Ayah 11:110وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ : سورة ہود واحد سورت ہے جس میں ایک ہی رسول کا ذکر دو بار ہوا ہے۔ اس سے پہلے یہ ذکر ہوا ہے کہ موسیٰ ؑ کو حکم دیا گیا تھا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جائیں، آیات اور سلطان مبین پیش کریں اور جیسا کہ سورة طٰہٰ میں ذکر ہے، اس سے مطالبہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو عذاب دینا چھوڑ دے اور انھیں آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے۔ اگرچہ اس کے ساتھ توحید و رسالت کی دعوت بھی تھی، مگر وہ مسلمان ہی نہیں ہوا کہ اس کے لیے مفصل احکام نازل ہوتے۔ اس وقت تمام احکام زبانی تھے، تورات نازل نہیں ہوئی تھی، اس لیے ساتھ ہی اس کا انجام ذکر کردیا : (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ) [ ہود : 98 ] یعنی وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے چلتا ہوا انھیں جہنم میں لے جائے گا۔
موسیٰ ؑ کی دوسری بعثت بنی اسرائیل کے لیے تھی۔ چناچہ آزادی حاصل ہونے اور سمندر سے بخیریت نکل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے طور پر چالیس راتوں کا اعتکاف کروایا اور اس کے بعد انھیں تورات عطا فرمائی۔ اب موسیٰ ؑ کے ساتھ فرعون یا اس کے سردار نہیں تھے، ان کے ساتھ بنی اسرائیل تھے یا فرعون کی قوم میں سے مصر سے آنے والے چند نوجوان۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ) کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) عطا فرمائی، مگر موسیٰ ؑ کی زندگی میں اور اس کے بعد اس میں اختلاف کیا گیا۔ کسی نے تسلیم کیا، کسی نے انکار کردیا، یا کسی نے کچھ احکام مان لیے کچھ نہیں، حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے موسیٰ ؑ کے حکم پر ارض مقدس (شام) کے حصول کے لیے جہاد پر نکلنے سے بھی صاف انکار کردیا اور کہہ دیا کہ جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ دیکھیے سورة مائدہ (24) پھر موسیٰ ؑ کی وفات کے بعد ان پر بہت سے دور آئے، کبھی غالب رہے، مثلاً یوشع بن نون ؑ کا دور، داؤدو سلیمان ؑ کا دور، کبھی مغلوب رہے، پھر آہستہ آہستہ انھوں نے اللہ کی کتاب میں ایسا اختلاف کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق بہتر (72) گروہوں میں بٹ گئے۔ انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب اللہ کے معانی میں تحریف کی، غلط تاویلیں کیں، معانی بدلے، پھر الفاظ میں بھی تحریف کردی، جیسا کہ فرمایا : (يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ) [ المائدۃ : 13 ] ”وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں۔“ پھر اپنے احبارو رہبان (علماء و درویش) کو اللہ تعالیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا۔ ان کی فقہ اور ان کے اقوال و فتاویٰ کو یہ درجہ دیا کہ وہ حرام کو حلال کہتے تو حلال سمجھ لیتے، حلال کو حرام کہہ دیتے تو حرام سمجھ لیتے، فرمایا : (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ) [ التوبۃ : 31 ] ”انھوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔“ ان کے دنیا پرست علماء اللہ کی کتاب لوگوں کو سناتے ہوئے زبانوں کو ایسا پیچ دیتے کہ لوگ سمجھیں یہ اللہ ہی کی کتاب سنا رہے ہیں، حالانکہ وہ اللہ کی کتاب نہ ہوتی، پھر صاف دعویٰ کردیتے کہ یہ اللہ کی طرف سے شرع کا حکم ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا، فرمایا : (وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَمَا ھُوَ مِنَ الْكِتٰبِ ۚ وَيَقُوْلُوْنَ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَمَا ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَيَـقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ) [ آل عمران : 78 ] ”اور بیشک ان میں سے یقیناً کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب (پڑھنے) کے ساتھ اپنی زبانیں مروڑتے ہیں، تاکہ تم اسے کتاب میں سے سمجھو، حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں اور اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔“ پھر کچھ ایسے بدنصیب تھے جو اپنے ہاتھوں سے فتوے لکھ کر کہتے یہ اللہ کا حکم ہے، حالانکہ وہ سب کچھ انھوں نے اپنی کسی دنیوی خواہش کو پورا کرنے کے لیے لکھا ہوتا، اللہ کا حکم ہرگز نہ ہوتا اور جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھ دیتے، فرمایا : (فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ ۤ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا ۭ فَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ) [ البقرۃ : 79 ] ”پس ان لوگوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ تھوڑی قیمت حاصل کریں۔ پس ان کے لیے بڑی ہلاکت اس کی وجہ سے ہے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا اور ان کے لیے بڑی ہلاکت اس کی وجہ سے ہے جو وہ کماتے ہیں۔“
