11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں گروہوں کی مثال اندھے اور بہرے اور دیکھنے والے اور سننے والے کی طرح ہے، کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ۔۔ : مثال سے کسی چیز کی تصویر سامنے آجاتی ہے اور اس کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مومن دیکھنے اور سننے والا ہوتا ہے اور کافر اندھا اور بہرا ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد اور خلاف ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں کہ سیدھے راستے پر اندھا بہرا شخص کیسے چل سکتا ہے، جو نہ خود راستہ دیکھے، نہ بتانے سے سنے۔ اسی لیے کفار کہیں گے : (وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ) [ الملک : 10 ] ”اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“
Ayah 11:25

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، بیشک میں تمہارے لیے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ : جن حالات میں نبی ﷺ مکہ میں توحید کی دعوت پیش کر رہے تھے، وہ چونکہ ویسے ہی حالات تھے جو آپ ﷺ سے پہلے دوسرے انبیاء ؑ کو پیش آ چکے تھے، اس لیے حسب موقع یہاں سے گزشتہ انبیاء کا ذکر کیا جا رہا ہے اور باقی سورت تقریباً اسی تذکرے سے بھری ہوئی ہے، تاکہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ کی ہمت بندھے، آپ کو اور مسلمانوں کو تسلی ہو کہ انجام کار اللہ کے رسولوں اور اہل حق کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقیناً مدد ہوتی ہے اور دوسری طرف پہلی قوموں کے اعتراضات اور ان کے انبیاء کے جوابات آپ کے لیے نمونہ بنیں اور آپ کی قوم کو پہلے کفار کے انجام سے ڈرایا جائے۔ آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے، وہ اور ان کی اولاد سب موحد اور دین حق پر تھے، پھر شیطان کے بہکانے سے بزرگوں کی پوجا بت پرستی کی صورت میں شروع ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر سب سے پہلے رسول نوح ؑ بھیجے گئے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے اور بت پرستی کے آغاز کی تفصیل سورة نوح میں آئے گی۔ نوح ؑ کا ذکر قرآن میں 43 بار آیا ہے۔ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ : نوح ؑ نے صرف ڈرانے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ان کی قوم نے سمع و طاعت کا اظہار ہی نہیں کیا کہ انھیں خوش خبری دی جاتی۔
Ayah 11:26

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ تم اللہ کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ بیشک میں تم پر ایک درد ناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ۔۔ : یہی ہر رسول کی دعوت تھی اور یہی سب کی بعثت کا مقصد تھا، فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) [ الأنبیاء : 25 ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ ”میں تم پر دردناک عذاب سے ڈرتا ہوں“ کے بجائے فرمایا : ”دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔“ یہ زیادہ ڈرانے کے لیے فرمایا کہ وہ عذاب اتنا دردناک ہے کہ جس دن وہ آئے گا وہ دن ہی سرا سر الم والا، یعنی نہایت دردناک ہوگا۔ یہی بات اس سورت کی آیت (3) میں رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا تھا، ہم تجھے نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا ایک بشر اور ہم تجھے نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کے سوا کسی نے تیری پیروی کی ہو جو ہمارے سب سے رذیل ہیں، سطحی رائے کے ساتھ اور ہم تمہارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے، بلکہ ہم تمہیں جھوٹے گمان کرتے ہیں۔

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ : آلوسی نے فرمایا : ”اَلْمَلَاءُ“ کا لفظ اسم جمع ہے، جیسا کہ ”رَھْطٌ“ (گروہ) ہے۔ اس لفظ سے اس کا واحد کوئی نہیں آتا۔ ”مَلَأَ یَمْلَأُ“ کا معنی بھرنا ہے، یعنی ایک رائے پر متفق لوگوں کی جماعت، جس کے رعب و جلال اور ظاہری شکل و صورت سے آنکھیں بھر رہی ہوں۔ (راغب) مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا : نوح ؑ اور دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کافروں کی طرح مکہ کے کافر بھی ہمارے نبی ﷺ کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری طرح کا بشر ہو، جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا، بیویاں اور بال بچے رکھتا ہو، آخر وہ اللہ کا رسول کیسے ہوسکتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : 7) مطلب یہ ہے کہ رسالت اور بشریت میں تضاد ہے اور ان دونوں کا ایک شخص میں جمع ہونا ناممکن ہے، حالانکہ تمام انبیاء میں دونوں اوصاف جمع تھے، جیسا کہ فرمایا : (اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : 93 ] ”تو کہہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سو اکچھ نہیں جو رسول ہے۔“ اور دیکھیے سورة فرقان (20) اور مومنون (33، 34) کفار آپ کا بشر ہونا جانتے تھے، کیونکہ آپ انھی میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے آپ کو رسول ماننے سے انکار کردیا۔ افسوس کہ کچھ جدی پشتی مسلمان باپ دادا سے سن کر آپ کو رسول مانتے ہیں، مگر آپ کے بشر ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک ہی ذہن ہے کہ انسان رسول نہیں ہوسکتا۔ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ۔۔ : ”اَرَاذِلُ“ ”اَرْذَلُ“ کی جمع ہے، یعنی کم تر درجے کے لوگ۔ ”بَادِیَ“ ”بَدَا یَبْدُوْ“ (ظاہر ہونا) سے اسم فاعل ہو تو معنی ہوگا ظاہر دیکھنے میں اور ”بَدَءَ یَبْدَءُ“ (شروع ہونا) سے ہو تو معنی ہوگا پہلی نظر میں، یعنی اس وجہ سے بھی ہم آپ کی پیروی اختیار نہیں کرسکتے کہ کچھ لوگ جو آپ کے متبع ہوگئے ہیں وہ تو دیکھنے ہی سے نظر آتے ہیں کہ ہمارے رذالے یعنی کم تر درجے کے لوگ ہیں۔ گویا ان کی نظر میں اس شخص کے تابع ہونا، جس کے پیروکار معاشرے میں نچلے درجے کے لوگ ہوں، ان کی شان کے منافی ہے۔ (دیکھیے شعراء : 111) بعینہٖ یہی بات مکہ کے کھاتے پیتے لوگ نبی ﷺ کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کی پیروی ہماری قوم کے غلام اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔ (دیکھیے انعام : 52 تا 54) حالانکہ حق کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس کے ابتدائی پیروکار دنیوی لحاظ سے کمزور لوگ ہی ہوئے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہرقل اور ابوسفیان کے سوال و جواب میں مذکور ہے کہ جب ابوسفیان نے بتایا کہ اس کی پیروی ضعفاء نے کی ہے تو ہرقل نے کہا، یہی لوگ تمام رسولوں کے پیروی کرنے والے رہے ہیں۔ [ بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی۔۔ : 7 ] وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ : ”ہم تمہارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے“ قوم کا یہ خطاب نوح ؑ اور ان کے پیروکاروں سے ہے کہ کسی بھی چیز میں تم ہم سے بڑھ کر نہیں ہو۔ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ : یعنی اس بات میں کہ تم کہتے ہو نوح ؑ اللہ کے رسول ہیں۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم ! کیا تم نے دیکھا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائی ہو، پھر وہ تم پر مخفی رکھی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر زبردستی چپکا دیں گے، جب کہ تم اسے ناپسند کرنے والے ہو۔

