12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر اس کے بعد کہ وہ کئی نشانیاں دیکھ چکے، ان کے سامنے یہ بات آئی کہ اسے ایک وقت تک ضرور ہی قید کردیں۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ۔۔ : جب شہر میں ان واقعات کا چرچا ہوا اور عزیز مصر کی بیوی کی محبت میں دیوانگی اور یوسف ؑ کی پاک دامنی پر استقامت کی شہرت پھیلی تو اہل حل و عقد اس نتیجے پر پہنچے کہ یوسف ؑ کو ہر صورت کچھ وقت کے لیے قید کردیں، تاکہ ایک گھر میں رہنے کی وجہ سے میل ملاقات ختم ہوجائے اور آہستہ آہستہ اس واقعہ کی شہرت بھی ختم ہوجائے۔ اس فیصلے سے عزیز مصر پر اس کی بیوی اور دوسری عورتوں کا تسلط اور اس کی بےغیرتی اور دیوثی بھی صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے یوسف ؑ کو تو قید میں ڈال دیا مگر عورتوں سے پوچھا تک نہیں کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ اس سے اس وقت کے معاشرے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلے مغرب کے کفار کا یہ حال تھا اب مسلم ممالک کی اشرافیہ کا یہی رنگ ہے۔ (الا ما شاء اللہ) اور تمام کفار اور ان کے ایجنٹ سب مسلمانوں کو ایسا ہی بےغیرت بنانا چاہتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے قید میں ڈالنے کے لیے ان کے کچھ جرائم تجویز کیے، جس طرح حکومتیں فرضی دفعات جرم لگا دیتی ہیں اور انھوں نے عزیز مصر کی بیوی کے الزام (عزیز کے اہل کے ساتھ برائی کے ارادہ) کی حقیقت جاننے کے باوجود اسی کو یوسف ؑ کا جرم قرار دے دیا، یا ویسے ہی خاموشی سے انھیں قید میں ڈال دیا، جس کا لازمی نتیجہ اصل حقیقت نہ جاننے والوں کے لیے یہی تاثر تھا کہ آخر اس معاملے میں یوسف ؑ کا کوئی قصور تو ہوگا جس کی وجہ سے انھیں جیل میں ڈالا گیا۔ یوسف ؑ کو اپنے متعلق اس تاثر سے شدید قلق تھا، اس لیے آگے آپ دیکھیں گے کہ بادشاہ کے اپنے پاس بلانے کے پیغام کے باوجود یوسف ؑ اس وقت تک قید خانے سے نہیں نکلے جب تک تمام متعلقہ عورتوں کو بادشاہ کے پاس حاضر کروا کے ان کی زبانی اپنی بےگناہی کی تصدیق نہیں کروائی۔ ایک مفسر نے لکھا ہے کہ اب اگر حکومت کسی داعی یا خطیب کو حق بیان کرنے کے جرم میں قید کر دے اور پھر اللہ کی مدد سے کوئی حاکم اسے جیل سے نکالنے کا حکم دے تو اسے جیل میں اڑ کر نہیں بیٹھنا چاہیے، کیونکہ اس پر کوئی ایسا الزام نہیں جو اس کی بدنامی کا باعث ہو۔ رہی حق کی دعوت و تبلیغ تو وہ کوئی جرم نہیں بلکہ اس کا فرض ہے جو اس نے بعد میں بھی ادا کرتے رہنا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ کے احسان، تقویٰ ، صبر، وفا، خدمت، پاک بازی، عبادت الٰہی اور دوسری بیشمار خوبیوں کی وجہ سے عزیز مصر کے دل میں ان کی محبت یقیناً موجود تھی جس کی وجہ سے اس نے قید پر اکتفا کیا، ورنہ وہ کسی حیلے سے انھیں غائب بھی کروا سکتا تھا، جیسا بھائیوں نے کیا تھا اور قتل بھی کروا سکتا تھا، جیسا کہ یوسف ؑ کے بھائیوں کا پہلا منصوبہ تھا، مگر ایک تو یوسف ؑ کا تقویٰ اور صبر تھا اور دوسرا اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا جو سب پر غالب ہے۔ جس کی وجہ سے قید ہی کا فیصلہ ہوا جس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں تھیں۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور قید خانے میں اس کے ساتھ دو جوان داخل ہوئے، دونوں سے ایک نے کہا بیشک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ کچھ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا بیشک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر کچھ روٹی اٹھائے ہوئے ہوں، جس سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتا۔ بیشک ہم تجھے احسان کرنے والوں سے دیکھتے ہیں۔

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ۔۔ : ”فَتَيٰنِ“ ”فَتًی“ کی تثنیہ ہے، دو نوجوان، یہ لفظ عام طور پر غلام یا خادم پر بھی بول لیا جاتا ہے۔ یہ دونوں بادشاہ کے خاص خادم تھے، بہت جلد دونوں یوسف ؑ کے حسن اخلاق سے متاثر اور ان سے مانوس ہوگئے۔ یوسف ؑ کے ہر ایک کی بےلوث خدمت کرنے نے ان پر یہ حقیقت واضح کردی کہ یہ بندہ ہر ایک کی خیر خواہی اور خدمت کسی بھی معاوضے کی امید یا کسی طمع کے بغیر کرتا ہے، اسی کا نام احسان ہے اور ایسا کرنے والا محسن ہوتا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل نے قارون سے کہا تھا : (وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) [ القصص : 77 ] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔“ اور حقیقت یہ ہے کہ اپنی نیکی اور ہمدردی کی وجہ سے ایسا شخص خودبخود ہی ہر ایک کی نگاہ میں آجاتا ہے کہ یہ نیک اور اچھا آدمی ہے۔ ہمارے نبی ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ میں یہ صفت بطور خاص پائی جاتی تھی، جیسا کہ نبی ﷺ کی صفات مثلاً دوسروں کا بوجھ اٹھانا، مہمان نوازی کرنا، مصیبت میں لوگوں کی مدد کرنا، لوگوں کے لیے ذریعۂ معاش تلاش اور مہیا کرنا، سچ کہنا وغیرہ کی تصدیق ہماری ماں خدیجہ ؓ نے کی اور ابوبکر ؓ کی صفات کی تصدیق ابن دغنہ نے کی۔ [ بخاری، الوحي، کیف بدء الوحي : 3، و مناقب الأنصار، باب ہجرۃ النبي ﷺ۔۔ : 3905 ] یہ لوگ صرف نماز روزے ہی کے نیک نہ تھے، بلکہ اس کے ساتھ لوگوں کے خیر خواہ بھی تھے، یہی بندوں کے ساتھ احسان ہے۔ اب ان دونوں نے خواب دیکھا تو پوری جیل میں ان کی نگاہ صرف یوسف ؑ پر پڑی اور انھوں نے تعبیر کے لیے انھی کو منتخب کرنے کی وجہ بھی صاف لفظوں میں بیان کردی : (نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ) یعنی آپ ہمیں اس کی تعبیر بتائیں، کیونکہ بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ خواب کی تعبیر بہت اچھی کرتے ہیں، شاید اس سے پہلے بھی یوسف ؑ نے کچھ تعبیریں کی ہوں جو درست نکلی ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ علم خاص طور پر دیا تھا۔ احسان کے یہ دونوں معنی بندوں پر احسان کے ہیں، ایک احسان اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی ہوتا ہے جس کا ذکر حدیث جبریل ؑ میں ہے، فرمایا : (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہٗ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہٗ فَإِنَّہٗ یَرَاکَ) [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي ﷺ : 50] ”تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔“ ہوسکتا ہے ان قیدیوں نے یوسف ؑ کی نماز، عبادت اور ذکر الٰہی میں اللہ سے تعلق کو دیکھ کر ان کے محسن اور نیک ہونے کا یقین کرلیا ہو کہ ان کی عبادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص واقعی اس طرح توجہ اور محویت سے عبادت کر رہا ہے، گویا اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

اس نے کہا تمہارے پاس وہ کھانا نہیں آئے گا جو تمہیں دیا جاتا ہے، مگر میں تمہیں اس کی تعبیر اس سے پہلے بتادوں گا کہ وہ تمہارے پاس آئے۔ یہ اس میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا۔ بیشک میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے ساتھ بھی کفر کرنے والے ہیں۔

قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ۔۔ : یوسف ؑ اس سے پہلے بھی اللہ کے دین اور توحید پر قائم تھے، قید میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی کہ دنیا کے معاملات سے فراغت اور خلوت نصیب ہوئی، ذکر وفکر کا موقع زیادہ ملا، کفار کے تعلق سے دل خالی ہوا تو سینہ علم نبوت کے نور سے اور زیادہ روشن ہوگیا۔ اب ان دونوں کو یوسف ؑ سے خواب کی تعبیر پوچھنے کی ضرورت پڑی تو یوسف ؑ نے ضروری سمجھا کہ پہلے انھیں توحید اور آخرت پر ایمان کی دعوت دیں، بعد میں خواب کی تعبیر بتائیں، اس لیے ان سے بات کا کچھ وقت لے لیا، مگر ساتھ ہی ان کی تسلی کردی تاکہ وہ گھبرا نہ جائیں، کہا کہ کھانا جو تمہیں دیا جاتا ہے، اس کے آنے سے پہلے پہلے میں تمہیں ہر حال میں تعبیر بتادوں گا۔ کھانا آنے سے پہلے پہلے کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کا وقت قریب ہی تھا۔ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ۔۔ : ”ذٰلِكُمَا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیں آیت (32) یعنی خواب کی تعبیر ان علوم میں سے ایک علم ہے جو اللہ نے مجھے سکھائے ہیں، مثلاً شریعت، حکمت، معیشت، امانت وغیرہ۔ مطلب یہ کہ میں تعبیر اندازے اور اٹکل سے نہیں بلکہ حقیقی علم کے ساتھ کروں گا۔ مصر کے کاہن اور درباری مشیر علم تعبیر میں مہارت رکھتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کو یہ علم خاص طور پر عطا فرمایا، تاکہ وقت آنے پر ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کو عطا کردہ علم میں اور دوسرے کسی بھی بڑے سے بڑے عالم کے علم میں کیا فرق ہوتا ہے، گویا یہ یوسف ؑ کو عطا کردہ ایک معجزہ بھی تھا۔ یہاں یہ سوال خودبخود پیدا ہونا تھا کہ یہ علوم جن میں سے علم تعبیر بھی ہے، آپ کو کیسے حاصل ہوئے ؟ اس کے جواب میں یوسف ؑ نے اس پورے معاشرے میں سے اپنے پر اس نعمت کے اسباب بیان فرمائے، پھر ان کو نہایت حکیمانہ طریقے سے دعوت توحید دی۔ چناچہ پہلی بات یہ فرمائی کہ یہ علوم مجھے میرے رب تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں، (”اِنِّىْ تَرَكْتُ“ میں ”اِنَّ“ سبب بیان کرنے کے لیے ہے) اس لیے کہ میں نے ان لوگوں کی ملت اور ان کے دین کو ان میں رہنے اور جوان ہونے کے باوجود چھوڑے رکھا، کبھی اختیار ہی نہیں کیا، جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی وہ منکر ہیں، کیونکہ ایسے لوگ ان علوم کے لائق ہی نہیں ہوتے۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے، ہمارے لیے ممکن ہی نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں، یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کے فضل سے ہے اور لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ۔۔ : پھر انھیں اپنا اور اپنے آباء کا تعارف کروایا، کیونکہ داعی کی شخصیت بھی دعوت قبول کرنے میں مددگار ہوتی ہے، چناچہ فرمایا کہ میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ؑ کی ملت اور ان کے دین کی پیروی کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم کسی صورت اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کریں، خواہ وہ آدمی ہو یا فرشتہ، جن ہو یا بھوت پری، بت ہو یا قبر، پتھر ہو یا درخت، چاند سورج ہوں یا ستارے، غرض کسی کو بھی ہم ہرگز اللہ کا شریک نہیں بنا سکتے۔ ”مَا كَانَ لَنَآ“ میں نفی کی ”كَانَ“ کے ساتھ تاکید کا یہی معنی ہے۔ نیک آباء کی پیروی سعادت ہے، جب کہ گمراہ آباء کی تقلید ضلالت ہے، جیسا کہ ان قیدیوں کو فرمایا : (اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ) یعنی اللہ کے سوا جس کی بھی تم عبادت کرتے ہو وہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء نے رکھ لیے ہیں، ایسے آباء کی پیروی گمراہی ہے۔ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا۔۔ : یعنی توحید کی یہ سمجھ عطا کرنا ہم پر اللہ کے بیشمار احسانوں میں سے ایک احسان ہے۔ ”وعلی الناس“ اور لوگوں پر بھی احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعے سے ان کو توحید سمجھانے کا انتظام فرمایا، لیکن اکثر لوگ اس نعمت کی قدر نہیں کرتے۔
Ayah 12:39

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے قید خانے کے دو ساتھیو ! کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے ؟

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ :”صَاحِبَیِ“ اصل میں ”صَاحِبَیْنِ“ تھا جو ”صَاحِبٌ“ (ساتھی) کی تثنیہ ہے۔ ”السِّجْنِ“ کی طرف مضاف کیا تو نون تثنیہ گرگیا اور یاء کو کسرہ دے کر آگے ملا دیا گیا، یہ یاء متکلم کی نہیں، اس لیے معنی ہے ”اے قید خانے کے دو ساتھیو !“ یہ الفاظ اکٹھے رہنے کی وجہ سے انس کا بھی اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ کوئی قریب ہوتا ہے تو انس ہی سے ہوتا ہے جو دعوت کے لیے ضروری ہے، مگر درحقیقت ایک دوسرے سے الگ الگ ہونے کا بھی کہ ہم تم قید خانے میں اکٹھے رہنے والے ساتھی ہیں، اس کے باوجود اصل ساتھی نہیں، کیونکہ وہ تعلق صرف ایمان والوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ۔۔ : مصر کے لوگوں کا دین اکثر زمانوں میں شرک یعنی متعدد معبودوں کی عبادت ہی رہا ہے، جیسا کہ تاریخ سے اور مصر کے آثار قدیمہ سے ظاہر ہوتا ہے اور اگر وہ بقول شخصے ایک رب کو مانتے بھی تھے تو دوسری تمام مشرک اقوام کی طرح اس کے تحت مختلف کاموں کا اختیار رکھنے والے کئی ارباب کی عبادت بھی کرتے تھے، کیونکہ ان کے ذہن اس شاہی نظام اور اس کے تحت جاگیر داری نظام سے آگے نہیں سوچ سکتے تھے جو ان پر مسلط تھا، جیسا کہ یونانیوں کے ہاں ہر کام کی الگ دیوی تھی۔ عراق والے بادشاہ کے ساتھ ساتھ سورج، چاند، ستاروں اور بتوں کی پرستش بھی کرتے تھے، جن سے ابراہیم ؑ کو سابقہ پڑا، اس لیے یوسف ؑ نے سب سے پہلے قید کے ساتھیوں کی عقل کو جھنجوڑتے ہوئے یہی سوال کیا کہ بتاؤ کہ یہ الگ الگ رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو اکیلا ہے اور سب پر غالب اور زبردست ہے، کوئی اس کے آگے دم نہیں مار سکتا، نہ کوئی اس کی مرضی کے خلاف کچھ کرسکتا ہے ؟ مزید دیکھیے سورة زمر (29) ، انبیاء (22) اور بنی اسرائیل (42) ظاہر ہے کہ عقل اگر درست ہو تو اکیلے، زبردست اور غالب رب ہی کو بہتر قرار دے گی۔
Ayah 12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم اس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند ناموں کی، جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً۔۔ : ان کے ذہن میں ایک رب اور کئی ارباب کے موازنے کی سوچ ابھارنے کے بعد اب صاف لفظوں میں کئی ارباب کا باطل ہونا بیان فرمایا کہ تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو حقیقت میں وہ کہیں موجود ہی نہیں ہیں، محض فرضی اور خیالی چیزیں ہیں، جن کے نام تم نے اور تمہارے آبا و اجداد نے رکھ لیے ہیں۔ حکم تو اللہ کے سوا کسی کا ہے ہی نہیں، نہ قدری حکم نہ شرعی، یعنی نہ کائنات کے نظام میں اس کے سوا کسی کا کوئی حکم چلتا ہے، مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ سورج کو چلنے کا حکم دے اور یہ اسے روک دے، یا وہ کسی کو مارنا چاہے اور یہ اسے مرنے نہ دے اور نہ شریعت اور عبادت میں اس کے سوا کسی کو اپنا حکم چلانے کی اجازت ہے، اس کا حکم ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، یہی سیدھا اور محکم و مضبوط دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، اس لیے وہ شرک کے گورکھ دھندے میں پڑے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یوسف ؑ کی یہ تقریر ملت ابراہیم، یعنی اسلام کی بہترین مختصر ترجمانی ہے۔
Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے قید خانے کے دو ساتھیو ! تم میں سے جو ایک ہے سو وہ اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے سو اسے سولی دی جائے گی، پس پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔ اس کام کا فیصلہ کردیا گیا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو۔

