Ayah 12:64قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ۔۔ : فرمایا، تم جب یوسف ؑ کو لے گئے تھے تب بھی تم نے یہی کہا تھا کہ ”وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ“ پھر تم نے اس کی اچھی حفاظت کی کہ آج تک اس بےچارے کی کوئی خیر خبر نہیں، تو کیا اس کے متعلق بھی تمہاری حفاظت کا ایسا ہی اعتماد کروں، جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے متعلق تم پر اعتبار کیا تھا۔
فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا۔۔ : یعنی میں اسے بحالت مجبوری غلہ کی ضرورت کے پیش نظر تمہارے ساتھ بھیج رہا ہوں، سو میں اسے تمہاری حفاظت میں نہیں بلکہ اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں، وہ ارحم الراحمین ہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یعقوب ؑ نے یوسف ؑ کو بھائیوں کے ساتھ بھیجتے وقت صرف یہ کہا تھا : (وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ) [ یوسف : 13 ] (اور میں ڈرتا ہوں کہ اسے کوئی بھیڑیا کھاجائے) اب جو اس کے بھائی کو ”فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا ۠ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ“ کہتے ہوئے اللہ کی حفاظت میں دیا تو نہ صرف یوسف کا بھائی بلکہ یوسف ؑ بھی مل گئے۔
Ayah 12:65وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ۔۔ : جب انھوں نے اپنا سامان کھولا اور دیکھا کہ جو کچھ وہ بطور قیمت لے کر گئے تھے پورا ہی انھیں واپس دے دیا گیا ہے، تو انھیں اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ بھیجنے کے لیے مزید اصرار کرنے اور اطمینان دلانے کا موقع مل گیا۔ چناچہ انھوں نے کہا، ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے، ہمارا مال ہمیں واپس مل گیا، اب قیمت موجود ہے، چھوٹا بھائی ساتھ جائے تو ہم سارے اہل خانہ کے لیے غلہ لے آئیں گے، ایک اونٹ زائد بھی مل جائے گا، ورنہ گیارہ کہاں ایک بھی نہیں ملے گا، ایسی صورت میں ہم بھائی کو کیوں نقصان پہنچائیں گے۔
ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ: اس کے دو معنی کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ یہ دس اونٹ غلہ جو ہم لائے ہیں کب تک چلے گا، یہ تو بہت تھوڑا ہے، اس لیے ہمیں ہر صورت دوبارہ جانا پڑے گا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اس طرح ہمارے لیے ایک اونٹ بھر غلہ مزید لانا بالکل آسان ہوگا۔
Ayah 12:66قَال اللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ : ”وَكِيْلٌ“ بروزن ”فَعِیْلٌ“ بمعنی مفعول ہے، یعنی ”مَوْکُوْلٌ اِلَیْہِ“ جس کے سپرد اپنا کام کردیا جائے۔ یعقوب ؑ نے ایک طرف بیٹوں سے پختہ عہد، یعنی قسمیں لے لیں اور ظاہری اسباب سے پورا وثوق حاصل کرلیا اور دوسری طرف معاملہ اللہ کے سپرد کر کے بھروسا اسی پر رکھا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اسے پورا کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور جو جان بوجھ کر بدعہدی یا خیانت کرے گا وہ خود اسے سزا دے گا، اللہ پر توکل کا صحیح مطلب بھی یہی ہے۔
Ayah 12:67وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا۔۔ : نہ تو آیت کے الفاظ میں اس چیز کی وضاحت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی سے اس کا پتا چلتا ہے کہ یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں کو یہ حکم کیوں دیا کہ وہ ایک دروازے سے نہیں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ صحرا کے پروردہ تنومند گیارہ نوجوان ایک ہی دروازے سے اکٹھے گزریں گے تو ان کی پڑتال زیادہ ہوگی۔ انھیں رہزنوں کا گروہ بھی سمجھا جاسکتا ہے، اگر شک یا حسد کی بنا پر گرفتار ہوئے تو یوسف ؑ تک ایک بھی نہیں پہنچ سکے گا، پھر گرفتار شدگان کی رہائی کی جدوجہد اجنبی وطن میں کون کرے گا، غرض کئی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ مگر اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ یعقوب ؑ کو اپنے صحت مند، قوی، جوان اور خوب صورت بیٹوں کے اکٹھے داخل ہونے پر نظر بد لگنے کا خطرہ تھا۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”یہ ٹوک (نظر بد) سے بچنے کا طریقہ بتایا اور توکل اللہ پر کیا، ٹوک لگنی غلط نہیں اور نظر بد سے بچاؤ کرنا درست ہے۔“ (موضح) ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْعَیْنُ حَقٌّ وَلَوْ کَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْہُ الْعَیْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوْا) [ مسلم، السلام، باب الطب والمرض والرقي : 2188 ]”نظر لگنا ثابت شدہ بات ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے نکل سکتی تو نظر اس سے آگے نکل جاتی اور جب تم سے غسل کے لیے کہا جائے تو غسل کرو۔“
نبی ﷺ کے زمانے میں بہت سے لوگوں کو نظر بد سے نقصان کا پہنچنا ثابت ہے۔ دراصل نظر لگانے والے کی آنکھ سے کوئی ایسی تاثیر رکھنے والی شعاع نکلتی ہے جو نشانہ بننے والے کو نقصان پہنچاتی ہے، جیسا کہ اب لیزر (شعاع) سے پتھر بھی توڑ دیا جاتا ہے۔ یہ حسد کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اور اپنے پیاروں کو بھی لگ جاتی ہے، کسی کی آنکھ میں یہ تاثیر زیادہ ہوتی ہے کسی میں کم۔ بچوں پر یہ زیادہ اثر اندازہوتی ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ نے ایک ہدایت تو یہ دی ہے کہ کوئی چیز اچھی لگے تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے، مثلاً : (تَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْہِ) یا اپنی زبان میں کہہ دے ”یا اللہ ! اس میں برکت فرما۔“ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ کوئی اپنے خوب صورت باغ وغیرہ میں داخل ہو تو یہ کہے : (مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ) [ الکھف : 39 ] اس آیت سے یہی الفاظ اپنی ہر پیاری چیز پر پڑھنے کی ترغیب بھی ملتی ہے، اس سے وہ چیز نظربد سے محفوظ رہے گی۔ اگر نظر لگ جائے تو رسول اللہ ﷺ سے اسے دور کرنے کے دو طریقے ثابت ہیں، ایک تو یہ ہے کہ اگر معلوم ہوجائے کہ کس کی نظر لگی ہے تو اس سے غسل کروا کر وہ پانی نظر کے مریض پر ڈالا جائے، جیسا کہ اوپر صحیح مسلم کی حدیث میں گزرا، یا کم از کم اس کا چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں کہنیاں، دونوں گھٹنے، پیروں کی انگلیاں اور تہ بند کے اندر کا حصہ کسی برتن میں دھو کر وہ پانی مریض پر ڈالا جائے (تو وہ تندرست ہوجائے گا)۔ [ الموطأ، العین، باب الوضوء من العین : 2 ] دوسرا طریقہ توحید پر مبنی دم ہے۔ عوف بن مالک راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا بَأْسَ بالرُّقٰی مَا لَمْ یَکُنْ فِیْہِ شِرْکَ) [ مسلم، السلام، باب لا بأس بالرقٰي۔۔ : 2200 ] ”دموں میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ وہ شرک نہ ہوں۔“ مشرک صوفیوں اور گدی نشینوں کے بجائے خود ہی مسنون دم کرلیا کریں، یہاں چند مسنون دم ضرورت اور فائدے کے لیے نقل کیے جاتے ہیں : 1 عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حسن و حسین ؓ کو پناہ دلواتے (دم کرتے) اور فرماتے : ”تم دونوں کا باپ (ابراہیم ؑ اسماعیل اور اسحاق ؑ کو ان کلمات کے ساتھ پناہ دلواتا (دم کرتا) تھا : (أَعُوْذُ بِکَلِمَات اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَھَامَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب : 3371 ] ”میں پناہ طلب کرتا ہوں اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر اس آنکھ سے جو نظر لگانے والی ہے۔“ ابوداؤد (4737) اور ترمذی (2060) میں شروع کے لفظ یہ ہیں : (أُعِیْذُکُمَا بِکَلِمَات اللّٰہِ التَّامَّۃِ) یعنی میں تم دونوں کو دم کرتا ہوں۔ اگر ایک کو دم کرے تو ”أُعِیْذُکَ“ کہہ لے۔ 2 ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ جبریل ؑ نبی ﷺ کے پاس آئے، کہا : ”اے محمد ! آپ بیمار ہوگئے ہیں ؟“ کہا : ”ہاں !“ تو انھوں نے کہا : (بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَيْءٍ یُؤْذِیْکَ ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ ، اَللّٰہُ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ) [ مسلم، باب الطب والمرض والرقٰی : 2186 ] ”میں اللہ ہی کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو تجھے تکلیف دے رہی ہے اور ہر حسد کرنے والے نفس یا آنکھ کے شر سے، اللہ تجھے شفا دے۔ اللہ ہی کے نام سے میں تجھے دم کرتا ہوں۔“ مسند احمد (5؍323، ح : 22826) میں عبادہ بن صامت ؓ سے ہے کہ آپ ﷺ کو بخار تھا، پچھلے پہر جبریل ؑ نے دم کیا، شام کو آپ بہترین حالت میں ہوگئے۔ 3 آسمان سے اترنے والی تمام کتابوں میں سے سورة فاتحہ سب سے عظیم سورت ہے۔ صحیح بخاری میں ہے، ایک قبیلے کے سردار کو (جنھوں نے صحابہ کرام ؓ کے قافلے کی مہمان نوازی سے انکار کردیا تھا) سانپ نے ڈس لیا۔ ابوسعید خدری ؓ نے سورة فاتحہ پڑھ کر اسے دم کیا، وہ بالکل ٹھیک ہوگیا تو صحابہ نے ان سے طے کی ہوئی تیس بکریاں وصول کیں۔ [ بخاری، الإجارۃ، باب ما یعطي في الرقیۃ علی أحیاء العرب۔۔ : 2276] ابوداؤد میں ہے کہ خارجہ بن صلت کے چچا رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر مسلمان ہوگئے، واپسی پر ان کا گزر ایک قوم پر ہوا، جہاں ایک پاگل لوہے کی زنجیر کے ساتھ بندھا ہوا تھا، انھوں نے ان سے دم کی درخواست کی تو انھوں نے صرف سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔ صبح و شام تین دن سورة فاتحہ پڑھ کر جمع شدہ تھوک اس پر پھینکتے رہے تو وہ تندرست ہوگیا اور ایسا گویا اسے رسیوں سے کھول دیا گیا ہو، تو انھوں نے ان کو سو بکریاں دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کُلْ فَلَعَمْرِيْ مَنْ أَکَلَ بِرُقْیَۃِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَکَلْتَ بِرُقْیَۃِ حَقٍّ)[أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقی : 3901 ] ”کھالو، میری عمر کی قسم ! لوگ تو باطل دم کے ساتھ کھاتے ہیں، تم نے حق دم کے ساتھ کھایا ہے۔“ اس لیے ہر بیماری، نظر ہو یا کوئی اور سورة فاتحہ جیسا عظیم دم موجود ہونے کی صورت میں اگر کوئی مشرکوں بدعتیوں کے پاس جائے تو اس پر افسوس ہے۔ 4 سورة فلق اور سورة ناس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے عقبہ بن عامر ؓ سے فرمایا : (یَا عُقْبَۃُ ! تَعَوَّذْ بِھِمَا فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِھِمَا) [ أبوداوٗد، الوتر، باب فی المعوذتین : 1463 ] ”اے عقبہ ! ان دونوں کے ساتھ پناہ پکڑ، کیونکہ کسی پناہ پکڑنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ نہیں پکڑی۔“ کتب احادیث میں اور بھی دم موجود ہیں جو حصن المسلم اور ادعیہ و اذکار کی دوسری کتابوں میں موجود ہیں۔
وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ۔۔ : اور میں اللہ کی طرف سے آنے والی کوئی چیز تم سے ہٹا نہیں سکتا، بلکہ اس نے جو کچھ تمہاری تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہے گا، مگر چونکہ آدمی کا فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو خرابی سے بچنے کی تدبیر کرے، اگرچہ اصل بھروسا تدبیر پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت پر ہونا چاہیے، کیونکہ اسباب بھی تب ہی کام آتے ہیں جب اللہ تعالیٰ چاہے۔ سو تدبیر کرنا بھی دراصل اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگنے کا نام ہے۔ ”الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا“ تدبیر ہے اور ”میں اللہ سے آنے والی کوئی چیز تم سے ہٹا نہیں سکتا“ تقدیر پر ایمان ہے، جس کا نتیجہ اسی پر توکل ہے۔
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ۔۔ : یہاں حکم سے مراد کونی اور قدری حکم ہے جس پر یہ کائنات چل رہی ہے، اس میں بندے کا کچھ اختیار نہیں۔ ”عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ“ یعنی میری طرح تم پر اور سب لوگوں پر بھی لازم ہے کہ صرف اسی پر بھروسا کریں، اپنی تدبیر پر غرور نہ کریں، اگرچہ شرعی حکم بھی اللہ ہی کا ماننا لازم ہے مگر اس میں اللہ تعالیٰ نے امتحان کے لیے بندے کو کچھ اختیار دیا ہے جس پر باز پرس ہوگی۔
پہلی دفعہ یعقوب ؑ نے انھیں مختلف دروازوں سے داخل ہونے کا حکم نہیں دیا، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس وقت قحط کی وجہ سے تمام بھائیوں کی صحت اچھی نہیں ہوگی، اب وہ بہترین صحت کے ساتھ تھے اور مزید یہ کہ وہ چھوٹے بھائی کو ساتھ لے جا رہے تھے جو یوسف ؑ کے بعد یعقوب ؑ کو سب سے زیادہ پیارے اور یوسف ؑ کی ماں کے بطن سے تھے۔
Ayah 12:68وَلَمَّا دَخَلُوْا۔۔ : ”حَاجَةً“ ”خواہش“ کیونکہ انسان اس کا محتاج ہوتا ہے۔
وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی اکثر لوگ اس سرّ الٰہی (تقدیر) کی حقیقت کو نہیں جانتے اور اپنی تدبیر پر نازاں رہتے ہیں، یا پھر اللہ پر بھروسا کرنے کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ سرے سے کوئی تدبیر اختیار ہی نہ کی جائے، جیسا کہ اکثر صوفیوں کا حال یا دعویٰ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یعقوب ؑ نے تدبیر اور توکل کے صحیح مفہوم کو سمجھ کر اپنے بیٹوں کو نصیحت کی تھی تو وہ دراصل ہماری اس تعلیم کا نتیجہ تھا جو ہم نے اسے دی تھی، یعنی بذریعہ وحی۔ شاہ عبدالقادر ؓ لکھتے ہیں : ”تقدیر پھر بھی ان پر آگئی، دفع نہ ہوئی، سو جن کو علم ہے ان کو تقدیر کا یقین اور اسباب کا بچاؤ دونوں ہوسکتے ہیں اور بےعلم سے ایک ہو تو دوسرا نہ ہو۔“ (موضح)
