Ayah 12:20وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ۔۔ :”بَخْسٍ“ کا معنی اصل قیمت سے کم قیمت ہے، جیسے فرمایا : (وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَهُمْ) [ الأعراف : 85 ] ”اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔“ یعنی قافلے والوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا، کیونکہ زیادہ درہم ہوتے تو وہ گننے کے بجائے تول لیے جاتے تھے۔ ”اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں میں سے تھے“ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قانونی طور پر حقیقی غلام کو نہیں بیچ رہے تھے، اس لیے جو کچھ مل گیا اسے انھوں نے غنیمت سمجھا۔ بےرغبت ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ جلد اس سے خلاصی حاصل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا شخص نہ آجائے جو انھیں اس جرم میں پکڑ لے کہ وہ اس کے آزاد بیٹے کو غلام بنا کر پکڑ لائے ہیں، تو ہر وقت چھپا کر رکھنا اور یوسف ؑ کو کسی سے اپنی حقیقت بیان کرنے کا موقع ہی نہ دینا ان کے لیے مصیبت تھا۔ اس سے ان لوگوں کی داستان گوئی کی حقیقت بھی معلوم ہوگئی جو یوسف ؑ کے خریداروں کے ہجوم کا اور سوت کی اٹی لانے والی عورت کا اور آخر کار سونے میں تول کر فروخت کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ ویسے بھی ”شَرَی یَشْرِیْ“ بیچنے اور ”اِشْتَرَی یَشْتَرِیْ“ خریدنے کے معنوں میں آتا ہے، الا یہ کہ کوئی خاص قرینہ اس کے خلاف ہو، کیونکہ اصل یہی ہے کہ ”فَعَلَ“ کسی حدث (کام) کے لیے آتا ہے اور ”اِفْتَعَلَ“ اس کی مطاوعت (اس کام کا اثر قبول کرنے) کے لیے ہوتا ہے، جیسے ”بَاعَ“ اس نے بیچا اور ”اِبْتَاعَ“ اس نے خریدا۔ ”رَھَنَ“ اس نے گروی دیا اور ”اِرْتَھَنَ“ اس نے گروی لیا۔ ”کَرِیَ“ اس نے کرایہ پر دیا اور ”اِکْتَرَی“ اس نے کرایہ پر لیا۔ اس کے خلاف اول تو آتا ہی نہیں، آئے تو کوئی قرینہ موجود ہوتا ہے۔ جو لوگ یوسف ؑ کے بھائیوں کا آ کر قافلے والوں کے ہاتھوں فروخت کرنا ذکر کرتے ہیں ان کی بات کا قرآن کی کسی آیت میں ذکر چھوڑ کر اشارہ بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہے تو اس کا اعتبار نہیں اور وہ قرآن کے بیان کے بھی خلاف ہے۔
Ayah 12:21وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لامْرَاَتِهٖٓ : قرآن نے اس شخص کے نام اور عہدے کا کہیں ذکر نہیں کیا، البتہ آگے چل کر مصر کی عورتوں نے ”عزیز“ کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے اور یہی لقب بعد میں یوسف ؑ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر کے بادشاہ کا کوئی وزیر یا بہت بڑے عہدے پر فائز شخص تھا۔ اس کی بیوی کا نام بھی قرآن نے کہیں ذکر نہیں کیا، کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہ تھا، بلکہ یہ پردہ پوشی کے بھی خلاف تھا۔ اس لیے جو لوگ اس خاتون کا نام ”زلیخا“ (زاء کے فتحہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ) یا ”راعیل“ بتاتے ہیں، ان کے پاس محض اسرائیلی روایات ہیں، کوئی پختہ دلیل نہیں اور ان کا یہ عمل ستر کے بھی خلاف ہے۔
اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ : عزیز مصر نے اپنی بیوی کو یوسف ؑ کی رہائش باعزت رکھنے اور ہر ضرورت مہیا رکھنے کی تاکید کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہمارا اور اس کا تعلق مالک اور غلام والا ہونے کے بجائے گھر کے ایک معزز رکن کا ہونا چاہیے، بچہ نہایت ذہین اور اچھی عادات والا ہے، امید ہے ہمیں فائدہ دے گا۔ عزیز مصر مملکت کے کسی بھی شخص سے کام کروا سکتا تھا اور مطلوبہ فائدہ حاصل کرسکتا تھا مگر ماتحت نوکر جس طرح فائدہ پہنچاتے ہیں اور نہایت عزت و محبت سے پالے ہوئے اپنے گھر کے ایک فرد سے جس خیر خواہی اور فائدے کی امید ہوتی ہے، دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔
اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا : اس سے ظاہر ہے کہ ان کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ماں باپ، بہن بھائی یا بیٹا بیٹی منہ کے کہہ دینے سے نہیں بنتے۔ دیکھیے سورة احزاب (4، 5) اور مجادلہ (2) ورنہ عزیز کی بیوی کا سگا بیٹا ہوتا تو وہ اس سے وہ معاملہ کبھی نہ کرتی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اکثر گھروں میں اللہ کی اس نافرمانی کے ایسے ہی نتائج رونما ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت تاکید کے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے۔
وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ۔۔ : اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ اس طرح یعنی عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کروا کر اور مصر کے اتنے عظیم مقام والے گھر میں باعزت رہائش دے کر ہم نے یوسف ؑ کو سرزمین مصر میں جگہ دی (تاکہ وہ باعزت زندگی بسر کرے) تاکہ ایک حکمران کے گھر میں رہ کر سرداروں کی مجلسیں دیکھے اور حکمرانی اور سیاست کے اسرار و رموز سیکھے، جو صحرا میں رہنے سے کبھی حاصل نہیں ہوسکتے تھے اور آخر میں ان کی وجہ سے بنی اسرائیل مصر میں آ کر آباد ہوں۔ دوسری یہ کہ جیسے ہم نے اس سے پہلے یوسف کو بھائیوں کے شر سے بچایا اور کنویں سے نکلوایا، اسی طرح ہم نے اسے سرزمین مصر میں جگہ بخشی۔
وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ :”غَلَبَ“ کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی مقابلے میں ہو۔ دیکھیے یوسف ؑ کے بھائی کیا چاہتے تھے اور کنویں میں پھینکنے کے بعد اپنے خیال میں وہ کس قدر کامیاب ہوچکے تھے، مگر اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔ وہ جو کرنا چاہے کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ کنویں سے نکال کر حکومت تک پہنچانا اور پھینکنے والوں کو سائل بنا کر اس کے سامنے لا کھڑا کرنا اس کے ادنیٰ اشارے کا کام ہے۔ ہمارے رسول ﷺ کے شاعر نے بدر کے موقع پر کیا خوب کہا تھا
جَاءَتْ سَخِیْنَۃُ کَیْ تُغَالِبَ رَبَّھَا
وَلَیُغْلَبَنَّ مُغَالِبُ الْغَلَّابِ
”قریش اس لیے آئے تھے کہ اپنے رب کے ساتھ غالب آنے کا مقابلہ کریں گے اور قسم ہے کہ اس زبردست غالب کا مقابلہ کرنے والا ہر صورت مغلوب ہو کر رہے گا۔“ (قریش کو سخینہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ حاجیوں کی ضیافت گرم کھانے سے کرتے تھے)۔
وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ ہر قسم کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اس لیے وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی ظلم وستم کی کمی نہیں کرتے، مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہے، بخلاف تھوڑے لوگوں کے، جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے غالب رہنے پر اور اس کی تقدیر پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نہ خوشی میں پھولتے ہیں نہ مصیبت میں حد سے زیادہ غم میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ کسی صورت اللہ کے حکم سے سر پھیرتے ہیں۔