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ۔۔ : نوح ؑ نے ان کے تمام اعتراضات کا جامع جواب دیا، ایک تو یہ کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت کے مضبوط دلائل اور پختہ یقین موجود ہے، یعنی ”وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ“ دوسرا یہ کہ یہ نبوت کسی کی محنت کا نتیجہ یا کسی کے آبا و اجداد کی جائداد نہیں، یہ تو محض اللہ تعالیٰ کی اپنے پاس سے خاص عنایت ہے، اس کی تقسیم تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ یہ اللہ جسے چاہے دیتا ہے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، جیسا کہ مکہ والوں نے ہمارے نبی کریم ﷺ پر اعتراض کیا تھا : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ) [ الزخرف : 31 ] ”اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟“ اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا : (اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۭ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا) [ الزخرف : 32 ] ”کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں ؟ ہم نے خود ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی۔“ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ : اس کا مادہ ”عَمْیٌ“ ہے، اندھا ہونا، یعنی یہ بتاؤ کہ اگر تمہیں اس دلیل اور رحمت سے اندھا رکھا گیا ہو اور تمہاری بےوقوفی کی وجہ سے وہ تم پر ایسی مخفی رہی ہو کہ تم دیکھ ہی نہ سکے ہو تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ : یعنی کیا ہم زبردستی تمہیں اس دلیل کا قائل کرلیں اور اس رحمت کے سائے میں دھکے سے داخل کرلیں، جب کہ تم اس سے نفرت کرتے ہو اور دور بھاگتے ہو۔ ”اَنُلْزِمُكُمُوْهَا“ میں ایک لفظ کے اندر تین ضمیروں کو ایسے طریقے سے جمع کیا ہے کہ لفظ انتہائی خوبصورت اور واضح ہوگیا ہے۔
Ayahs 11:29–30

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! میں تم سے اس پر کسی مال کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اللہ کے سوا کسی پر نہیں اور میں ان لوگوں کو دور ہٹانے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں، یقینا وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور لیکن میں تمہیں ایسے لوگ دیکھتا ہوں جو جہالت برتتے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا اگر میں انھیں دور ہٹا دوں ؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

وَيٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا۔۔ : اور اے میری قوم ! میں اللہ کا یہ پیغام تمہیں پہنچانے پر تم سے کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا، مبادا تم سمجھو کہ نوح نے مال کھینچنے کے لیے نبوت کا بہانہ کھڑا کرلیا۔ میری اجرت تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے بھی نہیں اور نہ دنیا کی کسی چیز کا تم سے مطالبہ ہے۔ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : یعنی جس طرح اللہ کی رحمت (اسلام) کے دامن میں آنے سے جب تک تم نفرت اور کراہت کرتے رہو گے، میں تمہیں زبردستی اسلام لانے پر مجبور نہیں کرسکتا، اسی طرح جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے، چونکہ وہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں، اس لیے میں انھیں دھکے دے کر نکال دوں، یہ کام میں ہرگز نہیں کرسکتا۔ یہ اسی قسم کا مطالبہ تھا جو قریش کے سردار نبی ﷺ سے کرتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورة انعام (52) ، کہف (28) اور سورة عبس۔ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ : یعنی اگر میں ان کو ستاؤں یا اپنی مجلس سے نکال دوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا انصاف چاہیں گے، اس کا میں کیا جواب دوں گا۔ یا یہ کہ وہ لوگ تو اللہ کے ہاں عزت پالیں گے اور اس بارگاہ عالی میں ان کو ایمان و عمل کے باعث مقام و مرتبہ ملے گا، پھر تمہارے ان کو ذلیل سمجھنے سے کیا ہوتا ہے ؟ یہ ان کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ اے نوح ! آپ کے متبع ہمارے رذالے ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”کافروں نے مسلمانوں کو رذالہ ٹھہرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں اور بات سنیں۔ سو فرمایا کہ دل کی بات اللہ تعالیٰ تحقیق کرے گا جب اسے ملیں گے، میں اگر مسلمانوں کو ہانکوں تو اللہ سے کون چھڑوائے مجھ کو۔ اور رذالہ ٹھہرایا اس پر کہ وہ کسب کرتے تھے۔ کسب سے بہتر کمائی نہیں، اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو۔“ (موضح) وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـهَلُوْنَ : یعنی تم کسی بات کو بھی صحیح طرح نہیں سمجھتے، تمہاری نظر صرف ظاہر چیزوں پر ہے اور انجام پر غور نہیں کرتے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ فلاں شخص نیچ قوم کا ہے، اس لیے اسے اپنے پاس نہ بیٹھنے دو ؟ اللہ کے نزدیک اسی کو عزت ہے جو ایمان دار اور پرہیزگار ہے۔ بےایمان اور بدکار کتنے ہی اونچے خاندان کا ہو اللہ کے نزدیک چوہڑے اور چمار سے بھی بدتر ہے۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ بیشک میں ایک فرشتہ ہوں اور نہ میں ان لوگوں کے بارے میں جنھیں تمہاری آنکھیں حقیر سمجھتی ہیں، یہ کہتا ہوں کہ اللہ انھیں ہرگز کوئی بھلائی نہیں دے گا، اللہ اسے زیادہ جاننے والا ہے جو ان کے دلوں میں ہے، یقینا میں تو اس وقت ظالموں سے ہوں گا۔

وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ۔۔ : یہ اس بات کا جواب ہے جو ان لوگوں نے کہی تھی کہ ہمیں تو تم اپنے جیسے ایک انسان نظر آتے ہو اور یہ کہ ہم تم کو کسی بات میں اپنے سے برتر نہیں پاتے۔ اس پر نوح ؑ فرماتے ہیں کہ ہاں میں واقعی تم ہی جیسا ایک بشر ہوں، نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ میں فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں، یعنی اس قسم کی کوئی فوقیت مجھ میں نہیں ہے۔ میرا جو بھی دعویٰ ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور اس نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت بخشی ہے۔ میرا یہ دعویٰ ناقابل تردید ہے، اس کی تم جس طرح چاہو آزمائش کرلو۔ وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ۔۔ : ”تَزْدَرِيْٓ“ اس کا مادہ ”زری“ ہے، ”زَرَیْتُ عَلَیْہِ“ میں نے اس پر عیب لگایا۔ باب افتعال میں جا کر افتعال کی تاء کو دال کے ساتھ بدلنے سے ”اِزْدَرَی یَزْدَرِیْ اِزْدِرَاءً“ بن گیا، جس کا معنی حقیر جاننا ہے۔ (قاموس) یعنی مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ محض تمہیں خوش کرنے کے لیے ان لوگوں کے بارے میں اس قسم کی جاہلانہ بات کہوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ مذکورہ چیزیں (اللہ کے خزانوں کا مالک ہونا، عالم الغیب ہونا، فرشتہ ہونا) نبوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتیں کہ ان کے بغیر نبوت نہیں مل سکتی اور نہ ان چیزوں کے کسی شخص کے پاس نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر خیر سے خالی ہے اور جو شخص مال دار نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خیر بھی حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ناتوانوں کو عزت دیتا ہے اور عزت والوں کو دم بھر میں ذلیل کردیتا ہے۔ اس وقت بھی یہ لوگ اپنے رب پر ایمان اور اس کے رسول کی پیروی کی بدولت تم سے زیادہ باعزت اور شریف ہیں۔ (روح المعانی) اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : اگر ان کے دلوں میں ایمان اور اخلاص ہے تو اللہ کے ہاں ضرور اجر پائیں گے، تم اور میں مل کر بھی انھیں اس اجر سے محروم نہیں کرسکتے۔ اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ : یعنی اگر میں انھیں خواہ مخواہ ذلیل قرار دوں۔ یہ اشارہ ہے کہ تم انھیں رذالے کہنے میں ظالم ہو، یا یہ کہ اگر میں خزائنِ الٰہی کو جمع کرنے یا غیب کے جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کروں تو میں ظالموں میں سے ہوں گا۔
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے نوح ! بیشک تو نے ہم سے جھگڑا کیا، پھر ہم سے بہت جھگڑا کیا، پس لے آ ہم پر جس جس کا تو ہمیں وعدہ دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔

