال کو بھی جانتا ہے اور موت کے بعد کے تمام حالات کو بھی۔ ”کِتٰبْ مُّبِیْن“ سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ اور یقینا اگر تو کہے کہ بیشک تم موت کے بعد اٹھائے جانے والے ہو تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ضرور ہی کہیں گے یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ : اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے کمال علم کو ثابت فرمایا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کا بیان ہے۔ آسمان و زمین کی چھ دنوں میں پیدائش کے متعلق دیکھیے سورة اعراف (54) اور حم السجدہ (9 تا 12)۔ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمان و زمین پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا، پھر سب سے پہلے کیا پیدا کیا ؟ اس کے متعلق مختلف روایات آئی ہیں۔ عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل یمن کے کچھ لوگوں نے آپ ﷺ سے اس امر (کائنات) کی ابتدا کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَان اللّٰہُ وَلَمْ یَکُنْ شَيْءٌ قَبْلَہٗ وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَکَتَبَ فِيْ الذِّکْرِ کُلَّ شَيْءٍ) [ بخاری، التوحید، باب : (و کان عرشہ علی الماء) : 7418 ] ”اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور ذکر (لوح محفوظ) میں ہر چیز لکھ دی۔“ عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَتَبَ اللّٰہُ مَقَادِیْرَ الْخَلَاءِقِ قَبْلَ أَنْ یَّخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃٍ قَالَ وَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ) [ مسلم، القدر، باب حجاج آدم و موسیٰ صلی اللہ علیہما وسلم : 2653 ] ”اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیں اور اس کا عرش پانی پر تھا۔“ سنن ترمذی (3109) اور ابن ماجہ (182) کی روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : ”خلق کی پیدائش سے پہلے ہمارا پروردگار کہاں تھا ؟“ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا : (کَانَ فِیْ عَمَاءٍ مَا تَحْتَہُ ھَوَاءٌ وَمَا فَوْقَہُ ھَوَاءٌ) ”عَمَاءٌ“ کا معنی نہایہ میں لکھا ہے، بادل، پتلا سا بادل یا نامعلوم چیز، جس کی حقیقت سے ہم ناواقف گویا اعمیٰ ہیں۔ حدیث کا ترجمہ ہے : ”اللہ تعالیٰ ایک عماء (نامعلوم چیز) میں تھا، اس کا اوپر خالی تھا اور اس کے نیچے بھی خلا تھا۔“ مگر شیخ ناصر الدین البانی ؓ اور ان سے پہلے رازی اور دوسرے اہل علم نے اسے ضعیف کہا ہے، جبکہ استدلال خصوصاً عقیدے میں اور اتنے اہم مسئلہ میں صحیح حدیث ہی سے ہوسکتا ہے۔ صحیح حدیث جس سے اس مسئلے پر روشنی پڑتی ہے، یہ ہے کہ عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالَی الْقَلَمَ فَقَالَ لَہُ اکْتُبْ فَقَالَ رَبِّ وَ مَاذَا أَکْتُبُ ؟ قَالَ اکْتُبْ مَقَادِیْرَ کُلِّ شَيْءٍ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ) [ أبوداوٗد، السنۃ، باب في القدر : 4700۔ ترمذی : 3319 ] ”بیشک اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو پیدا کیا قلم تھا تو اسے فرمایا : ”لکھ۔“ اس نے کہا : ”اے میرے رب ! میں کیا لکھوں ؟“ فرمایا : ”ہر چیز کی تقدیریں لکھ، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔“ یہ حدیث صحیح ہے، شیخ البانی ؓ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ ؓ نے لکھا ہے کہ یہی (بات) صحیح ہے، البتہ شیخ محمد عبدہ ؓ نے قلم کی پیدائش اور تقدیر کا لکھا جانا پانی اور عرش کے بعد لکھا ہے۔ شاید ان کا استدلال اس آیت : (وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ) سے ہو۔ (واللہ اعلم) حافظ ابن حجر ؓ نے بھی قلم سے پہلے عرش اور پانی کے پیدا کیے جانے کا ذکر کیا ہے اور اس کے کچھ دلائل ذکر کیے ہیں۔ دیکھیے فتح الباری میں ”کِتَابُ بَدْءِ الْخَلْقِ“ کا پہلا باب۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا، مگر وہ روایت ضعیف ہے۔ ابن قیم ؓ نے ”المنار المنیف“ میں لکھا ہے کہ عقل کے متعلق تمام احادیث باطل ہیں۔ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا : اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ ہر بات کا علم ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آئندہ کیا ہوگا، مگر آئندہ ہونے والی چیز کے متعلق یہ علم کہ وہ واقع ہوچکی ہے، اس کے واقع ہونے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ آزمانے کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق جو کچھ آئندہ ہونا ہے وہ وجود میں آ کر سب کے سامنے آجائے اور نتیجہ دوسروں کے سامنے بھی ظاہر ہوجائے۔ قرآن مجید میں ”لِیَعْلَمَ“ اور ”لِیَبْلُوَکُم“ وغیرہ الفاظ جہاں بھی آئے ہیں ان سے مراد یہی ہے۔ اَحْسَنٗ عَمَلاً : یعنی آزمائش یہی نہیں کہ عمل میں برا کون ہے اور اچھا کون، بلکہ اللہ تعالیٰ ایسا قدر دان ہے کہ عمل میں اچھائی کے درجات کو بھی ملحوظ رکھتا ہے کہ زیادہ اچھا کون ہے، جیسے فرمایا : (ھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ) [ آل عمران : 163 ] ”وہ لوگ (اللہ کی رضا چاہنے والے) اللہ کے ہاں کئی درجوں والے ہیں اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔“ بلکہ برے عمل میں بھی سب کو ایک جیسا نہیں رکھا، منافقین آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہیں، جبکہ ابو طالب صرف آگ کے جوتے پہنے ہوئے ہے۔ رہی یہ بات کہ کیسے پتا چلے گا کہ میں اچھا عمل کر رہا ہوں تو یہ صرف اللہ تعالیٰ کے بتانے ہی سے معلوم ہوسکتا ہے، اس لیے اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ اچھے عمل کے لیے دو شرطیں ہیں، ایک یہ کہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، دوسری یہ کہ کتاب و سنت کے مطابق ہو، کیونکہ اس میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا ہے۔ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ۔۔ : اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت اور خلق (پیدا کرنے) جیسی صفات کو بادلائل ذکر کرنے کے بعد بھی اگر آپ ان مشرکوں سے کہیں کہ اتنی زبردست قوتوں والے رب نے تمہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم، قدرت، زمین و آسمان اور خود ان کو پیدا کرنے اور عرش عظیم کا مالک ہونے کو جاننے اور ماننے کے باوجود دوبارہ زندہ کرنے کی بات کرنے پر عقل و دانش سے مکمل عاری ہو کر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں، یعنی دوبارہ زندہ ہونے کی کچھ حقیقت نہیں، جو لوگ اسے مان بیٹھے ہیں ان پر جادو ہوگیا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ پھر تم اس جادو کی زد میں آنے سے کیسے بچ گئے ؟
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور بلاشبہ اگر ہم ان سے عذاب کو ایک گنی ہوئی مدت تک مؤخر کردیں تو یقینا ضرور کہیں گے اسے کیا چیز روک رہی ہے ؟ سن لو ! جس دن وہ ان پر آئے گا تو ان سے ہٹایا جانے والا نہیں اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ۔۔ :”اُمَّۃً“ کے بہت سے معانی ہیں، مثلاً جماعت، امام، طریقہ، مدت اور راستہ وغیرہ، یہاں مدت مراد ہے اور ”مَّعْدُوْدَةٍ“ کا معنی تھوڑی سی ہے، کیونکہ زیادہ چیز کی گنتی نہیں ہوا کرتی اور جو چیز گنی جاسکے وہ آخر ختم ہوجاتی ہے۔ دنیا کے عذاب بدر، احد، خندق، فتح مکہ، قتل، قید، غلامی اور پھر مرنے کے بعد جہنم کے عذاب آنے میں گنتی ہی کے دن ہیں، مگر آجانے کے بعد پھر وہ عذاب ہٹایا نہیں جاسکے گا اور وہی عذاب جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور یقینا اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھائیں، پھر اسے اس سے چھین لیں تو بیشک وہ یقینا نہایت ناامید، بےحد ناشکرا ہوتا ہے۔

وَلَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً۔۔ : یعنی انسان میں یہ کمزوری ہے کہ کوئی رحمت صرف چکھنے کے بعد، یعنی تھوڑی سی نعمت صرف کچھ دیر کے لیے ملنے کے بعد چھن جائے تو اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتیں اس طرح بھولتا ہے کہ آئندہ کے لیے اس کی تمام نعمتوں سے نہایت ناامید ہوجاتا ہے اور گزشتہ اور موجودہ کوئی نعمت اسے یاد ہی نہیں رہتی۔ یہی اس کی ناشکری اور نعمت کا انکار ہے۔ شوکانی نے فرمایا کہ ”اَذَقْنَا“ کے لفظ سے ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت تھوڑی سی مدت کے لیے ملنا واضح ہو رہا ہے۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور بیشک اگر ہم اسے کوئی نعمت چکھائیں کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہو تو یقینا ضرور کہے گا سب تکلیفیں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بلاشبہ وہ یقینا بہت پھولنے والا، بہت فخر کرنے والا ہے۔

وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَاۗءَ بَعْدَ ضَرَّاۗءَ۔۔ : ”نَعْمَاۗءَ“ ایسی نعمت جس کا اثر صاحب نعمت پر ظاہر ہو۔ اسی طرح ”ضَرَّاۗءَ“ ایسی مصیبت جس کا برا اثر انسان پر ظاہر ہو۔ (طنطاوی) ”اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُــوْرٌ“ یعنی بہت پھولنے اور اترانے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب تمام مصیبتیں اور سختیاں دور ہوگئیں۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کیے، یہ لوگ ہیں جن کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔

اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : یعنی صابر مومن کا یہ حال نہیں، وہ نہ راحت میں پھولتا ہے اور نہ مصیبت میں رب کی نعمتوں کو بھولتا ہے۔ یہی بات سورة معارج (19 تا 35) میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ صہیب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ ، إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنٍ ، إِنْ أَصَابَتْہٗ سَرَّاءُ شَکَرََ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ ، وَ إِنْ أَصَابَتْہٗ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ) [ مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999 ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتی ہے۔“
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

پھر شاید تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے والا ہے جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے تیرا سینہ تنگ ہونے والا ہے کہ وہ کہیں گے اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا، یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا ؟ تو تو صرف ڈرانے والا ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ۔۔ : کفار ہر وقت کوئی نہ کوئی معجزہ لانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے کہ آپ پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ چلیے آپ احد پہاڑ ہی سونے کا بنا دیجیے، یا کوئی فرشتہ ہی ساتھ لے آئیے۔ ان کی عجیب و غریب فرمائشوں کا ذکر سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) اور سورة فرقان (7، 8) میں کچھ تفصیل کے ساتھ ہے۔ ان آیات میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے شبہات، مطالبات اور طعن و تشنیع سے تنگ آ کر آپ پریشان اور غم زدہ نہ ہوجائیں، بلکہ شرک کی مذمت کے لیے اور توحید کے اثبات کے لیے جو بھی وحی آئے آپ کسی بھی کمی بیشی کے بغیر ان تک پہنچاتے رہیں۔ یہ نہ ہو کہ وحی کا وہ حصہ حذف کردیں جس میں بتوں کی عیب جوئی اور شرک کی مذمت ہے۔ اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ : یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے محض عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے، لہٰذا کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیے بغیر آپ اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہیں۔ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ : یعنی ان کے مطالبات کو پورا کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے، ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو آپ کو ایک خزانہ کیا روئے زمین کے تمام خزانے دے دے گا اور ایک فرشتہ کیا آپ پر سیکٹروں فرشتے اتار دے گا۔ بہرحال جیسی اس کی مصلحت اور حکمت ہوگی ویسا ہی کرے گا، آپ کو ان چیزوں سے کیا غرض ؟ ہر چیز کا نگران وہ خود ہے۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کا جو حکم آئے بےدھڑک ان کو سناتے رہیں۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔ کہہ دے پھر اس جیسی دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے بلاسکتے ہو بلالو، اگر تم سچے ہو۔