Ayah 12:22وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ”اَشُدَّ“ بعض اہل علم کے مطابق مفرد ہے جو جمع کے وزن پر آیا ہے۔ بعض نے فرمایا جمع ہے، مگر اس کے لفظ میں سے اس کا واحد نہیں ہے۔ بعض نے فرمایا ”شِدَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس طرح ”نِعْمَۃٌ“ کی جمع ”أَنْعُمٌ“ ہے، یعنی اپنی پوری قوتوں اور جوانی کو پہنچ گئے۔ اسی ”بَلَغَ“ کے لفظ ہی سے بلوغت کی اصطلاح اخذ کی گئی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس کے آتے ہی انسان پر نیکی اور بدی لکھنے والا وہ قلم مقرر ہوجاتا ہے جو بچپن میں اس پر مقرر نہیں تھا۔ اب وہ اپنے جیسے انسان کی پیدائش کا ذریعہ بننے کے قابل ہوجاتا ہے۔ معلوم نہیں جو لوگ اس وقت یوسف ؑ کی عمر کی تعیین پچیس یا تیس یا چالیس سال بیان کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ بہرحال جس قسم کی خوش حالی اور ناز و نعمت میں یوسف ؑ کی پرورش ہو رہی تھی، اس میں یہ عمر طوفان بن کر آتی ہے، مگر ان پر اللہ کا فضل تھا جس کی وجہ سے رعونت، شہوت اور حسن و عشق کی آفات کے بجائے اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم اور علم عطا فرمایا۔ ”حُکْمٌ“ اور ”حِکْمَۃٌ“ تقریباً ہم معنی ہیں، اس کا مطلب ہے ایک دوسرے کے مخالف اور ٹکرانے والے دو معاملات حق اور باطل میں سے حق کا فیصلہ کرنے کی اہلیت۔ یہ اہلیت عطا ہونے کے بعد آدمی صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرنے کے قابل ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں علم عطا فرمایا، یعنی نیکی و بدی کی پہچان اور وہ باتیں جاننے اور ان پر عمل کی استعداد جو عام لوگ نہیں جانتے، جس میں خواب کی تعبیر اور وہ علم بھی شامل ہے جس کا اظہار انھوں نے وزارت کی پیش کش پر خزانے کا شعبہ طلب کرنے پر کیا تھا : (اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ)[ یوسف : 55 ] ”بیشک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں۔“
وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ : انسان خوش حال ہو یا خستہ حال، اگر وہ نیکی اور اچھائی پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسے ہی جزا دیتے ہیں، مثلاً کوئی بھی تنگ دست جو اللہ کا شکوہ کرنے اور اپنی حالت پر ناراض رہنے کے بجائے اس کی تقدیر پر شاکر ہو کر صبر کرے، اس پر خوش رہے اور غلط سمت میں قدم نہ اٹھائے تو اسے اللہ تعالیٰ ایسے ہی بدلہ دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ نوازش صرف یوسف ؑ ہی پر نہیں تھی بلکہ احسان پر کاربند رہنے والے ہر شخص کو ایسے ہی جزا ملتی ہے۔
Ayah 12:23وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا : ”رَاوَدَ“ باب مفاعلہ سے ہے، نرمی اور ملائمت سے بار بار مطالبہ کرنا، پھسلانا، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بار بار اور ہر طریقے سے پھسلایا۔ کیونکہ ایک ہی گھر میں رہ کر خدمت کرنے والے غلام سے ہزار انداز سے اور بار بار اپنے شوق کا اظہار ہوسکتا ہے، مثلاً غلام کھانا لایا ہے تو حکم ہو، دور کیوں بیٹھے ہو ؟ ادھر میرے ساتھ آ کر بیٹھو وغیرہ۔”بَیْتٌ“ ”بَاتَ یَبِیْتُ“ (رات گزارنا) سے ہے، اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں آدمی رات رہتا ہو، پھر گھر کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اب بھی اس کا اصل استعمال اینٹ پتھر کے مکان یا اون، پشم اور کپڑے وغیرہ کے خیمے پر ہوتا ہے۔ صحن سمیت پورے گھر کو عموماً ”دَارٌ“ کہتے ہیں۔ یوسف ؑ جب تک بچے تھے، عزیز کی بیوی کی نظر بچے پر شفقت و محبت والی تھی، اب جب جوانی آئی تو وہ نگاہ نہ رہی۔ یہی اصل بیٹے اور متبنّیٰ کا فرق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کو بےمثال حسن سے نوازا تھا۔ حدیث معراج میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوسف ؑ سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وَ إِذَا ھُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ) [ مسلم، الإیمان، باب الإسراء۔۔ : 162] ”انھیں حسن کا شطر عطا کیا گیا تھا۔“ شطر کا معنی نصف بھی ہے اور ایک حصہ بھی۔ (قاموس) یعنی یوسف ؑ کو حسن کا خاصا بڑا حصہ عطا ہوا تھا۔ عزیز کی بیوی کے غلط راستے پر چل نکلنے کا ایک باعث ترمذی (2165) میں موجود اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی بھی تھی کہ کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کے ساتھ اکیلی نہ ہو، ورنہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا (جو دونوں کو ایک دوسرے کی نگاہ میں خوبصورت بنا کر دکھائے گا)۔ یہاں یوسف ؑ تو ویسے ہی شیطان سے محفوظ تھے، اگرچہ غلام ہونے کی وجہ سے پردہ لازم نہ تھا، مگر ایک ہی گھر اور کمرے میں سال ہا سال کی خلوت عزیز مصر کی بیوی کو لے ڈوبی۔ افسوس ! مسلمان اب بھی اس کی پروا نہیں کرتے، حالانکہ آپ ﷺ نے خاوند کے بھائی کے ساتھ خلوت سے بھی منع کیا، فرمایا : (اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ) [ بخاری، النکاح، باب لا یخلون رجل۔۔ : 5232 ] ”خاوند کا بھائی تو موت ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے اس عورت کا نام نہیں لیا جس کے گھر میں یوسف ؑ تھے۔ حق یہی ہے کہ ہم بھی نہ لیں، خصوصاً جب ہمیں اس کا نام کسی صحیح ذریعے سے معلوم ہی نہ ہو اور نام لینے میں کسی گناہ گار خصوصاً عورت کی پردہ دری ہو رہی ہو۔ اس لیے بار بار زلیخا کہنے والے قرآن سے سبق سیکھیں اور اپنے اس رویے کو ترک کریں۔
عَنْ نَّفْسِهٖ : قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ملاحظہ فرمایئے، پوری بات سمجھ میں آرہی ہے اور کوئی ناشائستہ لفظ بھی استعمال نہیں ہوا۔
وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ۔۔ : ”غَلَّقَ“ باب تفعیل میں سے ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”دروازے اچھی طرح بند کرلیے“ کیا ہے۔ ”هَيْتَ لَكَ“ اسم فعل ہے جس کا معنی ہے ”آ، جلدی کر۔“ ”لَکَ“ خطاب کی صراحت کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں : ”شُکْرًا لَکَ ، سَقْیًا لَکَ“ اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت یوسف ؑ کو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہر چیز موجود تھی اور روکنے والی دنیا کی کوئی چیز نہ تھی۔ یوسف ؑ کی صحت، جوانی، قوت، خلوت، فریق ثانی کا حسن، پیش کش، اس پر اصرار، غرض ہر چیز ہی بہکا دینے والی تھی، جب کہ انسان کو روکنے والی چیز اس کی اپنی جسمانی یا جنسی کمزوری ہوسکتی ہے، یا فریق ثانی کے حسن کی کمی، یا اس کی طرف سے انکار یا مزاحمت کا امکان یا راز فاش ہونے کا خطرہ یا اپنے خاندان، قوم اور لوگوں میں رسوائی کا خوف، ان میں سے کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھی۔ اٹھتی جوانی تھی، بےمثال حسن تھا، دروازے بند تھے، دوسری طرف سے پیش کش بلکہ درخواست اور اس پر اصرار تھا، اپنے وطن سے دور تھے کہ قبیلے یا قوم میں رسوائی کا ڈر ہو۔ یہاں کتنے ہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اپنوں سے دور ہونے کی وجہ سے بہک جاتے ہیں، پھر دروازے خوب بند تھے، راز فاش ہونے کی کوئی صورت ہی نہ تھی اور جب مالکہ خود کہہ رہی ہو تو سزا کا کیا خوف ؟