قَالُوْا يٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا۔۔ : جب وہ نوح ؑ کے دلائل کے سامنے بےبس ہوگئے اور نوح ؑ ایک مدت دراز تک (950 سال۔ عنکبوت : 14) دن رات ایک ایک شخص کو اور پوری پوری مجلس کو (دیکھیے سورة نوح) اللہ کی توحید سمجھاتے رہے، نہ تھکے اور نہ ہمت ہاری تو بجائے اس کے کہ ان کی قوم ایمان لے آتی یا اللہ سے درخواست کرتی کہ اے اللہ ! اگر نوح ؑ کی بات سچ ہے تو اس کے لیے ہمارے سینے کھول دے، الٹا عذاب الٰہی لانے کا مطالبہ کردیا۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ شرک انسان کو عقل اور فطرتِ الٰہی پر چلنے سے کس حد تک محروم کردیتا ہے اور اس کی بھی کہ مشرک پرانے زمانے کا ہو یا آخری پیغمبر ﷺ کی امت کا، دونوں ایک ہی طرح عقل سے خالی ہوجاتے ہیں۔ دیکھیے ابوجہل اور مشرکین مکہ کی نبی ﷺ کے سچا ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے دعا جو سورة انفال (32) میں مذکور ہے۔
Ayahs 11:33–34

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

اس نے کہا وہ تو تم پر اللہ ہی لائے گا، اگر اس نے چاہا اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور میری نصیحت تمہیں نفع نہ دے گی اگر میں چاہوں کہ تمہیں نصیحت کروں، اگر اللہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ تمہیں گمراہ کرے، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

نوح ؑ نے جواب میں کسی تلخی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ اپنی اور اللہ تعالیٰ کی حیثیت واضح فرمائی کہ عذاب لانا یا نہ لانا میرا کام نہیں، یہ تو اللہ کا اختیار ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو تم پر عذاب لے آئے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل نہیں سکو گے اور جس طرح کائنات کا ایک ذرہ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر حرکت یا سکون میں نہیں آسکتا، انسان ہدایت اور گمراہی کی ایک حد تک اختیار رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی توفیق کے بغیر پیغمبر کی خیر خواہی اور نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرا جرم مجھی پر ہے اور میں اس سے بری ہوں جو تم جرم کرتے ہو۔

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ۔۔ : اس آیت کی مفسرین نے الگ الگ تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے اسے نوح ؑ کے قصے ہی سے متعلق سمجھتے ہوئے اس میں خطاب نوح ؑ سے قرار دیا ہے اور بعض نے اسے نوح ؑ کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیا ہے اور اسے مشرکین مکہ کا قول قرار دے کر رسول اللہ ﷺ سے خطاب قرار دیا ہے، یعنی کیا (مکہ کے کافر) کہتے ہیں کہ اس (محمد ﷺ نے اس (قرآن) کو اپنے دل سے گھڑ لیا ہے۔ (اے محمد !) کہہ دے اگر میں نے اسے اپنے دل سے گھڑا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر پڑے گا اور تم جو گناہ کرتے ہو میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ علمائے تفسیر میں سے رازی اور ان کی موافقت میں شوکانی نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے اور لکھا ہے کہ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حافظ ابن کثیر اور صاحب کشاف نے دوسری تفسیر کو راجح قرار دیا ہے، یہی رائے شاہ عبد القادر ؓ کی ہے، امکان دونوں کا ہے۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم میں سے کوئی ہرگز ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا، پس تو اس پر غمگین نہ ہو جو وہ کرتے رہے ہیں۔

وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ۔۔ : نوح ؑ سے متعلق قرآن مجید کی تمام آیات پر مجموعی نظر ڈالیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے بےمثال صبر کے ساتھ مسلسل صدیوں دعوت دینے کے باوجود قوم نے ان کے انکار اور ایذا رسانی میں کوئی کمی نہ کی، بلکہ ہر نسل اپنی اولاد کو وصیت کرکے مرتی رہی کہ دیکھنا اپنے بتوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نوح ؑ کی بات مت ماننا۔ (سورۂ نوح) اس کے باوجود نوح ؑ پُر امید رہ کر نہایت استقامت کے ساتھ انھیں دعوت توحید دیتے رہے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ اطلاع دی کہ اب آئندہ آپ کی قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا تو انھوں نے ان پر عذاب کے لیے بددعا کی۔ جس کا ذکر سورة قمر (10) میں ہے، فرمایا : (اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِر) ”بیشک میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔“ اور سورة نوح میں ان کی دعا کے الفاظ ہیں : (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) ”اے میرے رب ! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔“ آیت (26) سے آخر سورت تک ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا، یقینا وہ غرق کیے جانے والے ہیں۔