Ayah 12:69وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ۔۔ : اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یوسف ؑ نے اپنی حسن تدبیر سے دوسرے بھائیوں کو اس طرح ٹھہرایا کہ چھوٹا بھائی اکیلا رہ گیا تو اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا۔ مفسرین نے عام طور پر لکھا ہے کہ بھائیوں کو دو ، دو کرکے ایک ایک جگہ ٹھہرایا، مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھیں پانچ پانچ کرکے ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا ہو یا کوئی اور ترتیب بنائی ہو۔ (واللہ اعلم) کیونکہ دو ، دو والی ترتیب قرآن و حدیث میں نہیں آئی۔
قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ۔۔ : ظاہر ہے کہ جب یوسف ؑ اپنے بھائی کے ساتھ علیحدہ ہوئے اور اسے بتایا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں تو اس نے اپنے سوتیلے بھائیوں کی بدسلوکی کے قصے بیان کیے ہوں گے اور یقیناً یوسف ؑ کے فراق میں اپنا اور والد کا حال بھی بیان کیا ہوگا۔ اس پر یوسف ؑ نے انھیں تسلی دی کہ اب تم اپنے بھائی کے پاس پہنچ گئے ہو، لہٰذا ان بھائیوں کی بدسلوکی کا رنج نہ کرو، اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے تمام غم غلط ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیں راحت و عزت عطا فرمائے۔
Ayahs 12:70–71فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ۔۔ : ان آیات کی تفسیر میں اکثر لوگوں کو ٹھوکر لگی ہے جس کی وجہ سے وہ یوسف ؑ کے ذمے لگاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنے کے لیے اس کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا، پھر اس کے سامان میں پیمانہ رکھ کر سب بھائیوں کے متعلق ان کے چور ہونے کا اعلان کروایا، پھر خود ہی تلاشی لی اور آخر میں بھائی کے سامان سے پیمانہ نکال کر اسے چور قرار دے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اس پر جو اعتراض آتا ہے کہ یہ ایک نبی کی شان کے لائق نہیں، اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ) [ یوسف : 76 ]”اس طرح ہم نے یوسف کے لیے یہ تدبیر کی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوسف ؑ نے یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے کیا، اس لیے یہ جائز تھا اور یہ کہ جائز مقصد کے لیے حیلہ کرنا (خواہ ناجائز ہو) جائز ہے۔ حالانکہ اگر غور سے آیات کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں یوسف ؑ کے کسی حیلے یا سازش کا کوئی دخل ہی نہیں، یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تدبیر تھی جس کا پہلے یوسف ؑ کو بھی علم نہیں تھا۔ واقعہ کی اصل صورت یہ ہے کہ پہلی دفعہ جب بھائی آئے تو یوسف ؑ نے ان پر احسان کیا اور اپنے جوانوں سے کہہ کر ان کی رقم ان کی بوریوں میں ان کے علم کے بغیر رکھوا دی، جس کا علم انھیں گھر جا کر ہوا۔ اب ان کا سگا بھائی آیا تو انھوں نے اس کی خاص مدد کے لیے خاموشی سے کسی کو بھی بتائے بغیر اس کے سامان میں وہ پیمانہ خود ہی رکھ دیا کہ اس میں وہ مشقت نہ تھی جو دس بھائیوں کا سارا سامان واپس رکھنے میں تھی اور بھائیوں کے علم میں آنے سے حسد کا بھی خطرہ تھا، اس لیے اس چیز سے صرف وہ آگاہ تھے، دوسرا کوئی بھی آگاہ نہ تھا، قافلہ روانہ ہونے سے پہلے گودام کے محافظوں میں سے کسی کو پیمانے کی ضرورت پڑی، جب وہ نہ ملا تو تلاش شروع ہوئی، غور و فکر کیا گیا، کون چور ہوسکتا ہے، یہاں کون کون آیا ہے ؟
ان بھائیوں کے سوا وہاں کوئی آیا ہی نہ تھا، اس لیے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ قافلے والو ! تم چور ہو۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی۔ چناچہ ان کی آئندہ ساری گفتگو اس اعلان کرنے والے اور اس کے ساتھی گودام کے محافظوں سے ہوئی، جس میں انھوں نے خود ہی چور کی سزا بھی بتادی جو ان کے ہاں رائج تھی، پھر ان محافظوں میں سے ایک نے تلاشی لی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تدبیر ہوئی کہ اس نے اتفاق سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان کی پڑتال کی، پھر یوسف ؑ کے بھائی کے سامان سے وہ پیمانہ نکال لیا اور بھائیوں ہی کی بتائی ہوئی سزا کے مطابق اس بھائی کو روک لیا۔ یوسف ؑ اس معاملے سے بالکل بیخبر تھے مگر جب بات یہاں تک پہنچی اور یوسف ؑ کو اطلاع ملی تو انھوں نے اسے اللہ کی طرف سے تدبیر سمجھ کر خاموشی اختیار فرمائی، بھائی کے سامان سے مدعا برآمد ہونے کے بعد وہ اس کی صفائی دے بھی نہیں سکتے تھے، ورنہ الزام آتا کہ ایک ثابت شدہ مجرم کی طرف داری اور اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ یوسف ؑ جیسا شخص تہمت کا نشانہ بننے کے لیے بھی تیار نہ ہوتا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا دو انصاری صحابیوں کو بلا کر اپنے پاس کھڑی ہوئی خاتون کے متعلق بتانا کہ یہ صفیہ (میری بیوی) ہے، اس کی دلیل ہے۔ البتہ اپنی زبان سے اس بھائی کو چور بھی نہیں کہا۔ ان کی طبیعت کی پاکیزگی اور صدق کا اندازہ ان کی اس بات سے لگائیے کہ جب بھائیوں نے کہا کہ اس کے والد بہت بوڑھے بزرگ ہیں، آپ اسے جانے دیں اور ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ رکھ لیں تو یوسف ؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم تو چور ہی کو پکڑیں گے بلکہ فرمایا کہ ہم تو اسی کو پکڑیں گے جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے۔ یہ تفسیر آیات کے بالکل مطابق صاف اور سادہ ہے اور اس میں یوسف ؑ پر کوئی اعتراض نہیں آتا، جس کا جواب دینے کی ضرورت ہو۔
Ayahs 12:72–74صُوَاعَ الْمَلِكِ : غلہ ماپنے کے آلے کو ”صاع“ یا ”صواع“ کہتے ہیں، اسی کو آیت (70) میں ”اَالسِّقَایَة ‘ (پینے کا برتن) کہا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ غلے کی نایابی کی وجہ سے اس کی قدر و قیمت کا احساس دلانے کے لیے شاہی پیالہ گندم کے پیمانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اکثر مفسرین نے اسے چاندی کا لکھا ہے، بعض کہتے ہیں کہ سونے کا تھا، جس پر جواہر لگے تھے، لیکن صحیح اتنی بات ہی ہے کہ وہ کوئی قیمتی پیمانہ تھا۔
وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ : یعنی جو شخص تفتیش سے پہلے خود بخود وہ پیمانہ لے آئے اسے ایک اونٹ غلہ انعام ملے گا۔
Ayah 12:75مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب ؑ کے ہاں چور کی سزا یہ تھی کہ وہ مسروقہ چیز کے مالک کا ہمیشہ یا کچھ مدت کے لیے غلام یا قیدی بن جاتا۔ آیت میں مدت کی وضاحت نہیں ہے۔
Ayah 12:76فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ۔۔ : یعنی پیمانے کی گم شدگی کا اعلان کرنے والے نے (اللہ کی تدبیر کے مطابق) اتفاق سے پہلے دوسرے بھائیوں کی بوریوں کی تلاشی لی اور آخر میں اس (یوسف) کے بھائی کے سامان کی تلاشی لی تو اس میں سے پیمانہ نظر آگیا جو اس تلاشی لینے والے نے نکال لیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یوسف کے لیے یہ تدبیرہم نے کی، بادشاہ مصر کے قانون کی رو سے وہ کسی طرح اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ خود بھائیوں کے ہاں رائج قانون کے مطابق جو انھوں نے خود بتایا، ان کے لیے بھائی کو یوسف ؑ کے پاس چھوڑے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔
نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ : یعنی ہم جسے چاہتے ہیں علم عطا فرما کر اس کے درجے بلند کرتے ہیں، جیسے دوسرے بھائیوں کے مقابلے میں یوسف ؑ کے درجے بلند کیے۔
وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ : یعنی ہر جاننے والے سے بڑھ کر جاننے والا ہے۔ اس لیے کوئی شخص اس غرور میں مبتلا نہ ہو کہ مجھ سے بڑا عالم کوئی نہیں، اللہ تعالیٰ کو موسیٰ ؑ کے منہ سے بےساختہ نکلنے والا یہ لفظ بھی پسند نہ آیا، فرمایا، کیوں نہیں ہمارا بندہ خضر تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ غرض ہر عالم سے بڑا عالم موجود ہے، یہاں تک کہ تمام جاننے والوں کے اوپر وہ ذات پاک ہے جو حاضر و غائب ہر چیز کو پوری طرح جاننے والی ہے اور اس سے کوئی بات مخفی نہیں۔
Ayah 12:77فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ : ان کا یہ اشارہ یوسف ؑ کی طرف تھا، پہلے کہہ چکے تھے : (وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ) کہ ہم کبھی چور نہیں تھے، لیکن اب جو دیکھا کہ چھوٹے بھائی کے پاس سے چوری کا مال نکل آیا ہے تو اپنی خفت مٹانے اور اپنی پاک بازی ظاہر کرنے کے لیے فوراً اپنے آپ کو اس بھائی سے الگ کرلیا اور اس کے جرم کو بہانہ بنا کر اس کے بھائی پر بھی چوری کی جھوٹی تہمت لگا دی۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ یوسف ؑ کے گم ہوجانے کے بعد اس بھائی کے ساتھ یہ بھائی کیا سلوک کرتے رہے ہوں گے ؟
یہاں مفسرین نے اسرائیلی روایات سے بچپن میں یوسف ؑ کی چوری کے کچھ واقعات لکھے ہیں، جن کا قرآن و حدیث میں کوئی ذکر نہیں اور جن سے یوسف ؑ بالکل پاک ہیں، پھر یوسف ؑ کے بھائیوں کے کہنے پر یوسف ؑ کی چوری کے واقعات کی تلاش تو تب کی جائے جب برادران یوسف نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، باپ کے پاس جھوٹ بولنے سے لے کر یہاں اپنے تمام بھائیوں کی قسم دے کر کہ ہم میں سے کبھی کوئی چور نہیں رہا، فوراً ہی مدت سے گم شدہ بھائی پر بھی چوری کا بہتان لگا دیا اور ہمارے بعض مفسرین کو فکر ہے کہ ان بھائیوں کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے یوسف ؑ کی کوئی نہ کوئی چوری ضرور ڈھونڈ نکالی جائے۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]
فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِيْ نَفْسِهٖ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ : کیونکہ اگر ظاہر کرتے تو وہ سمجھ لیتے کہ یہی یوسف ہے اور ابھی یہ راز کھولنے کا وقت نہ آیا تھا۔ اتنے اونچے مقام پر ہونے کے باوجود اتنی تلخ تہمت کو دل میں چھپا کر صبر کرنا یوسف ؑ ہی کا حوصلہ ہے۔
قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا : یعنی یوسف نے چوری کی ہو یا نہ کی ہو مگر تمہارے چور ہونے میں کوئی شبہ نہیں، کیونکہ تم نے اسے باپ سے چرا کر کنویں میں پھینک دیا۔ مزید یہ غضب ڈھا رہے ہو کہ الٹا اپنے آپ کو پاک باز اور یوسف کو چور بتاتے ہو ؟
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ : یعنی تم جو یوسف پر چوری کا الزام لگا رہے ہو اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، تم جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کو دھوکا نہیں دے سکتے۔
Ayah 12:78قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا۔۔ : اس کا باپ بہت بوڑھا ہے، وہ اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکے گا، پہلے بھی آپ نے ہم پر بہت سے احسان کیے ہیں، بس اب اتنا احسان اور کردیں کہ ہم میں سے کسی ایک کو اس کے بجائے رکھ لیں، امید ہے کہ آپ ہمیں اپنے کرم سے مایوس نہیں کریں گے۔
Ayah 12:79قَالَ مَعَاذ اللّٰهِ۔۔ : یوسف ؑ اپنے بھائی کو پاس رکھنا بھی چاہتے تھے اور چور بھی نہیں کہنا چاہتے تھے، ان کی کمال ذہانت اور کمال صدق دیکھیے کہ دونوں معنوں پر مشتمل الفاظ میں بھائی کو ساتھ بھیجنے سے انکار کردیا۔ فرمایا کہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ اس شخص کے سوا کسی اور کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے، اس صورت میں تو یقیناً ہم ظالم ہوں گے اور ہم ظلم نہیں کرسکتے۔
Ayah 12:80فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا : ”اسْتَيْـــَٔـسُوْا“ یہاں ”یَءِسُوْا“ (ناامید ہوگئے) کے معنی ہی میں ہے۔ باب استفعال مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بالکل ناامید ہوگئے، جیسا کہ ”عَجِبَ“ اور ”اِسْتَعْجَبَ“ ، ”سَخِرَ“ اور ”اِسْتَسْخَرَ“ میں سین اور تاء محض مبالغہ کے لیے ہیں، معنی ایک ہی ہے۔ اس سے پہلے (آیت 32) ”اِسْتَعْصَمَ“ میں بھی یہی نکتہ ہے۔ ”خلصوا نجیا“ یعنی کوئی اور ان میں موجود نہ تھا، اکیلے ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ ”نجیا“ ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے، مشورہ، سرگوشی کرنے والے وغیرہ، یہ وزن واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے اسی طرح آتا ہے، اس لیے ”نجیا“ کے ساتھ واحد ہی آیا ہے۔
قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاكُمْ۔۔ : ان کے بڑے نے کہا (مراد عمر میں بڑا ہے یا جو علم و فہم میں ان کا بڑا اور امیر تھا) کیا تمہیں معلوم نہیں کہ والد نے تم سے قسموں کے ساتھ پختہ عہد لیا تھا کہ بھائی کو اپنے ساتھ ضرور واپس لانا اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں جو کوتاہی تم نے کی، اب میں والد کے سامنے کیسے جاؤں گا، اپنے متعلق تو میں نے طے کرلیا ہے کہ میں اس سرزمین سے ہرگز جدا نہیں ہوں گا جب تک میرے والد مجھے واپسی کی اجازت نہ دیں، یا اللہ میرے بارے میں کوئی فیصلہ کرے کہ بھائی کی رہائی کی کوئی صورت نکل آئے یا میری موت آجائے۔
