13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

الۤمّۤرٰ۔ یہ کامل کتاب کی آیات ہیں اور جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

الۗمّۗرٰ : یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی تفصیل سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ شعراوی ؓ نے یہاں ایک فائدہ ذکر فرمایا ہے کہ قرآن مجید سارا وصل پر مبنی ہے، یعنی ہر لفظ دوسرے سے ملا ہوا ہے، سوائے اس مقام کے جہاں وقف کرنا ہو، جیسا کہ آیت کا آخر وغیرہ، مثلاً اسی سورت کو لے لیں : (تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ) اس میں ہر لفظ پر اعراب پڑھیں گے، مگر حروف مقطعات ”الۗمّۗرٰ“ کو ملا کر نہیں پڑھیں گے، بلکہ چاروں حرفوں کو الگ الگ پڑھیں گے، کیونکہ جبریل ؑ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی پڑھایا، پھر آپ نے ایسے ہی پڑھا اور ہم تک تواتر سے ایسے ہی پہنچا۔ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ : کوئی لفظ جب مطلق بولا جائے تو اس سے کامل فرد مراد ہوتا ہے، مثلاً کہتے ہیں : ”فُلاَنٌ الرَّجُلُ“ یعنی فلاں شخص مرد ہے، مطلب واقعی سچ مچ کامل مرد ہے، بخیل، بزدل، جھوٹا یا لولا لنگڑا نہیں۔ اسی طرح دین و عقائد میں ”اَلْکِتَابُ“ سے مراد کامل کتاب قرآن مجید لیا جاتا ہے۔ نحو میں سیبویہ کی کتاب کو ”اَلْکِتَابُ“ اور شہروں میں سے ”مَدِیْنَۃُ النَّبِيِّ ﷺ“ کو ”اَلْمَدِیْنَۃُ“ کہا جاتا ہے۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ : یعنی آپ کی طرف جو کچھ نازل کیا گیا وہی عین حق ہے، مگر اکثر لوگ غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔ اس میں انسانوں کی اکثریت کی رائے کے پرستاروں کے لیے سبق ہے اور ان لوگوں کی تعریف بھی ہے جو ایمان سے بہرہ ور ہیں، وہ قلیل بھی ہوسکتے ہیں کثیر بھی، مگر اکثریت انھی کی ہے جو ایمان کی سعادت سے محروم ہیں۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے، جنھیں تم دیکھتے ہو، پھر وہ عرش پر بلند ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ہر ایک ایک مقرر وقت کے لیے چل رہا ہے، وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، کھول کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو۔

اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ : لفظ ”اَللّٰهُ“ اس پاک ہستی کا ذاتی نام ہے جس نے سب کچھ بنایا اور اسے چلا رہا ہے۔ اس ایک لفظ میں اس کی ساری صفات آجاتی ہیں۔ ایمان اس ہستی کی توحید، اس کے رسولوں کی تصدیق اور اس کے سامنے قیامت کو پیش ہونے کے عقیدے کا نام ہے۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے آسمان و زمین میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے، تاکہ وہ توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان لے آئے۔ سب سے پہلے آسمان کا ذکر فرمایا، سورة نازعات (27) میں فرمایا : ”کیا تمہیں (پہلی بار یا دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کو ؟“ اپنے وجود اور آسمان کے وجود کا مقابلہ کرکے تو دیکھو، اور فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ المؤمن : 57 ] ”یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے۔“ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا : ”عَمَدٍ“ اسم جمع ہے، جمع نہیں، اس کا مفرد ”عَمُوْدٌ“ یا ”عِمَادٌ“ ہے۔ (شعراوی) اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر وسیع اور عظیم آسمانوں کو کسی بھی قسم کے ستونوں کے بغیر بلند کردیا، تم خود انھیں دیکھ رہے ہو کہ ان کے نیچے کوئی ستون نہیں، جب کہ تم چھوٹی سے چھوٹی چھت بھی دیواروں یا ستونوں کے بغیر نہیں بنا سکتے۔ محض اپنی قدرت اور بےپناہ قوت کے ساتھ اتنا اونچا بنانے کے بعد وہیں تھام کر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے، چناچہ فرمایا : (وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ) [ الحج : 65 ] ”اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے، اس سے کہ زمین پر گرپڑے مگر اس کے اذن سے۔“ مزید دیکھیے سورة فاطر (41) اس صورت میں ”تَرَوْنَهَا“ (تم انھیں دیکھتے ہو) میں ضمیر کا مرجع لفظ ”السَّمٰوٰتِ“ ہوگا اور ”تَرَوْنَهَا“ الگ نیا جملہ ہوگا کہ تم خود آسمانوں کو اس حالت میں دیکھ رہے ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ”تَرَوْنَهَا“ کو ”عَمَدٍ“ کی صفت قرار دیا جائے، پھر ترجمہ یہ ہوگا کہ اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جنھیں تم دیکھتے ہو، گویا ستون ہیں مگر تمہیں نظر نہیں آتے، نہ کہیں نگاہ کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں۔ آیت دونوں معنوں کا امکان رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں ممکن ہیں، اس لیے ترجمہ میں بھی دونوں معنوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ علمائے تفسیر میں سے کسی نے پہلے معنی کو ترجیح دی اور کسی نے دوسرے کو۔ امام المفسرین طبری ؓ نے فرمایا، حق یہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح کہیں جیسے اللہ نے فرمایا۔ (خلاصہ) یعنی پورے علم کے بغیر ایک معنی کو ترجیح نہ دیں۔ (واللہ اعلم) (یہاں طبری کے فیصلے کی پوری عبارت نہایت پُر لطف ہے) کیا معلوم کہ کسی وقت تجزیے سے ثابت ہوجائے کہ فضا میں نظر نہ آنے والی کوئی چیز موجود ہے جس پر آسمان قائم ہیں۔ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا سات جگہ آتا ہے، سورة اعراف (54) ، یونس (3) ، رعد (2) ، طٰہٰ (5) ، فرقان (59) ، سجدہ (4) اور حدید (4) اللہ تعالیٰ کے تعلق سے عرش کا ذکر اکیس (21) مرتبہ اور ملکہ سبا کے تعلق سے چار (4) مرتبہ آیا ہے۔ مستوی علی العرش کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (54) اور سورة حاقہ (17)۔ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے بندوں پر اپنی چند نہایت واضح نعمتیں ذکر فرمائیں۔ تسخیر کا معنی ہے کسی کو اپنے تابع اور قابو میں کرلینا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو اپنے تابع اور پوری طرح پابند کر رکھا ہے، اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جس طرح جس کام پر لگا دیا ہے وہ اس سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ جو مدت مقرر کی ہے اس کے عین مطابق مقرر وقت پر چل رہے ہیں، یعنی قیامت تک یا اپنے دورے کے مقرر وقت کے مطابق، نہ ان کی رفتار بدلتی ہے نہ طلوع وغیرہ کے نظام میں فرق آتا ہے۔ سورج اپنا دورہ سال میں پورا کرتا ہے، چاند ایک ماہ میں۔ کسی بھی سیارے یا سورج اور چاند کا آپس میں نہ کوئی ٹکراؤ ہے نہ حادثہ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت و حکمت کی کتنی بڑی نشانی ہے۔ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ : کسی کام کی تدبیر کا معنی اسے اس کے سب سے اچھے، مضبوط اور مکمل طریقے پر چلانا ہے۔ مختصر سے عطا کردہ اختیار سے تم جو تدبیریں کرتے ہو ان کا نتیجہ بھی دیکھ لو، کوئی پوری ہوتی ہے کوئی نہیں اور کوئی کسی حادثے کی نذر ہوجاتی ہے اور اس عزیز و حکیم کی تدبیر امور کو دیکھو۔ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ : اس میں کائنات میں موجود نشانیاں بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں پر نازل شدہ آیات بھی کھول کر بیان کرنا ہے کہ دونوں کس قدر واضح ہیں، جن کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ : یعنی ان تمام آیات کی تفصیل کا مقصد تمہیں یہ یقین دلانا ہے کہ ایسی عظیم مخلوقات کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے پروردگار کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں اور ہر حال میں تمہیں اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور ندیاں بنائیں اور اس میں تمام پھلوں میں سے ایک ایک جوڑا دو ، دو قسم کا بنایا، وہ رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔

وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ۔۔ : ”مَدَّ“ کا معنی پھیلانا ہے۔ ”رَوَاسِيَ“ ”رَاسِیَۃٌ“ کی جمع ہے، ”رَسَا یَرْسُوْ“ کا معنی زمین میں گڑا ہوا ہونا ہے، لفظی معنی زمین میں گڑے ہوئے، مراد پہاڑ ہیں۔ پہلے اوپر کے جہان کا تذکرہ فرمایا، پھر زمین، آسمان، سورج، چاند وغیرہ کا، اب نیچے کے جہان میں اللہ تعالیٰ کی چند قدرتوں کا ذکر ہے کہ زمین ایک کرہ ہونے کے باوجود اتنی وسیع بنائی کہ طول و عرض میں آدمی کی نگاہ اس کی انتہا کو نہیں پاتی، انسان اور حیوان کسی تکلیف کے بغیر اس پر چلتے پھرتے ہیں، انسان عظیم الشان عمارتیں بناتے ہیں۔ زمین کا توازن قائم رکھنے کے لیے اور ہر وقت زلزلے کی کیفیت سے محفوظ رکھنے کے لیے اس میں بہت نیچے تک گڑے ہوئے اور بہت اوپر تک اٹھے ہوئے پہاڑ بنا دیے اور تمہاری زندگی کی بقا کے لیے دریا اور ندی نالے بنا دیے۔ ندی نالوں کا ذکر پہاڑوں کے ساتھ فرمایا، کیونکہ دریا عموماً پہاڑوں ہی سے نکلتے ہیں۔ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ۔۔ : اس جملے میں ایک ایسی حقیقت بیان فرمائی ہے جس کا پوری طرح انکشاف کچھ مدت پہلے ہی ہوا ہے۔ پہلے لوگوں کو صرف چند درختوں کے جوڑا یعنی نر اور مادہ ہونے ہی کا علم تھا جن کے نر درخت الگ اور مادہ الگ ہوتے ہیں، مثلاً کھجور اور پپیتا وغیرہ۔ پھر ثابت ہوا کہ ہر درخت ہی کا پھل نر اور مادہ پھولوں کا بور ملنے سے وجود میں آتا ہے، یعنی ہر پھل میں جوڑا موجود ہے، پھر نر و مادہ دونوں پھول بعض اوقات ایک ہی پودے میں موجود ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات ایک درخت کے ایک ہی پھول میں نر و مادہ دونوں حصے پائے جاتے ہیں۔ کتنی عظیم قدرتوں کا مالک ہے وہ جس کی صرف ایک تخلیق کی ایک حقیقت جو خود اس نے سیکڑوں برس پہلے بیان فرما دی تھی، اب کہیں انسان اسے کسی حد تک پا سکے ہیں۔ عموماً قدیم مفسرین نے اس کا معنی ہر پھل میں سے دو قسمیں کیا ہے، مثلاً میٹھا اور کھٹا، گرم اور سرد، چھوٹا اور بڑا، سیاہ اور سفید وغیرہ، یہ معنی بھی درست ہے۔ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ : یہ اس کی قدرت کا اور اپنے بندوں پر رحمت کے ایک اور نمونے کا بیان ہے۔ ”غَشِیَ یَغْشٰی“ (ع) کا معنی ڈھانپنا ہے۔ ”يُغْشِي“ باب افعال ”أَغْشَی یُغْشِیْ“ سے ہے، معنی ہے کسی چیز کو دوسری چیز کے لیے ڈھانپنے والی بنادینا۔ رات کو دن پر اڑھا دیتا ہے تو اندھیرا چھا جاتا ہے، اگلی بات خود سمجھ میں آرہی ہے، اس لیے حذف کردی، یعنی دن کو رات پر اڑھا دیتا ہے تو روشنی ہوجاتی ہے، دونوں ایک دوسرے کی جگہ آتے رہتے ہیں۔ دونوں کے فوائد کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (71 تا 73)۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ۔۔ : یعنی جو لوگ غورو فکر کرتے ہیں ان کے لیے ان چیزوں میں بہت سے دلائل ہیں کہ وہ اللہ کہ مکان و زمان کی ہر حرکت و سکون اور ہر تبدیلی مکمل طور پر اس کے ہاتھ میں ہے، وہ انسان کو بھی دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ موضح میں ہے : ”رنگا رنگ چیزیں بنانا نشان ہے کہ اپنی خوشی سے بنایا، اگر ہر چیز خاصیت سے ہوتی تو ایک سی ہوتی۔“ رازی ؓ لکھتے ہیں کہ قرآن میں جہاں عالم سفلی، یعنی زمین کے دلائل کا ذکر ہے اس کے آخر میں : (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ) یا اس کا ہم معنی جملہ لایا گیا ہے، جس سے اشارہ ہے کہ ان چیزوں پر غور وفکر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ اختلاف طبعی اسباب کے تحت نہیں (یعنی خود بخود ایسا نہیں ہو رہا بلکہ ایک کرنے والا سب کچھ کر رہا ہے)۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔

وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ۔۔ : ”قِطَعٌ“ ”قِطْعَۃٌ“ کی جمع ہے، بمعنی ٹکڑے۔”مُّتَجٰوِرٰتٌ“ ”جِوَارٌ“ (ہمسائیگی) سے باب تفاعل کا اسم فاعل ہے، یعنی ساری زمین ایک جیسی نہیں، کوئی ٹکڑا زرخیز زمین کا ہے کوئی شور کا، کوئی نرم زمین ہے کوئی پتھریلی اور یہ سب قطعے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں، اب اسی زمین میں کسی علاقے میں کوئی کھیتی اور پھل پیدا ہوتا ہے کسی میں کوئی، اور اسی میں انگوروں (اور دوسرے پھلوں) کے باغات ہیں (قرآن کا اختصار دیکھیے کہ صرف انگوروں کا ذکر کرکے باقی باغات سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ دیے) اور کھیتی ہے (اس میں ہر کھیتی آگئی) اور کھجوروں کے درخت دو قسم کے ہیں (”صِنْوَانٌ“ ”صِنْوٌ“ کی جمع ہے، تثنیہ بھی یہی ہے، اس کا اصل معنی مثل ہے، جیسے فرمایا : ”عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیْہِ“ یعنی آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہے۔ کھجور کا تنا نیچے سے ایک ہو اور اوپر اس تنے سے کئی تنے نکلیں تو وہ ”صنوان“ ہے اور اگر یہ ایک ہی تنا رہے تو یہ ”وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ“ ہے) اس قسم کے دوسرے درخت اس سے خود سمجھ لیں۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں، پھر اسی زمین اور اسی پانی سے کوئی پھل کڑوا پیدا ہو رہا ہے کوئی میٹھا، کوئی بدمزہ کوئی مزیدار اور کوئی اس سے بھی بڑھ کر لذت والا۔ پھر دیکھیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قُبْضَۃٍ قَبَضَھَا مِنْ جَمِیْعِ الْاَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْھُمُ الْأَبْیَضُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَالسَّھْلُ وَالْحَزْنُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ) [ مسند أحمد : 4؍ 400، ح : 19601۔ ترمذی : 2955۔ أبوداوٗد : 4693، و صححہ الألبانی ] ”آدم ؑ کو پیدا کرنے کے لیے پوری روئے زمین سے اللہ تعالیٰ نے ایک مٹھی لی (جس میں سفید، سیاہ، سرخ ہر رنگ اور نرم، سخت، شور، زرخیز ہر قسم کی مٹی آگئی) اور آدم کی اولاد اسی کے مطابق کوئی سرخ، کوئی سفید، کوئی سیاہ، کوئی اس کے درمیان، کوئی نرم کوئی سخت اور کوئی خبیث کوئی طیب پیدا ہوتی ہے۔“ ایک ہی زمین، ایک ہی پانی، ایک ہی باپ اور اسی کے نطفے سے بیشمار رنگا رنگ انسان پیدا ہوئے۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ : معلوم ہوا کوئی کمال کاریگر اور پوری قدرت والا مدبر ہے جس کے کرنے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، قرآن نے ان دلائل کا ذکر مختلف مقامات پر کیا ہے۔ عقل سے کام لینے والوں کے لیے اس میں بیشمار نشانیاں ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کے لیے کوئی نشانی نہیں۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم یقینا ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ۔۔ : ”فَعَجَبٌ“ میں تنوین تعظیم و تہویل کے لیے ہے، اسی لیے اہل علم نے ترکیب میں اسے نکرہ ہونے کے باوجود مبتدا بنانا جائز رکھا ہے، گویا یہ نکرہ موصوفہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی ان کے ایمان نہ لانے پر تعجب کریں تو بہت ہی عجیب بات ان کا دوبارہ نئے سرے سے پیدا ہونے کو ناممکن قرار دینا ہے، حالانکہ جو شخص معمولی علم اور معمولی عقل رکھتا ہے بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اتنی قدرتوں کے مالک اور پہلی دفعہ انھیں پیدا کرنے والے کے لیے انھیں دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرنا کیوں مشکل ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ : یعنی جب انھوں نے آخرت سے انکار کیا تو گویا اللہ کی قدرت سے انکار کیا اور یہ کہا کہ اللہ اتنا عاجز اور بےبس ہے کہ انھیں دوبارہ پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ [ اَلْعِیَاذ باللّٰہِ ] وَاُولٰۗىِٕكَ الْاَغْلٰلُ۔۔ : ”الْاَغْلٰلُ“ ”غُلٌّ“ کی جمع ہے، لوہے کا کڑا یا زنجیر جو مجرم کے گلے میں ڈال کر اسے باندھا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کے ساتھ ہی ہاتھ بھی گردن کے ساتھ باندھ دیتے ہیں، یہ قید کی سخت ترین صورت ہے۔ یعنی ان کی گردنوں میں وہی آبائی کفر و شرک کے طوق پڑے ہوئے ہیں جو انھیں کفر سے ہلنے نہیں دیتے اور انجام ان کا یہ ہے کہ یہ آگ والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں۔ بعض مفسرین نے ”وَاُولٰۗىِٕكَ الْاَغْلٰلُ“ کو بھی آخرت کے انجام میں شامل کیا ہے کہ جہنم میں ان کی گردنوں میں لوہے کے طوق (کڑے) ہوں گے، جن میں پڑی ہوئی زنجیروں سے بندھے ہوں گے۔ آیت کے الفاظ سے تو زیادہ ظاہر معنی یہی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلٰسِلُ ۭ يُسْحَبُوْنَ 71؀ۙفِي الْحَمِيْمِ ڏ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ) [ المؤمن : 71، 72 ] ”جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں، گھسیٹے جا رہے ہوں گے۔ کھولتے پانی میں، پھر وہ آگ میں جھونکے جائیں گے۔“
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور وہ تجھ سے بھلائی سے پہلے برائی کو جلدی طلب کرتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کئی عبرت ناک سزائیں گزر چکیں اور بیشک تیرا رب یقینا لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے اور بلاشبہ تیرا رب یقینا بہت سخت سزا والا ہے۔

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ۔۔ :”اَلسَّیِّءَۃُ“ سے مراد بری حالت مثلاً عذاب اور ”الْحَسَنَةِ“ سے مراد اچھی حالت مثلاً عافیت اور خوش حالی ہے۔ ”الْمَثُلٰتُ“ کی واحد ”مَثُلَۃٌ“ بروزن ”سَمُرَۃٌ“ ہے، معنی ہے سخت سزا اور رسوا کن عذاب جو انسان پر اترے اور اسے دوسروں کے لیے برے کاموں سے باز رکھنے کے لیے مثال اور عبرت بن جائے۔ ”اِسْتِعْجَالٌ“ کسی چیز کا وقت آنے سے پہلے اسے لانے کا مطالبہ کرنا، یعنی ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ جھٹلانے اور مذاق اڑانے کے لیے تندرستی اور عافیت کے بجائے پہلے عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مشرکین کے اس قسم کے مطالبوں کا قرآن میں کئی جگہ ذکر ہے، مثلاً سورة انفال (32) ، سورة عنکبوت (53، 54) اور سورة نمل (46) ان آیات کا ترجمہ و تفسیر پڑھ لیں۔ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ : جن میں ان کے لیے عبرت کا کافی سامان موجود ہے۔ موضح میں ہے کہ پہلے ہو چکیں ہیں کہاوتیں، یعنی ایسے عذاب آئے ہیں کہ ان کی کہاوتیں چلی ہیں۔ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ : ”مَغْفِرَةٍ“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ اتنی بڑی مغفرت والا ہے کہ لوگوں کے ظلم پر گرفت کرے تو زمین پر کوئی جان دار باقی نہ رہے، فرمایا : (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ) [ النحل : 61] ”اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑے تو اس کے اوپر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر وقت تک ڈھیل دیتا ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔“ اور دیکھیے سورة فاطر کی آخری آیت۔ وہ مہلت ہی دیے جاتا ہے کہ شاید باز آجائیں، تو بہ کرلیں اور اس کا عذاب بھی نہایت سخت ہے۔ معلوم ہوا کہ سلامتی اور امن کی راہ امید اور خوف میں اعتدال ہے، انسان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید بھی رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے عفو و درگزر کی امید نہ ہو تو کسی شخص کی زندگی خوش گوار نہ ہو اور اگر اس کے عذاب کا ڈر نہ ہو تو ہر شخص بےکھٹکے گناہ کرتا رہے۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ تو تو صرف ایک ڈرانے والا ہے اور ہر قوم کے لیے ایک راستہ بتانے والا ہے۔