قَالَ مَعَاذ اللّٰهِ : یوسف ؑ کے سامنے جب بچنے کی کوئی راہ نہ رہی تو انھوں نے اس ذات پاک کی پناہ مانگی جس کی پناہ ملنے کے بعد کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ”مَعَاذَ“ مصدر میمی ہے، معنی ہے : ”أَعُوْذُ باللّٰہِ مَعَاذًا مِمَّا تُرِیْدِیْنَ“ یعنی تم جو چاہتی ہو میں اس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی پناہ میں لے کر اس سے بچا لے۔
اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور مفسرین میں سے ہر ایک نے اپنے ذوق کے مطابق کسی ایک معنی کو ترجیح دی ہے۔ ایک تو یہ کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، بیشک وہ اللہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا، اس کی نافرمانی کرکے میں ظالموں میں شامل نہیں ہوسکتا۔ دوسرا معنی ہے کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، تم اس عزیز مصر کی بیوی ہو جو میرا مالک ہے، میں اس کا غلام ہوں، اس نے میرے لیے رہنے کا ایسا اچھا انتظام کیا ہے، میں اپنے مالک کی خیانت کیسے کرسکتا ہوں، یہ تو سراسر ظلم ہے۔ پہلے معنی میں عزیز کی بیوی کو اللہ سے ڈرایا اور اس کے احسان یاد دلائے ہیں، دوسرے معنی میں اسے خاوند کی شرم دلائی ہے، شاید اس طرح ہی وہ باز آجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں معنی درست ہیں، دونوں بیک وقت مراد بھی ہوسکتے ہیں، مگر دوسرا معنی زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی تقدیر پر شاکر ہو کر اپنے آپ کو عزیز مصر کا غلام سمجھتے تھے اور ہر طرح اس کی خدمت اور اطاعت کرتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے مالک اور مربی کے احسان کا بدلہ اس پر ظلم کے ساتھ دینے کے لیے تیار نہ تھے اور لفظ ”رب“ غلام کے مالک کے لیے یوسف ؑ کی زبانی اسی سورت میں کئی جگہ آیا ہے، فرمایا : (قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ فَسْـــَٔـلْهُ) [ یوسف : 50 ] اور فرمایا : (اَمَّآ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا) [ یوسف : 41 ] اور فرمایا : (فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّه) [ یوسف : 42 ]
اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ : یعنی زنا ظلم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ زنا اپنے آپ پر ظلم ہے، اس عورت پر ظلم ہے، اس کے خاوند پر ظلم ہے، اپنے خاندان اور اس کے خاوند کے خاندان دونوں پر ظلم ہے کہ کسی خاندان کا بچہ دوسرے خاندان کا بچہ شمار ہوگا، نسب برباد ہوگا۔ زنا پوری انسانیت پر ظلم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا) [ بنی إسرائیل : 32 ] ”اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بیشک وہ ہمیشہ سے بڑی بےحیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ یعنی زنا بےحیائی ہونے کے ساتھ ایک برا راستہ ہے جو آج تمہیں دوسرے کی عزت برباد کرنے کے لیے لے گیا ہے تو کل کسی کو تمہارے گھر بھی لے آئے گا، مثلاً شریعت نے جب آپ کو چوری سے روکا ہے تو اس نے صرف آپ کو نہیں روکا بلکہ کروڑوں، اربوں کو آپ کی چوری کرنے سے روکا ہے۔ اگر آپ باز نہ آئے تو دوسرے کیوں باز آئیں گے ؟ مسلمانوں کے نسب کے محفوظ رہنے اور ان کے معاشرے کی پاکیزگی پر کفار کو بیحد حسد ہے۔ وہ اس شرف سے محروم ہوجانے کے بعد اب ہم میں بھی بےحیائی پھیلا کر ہمیں اس شرف سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ یوسف ؑ کا طرز عمل اس معاملے میں ہمارے لیے بہترین چراغ راہ ہے۔
Ayah 12:24وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا : عزیز کی بیوی کا یوسف ؑ کے ساتھ ارادۂ بدی تو ”لام“ اور ”قَدْ“ سے (جو دونوں تحقیق کے لیے بمعنی قسم آتے ہیں) بلکہ سارے واقعہ ہی سے ظاہر ہے، البتہ یوسف ؑ نے ارادہ کیا یا نہیں، اس میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ جس طرح روزہ دار کو ٹھنڈا پانی دیکھ کر اس کی رغبت ہوتی ہے مگر وہ روزے کی وجہ سے اس پر قابو پا لیتا ہے اور یہ ایک طبعی چیز ہے۔ اس قسم کا خیال یوسف ؑ کے دل میں آگیا ہو تو کچھ بعید نہیں مگر ”بُرْهَانَ رَبِّهٖ“ دیکھنے کی برکت سے یوسف ؑ نے اسے جھٹک دیا۔ مگر دوسری تفسیر جس پر زیادہ اطمینان ہوتا ہے، وہ یہی ہے جو ترجمے سے ظاہر ہے اور قرآن مجید میں ”لَوْلَا“ شرط کی جزا اس سے پہلے آنے کی مثال بھی موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی والدہ کے متعلق فرمایا : (ۭاِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰي قَلْبِهَا) [ القصص : 10 ] ”بیشک وہ قریب تھی کہ اسے ظاہر کر ہی دیتی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے اس کے دل پر بند باندھ دیا تھا۔“ اگر یوسف ؑ ارادہ کرچکے ہوتے اور برہانِ رب کے ذریعے سے ان کو ہٹایا جاتا تو آیت کے الفاظ یہ نہ ہوتے : (كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ) ”اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اس سے برائی اور بےحیائی کو ہٹا دیں“ بلکہ یہ ہوتے : ”کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَہُ عَنِ السُّوْٓءِ وَالْفَحْشَاءِ“ کہ اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اسے برائی اور بےحیائی سے ہٹا دیں۔ پھر اس واقعہ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص نے جس طرح یوسف ؑ کی بےگناہی کی شہادت دی اس کا تقاضا بھی یہی ہے، مثلاً 1 خود اللہ تعالیٰ : (كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ) 2 یوسف ؑ : (ھِیَ رَاوَدَتْنِی) 3 شاہد ”قمیص کا معائنہ“ 4 عزیز مصر : (اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ) 5 شاہ مصر : (اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ) 6 زنان مصر : (مَا عَلِمْنَا عَلَیْہ مِنْ سُوْءٍ) 7 اور خود عزیز کی بیوی : (وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ) 8 خود یوسف ؑ نے بعد میں فرمایا : (وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ) کہ اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا، یہ صریح دلیل ہے کہ وہ مائل نہیں ہوئے تھے۔ سب کی شہادتیں ہمارے سامنے ہیں۔ رہے وہ مفسرین جو یوسف ؑ کو بلا دلیل گناہ کے عین کنارے پر پہنچا کر پیچھے ہٹاتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کو خود جواب دہ ہوں گے اور جو مفسرین ان بند دروازوں میں ہونے والی گفتگو بھی بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں وہ شاید وہاں چھپ کر سنتے رہے ہوں گے، یا ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحی آئی ہوگی، کیونکہ قرآن و حدیث اور عقل و فطرت میں سے تو کوئی چیز ان مکالموں کی تائید نہیں کرتی۔
لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ : وہ رب کی دلیل کیا تھی ؟ اس کی تعیین میں رسول اللہ ﷺ سے صحت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں ہے، البتہ مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں جو محض اقوال ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ ؓ فرماتے ہیں : ”ہوسکتا ہے کہ ایک نبی کے اخلاق کی بلندی اس کی اجازت نہ دیتی ہو کہ زنا جیسے برے کام پر آمادہ ہوں اور اسی کو یہاں ”بُرْهَانَ رَبِّهٖ“ سے تعبیر فرمایا ہو۔“
اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ : ”اَلْمُخْلِصِیْنَ“ لام کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اخلاص والے، نیک بخت بندے مراد ہوں گے اور ”الْمُخْلَصِيْنَ“ لام کے فتحہ کے ساتھ ہو تو معنی ہوگا وہ جنھیں چن لیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خالص کرلیا ہے۔ یہاں لام کے فتحہ کے ساتھ ہے، یعنی وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے چنے جانے کا شرف حاصل ہوا۔ مخلص بندہ ہونا ان دونوں باتوں کی علت ہے کہ یوسف ؑ نے برائی کا ارادہ بھی نہیں کیا اور یہ کہ ہم نے برائی و بےحیائی کو ان سے ہٹا کر رکھا، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے، جن کے متعلق شیطان نے خود اعتراف کیا تھا کہ میں انھیں گمراہ نہیں کرسکوں گا، اس نے کہا تھا : (ۙاِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ) [ الحجر : 40 ] ”مگر ان میں سے تیرے وہ بندے جو خالص کیے ہوئے ہیں۔“ اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کی طہارت چار بار بیان کی ہے : 1 ”لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ“ 2 ”وَالْفَحْشَاۗءَ“ 3 ”اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا“ 4 ”الْمُخْلَصِيْنَ“
Ayah 12:25وَاسْتَبَقَا الْبَابَ۔۔ : علماء نے لکھا ہے کہ اس جملے کا تعلق ”وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ۔۔“ کے ساتھ ہے اور ”كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ۔۔“ درمیان میں جملہ معترضہ ہے جو یوسف ؑ کی پاک بازی کو ثابت کرنے کے لیے لایا گیا ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورت نے زنا کا عزم کیا، مگر یوسف ؑ نے انکار کیا، چناچہ اسی کشمکش میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے، آگے یوسف ؑ اور پیچھے عزیز کی بیوی۔ یوسف ؑ اس لیے کہ جلدی سے دروازہ کھول کر بھاگ جائیں اور عزیز کی بیوی دوڑی کہ پہلے پہنچ کر انھیں دروازہ کھول کر بھاگنے نہ دے۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ دروازے جو عزیز کی بیوی نے بہت اچھی طرح بند کیے جب یوسف ؑ گناہ سے بچنے کے لیے بند دروازوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بھاگے تو اللہ تعالیٰ نے کھولنے میں بھی مدد فرما دی۔ اسی مقصد کے لیے اس نے پیچھے سے قمیص پکڑی کہ روک لے مگر قمیص پھاڑ کر بھی روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ یوسف دروازے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے، ساتھ ہی وہ بھی نکلی تو اچانک دونوں نے اس کے خاوند کو سامنے پایا۔ اب وہ سارا ”عشق حقیقی“ جس کی داستان ہمارے قصہ گو مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں اور اسے ایک رسول خدا کا عشق صادق ہونے کی وجہ سے معرفتِ الٰہی کی ایک منزل قرار دیتے ہیں، ایک لمحہ میں بہتان کے سانچے میں ڈھل گیا۔ کہنے لگی، اس شخص کی کیا جزا ہے جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ قید کیا جائے یا دردناک سزا ہو ؟ سبحان اللہ ! خاوند کو بھڑکانے کے لیے، جو غلام کو ورغلانے والی تھی وہ خاوند کی عفت مآب گھر والی بن گئی، دعویٰ کرنے والی بھی خود ہی بن گئی اور دعویٰ یہ نہیں کہ اس نے کوئی چھیڑ چھاڑ کی یا دست درازی کی ہے، بلکہ صرف یہ کہ برائی کا ارادہ کیا ہے، اب کسی کے سینے کے اندر جا کر کون تحقیق کرے کہ ارادہ تھا بھی یا نہیں اور تھا تو کیا تھا ؟ پھر اس الزام کے ثبوت کے لیے کوئی گواہ یا قرینہ پیش نہیں کیا، اس کے باوجود خود ہی سزا سنانے والی جج بن گئی کہ اس کے لیے ان دو سزاؤں میں سے ایک کے سوا ہو ہی کیا سکتی ہے ؟
Ayahs 12:26–28قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ : یوسف ؑ اب تک خاموش تھے اور انھوں نے خاموش ہی رہنا تھا، کیونکہ اللہ کے بندوں کی صفت پردہ پوشی ہے، مگر تہمت کے بعد خاموش رہنے کا مطلب اس الزام کو قبول کرنا تھا، اس لیے یوسف ؑ نے اپنی صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا، فرمایا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے۔
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا۔۔ : عزیز مصر اور گھر کے خصوصی افراد دونوں کی بات سن کر پس و پیش میں پڑگئے کہ کسے سچا کہیں اور کسے جھوٹا ؟ کیونکہ وقوعہ کے وقت کوئی شخص پاس موجود ہی نہ تھا۔ ایسے وقت میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ موقع دیکھ کر قرائن سے فیصلہ کیا جائے، اسے قرینے کی شہادت بھی کہتے ہیں۔ دیکھا گیا تو عورت کے جسم یا لباس پر دست درازی کا کوئی نشان نہ تھا۔ ہاں، یہ بات سب کو معلوم ہوچکی تھی کہ یوسف کی قمیص پھٹی ہے۔ عزیز مصر کی بیوی کے گھر والوں میں سے ایک سمجھ دار آدمی نے فیصلہ کیا (یہاں شہادت کا لفظ قرینے پر فیصلہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے) کہ قمیص کو دیکھ کر فیصلہ کرلو۔ ظاہر ہے کہ اس آدمی نے ابھی تک قمیص دیکھی نہ تھی، ورنہ وہ یہ نہ کہتا کہ قمیص دیکھو کدھر سے پھٹی ہے، بلکہ اس نے ایک مسلمہ قاعدے کے طور پر یہ فیصلہ دیا۔ جب عزیز مصر نے قمیص دیکھی کہ پیچھے سے پھٹی ہے تو ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی اور پھر صرف اپنی بیوی ہی نہیں سب عورتوں کے متعلق کہہ دیا کہ یقیناً یہ تمہارے فریب میں سے ایک فریب ہے، یقیناً تم عورتوں کا فریب بہت بڑا ہے۔ یہ شاہد کون تھا ؟ مستدرک حاکم اور بعض دوسری کتب میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ ان چار بچوں میں سے ایک تھا جنھوں نے گود میں کلام کیا۔ اس حدیث کو بہت سے اصحاب نے صحیح یا حسن کہا ہے، مگر بہت سے اصحاب نے ضعیف بھی کہا ہے۔ جن میں سے شیخ ناصر الدین البانی ؓ سرفہرست ہیں۔ دیکھیے : ”سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ (2؍271، ح : 880)“ پوری بحث وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ حافظ ابن قیم ؓ نے بھی ”الجواب الکافی“ میں اسے ضعیف کہا ہے۔ میری دانست میں یہی بات درست ہے کہ وہ ایک سمجھ دار آدمی تھا، کیونکہ 1 خود ابن عباس ؓ کا قول ثقہ راویوں کے ساتھ تفسیر طبری میں ہے کہ وہ شاہد داڑھی والا مرد تھا۔ اگر ابن عباس ؓ کے پاس رسول اللہ ﷺ کا فرمان موجود ہوتا تو وہ کبھی اس کے خلاف نہ فرماتے، جب کہ ان کا یہ قول صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔ 2 اگر دودھ پیتے بچے نے گواہی دی تھی تو یہ معجزہ خود اکیلا ہی یوسف ؑ کی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے کافی تھا، اس بچے کو عزیز مصر کی بیوی کا رشتہ دار بتائے جانے کی اور قمیص آگے یا پیچھے سے پھٹی ہونے کی پڑتال کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ہمارے بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اگرچہ اس بچے کا بول اٹھنا ہی بہت بڑا تھا، جس نے کلام کرنا سیکھا ہی نہیں، مگر قرآن نے اس پر اکتفا نہیں کیا، کیونکہ قرآن بنیادی طور پر دلیل یا تحقیق اور جستجو کو معیار ماننا یا منوانا چاہتا ہے۔ وہ نری تقدیس پر نہیں، تحقیق پر بنیاد رکھتا ہے۔ چناچہ بچے نے دلیل اور مشاہدہ کو فیصلے کی بنیاد قرار دیا اور کہا : ”(قمیص) دیکھ لو۔۔“ اگر یہ بات درست مانی جائے تو پھر مریم [ کی پاک بازی کے ثبوت کے لیے بچے کے معجزۂ کلام کے سوا تحقیق کی کیا بنیاد تھی ؟ اور صحیح بخاری میں مذکور جریج پر جس بچے کا باپ ہونے کا الزام لگا تھا، وہاں صرف اس بچے کے بولنے کے سوا تحقیق کی بنیاد کیا تھی ؟ دونوں جگہ بچے کا بولنا ہی کافی دلیل تھا۔
3 یہاں بعض لوگ عورتوں کی مذمت کے طور پر عجیب صغریٰ کبریٰ ملاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کا مکر و فریب شیطان کے مکر و فریب سے بھی بڑا ہے، دلیل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے کید (مکر) کو عظیم قرار دیا، جب کہ شیطان کے کید کے متعلق فرمایا : (اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا) [ النساء : 76 ] ”بیشک شیطان کی چال (کید) ہمیشہ نہایت کمزور رہی ہے۔“ حالانکہ یہاں سورة یوسف میں یہ عزیز مصر کا قول نقل ہوا ہے اور اس نے بھی اپنی بیوی کا جرم ہلکا کرنے کے لیے تمام عورتوں کو اس میں لپیٹ لیا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے نقل کرکے اس پر رد نہیں فرمایا، مگر یہ قرآن کا طریقہ نہیں کہ بات سننے والے کی سمجھ میں آرہی ہو کہ کون کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے تو اس کا رد ضرور ہی کرے۔ پھر دیکھیے حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کا کید (مکر) مردوں کے مقابلے میں عظیم ہے، جب کہ شیطان کا (مکر) اللہ تعالیٰ اور اس کی راہ میں لڑنے والوں کے مقابلے میں ضعیف ہے۔ یہاں قوت و ضعف کے فریق ہی الگ الگ ہیں۔ البتہ رسول اللہ ﷺ سے عورتوں کے فتنے سے ہوشیار رہنے کی تاکید صحیح احادیث سے ثابت ہے، اسامہ بن زید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (مَا تَرَکْتُ بَعْدِيْ فِتْنَۃً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ) [ بخاری، النکاح، باب ما یتقي من شؤم المرأۃ۔۔ : 5096 ] ”میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔“ ابوسعید خدری ؓ کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَذْھَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ یَامَعْشَرَ النِّسَاءِ !) [ بخاری، الزکوٰۃ، باب الزکاۃ علی الأقارب : 1462 ] ”میں نے عقل اور دین کی ناقص شخصیات میں سے کسی کو تمہاری کسی ایک سے زیادہ ہوشیار آدمی کی عقل کو لے جانے والا نہیں دیکھا، اے عورتوں کی جماعت !“ ”اور ابوبکرہ ؓ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایرانیوں کے اپنے بادشاہ کی بیٹی کو بادشاہ مقرر کرنے پر فرمایا : (لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَھُمُ امْرَأَۃً) ”وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جنھوں نے اپنا امر (سلطنت) کسی عورت کے حوالے کردیا۔“ [ بخاری،
Ayah 12:29يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۔۔ : عزیز مصر نے حقیقت حال جان لینے کے بعد یوسف ؑ سے کہا کہ یوسف ! اس معاملے سے در گزر کرو (تاکہ بات نہ پھیلے، بلاشبہ تمہاری سچائی اور پاک بازی ثابت ہوگئی ہے)۔ ادھر اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر، معافی مانگ، یقیناً تو ہی خطاکاروں سے تھی۔ ”مُخْطِئٌ“ اور ”خَاطِئٌ“ کا یہی فرق ہے، پہلا وہ شخص ہے جس سے بھول کر خطا ہوجائے نہ کہ دانستہ طور پر اور ”خَاطِئٌ“ وہ ہے جو جان بوجھ کر غلط کام کرے، جیسے فرمایا : (اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ) [ القصص : 8 ] ”بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔“
بظاہر یہ عزیز مصر کا حلم و تحمل ہے، مگر درحقیقت اس سے اس کا بےغیرت اور دیوث ہونا ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اسے معمول کی ایک بات قرار دے کر معاملہ نمٹا دیا۔ نہ بیوی کو کوئی سزا دی اور نہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کا کوئی اہتمام ضروری سمجھا۔ اس سے اس وقت کے مصر کے اونچے طبقے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے جو اب مسلمانوں کے طبقۂ اشراف کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ (الا ما شاء اللہ)
وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کے لوگوں میں خواہ نیک ہوں یا بد، گناہ اور نیکی کی پہچان پائی جاتی ہے اور ایسی ہستی پر بھی کسی نہ کسی حد تک ایمان پایا جاتا ہے جس کی نافرمانی کے بعد اس سے بخشش مانگنی چاہیے۔
Ayah 12:30وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ۔۔ : ”نِسْوَۃٌ، نِسَاءٌ“ اور ”نِسْوَانٌ“ سب ”اِمْرَأَۃٌ“ کی جمع ہیں، مگر ”اِمْرَأَۃٌ“ لفظ سے نہیں۔ (قاموس) ”نِسْوَۃٌ“ کے ”اِمْرَأَۃٌ“ کی جمع حقیقی نہ ہونے کی وجہ ہی سے فعل ”قَالَتْ نِسْوَۃٌ“ کے بجائے : ”َقَالَ نِسْوَةٌ“ آیا ہے، کیونکہ غیر حقیقی جمع ہونے کی صورت میں ایسا ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہر جگہ ”نِسَاءٌ“ آیا ہے، صرف اس آیت یا اسی سورت کی آیت (50) میں کل دو مرتبہ ”نِسْوَةٌ“ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”نِسْوَۃٌ“ جمع قلت کا وزن ہے، جو تین سے دس تک استعمال ہوتا ہے، بخلاف ”نِسَاءٌ“ وغیرہ کے کہ وہ کثرت کے لیے بھی آتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عزیز کی بیوی نے چند ایک خاص عورتوں ہی کو اس مجلس کی دعوت دی تھی۔ ”شَغَفَهَا“ شغاف دل کے پردے کو کہتے ہیں، یعنی دل کے پردے کے اندر داخل ہوگیا ہے۔ بعض نے شغاف کا معنی ”سویداء القلب“ (دل کا مرکز) بھی کیا ہے۔ ”تُرَاوِدُ فَتٰىهَا“ (اپنے غلام کو پھسلاتی ہے) ان عورتوں نے ماضی کا صیغہ ”رَاوَدَتْ“ (اس نے پھسلایا ہے) کے بجائے مضارع کا صیغہ استعمال کیا کہ وہ اب بھی اس سے باز نہیں آتی، بلکہ پھسلاتی رہتی ہے۔