ہاں کچھ لوگ صراط مستقیم پر قائم رہے۔ یہ وہ تھے جو موسیٰ ؑ کی کتاب اور سنت پر کسی تبدیلی یا تحریف کے بغیر قائم رہے۔ یہ نجات پانے والے تھے، مگر ان کے بہت سے لوگ اللہ کے احکام کے نافرمان ہوگئے اور اوپر مذکور ہیرا پھیریاں کرنے والے بن گئے، یا ایسی ہیرا پھیریاں کرنے والوں کے پیروکار بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ) [ المائدۃ : 66 ] ”ان میں سے ایک جماعت درمیانے راستے والی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ، برا ہے جو کر رہے ہیں۔“ اس وقت یہ سارا نقشہ آنکھوں سے دیکھنا چاہیں تو ہماری امت مسلمہ میں دیکھ سکتے ہیں۔
اوپر اہل سعادت اور اہل شقاوت کا حال بیان کرنے کے بعد آخر میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر آج یہ لوگ آپ پر نازل شدہ کتاب قرآن کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں تو آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے تورات کے ساتھ بھی لوگ یہی معاملہ کرچکے ہیں۔
وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ۔۔ : موسیٰ ؑ سے پہلے جہاد کا حکم نہ تھا، اس لیے رسول کی نافرمانی پر آسمان سے عذاب اتر آتا تھا۔ فرعون کے غرق ہونے کے بعد جہاد کا حکم ہوا، اب یا تو کفار کو مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دیا جائے گا، جیسے فرمایا : (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ) [ التوبۃ : 14 ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ چناچہ یوشع بن نون، طالوت، داؤد اور سلیمان وغیرہم کے جہاد اس بات کی دلیل ہیں۔ اگر مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب نہ ہوا تو پھر آخرت کو ہوگا۔ اگر یہ بات طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان پر پہلی قوموں کی طرح عذاب آچکا ہوتا۔ ہاں محدود پیمانے پر اللہ تعالیٰ کی سزا کا تازیانہ اب بھی برس سکتا ہے، جیسا کہ ”اصحاب سبت“ پر برسا اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ہماری امت میں بھی ایسے واقعات پیش آئیں گے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ دنیا میں سچ اور جھوٹ صاف نہ ہو۔“ (موضح)
وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ : بعض مفسرین نے اس کی تفسیر کی ہے کہ موسیٰ ؑ کی قوم تورات کے بارے میں ایک بےچین رکھنے والے شک میں مبتلا ہے، نہ اسے اس کے سچا ہونے کا یقین ہے نہ جھوٹا ہونے کا اور حق کا انکار کرنے والوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ ان کا دل اسے سچا مانتا ہے، مگر دنیاوی خواہشات اسے ماننے کی اجازت نہیں دیتیں، اسی تذبذب میں کفر ہی پر دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ بعض نے یہ تفسیر کی کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے ایمان نہ لانے والے قرآن کے متعلق بےچین رکھنے والے شک میں مبتلا ہیں۔ مگر پہلی تفسیر زیادہ درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ذکر موسیٰ ؑ ، تورات اور ان کی قوم کا ہو رہا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 11:111وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ۔۔ :”كُلًّا“ میں تنوین عوض کی ہے، یعنی اس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اصل میں تھا ”کُلُّھُمْ“ یا ”کُلُّ ھٰؤُلَاءِ“ (یہ سب لوگ) ”لَمَّا“ کا معنی ”جب“ ہے، یہ حرف شرط ہے جس کی شرط محذوف ہے۔ ”لَيُوَفِّيَنَّهُمْ“ اس کی جزا ہے۔ وہ محذوف شرط ”لَمَّا“ کے معنی کے مطابق نکالی جائے گی، یعنی ”لَمَّا جَاءَ أَجَلُھُمْ“ یعنی بیشک یہ سب لوگ (جب ان کا وقت آئے گا) تو یقیناً انھیں ان کا رب ان کے اعمال کا ضرور پورا پورا بدلہ دے گا۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کے منکر تھے، اس لیے اس جملے میں کئی طرح سے تاکید آئی ہے۔ ”اِنَّ“ ، لام تاکید اور نون ثقیلہ۔ ”لَّمَّا“ کا مابعد حذف کرنے سے بھی ایک ہیبت پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ خود لفظ ”لَّمَّا“ میں وقت کا مفہوم شامل ہے، یعنی جب وہ وقت آئے گا۔ (”اِنَّ كُلًّا لَّمَّا“ کی یہ سب سے واضح اور آسان توجیہ ہے) دیکھیے تفسیر الشعراوی۔ تفسیر نسفی میں ہے : ”قَالَ صَاحِبُ الإِْیْجَازِ ”لَمَّا“ فِیْہِ مَعْنَی الظَّرْفِ وَقَدْ دَخَلَ فِی الْکَلاَمِ اخْتِصَارٌ کَأَنَّہُ قِیْلَ ”وَإِنَّ کُلاًّ لَّمَّا بُعِثُوْا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ“ مطلب وہی ہے جو اوپر گزرا، البتہ انھوں نے ”لَمَّا جَاءَ أَجَلُھُمْ“ کے بجائے ”لَمَّا بُعِثُوْا“ محذوف نکالا ہے۔
اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ : اس میں اعمال کی جزا پوری پوری دینے کی وجہ بیان کی ہے کہ وہ ان کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، اس لیے عمل نیک ہو یا بد اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
Ayah 11:112فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكًَ : ”فَاسْتَقِمْ“ میں سین اور تاء کا اضافہ یا تو طلب کے لیے ہے، معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح سیدھا اور قائم رہنے کی درخواست کرتا رہ جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے اور یہ اضافہ مبالغے اور تاکید کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ قرطبی نے فرمایا، استقامت دائیں یا بائیں طرف جائے بغیر ایک طرف کو سیدھے چلتے چلے جانا ہے۔ یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے۔ پہلا معنی بھی درست ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ہی ہم ہر رکعت میں صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔ استقامت کا معنی باطل کے دونوں کناروں افراط اور تفریط (زیادتی اور کمی) سے بچ کر ان کے عین درمیان سیدھا رہنا ہے۔ یہ نہایت مشکل کام ہے۔ پہلے تو ہر وقت اس کا خیال رکھنا ہی مشکل ہے کہ عین صحیح راستہ کیا ہے ؟ پھر اس پر قائم رہنا اس سے بھی مشکل ہے۔ رازی نے اسے ایک مثال سے سمجھایا ہے کہ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان ایک جگہ ہے۔ اس کا معلوم کرنا اور ہر وقت اس کا خیال رکھنا کس قدر مشکل ہوگا۔ اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا تھا : (شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ) [ ترمذی : 3297] ”مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا۔“ اس کا سبب انبیاء ؑ کی قوموں پر عذاب کے واقعات کے بجائے یہ حکم ہے : (فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ)
”فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ“ سے معلوم ہوا کہ سیدھا راستہ جس پر خوب ثابت رہنے کا حکم ہے، صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی طرف وحی فرمایا۔ یہاں استقامت کا حکم نبی ﷺ اور ان تمام لوگوں کو ہے جو کفر سے توبہ کر کے آپ کے ساتھ اہل ایمان میں داخل ہوئے، مگر سب کو کس چیز پر استقامت کا حکم ہے، صرف اس پر جسے ”فاستقم“ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یعنی صرف اس پر جس کا حکم نبی ﷺ کو دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ کی طرف سے امر صرف نبی ﷺ کو ہوا ہے، آپ کے سوا ابوبکر ؓ سے لے کر امت کے آخری شخص تک ایک بھی شخص ایسا نہیں جو مامور من اللہ ہو اور جسے وحی کے ذریعے سے حکم ملتا ہو۔ آپ ﷺ کے سوا ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کی رائے اللہ کا حکم یا دین ہو، جس پر امت کو قائم رہنے کا حکم ہو۔ اس سے تمام تقلیدی گروہوں کا استقامت سے ہٹ جانا ثابت ہوا۔ نجات چاہتے ہیں تو تمام لوگوں کی رائے، قیاس اور تقلیدی گروہ بندی چھوڑ کر صرف کتاب و سنت کو لازم پکڑنا ہوگا۔
استقامت (اللہ کے حکم پر پوری طرح قائم رہنا) ایک نہایت جامع لفظ ہے، جس میں پوری شریعت آجاتی ہے۔ عقائد میں اللہ کی صفات پر اس طرح ایمان جس طرح اس نے حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نہ کسی صفت کا انکار کرنا (تعطیل) ، نہ اسے مخلوق کی صفات جیسا سمجھنا (تشبیہ) بلکہ جیسا اللہ کی شان کے لائق ہے۔ اعمال میں نہ کسی حکم پر عمل چھوڑنا (نافرمانی) اور نہ آپ ﷺ سے آگے بڑھنا یا آپ سے الگ راستہ نکالنا (رہبانیت اور بدعت)۔ اخلاق میں، مثلاً نہ بخل کرنا نہ بےجا خرچ کرنا۔ غرض ہر چیز میں عین نبی ﷺ کا صحیح راستہ معلوم کرکے اس پر قدم بہ قدم چلنا استقامت ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ ! آپ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتلائیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے ؟ فرمایا : (قُلْ آمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ) ”کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر خوب ثابت قدم رہ۔“ [ مسلم، الإیمان، باب جامع أوصاف الإسلام : 38 ] استقامت کے اجر اور فضیلت کے لیے دیکھیے سورة حٰم السجدہ (30) اور احقاف (13)۔