Ayah 12:81اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ۔۔ : البتہ تم واپس جا کر والد کو بتاؤ کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اگر تم بھی واپس نہ گئے تو والد اور زیادہ پریشان ہوں گے کہ شاید تمام بیٹے ہی گرفتار ہوگئے، یا ان کا کیا بنا، اس لیے واپس جا کر انھیں حقیقت حال سے آگاہ کرو۔
وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ ہم نے بھائی کے چور ہونے کی شہادت اپنے علم ہی کے مطابق دی ہے، کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کے سامان سے پیمانہ نکلتا ہوا دیکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے عزیز مصر کو جو مسئلہ بتایا کہ چور کی یہ سزا ہے تو وہ ہم نے اپنے علم ہی کے مطابق بتایا کہ ہمارے باپ دادا کی شریعت کے مطابق اس کا یہ حکم ہے۔
وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ : یعنی جب ہم نے آپ کو قسم کھا کر عہد دیا تھا، ہمیں غیب کا علم تو نہیں تھا کہ بھائی مصر میں جا کر چوری کرے گا، ورنہ ہم اسے اپنے ساتھ کیوں لے جاتے، یا آپ کو یہ پختہ عہد کیوں دیتے کہ اسے اپنے ساتھ ضرور واپس لائیں گے۔
Ayah 12:82وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا۔۔ : اس میں انھوں نے اپنی صفائی کے لیے تین چیزیں بتائیں : 1 اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے۔ 2 اس قافلے (والوں) سے بھی جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ 3 اور (قسم ہے کہ) بیشک ہم یقیناً سچے ہیں۔ اپنی صفائی میں اتنی شہادتیں پیش کرنے کا باعث یہ تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ والد ہماری بات پر اعتبار نہیں کریں گے۔
Ayah 12:83قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ۔۔ : جب بڑے بھائی کی تجویز کے مطابق باقی بھائیوں نے کنعان پہنچ کر اپنے والد یعقوب ؑ سے یہ سب کچھ بیان کیا تو انھوں نے کہا کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اصل بات یہ نہیں بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لیے ایک کام مزین کردیا ہے، اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ وہی لفظ منہ سے نکلا جو یوسف کو بھیڑیے کے کھائے جانے کی خبر سن کر نکلا تھا۔ اللہ اپنے بندوں خصوصاً رسولوں کو کتنا بڑا حوصلہ دیتا ہے کہ جگر ٹکڑے ٹکڑے کردینے والی خبر سن کر بھی نہ شکوہ نہ شکایت، نہ جزع فزع نہ واویلا۔ پہلے ایک بیٹے کی خبر پر بھی صبر جمیل، اب مزید دو بیٹوں کی خبر پر بھی وہی صبر جمیل۔ پہلے بھی اللہ ہی سے مدد مانگی : (وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ) [ یوسف : 18 ] اب بھی اسی کے سہارے پر دل میں امید کا چراغ روشن رکھا : (عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا) امید ہے کہ اللہ ان تینوں کو میرے پاس لے آئے گا، یقیناً وہی علیم و حکیم ہے، وہ سب کچھ جانتا بھی ہے اور اس کی حکمتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹے کی سچی بات کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔ رہی یہ بات کہ یعقوب ؑ کس طرح ان سب کی ملاقات کی امید ظاہر فرما رہے ہیں، تو ایک تو یہ کہ وہ اللہ کے نبی تھے اور دوسرے یہ کہ انھیں یوسف ؑ کے خواب کی تعبیر سامنے آنے کا بھی یقین تھا، مگر پیارے بیٹے کی جدائی پھر لخت جگر کے حال سے بیخبر ی اور تعبیر کے ظہور کا وقت نامعلوم ہونے اور اب مزید دو بیٹوں کی گم شدگی کے پیہم صدمات اور انھیں دل ہی دل میں پی جانے کی کوشش نے یعقوب ؑ کی طبیعت پر بہت ہی زیادہ اثر ڈالا۔
Ayah 12:84وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى۔۔ : ”يٰٓاَسَفٰى“ اصل میں یائے متکلم کے ساتھ ”یَا اَسَفِیْ“ تھا، تخفیف اور اظہار غم کے لیے یاء کو الف سے بدل دیا ہے۔ (وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ) ”غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں“ یعنی آنسوؤں کے متواتر بہنے سے آنکھوں کی سیاہی پر سفیدی چھا گئی اور بینائی خراب ہوگئی۔ ”كَظِيْمٌ“ بمعنی ”مَکْظُوْمٌ“ ہے جو غم سے بھرا ہوا ہو، لیکن لوگوں سے چھپائے اور اظہار نہ کرے۔ اسی سے ہے : (وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ) [ آل عمران : 134 ] یعنی غصے کو روک لینے والے۔ ”کَظَمَ فُلَانٌ السِّقَاءَ“ یعنی فلاں نے بھرے ہوئے مشکیزے کا منہ بند کردیا۔ یعنی یعقوب ؑ نے جب بیٹوں کی بات سن لی اور انھیں جواب دے دیا تو ان پر غموں کا سیلاب امڈ آیا اور دل کے تمام زخم تازہ ہوگئے، چناچہ انھوں نے بیٹوں کو چھوڑا اور مجلس سے چلے گئے اور کہنے لگے : ”ہائے میرا یوسف کا غم“ اور ان کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں، مگر غم سے بھرے ہوئے ہونے کے باوجود اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ رہ گیا دل کا غم اور مصیبت میں رونا اور آنسو بہانا تو یہ جائز ہے اور انسان کے اختیار سے باہر ہے۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا : (إِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ إِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَ إِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا إِبْرَاہِیْمُ ! إِنَّا لَمَحْزُوْنُوْنَ) [ بخاري، الجنائز، باب قول النبي ﷺ إنا بک لمحزونون : 1303۔ مسلم : 2315 ] ”بیشک آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے جو ہمارے رب کو پسند ہو اور بیشک ہم تیری جدائی سے اے ابراہیم ! یقیناً غم زدہ ہیں۔“ ہاں مصیبت کے وقت نوحہ کرنا، گریبان پھاڑنا اور منہ پر طمانچے مارنا سخت ممنوع ہے۔
3 اگرچہ خبر دوسرے دو بیٹوں کی آئی تھی مگر یعقوب ؑ کے منہ سے یوسف پر غم کی شدت کے الفاظ نکلے، اس کی وجہ یہ تھی کہ زخم کے اوپر جب زخم لگے تو پہلا زخم زیادہ تکلیف دیتا ہے۔ ”وَلٰکِنْ نَکْأَ الْجُرْحِ بالْجُرْحِ أَوْجَعُ“ ”لیکن زخم کا نئے زخم سے چھل جانا زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔“