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ ۭ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایک اور کمینگی کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ کفار تمام انبیاء کی آیات (معجزوں) سے بڑی آیت (بڑا معجزہ یعنی قرآن مجید) دیکھنے کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ اس پر کوئی آیت (معجزہ) نازل کیوں نہیں ہوئی۔ ان کے مطالبوں کی مثال دیکھنی ہو تو دیکھیے سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) آیت یعنی نشانی دو قسم کی ہوتی ہے، ایک تنزیلی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترنے والے احکام و آیات اور دوسری تکوینی یعنی جن کا مقابلہ کرنے سے ساری کائنات عاجز ہو۔ قرآن میں دونوں خوبیاں ہیں، اس میں ہدایت کی آیات بھی ہیں اور ساری دنیا کو پہلے پوری کتاب، پھر اس جیسی دس سورتیں اور پھر صرف ایک سورت جیسی سورت لانے کا چیلنج قیامت تک کے لیے ہے، جس کا جواب کافر آج تک نہیں دے سکے، کفار کی خست دیکھو پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری۔ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ : نبی کریم ﷺ مبشر بھی تھے اور منذر بھی، مگر یہاں آپ کی صفت صرف منذر بیان فرمائی، کیونکہ ذکر کفار کا ہے۔ ”مُنْذِرٌ“ اور ”هَادٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی اللہ پر ایمان نہ لانے والوں کے لیے دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر قوم کے لیے ایک عظیم رہنما ہوتا ہے۔ آپ کا کام کرشمے دکھانا نہیں بلکہ آپ کی ذمہ داری لوگوں کو کفر کے برے انجام سے ڈرانا ہے، اس لیے آپ کرشمے دکھانے والے نہیں بلکہ صرف ایک عظیم ہادی، یعنی ڈرانے اور آگاہ کرنے والے ہیں۔ (”انما“ کے ساتھ یہ حصر اضافی ہے، یعنی معجزہ دکھانے والے کے بجائے منذر ہیں، یہ نہیں کہ آپ منذر کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں) پھر قوموں کو رہنما کی ضرورت ہوتی ہے اور آپ عظیم رہنما بھی ہیں، لہٰذا ان کے بےجا مطالبے سے پریشان نہ ہوں۔ مستدرک حاکم (3؍129، ح : 4646) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے علی ؓ نے اس آیت (اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ) کے ضمن میں فرمایا : ”رسول اللہ ﷺ منذر ہیں اور میں ہادی ہوں۔“ مگر یہ روایت صحیح نہیں ہے، پھر خلافت بلا فصل پر اس سے استدلال بھی غلط ہے، جیسا کہ ظاہر ہے، حقیقت یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہی اللہ کی طرف سے منذر ہیں اور وہی ہادی ہیں، پھر وہ لوگ جنھوں نے آپ ﷺ کے علم اور دین یعنی خالص کتاب و سنت کو (نہ کہ لوگوں کی رائے اور قیاس کو) دعوت و جہاد کے ذریعے آگے پہنچایا، پہنچا رہے ہیں اور پہنچاتے رہیں گے، مثلاً خلفائے اربعہ، صحابہ کرام، مجاہدین اسلام، محدثین اور عادل قاضی اور خلفاء (اللہ سب پر راضی ہو) سب آپ کے خلف صدق ہیں۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور جو کچھ رحم کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازے سے ہے۔

اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى۔۔ : ”تَغِيْضُ“ ”غَاضَ یَغِیْضُ“ سے ہے اور یہ ”نَقَصَ یَنْقُصُ“ کا ہم معنی ہے۔ لازم اور متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے، یعنی کم ہونا، کم کرنا۔ اسی طرح ”تَزْدَادُ“ باب افتعال ”زَادَ یَزِیْدُ“ کی طرح ہے، معنی ہے زیادہ ہونا اور زیادہ کرنا۔ یعنی حمل قرار پانے سے لے کر بچہ پیدا ہونے تک ہر چیز کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور ارحام (بچہ دانیوں) کا یہ علم اللہ تعالیٰ کی خاص صفات میں سے ہے، یعنی اس بات کا علم کہ مذکر ہے یا مؤنث، خوب صورت ہے یا بد صورت، بدبخت ہے یا نیک بخت، لمبی عمر والا ہے یا کم عمر۔ مزید دیکھیے سورة نجم (32) ، زمر (6) اور مومنون (12 تا 14)۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَفَاتِحُ الْغَیْبِ خَمْسٌ : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) ”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں (جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا)۔“ (پھر سورة لقمان کی آخری آیت میں مذکور چیزیں بیان فرمائیں)۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (وعندہ مفاتح الغیب۔۔) : 4627] مزید وضاحت کے لیے سورة لقمان کی آخری آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ الٹرا ساؤنڈ کی حقیقت بھی وہیں ملاحظہ فرمائیں۔ وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ: اور جو رحم کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں، یعنی بچہ ضائع ہوجاتا ہے یا نامکمل پیدا ہوتا ہے یا مدت ولادت میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے کہ بعض کے ہاں چھ یا نو ماہ بعد، بعض کے ہاں دس ماہ یا اس سے بھی زیادہ مدت کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے۔ وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ : اللہ تعالیٰ کو ازل سے ابد تک ہر چیز کا علم ہے، اس نے ہر چیز کے متعلق پہلے ہی سب کچھ طے کر کے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے اور یہی تقدیر ہے۔ اس پر ایمان نہ ہو تو آدمی مسلمان نہیں ہوتا، فرمایا : (اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ) [ القمر : 49 ] ”بیشک ہم نے جو بھی چیز ہے، ہم نے اسے ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔“ یعنی وہی جانتا ہے کہ کون سی چیز کتنی ہوگی اور کیسے ہوگی، اس اندازے میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا، بہت بڑا، نہایت بلند ہے۔

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔۔ :”الْكَبِيْرُ“ میں بھی مبالغہ ہے اور ”الْمُتَعَالِ“ (جو اصل میں ”عَلَا یَعْلُوْ“ کے باب تفاعل سے ”مُتَعَالِوٌ“ تھا) میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ مراد ہے۔ ”مُتَعَالِوٌ“ کی ”واؤ“ کو ”یاء“ سے بدلا تو ”مُتَعَالِیٌ“ ہوا، پھر ”یاء“ کو آیات کے آخری الفاظ (جنھیں اصطلاح میں فاصلہ، فواصل کہتے ہیں) کی موافقت اور تخفیف کے لیے حذف کردیا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی کبریائی اور بلندی کا بیحد و حساب ہونا بیان ہوا ہے، جو درحقیقت پچھلی بات ہی کی تاکید ہے۔ ”الْغَيْبِ“ مصدر ہے، بمعنی اسم فاعل، یعنی غائب جو حواس اور بدیہ عقل سے غائب ہو۔ ”وَالشَّهَادَةِ“ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی جو شاہد و حاضر ہے۔ اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لانے سے مبالغہ مقصود ہے، جیسے ”زَیْدٌ عَادِلٌ“ کے بجائے ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ کہتے ہیں۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے اور جو اسے بلند آواز سے کرے اور وہ جو رات کو بالکل چھپا ہوا ہے اور (جو) دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔

سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ۔۔ : یہ اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت کی ایک اور تاکید ہے، یعنی تمہارا کوئی آدمی چھپا کر بات کرے یا بلند آواز سے اللہ کے نزدیک دونوں برابر ہیں، وہ دونوں کو یکساں سنتا ہے، جبکہ تم اور ساری مخلوق چھپی بات کو تو سن ہی نہیں سکتے، البتہ بلند آواز سے کی ہوئی ایک شخص کی بات تم سن اور سمجھ سکتے ہو، مگر جب چار چھ آدمی اونچی آواز میں بولنا شروع کردیں تو کسی کے پلے کچھ نہیں پڑے گا، اب اللہ تعالیٰ کے علم کا اندازہ کرلو کہ اس کے ہاں یہ سب برابر ہیں، وہ ایک ہی وقت میں سب کی سنتا اور سمجھتا اور سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ ”مُسْتَخْفٍ“ ”خَفِیَ یَخْفَی“ (چھپنا) کے باب استفعال سے اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، بالکل چھپنے والا۔ ”بالیل“ رات کو، کیونکہ رات کی تاریکی چھپنے میں مزید مدد دیتی ہے۔ ”وَسَارِبٌ“ یعنی ظاہر، ”سَرَبَ فِی الْاَرْضِ اَيْ ذَھَبَ فِيْ طَرِیْقِہٖ“ وہ اپنے راستے میں گیا، یعنی گھر کے کسی کمرے یا کونے کے بجائے راستے یا گلی بازار میں پھرنے والا اور وہ بھی دن کو ہر ایک کے سامنے ہوتا ہے۔ دن کا ذکر خصوصاً اس لیے کیا کہ وہ ہر چیز کو خوب ظاہر کردیتا ہے۔ اس لیے بعض اہل علم نے ”وَسَارِبٌ“ کا معنی گلیوں میں پھرنے والا، یعنی بالکل ظاہر کیا ہے۔ یعنی یہ سب اس کے علم میں برابر ہیں۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بیشک اللہ نہیں بدلتا جو کسی قوم میں ہے، یہاں تک کہ وہ اسے بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرلے تو اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی مددگار نہیں۔