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ۔۔ : یعنی اگر تمہیں اس قرآن کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے میں شک و شبہ ہے تو تم سب جمع ہو کر اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کرو۔ واضح رہے کہ قرآن میں متعدد مرتبہ اہل عرب کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سورة بنی اسرائیل (88) اور سورة طور (34) میں پورے قرآن کی مثل لانے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہاں سورة ہود میں دس سورتوں کا چیلنج کیا گیا ہے۔ پھر سورة یونس اور بقرہ میں ایک سورت کا۔ لیکن اہل عرب پورا قرآن یا دس سورتیں تو کیا ایک سورت بھی بنا کر پیش نہ کرسکے۔ یہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ (ابن کثیر) یاد رہے کہ قرآن مجید کا معجز ہونا، یعنی اس جیسی ایک سورت کی تصنیف بھی ناممکن ہونے کی وجہ قرآن مجید کی بیشمار خوبیاں ہیں، جو مخلوق کی بساط سے باہر ہیں۔ مسلم علماء نے اس پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں، جن کا عنوان ہی ”اعجاز القرآن“ (ازباقلانی، صالح بن عبد العزیز وغیرہ) یا اس سے ملتا جلتا ہے۔ ان خوبیوں میں اس کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ اس کے انداز بیان کا اللہ کی شان کے مطابق جلال و جمال، اس کی کسی پیش گوئی یا خبر کا غلط نہ ہونا، اس کی آیات کا ایک دوسرے سے ٹکرانے سے پاک ہونا اور اس کی جامعیت وغیرہ بھی شامل ہیں۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پس اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم حکم ماننے والے ہو ؟

فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْٓا۔۔ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اے مسلمانو ! اگر وہ کفار تمہارا یہ چیلنج قبول نہ کریں تو یقین کرلو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم حکم ماننے والے ہو ؟ یعنی اپنی کتاب کی حقانیت اس قدر واضح اور روشن ہونے پر تمہارے ایمان و یقین اور اس پر عمل میں اضافہ ہونا لازم ہے، تو کیا تم ایسا کرو گے ؟ یا ایمان لانے کے باوجود حکم ماننے میں کوتاہی کرتے رہو گے ؟ دوسرا معنی یہ ہے کہ پچھلی آیت میں مشرکین کو جو فرمایا تھا : (وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتٗم مِّنْ دُوْنِ اللّٰہ) کہ اللہ کے سو اج سے بلا سکتے ہو بلا لو، اس کے بعد اب فرمایا، اگر وہ تمام لوگ جنھیں تم اس کام کے لیے بلاؤ گے، مثلاً عرب کے بڑے بڑے فصحاء، بلغاء، شعراء، خطباء اور تمہارے تمام داتا اور دستگیر، اگر ان میں سے کوئی بھی تمہاری بات قبول نہ کرے اور ”اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ“ جیسی تین آیات بھی نہ بنا سکیں تو پھر تمہیں لازم ہے کہ ایک تو اس بات پر یقین کرلو کہ یہ کتاب اللہ کے علم سے نازل کی گئی ہے، اس کی مثل لانا مخلوق کے بس کی بات نہیں۔ دوسرا اس بات پر یقین کرلو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو اے جماعت کفار ! پھر کیا تم اسلام قبول کرو گے یا اب بھی ضد اور عناد ہی پر اڑے رہو گے ؟
Ayahs 11:15–16

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتا ہو ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ اسی (دنیا) میں پورا دے دیں گے اور اس (دنیا) میں ان سے کمی نہ کی جائے گی۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے اس میں کیا اور بےکار ہے جو کچھ وہ کرتے رہے تھے۔

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا۔۔ : یہ دو آیات کفار اور مشرکین کے بارے میں ہیں، کیونکہ دوسری آیت میں ہے : (َيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ) ”ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ جو کفار یہاں دنیا طلبی کے لیے صدقہ و خیرات وغیرہ اور نیک عمل کرتے ہیں، جن کا تعلق رفاہ عامہ سے ہے، انھیں ان کاموں کا بدلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیا جاتا ہے، لیکن یہ بدلہ ملنا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا) [ بنی إسرائیل : 18 ] ”جو شخص اس جلدی والی (دنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لیے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہوگا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا۔