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ۔۔ : تعبیر بیان کرتے وقت یوسف ؑ کے حسن ادا کو ملاحظہ فرمائیں، ایک تو دونوں میں سے ایک کو متعین کرکے نہیں فرمایا کہ تیرے خواب کا یہ نتیجہ ہے اور تیرے خواب کا یہ، حالانکہ جواب سے ظاہر تھا کہ ساقی نے عہدے پر بحال ہونا ہے اور دوسرے نے سولی چڑھنا ہے، بلکہ فرمایا تم میں سے ایک کی تعبیر یہ ہے اور ایک کی یہ۔ پھر اس بات کو بھی سامنے رکھیے کہ پہلے وہ تعبیر بتائی جو خوش خبری والی تھی، دوسری بعد میں بتائی۔ مقصد یہ تھا کہ دل شکنی میں جتنی بھی دیر ہو سکے کی جائے اور خوشی کی خبر جتنی جلد ہو سکے پہنچائی جائے۔ قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ : یعنی یہ فیصلہ ہوچکا جو اب ٹل نہیں سکتا ہے۔ یہاں لفظ ”قُضِيَ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلی آیت میں جو لفظ ”ظَنَّ“ آ رہا ہے وہ یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ خواب کی تعبیر اجتہادی ظن تھا، لہٰذا یہ ظن اصلی معنی میں ہے۔ (ابن کثیر، روح المعانی) موضح میں ہے : ”ظَنَّ“ فرمایا، معلوم ہوا کہ تعبیر خواب یقین نہیں اٹکل ہے، مگر پیغمبر اٹکل کرے تو بیشک ہے، یعنی اٹکل نہیں ہے۔“
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور اس نے اس سے کہا جس کے متعلق اس نے سمجھا تھا کہ بیشک وہ دونوں میں سے رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا۔ تو شیطان نے اسے اس کے مالک سے ذکر کرنا بھلا دیا تو وہ کئی سال قید خانے میں رہا۔

وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ قید خانے میں رہنا جو بقول بعض زندوں کا قبرستان ہے، کس قدر تکلیف دہ ہے کہ یوسف ؑ جیسے صابر شخص نے اس آدمی سے کہا جس کے متعلق انھوں نے سمجھا تھا کہ وہ رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا کہ کس طرح ایک شخص بلاجرم قید میں بند ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت سے نکلنے کے لیے دنیا کے جو اسباب اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں انھیں اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، جیسا کہ : (ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠) [ المائدۃ : 2 ] (نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو) سے ظاہر ہے اور جیسا کہ عیسیٰ ؑ نے فرمایا : (3 مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ [ آل عمران : 52 ] ”اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں ؟“ اور رسول اللہ ﷺ نے طائف سے واپسی پر مطعم بن عدی کی طرف پیغام بھیجا، پھر اس کی پناہ میں مکہ میں داخل ہوئے، بلکہ مسلمان کو دنیا کا ہر جائز سبب اختیار کرنا چاہیے، فرمایا : (وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ) [ الأنفال : 60 ] یعنی ان کفار کے لیے جس قدر تمہاری استطاعت ہے تیاری رکھو، البتہ بھروسا اس کے بعد بھی اللہ ہی پر ہوگا۔ 3 شیطان نے اس ساقی کو اپنے مالک یعنی بادشاہ کے پاس یہ ذکر کرنا بھلا دیا، سو یوسف ؑ کئی سال قید میں رہے۔ شیطان کی آدم ؑ اور ان کی اولاد سے دشمنی کا تو قرآن شاہد ہے : (اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ) [ البقرۃ : 168 ] ”بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ اور قرآن نے صراحت کی ہے کہ ساقی کو بھلانا شیطان کا کام تھا، اس کے باوجود بعض اہل علم نے ساقی کو بادشاہ کے پاس اپنا ذکر کرنے کے لیے کہنا یوسف ؑ کی عزیمت اور شان پیغمبری کے خلاف قرار دیا ہے اور اتنے سال جیل میں رہنے کا باعث یہ قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یوسف ؑ کا دل اسباب پر نہ ٹھہرے۔ اس سلسلے میں یہ حضرات وہ روایت بھی پیش کرتے ہیں جو ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اگر یوسف ؑ وہ بات نہ کہتے جو انھوں نے کہی تو اتنی لمبی مدت قید میں نہ رہتے، کیونکہ انھوں نے غیر اللہ کے ہاں سے مصیبت دور کروانا چاہی۔“ حافط ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”یہ روایت نہایت ضعیف ہے، کیونکہ اس کا راوی سفیان بن وکیع ضعیف ہے اور (اس کا شیخ) ابراہیم بن یزید (الجوزی) اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔“ لَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ : ”بِضْعَ“ کا لفظ تین سے لے کر نو تک کے لیے آتا ہے۔ قرآن و سنت میں اس مدت کی تعیین کہیں نہیں آئی۔ تابعین میں سے کسی نے سات سال کہا، کسی نے کم و بیش، مگر اب ان سے کون پوچھے کہ آپ کو کس نے یہ مدت بتائی، اگر بنی اسرائیل سے آئی ہے تو اس پر تو اعتبار ممکن نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ہم نہ اسے سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ سو اصل یہی ہے کہ وہ مدت دس سال سے کم تھی اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی تھی۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا بیشک میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں، جنھیں سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے اور کچھ دوسرے خشک (دیکھتا ہوں) ، اے سردارو ! مجھے میرے خواب کے بارے بتاؤ، اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔

وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ۔۔ : مصر کے بادشاہ کا یہ خواب اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں یوسف ؑ کی قید سے عزت و تکریم کے ساتھ رہائی کا سبب تھا، اس خواب نے شاہ مصر کو نہایت خوف زدہ اور پریشان کردیا، چناچہ اس نے اپنے علم تعبیر کے تمام ماہروں اور سب سرداروں کو جمع کرکے خواب سنایا اور تعبیر کی فرمائش کی۔ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر بھی فتویٰ کا حکم رکھتی ہے، جس طرح فتویٰ علم کے بغیر جائز نہیں، خواب کی تعبیر کا بھی اگر فی الواقع علم ہو تو بتانی چاہیے، ورنہ علم کے بغیر تعبیر کرنے والے اس حدیث کے مصداق ہوں گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ لاَ یَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا یَنْتَرِعُہُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلٰکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّی إِذَا لَمْ یُبْقَ عَالِمَا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوْسًا جُھَّالاً ، فَسُءِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَ أَضَلُّوْا ([ بخاری، العلم، باب کیف یقبض العلم : 100 ] ”اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ اسے علماء کے سینے سے نکال لے، بلکہ علم کو علماء کے فوت کرلینے کے ساتھ قبض کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہل سردار بنالیں گے، پھر ان سے سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے، سو خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو گمراہ کریں گے۔“ اس حدیث سے تک بندی اور اٹکل پچو سے تعبیر بتانے والے اپنا انجام سوچ لیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو اپنے درباریوں سے امید نہ تھی کہ وہ اس خواب کی تعبیر کرسکیں گے، اسی لیے کہا : ”اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔“
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انھوں نے کہا یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر بالکل جاننے والے نہیں۔

قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ۔۔ : ”اَضْغَاثُ“ ”ضِغْثٌ“ کی جمع ہے، آپ گھاس کا ایک مٹھا اکھاڑیں، اس میں ملا جلا جو کچھ ہاتھ میں آئے اسے ”ضِغْثٌ“ کہتے ہیں، یعنی یہ خوابوں کی ملی جلی پریشان باتیں ہیں، کوئی مرتب یا واضح خواب نہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ علم تعبیر میں مہارت کے دعوؤں کو قائم رکھنے کے لیے انھوں نے خواب ہی کو پریشان خیالوں کا مجموعہ قرار دے دیا، جیسا کہ کہاوت ہے ”ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔“
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، اس نے کہا میں تمہیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں، سو مجھے بھیجو۔

وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ۔۔ : ”وَادَّكَرَ“ ”ذَکَرَ یَذْکُرُ“ (ن) سے باب افتعال ہے، اصل میں ”اِذْتَکَرَ“ تھا، پھر افتعال کی تاء کو دال اور اس کے ساتھ ہی ذال کو بھی دال میں بدل کر ”ِادَّكَرَ“ کردیا، بمعنی یاد کیا۔ ”اُمَّةٍ“ کے کئی معانی ہیں جن میں سے ایک معنی مدت بھی ہے، تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اس وقت ساقی کو جس نے یوسف ؑ کی تعبیر کے بعد قید سے رہائی پائی تھی اور یوسف ؑ کے کہنے کے باوجود سرے سے ان کی بات بھول چکا تھا، اتنی لمبی مدت کے بعد یوسف ؑ اور ان کی علم تعبیر میں مہارت یاد آئی اور اس نے کہا میں تمہیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں، آپ مجھے بھیجیں، چناچہ اسے اجازت مل گئی اور وہ یوسف ؑ کے پاس پہنچا۔ اس ساقی کے رویے سے سرکاری و درباری کارندوں کے کردار پر بھی بڑی روشنی پڑتی ہے کہ وہ ہمیشہ کریڈٹ کے چکر میں رہتے ہیں۔ (الا ماشاء اللہ) اس کا یہ کہنا حقیقت سے کس قدر دور تھا کہ میں تمہیں تعبیر بتاتا ہوں، اس کا حق تھا کہ اپنے محسن کا ذکر کرتا، انھیں عزت سے بلواتا اور بادشاہ سے درخواست کرتا کہ ان سے تعبیر پوچھیں، مگر وہ اس چکر ہی سے نہیں نکلا کہ ”میں تمہیں بتاتا ہوں۔“ کتنے ہی سرکاری افسر اور سرمایہ دار ہیں جو دوسروں کی علمی محنت کو اپنے نام لگا کر ڈگریاں حاصل کرتے یا اپنی علمی شان کا سکہ جماتے ہیں، مگر یہ سب بےچارے اسی مرض کے مریض ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بعض اہل کتاب کا بتایا ہے : (وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) [ آل عمران : 188 ] ”اور وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، پس تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہرگز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

یوسف ! اے نہایت سچے ! ہمیں سات موٹی گائیوں کی تعبیر بتا، جنھیں سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشوں اور دوسرے خشک خوشوں کی بھی، تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں، تاکہ وہ جان لیں۔

يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ۔۔ : ”يُوْسُفُ“ سے پہلے حرف ندا ”یَا“ وغیرہ محذوف ہے، جس کی وجہ سے یہ مبنی علی الضم ہے۔ ”الصِّدِّيْقُ“ ”صَدَقَ“ کے اسم فاعل میں مبالغہ ہے جو ہر حال میں اپنے قول، فعل اور حال کا سچا ہو، جس کی عادت ہی ہر حال میں سچ ہو، اس کا قول سچ ہو اور اس کا فعل اور حال بھی اس کے مطابق ہو۔ صدیقیت کے کئی درجے ہیں، مومن بھی صدیق ہے بمقابلہ کافر (دیکھیے حدید : 19) اور ابوبکر بھی صدیق ہیں اور امت میں اس درجے کا کوئی صدیق نہیں۔ ابراہیم اور ادریس ؑ کے بارے میں سورة مریم (41، 56) میں ”صِدِّیْقاً نَّبِیَّا“ آتا ہے، یوسف ؑ بھی صدیق ہیں۔ ساقی کو ان کا صدیق ہونا تعبیر سے پہلے بھی مشاہدے سے ثابت ہوچکا تھا، اسی لیے انھوں نے کہا : (اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ) [ یوسف : 36 ] پھر تعبیر کے بعد عین اسی طرح واقع ہونے سے ان کے صدیق ہونے کی مزید تصدیق ہوگئی۔ یہاں ساقی کا رویہ دیکھیں کہ اس کی طرف سے بھول جانے کی معذرت کا کوئی ذکر نہیں اور یوسف ؑ کے سینے کی وسعت دیکھیں، پوچھا ہی نہیں کہ تمہیں اتنی دیر یوسف صدیق یاد نہ آیا، اب کیا لینے آئے ہو۔ غرض کے بندوں اور محسنین کا یہی فرق ہے۔ ساقی نے خواب دیکھنے والے کا ذکر نہیں کیا، البتہ خواب عین انھی الفاظ میں بیان کیا جو بادشاہ کے تھے، کیونکہ ایک لفظ کے فرق سے بھی مطلب کچھ اور بن جاتا ہے۔ قرآن میں دونوں جگہ خشک گائیوں کے موٹی گایوں کو کھانے کا ذکر تو ہے مگر خشک خوشوں کے سبز خوشوں پر لپٹنے کا ذکر مفسرین نے کہاں سے لیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ساقی نے درخواست کی کہ آپ ہمیں اس خواب کے بارے میں فتویٰ دیں (تعبیر بتائیں) لوگ منتظر ہیں، تاکہ میں جا کر انھیں بتاؤں اور وہ بھی جان لیں۔
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

اس نے کہا تم سات سال پے درپے کاشت کرو گے تو جو کاٹو اسے اس کے خوشے میں رہنے دو ، مگر تھوڑا سا وہ جو تم کھالو۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا۔۔ : ”دَاَبًا“ ”تَزْرَعُوْنَ“ کی ضمیر سے حال ہے، یعنی ”دَاءِبِیْنَ“ مسلسل پے در پے محنت سے کاشت کرنے والے۔ یوسف ؑ نے تعبیر کے ساتھ ہی حل بھی بتایا۔ یہاں ”تَزْرَعُوْنَ“ بمعنی ”اِزْرَعُوْا“ ہے، یعنی ”سات سال مسلسل محنت سے کاشت کرو“ کیونکہ آگے آ رہا ہے کہ جو کچھ کاٹو اسے سٹوں میں رہنے دو۔ زیادہ تاکید کرنی ہو تو امر کو مضارع کی صورت میں لاتے ہیں، جیسے فرمایا : (وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ) [ البقرۃ : 83 ] ”اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے۔“ آج سے ہزاروں سال پہلے یوسف ؑ نے گندم کو گھن، سسری اور کیڑے وغیرہ سے محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ بتایا، جدید ترین محققین بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ : یعنی خوشوں سے صرف اتنی گندم صاف کرو جو کھانی ہے اور وہ بھی کم از کم، تاکہ زیادہ سے زیادہ محفوظ رہ سکے اور ان سات سالوں میں آدمیوں کے علاوہ بھس بھی جانوروں کے کام آسکے۔ کم کھانے کی تاکید پر طب اور شرع دونوں متفق ہیں۔ اس کی حد ہمارے رسول کریم ﷺ نے تو چند لقمے بیان فرمائی، فرمایا : (فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہٖ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ وَثُلُثٌ لِنَفْسِہٖ) [ ترمذی، الزھد، باب ما جاء في کراھیۃ کثرۃ الأکل : 2380، و صححہ الألبانی ]”اگر ضرور ہی زیادہ کھانا ہو تو پیٹ کا ایک حصہ کھانے، ایک پینے اور ایک سانس کے لیے رکھو۔“
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد بہت سخت سات برس آئیں گے، جو کھا جائیں گے جو کچھ تم نے ان کے لیے پہلے رکھا ہوگا مگر تھوڑا سا وہ جو تم محفوظ رکھو گے۔

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ۔۔ :”تُحْصِنُوْنَ“ ”حِصْنٌ“ قلعے کو کہتے ہیں، مراد حفاظت سے رکھنا ہے، یعنی خوش حالی کے سات سالوں کا ذخیرہ تم لوگ قحط کے سات سالوں میں چٹ کر جاؤ گے، مگر وہ تھوڑا سا جو تم آئندہ سال کے بیج کے لیے بڑی محنت سے بچا کر محفوظ رکھو گے۔
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور وہ اس میں نچوڑیں گے۔