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ۔۔ : ”مُعَقِّبٰتٌ“ (باری باری ایک دوسرے کے بعد آنے والے) یہ ملائکہ کی صفت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی نگرانی و حفاظت کا جو انتظام کر رکھا ہے اس کی ایک جھلک دکھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے ہر انسان پر کتنے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، کیونکہ دو فرشتے تو نیک و بدعمل لکھنے والے دائیں اور بائیں ہیں۔ (ق : 17، 18) حفاظت کرنے والوں کی تعداد یہاں بیان نہیں فرمائی جو چاروں طرف سے انسان کی ہر آفت و مصیبت سے حفاظت کرتے ہیں، سوائے اس مصیبت کے جو اللہ نے اس کے لیے لکھی ہے۔ فرشتوں کی ایک اور قسم کے متعلق عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ وُکِّلَ بِہٖ قَرِیْنُہٗ مِنَ الْجِنِّ ، قَالُوْا وَ إِیَّاکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ وَإِیَّايَ إِلاَّ أَنَّ اللّٰہَ أَعَانَنِيْ عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ فَلاَ یَأْمُرُنِيْ إِلاَّ بِخَیْرٍ) [ مسلم، صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان۔۔ : 2814 ]”تم میں سے جو بھی شخص ہے اس کے ساتھ اس کا ایک قرین (ساتھ رہنے والا) جنوں سے مقرر کیا گیا ہے اور ایک قرین فرشتوں سے۔“ لوگوں نے پوچھا : ”یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی (جن مقرر ہے) ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”(ہاں) میرے ساتھ بھی، مگر اللہ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے تو وہ تابع ہوگیا ہے، سو وہ مجھے خیر کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔“ رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ باری والے فرشتے صبح اور عصر کے وقت تبدیل ہوتے ہیں، ان وقتوں میں آنے اور جانے والوں کی ملاقات ان دونوں نمازوں میں ہوتی ہے۔ [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العصر : 555۔ مسلم : 632 ] اس حقیقت کے اظہار کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہر آن اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتا ہے اور اس کی کوئی حرکت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ۔۔ : یعنی جب تک نیکی کے بجائے برائی اور اطاعت کے بجائے نافرمانی نہ کرنے لگیں، البتہ جب وہ ایسا کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمت چھین لیتا ہے اور ان پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کی مثال کے ساتھ سورة انفال (53، 54) میں بیان فرمائی۔ مزید مثال کے لیے دیکھیے سورة نحل (112) اور سبا (15 تا 17) واضح رہے کہ یہاں قوموں کی تباہی کا قانون بیان کیا گیا ہے، افراد کا نہیں۔ کسی قوم کی اچھی یا بری حالت کا تعین اسی لحاظ سے کیا جائے گا کہ آیا اس میں اچھے لوگوں کا غلبہ ہے یا برے لوگوں کا ؟ رہے افراد تو ضروری نہیں کہ ایک شخص گناہ کرے تبھی اس پر عذاب نازل ہو، بلکہ ایک بےگناہ شخص دوسروں کے گناہ کی لپیٹ میں آسکتا ہے، جیسا کہ زینب بنت جحش ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَنَھْلِکُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ ، قَالَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قصۃ یأجوج و مأجوج : 3346 ] ”اے اللہ کے رسول ! کیا نیک لوگوں کے ہم میں موجود ہونے کے باوجود ہم ہلاک ہوجائیں گے ؟“ فرمایا : ”ہاں ! جب خباثت (گناہ) زیادہ ہوجائے۔“ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا۔۔ : ہم چاہے کتنی سائنسی تدبیریں اور حفاظت کا بندوبست کرلیں، یا کسی پیر، بزرگ، بت یا جن یا فرشتے کی پناہ پکڑ لیں، اللہ تعالیٰ کے ارادے کے مقابلے میں کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔

هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایسے نشان بیان فرمائے ہیں جو بیک وقت امید اور ڈر کے حامل ہیں، جو رحمت کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں اور موجب زحمت بھی۔ مثلاً جب بجلی چمکتی ہے تو امید بندھتی ہے کہ بارش ہوگی مگر ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں تباہی کا موجب نہ بن جائے، بادل دیکھ کر رحمت کی بارش کی امید بندھ جاتی ہے مگر ساتھ ہی یہ فکر بھی دامن گیر رہتی ہے کہ کہیں سیلاب نہ آجائے۔ پس انسان کو چاہیے کہ اللہ کی رحمت کا امید وار رہے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا رہے۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے، جب کہ وہ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور وہ بہت سخت قوت والا ہے۔

وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ۔۔ : ”الرَّعْدُ“ یعنی بادل کی گرج، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت، جلال اور عظمت کے بیان کے لیے بادل کی گرج، گرنے والی بجلیوں اور ان کی کڑک کا ذکر فرمایا۔ یہ اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر کمی اور ہر عیب سے پاک اور ہر کمال اور ہر خوبی کا مالک ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف کی وجہ سے تسبیح و تحمید کرتے ہیں، بلکہ کائنات کی ہر چیز کا یہی وظیفہ ہے، فرمایا : (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ) [ بنی إسرائیل : 44 ] ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔“ قرآن مجید میں کئی چیزوں کا صاحب احساس ہونا اور بولنا مذکور ہے، جنھیں ہم بےزبان سمجھتے ہیں۔ سلیمان ؑ کے زمانے میں چیونٹی کی بات اور سلیمان ؑ کا اسے سمجھنا، اسی طرح ہدہد سے ان کی گفتگو سورة نمل میں مذکور ہے۔ سورة بقرہ میں پتھروں کا اللہ کے خوف سے گرنا، پھٹ جانا اور ان سے پانی بہ نکلنا مذکور ہے۔ جہنم اور جنت کی گفتگو قرآن و حدیث میں آئی ہے اور اب تو سائنس نے نباتات میں شعور و احساس تجربے سے ثابت کیا ہے۔ کفار کے مرنے پر آسمان و زمین کا نہ رونا سورة دخان (29) میں ہے۔ پرندوں اور پہاڑوں کا داؤد ؑ کے ساتھ مل کر صبح و شام تسبیح کا ذکر کرنا سورة ص (18، 19) میں ہے۔ ”الرعد“ کے متعلق چند احادیث معروف ہیں۔ ایک لمبی روایت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا : ”الرَّعْدُ“ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جو بادل پر مقرر ہے، اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے، جس کے ساتھ وہ بادل کو ہانکتا ہے اور جو آواز اس سے سنائی دیتی ہے وہ اس کے بادل کو ہانکنے کی آواز ہے، جب وہ اسے ہانکتا ہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اسے حکم دیتا ہے۔“ یہ حدیث ترمذی (3117) ، مسند احمد (1؍274، ح : 2487) اور سنن کبریٰ للنسائی (6؍336، ح : 9072) وغیرہ میں ہے۔ شیخ البانی ؓ نے اسے سلسلہ صحیحہ (4؍491، ح : 1872) میں ذکر فرمایا ہے اور لمبی بحث کے بعد فرمایا ہے کہ میرے نزدیک یہ حدیث کم از کم حسن ضرور ہے۔ البتہ مسند احمد کی تخریج میں شعیب ارنؤوط نے ابن عباس ؓ کی اس لمبی حدیث کو حسن کہا ہے، مگر اس کے اس رعد والے حصے کو منکر کہا ہے۔ (واللہ اعلم) اگر کوئی کہے کہ سائنس تو اسے بادل کے ٹکڑوں کی رگڑ کا نتیجہ قرار دیتی ہے تو اسے کہیں کہ یہ بات حدیث کے خلاف نہیں، وہ رگڑ بھی تو کسی کے حکم سے بادلوں کے چلنے کے نتیجے ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز خود بخود نہیں چل رہی۔ قبیلہ بنو غفار کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ فَیَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَیَضْحَکُ أَحْسَنَ الضَّحْکِ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 2؍409، ح : 1665 ] ”اللہ تعالیٰ بادل کو پیدا کرتا ہے تو وہ بولتا ہے، بہترین بولنا اور ہنستا ہے، بہترین ہنسنا۔“ شیخ البانی ؓ نے صحیحہ میں اسے مسند احمد اور کئی کتب حدیث کے حوالے سے ذکر کرکے اس کی سند کو صحیح کہا اور شعیب ارنؤوط نے بھی مسند احمد (39؍91، 92، ح : 23686) میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ گرج اور چمک بادل ہی کی گفتگو اور اسی کا ہنسنا ہے۔ رہی یہ بات کہ ”رعد“ فرشتے کی آواز ہے یا بادل کی گفتگو، تو حقیقت یہ ہے کہ دونوں باتیں ہی درست ہیں، ان میں کوئی تضاد نہیں۔ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ۔۔ : مفردات راغب میں ہے کہ ”صاعقہ“ تین معنوں میں آتا ہے : 1 موت، جیسے : (اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ) [ الزمر : 68 ] 2 عذاب، جیسے : (وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ) [ حٰمٓ السجدۃ : 13 ] 3 آگ، جیسا کہ فرمایا : (وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ) [ الرعد : 13 ] کیونکہ صاعقہ کا معنی فضا میں پیدا ہونے والی نہایت سخت آواز (بجلی کی کڑک) ہے، پھر اس کے نتیجے میں مذکورہ تین چیزوں میں سے کوئی بھی چیز واقع ہوسکتی ہے، گویا حقیقت میں صاعقہ ایک ہی چیز ہے، باقی اس کے اثرات ہیں۔ صاعقہ کے ساتھ نکلنے والی بجلی کی چمک نہایت تیز ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کڑکنے والی بجلیوں کو بھیجتا ہے، پھر جن پر چاہتا ہے بجلی گرا دیتا ہے، جبکہ وہ بےفکر ہو کر اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ : یعنی اتنی نشانیاں دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، کبھی اس کے کمال علم و قدرت اور اکیلے معبود ہونے کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ زندہ کیسے کرے گا اور کبھی اس کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور کبھی اس کے عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ : امام راغب نے ”اَلْمِحَالَ“ کا مادہ ”مَحْلٌ“ بتایا ہے اور ”شَدِيْدُ الْمِحَالِ“ کا معنی کیا ہے : ”شَدِیْدُ الْأَخْذِ بالْعُقُوْبَۃِ“ یعنی وہ سخت سزا میں پکڑنے والا ہے۔ امام راغب ہی نے بعض اہل علم کا قول لکھا ہے کہ اس کا مادہ ”حَوْلٌ“ ہے، بمعنی ”قُوَّۃٌ“ یعنی وہ بہت سخت قوت والا ہے۔ اس صورت میں میم زائد ہے۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگر اس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بےسود۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ : یہاں موصوف اپنی صفت کی طرف مضاف ہے، یعنی سچا اور برحق پکارنا صرف اسی کو پکارنا ہے، دوسرے کسی کو بھی پکارنا باطل ہے۔ کیونکہ دور و نزدیک سے ہر ایک کی پکار سنتا بھی وہی ہے، ہر ایک کے احوال سے واقف بھی وہی ہے اور ہر ایک کی حاجت پوری کرنے کی قدرت بھی صرف وہی رکھتا ہے، کسی اور میں ان صفات میں سے کوئی صفت بھی نہیں۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ۔۔ : ”يَدْعُوْنَ“ کی ضمیر مشرکین کے لیے ہے، یعنی اللہ کے سوا کسی کو بھی پکارنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، اب پانی نہ اس کی بات سنتا ہے، نہ سمجھتا ہے اور نہ یہ طاقت رکھتا ہے کہ خود بخود اس کے منہ تک پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ان خود ساختہ خداؤں کی بےبضاعتی اور بےبسی بڑی تفصیل سے بیان فرمائی۔ دیکھیے سورة اعراف (191 تا 198) ، سبا (22) ، فاطر (13، 14) ، احقاف (5) اور حج (73) قارئین سے درخواست ہے کہ وہ یہ مقامات نکال کر ترجمہ ضرور پڑھیں، ان شاء اللہ توحید کی ٹھنڈک دل میں محسوس کریں گے۔ وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ : یعنی کافروں کا غیر اللہ کو پکارنا سراسر بےسود ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”کافر جن کو پکارتے ہیں بعض محض خیال ہیں، بعض جن اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ ان میں کچھ خواص ہیں، لیکن وہ اپنے خواص کی مالک نہیں، پھر ان کے پکارنے سے کیا حاصل۔ جیسے آگ یا پانی اور شاید ستارے بھی اسی قسم میں ہوں، یہ اس کی مثال فرمائی۔“ (موضح) اس کی مختصر سی تفصیل سمجھ لیں کہ فرشتے ہر وقت ہمارے ساتھ ہیں، سنتے بھی ہیں، طاقت بھی رکھتے ہیں مگر وہ اللہ کے اذن کے بغیر کچھ بھی نہ کرسکتے ہیں اور نہ کرتے ہیں۔ تو انھیں پکارنا ایسے ہی ہے جیسے پانی کو اشارے سے یا زبان سے کہا جائے کہ وہ منہ میں آجائے، حالانکہ اس میں یہ قدرت ہی نہیں اور بالفرض ہو بھی تو وہ یہ اختیار نہیں رکھتا۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اللہ ہی کو سجدہ کر رہا ہے، خوشی اور ناخوشی سے اور ان کے سائے بھی پہلے اور پچھلے پہر۔