Ayah 12:31فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ۔۔ : اس آیت کی تفسیر اکثر بلکہ تقریباً سبھی مفسرین نے یہ کی ہے اور اس کے لیے جس تاویل کی ضرورت پڑی وہ بھی کرتے گئے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب شہر میں اس واقعہ کی شہرت ہوئی تو عورتوں نے طعن و تشنیع اور ملامت کے تیر برسانا شروع کردیے کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے اور اس کی اتنی دیوانی ہوگئی ہے جو اس کی حیثیت کے خلاف ہے۔ جب عزیز کی بیوی نے ان کی ملامت کو سنا۔ (قرآن میں لفظ ہے کہ جب اس نے ان کے مکر کو سنا۔ مکر کا سیدھا سا معنی ”فریب، سازش، خفیہ تدبیر“ ہوتا ہے، مگر ہمارے مفسرین نے اسے درست کرنے کے لیے کہا کہ وہ ظاہر تو ملامت کر رہی تھیں مگر حقیقت میں وہ یوسف کا حسن دیکھنا چاہتی تھیں، ان کے مکر سے مراد یہ ہے) خیر جب اس نے ان کی ملامت کو سنا تو اس نے ان کی ملامت کے جواب میں اپنے فعل کا جواز پیش کرنے اور اپنے بےاختیار ہوجانے کے سبب کا مشاہدہ کروانے کے لیے چند خاص عورتوں کو دعوت دی اور ان کے لیے یہ مجلس آراستہ کی۔ اب جب مجلس جوبن پر تھی، چھریوں سے گوشت اور پھل کاٹے جا رہے تھے، تو یوسف ؑ سے کہا، ان کے سامنے آؤ۔ جب انھوں نے یوسف ؑ کو دیکھا تو ان کے حسن کو دیکھ کر ایسی بےخود ہوئیں کہ انھیں خیال ہی نہ رہا کہ ہم پھل کاٹ رہی ہیں یا اپنے ہاتھ، وہ انھیں دیکھتی ہی رہ گئیں اور چھریاں ان کے ہاتھوں پر چل گئیں، جس سے انھوں نے اپنے ہاتھ بری طرح کاٹ لیے (َقَطَّعْنَ باب تفعیل مبالغہ کے لیے ہے) اور محویت میں انھیں درد کا احساس ہی نہیں ہوا اور کہنے لگیں، اللہ کی پناہ یہ کوئی آدمی نہیں، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ (یعنی حسن میں فرشتہ قرار دیا جس طرح بدصورتی میں شیطان کہا جاتا ہے) عزیز کی بیوی نے کہا کہ پھر یہی ہے وہ جس کے متعلق تم نے مجھے ملامت کی۔۔ عام تفاسیر کا خلاصہ یہ ہے، مگر اصل صورت واقعہ کچھ اور معلوم ہوتی ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یوسف ؑ بچے تھے، جب وہ ان کے گھر میں غلام کی حیثیت سے آئے تھے۔ غلام کا خدمت کے لیے اپنے آقا سے تعلق رکھنے والے تمام گھروں میں لین دین یا پیغام وغیرہ پہنچانے کے لیے عام آنا جانا ہوتا ہے۔ کئی سال بعد جب وہ پورے جوان ہوئے تو یہ واقعہ پیش آیا۔ اب آیا یہ ممکن ہے کہ اتنے سالوں تک عزیز مصر کی بیوی کی اتنی قریب ترین سہیلیوں نے یوسف ؑ کو دیکھا ہی نہ ہو اور عزیز کی بیوی نے انھیں دکھانے کا اہتمام اب ہی کیا ہو ؟ میں نے بیسیوں تفسیریں پڑھیں، بڑے بڑے باریک بین اہل علم جن کے علم و فضل کا یہ عاجز دل سے نہایت معترف ہے اور انھی کا خوشہ چین ہے، وہ اس سوال کے پاس سے خاموشی سے گزر گئے ہیں اور حسن یوسف سے بےخودی ہی کو ہاتھ کٹنے کا باعث قرار دیتے چلے گئے ہیں۔ البتہ چند ایک نے اس کی طرف توجہ کی ہے، انھوں نے اس کا جواب یہ تراشا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی ہمیشہ یوسف ؑ کو برقع پہنا کر رکھتی تھی، تاکہ کوئی انھیں دیکھ نہ لے۔ مجھے تعجب ہوا کہ بعض مفسرین نے حسن یوسف کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ مصر کی گلیوں میں چلتے تھے تو ان کے چہرے کے حسن اور نور کا عکس دیواروں پر پڑتا تھا۔ اب کہاں برقع اور کہاں دیواروں پر چہرے کے حسن و نور کا عکس پڑنا۔ ”ضِدَّانِ مُفْتَرِقَانِ أَیَّ تَفَرُّقٍ“ سیدھی سی بات ہے کہ یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے عزیز مصر کے گھر اسی لیے جگہ دی تھی کہ وہ مشورے کی مجلسوں میں خدمت کرنے والے غلام یا عزیز مصر کے بیٹے کی حیثیت سے شریک ہو کر رموز مملکت سیکھیں، فرمایا : (وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ) [ یوسف : 21 ] ”اور تاکہ ہم اسے باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھائیں۔“ اس معاشرے میں مردوں اور عورتوں کا بےپردہ مل کر بیٹھنا معمول کی بات تھی، جس طرح آج کل مسلمانوں کی پارلیمنٹ اور دوسرے اداروں اور گھروں کا حال ہوگیا ہے، غیر مسلموں کا حال تو قابل بیان ہی نہیں۔ ایسے حالات میں اتنے سال تک ان خواتین کو کوشش کے باوجود یوسف ؑ کے دیکھنے کا موقع نہ ملنا سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ اصل بات جو صاف نظر آرہی ہے، یہ تھی کہ جب ان چند عورتوں تک اندر کی یہ خبر کسی طرح پہنچی تو انھوں نے عزیز کی بیوی پر طعن و ملامت کی کہ اس کی نادانی دیکھو کہ اپنے غلام پر فریفتہ ہوچکی ہے اور اب تک کی مسلسل کوشش اور پھسلانے کے باوجود حصول مقصد میں ناکام ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے حسن کا اور کسی کو اپنا دیوانہ بنانے کی چالوں میں مہارت کا دعویٰ بھی کیا کہ ہمارے پاس وہ مکر ہیں کہ کوئی بھی ہمارے مکر و فریب سے بچ کر نہیں جاسکتا، ایک غلام کی کیا مجال ہے۔ (فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ) تو جب عزیز مصر کی بیوی نے ان کے مکر و فریب اور چالوں کا دعویٰ سنا تو انھیں دعوت دی کہ تم بھی اپنا ہنر آزما دیکھو، اگر وہ کسی ایک کو بھی دل دے بیٹھا تو میرے لیے بھی وجۂ جواز بن جائے گی۔ باقاعدہ ان کی چال کی تفصیل سن کر ہر عورت کو دعوت کے لوازمات کے ساتھ خصوصاً ایک ایک چھری بھی دی۔ اب یوسف ؑ عزیز کی بیوی کے کہنے پر شہر کی منتخب حسیناؤں کے سامنے آئے تو ان میں سے ہر ایک نے انھیں اپنے حسن اور ناز و انداز سے متاثر کرنے کی کوشش کی۔ جب کوئی کوشش کامیاب نہ ہوسکی تو انھوں نے بےبس عاشقوں کا آخری حربہ آزمایا کہ اگر تم نے ہمارا دل توڑا تو ہم خودکشی کرلیں گی۔ یہ ایسا مرحلہ ہوتا ہے کہ آدمی رحم کے جذبے کے ہاتھوں پھنس جاتا ہے۔ کئی لڑکیاں اسی طرح برباد ہوئیں اور کئی لڑکے بھی۔ ضروری نہیں کہ سب عورتوں نے ایسا کیا ہو، بہرحال ان میں سے کچھ نے اپنے ہاتھ بری طرح زخمی کر کے اپنی خودکشی کی دھمکی دی۔ حسن و جمال کے ساتھ عفت و حیا کے اس پی کرنے اس کی بھی پروا نہ کی تو وہ بولیں، اللہ کی پناہ ! اس شخص کے سینے میں آدمی کا دل نہیں، یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے، جو عشق و حسن کے فتنوں سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا، جسے عشق کے معاملات سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اس پر ہماری خود کشی کا بھی کیا اثر ؟ ایک فارسی شاعر نے کہا ہے
عاشق نہ شدی محنت الفت نہ کشیدی
کس پیش تو از قصۂ ہجراں چہ کشاید
”نہ تو عاشق ہوا، نہ تو نے عشق کی مصیبت اٹھائی۔ تیرے سامنے کوئی جدائی کا قصہ کھول کر کیا سنائے۔“ یہ حقیقت ہے کہ فرشتوں سے تشبیہ پاک بازی میں دی جاتی ہے، حسن میں نہیں، جس طرح ایک اردو شاعر نے ڈینگ ماری ہے
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