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا : نوح ؑ کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے کفار پر عذاب کے وعدے کے ساتھ نوح ؑ کو دو باتوں کی تاکید فرمائی، پہلی تو یہ کہ پانی کے طوفان سے بچنے کے لیے ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق ایک بحری جہاز بناؤ۔ یاد رہے کہ ”الْفُلْكَ“ کا لفظ بڑی کشتی (بحری جہاز) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سبھی کے لیے ایک ہی لفظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اور اس کی ہدایت کے مطابق بننے والی کشتی کتنی شان دار ہوگی، اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگوں نے اس کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی بیان کی ہے، مگر ان تمام باتوں کی کوئی پختہ دلیل نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب تم نے خود ہی دعا کی ہے کہ یا اللہ ! زمین پر رہنے والا ایک کافر بھی باقی نہ چھوڑ، تو اب عذاب آنے پر ظلم کرنے والوں (مشرکوں) کے بارے میں مجھ سے کوئی بات (سفارش) مت کرنا، کیونکہ ان کے غرق کیے جانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا : معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھوں کا لفظ استعمال ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اس کی آنکھیں بھی ہیں۔ دوسری جگہ موسیٰ ؑ کے متعلق فرمایا : (وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِی) [ طٰہٰ : 39 ] ”اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔“ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھیں ہونے سے انکار کرتے ہیں، ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی آنکھیں ماننے سے مخلوق کے ساتھ تشبیہ لازم آتی ہے، یعنی وہ ہمارے جیسا بن جاتا ہے، کیونکہ ہماری بھی آنکھیں ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان حضرات نے اسی بہانے سے اللہ تعالیٰ کی بیشمار صفات کا انکار کردیا اور کئی ایک کی تاویل کردی، مثلاً اللہ تعالیٰ کے چہرے، ہاتھ، پنڈلی، کان اور آنکھ کا، اس کے اترنے، چڑھنے، سننے، بولنے، دیکھنے، خوش ہونے اور ناراض ہونے کا انکار کردیا، یا اپنے پاس سے کوئی اور مطلب بیان کردیا، یا کہا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں اس کا معنی کیا ہے۔ ان بےچاروں نے غور نہیں کیا کہ جب آپ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے ”عَیْنٌ“ کا لفظ بول رہے ہیں تو اردو میں آنکھ کہنے سے آپ کو کیا پریشانی ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ کیا ”ہماری نگرانی میں کشتی بنا۔“ چلیے یہ بھی درست ہے، مگر اس کے لیے آنکھوں کے انکار کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ نگرانی بھی آنکھوں کے ساتھ ہی تھی۔ ”بِاَعْيُنِنَا“ کا ترجمہ نگرانی کریں، پھر بھی مشابہت والا اعتراض ختم نہیں ہوتا، کیونکہ انسان نگرانی بھی کرتا ہے، یہ بھی مشابہت ہوگئی۔ ان کو چاہیے تھا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس پر ایمان رکھتے اور اس مشکل کا حل جو اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے اس کو تسلیم کرتے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْر) [ الشوریٰ : 11 ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں“ کے باوجود وہ سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی، سمع و بصر بھی رکھتا ہے، مگر اس کا سننا، دیکھنا، ہنسنا، غصے ہونا، اترنا، چڑھنا، بولنا، اس کے کان، آنکھیں اور پنڈلی سب کچھ ہونے کے باوجود کوئی چیز مخلوق جیسی نہیں۔ اگر ہم اس حد تک چلے جائیں کہ مخلوق پر بولا جانے والا کوئی لفظ اللہ تعالیٰ پر بولا جا ہی نہیں سکتا تو پھر ہم اپنے اللہ تعالیٰ ہی کو گم کر بیٹھیں گے۔ کیونکہ ہم زندہ ہیں، موجود ہیں، علم رکھتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ کے حق میں اس کا انکار کرکے دیکھو تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ موجود ہی نہیں۔ ایسے خبیث عقیدے سے اللہ کی پناہ۔ یقیناً ہم زندہ و موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی زندہ و موجود ہے، مگر ہماری زندگی اور وجود اللہ تعالیٰ کی زندگی اور وجود سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے۔ اس کی زندگی اور وجود اس کی شان کے لائق ہے، جو ازلی، ابدی اور لامحدود ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں اور ہمارا وجود اور زندگی فانی، محدود اور اللہ کے محتاج ہیں۔ یہ لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ عرش پر ہے نہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن آئے گا، تو پھر وہ کہاں ہے ؟ کہتے ہیں یہ پوچھنا ہی منع ہے، وہ نہ مکان میں ہے نہ لا مکان میں۔ پھر کبھی کہتے ہیں وہ ہر جگہ ہے، کبھی کہتے ہیں کہیں بھی نہیں۔ اللہ کے بندو ! جو کچھ تعارف اللہ تعالیٰ نے اپنا خود کروایا ہے وہ ہر صورت مانو، مگر یہ کہو کہ اس کی آنکھیں، کان، چہرہ، اترنا اور چڑھنا وغیرہ سب کچھ ہے مگر مخلوق میں سے کسی کی طرح نہیں، بلکہ وہ اسی طرح ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہیں۔ دراصل یہ لوگ اللہ کی صفات پر ایمان لانے سے اس لیے محروم ہوئے کہ انھوں نے اس کے چہرے، آنکھوں، ہاتھوں اور سننے و دیکھنے وغیرہ کو اپنے جیسا سمجھا، اس لیے انکار کردیا۔ اگر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے اور اس پر ایمان رکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق جو جو الفاظ بولے ہیں، سب حق ہیں، مگر مخلوق میں سے کسی کے مشابہ نہیں تو وہ ایمان سے ہاتھ نہ دھوتے۔ وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔۔ : ”الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا“ سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک سے بڑی ناانصافی کوئی نہیں۔ نوح ؑ کی بیوی اور ایک بیٹا مشرک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کے حق میں کسی بھی قسم کی بات کرنے سے منع فرما دیا، کیونکہ مشرک کی نجات کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 11:38

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ کشتی بناتا رہا اور جب کبھی اس کے پاس سے اس کی قوم کے کوئی سردار گزرتے اس سے مذاق کرتے۔ وہ کہتا اگر تم ہم سے مذاق کرتے ہو تو ہم تم سے مذاق کرتے ہیں، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ : ماضی کے ایک واقعہ کو مضارع کے صیغے سے بیان فرمایا۔ اس سے ان کا مسلسل کئی دنوں تک اس بڑی کشتی کو بناتے رہنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ ”کَانَ“ کا صیغہ جو ماضی ہے، مضارع پر آجائے تو اس سے مراد ماضی میں استمرار ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور وہ کشتی بناتا رہا۔“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مضارع کا لفظ حکایت حال، یعنی وہ نقشہ سامنے لانے کے لیے استعمال فرمایا، گویا ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوح ؑ کشتی بنا رہے ہیں اور قوم کے لوگ انھیں مذاق کر رہے ہیں، یہ معنی بھی جید ہے۔ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ۔۔ : وہ اس پر مذاق کرتے کہ بڑے میاں ترکھان کب سے بن گئے اور اب اس حد تک دماغ میں خلل آگیا کہ خشک زمین پر پانی میں غرق ہونے سے بچاؤ کا بندوبست کر رہے ہیں۔ نوح ؑ اس پر ہنستے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ ایمان اور اطاعت کے ذریعے سے عذاب الٰہی سے بچاؤ حاصل کریں، الٹا کفر اور نافرمانی پر اصرار کرکے اور اللہ کے نشانات کا مذاق اڑا کر عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نوح ؑ نے فرمایا ہو کہ جیسے تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو، وہ وقت بالکل قریب ہے جب تم غوطے کھا رہے ہو گے اور ہم تمہارا مذاق اڑائیں گے، جیسا کہ تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ (نوح ؑ ہنستے اس پر کہ موت سر پر کھڑی ہے اور یہ ہنستے ہیں۔“ (موضح)
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

پس تم جلد ہی جان لوگے کہ وہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب اترتا ہے۔

عَذَابٌ مُّقِيْمٌ : یعنی آخرت میں جہنم کا عذاب جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا اس میں ہر چیز میں سے دو قسمیں (نر و مادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو سوار کرلے، سوائے اس کے جس پر پہلے بات ہوچکی اور ان کو بھی جو ایمان لے آئے اور اس کے ہمراہ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کوئی ایمان نہیں لایا۔

حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَار التَّنُّوْرُ : ”فَارَ یَفُوْرُ فَوْرًا“ جوش مار کر نکلنا۔ فوارہ بھی اسی سے ہے۔ ”التَّنُّوْرُ“ (بروزن تفعول) کا معروف معنی تنور ہے جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کے گھر میں طوفان کا نشان بتا رکھا تھا کہ جب اس تنور سے پانی ابلے تب کشی میں سوار ہوجاؤ۔ (موضح) اکثر مفسرین نے تنور سے یہی عام تنور مراد لیا ہے، لیکن حسب تفسیر ابن عباس (ابن جریر) ”التَّنُّوْرُ“ سے مراد روئے زمین ہے۔ قاموس میں بھی لکھا ہے : ”وَجْہُ الْأَرْضِ وَ کُلُّ مَفْجَرِ مَاءٍ وَ مَحْفَلُ مَاءِ الْوَادِیْ“ ”روئے زمین، پانی پھوٹنے کی جگہ اور وادی کے پانی کے جمع ہونے کی جگہ۔“ اس تفسیر کی رو سے مراد یہ ہے کہ ساری زمین پانی کا چشمہ بن گئی اور پانی ابلنے لگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے : (وَّفَجَّــرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا) [ القمر : 12 ] ”اور ہم نے زمین کو چشموں سے پھاڑ دیا۔“ حتیٰ کہ تنور جو آگ کی جگہ ہوتے ہیں، پانی کے فوارے بن گئے۔ ویسے پہلا معنی زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ علامت ظاہر ہونے کے ساتھ ہی کشتی میں سوار ہونے اور ہر جانور کا جوڑا رکھنے کا زیادہ موقع ہے، لیکن جب ساری زمین سے چشمے پھوٹ نکلیں تو یہ کام مشکل ہے اور تنور روٹیاں پکانے کے لیے عام معروف بھی ہے۔ امام طبری اور رازی نے بھی اسی معنی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ معروف معنی چھوڑنے کی کوئی دلیل نہیں۔ ام ہشام بنت حارثہ ؓ فرماتی ہیں : (کَانَ تَنُّوْرُنَا وَ تَنُّوْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا) [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ : 873 ] ”ہمارا تنور اور رسول اللہ ﷺ کا تنور ایک ہی تھا۔“ ”امرنا“ سے مراد عذاب کا حکم ہے کہ آسمان سے موسلا دھار پانی برسنے لگا اور زمین سے چشموں کی طرح پانی ابلنا شروع ہوگیا، دونوں طبقے مل گئے اور زمین پانی میں غرق ہوگئی۔ دیکھیے سورة قمر (11، 12)۔ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ۔۔ : ”مِنْ كُلٍّ“ میں ”كُلٍّ“ کی تنوین مضاف الیہ محذوف کا عوض ہے : ”اَیْ مِنْ کُلِّ نَوْعٍ تَحْتَاجُ اِلَیْہِ“ جب عذاب کے آثار شروع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جانوروں کی ہر قسم میں سے ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو، جن کی نسل باقی رہنا مقدر تھی۔ ”وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ“ یعنی اپنی بیوی جس کا ذکر سورة تحریم میں ہے اور اس بیٹے جس کا ذکر زیر تفسیر آیات میں آ رہا ہے (جن کے کفر کی وجہ سے ان کا ڈوبنا پہلے طے ہوچکا ہے) ان کے سوا اپنے تمام گھر والوں کو اور ان لوگوں کو جو آپ پر ایمان لائے ہیں، کشتی میں سوار کرلو۔ وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ: یہ وہی تھے جن کو قوم نے اپنے اراذل کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان پر بہت تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے۔ ان کی تعداد بہت سے مفسرین (79) یا (80) بیان کرتے ہیں، مثلاً آلوسی وغیرہ، جن میں وہ نوح ؑ کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث کا نام لیتے ہیں، کافر بیٹے کا نام کنعان تھا۔ ان چاروں کی بیویاں مسلمان تھیں اور 72 مرد اور عورتیں دوسرے مسلمان تھے۔ بعض نے یہ تعداد چالیس (40) بتائی ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ الفلاح ؓ لکھتے ہیں : ”قرآن و حدیث میں ان کی تعداد کا کوئی ذکر نہیں۔“ اور ظاہر ہے کہ ان دونوں چیزوں کے علاوہ کوئی معتبر ذریعہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس نہیں ہے۔ [ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِعَدَدِھِمْ ]
Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور اس نے کہا اس میں سوار ہوجاؤ، اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بیشک میرا رب یقینا بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا : ”ارْكَبُوْا فِيْهَا“ عام طور پر سوار ہونے کے لیے ”رَکِبَ عَلَیْہِ“ آتا ہے، یہاں ”اِرْکَبُوْا عَلَیْھَا“ کی جگہ ”ارْكَبُوْا فِيْهَا“ اس لیے فرمایا کہ کشتی میں کمرے کی طرح داخل ہو کر بیٹھا جاتا ہے، جب کہ گھوڑے وغیرہ کے اوپر سوار ہوتے ہیں۔ (ابن عاشور) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کشتی صرف تختے نہیں تھے جن کے اوپر وہ سوار ہوئے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہونے والی وہ کشتی بہترین کمروں، آرام دہ سیٹوں اور کئی منزلوں والی تھی، جن میں وہ سوار ہوئے۔ ”مَجْرَی“ ”جَرَی یَجْرِیْ“ (ض) سے مصدر میمی ہے، یعنی چلنا۔ بعض قراء نے اس میں امالہ کیا ہے، یعنی الف کو یاء کی طرف اور فتحہ کو کسرہ کی طرف مائل کرکے پڑھتے ہیں۔ ”مُرْسَی“ یہ باب افعال ”اَرْسَی یُرْسِیْ“ (ر س و) سے مصدر میمی ہے، یعنی اس کا ٹھہرنا۔ کشتی میں سوار ہوتے وقت نوح ؑ نے یہ دعا پڑھی، اس لیے کشتی میں سوار ہوتے وقت یہ دعا قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورة مومنون میں وہ دعا بھی مذکور ہے جو کشتی پر سوار ہو کر آرام سے بیٹھ جانے پر پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا : (الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ) اور (رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ) [ المؤمنون : 28، 29 ] سورة زخرف میں کشتی ہو یا کوئی بھی سواری، اس پر سوار ہوتے وقت اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے : (سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ 13؀ۙوَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ) [ الزخرف : 13، 14 ] ”پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے تابع کردیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بیشک ہم اپنے رب ہی کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ سے اونٹ پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھنے کی حدیث موجود ہے، اس میں مزید الفاظ بھی ہیں۔ [ دیکھیے مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ متوجھا۔۔ : 1342، عن ابن عمر ] اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : مطلب یہ ہے کہ ہم سب جو کشتی میں سوار ہو کر عذاب سے بچے ہیں، اس لیے نہیں بچے کہ ہم گناہوں سے یکسر پاک ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا رب غفور و رحیم ہے۔ ایمان لانے کی وجہ سے اس نے ہماری لغزشوں سے درگزر فرما کر ہمیں یہ عزت بخشی ہے۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ انھیں لے کر پہاڑوں جیسی موج میں چلی جاتی تھی، اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ایک علیحدہ جگہ میں تھا، اے میرے چھوٹے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ (شامل) نہ ہو۔

وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ : پہاڑوں جیسی موجوں سے طوفان کے پانی کی وسعت، اس کی طغیانی اور جوش و غضب کے اندازے کے ساتھ کشتی کے مضبوط اور مستحکم ہونے کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ۔۔ : باپ کی شفقت دیکھیے کتنے پیار سے ”یبنی“ (اے میرے چھوٹے سے بیٹے یا اے میرے پیارے بیٹے) کہہ کر کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اس بیٹے کی بربادی کا باعث کافروں کی مجلس اور ان کے ساتھ رہنا تھا، اگر وہ نوح ؑ کی صحبت میں رہتا تو کفار کے ہتھے نہ چڑھتا۔ اتنے بڑے سیلاب کے وقت بھی وہ غرق ہوگیا مگر اس نے نوح ؑ کے پاس آنا گوارا نہیں کیا۔ شیخ سعدی لکھتے ہیں ؂ پسر نوح بابداں بہ نشست خاندان نبوتش گم شدہ ”نوح ؑ کا بیٹا بروں کے ساتھ بیٹھا تو اس سے نبوت کا خاندان ہی گم ہوگیا (وہ خاندان نبوت کا فرد ہی نہ رہا)۔“
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا میں عنقریب کسی پہاڑ کی طرف پناہ لے لوں گا، جو مجھے پانی سے بچالے گا۔ کہا آج اللہ کے فیصلے سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی تو وہ غرق کیے گئے لوگوں میں سے ہوگیا۔

قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ : معلوم ہوا کہ مشرک کی نظر اسباب تک ہی رہتی ہے اور مشکل سے مشکل وقت میں بھی اسباب کے پیدا کرنے والے کی طرف نہیں جاتی۔ ”مجھے پہاڑ پانی سے بچا لے گا“ کم عقل ایک بےاختیار پہاڑ کو بچانے والا سمجھ رہا ہے۔ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ : اس کا جو ترجمہ لکھا گیا ہے اس میں کچھ الفاظ محذوف شامل کیے جائیں تو مطلب درست ہوتا ہے، یعنی ”آج اللہ کے فیصلے سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے (وہی بچے گا)۔“ بعض حضرات نے فرمایا کہ فاعل کا وزن بعض اوقات نسبت کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ ”لَابِنٌ“ لبن (دودھ) والا اور ”تَامِرٌ“ تمر (کھجور) والا، اسی طرح یہاں ”عَاصِمَ“ نسبت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی آج بچاؤ رکھنے والا کوئی نہیں، مگر جس پر وہ (اللہ) رحم کرے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں : ”یا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، مگر جو رحم کرنے والا ہے (یعنی خود اللہ تعالیٰ)۔“ آیت میں یہ ایک وجہ ہے جو محققین نے ذکر کی ہے اور یہی اقویٰ (زیادہ مضبوط) ہے، کیونکہ فاعل کا صیغہ زیادہ تر صفت کے لیے آتا ہے، نسبت کے لیے کم استعمال ہوتا ہے۔ (روح المعانی) وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ : نوح ؑ اور ان کے بیٹے کی بات جاری تھی کہ پانی کی موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ اپنے ساتھیوں سے جا ملا، جو غرق کیے جا چکے تھے۔ اس سے ایک تو اس موج کی غیرت ایمانی ظاہر ہو رہی ہے کہ وہ موحد باپ کے سامنے مشرک بیٹے کی بک بک کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کرسکی، دوسرا یہ کہ آخرت میں آدمی انھی کا ساتھی ہوگا جن کا وہ دنیا میں ساتھی تھا۔ ”فَغَرِقَ“ (پس وہ غرق ہوگیا) اور ”فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ“ (پس وہ غرق کیے گئے لوگوں میں سے ہوگیا) دونوں میں یہی فرق ہے، اس لیے اپنے بچوں کو جس قدر ہو سکے بری صحبت سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور کہا گیا اے زمین ! تو اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان ! تو تھم جا اور پانی نیچے اتار دیا گیا اور کام تمام کردیا گیا اور وہ جودی پر جا ٹھہری اور کہا گیا ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو۔

وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ۔۔ : ”بَلَعَ یَبْلَعُ“ (ف) نگلنے کو کہتے ہیں اور انسان یا کوئی بھی جانور عموماً پورا لقمہ اکٹھا ہی نگلتا ہے۔ یہ لفظ استعمال کرنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ زمین نے پانی آہستہ آہستہ نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ لقمے کی طرح اپنے اندر نگل لیا تھا۔ ادھر آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جا، چناچہ بارش رک گئی۔ سارا پانی زمین کے نیچے اتار دیا گیا اور تمام مشرکوں کو نیست و نابود کرنے کا کام، جس کے لیے طوفان آیا تھا، پورا ہوگیا۔ وَاسْـتَوَتْ عَلَي الْجُوْدِيِّ : جودی پہاڑ عراق اور ترکی کے درمیانی علاقے میں (جسے کردستان کہتے ہیں) موصل کی جانب واقع ہے۔ تورات میں نوح ؑ کی کشتی ٹھہرنے کی جگہ ”ارارات“ بتائی گئی ہے، جو ارمینیا کے پہاڑی سلسلے کا نام ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ چند سال ہوئے مغربی سیاحوں نے اس پہاڑ پر ایک بڑی کشتی کے ٹوٹے ہوئے تختے بھی دریافت کیے ہیں، اگرچہ ان کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ نوح ؑ کی کشتی ہی کے تختے ہیں یا کسی اور کشتی کے۔ واضح رہے کہ نوح ؑ کی قوم دجلہ اور فرات کی وادی ہی میں آباد تھی، جو بعد میں عراق کے نام سے مشہور ہوئی۔ وَقِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ”بُعْدًا“ کا لفظ دوری، ہلاکت اور لعنت کے معنی میں آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ سب ظالم ہلاک کردیے گئے۔ بائبل (پیدائش : 18 : 24) کے بیان پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان روئے زمین میں آیا تھا، مگر بعض علماء کا کہنا ہے کہ طوفان اسی علاقے میں آیا تھا جہاں نوح ؑ کی قوم آباد تھی۔ گو قرآن و حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ طوفان کے زمانے میں دنیا میں دجلہ و فرات کی وادی کے علاوہ کسی اور جگہ آبادی ہی نہ ہو۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا، پس کہا اے میرے رب ! بیشک میرا بیٹا میرے گھر والوں سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

وَنَادٰي نُوْحٌ رَّبَّهٗ۔۔ : تمام کفار کے غرق ہونے کے بعد باپ کی شفقت نے جوش مارا تو نوح ؑ نے بیٹے کے بارے میں دعا کی۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ نوح ؑ کے اہل کو بچانے کا تھا، اس وعدے کے حوالے سے درخواست کی۔ وہ اہل سے نسبی اور رشتہ داری کے گھر والے سمجھ بیٹھے، جب کہ کافر اور مومن کے درمیان دوستی کا رشتہ باقی نہیں رہتا۔ ایمان لانے کے بعد سب مومن دوست اور سب کافر دشمن بن جاتے ہیں۔ دیکھیے سورة ممتحنہ (4) بہرحال نوح ؑ نے ادب ملحوظ رکھا اور صریح الفاظ میں بیٹے کو بچانے کی بات نہیں کی۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

فرمایا اے نوح ! بیشک وہ تیرے گھر والوں سے نہیں، بیشک یہ ایسا کام ہے جو اچھا نہیں، پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔ بیشک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہوجائے۔

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ : فرمایا اے نوح ! یہ تیرے اہل میں سے نہیں، بلکہ ”اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ“ کے تحت کفر کی وجہ سے تمہارا اہل ہونے کے شرف سے محروم ہے اور ان لوگوں میں شامل ہوگیا ہے جن کے غرق کیے جانے کا پہلے فیصلہ ہوچکا ہے۔ rnِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ : عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ”اس کے عمل اچھے نہیں ہیں۔“ یہ معنی اس صورت میں درست ہوسکتا ہے کہ ”عمل“ مصدر کو مبالغہ کے لیے اسم فاعل (عَامِلٌ) کے معنی میں مانا جائے، جیسے : ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ کو ”زَیْدٌ عَادِلٌ“ کے معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی یہ غیر صالح عمل کرنے والا ہے۔ مگر امام المفسرین طبری ؓ کے مطابق ”عَمَلٌ“ کی ضمیر نوح ؑ کی دعا کی طرجاتی ہے کہ آپ نے اپنے مشرک بیٹے کے حق میں جو سفارش کی ہے، یہ کام اچھا نہیں ہے۔ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوال تو اسی چیز کا ہوتا ہے جس کا علم نہ ہو، جس چیز کا علم ہو اس کے سوال کی تو ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اس کے دو جواب ہیں، دراصل عربی میں سوال کا لفظ مانگنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور پوچھنے کے بارے میں بھی۔ سو پہلا جو اب یہ ہے کہ صرف وہی چیز مانگنی چاہیے جس کے متعلق اچھی طرح معلوم ہو کہ جس سے مانگ رہے ہیں وہ یہ چیز مانگنے پر ناراض نہیں ہوگا۔ جس کے متعلق یہ علم نہ ہو بلکہ اس کے ناراض ہونے کا بھی خطرہ ہو، وہ ہرگز نہیں مانگنی چاہیے۔ اب نوح ؑ کے سامنے اللہ تعالیٰ کے وہ فرمان موجود تھے : (وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِیْ الَّذِیْنَ ظَلَمْوْا) اور (وَ اَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ) پھر بھی انھیں اس کا علم نہیں ہوسکا کہ اس درخواست پر اللہ تعالیٰ کس قدر ناراض ہوں گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کی درخواست کا جواب تو ”اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ“ کہہ کر دے دیا تھا، اب اس سے آگے امکان تھا کہ نوح ؑ بیٹے کے نجات نہ پانے اور کفر پر مستحکم رہنے کے متعلق سوال کرتے کہ اس میں کیا حکمت ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس سے روک دیا کہ میری حکمتوں تک تمہارے علم کی رسائی نہیں ہوسکتی، اس لیے مجھ سے ایسی بات مت پوچھنا۔ (الوسیط للطنطاوی) یعنی پوچھنی بھی وہی بات چاہیے جس کے متعلق علم ہو کہ جس سے پوچھ رہے ہیں وہ اس سوال پر ناراض نہیں ہوگا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”آدمی پوچھتا وہی ہے جو معلوم نہ ہو، لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام ہے جاہل کا کہ اگلے کی مرضی نہ دیکھے پوچھنے کی، پھر پوچھے۔“ (موضح) اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد اگر ایسا سوال کرو گے تو جاہل بن کر رہ جاؤ گے۔ (روح المعانی)
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے اس بات کا سوال کروں جس کا مجھے کچھ علم نہیں اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں خسارہ پانے والوں سے ہوجاؤں گا۔

قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـــَٔـلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ۔۔ : نوح ؑ شاید پدری محبت کی وجہ سے یہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹا چاہے کافر ہو، گھر والوں میں شامل ہے اور اس کے لیے دعا کی جاسکتی ہے، لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ ایک کافر بیٹے کو نسبی قرابت کی بنا پر اپنا اہل سمجھنا صحیح نہیں ہے تو وہ فوراً متنبہ ہوئے اور اللہ کے حضور اپنی غلطی پر معافی مانگی۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”نوح ؑ نے توبہ کی، لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے، بندے کو کیا مقدور ہے ! اسی کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھر یہ نہ ہو۔“ (موضح)
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

کہا گیا اے نوح ! اتر جا ہماری طرف سے عظیم سلامتی اور بہت سی برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان جماعتوں پر جو ان لوگوں سے ہوں گی جو تیرے ساتھ ہیں۔ اور کئی جماعتیں ہیں جنھیں ہم عنقریب سازوسامان دیں گے، پھر انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

قِيْلَ يٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيْكَ : یعنی ہماری طرف سے اپنے آپ پر اور اپنے ساتھ والے لوگوں پر سلامتی اور بیشمار برکتیں لے کر کشتی سے زمین پر اترو۔ وَعَلٰٓي اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ : یعنی ان تمام مومنوں پر جو قیامت تک تمہاری اور تمہارے ساتھ والوں کی نسل سے پیدا ہوں گے، لیکن ان ساتھ والوں سے نسل صرف نوح ؑ کے بیٹوں کی چلی، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ) [ الصافآت : 77 ] ”اور ہم نے اس کی اولاد ہی کو باقی رہنے والے بنادیا۔“ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ۔۔ : حق تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ اس کے بعد ساری نوع انسانیت پر ہلاکت نہیں آئے گی، ہاں بعض فرقے ہلاک ہوں گے۔ (موضح) ہلاک ہونے والے فرقوں سے مراد وہ تمام کافر ہیں جو نوح ؑ کی نسل سے پیدا ہوئے یا قیامت تک پیدا ہوں گے۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم، پس صبر کر، بیشک اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ۔۔ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ شروع ہی سے سب کچھ نہیں جانتے تھے، نہ آپ غیب دان تھے، ورنہ وحی کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بعض لوگ ان تمام آیات کی تاویل کرتے ہیں جن میں ہے کہ اے نبی ! یہ غیب کی خبریں ہیں، ہم آپ کو سنا رہے ہیں، آپ نہ اس وقت وہاں تھے نہ آپ کو یہ باتیں معلوم تھیں، یہ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے بتائی ہیں۔ جو لوگ نبی ﷺ کو بھی عالم الغیب کہتے ہیں وہ اس قسم کی آیات ”یہ غیب کی خبریں ہیں، اس سے پہلے آپ ان کو نہیں جانتے تھے“ کی تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ خطاب دراصل امت کے لوگوں کو ہے کہ اے امت محمد کے لوگو ! تم یہ باتیں نہیں جانتے تھے، مگر ہماری اس زیر تفسیر آیت نے ان لوگوں کی اس تحریف کو واضح طور پر باطل ثابت کردیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ معلوم ہوا کہ ان تمام آیات سے بھی یہی مراد ہے کہ صرف قوم ہی نہیں خود رسول اللہ ﷺ بھی غیب دان نہیں تھے۔ اگر غیب دان مانیں تو بار بار وحی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اسی طرح نوح ؑ کا سارا واقعہ ان کے غیب دان ہونے کی نفی کرتا ہے، ورنہ اگر انھیں پہلے ہی سب کچھ معلوم تھا تو ساڑھے نو سو سال کی محنت، اس دوران میں قوم کی بدتمیزیوں پر صبر، پھر وحی کے مطابق کشتی بنانا، پھر بیٹے کے حق میں دعا کرنا، اللہ تعالیٰ کا ناراض ہونا اور نوح ؑ کا معافی مانگنا سب کچھ افسانہ ٹھہرتا ہے۔ اسی طرح اگر ابراہیم ؑ کو معلوم تھا کہ آگ مجھے نہیں جلائے گی، اسماعیل ؑ ذبح نہیں ہوں گے، یا سارہ[ کا کچھ نہیں بگڑے گا تو پھر ان کی جان و مال اور اولاد و آبرو اللہ کی راہ میں قربان کردینے کی بات بےمعنی ٹھہرتی ہے۔ بدر کی رات رسول اللہ ﷺ کی آہ وزاری اور افک یعنی عائشہ ؓ پر بہتان کے موقع پر پریشانی کا کچھ مطلب نہیں بنتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ رسولوں کو اتنی بات ہی معلوم ہوتی ہے جو وحی کے ذریعے سے انھیں بتائی جاتی ہے۔ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ : ”عَاقِبَۃٌ“ ایک حالت کے بعد آنے والی حالت، اس پر الف لام آئے تو عموماً اچھا انجام مراد ہوتا ہے، یعنی جس طرح نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کا انجام بخیر رہا اور ان کے تمام مخالفین ہلاک کردیے گئے، اسی طرح آپ ﷺ کا انجام بھی دنیا و آخرت دونوں میں بہتر رہے گا اور آپ کے مخالفین دنیا میں بھی ذلیل و برباد ہوں گے اور آخرت میں بھی انھیں دوزخ کی آگ نصیب ہوگی۔ مسلمانوں کی تعداد کا کم ہونا اور مدت دراز تک اسلام کی دعوت کا کامیاب نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ دعوت ناکام ہے، بلکہ مسلسل صبر اور دعوت کے نتیجے میں آخری کامیابی اہل اسلام ہی کو ملے گی، خواہ کچھ نسلیں گزرنے کے بعد ملے۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے لاتعداد لشکر ہیں، مثلاً آگ، ہوا، پانی، پہاڑ اور بیشمار مخلوق۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو بھی اشارہ کر دے تو کافروں کا نام و نشان باقی نہیں رہ سکتا۔ کافر یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان ہمیشہ مغلوب و مقہور ہی رہیں گے، بلکہ مسلمان اگر صبر و استقامت سے کام لیں اور اپنی ہر مصیبت اور بےبسی کو صرف اللہ کریم کے سامنے پیش کرتے رہیں، جیسا کہ نوح ؑ نے کہا : (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) [ القمر : 10 ] ”بیشک میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔“ تو خواہ ان کی تعداد کتنی ہی کم ہو، جیسا کہ نوح ؑ کی ساڑھے نو سو سال کی دعوت کا حاصل بہت ہی کم آدمی بارہ (12) یا چالیس (40) یا اسّی (80) آدمی نکلے، مگر نوح ؑ اور اہل ایمان کی محنت ناکام نہیں ہوئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی غیبی قوت کے ساتھ دنیا کو تہ و بالا کرکے ان قلیل لوگوں کو ایسی کامیابی عطا فرمائی کہ ان کے دشمنوں کا نام و نشان مٹ گیا اور یہ پوری زمین کے مالک بن گئے۔ بنی اسرائیل، موسیٰ ؑ اور فرعون کا واقعہ پڑھ لیجیے۔ رسول اللہ ﷺ کے تین سو تیرہ بےسرو سامان ساتھیوں کی ایک ہزار مسلح کفار کے مقابلے میں غیب سے فرشتے بھیج کر ایسی مدد کی کہ وہ دن فیصلہ کن دن بن گیا کہ آئندہ کسے غالب ہو کر رہنا ہے۔ غرض اللہ کا فیصلہ ہے کہ اچھا انجام متقین ہی کا ہے۔ (الوسیط) اس آیت میں ”تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ“ سے ”وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا“ تک رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت پر احسان کا ذکر ہے، ”فَاصْبِرْ“ میں نصیحت ہے اور ”اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ“ میں تسلی اور خوش خبری ہے۔ اس واقعہ سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا حق ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اُمّی ہونے کے باوجود نوح ؑ کا واقعہ پورا پورا صحیح سنا دیا جو وحی الٰہی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اگر کسی صالح آدمی کا بیٹا صالح نہ بن سکے تو باپ اس میں بےقصور ہے۔ نوح ؑ جیسا مہربان اور کامل مربی بھی اگر بیٹے کو راہ راست پر نہ لاسکا تو ہماری تمہاری کیا حیثیت ہے ؟ اب اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت پر صبر و رضا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ (قرطبی) قرآن مجید واقعات بیان کرتے وقت ان میں سے انھی حصوں کو نمایاں کرتا ہے جن سے کوئی نصیحت اور فائدہ حاصل ہو رہا ہو۔ ان کے وہ حصے جو اس مقصد سے خاص تعلق نہیں رکھتے انھیں چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً نوح ؑ کی وہ کشتی کتنی مدت میں بنی، اس کا طول و عرض کیا تھا، اس میں سوار ہونے والے جانور کیسے جمع کیے گئے، اس میں کتنے کمرے تھے، کشتی کتنے دن پانی میں رہی، ”جودی“ پر کشتی سے اترنے کے بعد نوح ؑ نے کہاں اقامت اختیار فرمائی اور طوفان کتنے دن زمین پر برپا رہا۔ رہے وہ قصے کہانیاں جو عام مشہور ہیں، وہ اکثر اسرائیلیات ہیں، جن کی شرع یا عقل سے تائید نہیں ہوتی۔ ایک مسئلہ جس پر بہت سے علماء نے بحث کی ہے، یہ بھی ہے کہ طوفان ساری زمین پر آیا تھا یا کچھ حصے پر ؟ تفسیر المنار کے مصنف نے اپنے استاد شیخ محمد عبدہ مصری کا فتویٰ نقل کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم اور احادیث کے ظاہر الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ طوفان نوح ؑ کی پوری قوم پر آیا تھا اور ان کے علاوہ اس وقت پوری زمین پر کوئی اور آباد نہ تھا، اس لیے یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان پوری زمین پر آیا تھا، کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ پوری زمین قوم نوح سے بھری ہوئی تھی۔ یہ تاریخی مسائل قرآن کے مقاصد میں سے نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صریح الفاظ میں کوئی وضاحت نہیں فرمائی۔ اس لیے ہم کہتے ہیں قرآن کے ظاہر کا تقاضا یہی ہے جو اوپر بیان ہوا، اب اگر کسی علمی تحقیق سے اس کے خلاف کوئی بات ثابت ہوجائے تو اس سے قرآن و حدیث کی کسی قطعی و صریح بات پر کوئی حرف نہیں آتا۔ (الوسیط)
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم تو محض جھوٹ باندھنے والے ہو۔

