Ayah 12:99فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ۔۔ : یعنی یعقوب ؑ کنعان سے سارے اہل خانہ سمیت روانہ ہو کر مصر پہنچے۔ آیت کے الفاظ ”مصر میں داخل ہوجاؤ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ نے شہر سے باہر نکل کر عمائدین حکومت اور عوام سے مل کر اپنے والدین اور افراد خانہ کا شان و شوکت سے استقبال کیا، والدین کو خصوصاً دوسرے خیموں سے جو استقبال کے لیے لگائے گئے تھے، الگ اپنے خیمے میں رکھا اور فرمایا، اب آپ لوگ مصر میں داخل ہوجائیں۔ آپ ان شاء اللہ یہاں نہایت امن سے رہیں گے۔ قحط، غربت، دشمن، غرض کسی چیز کی فکر مت کریں۔ بعض نے لکھا ہے کہ یوسف ؑ نے یہ الفاظ مصر میں داخل ہونے کے بعد کہے۔ ”اَبَوَیْهِ“ سے مراد ماں باپ ہیں، کئی مفسرین نے لکھا ہے کہ یوسف ؑ کی والدہ کا چھوٹے بھائی کی ولادت کے وقت انتقال ہوگیا تھا، یہ ماں یوسف ؑ کی خالہ تھیں جن سے یعقوب ؑ نے بعد میں نکاح کیا تھا۔ دلیل اس کی اسرائیلی روایات کے سوا کچھ نہیں، جن کی صحت کا یقین نہیں۔ البتہ بعض نے لکھا ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں اور وہی یعقوب ؑ کے ساتھ مصر پہنچی تھیں۔ (معالم) ابن جریر ؓ نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے اور ابن کثیر ؓ نے اس کی تائید کی ہے اور سب سے بڑھ کر قرآن مجید کے الفاظ کا ظاہر معنی یہی ہے۔ یہاں ان مفسرین کی بات پر افسوس ہوتا ہے جو قرآن مجید کی صراحت کے بعد آزر کو باپ کے بجائے چچا اور یوسف ؑ کی والدہ کو ان کی خالہ بتانے پر اصرار کرتے ہیں۔ صرف ان کتابوں میں پڑھ کر جن کی بات کو سچا سمجھنے سے نبی ﷺ نے منع فرما دیا ہے، اگرچہ جھوٹا کہنے سے بھی منع کیا ہے، مگر ایسی ناقابل یقین بات کے ساتھ قرآن کی بات کو توڑنے مروڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
Ayah 12:100وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ۔۔ : مصر پہنچ کر جب مجلس آراستہ ہوئی تو یوسف ؑ نے اپنے والدین کو اپنے تخت پر اونچا بٹھانے کا حکم دیا اور دوسرے تمام اہل مجلس کرسیوں یا قالینوں پر نیچے بیٹھے تھے۔ جب یوسف ؑ مجلس میں آئے تو ساری مجلس نے جن میں ان کے والدین بھی شامل تھے، ان کی تعظیم کے لیے سجدہ کیا۔ بعض حضرات اس کا ترجمہ کرتے ہیں کہ سب لوگ جھک کر تعظیم بجا لائے، مگر ”وَخَرُّوْا“ کا لفظ اس مطلب کا ساتھ نہیں دیتا، کیونکہ ”وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا“ کا معنی ہے ”اور وہ اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے۔“ حقیقت یہ ہے کہ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جس میں مسجود کو اللہ کے کسی اختیار میں شریک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہاں عبادت کا سجدہ ہمیشہ غیر اللہ کے لیے حرام رہا ہے اور وہ ایسا سجدہ ہے کہ کسی کو غیبی علم اور قوت و اقتدار اور نفع نقصان کا مالک سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کے ساتھ شرک ہے، اس مقصد کے لیے قیام اور سینے پر ہاتھ باندھنا بھی شرک ہے۔ ایک سجدہ جبراً کروایا جاتا ہے، وہ نہ عبادت ہے نہ تعظیم، وہ مجبوری ہے۔ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جیسا کہ فرشتوں کا آدم ؑ کو سجدہ اور بردران یوسف اور ان کے والدین کا یوسف ؑ کو سجدہ تھا۔ یہ رواج عیسیٰ ؑ کی امت تک جاری رہا۔ ہماری امت میں شرک کے ذرائع کے سدّباب کے لیے تعظیمی سجدہ بھی قیامت تک کے لیے حرام کردیا گیا اور قیام بھی، ہاں آگے بڑھ کر استقبال کرنا مسنون ہے اور وہ اس عجمی رسم میں شامل نہیں جس میں کسی کے آنے پر سب لوگ اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوجاتے ہیں، اس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ سجدۂ تعظیمی سے بھی صاف الفاظ میں منع فرمایا، چناچہ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ جب شام سے آئے تو انھوں نے نبی ﷺ کو سجدہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : (مَا ھٰذَا یَا مُعَاُذُ ! ؟ قَالَ أَتَیْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِأَسَاقِفَتِھِمْْ وَبِطَارِقَتِھِمْ فَوَدِدْتُ فِيْ نَفْسِيْ أَنْ نَّفْعَلَ ذٰلِکَ بِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَلاَ تَفْعَلُوْا، فَإِنِّيْ لَوْکُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِغَیْرِ اللّٰہِ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِھَا) [ ابن ماجہ، النکاح، باب حق الزوج علی المرأۃ : 1853۔ ابن حبان : 4171، و قال الألبانی حسن صحیح ] ”معاذ ! یہ کیا ہے ؟“ کہا : ”میں شام گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میں نے اپنے دل میں چاہا کہ ہم آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم ایسا مت کرو، کیونکہ اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“ سورة حٰم السجدہ (37) میں بھی اللہ کے سوا سجدہ منع کردیا گیا ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”پہلے وقت میں سجدۂ تعظیمی تھا، فرشتوں نے آدم ؑ کو سجدہ کیا ہے، اس وقت اللہ نے وہ رواج موقوف کیا، فرمایا : (وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ) [ الجن : 18 ] اس وقت پہلے رواج پر چلنا ویسا ہے کہ کوئی اپنی بہن سے نکاح کرے کہ آدم ؑ کے وقت ہوا ہے۔“ (موضح)
وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ۔۔ : یوسف ؑ نے یاد دلایا کہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو کئی سال پہلے میں نے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے سچا کردیا، محض پریشان خواب نہیں رہنے دیا۔ خواب اور اس ملاقات کے درمیان کی مدت کسی نے چالیس سال بتائی، کسی نے اسّی (80) سال، ابن اسحاق نے اٹھارہ سال بتائی اور کہا کہ اہل کتاب کا خیال ہے کہ وہ چالیس سال یا اس کے لگ بھگ تھی۔ ”التحریر والتنویر“ میں ابن عاشور ؓ نے بائیس سال لکھی ہے۔ اصل حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، مگر چالیس اور اسّی (80) سال والی بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی اور وحی الٰہی کے فیصلے کے بغیر تعیین کرنا اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔
وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ : اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان کئی سال کا وقفہ ہوسکتا ہے، کنویں میں پھینکے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے پہلا احسان بذریعہ وحی حوصلہ دلانا تھا، پھر کنویں سے نکلوانا، پھر باعزت جگہ دینا، علم و حکمت عطا کرنا، غرض اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ پر بیشمار احسانات کیے تھے، مگر انھوں نے اللہ کے احسان کا تذکرہ قید خانے سے نکالنے سے شروع کیا، کیونکہ اس سے پہلے ساتھ آزمائشیں بھی تھیں اور ان کے تذکرے سے بھائیوں کی شرمندگی بھی ممکن تھی۔ یہ انبیاء ہی کا حوصلہ ہے کہ یوسف ؑ نے بھائیوں کی کسی زیادتی کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ان کے سارے برے سلوک کو شیطان کی کارستانی قرار دے کر انھیں شرمندگی سے بچانے کی کوشش کی۔ شاہ عبد القادر ؓ نے فرمایا : ”جو اللہ کے احسان تھے سو ذکر فرمائے اور جو تکلیف تھی دخل شیطان سے، اس کو منہ پر نہ لائے، مجمل سنا دیا۔“ (موضح)
وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ۔۔ : بدو، بادیہ نشینی حضر یعنی شہر میں رہنے کے بالمقابل ہے۔ ”بَدْوٌ“ ”بَدَا یَبْدُوْ“ کا مصدر ہے، یعنی ظاہر ہونا، کیونکہ بادیہ نشینوں کے گھر ہر ایک کو نظر آتے ہیں۔ مصر کے مقابلے میں کنعان کی حیثیت بدو کی تھی۔ یوسف ؑ نے اپنے خاندان کے شہر میں آنے کو بھی اپنے آپ پر احسان کہا، کیونکہ شہر کے لوگ اکثر سلیقہ شعار، میل جول کی وجہ سے نرم طبیعت اور حصول علم کے مواقع کی وجہ سے علم سے آراستہ ہوتے ہیں، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ سَکَنَ الْبَادِیَۃَ جَفَا) [ ترمذي، الفتن، باب من أتي أبواب السلطان افتتن : 2256۔ نساءي : 4314۔ أبوداوٗد : 2859۔ أحمد : 1؍357، ح : 3361 و صححہ الألبانی عن ابن عباس ؓ ] ”جو بادیہ میں رہائش رکھے وہ سخت دل ہوجاتا ہے۔“ اور تمام انبیاء شہروں اور بستیوں ہی میں سے بھیجے گئے، جیسا کہ آگے آیت (109) میں آ رہا ہے، بلکہ رسول ایسی بستی میں بھیجے گئے جو دوسری بستیوں کے مرکز تھے۔ (دیکھیے قصص : 59) ”لَطِیْفْ“ ایسی چیز جو حواس کی گرفت میں نہ آسکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت لطیف اس لحاظ سے ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی تدبیر نہایت باریک ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی اور اس لحاظ سے اس کا معنی لطف و کرم کرنے والا بھی ہے کہ وہ ایسے باریک طریقے سے مہربانی فرماتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا کہ یہ کیسے ہوگئی۔ (مفردات)
اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ : یعنی یہ جو کچھ ہوا اسی کے کمال علم و حکمت کا کرشمہ ہے۔
Ayah 12:101رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ۔۔ : پچھلی آیت میں یوسف ؑ نے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کیا ہے، یہاں سے وہ اللہ تعالیٰ کو اس کی صفت ربوبیت کے ساتھ مخاطب کرکے اور مزید نعمتوں کا ذکر کرکے اس چیز کی دعا کرتے ہیں جو ان تمام نعمتوں سے بڑی ہے اور اتنی نعمتوں کے باوجود یوسف ؑ سب سے زیادہ اسی کے متعلق فکر مند ہیں اور فی الواقع اصل فکر اسی کی ہونا لازم ہے۔ عرض کیا اے ہر لمحے میری نگہداشت کر کے، میری ہر ضرورت پوری کر کے مجھے پالنے والے ! تو نے مجھے حکومت میں سے حصہ بھی دیا (”مِنْ“ بمعنی بعض ہے، کیونکہ وہ وزیر خزانہ تھے اور اگر کوئی بادشاہ ہے تو اس کے پاس بھی بادشاہی کا ایک حصہ ہی ہے، کل بادشاہی تو ایک ہی ہستی کی ہے۔ ”تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ“) اور مجھے باتوں کی اصل حقیقت سمجھنے میں سے کچھ سکھایا۔ یہاں بھی ”مِن“ بعض کے معنی میں ہے، کیونکہ ہر بات کی اصل حقیقت تو ایک ہستی ہی جانتی ہے۔ ”وَمَایَعْلَمُ تَاوِیلہ اِلَّا اللّٰه“ ، یہاں ”تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ“ میں خوابوں کی تعبیر، مقدمات کے فیصلے، وحی الٰہی کا علم سب شامل ہیں) ، دنیا و آخرت میں میرا یارومددگار صرف تو ہے، میری آخری درخواست یہ ہے کہ جب تو مجھے فوت کرے تو میں اس وقت تیرا فرماں بردار ہوں، کیونکہ ہمیشہ کی زندگی کا سارا دارو مدار اسی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِِنَّمَا الْأَعْمَال بالْخَوَاتِیْمِ) [ بخاري، الرقاق، باب الأعمال بالخواتیم۔۔ : (6493) ] ”اعمال کا دارومدار ان کے خاتموں ہی پر ہے۔“ اس میں ہمارے لیے سبق ہے کہ آدمی دنیا کے جتنے بھی اونچے مرتبے پر پہنچ جائے اسے ہر وقت فکر آخرت ہی کی لازم ہے، کیونکہ وہ باقی ہے اور دنیا کا ہر منصب فانی ہے۔
وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ : صالحین میں عام صالحین کے ساتھ اعلیٰ درجے کے صالح، یعنی انبیاء بھی داخل ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ ؑ کے متعلق فرمایا : (وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ) [ آل عمران : 39 ] ”اور وہ سردار اور اپنے آپ پر بہت ضبط رکھنے والا اور نبی ہوگا، صالحین (نیک لوگوں) میں سے۔“ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (مَا مِنْ نَبِيٍّ یَمْرَضُ إِلاَّ خُیِّرَ بَیْنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَکَانَ فِيْ شَکْوَاہُ الَّذِيْ قُبِضَ فِیْہِ أَخَذَتْہٗ بُحَّۃٌ شَدِیْدَۃٌ، فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ : (مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ) فَعَلِمْتُ أَنَّہٗ خُیِّرَ) [ بخاری، التفسیر، باب (فأولئک مع الذین۔۔) : 4586 ]”کوئی نبی مرض الموت میں بیمار نہیں ہوتا حتیٰ کہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ جس بیماری میں فوت ہوئے، آپ کو گلے کی سخت تکلیف ہوگئی تو میں نے آپ سے سنا، آپ کہہ رہے تھے : (مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ) [ النساء : 69 ] ”میں ان کا ساتھ چاہتا ہوں جن پر اللہ نے انعام فرمایا، نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالح لوگوں میں سے“ تو میں سمجھ گئی کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔“ معلوم ہوا قیامت کے دن صالحین کے ساتھ شامل ہونے کی خواہش اور دعا صرف یوسف ؑ ہی نے نہیں بلکہ ساری اولاد آدم کے سردار نے بھی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بےپایاں فضل و کرم سے ہمیں بھی یہ نعمت عطا فرمائے۔ (آمین)
”تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا“ سے بعض لوگوں نے دلیل پکڑی ہے کہ یوسف ؑ نے موت کی دعا کی، اس لیے موت کی دعا جائز ہے، حالانکہ یہ مطلب درست نہیں۔ کسی بھی امر یا نہی کے ساتھ کوئی قید مثلاً حال یا صفت وغیرہ ہو تو وہ قید مقصود ہوتی ہے، مثلاً ”لَا تَشْرَبْ قَاءِمًا“ کے یہ معنی نہیں کہ مت پیو، بلکہ معنی یہ ہے کہ کھڑے ہو کر مت پیو اور ”کُلْ بِیَمِیْنِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ“ میں یہ حکم نہیں کہ کھانا کھاؤ، بلکہ یہ ہے کہ کھاؤ تو دائیں ہاتھ سے اور ادھر ادھر سے نہیں بلکہ اپنے سامنے سے کھاؤ۔ اسی طرح ”تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا“ کا معنی ہے کہ مجھے جب بھی فوت کرے مسلم (فرماں بردار) ہونے کی حالت میں فوت کرنا۔ اسی طرح ”فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ“ میں نماز اور قربانی کا حکم نہیں، وہ دوسری بہت سی آیات میں موجود ہے، بلکہ مراد ہے کہ نماز پڑھو تو صرف اپنے رب کے لیے اور اسی طرح قربانی بھی اسی کے لیے کرو، اس میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا کسی تکلیف کی وجہ سے ہرگز نہ کرے، جو اس پر آئے، اگر اسے ضرور ہی یہ تمنا کرنی ہے تو یوں کہے : (اَللّٰھُمَّ أَحْیِنِيْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِّيْ وَتَوَفَّنِيْ إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّيْ) [ بخاری، المرض، باب تمنی المریض الموت : 5671۔ مسلم : 2680 ] ”اے اللہ ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہے اور مجھے اس وقت فوت کرلے جب موت میرے لیے بہتر ہو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی تکلیف یا بیماری کی وجہ سے موت کی دعا کرنا منع ہے، البتہ جب دین میں فتنے کا خوف ہو تو یہ دعا کرسکتا ہے، جیسا کہ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے محمد ! جب تو نماز پڑھے تو یوں کہا کر : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَ إِذَا أَرَدْتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِيْ إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة صٓ : 3233، و صححہ الألبانی ] ”اے اللہ ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے اور برائیوں کو چھوڑنے کا اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کے متعلق کسی فتنے (آزمائش) کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے پاس فوت کرلے۔