اس کی کئی دلیلیں آئندہ آیات میں آرہی ہیں، میں ان کا ترتیب وار ذکر کرتا ہوں : 1 یوسف ؑ نے دعا کی : (رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ) [ یوسف : 33 ] ”اے میرے رب ! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں۔“ معلوم ہوا وہ عورتیں یوسف ؑ کو دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ دعوت گناہ دینے کے لیے آئی تھیں۔ 2 یوسف ؑ نے مزید دعا کی : (ۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ) [ یوسف : 33 ] ”اور اگر تو مجھ سے ان کے (مکر) فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جاہلوں سے ہوجاؤں گا۔“ معلوم ہوا وہ سب عورتیں یوسف ؑ کو اپنے مکر و فریب میں پھنسانے کے لیے آئی تھیں نہ کہ صرف جمال یوسف کے دیدار کے لیے۔ 3 اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) [ یوسف : 34 ] ”تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی، اس نے اس (یوسف) سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔“ اللہ تعالیٰ نے بھی اس دعوت کی کار روائی کو ان سب عورتوں کا مکر و فریب قرار دیا ہے۔ 4 یوسف ؑ نے جب بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتائی اور بادشاہ نے انھیں بلوایا تو یوسف ؑ نے اس کے قاصدۭ سے کہا کہ اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو : (مَا بَال النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ) [ یوسف : 50 ] ”ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقیناً میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔“ یہ آیت خصوصاً قابل غور ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ جہاں بھی عورتوں کے مکر کا ذکر ہے مراد صرف عزیز مصر کی بیوی ہے، دوسری عورتیں چونکہ اس کی ساتھی تھیں، اس لیے ان کا ذکر ساتھ آگیا۔ اب اس آیت پر غور کریں، عزیز کی بیوی نے تو ہاتھ کاٹے ہی نہیں تھے، وہ تو دوسری ہی عورتوں نے کاٹے تھے، یوسف ؑ ان کے ہاتھ کاٹنے کو ان کا مکر و فریب قرار دے رہے ہیں۔ 5 بادشاہ نے ان تمام عورتوں کو بلا کر پوچھا : (مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ) [ یوسف : 51 ] ”تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا ؟“ معلوم ہوا کہ بادشاہ نے بھی ان کے ہاتھ کاٹنے کو یوسف ؑ کے حسن و جمال سے بےخود ہو کر ہاتھ کاٹنے کے بجائے اسے ان کی سوچی سمجھی پھسلانے کی سازش قرار دیا۔
اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ یہ تفسیر تم نے اپنے پاس سے کی ہے، تو جواب یہ ہے کہ جہاں قرآن و حدیث کی تفسیر کی کوئی نص صریح نہ ہو وہاں قرآن مجید کے عجائبات ونکات قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ویسے مجھ سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے یہی تفسیر کی ہے، مولانا امین احسن اصلاحی نے (ان کے تفسیر میں منہج کے تفرد سے قطع نظر) یہی تفسیر کی ہے اور تفسیر مواہب الرحمان کے مصنف علامہ امیر علی ملیح آبادی ؓ نے دوسری تفسیروں کے ساتھ یہ تفسیر بھی لکھی ہے، ان کے الفاظ ہیں : ”اور شاید کہ (عزیز کی بیوی نے) ان عورتوں سے اپنی مراد کے لیے استعانت چاہی ہو، اس طرح کہ آنحضرت (یوسف) ؑ نے کہا تھا : (مَعَاذ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ) یعنی اپنی پرورش کرنے والے عزیز مصر کی جو رو سے بلحاظ مربی ہونے کے یہ کام نہ کریں تو یہ عورتیں طالب ہوں، پھر ان کی تلویث کے بعد کام آسان ہو۔ چناچہ بعض مفسرین نے قصہ روایت کیا کہ ان عورتوں میں ہر ایک نے زلیخا کی حیلہ گری و اشارہ سے آنحضرت (یوسف) ؑ سے تخلیہ میں یہ خواہش ظاہر کی اور ہر طرح کی زینت و مکر اور لجاجت وحیلہ کا خاتمہ کردیا تھا اور کلام ما بعد میں اس کی طرف اشارہ بھی نکلتا ہے۔ چناچہ جب یہ صورت معاملہ نظر آئی تو یوسف ؑ نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے، یعنی وہی مجھے منظور ہے (مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ) اس کام سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں۔“ آیت کی یہ تفسیر اور بھی کئی مفسرین نے کی ہوگی مگر مجھے قدیم مفسرین میں سے جن بزرگوں سے یہ تفسیر ملی ہے وہ ہیں سلطان العلماء، شیخ الاسلام عز الدین ابن عبد السلام ؓ ، چناچہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جس مرض میں رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے اس مرض کا واقعہ ہے کہ نماز کا وقت ہوگیا، اذان ہوئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔“ آپ ﷺ سے کہا گیا : ”ابوبکر غمگین آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔“ آپ نے دوبارہ یہی حکم دیا تو انھوں نے دوبارہ یہی کہا، آپ ﷺ نے تیسری دفعہ یہی حکم دیا، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بالنَّاسِ) [ بخاری، الأذان، باب حد المریض أن یشھد الجماعۃ : 664 ] ”تم یوسف کے ساتھ والیاں ہو، ابوبکر سے کہو نماز پڑھائے۔“ صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت (679) میں ہے کہ پہلی دو دفعہ عائشہ ؓ نے یہ بات کہی تھی، تیسری بار ان کے کہنے کے مطابق حفصہ ؓ نے کہی تھی۔
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن احجر ؓ نے ”إِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ“ کی شرح عام مفسرین کے مطابق کرنے کے بعد آخر میں لکھا ہے : ”وَ وَقَعَ فِيْ أَمَالِي ابْنِ عَبْدِ السَّلَامِ أَنَّ النِّسْوَۃَ أَتَیْنَ امْرَأَۃَ الْعَزِیْزِ یُظْھِرْنَ تَعْنِیْفَھَا وَ مَقْصُوْدُھُنَّ فِي الْبَاطِنِ أَنْ یَدْعُوْنَ یُوْسُفَ إِلٰی أَنْفُسِھِنَّ“ کَذَا قَالَ وَلَیْسَ فِيْ سِیَاقِ الْآیَۃِ مَا یُسَاعِدُ مَا قَالَ“ [ فتح الباری 2؍153، ح : 665 ] ”ابن عبد السلام کی امالی میں آیا ہے کہ وہ عورتیں عزیز کی بیوی کے پاس آئیں، وہ ظاہر تو اس پر طعن و ملامت اور سختی کر رہی تھیں، حالانکہ ان کا مقصود باطن میں یہ تھا کہ وہ یوسف کو اپنی اپنی طرف دعوت دیں۔“ حافظ ابن حجر ؓ فرماتے ہیں کہ ابن عبد السلام نے ایسے فرمایا، حالانکہ سیاق میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ان کی تائید کرتی ہو۔“
ظاہر ہے کہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر ؓ کو سلطان العلماء کی بات سے اتفاق نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں سیاق ان کی موافقت نہیں کرتا، مگر اس بندۂ عاجز نے سیاق قرآن میں سے پانچ دلیلیں اسی تفسیر کے صحیح ہونے کی بیان کی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ”صَوَاحِبُ یُوْسُفَ“ بھی اس کی تائید کر رہا ہے۔ (واللہ اعلم وعلمہ اتم)
