12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الۤرٰ۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔

الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ :”الۗرٰ“ کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ ”الْمُبِيْنِ“ ”أَبَانَ یُبِیْنُ“ باب افعال سے اسم فاعل ہے، لازم بھی آتا ہے، جیسے : (اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ) [ البقرۃ : 168 ] ”بیشک وہ تمہارا کھلا (واضح) دشمن ہے۔“ متعدی بھی، یعنی بیان کرنے والا، واضح کرنے والا۔ ”الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ“ یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے، یا جس کا اللہ کا کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا۔۔ :”اَنْزَلْنٰهُ“ میں ”ہٗ“ ضمیر ”اَلْکِتٰب“ کی طرف جا رہی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کتاب صرف اہل عرب کے لیے ہے دوسروں کے لیے نازل نہیں کی گئی ہے۔ بات یہ ہے کہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری جائے گی وہ کسی ایک ہی انسانی زبان میں ہوگی اور فطری طریقہ یہ ہے کہ یا تو اس کتاب کی زبان سیکھی جائے یا اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے، چناچہ یہی طریقہ قرآن کے بارے میں ملحوظ رکھا گیا۔ اس لیے عربوں سے، جو اس کے اولین مخاطب ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری اپنی زبان میں نازل کی ہے، کسی اور زبان میں نہیں اتاری کہ تم اسے ٹھیک طرح سے سمجھ نہ سکنے کا عذر پیش کرسکو۔ یہ کتاب عربی قرآن ہے، قرآن کا معنی پڑھنا ہے، بمعنی اسم مفعول، یعنی یہ ایسی کتاب ہے جو اتنی پڑھی جانے والی ہے کہ سراسر اس کا وجود ہی پڑھا جانا ہے۔ اس میں عقل والوں کے لیے عبرت کا بڑا سامان ہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ) اس لیے کہ لغت عرب تمام زبانوں سے زیادہ فصیح، سب سے واضح اور وسیع ہے، انسانی نفس میں آنے والے احساسات و جذبات اور مضامین و معانی کو سب سے زیادہ اور بہتر ادا کرنے والی ہے، اس لیے یہ تمام کتابوں سے اشرف (زیادہ بلندی اور شرف رکھنے والی) کتاب ہے۔ یہ کتاب تمام زبانوں سے زیادہ باشرف زبان میں، تمام رسولوں سے زیادہ شرف رکھنے والے رسول پر، تمام فرشتوں سے زیادہ شرف رکھنے والے فرشتے کی سفارت کے ذریعے سے اتری اور زمین کے تمام قطعوں اور علاقوں سے زیادہ باشرف علاقے مکہ میں، سال کے سب سے باشرف مہینے رمضان اور اس کے سب سے باشرف وقت لیلۃ القدر میں اتری۔ سو اس کا باشرف ہونا اور سب کتابوں سے اشرف ہونا ہر لحاظ سے کامل ہے۔“ مختصر سی تفصیل اس کی یہ ہے کہ کئی زبانوں کے حروف تہجی پچاس (50) سے لے کر اسی (80) تک ہیں، جب کہ عربی زبان کے حروف تہجی کل انتیس (29) ہیں، جنھیں سیکھنا آسان ہے۔ سیکھنے میں نہایت آسان ہونے کے باوجود اپنا مقصد اور دل کی بات ادا کرنے کے لیے اس زبان کی وسعت دنیا کی ہر زبان سے زیادہ ہے، مثلاً اکثر زبانوں میں فعل کے صیغوں میں فاعل مذکر یا مؤنث کے لیے الگ الگ الفاظ نہیں ہیں، مثلاً وہ گیا، وہ گئی، دونوں کے لیے فارسی میں ”رفت“ اور انگریزی میں ”ؓ ent“ ہے۔ ان زبانوں میں مذکر و مؤنث کی وضاحت کے لیے الگ الفاظ لانا پڑیں گے، نہ ہی ان زبانوں میں تثنیہ اور جمع کی وضاحت فعل کے لفظ سے ہوتی ہے، اس کے لیے بھی الگ الفاظ کی ضرورت ہے۔ غرض عربی زبان کی خوبیاں ایک مستقل مضمون ہے جس پر اہل علم کی کتابیں موجود ہیں۔ عرب قوم پہاڑوں اور صحراؤں میں رہنے اور ہر وقت تقریباً حالت سفر میں رہنے کی وجہ سے نہایت جفاکش اور خود دار قوم تھی اور وہ ہمیشہ غیروں کی غلامی سے آزاد رہی تھی، اگرچہ ان میں بیشمار خرابیاں اور گمراہیاں موجود تھیں، مثلاً بت پرستی، شرک، ظلم و ستم، باہمی لڑائی، چوری، ڈاکے، جوا، شراب نوشی اور زنا وغیرہ، ان میں عام تھے، اس کے باوجود وہ بہت سی خوبیوں کی حامل بھی تھی، مثلاً غیرت، قبائلی زندگی کی وجہ سے حمیت اور دفاع کا جذبہ، کسی صورت غلامی قبول نہ کرنا، ایفائے عہد، سخاوت، صدق، ان پڑھ ہونے کی وجہ سے کمال درجے کا حافظہ۔ غرض وہ قوم بہت سی خوبیوں کی بھی حامل تھی، اپنی زبان کی خوبی، وسعت اور حسن ادا کی وجہ سے اپنے آپ کو عرب (اپنے مطلب کا واضح اظہار کرنے والے) اور دوسری تمام اقوام کو عجم (گونگے) قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار مصلحتوں کے ساتھ ساتھ ان خوبیوں کی بنا پر بھی تمام اقوام عالم تک اپنا دین پہنچانے کے لیے عربوں کا انتخاب فرمایا۔ کیونکہ آخری نبی کا قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ قرآن مجید اپنی دوسری بیشمار خوبیوں کے ساتھ ادائے مطلب کے حسن میں بھی لاجواب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں اتارا اور چیلنج کردیا کہ اس جیسی کتاب لاؤ، پھر دس سورتیں لانے کا اور آخر میں صرف تین آیات کی چھوٹی سی سورت کی مثال پیش کرنے کا چیلنج کیا، جس کا جواب آج تک نہ عرب دے سکے، نہ عجم اور نہ قیامت تک دے سکیں گے۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں، اس واسطے سے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے اور بیشک تو اس سے پہلے یقینا بیخبر وں سے تھا۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ : ”الْقَصَصِ“ ”قَصَّ یَقُصُّ“ کا مصدر ہے، قصہ کی جمع نہیں۔ (دیکھیے جواب اہل العلم، ص : 1 تا 20) قصہ کی جمع قصص قاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ فرمایا : (نَحْنُ نَقُصُّ) ”ہم بیان کرتے ہیں“ اللہ تعالیٰ جہاں اپنے لیے جمع کا صیغہ لاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام ایک الگ صفت کا تقاضا کرتا ہے، مثلاً بیان کرنا صفت کلام کا تقاضا کرتا ہے، زمین و آسمان بنانا صفت خلق کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی ہے ہی نہیں جس میں تمام صفات کمال موجود ہوں اور وہ اپنے آپ کو ”ہم“ کہنے کا صحیح حق رکھتا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنی اس حیثیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لیے ”ہم“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جہاں وہ واحد کا لفظ استعمال کریں، مثلاً : (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا) [ طٰہٰ : 14 ] وہ اپنی توحید کے اظہار کے لیے ہوتا ہے، کیونکہ اسی کی ذات واحد، احد، لا شریک لہ ہے۔ اس سورت میں چونکہ اللہ کے اپنی مرضی کے ہر کام پر غالب ہونے کا اظہار کرنے والی بہت سی صفات مذکور ہیں، اس لیے ”نَحْنُ“ (ہم) سے بات شروع کی ہے۔ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ : یعنی یہ قرآن وحی کرنے کے ذریعے سے ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ سورة یوسف قرآن کی تمام سورتوں سے احسن ہے، بلکہ قرآن سارا ہی احسن القصص، یعنی تمام بیانوں سے بہتر بیان ہے، جس میں یہ سورت بھی شامل ہے۔ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ : یہ ”اِنْ“ دراصل ”اِنَّکَ“ تھا، تخفیف کے لیے کاف کو حذف کردیا اور ”اِنَّ“ کو ”اِنْ“ کردیا۔ اس کی دلیل ”لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ“ پر آنے والا لام ہے اور یہ عربی کا مسلمہ قاعدہ ہے، اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ ”اِنْ“ اور لام کے ساتھ تاکید اس لیے کی ہے کہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ آپ یہ سب کچھ پہلے ہی جانتے تھے، جیسا کہ ہمارے کئی نادان بھائی کہتے ہیں، بلکہ دوسری جگہ فرمایا : (تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا) [ ھود : 49 ] ”یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم۔“ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ : یعنی آپ کو اس سے پہلے اس کی کچھ خبر نہ تھی، آپ اُمّی تھے، نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ ایسے شخص پر ایسی بےمثال کتاب کا نزول کہ بڑے بڑے باخبر لوگ اس اُمّی کے شاگرد بن جائیں اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے اور آپ کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہ تھے، جتنی وحی ہوتی وہ معلوم ہوجاتا، باقی خبر عالم الغیب کے پاس رہتی جو کسی کے بتائے بغیر سب کچھ جاننے والا ہے، عالم الغیب کہتے ہی ایسی ہستی کو ہیں اور وہ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ ! بیشک میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے انھیں دیکھا کہ مجھے سجدہ کرنے والے ہیں۔

اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ : یوسف ؑ کے باپ یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے اور یہ چاروں نبی تھے، اس لیے نبی ﷺ نے یوسف ؑ کے متعلق فرمایا : (اَلْکَرِیْمُ ابْنُ الْکَرِیْمِ ابْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاھِیْمَ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (ویتم نعمتہ علیک۔۔) : 4688، عن ابن عمر ] ”کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔“ يٰٓاَبَتِ : یہ اصل میں ”یَا أَبِیْ“ تھا ”اے میرے باپ !“ یاء حذف کرکے اس کی جگہ تاء تانیث لائی گئی اور باء کا کسرہ اس کی طرف منتقل کردیا۔ یہ اظہار محبت کا ایک طریقہ ہے، جیسے اردو میں ”ابا“ کو ”ابو“ کہہ دیتے ہیں۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تیرے لیے تدبیر کریں گے، کوئی بری تدبیر۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ۔۔ : یعنی اس کی تعبیر ظاہر ہے، سنتے ہی سمجھ لیں گے۔ گیارہ بھائی تھے اور ایک باپ اور ایک ماں، یہ سب ان کی طرف محتاج ہوں گے، پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا۔ (موضح) اس وقت ان کی عمر کیا تھی، اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی۔ معالم میں ہے کہ بارہ سال تھی، کچھ لوگ بائبل کے حوالے سے سترہ سال بیان کرتے ہیں، مگر تعیین کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہو بھی تو اسے نہ ہم سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ ویسے سترہ سالہ جواں جو صحرا میں پلا ہو، اس کے متعلق بھیڑیے کے کھا جانے کا خدشہ کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ بچے تھے، مگر سمجھ بوجھ رکھتے تھے : ”یَرْتَعْ وَ یَلْعَب“ (چرے، کھائے پیے اور کھیلے) اور ”ھٰذَا غُلَام“ (یہ لڑکا ہے) اور ”اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَداً“ (یا ہم اسے بیٹا بنالیں گے) سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر عمر بتانے کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور بیان فرما دیتا۔ ”یوسف“ عربی زبان کا نام نہیں کہ اس کا اشتقاق عربی میں سے تلاش کیا جائے، بلکہ عبرانی یا اس زبان کا نام ہے جو یعقوب ؑ استعمال کرتے تھے۔ اس خواب کی تعبیر کافی عرصہ بعد جا کر پوری ہوئی، بعض چالیس برس بتاتے ہیں، بعض کم و بیش، مگر بچپن سے جوانی کا عرصہ جو عزیز مصر کے گھر گزرا، پھر قید خانے کے سات یا نو سال، پھر خوش حالی کے سات سال، جس کے بعد قحط شروع ہوا اور بھائی مجبور ہو کر آئے اکیس بائیس سال سے کم عرصہ کسی صورت نہیں بنتا، زیادہ ہو تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر ظاہر ہونے میں لمبی مدت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ يٰبُنَيَّ : ”بُنَیَّ“ ”اِبْنِيْ“ کی تصغیر ہے، محبت اور شفقت سے فرمایا، اے میرے چھوٹے سے بیٹے، یا اے میرے پیارے بیٹے۔ یعقوب ؑ نے یوسف ؑ کو اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ تعبیر ظاہر تھی اور یعقوب ؑ نے مختصراً بیان بھی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں چنے گا اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے گا۔ قدرتی طور پر جس شخص کو نعمت ملتی ہے اس پر حسد ہوتا ہے اور شیطان بھی انسان کی اس کمزوری، یعنی حسد کو استعمال کرکے بھائیوں کے درمیان اور دوستوں کے درمیان دشمنی پیدا کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ) [ بنی إسرائیل : 53 ] ”بیشک شیطان ان (میرے بندوں) کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔“ اور یہ اس کے نزدیک سب سے زیادہ قرب کا ذریعہ ہوتا ہے، جیسا کہ ایک لمبی حدیث میں ہے کہ شیطان اپنے لشکر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھیجتا ہے : (ثُمَّ یَجِيْءُ أَحَدُھُمْ فَیَقُوْلُ مَا تَرَکْتُہٗ حَتّٰی فَرَّقْتُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ) [ مسلم، صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان۔۔ : 67؍2813 ] ”پھر ان میں سے ایک شیطان آ کر (اپنی کار کردگی بیان کرتے ہوئے) کہتا ہے : ”میں نے اس آدمی کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی۔“ اس لیے بھائیوں کو خواب کا علم ہونے پر یوسف ؑ کو ان کی کسی خفیہ تدبیر سے ڈرایا، ساتھ ہی ”اِنَّ“ کے ساتھ اس کی وجہ بیان فرمائی کہ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور یہی بات یوسف ؑ نے اپنے والدین اور بھائیوں کے مصر آنے کے موقع پر کہی تھی : (مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ) [ یوسف : 100 ] ”اس کے بعد کہ شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا تھا۔“ قرآن کے بیان کا تقاضا یہی ہے کہ یوسف ؑ نے والد ماجد کے کہنے کے مطابق وہ خواب بیان نہیں کیا، کیونکہ بھائیوں نے قتل کے مشورے کے وقت بھی خواب کا ذکر نہیں کیا اور یوسف ؑ کے کمال اطاعت کا تقاضا بھی یہی ہے، مگر اسرائیلی روایات میں ہے کہ یوسف ؑ نے بھائیوں کو وہ خواب سنا دیا تھا اور اس پر کئی کہانیوں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس سے اسرائیلی روایات کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں یعقوب ؑ یوسف ؑ کو بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے منع فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یعقوب نبی کا فرمان وحی پر مبنی تھا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا بھی فرمان ہے : (اِسْتَعِیْنُوْا عَلٰی إِنْجَاحِ الْحَوَاءِجِ بالْکِتْمَانِ فَإِنَّ کُلَّ ذِيْ نِعْمَۃٍ مَحْسُوْدٌ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 3؍436، ح : 1453 ]”اپنی حاجتوں کو کامیاب کرنے میں چھپانے سے مدد لو، کیونکہ ہر نعمت والا محسود ہوتا ہے۔“ یعنی اس پر حسد کیا جاتا ہے۔ اس خواب میں بھی اتمام نعمت کی خوش خبری تھی، اسے کامیاب بنانے کے لیے اسے چھپانے کا حکم دیا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ) [ الضحٰی : 11 ] ”اور لیکن اپنے رب کی نعمت، پس (اسے) بیان کر۔“ اس حکم کو اور یعقوب ؑ کے منع کرنے کے حکم کو کیسے جمع کریں گے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یوسف ؑ پر ابھی نعمت مکمل ہونا باقی تھی، جب کہ رسول اللہ ﷺ پر نعمت پوری ہوچکی تھی۔ ہمارے لیے بھی دونوں چیزوں میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے، تاکہ نعمت مکمل ہونے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ دوسرا جواب جو کتب تفسیر میں ہے، وہ یہ ہے کہ یہ آیت دلیل ہے کہ بعض اوقات نعمت کا اظہار نہ کرنا بلکہ اسے چھپانا جائز ہے، جیسا کہ اوپر سلسلہ صحیحہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے، چناچہ جب نعمت کے ظاہر کرنے سے اپنے خلاف حسد وغیرہ کی بنا پر سازش یا نقصان کا خطرہ ہو تو اسے چھپائے اور اگر یہ خطرہ نہ ہو تو رب تعالیٰ کی نعمت بیان کرے۔ 