“ اور جیسا کہ مریم [ نے کہا : (يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا) [ مریم : 23 ] ”اے کاش ! میں اس سے پہلے مرجاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔“ حافظ ابن کثیر نے یہاں علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اپنی امارت کے آخر وقت میں جب دیکھا کہ معاملات ان کے حق میں جمع نہیں ہو رہے اور معاملہ زیادہ سخت ہوتا جاتا ہے تو کہا : ”اَللّٰھُمَّ خُذْنِیْ إِلَیْکَ فَقَدْ سَءِمْتُھُمْ وَ سَءِمُوْنِیْ“ ”اے اللہ ! مجھے اپنے پاس لے جا، کیونکہ میں ان سے اکتا گیا ہوں اور یہ لوگ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔“ اور امام بخاری پر جب آزمائشیں آئیں اور امیر خراسان کے ساتھ ان کا معاملہ بگڑا تو انھوں نے دعا کی : ”اَللّٰھُمَّ تَوَفَّنِيْ إِلَیْکَ“ ”اے اللہ ! مجھے اپنے پاس لے جا۔“ ان تاریخی روایات کی سند حافظ ابن کثیر نے ذکر نہیں فرمائی۔ (واللہ اعلم)
3 یہاں یوسف ؑ کا قصہ ختم ہوا۔ یہ واحد قصہ ہے جو قرآن مجید میں اکٹھا ایک ہی مقام پر بیان کیا گیا ہے، مگر لطف یہ ہے کہ اس میں سے ہر وہ تفصیل ترک کردی گئی ہے جس کی اس موقع پر ہدایت کے مقصد کے لیے ضرورت نہیں تھی۔ اب آگے اس قصے سے حاصل ہونے والے چند اسباق ذکر ہوں گے۔
Ayah 12:102ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ : یعنی غیب کی یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے سے بتائیں، ہماری وحی کے بغیر آپ کو یہ کیسے معلوم ہوسکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں، اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو ہزاروں برس پہلے کے یہ واقعات کیسے معلوم کرسکتے تھے اور تمہیں کیسے سنا سکتے تھے۔
وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا۔۔ : یعنی اگر ہم آپ کو نہ بتاتے تو آپ کو کچھ خبر نہ تھی، کیونکہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے۔ قرآن مجید نے ”وما کنت“ کے ساتھ یہ بات کئی جگہ دہرائی ہے اور اپنا احسان جتلایا ہے کہ آپ کو گزشتہ واقعات کا کچھ علم نہ تھا، نہ آپ وہاں موجود تھے جب یہ سب کچھ ہوا، یہ ہم ہی ہیں جنھوں نے وحی کے ذریعے سے آپ کو یہ واقعات بتائے۔ اس لیے اہل مکہ اور دوسرے کفار کو آپ کی نبوت میں ہرگز شک نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ کو ہر بات کا پہلے ہی علم تھا، اگر ایسا ہی تھا تو وحی کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن مجید کی ”وَمَا كُنْتَ“ والی تمام آیات آپ کے علم غیب کی نفی کرتی ہیں۔ ”وَمَا كُنْتَ“ کے مقامات کی سیر کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورة آل عمران (44) ، ہود (49) ، یوسف (102) ، قصص (44، 45، 46، 86) ، عنکبوت (48) اور شوریٰ (52)۔
3 اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یوسف ؑ کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں، کیونکہ اگر صحیح ہوتیں تو ان کی کوئی بات قرآن مجید کے خلاف نہ ہوتی جو ان کی کتابوں پر نگران اور ان کے صحیح مضامین کا محافظ ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (48) اس لیے صحیح و غلط کے گڈ مڈ ہوجانے کی وجہ سے ان کی معلومات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 12:103وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ۔۔ : سورة یوسف کے نزول کے بعد، جو آپ کی نبوت کی واضح دلیل تھی، جب آپ کی یہ خواہش اور توقع پوری نہ ہوئی کہ اسے سننے والے ایمان لے آئیں گے تو اس پر آپ کا غم زدہ ہونا فطری بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس پر تسلی دی کہ آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ شیطان کے غلبے اور اپنی نفسانی خواہشات، حرص، حسد وغیرہ کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کی حکمتیں پوری طرح وہی جانتا ہے۔ اس سے جمہوریت، یعنی اکثریت کے نمائندوں کو قانون سازی کا حق دینے کی حیثیت بھی خوب واضح ہوتی ہے، خصوصاً جب وہ صاف اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف قانون بناتے اور چلاتے ہوں۔
Ayah 12:104وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے اس تبلیغ پر اجرت مانگ کر ان پر بوجھ بن رہے ہوں، سو یہ بات ہے ہی نہیں۔
اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ : اور یہ بھی نہیں کہ یہ نہ مانیں گے تو دین کا کچھ بگاڑ لیں گے، یہ قرآن اور اسلام صرف انھی کے لیے تو نہیں، یہ تو سارے جہانوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اور بندے لے آئے گا جو اس کا علم اٹھا لیں گے، باقی رہ گئے یہ لوگ تو اگر مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے، آپ ان کے رویے سے ہرگز رنجیدہ نہ ہوں۔