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ قَالَ يٰقَوْمِ۔۔ : ”هُوْدًا“ عطف بیان ہے ”اَخَاهُمْ“ سے۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورة اعراف (65) اے مشرکو ! اے کافرو ! کے بجائے ”يٰقَوْمِ“ (اے میری قوم !) سے مخاطب کرنے سے ان کے ساتھ اپنا تعلق اور خیر خواہی ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ : ”مُفْتَرُوْنَ“ ”فَرَیْ“ سے باب افتعال (اِفْتِرَاءٌ) کا اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ افترا یعنی جان بوجھ کر ایسا جھوٹ بولنا جس کے متعلق بولنے والے کو بھی معلوم ہو کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یعنی اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی ہے ہی نہیں، تمہارا کسی غیر کو معبود بنانا محض افترا ہے۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم ! میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اس کے سوا کسی پر نہیں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟

يٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا۔۔ : ”فَطَرَ“ کا اصل معنی پھاڑنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِذَا السَّمَاۗءُ انْفَطَرَتْ) [ الانفطار : 1 ] ”اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔“ ”فَطَرَنِيْ“ سے مراد مجھے کسی گزشتہ نمونے کے بغیر پیدا فرمایا۔ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ جو شخص سچے دل سے دعوت و تبلیغ اور نصیحت کی مشقت اٹھا رہا ہے اور جسے صرف اپنے رب سے اجر لینا ہے، وہ تم سے کوئی اجرت یا دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا ؟
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمہیں تمہاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔

وَيٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ۔۔ : ”السَّمَاۗءَ“ آسمان کے علاوہ ہر بلند چیز کو بھی ”سَمَاءٌ“ کہہ لیتے ہیں۔ کیونکہ ”سَمَا یَسْمُوْ“ کا معنی بلند ہونا ہے، یہاں ”السَّمَاۗءَ“ سے مراد بادل یا بارش ہے۔ ”مِّدْرَارًا“ یہ ”دَرٌّ“ سے مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا معنی دودھ کا بہنا اور زیادہ ہونا ہے، پھر بہت برسنے والی بارش کے لیے بطور استعارہ استعمال ہونے لگا۔ ”دَرَّتِ السَّمَاء بالْمَطَرِ دَرًّا، وَ تَدِرُّ دَرًّا“ جب آسمان سے بارش بہت برسے۔ ان آیات سے اور دوسرے مقامات مثلاً الاحقاف (24) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے فخر و غرور اور اپنے رسول ہود ؑ کو جھٹلانے کی وجہ سے کافی عرصہ تک ان سے بارش روک لی گئی، جس کے نتیجے میں قحط کی وجہ سے ہر طرف دھول اڑنے لگی اور باوجود زبردست جسمانی ڈیل ڈول اور قوت کے سب لوگوں میں کمزوری نمایاں ہونے لگی تو ہود ؑ نے انھیں سمجھایا کہ سب سے پہلے تو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو شرک اور اس کی نافرمانی کی ہے، اس کی معافی مانگو۔ بہت سے مفسرین نے یہاں ”اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ“ سے شرک چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لانا مراد لیا ہے۔ ”ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ“ پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، یعنی آئندہ اس کی ہر نافرمانی ترک کرنے اور ہر حکم بجا لانے کا پختہ عزم کرو، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تم پر ایسا بادل بھیجے گا جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمہاری قوت کی کمی دور کرکے پہلے سے بھی زیادہ قوت عطا فرمائے گا۔ معلوم ہوا کہ استغفار اور توبہ سے قحط دور ہوتا ہے اور جسمانی، ذہنی اور مالی ہر قسم کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید فوائد کے لیے دیکھیے سورة ہود (3) اور سورة نوح (10 تا 12)۔ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ : یعنی میری اطاعت سے منہ نہ موڑو، ورنہ تم مجرم قرار پاؤ گے۔