3 اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتا ہے، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ الاَّ الْمُبَشِّرَاتُ ، قَالُوْا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَال الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ) [ بخاری، التعبیر، باب المبشرات : 6990 ] ”نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔“ لوگوں نے پوچھا : ”مبشرات (خوش خبریاں) کیا ہیں ؟“ فرمایا : ”اچھے خواب۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّۃٍ وَّ أَرْبَعِیْنَ جُزْءً ا مِنَ النُّبُوَّۃِ) [ بخاری، التعبیر، باب رؤیا الصالحین : 6983، عن أنس ]”صالح آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ ابو سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں خواب دیکھا کرتا جو (پریشانی پیدا کرکے) مجھے بیمار کردیتے، یہاں تک کہ میں نے ابو قتادہ ؓ سے سنا کہ میں بھی خواب دیکھا کرتا تھا جو مجھے بیمار کردیتے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (اَلرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ مِنَ اللّٰہِ ، فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مَا یُحِبُّ فَلَا یُحَدِّثْ بِہِ إِلاَّ مَنْ یُّحِبُّ ، وَ إِذَا رَأَی مَا یَکْرَہٗ فَلْیَتَعَوَّذْ باللّٰہِ مِنْ شَرِّھَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَلْیَتْفِلْ ثَلاَثاً وَلَا یُحَدِّثْ بِھَا أحَدًا فَإِنَّھَا لَنْ تَضُرَّہٗ) ”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تو جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے پسند ہو تو وہ اس کے سوا اسے بیان نہ کرے جو محبت رکھتا ہو اور جب ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین دفعہ (بائیں طرف) تھوک دے اور وہ کسی کو بیان نہ کرے، تو وہ خواب اسے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [ بخاری، التعبیر، باب اذا رأی ما یکرہ۔۔ : 7044 ] ایک روایت میں یہ بھی ہے : (وَلْیَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِہِ الَّذِيْ کَانَ عَلَیْہِ) کہ وہ اپنی کروٹ بدل لے۔ [ مسلم، الرؤیا، باب في کون الرؤیا من اللّٰہ۔۔ : 2262 ] اور یہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ہر قسم کے ضرر سے سلامتی کا سبب بنا دے، جیسا کہ صدقہ و خیرات مصیبتیں دور کرنے کے سبب بن جاتے ہیں۔ 3 یعقوب ؑ کے اپنے دوسرے بیٹوں کے متعلق خیال کے اظہار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی نہیں تھے۔ ابن تیمیہ ؓ کی خاص اس موضوع پر کتاب میں ہے کہ قرآن، لغت اور واقعات کی دلالت یہی ہے کہ وہ نبی نہیں تھے۔ نہ ہی قرآن یا حدیث میں ان کی نبوت کی طرف کوئی اشارہ موجود ہے۔ (سید طنطاوی) البتہ بعد میں ان کی اولاد (اسباط) سے کئی انبیاء و رسل گزرے۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح تیرا رب تجھے چنے گا اور تجھے باتوں کی اصل حقیقت سمجھنے میں سے کچھ سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور آل یعقوب پر پوری کرے گا، جیسے اس نے اس سے پہلے وہ تیرے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی۔ بیشک تیرا رب سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ : ”یَجْتَبِیْ“ ”جَبَی یَجْبِیْ“ (ض) کے باب افتعال ”اِجْتِبَاءٌ“ کا فعل مضارع ہے، جس کا معنی جمع کرنا، کسی خوبی کی بنا پر چن لینا ہے۔ راغب نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کے ”اِجْتِبَاءٌ“ (چن لینے) سے مراد اسے اپنے ایسے فیض کے ساتھ خاص کرلینا ہے جس سے اس کو اپنی کسی کوشش کے بغیر مختلف قسم کی نعمتیں حاصل ہوجائیں، یہ چیز انبیاء کو حاصل ہوتی ہے یا انھیں جو ان کے قریب ہوں، مثلاً صدیقین، شہداء۔ (مفردات) بیشک اعلیٰ درجے کا اجتباء انبیاء، صدیقین اور شہداء کو حاصل ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے چننے کے بھی کئی درجے ہیں، جیسا کہ آپ اپنے متعلق سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس طرح چنا کہ پتھر یا نباتات یا جانوروں کے بجائے انسان بنایا، پھر کافر نہیں بلکہ مسلمان بنایا، پھر کبیرہ گناہوں سے بچایا، پھر مشرک کلمہ گو کے بجائے موحد اور بدعتی کے بجائے متبع سنت بنایا، اگر علم کتاب کی نعمت بھی حاصل ہے تو آپ ان لوگوں میں جا ملے جن کے متعلق فرمایا : (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا) [ فاطر : 32 ] ”پھر اس کتاب کے وارث ہم نے وہ لوگ بنائے جنھیں ہم نے چن لیا۔“ اگر دعوت الی اللہ کی توفیق مل گئی تو مزید فیض مل گیا۔ غرض اصطفاء اور اجتباء کے کئی درجے ہیں اور جتنا حصہ مل جائے اس پر اللہ کا بیحد شکر ادا کرنا چاہیے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ) [ الأعراف : 43 ] ”(جنتی کہیں گے) اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔“ یا اللہ ! تو اپنے فضل سے ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو جنت میں داخل ہو کر ان الفاظ میں تیرا شکر ادا کریں گے۔ (آمین) اس آیت میں ”وَکَذٰلِکَ“ (اور اسی طرح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ خواب دکھلایا، اور کسی کو اس طرح کا خواب نہیں دکھایا، اسی طرح تیرا رب تجھے چنے گا اور تجھے۔۔ چننے سے مراد اعلیٰ درجے کا چننا ہے، جیسا کہ اوپر امام راغب سے نقل ہوا، یعنی نبوت و صدیقیت سے نوازے گا اور گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اعلیٰ مقام پر پہنچا کر تمہیں اپنے عہد کے سب بندوں پر فوقیت بخشے گا۔ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : ”الْاَحَادِيْثِ“ ”حَدِیْثٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی بات ہے۔ ”تَاْوِيْلِ“ کا معنی بات کا صحیح مطلب سمجھنا اور اس کی تہ تک پہنچنا ہے، کیونکہ ”تَاْوِيْلِ“ ”أَوْلٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی لوٹنا ہے اور تاویل کا معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقصد کی طرف لوٹانا ہے، یعنی جو اس سے مراد ہے۔ یہاں ”تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ“ سے مراد بات سمجھنے کی تیز بصیرت اور کمال فہم کے ساتھ خوابوں کی تعبیر بھی ہے۔ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ۔۔ : تم پر اپنی نعمت تمام کرے گا جیسے اس سے پہلے تمہارے (دو باپوں) دادا اور پردادا پر پوری کی، یعنی تمہیں نبوت و رسالت اور حکومت عطا فرمائے گا۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”(اَبَوَیْکَ یعنی تیرے دونوں باپوں پر) ابراہیم اور اسحاق ؑ کا نام لیا، اپنا نہ لیا عاجزی سے۔“ (موضح) آل یعقوب پر نعمت تمام کرنے کا مطلب وہ تمام نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل پر ہوئیں اور جن کا ذکر تفصیل سے قرآن مجید میں موجود ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : کہ اس کے بندوں میں سے کون سرفرازی کے لائق ہے۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