Ayah 12:105وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ۔۔ : ”وَكَاَيِّنْ“ کاف تشبیہ اور ”اَیٌّ“ کا مرکب ہے، معنی اس کا ہے کتنی ہی، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد ذکر ہونے والی چیز اتنی زیادہ ہے کہ اس کا شمار نہیں ہوسکتا۔ ”اٰیَةٍ“ نشانی سے مراد ایسی عجیب چیز ہے جو توجہ کو اپنی طرف کھینچ لے، اس طرح کہ وہ بھولنے نہ پائے، جیسے کہتے ہیں : ”فَلَانٌ آیَۃٌ فِي الذَّکَاءِ“ یعنی فلاں شخص ذہانت میں آیت ہے، یعنی اتنا ذہین ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ توحید کی کچھ آیات تنزیلیہ ہیں جو نبی ﷺ پر اتریں اور بیشمار کونیہ ہیں جو کائنات کے ذرے ذرے میں بکھری پڑی ہیں۔ ”یَمُرُّوْنَ“ گزرنے سے مراد صرف یہی نہیں کہ چلتے ہوئے گزرتے ہیں، کیونکہ آسمان کی نشانیوں پر گزر کیسے ہوسکتا ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ کتنی ہی بیشمار عجیب و غریب چیزیں ہیں جو روزانہ ان کی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں، مگر یہ ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ موٹی سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس دعوے کے مقابلے میں کہ ”میں نے ہر چیز پیدا کی ہے، کوئی اور ہے جس نے ایک مکھی یا اس کا پر بھی پیدا کیا ہے تو سامنے لاؤ“ جب کوئی بھی سر نہیں اٹھاتا اور تمہیں بھی یہ مانے بغیر چارہ نہیں تو اس کائنات میں اختیارات کا مالک یا اللہ تعالیٰ سے زبردستی منوالینے والا کوئی دوسرا کیوں بنا لیتے ہو ؟ اور ہر چیز کے خالق ومالک کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کو کس دلیل سے مشکل کشا سمجھتے اور پکارتے ہو۔ وہ نشانیاں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت جگہ ذکر کی ہیں۔ مثال کے طور پر دو تین مقامات ذکر کیے جاتے ہیں : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ) [ الذاریات : 20، 21 ] ”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمہارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے۔“ اور دیکھیے سورة بقرہ (164 تا 167) کائنات میں پھیلی ہوئی ان بیشمار نشانیوں میں سے کافی نشانیاں ان آیات میں بھی آگئی ہیں، بلکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہر اختیار ہونے کو بھی کمال طرز سے بیان فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورة روم (17 تا 28) تھوڑی سی زحمت فرما کر ان مقامات کا مطالعہ کر لیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر پوری طرح غور کرنے والا شخص یقیناً توحید، آخرت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت تک پہنچ جائے گا، ورنہ کم از کم کائنات کی چیزوں پر غور کرنے سے کسی نہ کسی مفید نتیجے یا ایجاد تک ضرور پہنچ جائے گا جو کم از کم دنیا میں اسے اور دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچائے گی۔ جیسا کہ دیگچی کی بھاپ سے ڈھکنا اٹھنے پر غور نے بھاپ کی قوت کو دریافت کرکے ریل اور کتنی ایجادات کیں۔ بجلی، گیس، لیزر، ایٹم یہ سب اللہ کی آیات کو نیہ پر غور ہی کا نتیجہ ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ اپنی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، اگر کوئی توحید تک نہ پہنچ سکے تو محنت اس کی بھی ضائع نہیں کرتا، کافر کو بھی اس کی سوچ اور فکر کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی انعام دنیوی ہی سہی، ضرور دے دیتا ہے، مگر اصل کامیاب وہ ہے کہ یہ غور و فکر اسے اپنے خالق ومالک کی پہچان، اس اکیلے کی عبادت اور اس کے رسول پر ایمان تک پہنچا دے۔
Ayah 12:106وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ۔۔ : اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کرنے والوں کی پہلی مثال کفار قریش ہیں جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، خود ان مشرکین کو پیدا کرنے والے اور ہر چیز کی مکمل ملکیت رکھنے والے اللہ تعالیٰ کو جانتے اور مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) [ الزخرف : 87 ] ”اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔“ اور فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) [ لقمان : 25 ] ”اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔“ اس کے علاوہ دیکھیے سورة مومنون (84 تا 89) اور یونس (31 تا 35) اور ساتھ ہی کچھ ہستیوں کو اللہ کے ہاں اپنے سفارشی، اللہ کے قریب کرنے والے اور اپنے کام نکلوانے والے سمجھتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ) [ یونس : 18 ] ”اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“ اور فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى) [ الزمر : 3 ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں، اچھی طرح قریب کرنا۔“ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین کہتے تھے : (لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ) تو رسول اللہ ﷺ فرماتے : (وَیْلَکُمْ قَدٍْ قَدٍْ) ”تمہاری بربادی ہو، اس سے آگے مت کہنا“ (مگر وہ کہتے) (إِلاَّ شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَا مَلَکَ ، یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا وَھُمْ یُطُوْفُوْنَ بالْبَیْتِ) ”مگر ایک شریک جو تیرا ہی ہے، تو ہی اس کا مالک ہے، وہ مالک نہیں۔“ وہ یہ الفاظ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے تھے۔