“ اسی معنی کی ایک اور آیت سورة شوریٰ (20) میں بھی ہے۔ کفار کو دنیا میں کسی نیکی کا فائدہ آخرت میں عذاب کم ہونے کی صورت میں تو ہوسکتا ہے، لیکن ان کا آگ سے نکلنا کسی صورت ممکن نہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی حمایت اور آپ ﷺ کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہوگی، مگر وہ آگ سے نکل نہیں سکے گا۔ اسی طرح آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر میں زیادتی اور کمی کی وجہ سے جہنم میں کفار کے عذاب میں کمی بیشی ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) [ النساء : 145 ] ”بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ نیکی کی کمی بیشی کی وجہ سے جنت کے درجات اور بدی کی کمی بیشی کی وجہ سے جہنم کے درکات میں فرق ہوگا۔ البتہ کفار کی کوئی نیکی انھیں جہنم سے نہیں نکال سکے گی، کیونکہ آخرت میں نیک عمل کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے۔ دیکھیے سورة حجر کی دوسری آیت کی تفسیر۔ علمائے تفسیر نے ان دو آیتوں کو عام بھی مانا ہے اور لکھا ہے کہ اس میں منافق اور ریا کار بھی شامل ہیں کہ ان کے عمل بھی آخرت میں اکارت جائیں گے۔ چناچہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رَجُلٌ اسْتُشْھِدَ فَأُتِيَ بِہٖ فَعَرَّفَہٗ نِعْمَتَہٗ فَعَرَفَھَا، قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِیْھَا، قَالَ قَاتَلْتُ فِیْکَ حَتَّی اسْتُشْھِدْتُ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ قَاتَلْتَ لَأَنْ یُّقَالَ جَرِيْءٌ فَقَدْ قِیْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی أُلْقِيَ فِي النَّارِ) [ مسلم، الإمارۃ، باب من قاتل للریاء۔۔ : 1905 ] ”قیامت کے دن ایک شہید کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ انھیں پہچان لے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”تو نے ان کے لیے کیا کیا ؟“ وہ کہے گا : ”یا اللہ ! میں نے لڑتے لڑتے تیری راہ میں جان دے دی۔“ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ”تو نے جھوٹ کہا، تو نے محض اس لیے جنگ کی تھی کہ لوگ تجھے بہادر کہیں، چناچہ تجھے یہ داد مل گئی۔“ پھر حکم ہوگا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“ اس کے بعد آپ ﷺ نے ریا کار قاری اور ریاکار دولت مند کے متعلق بھی یہی بیان فرمایا۔ واضح رہے کہ اگر اس آیت کو عام رکھا جائے تو ”لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ“ (ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں) کی تاویل کی جائے گی کہ کفار اور منافقین کے لیے تو دائمی جہنم ہے، مگر مسلمان گناہ گار سزا کے بعد جہنم سے نکل بھی آئیں گے اور بعض کو اللہ تعالیٰ معاف بھی کر دے گا، اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہو اور اس کی طرف سے ایک گواہ اس کی تائید کر رہا ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی جو امام اور رحمت تھی، یہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور گروہوں میں سے جو اس کا انکار کرے تو آگ ہی اس کے وعدے کی جگہ ہے۔ سو تو اس کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ، یقینا یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ۔۔ : ”یَتْلُوا“ ”تَلاَ یَتْلُوْ“ کا معنی ہے پیچھے آنا، مراد اس کی تائید کرنا ہے۔ اس آیت کی مفسرین نے کئی تفسیریں کی ہیں، ان میں سے دو تفسیریں زیادہ درست معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے واضح اور درست تفسیر تو یہ ہے کہ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ”بَیِّنَۃٍ“ (واضح دلیل) پر ہے، اس شخص سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے متبع مومن ہیں۔ ”َیِّنَۃٍ“ سے مراد نبوت کی نشانیاں اور دلائل ہیں اور ”وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ“ (اس کی طرف سے ایک گواہ اس کی تائید کر رہا ہو) میں ”شَاهِدٌ“ سے مراد قرآن مجید ہے جو آپ کے صدق کا شاہد ہے اور اس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب سے مراد تورات ہے جو آپ ﷺ کی نبوت کی شہادت دے رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ رسول اور اس کے پیروکار جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہیں، ان لوگوں کی طرح ہوسکتے ہیں جن کے پاس نہ رب تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل ہے، نہ کوئی شاہد اور نہ کوئی اور پہلی آسمانی کتاب جو ان کی تائید کرے۔ یہ مطلب سب سے درست اس لیے کہا گیا ہے کہ اسی سورة ہود میں تقریباً ہر نبی نے یہ کہا کہ میں اپنے رب کی طرف سے ایک ”بَيِّنَةٍ“ پر ہوں۔ دیکھیے نوح ؑ نے فرمایا : (اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ ۭ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ) [ ھود : 28 ] ”اے میری قوم ! کیا تم نے دیکھا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک (بینہ) واضح دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائی ہو، پھر وہ تم پر مخفی رکھی گئی ہو، تو کیا ہم زبردستی اسے تم پر چپکا دیں گے، جب کہ تم اسے ناپسند کرنے والے ہو۔“ صالح ؑ نے کہا : (يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ) [ ھود : 63 ] شعیب ؑ نے کہا : (يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ) [ ھود : 88 ] غرض ہر پیغمبر یہ کہتا رہا کہ میں اپنے رب کی طرف سے ”بَيِّنَةٍ“ پر ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر پیغمبر کو اس کی نبوت کی واضح نشانی دے کر بھیجتے تھے اور قرآن مجید کا معجزہ، جس کی ایک سورت کی مثال پیش نہ کی جاسکی، وہ اللہ کی طرف سے آپ کا شاہد ہے۔ اسی طرح تورات بھی آپ کے حق ہونے کی شاہد ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”بَيِّنَةٍ“ سے مراد عقل سلیم اور وہ فطرت سلیمہ ہے جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ عہد ”اَلَسْتُ“ ہے جس کا ہر شخص اپنے آپ پر شاہد بنا یا گیا ہے اور وہ ہے توحید الٰہی اور اپنے رب کی پہچان، فرمایا : (اَلَسْتُ بِرَبِّکُم) [ الأعراف : 172 ] ”کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں ؟“ اور آپ ﷺ نے فرمایا : (کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ) [ بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین : 1385 ] ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔“ یعنی کیا وہ لوگ جو فطرت سلیمہ پر قائم ہیں، عقل سلیم سے کام لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گواہ بھی آچکا ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ یا قرآن اور اس سے پہلے تورات بھی اس کی شہادت دے رہی ہے، جو رہنما بھی تھی اور رحمت بھی، تو کیا یہ لوگ ان کی طرح ہیں جن کے پاس نہ رب کی طرف سے کوئی ”بَيِّنَةٍ“ ہے، نہ کوئی اس کی طرف سے شاہد اور نہ گزشتہ کسی آسمانی کتاب کی شہادت۔ ہرگز نہیں، ایک مومن دوسرا کافر، دونوں ایک جیسے کبھی نہیں ہوسکتے۔ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ : یعنی یہ ”بَيِّنَةٍ“ پر قائم لوگ اس رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ : اور جو اس کے ساتھ کفر کرے، خواہ وہ کسی گروہ عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ وغیرہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کا ٹھکانا آگ ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ ! لاَ یَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِّنْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ یَھُوْدِيٌّ وَلاَ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ یَمُوْتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ بالَّذِيْ اُرْسِلْتُ بِہٖ إِلاَّ کَانَ مِنْ أَصْحَاب النَّارِ) [ مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ۔۔ : 153، عن أبی ہریرہ ؓ ] ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! میرے بارے میں اس امت (دعوت) میں سے کوئی یہودی یا نصرانی سن لے پھر وہ فوت ہو اور اس پر ایمان نہ لایا ہو جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے، تو وہ اصحاب النار سے ہوگا۔“ مشرکین اور نام کے مسلمان، جو دل سے آپ کی رسالت کو نہیں مانتے، وہ بھی انھی میں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (62) اور نساء (150 تا 152)۔ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ : بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے، مگر مراد ہر عاقل ہے۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ : اکثر یت کا یہ حال قرآن میں متعدد بار بیان ہوا ہے، مثلاً دیکھیے سورة یوسف (103) ، انعام (116) اور سبا (20) دین جمہوریت اور دین اسلام کو ایک قرار دینے والے غور فرمائیں۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے ؟ یہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو ! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : یعنی اپنی جان پر ظلم کرنے والے بہت ہیں، مگر اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جو جھوٹ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دے، مثلاً مخلوق کو خالق کی صفات رکھنے والا قرار دے، بتوں، ولیوں اور دیوتاؤں کو اللہ کے حضور بلا اجازت سفارش کی جرأت رکھنے والے سمجھے، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے اور مسیح ؑ یا کسی اور کو اللہ کی اولاد یا اس کا حصہ یا ٹکڑا قرار دے۔ موضح میں ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کئی طرح سے ہے، مثلاً علم میں غلط نقل کرنا۔ (آل عمران : 78) نبوت یا وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔ (انعام : 93) خواب بنا لینا، ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ مِنْ أَفْرَی الْفِرٰی أَنْ یُّرِیَ عَیْنَیْہٖ مَا لَمْ تَرَ) [ بخاري، التعبیر، باب من کذب فی حلمہ : 7043 ] ”سب سے بڑے جھوٹوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو انھوں نے نہیں دیکھی (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔“ درایت یا عقل کو دین کے معاملات میں درمیان لے آنا۔ (قصص : 50) اُولٰۗىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰي رَبِّهِمْ : اللہ تعالیٰ ایسے مفتری اور جھوٹے کفار و مشرکین اور منافقین کو قیامت کے دن سب کے سامنے رسوا کرے گا اور گواہ بھی سب کے سامنے ان کے رب تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی شہادت دیں گے۔ البتہ مومن گناہ گاروں کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (إِنَّ اللّٰہَ یُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَیَضَعُ عَلَیْہِ کَنَفَہٗ وَیَسْتُرُہٗ فَیَقُوْلُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا ؟ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا ؟ فَیَقُوْلُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، حَتَّی قَرَّرَہٗ بِذُنُوْبِہِ وَرَأَی فِيْ نَفْسِہِ أَنَّہٗ ھَلَکَ ، قَالَ سَتَرْتُھَا عَلَیْکَ فِيْ الدُّنْیَا، وَأَنَا أَغْفِرُھَا لَکَ الْیَوْمَ ، فَیُعْطَي کِتَابَ حَسَنَاتِہِ ، وَأَمَّا الْکَافِرُ وَالْمُنَافِقُوْنَ فَیَقُوْلُ الْأَشْھَادُ : (هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّهِمْ ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ) [ ھود : 18]) [ بخاری، المظالم، باب قول اللہ تعالیٰ : (ألا لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین) : 2441 ] ”اللہ تعالیٰ مومن کو قریب کرے گا اور اس پر اپنا دامن ڈال کر پردے میں کرے گا، پھر کہے گا کہ تو فلاں گناہ پہچانتا ہے ؟ کیا فلاں گناہ پہچانتا ہے ؟ وہ کہے گا، ہاں اے رب ! یہاں تک کہ جب اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروا لے گا اور وہ اپنے دل میں سمجھ لے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا تو (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا، میں نے دنیا میں تجھ پر ان گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج میں تجھے وہ بخشتا ہوں، تو اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ رہا کافر اور منافق، تو گواہ کہیں گے : (هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّهِمْ ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ) ”یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو ! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔“ وَيَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ۔۔ : گواہوں سے مراد ان کے پیغمبر یا وہ فرشتے جو عمل لکھتے ہیں اور علماء جنھوں نے اللہ کے احکام کی تبلیغ کی۔ یہ سب گواہ کفار کے متعلق اعلان کریں گے کہ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے تھے۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں اور آخرت کے ساتھ کفر کرنے والے بھی وہی ہیں۔

الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ کی سیدھی راہ (اسلام) میں کجی اور عیب ڈھونڈ کر لوگوں کو اس میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ ”ھُمْ“ کی ضمیر دو بار لانے کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار کرنے میں یہ لوگ اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ گویا آخرت کے اصل منکر یہی ہیں۔ ”وَيَبْغُوْنَهَا عِوَجًا“ میں لام محذوف ہے، یعنی ”یَبْغُوْنَ لَھَا عِوَجًا“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا) [ الکہف : 1 ] یا ”یَبْغُوْنَ فِیْھَا عِوَجًا“ میں ”فِیْ“ محذوف ہے، یعنی ”یَبْغُوْنَ فِیْھَا عِوَجًا“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن زمین کے متعلق فرمایا : (ۙلَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا) [ طٰہٰ : 107 ]
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ کبھی زمین میں عاجز کرنے والے نہیں اور نہ کبھی ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار ہیں، ان کے لیے عذاب دگنا کیا جائے گا۔ وہ نہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ دیکھا کرتے تھے۔

اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ۔۔ : یعنی یہ لوگ کبھی بھی اللہ کو عاجز کرکے اس کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتے۔ وہ جب پکڑنا چاہے گا، اس زمین پر بھی پکڑ لے گا اور آخرت کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ پھر اللہ کے سوا کبھی کوئی ان کا مددگار نہیں ہوگا جو انھیں اللہ کے عذاب اور پکڑ سے چھڑا سکے۔ يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ : ایک اپنے گمراہ ہونے کا عذاب، دوسرا لوگوں کو اللہ کی راہ سے روک کر گمراہ کرنے کا عذاب۔ دیکھیے سورة اعراف (37، 38) اور عنکبوت (12، 13)۔ مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ : یعنی کان اور آنکھیں رکھنے کے باوجود حق سنتے یا دیکھتے نہیں تھے۔ دیکھیے سورة اعراف (179) اور ایک معنی یہ ہے کہ انھیں رسول اللہ ﷺ سے اتنا بغض تھا کہ وہ آپ کی بات سن سکتے تھے نہ وہ آپ کو دیکھنا گوارا کرتے تھے۔
Ayahs 11:21–22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہوگیا جو کچھ وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

کوئی شک نہیں کہ یقینا وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔۔ : یعنی جھوٹے دعوے سب گم ہوگئے، اللہ کی گرفت آنے پر دنیا میں کوئی داتا، کوئی دستگیران کی مدد کو نہیں پہنچا اور اس میں شک نہیں کہ آخرت میں بھی یہی سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے، کیونکہ جن کو یہ سمجھ کر پکارتے تھے کہ وہ ہمیں بچائیں گے انھیں اپنی پڑی ہوگی۔ وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گے، اگر سامنے ہوئے بھی تو ان سے بری ہونے کا اعلان کریں گے، بلکہ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (5، 6)۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے رب کی طرف عاجزی کی وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا۔۔ : ”وَاَخْبَتُوْٓا“ ”اِخْبَاتٌ“ کا معنی ہے جھکنا، عاجزی کرنا، مطمئن ہونا۔ جمل ؒ نے فرمایا : ”اَخْبَتَ لَہُ“ کا معنی ہے ”خَشَعَ وَ خَضَعَ لَہُ“ وہ اس کے سامنے عاجز ہوگیا اور ”اَخْبَتَ اِلَیْہِ“ کا معنی ہے ”اِطْمَءَنَّ اِلَیْہِ“ کہ وہ اس کی طرف سے مطمئن ہوگیا۔ سب سے بڑے ظالموں، یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کفار و مشرکین کے بعد اب اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالحہ کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجز اور اس کی تقدیر اور فیصلے پر مطمئن ہوگئے وہ جنت کے مالک ہوں گے۔ ”اخبات“ والوں کی کچھ صفات سورة حج (34، 35، 54) میں آئی ہیں۔