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : سجدے کا معنی ہے جسم کے سب سے اونچے اور باعزت حصے کو کسی کے سامنے نیچے سے نیچا لے جا کر اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار کرنا۔ تو کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح اپنی عاجزی اور بےبسی کا اظہار کر رہی ہے۔ اس میں مسلمان اور کافر کا کوئی فرق نہیں، ہاں انسان کو تھوڑا سا اختیار جنت یا جہنم کے راستے پر چلنے کا دیا ہے، اس کے علاوہ اللہ کے سامنے نہ چاہتے ہوئے بھی ہر طرح سجدہ ریز ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار کے مقابلے میں اپنے آپ پر اس کا اختیار ایک فی صد کیا ایک فی ہزار بھی نہیں، اگر کسی کو شک ہے تو ذرا اپنا سانس روک کر دکھائے، بھوک پیاس روک لے، پیشاب یا پاخانہ روک لے، بیماری آئے تو ڈٹ جائے کہ میں بیمار نہیں ہوتا، بڑھاپے کو آنے سے اور بالوں کو سفید ہونے سے روک دے، حرکت قلب بند ہوجائے تو اسے چلا کر دکھائے، گردے فیل ہوجائیں تو چالو کرکے دکھائے، ایک ٹانگ اٹھا سکتا ہے دوسری بھی اٹھا کر دکھائے، موت کے فرشتے کے سامنے اکڑ جائے، غرض ہر عاقل و غیر عاقل اور ان کے سائے خوشی و ناخوشی سے اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ پھر ایسے بےبس سے فریاد کرنا، کسی کو داتا، کسی کو دستگیر، کسی کو غریب نواز، کسی کو مشکل کشا کہنا کتنی بڑی حماقت ہے۔ یہاں سورة حج کی آیت (18) کا ترجمہ و تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔ وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ : یعنی ان کے سایوں کا گھٹنا اور بڑھنا بھی اسی کے ارادہ و مشیت سے ہے۔ پہلے اور پچھلے پہر کا ذکر اس لیے کیا کہ ان وقتوں میں زمین پر ہر چیز کا سایہ نمایاں ہوتا ہے اور عبادت کے لحاظ سے یہ دونوں عمدہ وقت ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اور پرچھائیاں صبح و شام کے وقت زمین پر پسر (پھیل) جاتی ہیں، یہی ان کا سجدہ ہے۔“ (موضح)
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

کہہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے ؟ کہہ دے اللہ۔ کہہ پھر کیا تم نے اس کے سوا کچھ کارساز بنا رکھے ہیں جو اپنی جانوں کے لیے نہ کسی نفع کے مالک ہیں اور نہ نقصان کے ؟ کہہ دے کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتے ہیں ؟ یا کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہوتے ہیں ؟ یا انھوں نے اللہ کے لیے کچھ شریک بنا لیے ہیں جنھوں نے اس کے پیدا کرنے کی طرح پیدا کیا ہے، تو پیدائش ان پر گڈمڈ ہوگئی ہے ؟ کہہ دے اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ایک ہے، نہایت زبردست ہے۔

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : یعنی اگر ایسا ہوتا کہ دنیا میں کچھ چیزیں تو اللہ نے پیدا کی ہوتیں اور کچھ دوسروں نے، یا بعض کی پرورش اور روزی کا سامان کرنے والا رب اللہ تعالیٰ ہوتا اور بعض کا کوئی دوسرا، یا کسی نفع نقصان کا مالک اللہ تعالیٰ ہوتا اور کسی کا مالک دوسرا، تب تو ان مشرکوں کے شرک کی کوئی بنیاد ہوسکتی تھی کہ یہ بھی خالق ہونے کی وجہ سے مستحق عبادت ہیں، مگر جب یہ خود مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر چیز پیدا کرنے والا اللہ اور صرف اللہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک قرار دیں۔ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۔۔ : یہ مشرک اور موحد کی مثال ہے، کیونکہ موحد دیکھنے والی آنکھ، سوچنے والا دل رکھتا ہے، جبکہ مشرک بصارت اور بصیرت دونوں سے خالی سر ا سر اندھا ہے۔ موحد نور توحید سے روشن ہوتا ہے، جبکہ مشرک ایک نہیں ہزاروں اندھیروں میں ہے۔ نور کو واحد اور ظلمات کو جمع لائے، کیونکہ ہدایت اور سیدھا راستہ ایک اور گمراہی کے راستے بیشمار ہیں۔ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ : وہی ہے جو ایک ہے، سب پر غالب ہے، کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا۔ اور جن چیزوں کو کوئی زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپاتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کا جھاگ (ابھرتا) ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے، پھر جو جھاگ ہے سو بےکار چلا جاتا ہے اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے، سو زمین میں رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۔۔ : ”اَوْدِيَةٌ“ (نالے) وادی کی جمع ہے جو اصل میں پانی بہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ دو پہاڑوں کے درمیان خالی جگہ کو بھی کہہ لیتے ہیں، کبھی راستے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ پہاڑوں میں عموماً راستے پہاڑی نالوں کے کناروں کے ساتھ چلتے ہیں۔ ”زَبَدًا“ وہ کوڑا کرکٹ اور جھاگ جو پانی کی تیز رفتاری کے باعث اس کی سطح پر ابھر آتا ہے، یا ہانڈی کے اوپر ابھر آتا ہے۔ ”رَّابِيًا“ ”رَبَا یَرْبُوْ رَبْوًا“ (ن) سے اسم فاعل ہے، بمعنی بڑھنے والا، ابھرنے والا۔ ”حِلْيَةٍ“ سونے چاندی وغیر کا زیور جس سے انسان زینت حاصل کرتا ہے۔ ”جُفَاۗءً“ نالہ یا ہانڈی جو خس و خاشاک یا جھاگ وغیرہ کناروں پر پھینک دیتے ہیں، اسے ”جُفَاۗءً“ کہتے ہیں۔ شوکانی ؓ نے فرمایا کہ یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی بیان فرمائی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ باطل بعض اوقات حق کے اوپر غالب آجائے، مگر آخر کار اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے اور بےقدر و قیمت بنا دیتا ہے، حسن انجام حق اور اہل حق ہی کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ جھاگ اور خس و خاشاک بیشک پانی کو ڈھانپ لیتے ہیں، مگر آخر کار پانی انھیں کناروں پر پھینک کر بےکار کردیتا ہے اور خالص پانی سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح سونا چاندی اور دوسری دھاتوں کو پگھلایا جائے تو ان کا میل کچیل بھی اوپر آجاتا ہے مگر آخر کار کچھ اتار کر پھینک دیا جاتا ہے اور کچھ جل جاتا ہے۔ غرض، سارا میل کچیل بےکار جاتا ہے اور لوگوں کے لیے نفع مند دھات خالص حالت میں باقی رہ جاتی ہے، جیسے سونا اور چاندی، جس سے وہ زیور بناتے ہیں، یا لوہا، تانبا اور پیتل وغیرہ جس سے برتن، اسلحہ اور دوسرا سامان بنتا ہے۔ استاذ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں کہ ان دونوں مثالوں میں حق (قرآن) کو پانی سے تشبیہ دی ہے اور نالوں سے مراد انسانوں کے دل ہیں جو اپنے اپنے ظرف و استعداد کے مطابق حق سے فیض حاصل کرتے ہیں، یا حق وہ زیور ہے جس سے نفوس انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور لوگ معاش و معاد میں اس سے انواع و اقسام کے منافع اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔ باطل کی مثال جھاگ کی سی ہے جو حق سے کشمکش کے موقع پر وقتی طور پر ابھر کر اوپر آجاتا ہے مگر آخر کار مٹ جاتا ہے۔ ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَثَلُ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ مِنَ الْھُدَی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ الْغَیْثِ الْکَثِیْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَکَانَ مِنْھَا نَقِیَّۃٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ ، فَأَنْبَتَتِ الْکَلَأَ وَالْعُشْبَ الْکَثِیْرَ وَکَانَتْ مِنْھَا أَجَادِبُ أَمْسَکَتِ الْمَاءَ ، فَنَفَعَ اللّٰہُ بِھَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْا، وَأَصَابَ مِنْھَا طَاءِفَۃً أُخْرَی، إِنَّمَا ھِيَ قِیْعَانٌ لَا تُمْسِکُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ کَلَأً فَذٰلِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُہَ فِيْ دِیْنِ اللّٰہِ وَنَفَعَہُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰہُ بِہِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ یَرْفَعْ بِذٰلِکَ رَأْسًا وَلَمْ یَقْبَلْ ھُدَی اللّٰہِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِہِ) [ بخاری، العلم، باب فضل من علم و علّم : 79 ] ”اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بہت زیادہ بارش کی ہے جو ایک زمین پر برسی۔ اس زمین کا ایک حصہ بہت عمدہ (زرخیز) تھا، اس نے پانی قبول کیا (جذب کرلیا) ، پھر بہت سی گھاس اور چارا اگایا اور اس کے کچھ حصے سخت زمین کے گڑھے تھے جنھوں نے پانی روک لیا تو اللہ نے اس کے ساتھ لوگوں کو نفع پہنچایا، چناچہ انھوں نے پیا اور پلایا اور کھیتی باڑی کی اور اس کے بعض حصے چٹیل میدان تھے جو نہ پانی روکتے تھے اور نہ گھاس اگاتے تھے، تو یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کی اور اسے اس (علم و ہدایت) نے نفع دیا جسے دے کر مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور اس شخص کی مثال جس نے اس کی طرف نہ سر اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جو دے کر مجھے بھیجا گیا (ان تینوں میں سے آخری مثال کافر کی ہے)۔“ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ : یعنی بات سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے جیسے یہاں دو مثالیں بیان فرمائیں، ایک صحرائی اور پہاڑی لوگوں کو پیش آنے والی (نالوں کی) اور ایک شہری لوگوں کو پیش آنے والی (دھاتوں کی)۔ اسی طرح سورة بقرہ کے شروع میں منافقین کی دو مثالیں اور سورة نور (39، 40) میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ غرض قرآن و حدیث میں بہت سی مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کی بات قبول کرلی انھی کے لیے بھلائی ہے اور جنھوں نے اس کی بات قبول نہ کی اگر واقعی ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور ہو تو وہ ضرور اسے فدیہ میں دے دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : ”الْحُسْنٰى“ ”اَلْاَحْسَنُ“ کی مؤنث ہے، بمعنی سب سے اچھی، جیسے ”حَسَنٌ“ اور ”اَحْسَنُ“ ہے، اسی طرح ”حَسَنَۃٌ“ اور ”حُسْنٰی“ ہے، اس کا موصوف محذوف ہے، یعنی ”اَلْجَزَاءُ الْحُسْنٰی“ کہ رب کی بات قبول کرنے والوں کے لیے سب سے اچھی جزا، یعنی جنت ہے۔ ”وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا“ مبتدا ہے اور ”لَوْ اَنَّ لَهُمْ“ پورا جملہ شرطیہ اس کی خبر ہے، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حق سے عناد رکھتے ہیں قیامت کے دن ان جو پر مصیبت آئے گی وہ اس سے رہائی کے لیے اس قدر مال و دولت کی بھی پروا نہیں کریں گے اور فدیہ میں دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ : یہ اس کے مقابلے میں ہے جو فرمایا تھا کہ اپنے رب کی بات قبول کرنے والوں کے لیے بھلائی (بہترین بدلہ) ہے، یعنی یہ دعوت قبول نہ کرنے والوں کا بہت برا حساب ہوگا، انھیں کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی اور ان کے ایک ایک گناہ پر بری طرح محاسبہ ہوگا۔ یہی مناقشہ فی الحساب ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ ، قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَقُلْتُ أَوَ لَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی : (فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَاباً یَّسِیْراً) [ الإنشقاق : 8 ] قَالَتْ ، فَقَالَ إِنَّمَا ذٰلِکَ الْعَرْضُ ، وَلَکِنْ مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ یَھْلِکْ) [ بخاري، العلم، باب من سمع شیءًا فراجع۔۔ : 103 ] ”جس کا حساب کیا گیا اسے عذاب دیا جائے گا۔“ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے عرض کیا : ”اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا : (فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَاباً یَّسِیْراً) یعنی جسے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا گیا اس کا حساب آسان ہوگا (مطلب یہ ہے کہ یہاں حساب کے باوجود عذاب نہیں ہوگا تو اس کا مطلب کیا ہے) ؟“ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ صرف پیش کیا جانا ہے اور لیکن جس سے مناقشہ ہوا (یعنی ایک ایک چیز کی پڑتال ہوئی) وہ ہلاک ہوجائے گا۔“ وَبِئْسَ الْمِهَادُ : مہد اور مہاد اصل میں بچے کے لیے تیار کردہ جگہ کو کہتے ہیں، گود ہو یا بچھونا، اسی طرح ہر اچھی طرح آرام کے لیے بنائی ہوئی جگہ کو مہاد کہتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ بچے کو آرام کے لیے آگ پر لٹا دیا جائے تو اس کا کیا حال ہوگا ؟ اسی طرح اللہ کی دعوت قبول نہ کرنے والے کی آرام گاہ جہنم ہوگی۔ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْھَا ]
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