وَلَا تَطْغَوْا : ”طَغٰی یَطْغَی طُغْیَانًا“ حد سے بڑھنا، یعنی شریعت کی اطاعت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جو حدیں مقرر کردی ہیں اپنے آپ کو انھی کے اندر رکھو، ان سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کرو۔ زندگی کے کسی معاملے میں بھی ان سے تجاوز حرام ہے۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ تین آدمی نبی ﷺ کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے۔ وہ نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھ رہے تھے، جب انھیں بتایا گیا تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے : (وَأَیْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَدْ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ أَحَدُھُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّيْ أُصَلِّي اللَّیْلَ أَبَدًا، وَ قَالَ آخَرُ أَنَا أَصُوْمُ الدَّھْرَ وَلاَ أُفْطِرُ ، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ إِلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَ کَذَا ؟ أَمَا وَاللّٰہِ ! إِنِّيْ لَأَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَتْقَاکُمْ لَہٗ لٰکِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ ، وَ أُصَلِّيْ وَأَرْقُدُ ، وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ) [ بخاری، النکاح، باب الترغیب في النکاح : 5063 ] ”ہماری رسول اللہ ﷺ سے کیا نسبت ؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پہلے پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں۔“ ان میں سے ایک نے کہا : ”میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔“ دوسرے نے کہا : ”میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔“ تیسرے نے کہا : ”میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا۔“ جب رسول اللہ ﷺ آئے تو آپ نے فرمایا : ”تم لوگوں نے اس اس طرح کہا ہے ؟ یاد رکھو، اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ کی خشیت رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں، لیکن میں تو روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو شخص میری سنت (میرے طریقے) سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“ رہے روزانہ ایک ہزار رکعتیں پڑھنے والے، چالیس سال تک عشاء اور فجر ایک وضو سے پڑھنے والے، بارہ سال بھوکے جنگل میں عبادت کرنے والے حضرات، تو یا تو صاف ان پر جھوٹ باندھا گیا ہے، کیونکہ یہ انسان کے بس کی بات ہی نہیں، یا پھر وہ اسی طغیانی کا شکار تھے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔ (نعوذ باللہ)
اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ : یعنی استقامت اختیار کرو یا طغیانی، اللہ تعالیٰ تمہارا عمل سب دیکھ رہا ہے۔
Ayah 11:113وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا :”رَکِنَ“ (ن، ع، ف) مائل ہونا۔ 1 ”الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا“ اور ”اَلظَّالِمِیْنَ“ میں فرق ہے۔ ”الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا“ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، خواہ کبھی کبھار کیا ہو اور ”اَلظَّالِمِیْنَ“ ظلم کرنے والے، جن کی روش ہی یہ ہے۔ جب پہلی قسم کے لوگوں کی طرف مائل ہونے سے منع فرمایا تو دوسری قسم کی طرف مائل ہونے کا آپ خود اندازہ کرلیں۔ 2 جب ان کی طرف مائل ہونا منع ہے جنھوں نے ظلم کیا تو خود کسی پر ظلم کرنا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کس قدر قبیح ہوگا۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یَا عِبَادِيْ ! إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِيْ وَ جَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوْا) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : 2577، عن أبي ذر ؓ ] ”اے میرے بندو ! میں نے کسی پر ظلم کرنا خود اپنے آپ پر حرام کر رکھا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کردیا، سو تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔“ اور نبی ﷺ نے فرمایا : (اِتَّقُوْا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : 2578، عن جابر بن عبداللہ ] ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن کئی اندھیرے ہوگا۔“ 3 ظلم میں شرک اور دوسرے تمام ظلم شامل ہیں، یعنی جو لوگ ظلم کی طرف مائل ہوں ان سے کوئی دوستی اور محبت نہ رکھو، چاہے وہ کافر ہوں یا نام کے مسلمان۔ (شوکانی) 4 ان کی طرف مائل ہونے میں ان کے ساتھ محبت، ان کے ساتھ مجلس آرائی، ان کے پاس بیٹھنا، انھیں ملنے کے لیے جانا، ان کے ظلم پر چپ رہنا، ان کے کاموں پر خوش ہونا، ان جیسا بننا، ان کا فیشن اختیار کرنا، ان کا ذکر عزت اور تعظیم کے ساتھ کرنا، سب کچھ شامل ہے۔ ”رُکُوْنٌ“ (مائل ہونے) کا کم از کم مرتبہ پاس رہ کر چپ رہنا اور آخری مرتبہ ظلم پر ان کی حوصلہ افزائی اور مدد ہے۔
فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ۔۔ : ”َلَا تَرْكَنُوْٓا“ نہی کے جواب میں فاء نے ”تَمَسَّ“ مضارع کو نصب دیا ہے۔ اس آیت سے ظالم حکمرانوں، سرداروں اور چودھریوں سے ربط وتعلق کی ممانعت نکلتی ہے۔ ہاں ان کے شر سے بچنے کے لیے یا مصلحت عامہ یا دعوت دین یا دینی ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر ان سے میل جول رکھے تو اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ دل میں ان کے ظلم کی وجہ سے نفرت رکھے، جیسا کہ سورة آل عمران (28) اور بعض احادیث میں آیا ہے۔ غرض ظلم کرنے والوں سے دلی محبت یا میلان کسی صورت جائز نہیں، البتہ مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس جانا، نصیحت کرنا، ان کے ظلم پر مجبوراً خاموش رہنا یا دین کی مصلحت اور حق کی دعوت و تاکید کے لیے ربط وتعلق رکھنا الگ بات ہے۔
لَا تُنْصَرُوْنَ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم اگر ظالم اور بدکار ہو تو اس کی اطاعت اسی وقت ہے جب وہ ظلم یا شریعت کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ اگر وہ شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت جائز نہیں، الا یہ کہ اس کے ضرر سے بچنے کے لیے بظاہر اطاعت کا اظہار کرے اور دل میں برا سمجھے، جیسا کہ اوپر سورة آل عمران کے حوالے سے گزرا۔ حاکم کی اطاعت اس وقت فرض ہے : 1 جب وہ مسلمان ہو۔ دیکھیے سورة نساء (59)۔ 2 مسلمانوں میں اقامت صلوۃ جاری رکھے۔ دیکھیے مسلم (1855)۔ 3 اس سے کھلم کھلا کفر کا ظہور نہ ہو۔ دیکھیے بخاری (7056)۔ 4 اور وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ دیکھیے بخاری (7144)۔ ”وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ“ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظالم حکمرانوں کی حمایت اور ان کی طرف میلان کا نتیجہ آخرت کے عذاب کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی و حمایت) اور اس کی نصرت (مدد) سے محرومی بھی ہے۔ آج یہ حقیقت ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
Ayah 11:114اس آیت اور اس کے بعد والی آیات میں استقامت کا اور طغیانی اور ظالموں کی طرف میلان سے اجتناب کا طریقہ بتایا ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق جو نماز سے حاصل ہوتا ہے اور صبر کرنا اور برائی اور فساد فی الارض سے منع کرتے رہنا۔
وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ : اقامت کا معنی سیدھا کرنا، مراد نماز کو اس کے اوقات پر سنت کے مطابق پورے ارکان اور خشوع و اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے مالک بن حویرث ؓ سے فرمایا : (صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ أُصَلِّیْ) [ بخاری، الأذان، باب الأذان للمسافرین إذا کانوا۔۔ : 631 ] ”نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔“ قرطبی نے فرمایا کہ مفسرین میں سے کسی کا اختلاف نہیں کہ یہاں اس سے مراد فرض نماز ہے۔
ایمان کے بعد سب سے زیادہ زور اقامت صلاۃ پر دیا گیا ہے اور اسے کفر و ایمان کے درمیان فرق قرار دیا گیا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ دفعہ مسجد میں جا کر اللہ کے سامنے حاضری میں ارکان اسلام کا کچھ نہ کچھ حصہ آجاتا ہے۔ کلمہ اسلام تشہد میں موجود ہے، پوری نماز کے دوران میں کھانے پینے سے بلکہ دنیا کے ہر کام سے پرہیز روزے کا عکس ہے، اپنے کاروبار کو چھوڑ کر آنا اس شخص کے بس کی بات نہیں جو زکوٰۃ نہ دے سکتا ہو اور قبلے کی طرف رخ حج کی یاد دلاتا ہے۔