Ayah 12:85قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا۔۔ : تاء قسم کے لیے ہوتی ہے، لفظ ”اللہ“ پر آتی ہے اور عموماً ایسے موقع پر قسم کے لیے آتی ہے جس میں کوئی تعجب ہو۔ ”فَتِئَ یَفْتَؤُ“ ہٹ جانا، بھول جانا۔ اس سے پہلے عموماً ”مَا“ آتا ہے اور معنی ہمیشہ رہنا، نہ بھولنا ہوتا ہے، یہاں بھی اصل ”مَا تَفْتَؤُ“ تھا ”مَا“ کو معلوم ہونے کی وجہ سے حذف کردیا ہے، یعنی تو ہمیشہ یوسف کو یاد کرتا رہے گا، اسے نہیں بھولے گا، اسے یاد کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ بیٹوں اور پوتوں کو، باپ کی حالت زار دیکھ کر رحم آتا تھا، جب ان کا غم اس حد تک پہنچ گیا تو انھوں نے باپ سے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ یوسف کو اسی طرح ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے حتیٰ کہ گھل گھل کر مرنے کے قریب ہوجائیں گے، یا ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ گویا وہ انھیں صبر کی تلقین اور اس قدر غم پر ملامت کر رہے تھے۔
Ayah 12:86اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ۔۔ :”بَثَّ یَبُثُّ“ کا لفظی معنی پھیلانا ہے، فرمایا : (وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً) [ النساء : 1 ] ”اور ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔“ ”بَثَّ الرِّیْحُ التُّرَابَ“ ”ہوا نے مٹی اڑائی۔“ آدمی پر جب مصائب آئیں تو ان سے پیدا ہونے والے جس غم کو وہ چھپا سکے وہ حزن کہلاتا ہے اور جو چھپا نہ سکے ”بَثٌّ“ کہلاتا ہے۔ اس آیت پر شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی تم کیا مجھے صبر سکھاؤ گے، بےصبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی، میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے، دیکھوں کس حد کو پہنچ کر بس ہو۔“ (موضح)
حقیقت یہ ہے کہ یعقوب ؑ کے غم کا جو حال اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ پڑھ اور سن کر ہی دل سخت غم زدہ ہوجاتا ہے، پھر خود ان کا کیا حال ہوگا۔ عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کے روتے ہوئے دھاڑیں مارنے کی آواز سنی، حالانکہ میں صفوں کے آخر میں تھا، وہ یہ پڑھ رہے تھے : (اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ) [ بخاري، الأذان، باب إذا بکی
الإمام فی الصلاۃ، قبل ح : 716 ]
وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : یعنی یوسف زندہ ہیں اور ایک دن ایسا آئے گا کہ میرے اور تمہارے سجدہ کرنے کا خواب جو انھوں نے دیکھا تھا، سچا ہوگا، مجھے اس کا پورا یقین ہے اور اللہ تعالیٰ میری یہ امید بر لائے گا۔ اتنی مدت گزرنے اور اتنے غم کے باوجود جس میں یوسف ؑ کی زندگی کی امید باقی رہنا بھی ممکن نظر نہیں آتا، ان کی ملاقات کی امید رکھنا یعقوب ؑ کے کمال ایمان کا نتیجہ ہے۔
Ayah 12:87يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا۔۔ : ”بَنِیْنَ“ ”اِبْنٌ“ کی جمع ہے، یاء کی طرف مضاف ہوا تو نون گرگیا، یاء کو یائے متکلم میں ادغام کرکے آخر میں نصب دے دی۔ ”تَحَسَّسَ“ کا معنی ہے کسی چیز کو باریکی، حکمت اور صبر کے ساتھ بذریعۂ حواس تلاش کرنا۔ (الوسیط) ”من روح اللہ“ ”رَوْحٌ“ کا اصل معنی سانس لینا ہے، کہا جاتا ہے ”أَرَاحَ الإِْنْسَانُ“ ”انسان نے سانس لیا۔“ (مفردات) مراد اللہ کی طرف سے کشادگی و رحمت ہے، گلا گھٹ جانے اور سانس بند ہونے کے بعد سانس آنے میں جو راحت ولذت ہے وہ اللہ کی رحمت کا ایک نمونہ ہے، یعنی جاؤ اور اس بھائی کے ساتھ مل کر جو وہاں رہ گیا ہے، یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کی پوری کوشش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔
اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ : جو اس کی قدرت کا صحیح علم نہیں رکھتے، اس کے برعکس مومن کو خواہ کیسے ہی حوصلہ شکن اور مایوس کن حالات پیش آئیں وہ کبھی اپنے مالک کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوسی کافر کی صفت ہے، مومن کی نہیں۔ یہ نہیں کہ مایوس ہوجانے والا کافر اور مرتد ہوجاتا ہے، بلکہ جس طرح جھوٹ منافق کی ایک صفت ہے، مومن کی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ) [ النحل : 105 ] ”جھوٹ تو وہی لوگ باندھتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے۔“ مگر جھوٹ سے انسان کا کفر اس کفر سے کم تر ہے جو اسے ایمان سے خارج کرکے مرتد بنا دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی رحمت سے مایوسی کافر کی ایک صفت ہے۔
Ayah 12:88فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ۔۔ : ”مُّزْجٰىةٍ“ ”أَزْجٰی یُزْجِیْ إِزْجَاءً“ (ناقص واوی) دفع کرنا، ہٹانا، دھکیلنا، یعنی (غلے کے لیے) ایسی قیمت جسے کوئی خوشی سے قبول نہیں کرتا۔ باپ کے حکم پر تیاری کرکے بیٹے تیسری مرتبہ مصر کے لیے روانہ ہوگئے اور عزیز مصر سے ملے، جس نے ان کے بھائی کو روک رکھا تھا۔ اسے ادب کے ساتھ لقب سے مخاطب کرکے اپنی اور اپنے گھر والوں کی خستہ حالی اور بےچارگی بیان کی کہ ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر قحط، خشک سالی، بیٹوں کی جدائی سے والد کی حالت اور کئی مصیبتوں کی وجہ سے سخت تکلیف آ پڑی ہے اور غلے کے لیے ہم صحیح قیمت کا بندوبست نہیں کرسکے، محض اتنی سی پونجی لے کر آئے ہیں جو خوشی سے کوئی قبول نہیں کرتا اور وہ نہ اس قابل ہے کہ آپ اس کے بدلے ہمیں غلہ دیں، اس لیے آپ ہم پر احسان کریں کہ اس قیمت کا جتنا غلہ بنتا ہے وہ پورا دے کر اس سے زیادہ دے دیں، یا قیمت سے چشم پوشی کرکے ایک ایک اونٹ غلہ پورا ہی دے دیں، تو یہ آپ کا ہم پر صدقہ ہوگا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”قحط میں اسباب گھر کا بک گیا، اب کی بار اون اور پنیر اور ایسی چیزیں لائے تھے اناج خریدنے کو، یہ حال سن کر یوسف ؑ کو رحم آیا، اپنے تئیں (اپنے آپ کو) ظاہر کیا اور سارے گھر کو بلوا لیا۔“ (موضح)
Ayah 12:89قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ : بھائیوں کی بےبسی و درماندگی دیکھ کر اور صدقے کے سوال پر یوسف ؑ کا دل بھر آیا اور معاملے کو مزید طول دینے کی تاب نہ رہی اور وہ وقت آگیا جس کے متعلق کنویں میں اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی تھی کہ یہ لوگ جو کچھ اب کر رہے ہیں ایک وقت ضرور آئے گا جب تم انھیں اس کی خبر دو گے اور یہ سوچتے بھی نہ ہوں گے۔ چناچہ کچھ ناراضگی کا اظہار اور زیادہ تر ان کی غلطی کا عذر خود ہی کرتے ہوئے فرمایا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا، جب تم نادان تھے ؟
اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ : یعنی جو کچھ تم نے کیا اس کی وجہ تمہاری نادانی اور بےوقوفی تھی۔ یوسف ؑ بھائیوں کو ان کی حرکت یاد دلاتے ہوئے کہہ سکتے تھے : ”وَاَنْتُمْ ظَالِمُوْنَ“ کہ جب تم ظلم کر رہے تھے، مگر اس خیال سے کہ وہ شرمندہ نہ ہوں خود ہی ان کے لیے معذرت کا پہلو نکال دیا۔ یہ انتہائی مروت کا مقام ہے جس کی توقع ایک نبی ہی سے ہوسکتی ہے۔