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ۔۔ :”يُغَاثُ“ ”غَیْثٌ“ سے بھی ہوسکتا ہے اور ”غَوْثٌ“ سے بھی۔ ”غَیْثٌ“ سے ہو تو بارش برسائے جائیں گے اور ”غَوْثٌ“ سے ہو تو مدد کیے جائیں گے۔ ”يَعْصِرُوْنَ“ ”نچوڑیں گے“ یعنی اس سال وہ پھل جن سے رس نکلتا ہے، مثلاً انگور، لیموں وغیرہ اور وہ بیج جن سے تیل نکلتا ہے، مثلاً زیتون، سرسوں وغیرہ کثرت سے پیدا ہوں گے اور جانور بھی اچھا چارا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دیں گے۔ اس بنا پر بعض نے ”يَعْصِرُوْنَ“ کے معنی ”یَحْلِبُوْنَ“ (دودھ دو ہیں گے) کیے ہیں۔ یہ بات کہ قحط کے سات سالوں کے بعد ایک خوش حالی کا سال آئے گا، خواب سے زائد بتائی، یا تو وحی الٰہی کے ذریعے سے، یا خشک سالوں کی گنتی سات ہونے سے استدلال فرمایا کہ وہ سات تبھی رہتے ہیں جب ان کے بعد کم از کم ایک خوش حالی کا سال ہو اور اس سے بھی کہ اللہ کی رحمت کا تقاضا بھی شدت کے بعد آسانی کا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کافر کا خواب بھی سچا ہوتا ہے، اگر بادشاہ کا کافر ہونا ثابت ہو۔ اس سے پہلے دونوں قیدی جو مشرک تھے، ان کے خواب بھی سچے نکلے۔ امام بخاری ؓ نے بھی ”کِتَاب التَّعْبِیْرِ“ میں اس سے یہ استدلال فرمایا ہے : ”بَابُ رُؤْیَا أَہْلِ السُّجُوْنِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْکِ“ ”قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان۔“
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ، تو جب قاصد اس کے پاس آیا تو اس نے کہا اپنے مالک کے پاس واپس جا، پھر اس سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ : یعنی جب ساقی نے جا کر تعبیر بتائی تو بادشاہ نے کہا : ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ اس سے علم کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ حسن بےمثال قید اور مصیبت کا باعث بنا اور علم رہائی کا۔ دنیا میں جب یہ حال ہے تو آخرت میں علم نافع کی برکتوں کا آپ خود اندازہ فرما لیں۔ قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ۔۔ : یوسف ؑ نے قید سے نکل کر قاصد کے ساتھ جانے کے بجائے مطالبہ کیا کہ واپس جاؤ اور بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، یقیناً میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یوسف ؑ کا خیال تھا کہ شاید بادشاہ کو میرے قید میں بھیجے جانے یا عورتوں کے فریب کے معاملے کا علم ہی نہ ہو، دوسرے وزیروں نے ازخود ہی یہ سب کچھ کیا ہو، یا اگر علم ہو تو جس طرح بدنام کرکے قید کیا گیا اسی کے مطابق علم ہو۔ اسی طرح عام لوگوں میں بھی ممکن ہے کچھ لوگ ان کا قصور سمجھتے ہوں، اس لیے انھوں نے جب تک تحقیق کے ساتھ تہمت سے ہر طرح صفائی نہ ہو، قید سے نکلنے سے انکار کردیا۔ ہمارے رسول کریم ﷺ نے یوسف ؑ کے صبر کی تعریف فرمائی، چناچہ ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ یُوْسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِيْ لَأَجَبْتُہٗ) [ بخاری، التعبیر، باب رؤیا أہل السجون والفساد والشرک : 6992 ] ”اگر میں اتنی مدت قید خانے میں رہتا جتنی مدت یوسف ؑ رہے، پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں ضرور اس کی دعوت قبول کرتا۔“ 3 یوسف ؑ نے جو مطالبہ کیا کہ ”بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اپنے ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کا یہ فعل (عزیز کی بیوی ہاتھ کاٹنے والیوں میں شامل نہیں تھی) یوسف ؑ کے حسن سے بےخود ہو کر بےاختیاری میں نہیں ہوا، بلکہ یہ باقاعدہ ان کی سازش اور فریب تھا، جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بھی ذکر کیا ہے۔
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

اس نے کہا تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا ؟ انھوں نے کہا اللہ کی پناہ ! ہم نے اس پر کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی بیوی نے کہا اب حق خوب ظاہر ہوگیا، میں نے ہی اسے اس کے نفس سے پھسلایا تھا اور بلاشبہ وہ یقینا سچوں سے ہے۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ۔۔ : بادشاہ نے ان تمام خواتین کو طلب کرلیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران میں وہ معاملے کی پوری تحقیق کرچکا تھا اور یوسف کی بےگناہی اور عورتوں کے فریب سے آگاہ ہوچکا تھا، اس لیے اس نے یہ نہیں کہا کہ تمہارا قصور تھا یا یوسف کا، بلکہ ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ جب تم نے یوسف ؑ کو اس کے نفس سے پھسلایا تھا، تمہارے اس معاملے کی حقیقت کیا تھی ؟ یعنی آخر اس کا کیا جرم تھا جس کی وجہ سے اسے اتنی دیر قید خانے میں رکھا گیا ؟ وہ سب بیک زبان بولیں : ”اللہ کی پناہ ! ہم نے اس پر کوئی برائی معلوم نہیں کی۔“ ہاتھ کاٹنے والیوں نے جب یوسف ؑ کو کسی بھی قسم کی برائی سے پاک قرار دیا تو ہاتھ نہ کاٹنے والی عزیز مصر کی بیوی کو بھی بولنا پڑا، اس نے کہا، اب تو حق بالکل ظاہر ہوگیا، میں نے ہی اسے اس کے نفس سے پھسلایا تھا اور یقیناً وہ سچوں سے ہے۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ بیشک میں نے عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا۔

ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ۔۔ : عزیز مصر کی بیوی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں یہ اعتراف اس لیے کر رہی ہوں کہ اس کو (میرے خاوند کو) معلوم ہوجائے کہ اس کی عدم موجودگی میں میں نے فی الواقع اس کی خیانت نہیں کی اور نہ بڑی برائی واقع ہوئی ہے، ہاں، میں نے اس جو ان کو پھسلایا تھا، مگر اس نے سختی سے انکار کردیا۔ اس لیے میں اعتراف کر رہی ہوں، تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ میں نے بڑی خیانت کا ارتکاب نہیں کیا اور اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا۔ ہاں، میں اپنے آپ کو بالکل بری بھی نہیں کہتی، کیونکہ نفس برائی کی خواہش کرتا اور اس پر ابھارتا ہے، سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم کرے اور اسے بچا لے، بیشک میرا رب غفور و رحیم ہے۔ جس پر میرا رب رحم کرے، مراد یوسف ؑ ہیں۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”یہی قول زیادہ مشہور اور قصے کے سیاق اور کلام کے معنی و مفہوم کے زیادہ لائق اور مناسب ہے۔“ ماوردی نے اپنی تفسیر میں یہی بیان کیا ہے اور علامہ ابن تیمیہ ؓ نے اسی کی تائید کی ہے اور اس پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ قول عزیز کی بیوی ہی کا ہے مگر ”لِيَعْلَمَ“ سے مراد یہ ہے کہ یوسف کو معلوم ہوجائے، جب کہ وہ قید خانے میں ہے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی، نہ اسے کسی طرح مجرم بنایا ہے، بلکہ اپنی کوتاہی کا ہی اعتراف کیا ہے۔ یہ معنی ایک لحاظ سے زیادہ قریب ہے کہ عزیز کا اس سارے سلسلۂ کلام میں ذکر ہی نہیں۔ البتہ قریب ترین شخص جس کا ذکر اس نے کیا وہ یوسف ؑ ہیں : (اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ کلام (ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ) یوسف ؑ کا کلام ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صرف یہی قول بیان کیا ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جب ان عورتوں نے یوسف ؑ کے ہر برائی سے پاک ہونے کی شہادت دی اور عزیز کی بیوی نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو یوسف ؑ نے فرمایا کہ میں اس معاملے کی تحقیق تک قید خانے سے اس لیے نہیں نکلا تاکہ عزیز مصر کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی، ساتھ ہی تواضع کے طور پر فرمایا کہ میں اپنے آپ کو بالکل گناہ سے پاک نہیں کہتا، کیونکہ نفس تو یقیناً برائی پر ابھارتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں : ”پہلا قول (یعنی ”الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ“ سے ”غَفُوْرْ رَّحِیْم“ تک یہ سارا کلام عزیز کی بیوی کا ہے) ہی زیادہ قوی اور ظاہر ہے، کیونکہ (ان خواتین اور) عزیز کی بیوی کی ساری گفتگو بادشاہ کی مجلس میں ہوئی ہے اور اس وقت یوسف ؑ وہاں موجود نہیں تھے، بلکہ بادشاہ نے اس کے بعد انھیں بلوایا ہے۔“ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے اعتراف کیا تو ایک شخص نے قید خانے میں جا کر یوسف ؑ کو یہ بات بتائی تو انھوں نے فرمایا : (ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ۔۔) مگر یہ بات ہمارے پاس نہ قرآن مجید میں ہے، نہ حدیث رسول ﷺ میں اور اگر ان دونوں کے علاوہ اس خبر کا کوئی اور ذریعہ ہے تو اس کے سچ جھوٹ معلوم ہونے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ رہی یہ بات کہ عزیز کی بیوی رب تعالیٰ اور اس کی صفات غفور و رحیم ہونے کا ذکر کیسے کرسکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوسف ؑ کے زمانے کا بادشاہ مصر کے فرعونوں سے پہلے کا ہے اور ساری سورت میں بادشاہ یا اس کے وزراء میں سے کسی کے کفر کی تصریح کہیں نہیں، ہاں عوام میں شرک موجود تھا، جیسا کہ جیل کے خواب دیکھنے والے تھے۔ عزیز مصر نے بھی اپنی بیوی کو گناہ سے استغفار کرنے کی تلقین کی تھی اور ایک مشرک جبار بادشاہ یوسف ؑ جیسے شخص کا کبھی اتنا اکرام و اعزاز نہیں کرسکتا، جس کا کھلم کھلا کہنا ہو کہ میں نے اس قوم کی ملت کو ترک کر رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتی۔ ورنہ موسیٰ ؑ میں حسن ظاہر کے استثنا کے ساتھ یوسف ؑ کے کمالات سے کچھ زیادہ ہی کمالات ہوں گے، مگر اسی مصر کے ایک بادشاہ (فرعون) نے انھیں اور ان کی قوم کو مسلسل عذاب میں رکھا، حتیٰ کہ فرعون کو سمندر میں غرق کردیا گیا۔ [ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَ عِلْمُہُ أَتَّمُ ]
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتی، بیشک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ بیشک میرا رب بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ۔۔ : یہ عزیز مصر کی بیوی کے کلام کا آخری حصہ ہے۔ گویا عزیز مصر کی بیوی یہ کہنا چاہتی ہے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اپنے خاوند کی کوئی بڑی خیانت نہیں کی، بیشک میں نے یوسف کو پھسلانا چاہا تھا مگر کامیاب نہ ہوسکی، ہاں میں اپنے آپ کو پاک باز قرار نہیں دیتی، مجھ سے جتنی غلطی ہوئی اس کا اقرار و اعتراف کرتی ہوں، نفس کی شرارتوں سے تو وہی محفوظ رہ سکتا ہے جس پر اللہ کی خاص رحمت ہو (مراد یوسف ؑ ہیں)۔ 3 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی اللہ تعالیٰ کو اور اس کی صفات غفور و رحیم کو مانتی تھی اور نیکی اور گناہ کو بھی سمجھتی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کا قول نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ تو کافرہ تھی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو اس کے کفر کی کوئی دلیل ہمارے سامنے نہیں اور اگر ہو بھی تو مکہ کے کافر اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، زنا اور دوسرے قبائح کو گناہ سمجھتے تھے، پھر بھی مشرک تھے۔ آج کل بیشمار کلمہ گو آپ کو ایسے مل جائیں گے جو اللہ کو مانتے، اس سے استغفار کرتے اور گناہ کو گناہ سمجھتے ہیں، مگر پھر بھی سرتاپا شرک میں مبتلا ہیں۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے لیے خاص کرلوں، پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانتدار ہے۔

اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِيْ : یہاں سے یوسف ؑ کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوتا ہے، جب غلامی و قید ختم ہوئی اور آزادی اور حکومت و سلطنت عطا ہوئی۔ ”اَسْتَخْلِصْهُ“ یہاں بادشاہ ”اُخْلِصْہُ“ بھی کہہ سکتا تھا، جیسا کہ (اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ) [ یوسف : 24 ] میں باب افعال استعمال ہوا ہے۔ ”اَسْتَخْلِصْهُ“ میں سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہیں کہ ”میں اس کو زیادہ سے زیادہ اپنے لیے خاص کرلوں۔“ بادشاہ نے جب یوسف ؑ سے اپنے خواب کی صحیح تعبیر سنی، پھر بلانے کے باوجود کئی سال بےگناہ قید رہ کر بھی اپنی بےگناہی ثابت ہونے سے پہلے قید خانے سے نکلنے سے انکار دیکھا، پھر تمام متعلقہ خواتین حتیٰ کہ عزیز کی بیوی سے ان کی پاک دامنی اور بےگناہی کی تصدیق سنی تو ان کی شخصیت کا اتنا مشتاق ہوا کہ اس نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ، میں اسے اپنے لیے خاص کرلوں گا۔ پھر جب یوسف ؑ نے بنفس نفیس اس سے گفتگو کی تو بادشاہ نے ان کے علم کی وسعت، اخلاق کی خوبی اور دوسرے اوصاف حسنہ کا عین الیقین ہونے کے بعد کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں مکین و امین، یعنی صاحب اقتدار اور امانت دار ہو۔ ”مَكِيْنٌ“ اس ”مَکَانَۃٌ“ (مرتبے) والے کو کہتے ہیں جو صرف ایک یا چند ایک کے سوا کسی کو حاصل نہ ہو۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال دیکھیے، جب وحی کے سلسلے میں جبریل ؑ کا ذکر آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۙاِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۝ ۙذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ 20 ۝ ۙمُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ) [ التکویر : 19 تا 21 ] ”بیشک یہ یقیناً ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کا قول ہے جو بہت معزز ہے۔ بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، امانت دار ہے۔“ اور آپ جانتے ہیں کہ فرشتوں میں جبریل ؑ کو کیا مرتبہ حاصل ہے کہ بنی آدم کے تمام انبیاء و رسل کی طر فاللہ کی جانب سے انھیں رسول چنا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا، فرمایا : (لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى) [ النجم : 18 ] ”بلاشبہ یقیناً اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔“ ان سے بڑھ کر اللہ کا قرب رکھنے والا کوئی فرشتہ ہمیں معلوم نہیں۔ ”اَمِيْنٌ“ یعنی اپنی ذات، مملکت کے معاملات و اسرار اور سب لوگوں کے جان و مال اور ان کے درمیان عدل و انصاف میں تم ہمارے ہاں مکمل قابل اعتماد ہو، تمہاری امانت پر ہمیں پورا بھروسا ہے۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

اس نے کہا مجھے اس زمین کے خزانوں پر مقرر کر دے، بیشک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں۔

قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ۔۔ : ”الْاَرْضِ“ میں الف لام عہد کا ہے ”اس زمین“ یعنی مجھے سرزمین مصر کے خزائن پر مقرر کردیجیے، کیونکہ میں ان کی پوری طرح حفاظت کرسکتا ہوں اور اس کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ”خزائن“ ”خَزَانَۃٌ“ کی جمع ہے، اس سے مراد یا تو ان گوداموں کا نظام ہے جو خوش حالی کے سالوں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے اور غلہ سنبھالیں گے اور قحط کے سالوں میں ان سے غلہ تقسیم کیا جائے گا، کیونکہ اس کے لیے بہت بڑی منصوبہ بندی، محنت و امانت اور حساب کتاب میں مہارت کی ضرورت ہے، یا مراد سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار ہیں۔ قرآن میں ”خزائن“ کا لفظ عموماً اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے : (وَلِلّٰهِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) [ المنافقون : 7 ] ”حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں۔“ اور دیکھیے سورة انعام (50) ، بنی اسرائیل (100) ، صٓ (9) ، طور (37) اور حجر (21) اور یہی معنی یہاں صحیح ہے، کیونکہ خوش حالی کے سالوں میں گوداموں کی تعمیر، پھر سات سال تک پورے ملک کے لوگوں سے ضرورت سے زائد گندم خریدنا، حکومت کی آمدنی کے تمام ذرائع پر مکمل اختیار کے بغیر ممکن نہ تھا، تاکہ ملک بھی چلتا رہے اور جنس کی خریداری کے لیے رقم بھی مہیا ہو سکے اور گودام بھی تعمیر ہو سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یوسف ؑ نے دیکھا کہ بادشاہ کی نگاہ میں ان کی قدر و منزلت بڑھ گئی ہے اور وہ انھیں ہر طرح کے اختیارات سونپنے کو تیار ہے تو اپنی اہلیت پر اعتماد کرتے ہوئے یہ پیش کش مناسب سمجھی کہ سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار میرے حوالے کردیے جائیں، بلکہ آئندہ آیات (100، 101) سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار مصر میں یوسف ؑ ہی تخت نشین ہوگئے تھے، یا کم از کم عملاً حکومت انھی کی تھی اور یہ پیش کش اس لیے بھی تھی کہ یوسف ؑ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے، اس ملک کے تمام اختیارات پر قبضہ ان کے لیے اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ توحید کی اشاعت اور شرک کا استیصال کرسکیں۔ 3 یہاں ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یوسف ؑ نے خود عہدہ مانگا جب کہ رسول اللہ ﷺ نے عہدہ مانگنے یا اس کی حرص رکھنے والے کے متعلق فرمایا : (لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَہٗ) [ بخاری، الإجارۃ، باب استئجار الرجل الصالح۔۔ : 2261 ]”ہم ایسے شخص کو ہرگز عہدہ نہیں دیں گے جو اس کا ارادہ رکھے۔“ اس کے کئی جواب ہیں جن میں سے سب سے صحیح اور مضبوط جواب یہ ہے کہ بادشاہ نے یوسف ؑ کو عہدے پر تو فائز کر ہی دیا تھا : (اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ) [ یوسف : 54 ] ”بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانت دار ہے۔“ جس طرح آج کل پہلے وزیر چن لیے جاتے ہیں اور پھر وہ اپنے لیے شعبے کا انتخاب خود کرتے ہیں، اسی طرح جب بادشاہ نے انھیں اپنے ہاں پوری طرح صاحب اقتدار اور امانت دار قرار دے دیا تو یوسف ؑ جانتے تھے کہ اس منصب کے تقاضے خزانے پر مکمل اختیار کے بغیر پورے ہو ہی نہیں سکتے، سو ان کے لیے یہ اختیار طلب کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ خلاصہ یہ کہ انھوں نے عہدہ ہرگز نہیں مانگا، بلکہ انھیں جب عہدے سے نوازا گیا تو انھوں نے اس کی عملی صورت پیش فرمائی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کہ انھوں نے عہدہ مانگا ہے تو ٹھیک ہے جو شخص یوسف ؑ جیسے مقام پر فائز ہو وہ بیشک عہدہ مانگ لے، جو ان جیسے اوصاف رکھتا ہو، انسان کی سب سے منہ زور قوت (جنس) سمیت تمام بہیمانہ قوتوں مثلاً غصے، خیانت اور ظلم وغیرہ پر ان کی طرح قابو رکھتا ہو اور نبوت سے بھی سرفراز ہو، کیونکہ ایسی صورت میں نہ اس عہدے کی ذمہ داری کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے نہ خیانت کا۔ دوسرا شخص رسول اللہ ﷺ کے حکم پر عمل کرے اور آرام سے رہے، خود اپنے آپ کو اس آزمائش میں نہ ڈالے جس کا انجام رسول اللہ ﷺ نے ہمیں واضح طور پر بتادیا۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْ أَمِیْرِ عَشَرَۃٍ إِلاَّ یُؤْتٰی بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُوْلاً لَا یَفُکُّہٗ إِلاَّ الْعَدْلُ أَوْ یُوْبِقُہُ الْجَوْرُ) [ مسند أحمد : 2؍431، ح : 9586۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍237، ح : 2621 ]”کوئی بھی دس آدمیوں کا امیر ہو اسے طوق پہنا کر لایا جائے گا، عدل کے سوا کوئی چیز اسے نہیں چھڑائے گی، یا ظلم اسے ہلاک کر دے گا۔“
Ayahs 12:56–57

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف کو اقتدار عطا فرمایا، اس میں سے جہاں چاہتا جگہ پکڑتا تھا۔ ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں پہنچا دیتے ہیں اور ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور یقینا آخرت کا اجر ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔

وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ : اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ کو سلطنت مصر میں ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے اور وہ ایک کافر بادشاہ کے وزیر و ملازم نہیں تھے، ہوسکتا ہے کہ بادشاہ نے از خود ہی زمام حکومت ان کے سپرد کردی ہو۔ ایک مشرک بادشاہ اور ایک نبی کا اتنا قرب ممکن ہی نہیں، اگر بادشاہ کو کافر فرض کیا جائے تو ممکن ہی نہیں کہ انسانوں میں سے اللہ کا سب سے بڑا دشمن (کافر بادشاہ) اللہ کے اس وقت کے سب سے بڑے دوست (نبی) سے اتنی دلی محبت رکھ کر نباہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فیصلہ فرمایا ہے : (اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيْنًا) [ النساء : 101 ] ”بیشک کافر لوگ ہمیشہ سے تمہارے کھلے دشمن ہیں۔“ سورة کافرون پر نظر ڈال لیں اور سورة مجادلہ کی آخری آیت پر بھی۔ سورة ممتحنہ کی آیت (4) میں یوسف ؑ کے جد امجد ابراہیم ؑ نے تو مسلم و کافر کے درمیان واضح ابدی بغض و عداوت کی صراحت فرما دی ہے۔ کافر بادشاہ اور نبی کے درمیان عداوت و محبت کا منظر دیکھنا ہو تو موسیٰ ؑ اور فرعون کو دیکھ لیں، حالانکہ موسیٰ ؑ نے اس گھر میں بیٹے کی حیثیت سے پرورش پائی تھی۔ بادشاہ تو دور کی بات ہے کافر سرداران قوم ایک لمحہ انبیاء اور مسلمانوں کو برداشت نہیں کرسکے اور نہ کرسکتے ہیں۔ سوائے ایسے مسلمانوں کے جو ان کے ہر عمل بد پر ان کی مدد کریں، یا کم از کم خاموش رہیں۔ اللہ کے نبی یوسف ؑ سے اس کی توقع وہی شخص کرسکتا ہے جو یوسف ؑ کا خواتین مصر کے مطالبے کے مقابلے میں سال ہا سال کی قید گوارا کرنا اور بادشاہ کے بلانے کے باوجود تحقیق کے بغیر قید خانے سے نکلنے سے انکار نہ جانتا ہو۔ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ۔۔ : لفظ ”يَتَبَوَّاُ“ سے یوسف ؑ کو مصر میں حاصل ہونے والا اختیار و اقتدار سمجھنے کے لیے اس آیت کو ملاحظہ فرمائیں جس میں ذکر ہے کہ جنتی جنت میں داخلے کے بعد کیا کہیں گے : (وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ) [ الزمر : 74 ] ”اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنادیا کہ ہم (اس) جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنالیں۔“ جنت جیسا اختیار نہ سہی مگر اس سے اس لفظ کی وسعت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ عزیز مصر کی بیوی سے یوسف ؑ کا نکاح ہوگیا تھا، مگر محدثین کے نزدیک یہ روایات قابل اعتبار نہیں۔ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ وَلَاَجْرُالْاٰخِرَۃِ۔۔ : یعنی دنیا و آخرت دونوں میں انھیں اپنے نیک اعمال کا بدلہ ملتا ہے، اس آیت کے سلسلے میں شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ جواب ہوا ان کے سوالوں کا کہ اولاد ابراہیم اس طرح شام سے مصر آئی اور بیان ہوا کہ بھائیوں نے یوسف ؑ کو گھر سے دور پھینکا، تاکہ ذلیل ہو، اللہ نے زیادہ عزت دی اور ملک پر زیادہ اختیار دیا ویسا ہی ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ ہوا۔“ (موضح)
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف کے بھائی آئے، پھر اس کے پاس داخل ہوئے تو اس نے انھیں پہچان لیا اور وہ اسے نہ پہچاننے والے تھے۔

وَجَاۗءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ : یہاں اللہ تعالیٰ نے خوش حالی کے سالوں کا، ان میں یوسف ؑ کے حسن انتظام کا اور اس سے متعلق سب باتوں کا ذکر چھوڑ دیا، کیونکہ اصل مقصود یہ تھا کہ انبیاء کو اپنوں کے ہاتھوں کیا کچھ اٹھانا پڑتا ہے اور آخر کار کس طرح ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور حسن انجام کا اہتمام ہوتا ہے۔ درمیان میں گزرنے والے عرصے کا اندازہ خود بخود ہو رہا ہے، اس لیے اب خوش حالی کے سالوں کے ختم ہونے کے بعد قحط کے دوران بھائیوں کی آمد کی بات شروع فرمائی، جس سے بات خودبخود سمجھ میں آرہی ہے کہ قحط کی وسعت مصر سے نکل کر اردگرد کے ممالک فلسطین و شام وغیرہ تک پہنچ گئی تھی اور مصر کے سوا کہیں سے غلہ نہیں ملتا تھا، اس لیے یہ بھائی غلہ خریدنے کے لیے مصر آئے تھے۔ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ کتنی احتیاط سے غلہ تقسیم کر رہے تھے کہ وہ غلہ لینے کے لیے آنے والوں سے خود ملتے اور قیمت وصول کرنے کے باوجود ایک اونٹ فی کس سے زیادہ غلہ نہیں جانے دیتے تھے۔ چھوٹے بھائی کو چھوڑ کر سب کے آنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ دس اونٹوں کا غلہ مل جائے گا اور شاید یہ بھی ہو کہ راستے میں دشمن سے محفوظ رہ سکیں۔ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ : ”فَعَرَفَهُمْ“ جملہ فعلیہ ہے جس میں تجدد و حدوث ہوتا ہے، یعنی یوسف ؑ نے اپنی یادداشت اور ذکاوت سے دیکھتے ہی انھیں پہچان لیا اور دوسرا جملہ اسمیہ ہے جس میں دوام ہوتا ہے کہ بھائی واپسی تک ان سے ناواقف رہے، کیونکہ بہت مدت گزر گئی تھی، چھوٹی عمر میں ان سے الگ ہوئے تھے۔ دوسرے یہ چیز تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ جس بھائی کو وہ کنویں میں ڈال گئے تھے وہ آج مصر کا مختار مطلق ہوگا۔
Ayahs 12:59–60

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب اس نے انھیں ان کے سامان کے ساتھ تیار کردیا تو کہا میرے پاس اپنے اس بھائی کو لے کر آنا جو تمہارے باپ سے ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ بیشک میں ماپ پورا دیتا ہوں اور میں بہترین مہمان نواز ہوں۔

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

پھر اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لیے میرے پاس نہ کوئی ماپ ہوگا اور نہ میرے قریب آنا۔

وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ۔۔ : ”جَھَازٌ“ وہ سامان جس کی مسافر کو ضرورت ہوتی ہے۔ یوسف ؑ نے کہا : (ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ) یہ نہیں کہا ”بِأَخِیْکُمْ“ کہ اپنے بھائی کو جو تمہارے باپ سے ہے لے کر آنا، بلکہ ”بِاَخٍ لَّكُمْ“ کہا، یعنی ”اَخٌ“ کو نکرہ رکھا، تاکہ بھائیوں کے سامنے یہی ظاہر ہو کہ عزیز مصر اس بھائی کو نہیں جانتا۔ یہ سب سے چھوٹے اور یوسف ؑ کے سگے بھائی تھے۔ ان کا نام بنیامین مشہور ہے جس کی کوئی پختہ دلیل نہیں، جیسا کہ عزیز مصر کا نام ”فوطیفار“ ، اس کی بیوی کے نام ”زلیخا“ یا ”راعیل“ ، بادشاہ کا نام ”ریان بن ولید“ اور یوسف ؑ کے دوسرے بھائیوں کے ناموں کی دلیل اسرائیلی روایات کے سوا کچھ نہیں، جن پر اعتبار ممکن نہیں۔ یوسف ؑ کی اس فرمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ خود بھائیوں نے یوسف ؑ کو اپنے خاندان کا تعارف کرواتے ہوئے اس بھائی کا ذکر کیا۔ اَلَا تَرَوْنَ۔۔ : چھوٹے بھائی کو بلوانے کے لیے یوسف ؑ نے اپنی تجارتی ایمان داری ”اُوْفِي الْكَيْلَ“ اور بہترین مہمان نوازی کا ذکر بھی کیا اور اگلی آیت میں دھمکی بھی دی کہ اس بھائی کو ساتھ نہ لائے تو نہ غلہ ملے گا اور نہ مجھ سے ملاقات کی امید رکھنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ نے غلہ لینے کے لیے آنے والے تمام لوگوں کے لیے مہمان نوازی کا، ان کے ٹھہرنے اور کھانے پینے کا بہترین انتظام کر رکھا تھا اور بھائی تو پھر بھائی تھے۔
Ayah 12:61

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہم اس کے باپ کو اس کے بارے میں ضرور آمادہ کریں گے اور بیشک ہم ضرور کرنے والے ہیں۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ۔۔ : یعنی ہم اس کے باپ کو ہر طرح سے آمادہ کریں گے۔ ”سین“ مستقبل کا معنی دینے کے علاوہ تاکید کے لیے بھی آتا ہے، اس لیے ترجمہ ”ضرور“ کیا گیا ہے۔ ”وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ“ میں یہ کام کرنے کا وعدہ تین طرح کی تاکید سے کیا ہے، ”اِنَّ“ ، لام تاکید اور جملہ اسمیہ سے۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور اس نے اپنے جوانوں سے کہا ان کا مال ان کے کجاو وں میں رکھ دو ، تاکہ وہ اسے پہچان لیں جب اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائیں، شاید وہ پھر آجائیں۔

وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ۔۔ : ”فِتْیَانٌ“ ”فَتًی“ کی جمع ہے، دیکھیے (آیت 36) ”رِحَالٌ“ ”رَحْلٌ“ کی جمع ہے، وہ کجاوہ جو اونٹ پر سوار ہونے کے لیے رکھا جاتا ہے اور اس سامان کو بھی کہہ لیتے ہیں جو اونٹ پر رکھا جائے، اس لیے اونٹ کو ”رَاحِلَۃٌ“ کہہ لیتے ہیں۔ ”بِضَاعَۃٌ“ وہ رقم یا سامان جس کے ساتھ کوئی چیز خریدی جائے، یعنی اپنے جوانوں کو وہ رقم یا سازوسامان جو وہ غلہ خریدنے کے لیے قیمت کے طور پر لائے تھے، ان کو بتائے بغیر بطور احسان ان کی بوریوں میں رکھ دینے کا حکم دے دیا اور اس لیے بھی کہ بھائیوں کی حالت دیکھ کر گھر کی تنگ دستی کا اندازہ ہوگیا، جس کا ذکر تیسری دفعہ آنے پر انھوں نے خود کیا۔ دیکھیے آیت (88) ”لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُوْنَهَآ“ شاید وہ ان درہموں وغیرہ کو ان کی ساخت یا مہر یا تھیلیوں سے پہچان لیں اور اس احسان اور رقم کی موجودگی کی وجہ سے دوبارہ آجائیں۔
Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

تو جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو انھوں نے کہا اے ہمارے باپ ! ہم سے ماپ روک لیا گیا ہے، سو تو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج کہ ہم (غلے کا) ماپ لائیں اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔

فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ۔۔ : قحط میں سب سے پہلی فکر جان بچانے کی تھی اور نظر آ رہا تھا کہ یہ غلہ کتنی دیر چلے گا، اس لیے واپس جاتے ہی ابھی سامان نہیں کھولا اور سب سے پہلے یہ بات کی کہ ابا جان آئندہ ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے، اس کے بعد سارا قصہ سنایا اور بتایا اب غلہ ملنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں تو ہمیں غلہ مل جائے گا۔ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ : اس میں بھی تین تاکیدیں ہیں، یعنی یوسف کی طرح اس کے بارے میں فکر نہ کیجیے، ہمیں پورا احساس ہے، اس لیے ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