پھر کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ بیشک جو کچھ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔

اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ۔۔ : یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے اس شخص کی طرح ہے جو نہیں جانتا، یوں فرمایا کہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اللہ کی طرف سے آنے والی نشانیاں آنکھوں سے نظر آرہی ہیں، جو ان کا علم اور یقین نہیں رکھتا درحقیقت وہ اندھا ہے اور اس کا یہ اندھا پن قیامت کو اچھی طرح ظاہر ہوجائے گا۔ دیکھیے سورة طہ (124 تا 126) یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔”اُولُوا“ ”ذُوْ“ کی جمع ہے، بمعنی والے۔ ”الْاَلْبَابِ“ ”لُبٌّ“ کی جمع ہے، ہر چیز میں سے جو خالص ہو، خالص عقل جو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہو۔ (مفردات) اس لیے ترجمہ ”عقل والوں“ کے بجائے ”عقلوں والے“ کیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ نصیحت صرف خالص اور پاکیزہ عقل والے حاصل کرتے ہیں، الٹے دماغ والے نہیں۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور پختہ عہد کو نہیں توڑتے۔

الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عقلوں والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ ان میں سب سے پہلی صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد توحید کو پورا کرنا ہے، جیسا کہ سورة اعراف (172) میں ہے۔ ”وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ“ سے ہر اس عہد کو توڑنے سے اجتناب کرنا مراد ہے جسے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پہلے خاص اپنے عہد کے بعد اب عام عہد کا ذکر فرمایا۔ ان منافقین کی طرح نہیں جن میں سے کوئی جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، جب جھگڑتا ہے تو بدکلامی پر اتر آتا ہے، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب اسے کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور وہ جو اس چیز کو ملاتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ : یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں، رشتوں کو نزدیک کے ہوں یا دور کے، ان کے مراتب کے مطابق ملاتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزو جل، رسول کریم ﷺ ، عام مسلمانوں، ہمسایوں، رشتہ داروں، دوستوں، یتیموں، بیواؤں، الغرض ہر ایک کا حق پہچانتے اور ادا کرتے ہیں۔ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ۔۔ : اس کے عائد کردہ فرائض کو بجا لاتے اور اس کے منع کردہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ راغب نے کہا : ”خشیت ایسا خوف ہے جس کے ساتھ تعظیم ملی ہوئی ہو، اکثر اس کا باعث علم ہوتا ہے۔“ جیسے فرمایا : (اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا) [ فاطر : 28 ] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں۔“ خوف سے مراد کوئی بھی ڈر ہے، بعض نے کہا، دونوں (خشیت اور خوف) ہم معنی ہیں، فرق اغلبی ہے، کلی نہیں۔ (آلوسی) وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ : لہٰذا وہ اس وقت سے پہلے ہی اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔ ”سُوْۗءَ الْحِسَابِ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة رعد کی آیت (18) کی تفسیر۔