“ [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصف تھا ووقتھا : 1185 ] مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، اس طرح بھی وہ اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ) [ الزخرف : 19 ] ”اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمن کے بندے ہیں، عورتیں بنادیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے۔“ مشرکین مکہ اللہ پر ایمان کے ساتھ ہی بزرگوں کے بتوں کی بھی پوجا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19ۙوَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى 20 اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى 21 تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى 22 اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ) [ النجم : 19 تا 23 ] ”پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔ اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو۔ کیا تمہارے لیے لڑکے ہیں اور اس کے لیے لڑکیاں ؟ یہ تو اس وقت ناانصافی کی تقسیم ہے۔ یہ (بت) چند ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔“ انھوں نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی صورتیں رکھی ہوئی تھیں۔ [ بخاري، الحج، باب من کبّر في نواحي الکعبۃ : 1601 ] اہل کتاب بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان کے دعوے دار تھے، اس کے باوجود عزیر اور مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ کبھی کہتے تھے، اللہ تعالیٰ خود ہی مسیح کی شکل میں آگیا، اصل میں دونوں ایک ہیں : (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ) [ المائدۃ : 72 ] کبھی تین کو ایک کہتے، کبھی اللہ کو تین کا تیسرا کہتے : (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ) [ المائدۃ : 73 ] اپنے احبارو رہبان کو اللہ کے سوا حلال و حرام کرنے کا اختیار رکھنے والے رب سمجھتے : (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ) [ التوبۃ : 31 ] ان کی قبروں پر مسجدیں بنا کر ان کی پرستش کرتے، فرمان رسول ہے : (لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْیَھُوْدِ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَاءِھِمْ مَسَاجِدَ) [ بخاري، المغازی، باب مرض النبي ﷺ ووفاتہ : 4443، 4444 ] ”اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انھوں نے اپنے انبیاء ؑ کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“
افسوس کہ عرصۂ دراز سے اکثر کلمۂ اسلام پڑھنے والوں کا بھی یہی حال ہوگیا ہے، ان میں سے بہت سے لوگ اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود محمد ﷺ کی صورت میں زمین پر اتر آیا ہے۔ بعض اپنے پیر کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بعض اپنے بزرگوں کی عبادت کرتے کرتے ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ہی ہوجانے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بیشمار بڑے بڑے نام والے عالموں، پیروں اور ان کے معتقدین نے ہندوؤں کی طرح ہر چیز کو اللہ تعالیٰ قرار دے کر اس کا نام وحدت الوجود رکھ دیا ہے اور اس صریح کفر و شرک کو معرفت کا نام دے رکھا ہے، حالانکہ اس عقیدے سے اسلام کا ہر حکم ہی ختم ہوجاتا ہے اور یہی وہ الحاد اور صریح کفر ہے جس پر اسلام کا نقاب ڈال کر یہ لوگ زبردستی مسلمان بلکہ اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔ عام مسلمانوں میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو زندہ یا مردہ بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں، مصیبت میں ان کو پکارتے ہیں، ان سے اولاد اور عزت و مال کے لیے فریاد کرتے ہیں، ان کے نام کے وظیفے کرتے اور نیازیں دیتے ہیں، ان کی پختہ قبریں بنا کر ان کا طواف اور انھیں سجدے کرتے ہیں۔ غرض کہ جو کچھ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کے ساتھ کرتے تھے یہ جھوٹے مسلمان اپنے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے ساتھ کرتے ہیں اور دعویٰ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور ہم سب کو شرک سے بچائے اور توحید پر قائم رکھے۔ (آمین)
ایمان لانے کے باوجود شرک کرنے کی کچھ اور صورتیں بھی ہیں جن سے بچنا لازم ہے، مثلاً غیر اللہ کی قسم کھانا، ریاکاری یعنی دکھلاوا کرنا، بیماری سے بچنے کے لیے دھاگے، کڑے، منکے وغیرہ لٹکانا، بدشگونی لینا، کاہنوں، یعنی آئندہ کی خبریں بتانے والوں کے پاس جانا، ان سب کاموں کو صحیح احادیث میں شرک قرار دیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے توحید کے موضوع پر لکھی ہوئی کتابیں، مثلاً تقویۃ الایمان اور کتاب التوحید وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 12:107اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ۔۔ : ”غَشِیَ یَغْشٰی غَشْیًا وَ غَشَیَانًا“ ہر جانب سے گھیر لینا، ڈھانک لینا، جیسے فرمایا : (وَاِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ) [ لقمان : 32 ] ”اور جب انھیں سائبانوں جیسی عظیم موج ڈھانک لیتی ہے۔“ غاشیہ وہ حادثہ جو چاروں طرف سے گھیر لے۔ عرب ایسے حوادث کو مؤنث ہی استعمال کرتے ہیں، مثلاً ”اَلطَّامَّۃُ ، اَلصَّاخَّۃُ ، اَلدَّاھِیَۃُ ، اَلْمُصِیْبَۃُ ، اَلْکَارِثَۃُ ، اَلْحَادِثَۃُ ، اَلْوَاقِعَۃُ ، اَلْحَآقَّۃُ“ اس آیت میں مشرکین کے لیے سخت وعید ہے کہ کچھ بعید نہیں کہ کسی بھی وقت ان پر ہر طرف سے گھیرنے والا عذاب آجائے، مثلاً زلزلہ، طاعون، سیلاب اور طوفان وغیرہ۔