بلاشبہ یقینا یوسف اور اس کے بھائیوں میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں تھیں۔

لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ۔۔ : یہاں سے یوسف ؑ کے قصے کی تفصیل شروع ہوتی ہے۔ ”اٰيٰتٌ“ ”آیَۃٌ“ کی جمع ہے۔ یہاں آیات سے مراد وہ عبرتیں، نصیحتیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں جو اس واقعہ میں ذکر ہوئی ہیں، چونکہ وہ بہت سی ہیں اور بہت سے لوگوں سے متعلق ہیں، مثلاً ایک طرف بھائیوں کی نفرت، حسد، بدگمانی، اس زمانے کے لوگوں کے حالات، آزاد لوگوں کو غلام بنا لینا، ان کا انداز حکومت، ان کے قوانین، شیطان کا بہکانا، اپنوں کے ظلم، پیاروں سے جدائی، بےوطنی، غلامی کے صدمے، حسن کی وجہ سے آنے والی آزمائشیں، عزیز کی بیوی کے عشق کی شورش اور طغیانی اور یوسف ؑ کی عفت کا امتحان، پھر قید خانے کی آزمائش ہے، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کا اپنے کام پر غالب ہونے کا مظاہرہ ہے، یوسف ؑ کا تمام دشمنوں، حاسدوں اور مخالفوں کی خواہش کے برعکس اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ کمالات علم و حکمت، اخلاص نیت، حسن عمل اور صبر و تقویٰ کی بدولت جیل اور غلامی سے نکل کر قرب شاہی اور حکومت کے وسیع اختیارات کا حصول ہے۔ جابر و ظالم بھائیوں کی ان کے سامنے بےبسی اور ان سے صدقے کے سوال پر مجبور ہونا ہے۔ پھر اس سارے عرصے میں یوسف ؑ کا ہر زیادتی کرنے والے سے انتقام کے بجائے حسن سلوک، بےمثال صبر اور عفو و درگزر ہے اور آخر میں یوسف ؑ کے خواب گیارہ ستاروں اور سورج و چاند کے ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی تعبیر کا ظہور ہے اور اس تمام عظمت و رفعت کے باوجود یوسف ؑ کا آخرت کی فکر میں اللہ تعالیٰ سے اسلام پر موت اور صالحین کے ساتھ ملانے کی دعا ہے۔ غرض ایک ایک بات اپنے اندر بہت سی نشانیاں اور عبرتیں رکھتی ہے۔ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ : یہ سوال کرنے والے کون تھے، اشرف الحواشی میں ہے : ”منقول ہے کہ قریش نے یہود کے اشارے پر امتحان کی غرض سے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ ابراہیم ؑ کا وطن شام تھا تو بنی اسرائیل مصر میں کیسے آباد ہوگئے، حتیٰ کہ موسیٰ ؑ کے دور میں فرعون سے نجات حاصل کی ؟ اس پر یہ سورت اتری اور فرمایا کہ سوال کرنے والوں کے لیے اس قصہ میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ انھوں نے ایک بھائی پر حسد کیا تو آخر کار اسی کے محتاج ہوئے، اسی طرح یہود حسد کر رہے ہیں اور قریش نے آپ ﷺ کو نکالا تو آخر کار آپ ہی کا عروج ہوا۔ (موضح) مگر یہ روایات اسرائیلی ہیں (اور مکہ میں یہود تھے بھی نہیں، نہ اہل مکہ کا ان سے خاص رابطہ تھا) حافظ ابن کثیر ؓ نے ایسی کسی روایت کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے بالمقابل دوسری ایک دو روایات بحوالہ ابن جریر بیان کی ہیں کہ صحابہ کے سوال پر یہ سورت نازل ہوئی۔ (مگر ابن عباس ؓ سے منقول یہ روایت بھی منقطع ہے، کیونکہ ابن عباس ؓ سے روایت کرنے والے راوی عمرو بن قیس نے انھیں پایا ہی نہیں۔ دیکھیے الاستیعاب فی بیان الاسباب) بہر حال اگر اسرائیلی روایات کو معتبر مان لیا جائے تو نشانیوں سے مراد آپ ﷺ کی نبوت کی نشانیاں ہیں اور پوچھنے والوں سے مراد یہودی یا کفار مکہ ہیں اور اگر ان کا اعتبار نہ کیا جائے تو آیات سے مراد وہ عبرتیں ہیں جو یوسف ؑ کے قصے میں پائی جاتی ہیں اور پوچھنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ صاحب معالم نے ان عبرتوں کو خوب تفصیل سے لکھا ہے۔“ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ اہل عرب کی بلاغت کا یہ ایک اسلوب ہے کہ وہ متوجہ کرنے کے لیے سائل کا ذکر کرتے ہیں۔ مراد اس بات کو سننے کا شوق دلانا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبٰرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيْهَآ اَقْوَاتَهَا فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ ۭ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ)[ حٰآ السجدۃ : 10 ] ”اور اس نے اس میں اس کے اوپر سے گڑے ہوئے پہاڑ بنائے اور اس میں بہت برکت رکھی اور اس میں اس کی غذائیں اندازے کے ساتھ رکھیں، چار دن میں، اس حال میں کہ سوال کرنے والوں کے لیے برابر (جواب) ہے۔“ اور جیسا کہ سموئل نے کہا ؂ سَلِیْ إِنْ جَھِلْتِ النَّاسَ عَنَّا وَ عَنْھُمْ فَلَیْسَ سَوَاءً عَالِمٌ وَ جَھُوْلُ ”اے مخاطبہ ! اگر تجھے معلوم نہیں تو لوگوں سے ہمارے اور ان کے متعلق سوال کرلے، کیونکہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوتے۔“ اور انیف بن زبان نے کہا ہے ؂ فَلَمَّا الْتَقَیْنَا بَیَّنَ السَّیْفُ بَیْنَنَا لِسَاءِلَۃٍ عَنَّا حَفِیٍّ سُؤَالُھَا ”تو جب ہم آپس میں مقابل ہوئے تو تلوار نے ہمارے درمیان واضح فیصلہ کردیا، اس سوال کرنے والی کے لیے جس کا سوال بہت اصرار کے ساتھ تھا۔“ عرب شاعر عموماً سوال کرنے والی عورتوں کا ذکر کرتے ہیں، یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اس نے یہ انداز بدل کر سوال کرنے والیوں کے بجائے مردوں کو سوال کرنے والے قرار دے کر جواب دیا۔ (التحریر والتنویر)
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انھوں نے کہا یقینا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے ہاں ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک قوی جماعت ہیں۔ بیشک ہمارا باپ یقینا کھلی غلطی میں ہے۔

اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ۔۔ : یعنی انھوں نے آپس میں کہا۔ دراصل انھوں نے اپنے ظلم کے جواز کے لیے یوسف ؑ کا یہ جرم تجویز کیا، ورنہ اگر یہ جرم تھا تو والد کا تھا جو انھوں نے والد کو بھی معاف نہیں کیا، اس کا ذکر آگے آ رہا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں کہیں اشارہ بھی نہیں کہ اس میں یعقوب ؑ کی کوئی غلطی تھی، اگر یہ غلطی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یعقوب ؑ کو ضرور اس سے آگاہ کردیتا، کیونکہ وہ نبی تھے۔ بعض مفسرین نے بھی یہ لکھ دیا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ باپ کو بیٹوں کے درمیان محبت میں بھی برابری رکھنی چاہیے، حالانکہ نہ ان حضرات نے خیال فرمایا، نہ برادران یوسف نے کہ والدین کے بعض اولاد کی طرف میلان کے کیا مراتب و اسباب ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیشہ چھوٹے بچے والدین کی شفقت اور محبت زیادہ حاصل کرتے ہیں، جو یوسف ؑ کے بڑے بھائیوں میں سے ہر ایک اپنی اس عمر میں حاصل کرچکا تھا، پھر اولاد کی طبیعت کی سرکشی اور اطاعت ماں باپ کی محبت کھینچنے میں فرق کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی طرح بیمار بچے اور پردیس میں رہنے والے بچے کی طرف والدین کی توجہ زیادہ ہوتی ہے، جیسا کہ اس قدیم عرب نے کہا تھا جس سے پوچھا گیا کہ تمہیں اپنے بیٹوں میں سب سے پیارا کون ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : ”چھوٹا، یہاں تک کہ بڑا ہو، غائب یہاں تک کہ آجائے اور بیمار یہاں تک کہ تندرست ہوجائے۔“ (شعراوی) اس لیے شریعت نے اولاد کے درمیان عطیے میں برابری اور بیویوں کے درمیان عدل کا حکم دیا ہے، دلی میلان اور محبت نہ بندے کے اختیار میں ہے اور نہ اس کے کم و بیش ہونے میں ماں باپ کا کوئی جرم ہے، نہ اولاد کا۔ یوسف ؑ کے چھوٹے بھائی کا جرم بھی یہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے بھائی کا نام بتایا نہ بڑوں کا، کیونکہ یہ بات قرآن کے مقصود سے خاص تعلق نہیں رکھتی۔ اب اگر ہم اہل کتاب سے سن کر چھوٹے کا نام بنیامین لکھیں یا بڑوں کا نام لکھیں تو جس بات کو ہم رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، اس کا علم سے کیا تعلق ہے اور اس کا اعتبار ہی کیا ہے ؟ علم یقین کا نام ہے، شک کا نہیں۔ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ : یہ جملہ حالیہ ہے۔ لفظ ”عُصْبَةٌ“ ایک قوی جماعت پر بولا جاتا ہے، جو عموماً دس سے لے کر چالیس پر مشتمل ہوں۔ یہ ”عَصْبٌ“ سے مشتق ہے جو بمعنی ”شَدٌّ“ (باندھنا) ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو قوت اور سہارا دیتا ہے، یعنی ہم تمام کام سنبھالنے والے اور وقت پر کام آنے والے ہیں، جب کہ یوسف اور اس کا بھائی کم عمر ہونے کی وجہ سے والد کے کسی کام نہیں آسکتے اور ہم ایک قوی جتھا ہیں جو اس بدوی ماحول میں وقت پر کام آسکتے ہیں۔ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ : یہاں انھوں نے باپ کو بھی نہیں بخشا۔ ”ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ“ سے مراد رائے کی غلطی ہے جو دنیوی معاملات میں ہوتی ہے، یہاں ضلالت سے مراد دینی ضلالت یا عام گمراہی نہیں ہے، ایسا کہتے تو یہ لوگ کافر ہوجاتے۔ (قرطبی) بعض اوقات کسی خاص کام میں غلطی پر بھی یہ لفظ آجاتا ہے، جیسا کہ دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہونے کی وجہ بتائی، فرمایا : (اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىھُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى ۭ) [ البقرۃ : 282 ] ”(اس لیے) کہ دونوں میں سے ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے۔“ دراصل وہ یوسف ؑ کے ساتھ آئندہ کیے جانے والے سلوک میں اپنے آپ کو بےقصور باور کروا کر ساری غلطی والد کے ذمے ڈالنا چاہتے تھے، جنھوں نے اولاد کی محبت میں فرق کیا تھا۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف کو قتل کردو، یا اسے کسی زمین میں پھینک دو ، تمہارے باپ کا چہرہ تمہارے لیے اکیلا رہ جائے گا اور اس کے بعد تم نیک لوگ بن جانا۔

اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا : دیکھیے حسد انسان کو کہاں تک پہنچا دیتا ہے کہ آدمی صغیرہ گناہ کو کبیرہ اور کبیرہ کو صغیرہ سمجھنے لگتا ہے۔ یوسف ؑ کا باپ کی نظر میں زیادہ محبوب ہونا بھائیوں کی نظر میں اتنا بڑا جرم بن گیا کہ اس کی وجہ سے قتل ناحق جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، ان کی نگاہ میں معمولی بن گیا۔ آدم ؑ کے دو بیٹوں کے قصے میں بھی حسد نے ایک بےگناہ کا قتل قاتل کی نگاہ میں جائز بلکہ خوش نما بنادیا۔ دوسری تجویز بھی کم خطرناک نہ تھی۔ ”طَرْحٌ“ کا معنی ہے دور پھینک دینا۔ ”اَرْضًا“ نکرہ ہے، یعنی اسے کسی نامعلوم زمین میں پھینک دو ، تاکہ وہیں مرجائے۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے متعلق فرمایا : (وَلَوْلَآ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاۗءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا) [ الحشر : 3 ] ”اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ان (بنو نضیر) پر جلاوطن ہونا لکھ دیا تھا تو وہ یقیناً انھیں دنیا میں سزا دیتا۔“ معلوم ہوا کہ جلاوطنی اور وہ بھی نامعلوم سرزمین میں، کم عذاب نہیں ہے۔ يَّخْلُ لَكُمْ۔۔ :”يَّخْلُ“ اصل میں ”یَخْلُوْ“ تھا۔ ”اقْــتُلُوْا“ (امر) کے جواب میں مجزوم ہونے کی وجہ سے اس کی واؤ اور ”تَکُوْنُوْنَ“ کا نون گرگئے، یعنی یوسف کے قتل یا غائب کردینے سے تمہارے والد صاحب کی توجہ صرف تمہارے لیے رہ جائے گی۔ ”وَجْہ“ کا معنی چہرہ ہے اور چہرے کے ساتھ ہی توجہ ہوتی ہے۔ والد کی محبت میں شریک غالب کا کانٹا نکلنے کی دیر ہے، وہ تمہارے ہی ہوجائیں گے۔ حسد نے انھیں ایسا اندھا کیا کہ یہ بھی نہ سوچا کہ اس بوڑھی جان پر کیا گزرے گی، انھیں یوسف ؑ کی عداوت میں نہ باپ پر گزرنے والی حالت کا کوئی خیال آیا نہ یوسف پر رحم آیا۔ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ : اتنے بڑے جرم پر ملامت کرنے والے ضمیر کو انھوں نے یہ تسلی دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی کہ یوسف کا قصہ تمام کرکے تم نیک لوگ بن جانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی سنگ دلی کے باوجود انھیں اپنے مجرم ہونے کا احساس تھا۔ یہ شیطان کا بندے کو گناہ میں مبتلا کرنے کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہے کہ گناہ کرلو، بعد میں توبہ کرلینا، لیکن شیطان کے اس وار سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیا خبر کہ اس کے بعد توبہ کا موقع ہی نہ ملے، پہلے ہی موت آجائے، جس کا وقت کسی کو بتایا ہی نہیں گیا، تاکہ ہر شخص موت کے کسی بھی وقت آجانے کے خیال سے گناہ سے باز رہے، فرمایا : (وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ) [ آل عمران : 102 ] ”اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔“ پھر اس کی بھی کیا خبر کہ وقت ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے اس کی طرف سے توبہ کی توفیق ہی نہ ملے۔ فرمایا : (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ) [ الأنفال : 24 ] ”اور جان لو کہ بیشک اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے۔“ ایک معنی ”وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ“ کا یہ بھی کیا گیا ہے کہ یوسف کے بعد تم درست معاملے والے لوگ بن جانا، یعنی والد کو راضی کرلینا اور آپس میں شیر و شکر ہوجانا۔ یہ معنی ہو تو بھی وہ دھوکے ہی میں مبتلا تھے۔ اپنے لخت جگر کو غائب کرنے والوں سے ظاہری صلح ہو بھی جائے تو ہر وقت غم سے بھرا ہوا دل پہلی حالت میں کیسے آسکتا ہے۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو اور اسے کسی اندھے کنویں میں پھینک دو ، کوئی راہ چلتا قافلہ اسے اٹھا لے گا، اگر تم کرنے ہی والے ہو۔

قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ۔۔ :”غَيٰبَتِ“ کا معنی لغت میں ہے : ”غِیَابَۃُ کُلِّ شَیْءٍ مَا سَتَرَکَ مِنْہُ“ یعنی ہر چیز کی غیابت وہ ہے جو تمہیں اس سے پردے میں کرلے، یعنی اسے تم سے چھپالے۔ اس لیے قبر کو بھی ”غِیَابَۃٌ“ کہتے ہیں۔ ”الْجُبِّ“ کا معنی کنواں، بہت پانی اور گہرائی والا کنواں یا مٹی کا کھودا ہوا کنواں جس میں پتھروں اور اینٹوں کی دیوار نہ بنائی گئی ہو، ”السَّـيَّارَةِ“ قافلہ۔ (قاموس) ان بھائیوں میں سے ایک نے جو فطرتاً دوسروں سے بہتر اور رحم دل تھا، جب انھیں حد سے گزرتے دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ یہ کسی طرح ٹلنے والے نہیں، انھیں ایسا مشورہ دیا جسے وہ بھی قبول کرسکیں اور اسے یوسف کا طرف دار بھی قرار نہ دیں۔ وہ یہ تھا کہ یوسف کو قتل نہ کرو، قتل تو بہت ہی بڑا جرم ہے۔ (مفسرین فرماتے ہیں کہ یوسف کا نام اس نے ان کے دل میں نرمی، شفقت اور رحم ابھارنے کے لیے لیا، تاکہ وہ کچھ سوچیں کہ ہم کسے قتل کرنے جا رہے ہیں، یوسف کو ؟ جو ہمارا بھائی ہے) اگر ضرور ہی کچھ کرنا ہے تو اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دو۔ اس سے تمہارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا کہ کوئی قافلہ اسے اٹھا کرلے جائے گا، تم اپنے مقصد یعنی والد کی نگاہوں سے دور کرنے میں بھی کامیاب ہوجاؤ گے اور ایک معصوم جان کے قتل سے بھی بچ جاؤ گے۔ ”قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ“ مطلب یہ کہ اگر قتل کا مشورہ دینے والے بھائی تھے تو یہ بھی ایک بھائی ہی تھا۔ یہ بات کس بھائی نے کہی تھی، قرآن و حدیث میں اس کا ذکر نہیں، کیونکہ ہدایت کے مقصد کے لیے اس کی ضرورت نہ تھی اور پہلی کتابوں کے سچ یا جھوٹ کا کچھ پتا نہیں کہ ان پر بھروسا کر کے کوئی نام بتایا جائے۔
Ayahs 12:11–12