طَرَفَيِ النَّهَارِ : دن کے دو کنارے۔ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نہار (دن) ہوتا ہے، اس میں تین نمازیں آجاتی ہیں۔ زوال سے پہلے والے کنارے میں فجر اور زوال کے بعد والے میں ظہر اور عصر۔ ”زُلَفًا“ ”زُلْفَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”غُرْفَۃٌ“ کی جمع ”غُرَفٌ“ ہے، اس سے مراد دن کے آخری حصے کے قریب کے اوقات ہیں، کیونکہ ”اِزْلَافٌ“ کا معنی قرب ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ) [ الشعراء : 90 ] ”اور جنت متقی لوگوں کے لیے قریب لائی جائے گی۔“ اور فرمایا : (مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى) [ الزمر : 3 ] ”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔“ اس سے مراد مغرب اور عشاء ہیں، کیونکہ وہ دن کے قریب ہوتی ہیں۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں نمازیں آجاتی ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر ان آیات کا نزول معراج کے بعد ہوا ہو تو اجمالی طور پر ان میں پانچوں نمازیں آجاتی ہیں، البتہ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ یہ آیات معراج میں پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہوں اور ان آیات سے دن کے دونوں کنارے سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور غروب ہونے سے پہلے (عصر) کی نماز ہی فرض ہو اور رات کی گھڑیوں سے مراد تہجد ہو جو پہلے آپ ﷺ پر اور تمام امت پر فرض تھی، پھر اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ اس کی تاکید اور فضیلت باقی رہی۔ اصل یہ ہے کہ تفصیلی طور پر نماز پنج گانہ کے اوقات کی تعیین اور تفصیل حدیث ہی سے ملتی ہے اور قرآن مجید پر عمل حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ منکرین حدیث میں سے پہلے کچھ لوگ قرآن میں تین نمازیں مانتے تھے، پھر دوپر آگئے، بعد والے ایک پر آگئے اور پرویز نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے لے کر اب تک متواتر احادیث اور متواتر عمل کے ساتھ آنے والے نماز کے طریقے کا سرے ہی سے انکار کردیا اور حقیقت یہی ہے کہ صرف قرآن سے نہ نماز کے مکمل اوقات معلوم ہوسکتے ہیں، نہ اس کے ارکان، نہ ارکان کی ترتیب، نہ رکعات کی تعداد اور نہ شروع یا ختم کرنے کا طریقہ، غرض حدیث ترک کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن پر عمل سے جان چھوٹ جائے اور یہی ان بدنصیب لوگوں کی دلی خواہش ہے جو ان شاء اللہ کبھی پوری نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔
اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ : پچھلے جملے میں اللہ کے حکم پر استقامت میں اور ظالموں کی طرف میلان سے محفوظ رہنے میں مدد کرنے والی سب سے مضبوط چیز بتائی تھی کہ فلاں فلاں وقت میں نماز قائم کرو، اب اس کی وجہ بتائی۔ عموماً ”اِن“ تعلیل یعنی وجہ بتانے کے لیے آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نیکی گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَأَتْبِعِ السَّیِّءَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا) [ مسند أحمد : 5؍153، ح : 21412۔ ترمذی : 1987۔ صحیح الجامع : 97، وحسنہ الألبانی ] ”برائی کے بعد ساتھ ہی نیکی کر تو یہ اسے مٹا دے گی۔“ نماز بھی ایک ایسی ہی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی اجنبی عورت کا بوسہ لیا، پھر (ازراہ ندامت) نبی ﷺ کے پاس آ کر سوال کرنے لگا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، (اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ) تو اس آدمی نے کہا : ”یا رسول اللہ ! یہ صرف میرے لیے ہے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (لِجَمِیْعِ أُمَّتِيْ کُلِّھِمْ) ”یہ میری ساری امت کے لیے ہے۔“
[ بخاری، مواقیت الصلٰوۃ، باب الصلاۃ کفارۃ : 526 ]
شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں :”نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح : 1 جو نیکیاں کرے اس کی برائیاں معاف ہوں۔ 2 اور جو نیکیاں پکڑے اس سے خو برائی کی چھوٹے۔ 3 اور جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو وہاں ہدایت آئے اور گمراہی مٹے، لیکن تینوں جگہ وزن غالب چاہیے، جتنا میل اتنا صابن۔“ (موضح) ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَھْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُوْلُ ذٰلِکَ یُبْقِيْ مِنْ دَرَنِہِ ؟ قَالُوْا لاَ یُبْقِيْ مِنْ دَرَنِہِ شَیْءًا، قَالَ فَذٰلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُو اللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا) [ بخاری، مواقیت الصلٰوۃ، باب الصلوات الخمس کفارۃ : 528 ] ”اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ دفعہ غسل کرے تو تمہارا کیا کہنا ہے کہ یہ اس کی میل میں سے کچھ باقی چھوڑے گا ؟“ انھوں نے کہا : ”وہ اس کی میل میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑے گا۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“