”بَغْتَةً“ ”بَغَتَ“ (ف) سے مصدر بمعنی اسم فاعل حال ہے (بَاغِتًا) اچانک۔
Ayah 12:108قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ : لفظ ”سَبِیْلٌ“ مؤنث بھی آتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے اور مذکر بھی، جیسا کہ فرمایا : (ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا) [ الأعراف : 146 ] معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کا راستہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت ہے، یعنی صرف اللہ کی عبادت اور اسی کے احکام کی اطاعت جو بذریعہ وحی رسول اللہ ﷺ پر اترے، اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی دعوت دے، یا رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے اترنے والے احکام و مسائل کے بجائے کسی اور کی پیروی، مثلاً کسی امام یا پیر وغیرہ کی تقلید کی دعوت دے تو وہ نہ اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر چل رہا ہے، کیونکہ جس چیز کی طرف وہ بلا رہا ہے وہ اللہ کی طرف سے اتری ہی نہیں، وہ محض انسانی رائے یا خیال ہے۔
عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ۔۔ : ”بَصَارَۃٌ“ آنکھوں کا دیکھنا اور ”بَصِيْرَةٍ“ دل سے اچھی طرح سمجھنا، یعنی میں اور میرے پیروکار خوب سوچ سمجھ کر اللہ کے راستے پر قائم ہیں۔ ”وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ“ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور خطا سے پاک ہے۔ اس اکیلے کی عبادت ہی حق ہے اور اس اکیلے کی وحی پر چلنا ہی حق ہے اور جو اس راہ کو چھوڑتا ہے وہ ایسی ہستیوں کی عبادت اور اطاعت کی وجہ سے مشرک ہے جو عیب اور خطا سے پاک نہیں ہیں۔ اس لیے میں کبھی ایسے مشرکوں میں شامل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 12:109وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ۔۔ : اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو آپ ﷺ کو انسان ہونے کی وجہ سے نبی ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترے۔ (دیکھیے فرقان : 21) یہ رسول تو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : 7) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے تمام رسول ”رِجَالٌ“ (مرد) ہی بھیجے۔ دوسرے مردوں سے ان کا فرق یہ تھا کہ ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے جس سے دوسرے لوگ محروم تھے۔
اِلَّا رِجَالًا : اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ کچھ عورتیں بھی پیغمبر ہوئی ہیں، مثلاً حوا، آسیہ، سارہ، ام موسیٰ اور مریم علیھن السلام۔ حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتوں کے ذریعے سے وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر اس سے ان کا معروف معنی میں نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ نبی وہ ہے جس پر شرع کے احکام اتریں اور اس قسم کی وحی کسی عورت پر نہیں اتری، یہ شرف رجال (مردوں) ہی کو حاصل رہا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ نے صراحت فرما دی تھی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، مگر اس آیت میں ان عورتوں کے جھوٹے دعوے کا پیشگی مزید رد ہے جنھوں نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مثلاً سجاح نامی عورت۔ چناچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا، عورتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ رسول نے مردوں کو بھی دعوت دینا ہوتی ہے، الجھنا بھی پڑتا ہے، جنگ بھی ہوتی ہے اور یہ کام عورت کے بس کے نہیں ہیں۔
مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى : اکثر اہل علم اس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی ہمیشہ شہروں اور بستیوں کے رہنے والوں میں سے آئے ہیں، بادیہ یا صحرا نشینوں سے نہیں آئے، کیونکہ بادیہ نشین قدرتی طور پر غیر سنجیدہ اور سخت طبع ہوتے ہیں۔ مگر ابن عاشور ؓ نے فرمایا :”یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں۔“ یعنی جو بات تم کہہ رہے ہو کہ آسمان سے فرشتہ اترنا چاہیے، یہ بات درست نہیں، تمام پیغمبر انسان ہی تھے اور زمین کی بستیوں ہی کے رہنے والے تھے، آسمان سے نہیں اترے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ یعقوب ؑ بدو میں رہتے تھے اور پیغمبر تھے، جیسا کہ یوسف ؑ نے فرمایا : (وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ) [ یوسف : 100 ] یا پھر یہ کہا جائے کہ یعقوب ؑ بھی بستی ہی میں رہتے تھے، مگر ترقی یافتہ اور متمدن شہر مصر کے مقابلے میں اس بستی کنعان کی حیثیت بھی بدو اور صحرا کی تھی، جیسا کہ پیچھے گزرا۔