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے ہمارے باپ ! تجھے کیا ہے کہ تو یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتا، حالانکہ بیشک ہم یقینا اس کے خیرخواہ ہیں۔

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

اسے کل ہمارے ساتھ بھیج کہ چرے چگے اور کھیلے کودے اور بیشک ہم ضرور اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا۔۔ : اب یہ مرحلہ درپیش تھا کہ یوسف ؑ کو ساتھ کیسے لے جائیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار یوسف ؑ کو ساتھ لے جانے کی کوشش کرچکے تھے، مگر والد نے اجازت نہیں دی تھی اور یہ کہ والد کو پہلے بھی ان کے متعلق اعتبار نہ تھا کہ وہ یوسف کے خیر خواہ ہیں، یا انھیں کوئی گزند نہیں پہنچائیں گے۔ اس مرتبہ دس کے دس بھائیوں نے منت، خوشامد اور دھونس دھاندلی کا ہر حربہ استعمال کرکے یوسف ؑ کو ساتھ لے جانے کی اجازت طلب کی۔ سب سے پہلے تو نہایت ادب اور منت کے ساتھ بات کی، ابتدا دیکھیے ”يٰٓاَبَانَا“ ”اے ہمارے باپ !“ اس سے قریب تر رشتہ کون سا ہوگا جو درمیان میں لا کر درخواست کی جائے اور دل نرم نہ ہو، پھر ساتھ ہی دھونس دیکھیے ”آپ کو کیا ہے کہ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد ہی نہیں کرتے“ (گویا سارا قصور ابا جی کا ہے) ”حالانکہ بیشک ہم یقیناً اس کے خیر خواہ ہیں۔“ ”اِنَّا“ کے ”اِنَّ“ اور ”لَنٰصِحُوْنَ“ کے لام کے ساتھ خیر خواہی کا یقین دلانا ملاحظہ فرمائیں، اہل عرب کے ہاں اس میں قسم کا مفہوم شامل ہوتا ہے۔ پھر یوسف کی مزید خیر خواہی کا ذکر ہوتا ہے کہ کبھی باہر جنگل میں جا کر اسے سیر و تفریح کا موقع ہی نہیں ملا۔ کل آپ اسے ہمارے ساتھ بھیجیں، جنگل کے پھل وغیرہ کھائے پیے گا، کھیلے کودے گا، خوش دل ہوگا۔ رہا جنگل اور صحرا میں وحشی جانوروں وغیرہ کا خطرہ تو اس کی فکر نہ کیجیے۔ ”بیشک“ ہم اس کی ”یقینا“ حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ وہی قسم کے مفہوم والے الفاظ ہیں جو انھوں نے اپنی خیر خواہی کا یقین دلاتے ہوئے کہے تھے کہ ”وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ“ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کا پیشہ جنگل میں بکریاں وغیرہ چرانا تھا۔
Ayah 12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

اس نے کہا بیشک میں، یقینا مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے غافل ہو۔

قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ۔۔ : یعقوب ؑ نے نہ بھیجنے کے لیے دو عذر پیش کیے، ایک تو نہایت تاکید کے الفاظ ”اِنَّ“ اور ”لام تاکید“ کے ساتھ کہا کہ مجھے تمہارا اسے اپنے ساتھ لے جانا غمگین کرتا ہے۔ (حالانکہ یہی بات تو ان کے غصے کا باعث تھی) دوسرا یہ کہ مجھے خوف ہے کہ اسے کوئی بھیڑیا کھاجائے گا۔ ساتھ ہی ان کے جذبات ٹھنڈے رکھنے کے لیے یہ کہنے کے بجائے کہ ”اور تم بیٹھے رہو گے“ یہ کہا کہ ”تم اس سے غافل ہو گے۔“ گویا تم میرے غم اور خوف دونوں کا سامان کر رہے ہو۔ ان کو بھیڑیے کا بہانہ کرنا تھا وہی ان کے دل میں خوف آیا۔ (موضح) یا یعقوب ؑ کے منہ سے یہ بات نکلنا تھی کہ انھوں نے اسی کا بہانہ بنا لیا۔
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

انھوں نے کہا واقعی اگر اسے بھیڑیا کھا جائے، حالانکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں تو بلاشبہ ہم اس وقت یقینا خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ۔۔ : یعنی پھر ہماری قوت کس دن کام آئے گی، ہم دس مضبوط جوان ہیں۔ اب یعقوب ؑ ان کے اصرار کے سامنے بےبس ہوگئے، کیونکہ اللہ کی تقدیر ہو کر رہنی تھی، جس کے واقع ہو کر رہنے میں کوئی احتیاط کام نہیں آسکتی، پھر یوسف ؑ کو خواب میں دکھائے جانے والے کمال و عروج کی منزل کے راستے پر بھی روانہ ہونا تھا اور اس راستے میں نہایت کٹھن گھاٹیوں سے گزرے بغیر چارہ ہی نہیں اور نہ ان بلند مقامات پر پہنچنے والوں کے لیے راستے میں کوئی قالین یا کہکشاں بچھی ہوتی ہے۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جب وہ اسے لے گئے اور انھوں نے طے کرلیا کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا، اس حال میں کہ وہ سوچتے نہ ہوں گے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ۔۔ :”وَاَجْمَعُوْٓا“ باب افعال ہے، کسی کام کا مصمم عزم کرلینا، یعنی آخر وہ باپ کے کسی عذر کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کے خاموش ہونے پر اسے اپنے ساتھ لے ہی گئے۔ اب یہاں قرآن کریم کا کمال اعجاز دیکھیے، فرمایا : ”پھر جب وہ اسے لے گئے اور طے کرلیا کہ اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دیں“ تو پھر کیا ہوا ؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ذکر ہی نہیں فرمایا، تاکہ سننے والے خود ہی سمجھ لیں کہ قتل تک کا منصوبہ بنانے والے ان دس شیر جوانوں نے یوسف ؑ کے ساتھ کنویں میں پھینکنے کے وقت اور اس سے پہلے کیا سلوک کیا ہوگا۔ قرآن اشارہ کرتا ہے، پھر سمجھنے والے پر چھوڑ دیتا ہے اور کچھ اس لیے بھی کہ یوسف ؑ کے ساتھ ان کا سلوک تصور میں تو آسکتا ہے، اسے الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ہے، یا پھر بات اتنی لمبی ہوجائے گی جو قرآن کا طریقہ نہیں۔ مفسر آلوسی نے فرمایا : ”انھیں کنویں میں پھینکنے کی کیفیت اور اس وقت یوسف ؑ نے بھائیوں سے جو کچھ کہا اور جو کچھ انھوں نے اس سے کہا، اس کے متعلق کتب تفسیر میں بہت سی روایات ہیں جنھیں سن کر پتھر بھی پانی ہوجاتا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کی سند پر اعتماد ہوسکتا ہو۔“ کیونکہ ان مفسرین میں سے کوئی چشم دید بیان کرنے والا ہے ہی نہیں اور وہ عالم الغیب جو سب کچھ دیکھ رہا تھا اس نے یہ بات ہمارے خود سوچنے کے لیے بلا تفصیل چھوڑ دی ہے۔ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ۔۔ : یعنی اس مشکل وقت میں یوسف ؑ کو اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے تسلی دی گئی کہ ایک ایسا وقت ہر صورت آئے گا جب تم ان بھائیوں کو ان کا یہ کام بتاؤ گے، جب کہ طویل مدت اور آج اور اس وقت کے حالات کے فرق کی وجہ سے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ہم اسی بھائی سے پورا غلہ دینے اور صدقہ کرنے کی درخواست کر رہے ہیں جسے ہم کنویں میں پھینک کر اس سے فارغ ہوچکے تھے۔ یہاں ”لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا“ (تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا) میں ”ان کے اس کام“ کے الفاظ میں بھی ان کے یوسف ؑ کے ساتھ سلوک کی لمبی و دلخراش داستان دو تین لفظوں میں سمٹی ہوئی نظر آرہی ہے۔ کچھ لوگ یعقوب ؑ کے ان الفاظ سے کہ ”میں ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھاجائے گا“ ان کے لیے علم غیب ثابت کرتے ہیں، مگر چند میل کے فاصلے پر کنویں میں یوسف ؑ پر گزرنے والی حالت، ان کی غلامی، عفت کی آزمائش، قید خانے کے سال، بادشاہ کے خواب کا قید سے نکلنے کا ذریعہ بننا، خوش حالی اور قحط کے سال، قید سے نکل کر قرب شاہی اور وزارت خزانہ کا حصول، یہ سب کچھ یعقوب ؑ کو کیوں معلوم نہ ہوسکا ؟ آنکھیں غم سے سفید کیوں ہوگئیں ؟ کیا علم غیب یہی ہوتا ہے ؟ ہاں، پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ جتنی بات وحی کے ذریعے سے بتاتا ہے وہ انھیں معلوم ہوجاتی ہے، جیسے بشارت دینے والے کے مصر سے قمیص لے کر چلنے کے ساتھ ہی انھیں یوسف ؑ کی خوشبو آنے لگی اور قمیص آنکھوں پر ڈالنے سے بینائی واپس آگئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ یہ نہ یوسف ؑ کے بس کی بات تھی اور نہ ان کے والد ماجد یعقوب ؑ کے بس کی۔ اللہ تعالیٰ جتنی بات بتادے وہ معلوم، باقی کی خبر نہیں، ایسا شخص عالم الغیب نہیں ہوتا، ورنہ غیب کی کئی باتیں ہمیں بھی رسول کے بتانے سے معلوم ہیں، تو کیا ہم بھی عالم الغیب ہوگئے ؟ نہیں، آسمان و زمین میں عالم الغیب صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے، جیسے فرمایا : (قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ) [ النمل : 65 ] ”کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا۔“
Ayah 12:16