Ayah 12:90قَالُوْٓا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ : بھائیوں کو یہ سن کر دھچکا لگا کہ برسوں پرانی بات جو ہمارے سوا کوئی نہیں جانتا، اس اجنبی سرزمین میں جاننے والا یہ کون نکل آیا ؟ پھر ان کے نقوش پر غور کرتے ہوئے فوراً نتیجے پر پہنچ گئے کہ یہ تو ہمارا وہی ستم رسیدہ بھائی یوسف ہے، پھر حیرت، تعجب اور دہشت کے ملے جملے جذبات کے ساتھ اس بات کا سوال کیا جسے تاکید کے تین طریقوں سے یقینی بھی قرار دیا ”کیا یقیناً واقعی تو ہی یوسف ہے۔“ ”اِنَّ“ ، لام تاکید اور ”اِنَّکَ“ کے بعد پھر ”أَنْتَ“ کے ساتھ تاکید، اتنے یقین کے باوجود سوال ہے جس میں کچھ شک بھی ہوتا ہے۔
قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَآ اَخِيْ : فرمایا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ ان دو لفظوں میں یوسف ؑ نے وہ ساری داستان دو لفظوں میں دہرا دی جو ان بھائیوں کے ہاتھوں ان پر گزری تھی، جو پوری طرح بیان میں آ بھی نہیں سکتی تھی اور یوسف ؑ کے عفو و درگزر کے مطابق نہ اس کا موقع تھا۔
قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا : کہ مصیبت سے نجات دے کر دونوں کو ملا دیا اور اس بلند مرتبہ مقام پر پہنچا دیا جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔
اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : یعنی حرام کام اور نافرمانی سے بچتا رہے اور اللہ کے احکام کی پابندی اور پیش آنے والی مصیبتوں اور اللہ کی تقدیر پر صبر کرے۔
فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جس پر تکلیف پڑے اور وہ شرع سے باہر نہ ہو اور گھبرائے نہیں تو آخر بلا (تکلیف) سے زیادہ عطا ہے۔“ (موضح)
Ayah 12:91قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ۔۔ : بھائیوں کے سامنے اپنے ظلم و ستم کا وہ سارا منظر آگیا جو ان کے ہاتھوں ہوا تھا تو انھوں نے قسم کھا کر اعتراف کیا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر، تقویٰ اور دوسری صفات حسنہ کی وجہ سے ہم پر برتری اور فوقیت عطا فرمائی ہے۔ ”وَاِنْ كُنَّا“ اصل میں ”اِنَّا کُنَّا“ تھا، جس کی دلیل ”خَاطِءِیْنَ“ پر آنے والا لام ہے۔ ”اِنَّ“ اور لام کے ساتھ تاکید بھی قسم ہی کی ایک صورت ہے کہ یقیناً ہم آپ پر ظلم کرکے جانتے بوجھتے ہوئے غلط اور گناہ کا کام کرنے والے تھے۔ ”خَاطِءِیْنَ“ اور ”مُخْطِءِیْنَ“ کے فرق کے لیے دیکھیے آیت (29) کی تفسیر۔ بھائیوں کے اعتراف گناہ کے بعد یوسف ؑ کی سینے کی وسعت اور حوصلہ مندی دیکھیے، ابھی انھوں نے صرف گناہ کا اعتراف اور عذر ہی کیا ہے، معافی مانگنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی بول اٹھے : (لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ) کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔
Ayah 12:92قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ :”تَثْرِيْبَ“ کے معنی ملامت، ڈانٹ ڈپٹ، گناہ یاد دلانا سبھی آتے ہیں۔ فرمایا تمہیں ہرگز کوئی ملامت نہیں کرتا، نہ ڈانٹ ڈپٹ، نہ تمہیں کوئی یہ زیادتی یاد دلائے گا۔ ”الْيَوْمَ“ کا معنی صرف آج کا دن نہیں بلکہ مطلق زمانے کے لیے ہے، یعنی اب آئندہ تم پر کوئی ملامت نہیں۔
3 یہ ہے شان نبوت، اگر کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو ایسے قصور واروں پر قابو پالینے کے بعد انھیں ہرگز معاف نہ کرتا۔ یہی سلوک نبی ﷺ نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے رہنے والوں سے فرمایا۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (فتح مکہ کے دن) قریش کے سرداروں اور بڑے بڑے لوگوں نے کعبہ میں پنا لی، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، بیت اللہ کا طواف کیا اور ان (360) بتوں کے پاس سے گزرتے ہوئے انھیں کمان کے کنارے کے ساتھ ٹھوکا مارتے گئے اور یہ فرماتے گئے : (جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) [ بنی إسرائیل : 81 ] جب فارغ ہوئے اور نماز پڑھ لی تو آکر دروازے کی چوکھٹ کے دونوں کناروں کو پکڑا، پھر فرمایا : ”اے معشر قریش ! (بولو) کیا کہتے ہو ؟“ انھوں نے کہا : ”ہم کہتے ہیں (آپ) رحیم و کریم بھتیجے اور چچا زاد (بھائی) ہیں۔“ آپ نے پھر ان کے سامنے اپنی بات دہرائی، انھوں نے وہی جواب دیا، تو آپ نے فرمایا : ”پھر میں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے کہا تھا : (لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ) چناچہ وہ سب نکل کر آئے اور آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی۔ [ سنن الکبریٰ للنساءي : 6؍382، 383 ح : 11298 ] یہ ہے اصل صلہ رحمی، عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَیْسَ الْوَاصِلُ بالْمُکَافِئِ وَلَکِنَّ الْوَاصِلُ الَّذِيْ إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُہٗ وَصَلَھَا) [ بخاري، الأدب، باب لیس الواصل بالمکافأ : 5991 ] ”صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو صلہ رحمی کے مقابلے میں صلہ رحمی کرتا ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کی رشتہ داری قطع کی جائے تو وہ اسے ملائے۔“
يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ۔۔ : یوسف ؑ نے نہ صرف انھیں معاف فرما دیا بلکہ ان کی درخواست کے بغیر ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحم کی دعا بھی کردی۔
Ayah 12:93اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ۔۔ : بھائیوں کو معاف کردینے کے بعد گھر کے حالات کا تذکرہ ہوا، والد کے نابینا ہونے کی خبر پر ان کے علاج کے لیے اپنی قمیص بھیجی اور اپنے سارے گھر والوں کو اپنے پاس مصر میں لانے کا حکم دیا۔ یہ قمیص بھی عجیب تھی، کبھی یوسف ؑ کو بھیڑیے کے کھا جانے کے ثبوت پر پیش کی گئی اور والد کو نابینا کرگئی اور کبھی یوسف ؑ پر ارادۂ زنا کی تہمت لگی تو یہ ان کی صفائی بن گئی، اب اللہ کا حکم ہوا تو یعقوب ؑ کی بینائی واپس ملنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ سب میرے مالک کی قدرت و مشیت ہے : (فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ) [ یسٓ : 83 ] ”سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔“ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے، ایک شخص کے فراق میں یعقوب ؑ کی آنکھیں ضائع ہوگئیں، اس کے بدن کی چیز ملنے سے درست ہوگئیں، یہ یوسف ؑ کی کرامت تھی۔“ (موضح) اور خوشی کی شدت سے بینائی میں قوت پیدا ہوجانا طبی طور پر ثابت ہے۔ (رازی) مگر طبی طور پر اس کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں کہ خوشی سے نابینا بینا ہوجائے، اس لیے اسے معجزہ ہی کہا جائے گا۔