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : کفار آخرت کو تو مانتے نہیں تھے، اس لیے انھیں سمجھانے کے لیے دنیا میں گزرنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے شام کو جاتے ہوئے پہاڑوں کو کھود کر بنائے ہوئے قوم ثمود کے مکانات اور قوم لوط کی بستیوں کی جگہ والاخرابہ اور پھر مصر کے اہرام نہیں دیکھیے کہ انھیں عبرت ہوتی۔
وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ل۔۔ : اگرچہ پچھلے کلام کا تقاضا تھا کہ کہا جاتا کہ ان کفار سے آخرت میں ہونے والا معاملہ اس سے بھی کہیں برا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا ذکر ہی چھوڑ کر متقی لوگوں کا انجام ذکر فرمایا، جس سے ان کا انجام خود بخود ظاہر ہو رہا ہے، اسے بلاغت کی اصطلاح میں احتباک کہتے ہیں۔
Ayah 12:110حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ۔۔ :”اسْتَيْــــَٔـسَ“ ”یَءِسَ“ میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل مایوس ہوگئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ”حَتّٰٓي“ (یہاں تک) کا تعلق پیچھے کس سے ہے، جواب یہ ہے کہ اس کا تعلق گزشتہ آیت : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ) سے ہے، یعنی ہم نے تجھ سے پہلے فرشتے یا جن نہیں بلکہ آدمی بھیجے، وہ مدتوں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان کی قومیں ان پر ایمان نہیں لائیں، یہاں تک کہ جب رسول ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہوگئے۔ ”ظَنُّوْٓا“ ”ظَنَّ“ کے معنی وسوسہ، گمان اور یقین تینوں آتے ہیں، یعنی انھوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ ”ظَنُّوْٓا“ کے فاعل کے متعلق تین قول ہیں، ایک یہ کہ کفار ہیں، یعنی ان کی قوم کے کفار نے یقین کرلیا کہ رسولوں نے ہم سے جو کہا تھا کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر عذاب آجائے گا، یہ بات ہم سے جھوٹ ہی کہی گئی تھی، کوئی عذاب وغیرہ نہیں آئے گا۔ اس وقت ان رسولوں کے پاس ہماری مدد آگئی اور مجرموں سے ہمارا عذاب ہٹایا نہیں جاتا۔ یہ معنی ابن عباس اور ابن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ دوسرا یہ کہ ”ظَنُّوْٓا“ کے فاعل اہل ایمان ہیں، یعنی رسول کفار کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے اور مومنوں کو بھی وسوسہ پیدا ہونے لگا کہ شاید کفار پر عذاب آنے کی بات ان سے جھوٹ ہی کہی گئی تھی۔ یہ معنی بھی درست ہے، کیونکہ وسوسہ پیدا ہونا ایمان کے منافی نہیں، شیطان کا کام ہی لوگوں کے سینے میں وسوسے ڈالنا ہے، مگر اس پر مؤاخذہ نہیں۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِيْ عَنْ أُمَّتِيْ مَا وَسْوَسَتْ بِہٖ صُدُوْرُھَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَکَلَّمْ) [ بخاري، العتق، باب الخطأ والنسیان في العتاقۃ۔۔ : 2528۔ مسلم : 127 ] ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جن کا وسوسہ ان کے سینے ڈالیں، جب تک وہ انھیں منہ سے نہ نکالیں یا ان پر عمل نہ کریں۔“
تیسرا وہ جو شاہ عبد القادر ؓ نے فرمایا : ”یعنی وعدۂ عذاب کو دیر لگی یہاں تک کہ رسول لگے ناامید ہونے کہ شاید ہماری زندگی میں نہ آیا پیچھے آوے اور ان کے اصحاب خیال کرنے لگے کہ شاید وعدہ خلاف تھا۔ اتنے خیال سے آدمی کافر نہیں ہوتا، مگر جانتا ہے کہ یہ خیال بد ہے۔“ (موضح) اگر ”ظَنَّ“ سے مراد وسوسہ ہو تو ”ظنوا“ سے مراد رسول بھی بعید نہیں، کَذَا قَالَ ابْنُ تَیْمِیَۃَ (روح المعانی) کیونکہ لمبی آزمائشوں اور مصیبتوں میں خیال آ ہی جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ) [ البقرۃ : 214 ] ”یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو ! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔“ اس آیت کی روشنی میں یہ معنی بھی قرین عقل ہے۔ مراد اس آیت سے رسولوں پر آنے والی آزمائشوں کی مدت کی لمبائی اور ان کے صبر کے پیمانے کے لبریز ہونے کے قریب تک پہنچ جانے پر اللہ کی مدد کا آنا ہے، جیسا کہ یوسف ؑ کے ساتھ ہوا۔
جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا : یعنی پیغمبروں کو ہماری مدد پہنچ گئی۔
وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ : لہٰذا اب اگر عذاب آنے میں دیر ہو رہی ہے تو دھوکا نہ کھاؤ کہ یہ محض ڈراوا ہی ہے۔
Ayah 12:111لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ۔۔ : یعنی رسولوں اور گزشتہ قوموں خصوصاً یوسف ؑ اور ان سے متعلق تمام لوگوں مثلاً والد، بھائی، قافلے والے، عزیز مصر، اس کی بیوی، زنان مصر، قید کے ساتھی اور شاہ مصر ان سب کے بیان میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے، یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانیاں نہیں، بلکہ پہلی آسمانی کتابوں کی صحیح باتوں کی تصدیق، ان کی کمی بیشی کو کھول کر بیان کرنے والی، ان کے صحیح مضامین کی محافظ اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