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور وہ اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے آئے۔

وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً : اتنا بڑا ظلم کرنے کے بعد انھیں دن کی روشنی میں باپ کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہوئی، کیونکہ دن کے وقت چہرے کے اثرات، جسم کا اضطراب اور زبان کا لڑکھڑانا ہی سب کچھ ظاہر کردیتا ہے۔ اس لیے وہ عشاء کے وقت باپ کے پاس آئے۔ اکثر جرائم کے وقوع اور انھیں چھپانے کا ذریعہ رات کا اندھیرا ہی بنتا ہے، اس لیے ہم سب کو حکم ہوا کہ کہو : (وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ) [ الفلق : 3 ] ”اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے (پناہ مانگتا ہوں)۔“ يَّبْكُوْنَ : ”روتے ہوئے“ معلوم ہوا ہر رونے والا سچا نہیں ہوتا۔ میں نے ایک عالم کا قول پڑھا کہ یوسف ؑ کے بھائیوں کے رونے کے بعد سے ہمارا اعتبار رونے والوں سے اٹھ گیا ہے، اللہ جانے کون سچا رو رہا ہے اور کون جھوٹا۔ حسین ؓ کی بہن زینب ؓ نے کوفے والوں کو روتے پیٹتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیوں رو رہے ہیں ؟ انھیں بتایا گیا کہ یہ لوگ حسین ؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر رو رہے ہیں تو وہ بےساختہ کہنے لگیں کہ یہ لوگ ہم پر رو رہے ہیں تو ہمیں قتل کرنے والے کون ہیں ؟ (یعنی کیا وہ کوفہ سے باہر کی کوئی مخلوق تھی ؟ یہی تو قتل کرنے والے تھے)۔
Ayah 12:17

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہا اے ہمارے باپ ! بیشک ہم دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلتے چلے گئے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے کوئی بھیڑیا کھا گیا اور تو ہرگز ہمارا اعتبار کرنے والا نہیں، خواہ ہم سچے ہوں۔

قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ۔۔ : ”اِسْتِبَاقٌ“ باب افتعال کا مصدر ہے، آگے نکلنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ، وہ پیدل دوڑ میں آگے نکلنے کا ہو یا گھوڑوں پر (اِسْتِبَاقُ الْخَیْلِ) یا نشانہ بازی میں (اِسْتِبَاق الرَّمْیِ) یعنی ہم دوڑ کے مقابلے میں دور نکل گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تو یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ ”الذئب“ کا الف لام تخصیص کے لیے نہیں، جنس کے لیے ہے، یعنی کوئی بھیڑیا اسے کھا گیا۔ ساتھ ہی اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے والد پر چڑھائی کردی کہ آپ تو ہم سے اس قدر بدظن ہیں کہ کسی صورت ہم پر اعتبار کرنے والے ہی نہیں، خواہ ہم بالکل سچے ہوں۔ مگر سننے والا یہ تو ضرور سوچتا ہے کہ بھیڑیا انھیں ہڈیوں سمیت کھا گیا اور ایک ذرہ بھی باقی نہیں چھوڑا جو ساتھ لے آتے، خصوصاً اس لیے کہ نہ وہ ان کا کچھ بچا کھچا جسم واپس لائے نہ یہ کہا کہ ہم نے اسے دفن کردیا۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور وہ اس کی قمیص پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ اس نے کہا بلکہ تمہارے لیے تمہارے دلوں نے ایک کام مزین بنادیا ہے، سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ۔۔ : یہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی ایک اور چال تھی کہ وہ یوسف ؑ کی قمیص پر ایسا خون لگا کر لائے جو ”کَذِب“ تھا، جس کا معنی جھوٹ ہے یا یہ بمعنی ”مَکْذُوْبٌ“ ہے، جیسے ”خَلْقٌ“ بمعنی ”مَخْلُوْقٌ“ یعنی جھوٹا بنایا ہوا، یا مصدر مبالغے کے لیے ہے کہ وہ خون سراسر جھوٹ تھا، یوسف ؑ کا ہرگز نہ تھا، بلکہ وہ بھیڑ بکری یا جنگل سے شکار کیا ہوا کوئی جانور ذبح کرکے اس کا خون لگا کرلے آئے تھے۔ والد ساری حقیقت سمجھ گئے، کیونکہ ان کی گھڑی ہوئی کہانی خود ہی اپنی حقیقت بتارہی تھی اور فرمایا : ”بَلْ سَوَّلَتْ لَکُم انفسکم امرا“ (بلکہ) یعنی جو کچھ تم کہہ رہے ہو سب جھوٹ ہے، بھیڑیے نے یوسف کو ہرگز نہیں کھایا، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمہارے دلوں نے تمہارے لیے کوئی بات خوشنما بنادی جو تم کر گزرے ہو۔ اب وہ چونکہ کئی چیزیں ہوسکتی تھیں، اس لیے کسی کی تعیین نہیں فرمائی اور وہ یوسف کو کہیں پھینک آنا، اسے کسی جگہ لے جا کر بیچ آنا، اسے کہیں چھپا دینا وغیرہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مرنے کا یقین ہوجائے تو صبر آجاتا ہے مگر جب خبر ہی نہ ہو کہ بیٹا اس وقت کہاں ہے ؟ کس حال میں ہے ؟ تو یہ بہت ہی بڑی آزمائش اور ہر وقت دل میں سلگتی رہنے والی چنگاری ہوا کرتی ہے۔ ادھر خواب کے مطابق ابھی یوسف ؑ پر اتمام نعمت ہونا تھا اور ”تاویل الاحادیث“ کی تعلیم بھی باقی تھی۔ سو کس طرح مان لیتے کہ اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ اس سورت میں یوسف ؑ کی قمیص کا تین دفعہ ذکر ہے اور ہر دفعہ اس کا انوکھا ہی اثر ہے۔ ایک تو یہ خون آلود قمیص تھی جس کے نتیجے میں یعقوب ؑ کی بینائی ختم ہوگئی، دوسرا یوسف ؑ کو تہمت دست درازی سے ان کی قمیص دیکھ کر بری قرار دیا گیا اور تیسرا یوسف ؑ کی قمیص کی خوشبو آنا اور یعقوب ؑ پر اسے ڈالنے سے ان کی بینائی کا واپس آنا۔ سبحان اللہ ! اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کمال نشانیاں ہیں۔ تفسیر ”التحریر والتنویر“ کے مصنف ابن عاشور لکھتے ہیں : ”اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے قمیص کو خون آلود کرنے کی جعل سازی میں اور اسے چیر پھاڑ کر ایسی قمیص کی صورت میں پیش کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہوگی جس کے پہننے والے کو بھیڑیے نے کھالیا ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ سمجھ دار تھے کہ اتنی سی بات بھی ان میں سے کسی کے ذہن میں نہ آئی ہو، جب کہ وہ دس جوان تھے۔ سو بعض اہل تفسیر نے جو لکھا ہے کہ یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں نے آج کی طرح کا کوئی بھیڑیا نہیں دیکھا جو اس بھیڑیے سے زیادہ حلیم (بردبار) ہو کہ میرے بیٹے کو کھا گیا اور اس کی قمیص نہیں پھاڑی، تو یہ قصہ گوئی کی ایک ظرافت ہے۔“ اگر قمیص کے سالم رہنے کی بات قرآن و حدیث یا کسی صحیح ذریعے سے آئی ہوتی تو میرے خیال کے مطابق ابن عاشور ؓ اتنے واضح الفاظ میں اسے قصہ گو حضرات کی کارستانی قرار نہ دیتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں، بالکل ممکن ہے اور جرم یقیناً اپنے نشان چھوڑ جاتا ہے مگر بات ثابت تو ہونی چاہیے۔ یہاں ان کے جھوٹے ہونے کے اور دلائل ہی میں کچھ کمی نہ تھی کہ ہم قمیص کا سالم رہنا کسی صحیح ذریعۂ خبر کے بغیر ہی تسلیم کرلیں۔ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ : جملہ فعلیہ ”أَصْبِرُ صَبْرًا جَمِیْلاً“ (یعنی اب میں صبر جمیل اختیار کروں گا) کے بجائے جملہ اسمیہ ارشاد فرمایا : ”فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ“ کیونکہ اس میں دوام ہوتا ہے۔ گویا اس میں مبتدا یا خبر محذوف ہے، یعنی ”فَأَمْرِیْ صَبْرٌ جَمِیْلٌ“ یا ”فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ اَمْرِیْ“ یعنی اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ کسی بھی چیز کا جمال یہ ہے کہ وہ اپنے جیسی دوسری چیزوں سے بہتر اور خوبصورت ہو۔ چناچہ صبر بھی دو طرح کا ہوتا ہے، ایک صبر جمیل، جس میں حسن ہو اور دوسرا غیر جمیل جو حسن سے خالی ہو۔ پہلا وہ جس کے ساتھ جزع فزع اور واویلا وغیرہ نہ ہو بلکہ اللہ کی تقدیر پر صبر کیا جائے۔ دوسرا وہ جو یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہو اور جو ہر ایک کو آخر کرنا ہی پڑتا ہے۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے ایک بچے پر رو رہی تھی۔ (عبد الصمد کی روایت میں ہے کہ وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی) تو آپ نے اس سے کہا : (اِتَّقِي اللّٰہَ وَاصْبِرِيْ ، فَقَالَتْ وَمَا تُبَالِيْ بِمُصِیْبَتِيْ ؟ فَلَمَّا ذَھَبَ ، قِیْلَ لَھَا إِنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَھَا مِثْلُ الْمَوْتِ ، فَأَتَتْ بَابَہُ ، فَلَمْ تَجِدْ عَلٰی بَابِہِ بَوَّابِیْنَ فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! لَمْ أَعْرِفْکَ ، فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَۃٍ) [ مسلم، الجنائز، باب الصبر علٰی المصیبۃ عند الصدمۃ الأولی : 15؍926 ] ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس نے کہا : ”آپ کو میری مصیبت کی کیا پروا ہے ؟“ جب آپ چلے گئے تو اسے بتایا گیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ تھے، تو اس کی حالت تو موت جیسی ہوگئی۔ وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ کے دروازے پر کوئی دربان نہیں دیکھے۔ کہنے لگی : ”یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔“ آپ نے فرمایا : ”اصل صبر تو صرف پہلی چوٹ کے وقت ہوتا ہے۔“ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ : یہاں ”الْمُسْتَعَانُ“ خبر پر الف لام کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہوگیا، یعنی صرف اللہ ہے یا اللہ ہی ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے اور اللہ سے مدد مانگنے کا طریقہ بھی اس نے خود ہی سکھایا، جس پر یعقوب ؑ نے عمل کیا، فرمایا : (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ) [ البقرۃ : 45 ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو۔“ ہمارے جو بھائی کہتے ہیں کہ فلاں حضرت صاحب کی نظر لوح محفوظ پر ہے اور فلاں صاحب کے دل کا آئینہ انھیں کل عالم کی خبر دیتا ہے، وہ غور فرمائیں کہ چند میل کے فاصلے پر کنویں میں اللہ کے نبی یعقوب ؑ کو یوسف ؑ کی خبر نہ ہوسکی۔ نہ یوسف ؑ کے بھائیوں کے دل میں کھٹکا تک ہوا کہ والد ماجد سے تو کوئی چیز چھپی رہتی نہیں، ہمارا مکر کیسے کامیاب ہوگا ؟ تو ان کے حضرت صاحبان لوح محفوظ تک کیسے پہنچ گئے ؟ یہاں ایک سوال ہے کہ یعقوب ؑ نے اس وقت یوسف ؑ کو تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟ جواب یہ ہے کہ وجہ یہ تھی کہ ان کی تلاش بھی انھی بھائیوں ہی نے کرنا تھی، وہ خود تو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے کمزور تھے۔ چناچہ جب موقع مناسب جانا انھی بھائیوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو، فرمایا : (فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ) [ یوسف : 87 ]”یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ۔“
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور ایک راہ چلتا قافلہ آیا تو انھوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا، سو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ کہا اوہ ! خوشخبری ہو ! یہ ایک لڑکا ہے۔ اور انھوں نے اسے سامان تجارت بناکر چھپا لیا اور اللہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے تھے۔

وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ۔۔ : یہ قافلہ مصر کی طرف جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف ؑ پر یہ احسان ہوا کہ قافلے والوں کی توجہ کنویں سے پانی لانے کی طرف ہوگئی اور یوسف ؑ کو باہر نکلنے کا موقع مل گیا۔ یہاں بات خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ ڈول والے نے ڈول لٹکایا تو یوسف ؑ اس کے ساتھ لٹک گئے اور اوپر آگئے۔ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً :”بِضَاعَةً“ کا معنی سامان تجارت ہے، یعنی قافلے والوں پر لازم تھا کہ وہ اردگرد اعلان کرتے، یا یوسف ؑ کے بتانے کے مطابق انھیں ان کے والد کے پاس پہنچا دیتے، مگر وہ ظالم بےدین تھے۔ انھوں نے زبردستی غلام بنا کر سامان تجارت کے طور پر چھپالیا کہ مصر جا کر فروخت کریں گے، حالانکہ کسی آزاد کو غلام بنانا یا اسے فروخت کرنا حرام ہے۔ اس سارے سلسلۂ کلام میں یوسف ؑ کے بھائیوں کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ صاف ظاہر ہے کہ یوسف ؑ کے نکلنے پر اہل قافلہ بہت خوش ہوئے اور انھوں نے سامان تجارت کے طور پر انھیں چھپالیا، کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ بھائیوں کا یوسف ؑ کو کنویں میں پھینکنا آخر ان کی عظمت و رفعت کا ذریعہ بن گیا۔ آپ بھی اپنے خاندان کے لوگوں کے ظلم وستم سے بددل نہ ہوں۔ یہ سب بھی آخر کار برادران یوسف کی طرح آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