Ayah 12:94وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ۔۔ : اس سے انبیاء کو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کا اندازہ ہوتا ہے اور اس حقیقت کا بھی کہ خود ان کے پاس کتنا علم ہوتا ہے۔ یہی قمیص تھی، اسی راستے سے آئی تھی، چند میل دور کنویں میں پڑے ہوئے لخت جگر کا علم نہ ہوسکا، نہ اس کی خوشبو آئی اور جب اللہ تعالیٰ نے بتایا تو قافلے کے نکلتے ہی یوسف ؑ کی خوشبو آنا شروع ہوگئی۔ یہ واقعہ ان بیشمار دلائل میں سے ایک واضح دلیل ہے کہ انبیاء عالم الغیب نہیں ہوتے، ہاں جتنی بات انھیں وحی کے ذریعے سے بتائی جاتی ہے وہ انھیں معلوم ہوجاتی ہے اور یہی عام آدمی اور نبی کا فرق ہے کہ نبی کو وحی الٰہی ہوتی ہے، دوسرے اس نعمت سے محروم ہیں۔ اس بات کو شیخ سعدی نے کمال خوبی کے ساتھ ”گلستان“ میں نظم کیا ہے
یکے پر سید ازاں گم کردہ فرزند
کہ اے روشن گہر پیر خردمند
زمصرش بوئے پیراہن شمیدی
چرا درچاہ کنعانش ندیدی
بگفت احوال ما برق جہان است
دمے پیدا و دیگردم نہان ست
گہے برطارم اعلی نشینم
گہے برپشتِ پائے خود نہ بینیم
”یعنی کسی نے اس فرزند کو گم کردینے والے سے پوچھا کہ اے روشن نسب والے عقل مند بزرگ ! تو نے مصر سے اس کی قمیص کی خوشبو پا لی، تونے اسے کنعان کے کنویں میں کیوں نہ دیکھا، اس نے کہا ہمارے (انبیاء کے) احوال کوندنے والی بجلی کی طرح ہیں، ایک دم ظاہر ہوتے اور دوسرے لمحے پوشیدہ ہوجاتے ہیں، کبھی ہم اعلیٰ و بلند مقام پر بیٹھے ہوتے ہیں، کبھی ہم اپنے پاؤں کی پشت پر (لگی چیز) نہیں دیکھتے۔“ آخری شعر کے پہلے مصرع میں رسول اللہ ﷺ کے معراج کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے میں جبریل ؑ کے نماز کے دوران میں آ کر بتانے کی طرف کہ آپ ﷺ کے جوتے پر نجاست لگی ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے جوتے نماز ہی میں اتار دیے۔
لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ : یعنی اگر یہ نہ ہو کہ تم کہو گے کہ بڑھاپے اور یوسف کی محبت کی وجہ سے میری عقل میں خلل پڑگیا ہے۔ : یعنی اگر یہ نہ ہو کہ تم کہو گے کہ بڑھاپے اور یوسف کی محبت کی وجہ سے میری عقل میں خلل پڑگیا ہے۔
Ayah 12:95قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ۔۔ : یعقوب ؑ کے پاس اس وقت بیٹوں میں سے کوئی بھی موجود نہ تھا، پوتوں نے بھی باپوں والا رویہ اختیار کیا۔ اب ان الفاط کو ان کی طرف سے بابا کے لیے تسلی کہا جائے یا ملامت ؟ واللہ ! ان کا حق نہ تھا کہ دادا کو جو اللہ کے پیغمبر بھی تھے، یہ لفظ کہتے۔ ہاں ان کی طرف سے ایک عذر ہوسکتا ہے کہ بادیہ کے معاشرے میں باہمی بےتکلفی حتیٰ کہ والدین اور اولاد کے درمیان بھی بےتکلفی نے ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا دیے ہوں اور وہ اپنے خیال میں تسلی دے رہے ہوں کہ بابا ! پرانی بات بھول بھی جاؤ، مگر جو اتنے سال بھلایا نہیں جاسکا اب ایسی باتوں سے کیسے بھلایا جاسکے گا۔
Ayah 12:96”فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ“ اور ”فَلَمَّا جَاءَ الْبَشِیْرُ“ کے ترجمے کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے اسی مترجم قرآن کے عرض مترجم میں سے فائدہ (8) خوش خبری لانے والے نے آتے ہی چہرے پر قمیص ڈالی اور یوسف ؑ کے زندہ ہونے کی خوش خبری دی تو اسی وقت آنکھیں دوبارہ روشن ہوگئیں۔
مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : یوسف ؑ کی قمیص سے آنکھیں روشن ہونے اور ان کے زندہ ہونے کی خوش خبری آنے پر فرمایا کہ میں نے تمہیں کہا نہ تھا : (اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) یعنی مجھے وحی الٰہی سے وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو تم نہیں جانتے۔ مراد اپنے بچوں کو ملامت کرنا نہ تھا بلکہ تربیت کرنا تھا، تاکہ وہ نبوت کے مقام کو سمجھیں اور نبی کی بات کو محبت کے غلو پر یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے خرابی عقل پر محمول نہ کریں، مثلاً یہ یقین کہ یوسف ؑ زندہ ہے، اللہ تعالیٰ اسے ضرور ملائے گا، یا یہ بات کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔
Ayah 12:97قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ۔۔ : یہ کہنے والے بیٹے بھی تھے اور پوتے بھی، انھوں نے صاف لفظوں میں اپنے دانستہ اور عمداً خطا وار ہونے کا اقرار کرکے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کریں، کیونکہ آپ معاف کر بھی دیں اگر اس نے نہ بخشا تو ہمارا کہاں ٹھکانا ہے۔
Ayah 12:98قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ۔۔ : یعقوب ؑ نے یوسف ؑ کی طرح درخواست کے بغیر فوراً استغفار کے بجائے صرف وعدہ کیا کہ میں تمہارے لیے استغفار کروں گا جو یقیناً انھوں نے پورا کیا ہوگا۔ اہل علم نے اس کی کئی وجہیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ بھائی کا حق بھائی پر اتنا نہیں ہوتا جتنا باپ کا بیٹے پر ہوتا ہے، اس لیے والد کو ناراضگی زیادہ تھی۔ دوسری یہ کہ بیشک یوسف ؑ پر بےپناہ آزمائشیں آئیں مگر غم اور صدمے کا اثر والد پر زیادہ تھا۔ تیسری یہ کہ والد معلوم کرنا چاہتے تھے کہ یوسف نے انھیں معاف کیا ہے یا نہیں، کیونکہ مظلوم کے معاف کرنے کے بعد ہی ظالم کے لیے استغفار ہوسکتا ہے۔ بعض مفسرین نے بعض تابعین و صحابہ کے اقوال نقل فرمائے ہیں کہ یعقوب ؑ نے ان سے پچھلی رات دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا، کیونکہ وہ قبولیت کا وقت ہے، مگر انھوں نے یہ بات قرآن مجید یا رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بیان نہیں کی جب کہ ہزاروں سال پہلے کی بات کا کوئی پختہ ذریعہ ان دونوں کے علاوہ ہے ہی نہیں۔ مفسر ابن جریر اور ابن کثیر ; نے ایک روایت رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے کہ یعقوب ؑ نے ان سے جمعہ کی رات کو استغفار کا وعدہ کیا تھا، مگر اس کی سند میں تین خرابیاں ہیں، ایک ابن جریج کا اسے لفظ ”عَنْ“ سے روایت کرنا، جب کہ وہ مدلس ہیں، دوسری ولید بن مسلم قرشی حدیث مرفوع بیان کرنے کی غلطی کر جاتے ہیں اور تدلیس تسویہ کرتے ہیں، تیسری سلیمان بن عبد الرحمان میں حافظے کی بنا پر کلام ہے۔ قرآن مجید بھولنے والی حدیث بھی اسی سند کے ساتھ ہے۔ (سامی بن محمد بن عبد الرحمان محقق و محشی تفسیر ابن کثیر)