Ayah 12:32قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ۔۔ : ”ذٰلِکُنَّ“ میں اسم اشارہ ”ذَا“ ہی ہے، جس کے ساتھ مخاطب کی ضمیر یہ دیکھ کر لگائی جاتی ہے کہ مخاطب مرد ہے یا عورت، ایک ہے یا دو یا زیادہ، مثلاً آپ ایک شخص سے مخاطب ہیں اور اسے کسی آدمی کی طرف اشارہ کر کے کچھ بتانا چاہتے ہیں تو کہیں گے : ”ذٰلِکَ الرَّجُلُ الْمَذْکُوْرُ“ یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ اگر کسی عورت سے بات کر رہے ہوں گے تو کہیں گے : ”ذٰلِکِ الرَّجُلُ الْمَذْکُوْرُ“ یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ اگر آپ یہی بات کہنا چاہتے ہوں اور آپ کے مخاطب دو ہوں تو کہیں گے : ”ذٰلِکُمَا الرَّجُلُ الْمَذْکُوْرُ“ یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ جیسا کہ یوسف ؑ نے قید کے دو ساتھیوں سے فرمایا : (ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ) [ یوسف : 37 ] ”یہ وہ چیز ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی۔“ یہ معنی نہیں کہ یہ دو چیزیں۔ زیر تفسیر آیت میں عزیز کی بیوی کی مخاطب کئی عورتیں تھیں، اس لیے اس نے کہا : (فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ) اب ”ذٰلِکُنَّ“ کا معنی یہ سب عورتیں نہیں بلکہ اس کا معنی ہے یہ ہے وہ شخص۔ صرف مخاطب جمع مؤنث ہونے کی وجہ سے ”ذٰلِکُنَّ“ آیا ہے۔ اگر مخاطب بہت سے آدمی ہوتے تو اسی مفہوم کے لیے ”ذٰلِکُمْ“ آتا، جیسے فرمایا : (ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ [ البقرۃ : 54 ] ”یہ چیز تمہارے لیے بہتر ہے۔“
”فَاسْتَعْصَمَ“ سین اور تاء کے اضافے سے طلب کا معنی بھی حاصل ہوتا ہے اور مبالغے کا بھی۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”وہ صاف بچ گیا“ یا کہہ لیں ”بالکل بچ گیا۔“ ”لَيُسْجَنَنَّ“ میں نون تاکید ثقیلہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اسے ضرور ہی قید کیا جائے گا۔“ ”وَلَيَكُوْنًا“ یہ نون تاکید خفیفہ ہے، جسے عام طور پر لکھا جاتا ہے ”وَلَیَکُوْنَنْ“ مگر عربی رسم الخط وقف کے مطابق ہوتا ہے، چونکہ نون خفیفہ وقف میں الف ہوجاتا ہے، مثلاً یہی لفظ اگر اس پر وقف کریں تو اسے ”لَیَکُوْنَنْ“ نہیں پڑھا جائے گا بلکہ ”لَیَکُوْنَا“ الف کے ساتھ پڑھا جائے، اس لیے اس نون کو الف کی شکل میں لکھا جاتا ہے، جیسا کہ ”خَبِیْرًا“ اور ”بَصِیْرًا“ وغیرہ میں نون تنوین ”خَبِیْرَنْ ، بَصِیْرَنْ“ کے بجائے الف کی شکل میں ہے کہ وقف نہ ہو تو نون پڑھو، وقف ہو تو الف پڑھو۔ سورة علق میں ”لَنَسْفَعاً“ میں بھی نون تاکید خفیفہ ہے جو الف کی شکل میں لکھا گیا ہے۔
بعض مفسرین نے ”لَيُسْجَنَنَّ“ میں نون تاکید ثقیلہ یعنی تشدید کے ساتھ اور ”وَلَيَكُوْنًا“ میں خفیفہ یعنی جزم کے ساتھ ہونے کی توجیہ فرمائی ہے کہ ثقیلہ میں تاکید زیادہ ہوتی ہے، تو عزیز کی بیوی کے خیال میں اس کے لیے یوسف ؑ کو قید کروانا تو یقینی تھا، مگر ان کے ذلیل ہونے کا پورا یقین اسے بھی نہ تھا، بھلا ایسے کریم بن کریم بن کریم بن کریم کو ذلیل کیا جاسکتا ہے ؟ اس لیے اس نے لفظ نرم کردیا۔
Ayah 12:33قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ ً۔۔ : یوسف ؑ کے لیے یہ سخت امتحان کا وقت تھا، ان کے سامنے ایک طرف معصیت، یعنی اللہ کی نافرمانی ہے جس کے نتیجے میں ان کی ہر طرح ناز برداری ہوتی۔ دوسری طرف مصیبت ہے جو قید کی صورت میں ہے اور عزیز مصر کی بیوی قسم کھا کر (لام تاکید اور نون تاکید قسم کا فائدہ دیتے ہیں) اپنی حکم عدولی کی صورت میں قید کروانے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔ اس امتحان میں اللہ کے خاص بندے کبھی معصیت الٰہی کو ترجیح نہیں دیتے، بلکہ مصیبت قبول کرکے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (سَبْعَۃٌ یُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِيْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ : الإِْمَامُ الْْعَادِلُ ، وَ شَابٌّ نَشَأَ فِيْ عِبَادَۃِ رَبِّہِ ، وَ رَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِی اللّٰہِ اجْتَمَعَا عَلٰی ذٰلِکَ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْہُ امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَ جَمَالٍ فَقَالَ اِنِّيْ أَخَاف اللّٰہَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَی حَتّٰی لاَ تَعْلَمَ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہُ ، وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ)”سات آدمی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس (کے عرش) کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا : 1 عادل حکمران۔ 2 وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں نشوو نما پائی۔ 3 وہ آدمی جس کا دل مسجدوں سے اٹکا ہوا ہے۔ 4 وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ ہی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی محبت پر جدا ہوئے۔ 5 وہ آدمی جسے کسی اثر و رسوخ اور حسن و جمال والی عورت نے اپنی طرف بلایا مگر اس نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ 6 وہ آدمی جس نے صدقہ کیا اور اس قدر چھپا کردیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا دیا۔ 7 وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے۔“ [ بخاری، الأذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ۔۔ : 660۔ مسلم : 1031 ] یا اللہ ! تو اپنے فضل سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما۔ (آمین)
”يَدْعُوْنَنِيْٓ“ اور ”كَيْدَهُنَّ“ (جمع مؤنث کے صیغوں) سے پوری مجلس دعوت گناہ دینے کے لیے آراستہ کرنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ بالتفصیل اوپر گزرا۔ ”اَصْبُ“ ”صَبَا یَصْبُوْ“ سے ہے جس کا معنی مائل ہونا ہے۔ اصل میں ”اَصْبُوْ“ تھا، ”وَاِلَّا تَصْرِفْ“ کا جواب ہونے کی وجہ سے واؤ گرگئی۔ اس آیت سے دو نہایت اہم سبق ملتے ہیں، ایک یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ مدد نہ کرے اور اس کی دستگیری نہ ہو تو کوئی شخص بھی اپنے آپ کو گناہ سے، خصوصاً عورتوں کے فتنے سے نہیں بچا سکتا، دوسرا یہ کہ جب کوئی شخص اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا تو وہ اور جاہل برابر ہیں۔ یہ ہے یوسف ؑ کی پیغمبرانہ شان، اپنی طہارت اور پاک دامنی کا قطعاً دعویٰ نہیں کیا، بلکہ اپنے آپ کو حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز قرار دیتے ہوئے یہی فرمایا کہ عفت و پاک دامنی پر ثابت قدم رکھنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ اگر توفیق نہ دے گا تو میں نفس اور شیطان کے فریب میں آ کر گناہ کی طرف مائل ہوجاؤں گا۔
Ayah 12:34فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ۔۔ : اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کرکے ان سب عورتوں کا مکر و فریب اس سے ہٹا دیا، چناچہ اس کے بعد کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ کسی عورت نے انھیں پھسلانے کی کوشش کی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ جمال یوسفی پر ہیبت نبوت کی زرہ ڈال دی گئی، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ کو ایسی دعوت دینے کی کسی عورت کو کبھی جرأت ہی نہیں ہوئی، حالانکہ ان کے حسن و جمال کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا۔