Ayah 11:115وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ۔۔ : نماز کے ساتھ دوسری چیز جو استقامت علی الحق میں اور ظلم کی طرف میلان سے روکنے میں بیحد مددگار ہے وہ صبر ہے، فرمایا : (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ) [ البقرۃ : 45 ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ مفردات راغب میں ہے : ”صبر کا معنی کسی کو تنگی میں روک کر رکھنا ہے، کہا جاتا ہے : ”صَبَرْتُ الدَّابَّۃَ“ ”میں نے جانور کو چارے کے بغیرباندھ رکھا“ اور ”صَبَرْتُ فُلاَنًا“ ”میں نے اس کا ایسا پیچھا کیا جس سے وہ کسی طرح نکل نہ سکے۔“ صبر نفس کو اس چیز پر روک کر اور باندھ کر رکھتا ہے جس کا تقاضا عقل اور شرع کرتی ہیں، یا اس چیز سے باندھ کر اور روک کر رکھتا ہے جس سے روکنے کا عقل اور شرع تقاضا کرتی ہیں۔“ اہل علم عموماً صبر کی تین قسمیں بتاتے ہیں : 1 اپنے آپ کو نیکی پر باندھ کر اور ہمیشہ کے لیے اس کا پابند بنا کر رکھنا۔ 2 اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ کی نافرمانی سے روک کر رکھنا۔ 3 مصیبت پر جزع فزع کے بجائے اللہ کی تقدیر پر راضی رہنے کا پابند بنانا۔ استقامت کے لیے صبر کی ضرورت واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زیر تفسیر آیت کی طرح قرآن میں بہت سی جگہوں پر صبر کا ذکر فرمایا، حتیٰ کہ فرمایا : (اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ) [ الزمر : 10 ] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔“
Ayah 11:116فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ۔۔ : ”لَوْ لَا“ کے دو معانی ہیں، پہلا یہ کہ ”اگر یہ نہ ہوتا“ مثلاً ”لَوْ لَا عَلِیٌّ لَھَلَکَ عُمَرُ“ ”اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتے۔“ دوسرا معنی ”ھَلاَّ“ یعنی ”ایسا کیوں نہ ہوا“ یہ ترغیب کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایسا ہونا چاہیے تھا، یہاں یہی معنی مراد ہے۔ ”قَرْنٌ“ ایک نسل کے لوگ۔ یہ لفظ عموماً ایک صدی پر بولا جاتا ہے۔ ”اُولُوْا بَقِيَّةٍ“ اچھی عادات و خصائل اور عقل والے لوگ۔ اصل میں ”بَقِيَّةٍ“ ان نفیس اور منتخب چیزوں کو کہا جاتا ہے جنھیں انسان اپنے فائدے کے لیے بچا بچا کر باقی رکھتا ہے، جیسے کہتے ہیں : ”بَقِیَّۃُ السَّلَفِ“ یعنی پہلے لوگوں میں سے بہترین آدمی۔
پہلی تمام قوموں کے واقعات کے بعد اب خلاصہ بیان ہو رہا ہے کہ تم سے پہلے ان لوگوں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل فساد کو فساد فی الارض سے روکتے، یعنی ایسے لوگوں کی موجودگی نہایت ضروری تھی۔ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی مگر نہایت تھوڑے، جن کی کچھ پیش نہ چلی، چناچہ جب دوسروں پر عذاب آیا تو ان قلیل لوگوں کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ اس میں مسلمانوں کو بھی تنبیہ ہے کہ جب تک ان میں ایسے اصحاب خیر موجود رہیں گے جو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور ایسے اصحاب خیر بالکل تھوڑے اور بےاثر نہیں ہوں گے تو اس وقت تک عذاب نہیں آئے گا۔ پھر پہلوں کی ہلاکت کا سبب بیان فرمایا کہ وہ ان نعمتوں اور خوش حالیوں میں پڑ کر اپنی خسیس خواہشات کے پیچھے ایسے لگے کہ وہ عذاب کے قابل مجرم بن گئے۔
Ayah 11:117وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ۔۔ : یعنی اگر وہ لوگ مجرم ہونے کے بجائے مصلح ہوتے، پھر انھیں عذاب کے ساتھ ہلاک کیا جاتا تو یہ صاف ظلم تھا اور اللہ تعالیٰ کبھی ایسا ظلم نہیں کرتا کہ کسی بستی والے لوگ فساد نہ کریں بلکہ اصلاح کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیج دے، کیونکہ یہ ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ کسی صورت بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ بعض اہل علم نے ظلم سے مراد شرک لے کر یہ معنی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بستی کو صرف شرک کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا، جب کہ اس کے رہنے والے زمین میں فساد نہ کرتے ہوں، بلکہ آپس کے تعلقات میں اصلاح رکھتے ہوں۔ ہلاک اسی وقت کرتا ہے جب وہ حد سے بڑھ کر زمین میں فساد پھیلانے لگیں، مگر پہلا معنی زیادہ درست ہے۔
Ayahs 11:118–121وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً : یعنی اے میرے رسول ! تیری خواہش تو یہ ہے کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، ایک بھی کافر نہ رہے (دیکھیے شعراء : 3) اور یہ بات تیرے رب پر کچھ مشکل بھی نہیں، جب اس نے جن و انس کے سوا باقی پوری مخلوق کو اپنی اطاعت کا پابند بنا رکھا ہے تو وہ جن و انس کو بھی ایک ہی امت بنا سکتا تھا کہ کوئی کفر کر ہی نہ سکتا، فرمایا : (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ) [ یونس : 99 ] مگر تیرے رب کی حکمت کا تقاضا کچھ اور تھا، اس لیے اس نے کسی کو ایمان پر مجبور نہیں کیا، سمع و بصر دے کر اور راستہ بتا کر اختیار دے دیا کہ حق و باطل میں سے جو چاہو اختیار کرو۔ اس لیے یہ سب لوگ کبھی ایمان پر متفق نہیں ہوسکتے، بلکہ ان میں ہمیشہ اختلاف رہے گا، کوئی مومن ہے کوئی کافر، کوئی فرماں بردار کوئی نافرمان، فرمایا : (وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ) ”اور اس نے انھیں اسی (آزمائش کے) لیے پیدا فرمایا ہے۔“ مائدہ میں ہے : (وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ) [ المائدۃ : 48 ] ”اور لیکن تاکہ وہ تمہیں اس میں آزمائے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔“ اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی طے کردی ہے کہ میں جہنم کو اس آزمائش میں ناکام ہونے والے جن و انس سے بھروں گا اور اس بات کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں کہ آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو اپنی جنت سے نوازوں گا۔
وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ : معاویہ بن ابو سفیان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا : (أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَکُمْ مِنْ أَھْلِ الْکِتَابِ افْتَرَقُوْا عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً ، وَإِنَّ ھٰذِہِ الْمِلَّۃَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلاَثٍ وَ سَبْعِیْنَ ، ثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ وَوَاحِدَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ و ھِيَ الْجَمَاعَۃُ) زَادَ ابْنُ یَحْیَی وَعَمْرٌو فِيْ حَدِیْثِھِمَا : (وَإِنَّہٗ سَیَخْرُجُ فِيْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَجَارَی بِھِمْ تِلْکَ الْأَھْوَاءُ کَما یَتَجَارَی الْکَلَبُ لِصَاحِبِہِ ، وَقَالَ عَمْرٌو : الْکَلَبُ بِصَاحِبِہِ لاَ یَبْقَی مِنْہٗ عِرْقٌ وَلاَ مَفْصِلٌ إِلاَّ دَخَلَہٗ)[ أبوداوٗد، السنۃ، باب شرح السنۃ : 4597۔ السلسلۃ الصحیحۃ : 1؍404، ح 204 ] ”یاد رکھو ! تم سے پہلے اہل کتاب بہتر (72) ملتوں میں جدا جدا ہوگئے اور یہ ملت تہتر (73) میں جدا جدا ہوجائے گی۔ بہتر (72) آگ میں اور ایک جنت میں ہوگا اور وہ ”الجماعۃ“ ہے۔“ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایتوں میں مزید کہا : ”میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں یہ خواہشات و بدعات اس طرح رگ رگ میں جاری ہوجائیں گی جیسے باؤلے پن کی بیماری، اس بیماری کے مریض کے رگ و ریشے میں جاری ہوجاتی ہے۔“
3 اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ کسی امت کا اتفاق اور اجتماع رحمت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور صاف ظاہر ہے کہ امت مسلمہ صرف اسی چیز پر جمع ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی اور وہ کتاب وسنت ہے۔ یہی طریق مستقیم ہے اور اسی پر چلنے والے ”الجماعۃ“ ہیں، باقی سب فرقے بعد میں اس سیدھے راستے سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئے۔
3 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عام لوگوں میں مشہور روایت ”اِخْتَلاَفُ أُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ“ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے، یہ نبی کریم ﷺ پر صاف جھوٹ ہے۔ حافظ ابن حزم ؓ نے اسے موضوع ثابت کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات یہ بھی لکھی کہ اگر اسے صحیح مانا جائے تو پھر امت کا اتفاق زحمت ہوگا، کیونکہ اختلاف رحمت ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر اپنے رحم کا ذکر کیا ہے جو اختلاف کرنے والے نہیں ہوں گے۔ اس لیے سب فرقے چھوڑ کر کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لینا ہی راہ نجات ہے۔
Ayah 11:122وَانْتَظِرُوْا ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ : یعنی تم بھی اللہ کے حکم کی راہ دیکھتے رہو ہم بھی راہ دیکھ رہے ہیں، یا تم ہمارے انجام کی راہ دیکھتے رہو، ہم تمہارے انجام کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
Ayah 11:123وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ : سب کو اسی کے پاس جانا ہے، پھر وہی ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