13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور وہ جنھوں نے اپنے رب کا چہرہ طلب کرنے کے لیے صبر کیا اور نماز قائم کی اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہے۔

وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ : یعنی ہر اس مقام پر جہاں صبر قابل تعریف ہے وہ محض اللہ کے چہرے کی خاطر صبر کرتے ہیں، تاکہ وہ راضی ہوجائے۔ نہ ریا (دکھاوے) کے لیے، نہ سمعہ (شہرت) کے لیے کہ لوگ کہیں واہ کیا صابر شخص ہے۔ صبر کا معنی روکنا، باندھنا ہے۔ اپنے آپ کو اللہ کے احکام کی پابندی پر قائم رکھنا ”صَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ“ ہے، اس کی نافرمانی سے رکنا ”صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ“ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبت، مثلاً بیماری، فاقہ، خوف یا اموات وغیرہ پر اپنے آپ کو جزع فزع سے روکنا اور اسے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی تقدیر سمجھ کر کسی شکوہ و شکایت کے بغیر برداشت کرنا ”صَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ“ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کی یہ تمام صورتیں ”اُوْلُوْا الْبَاب“ کی صفت ہیں۔ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اس کی تفسیر کے لیے سورة بقرہ کی آیت (3) ملاحظہ فرمائیں۔ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً : فرض زکوٰۃ علانیہ دینا افضل ہے، تاکہ کفر کی تہمت سے بچے، نفل صدقہ دوسروں کو ترغیب دلانے کے لیے علانیہ ہو اور ریا سے پاک ہو تو بہت ہی اچھا ہے، مگر علانیہ صدقے میں ریا کا امکان ہے، اس لیے پوشیدہ صدقے کا جواب ہی نہیں ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (271) قیامت کے دن عرش کا سایہ پانے والوں میں سے ایک وہ بھی ہے جو دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو بائیں کو خبر بھی نہ ہو۔ [ بخاري، الأذان، باب من جلس فی المسجد۔۔ : 660 ] وَّيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ : ”دَرَءَ یَدْرَءُ دَرْءً ا“ (ف) ہٹانا، دفع کرنا، دور کرنا، یعنی ”اُوْلُوْا الْبَاب“ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں، یعنی برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ 34؀ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ) [ حٰآ السجدۃ : 34، 35 ] ”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) سے ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔“ یہ طریقہ ذاتی عداوتوں اور زیادتیوں کے جواب کا ہے کہ زیادتی کے جواب میں صبر کرے اور معاف کر دے۔ رہا اللہ کے دین پر زیادتی اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں سرکشی اور عناد کا جواب بہترین طریقے سے دینا تو اس کی صورت دوسری ہے۔ وہاں برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کافر یا اللہ کا باغی دین پر زیادتی کر رہا ہو تو آپ اسے برداشت کریں اور صبر کریں، بلکہ اس برائی کو بہترین طریقے سے ہٹانا نہ اسے آزاد چھوڑنا ہے نہ معاف کرنا، بلکہ یہاں اسے ہٹانے کا بہترین طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا اور اس کا حکم دیا کہ جو شخص تم میں سے کوئی منکر (برائی) دیکھے اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کام کی قوت نہیں تو زبان سے روکے اور اگر اتنی بھی قوت نہیں تو (کم از کم) اسے دل میں برا سمجھے۔ [ مسلم، الإیمان، باب بیان کون النہی۔۔ : 49 ] یہاں سب سے اچھا طریقہ (بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَن) جہاد فی سبیل اللہ ہے اور اس کا نتیجہ بھی یہی ہے کہ یک لخت ہی جانی دشمن دلی دوست بن جاتے ہیں۔ دیکھیے ثمامہ بن اثال، ہندہ، عکرمہ بن ابی جہل، خالد بن ولید ؓ اور عرب کے وہ سردار جو کسی صورت ایمان قبول کرنے والے نظر نہ آتے تھے، جہاد کی نیکی کی برکت سے رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار دوست بن گئے۔ ”برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں“ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ نیک عمل کرکے برے عمل کو مٹا دیتے ہیں، جیسے فرمایا : (اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ) [ ھود : 114 ] ”بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ اور ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا عَمِلْتَ سَیِّءَۃً فَأَتْبِعْھَا حَسَنَۃً تَمْحُھَا) [ أحمد : 5؍169، ح : 21543، صحیح ] ”جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے بعد کوئی نیکی کرو، وہ اسے مٹا دے گی۔“ اور فرمایا : (وَ إِذَا عَمِلْتَ سَیِّءَۃً فَاعْمَلْ بِجَنْبِہَا حَسَنَۃً السِّرُّ بالسِّرِّ وَالْعَلاَنِیَۃُ بالْعَلاَنِیَۃِ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 3؍ 462، ح : 1475 ] ”جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے ساتھ ہی نیکی کرلو، وہ اسے مٹا دے گی، پوشیدہ برائی کو پوشیدہ نیکی کے ساتھ اور علانیہ برائی کو علانیہ نیکی کے ساتھ مٹاؤ۔“ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ : ”عُقْبَى الدَّارِ“ ”عَاقِبَۃٌ“ کی طرح مصدر ہے، وہ چیز جو کسی چیز کے پیچھے آئے، عام طور پر یہ لفظ اچھے انجام کے معنی میں آتا ہے۔ ”الدَّارِ“ میں الف لام عہد کا ہے، یہ گھر یعنی دنیا، یعنی ان صفات والوں کے لیے دنیا کے گھر کے بعد کا انجام بہت اچھا ہے۔
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جو نیک ہوئے اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا۔۔ : یہ ”عُقْبَى الدَّارِ“ سے بدل الکل ہے، یعنی وہ اچھا انجام ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور جنت میں داخل ہونے کے لائق ان کے باپ دادا، بیویاں اور اولادیں بھی ان کے ساتھ جنت عدن میں داخل ہوں گی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”عدن“ جنت میں ایک مقام ہے، اس صورت میں ترجمہ ہوگا ”عدن کے باغات“ اور اس صورت میں یہ ”عُقْبَى الدَّارِ“ سے بدل البعض ہوگا۔ امام ابن کثیر ؓ نے اس آیت پر فرمایا، یعنی انھیں اور ان کے پیاروں کو جنت میں اکٹھا کردیا جائے گا، خواہ باپ ہوں یا گھر والے یا اولاد جو مومن ہونے کی وجہ سے جنت میں داخلے کے لائق ہوں گے، تاکہ ان کی آنکھیں ان کے ساتھ ٹھنڈی ہوں، یہاں تک کہ نیچے درجے والے کو اونچے درجے والے کی طرف بلند کردیا جائے گا، بغیر اس کے کہ اونچے درجے والے کا درجہ کم کیا جائے، محض اللہ تعالیٰ کے امتنان اور احسان کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ) [ الطور : 21 ] ”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے۔“ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ۔۔ : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آکر انھیں مبارک باد اور خوش خبریاں دیں گے۔
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا۔ سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔

سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ : ”سَلٰمٌ“ کا مطلب ہے کہ اب تم ہر مصیبت، رنج و غم اور پریشانی سے محفوظ ہوگئے۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے اس کی مناسبت سے عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ھَلْ تَدْرُوْنَ أَوَّلَ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ ؟ قَالُوْا اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ الْفُقَرَاءُ وَالْمُھَاجِرُوْنَ الَّذِیْنَ تُسَدُّ بِھِمُ الثُّغُوْرُ وَیُتَّقٰی بِھِمُ الْمَکَارِہُ ، وَ یَمُوْتُ أَحَدُھُمْ وَ حَاجَتُہُ فِيْ صَدْرِہِ ، لاَ یَسْتَطِیْعُ لَہَا قَضَاءً ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِمَنْ یَشَاءُ مِنْ مَلاَءِکَتِہِ إءْتُوْہُمْ فَحَیُّوْہُمْ فَتَقُوْلُ الْمَلاَءِکَۃُ نَحْنُ سُکَّانُ سَمَاءِکَ وَ خَیْرَتُکَ مِنْ خَلْقِکَ ، أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَّأْتِیَ ہٰؤُلاَءِ فَنُسَلِّمَ عَلَیْہِمْ ؟ قَالَ إِنَّہُمْ کَانُوْا عِبَادًا یَعْبُدُوْنِيْ ، لاَ یُشْرِکُوْنَ بِيْ شَیْءًا، وَ تُسَدُّ بِہِمُ الثُّغُوْرُ وَ یُتَّقَی بِہِمُ الْمَکَارِہُ ، وَ یَمُوْتُ أَحَدُہُمْ وَ حَاجَتُہُ فِيْ صَدْرِہِ ، لاَ یَسْتَطِیْعُ لَہَا قَضَاءً ، قَالَ فَتَأْتِیْہِمُ الْمَلاَءِکَۃُ عِنْدَ ذٰلِکَ ، فَیَدْخُلُوْنَ عَلَیْہِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ : (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ) [ مسند أحمد : 2؍168، ح : 6578۔ ابن حبان : 7421۔ قال شعیب الأرنؤط و إسنادہ جید ] ”کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی مخلوق میں سے جنت میں سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟“ لوگوں نے کہا : ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ فرمایا : ”اللہ کی مخلوق میں سے جنت میں سب سے پہلے فقراء اور مہاجرین داخل ہوں گے، جن کے ذریعے سے سرحدیں محفوظ کی جاتی تھیں اور ناپسندیدہ حالات سے بچا جاتا تھا اور ان میں سے کوئی فوت ہوتا تو اس کی دلی خواہش اس کے سینے ہی میں باقی ہوتی تھی، وہ اسے پورا نہیں کرسکتا تھا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے جنھیں چاہے گا حکم دے گا کہ ان کے پاس جاؤ اور انھیں سلام کرو۔ فرشتے کہیں گے : ”ہم تیرے آسمان کے رہنے والے اور تیری مخلوق میں سے تیرے چنے ہوئے ہیں، کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور انھیں سلام پیش کریں۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”یہ میرے بندے تھے، میری بندگی کرتے تھے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتے تھے، ان کے ساتھ سرحدیں محفوظ رکھی جاتی تھیں اور ان کے ذریعے سے ناپسندیدہ حالات سے بچا جاتا تھا، ان میں سے کوئی فوت ہوتا تو اس حال میں کہ اس کی دلی خواہش اس کے سینے ہی میں ہوتی، وہ اسے پورا نہیں کرسکتا تھا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”چناچہ فرشتے اس وقت ان کے پاس آئیں گے اور ہر دروازے سے ان کے پاس داخل ہوں گے (اور کہیں گے) : ”سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا، سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔“ بِمَا صَبَرْتُمْ۔۔ : معلوم ہوا ایمان قبول کرنے کے بعد ہر حکم بجا لانے پر ہمیشگی، ہر برائی سے اجتناب، اللہ کی ہر تقدیر پر قناعت کرتے ہوئے ہر مصیبت و راحت میں اللہ تعالیٰ پر خوش رہنا، غرض دین کی ہر بات پر استقامت کی بنیاد صبر ہی ہے اور اس کی جزا کا بھی کوئی حساب نہیں، فرمایا : (اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ) [ الزمر : 10 ] ”صرف صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بغیر حساب دیا جائے گا۔“
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو کاٹ دیتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور انھی کے لیے اس گھر کی خرابی ہے۔

وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ۔۔ : قرآن مجید نے اپنے اسلوب کے مطابق کہ وہ ایمان کے ساتھ کفر، نیکی کے ساتھ بدی، جنت کے ساتھ جہنم کا ذکر کرتا ہے، عہد وفا کرنے والوں کی صفات اور ان کے اچھے انجام کے بعد عہد توڑنے والوں کی صفات بد اور ان کا برا انجام ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ رزق فراخ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں تھوڑے سے سامان کے سوا کچھ نہیں۔

اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ۔۔ : بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب یہ شبہ بن جاتا ہے کہ اللہ کے نافرمان دنیا میں خوش حال کیوں ہیں ؟ اس کا جواب دیا، یعنی دنیا میں رزق کی فراوانی یا تنگی کوئی معیار نہیں ہے، جس کے لحاظ سے کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ یا غیر پسندیدہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے، بسا اوقات وہ کافر کو خوب سامان عیش دیتا ہے اور مومن پر تنگ دستی وارد کرتا ہے، تاکہ دونوں کی آزمائش کی جائے، مومن اپنے صبر و شکر کی وجہ سے آخرت میں بلند درجات پاتا ہے اور کافر ناکام رہتا ہے، اس لیے آخرت میں اس کا ٹھکانا برا ہوتا ہے، لہٰذا گمراہ لوگوں کی بداعمالیوں کے باوجود ان کے عیش و عشرت سے کسی کو دھوکا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ محض مہلت ہے جو کافر کو دنیا میں دی جاتی ہے۔ (روح المعانی) وَفَرِحُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : ”مَتَاعٌ“ کی تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے، یعنی معمولی، تھوڑا سا بےقدر و قیمت سامان، یعنی کفار دنیا کی زندگی کی آسائشوں پر پھول رہے ہیں، حالانکہ یہ آخرت کے مقابلے میں محض معمولی اور بےحقیقت تھوڑی دیر کا سامان ہے۔ مستورد بن شداد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَاللّٰہِ ! مَا الدُّنْیَا فِيْ الْآخِرَۃِ إِلَّا مِثْلُ مَا یَجْعَلُ أَحَدُکُمْ إِصْبَعَہُ ھٰذِہِ وَأَشَارَ یَحْیَی بالسَّبَّابَۃِ فِي الْیَمِّ ، فَلْیَنْظُرْ أَحَدُکُمْ بِمَ تَرْجِعُ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فناء الدنیا۔۔ : 2858 ] ”اللہ کی قسم ! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس مثال کے سوا کچھ نہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی یہ انگلی۔“ اور راوی یحییٰ نے شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا ”سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ وہ کیا چیز لے کر واپس آتی ہے۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : (نَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی حَصِیْرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِيْ جَنْبِہِ ، فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! لَوِ اتَّخَذْنَا لَکَ وِطَاءً ، فَقَالَ مَا لِيْ وَ للدُّنْیَا، مَا أَنَا فِي الدُّنْیَا إِلاَّ کَرَاکِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَھَا) [ ترمذی، الزھد، باب حدیث ما الدنیا إلا کراکب استظل : 2377 ] ”نبی ﷺ ایک چٹائی پر سوئے، اٹھے تو چٹائی نے آپ کے پہلو پر اپنے نشان لگا دیے تھے۔ ہم نے عرض کی : ”یا رسول اللہ ! اگر ہم آپ کے لیے (بستر وغیرہ) بنادیں تو ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”میرا اور دنیا کا کیا تعلق ! میں تو دنیا میں محض اس سوار کی طرح ہوں جس نے ایک درخت کے سائے میں آرام کیا، پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیا۔“
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی۔ کہہ دے بیشک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف اسے راستہ دیتا ہے جو رجوع کرے۔

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : ایسی نشانی کیوں نہیں اتری جسے دیکھ کر ہم اسے اللہ کا رسول مان لینے پر مجبور ہوجاتے، مثلاً دیکھیے سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) میں ان کی فرمائشیں۔ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ۔۔ : یعنی نشانی کے اترنے سے کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ تمہارے اب تک ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تم نے کوئی نشانی نہیں دیکھی، نشانیاں تو بیحد و حساب موجود ہیں، مگر پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کمال حکمت والا ہے اور اپنی رحمت کا خود مالک ہے، جسے چاہے اپنی حکمت کی بنا پر اپنی رحمت و ہدایت سے محروم، یعنی گمراہ رکھے اور جسے چاہے اپنی رحمت و ہدایت سے نواز دے۔ دوسری بات یہ کہ تم اللہ کے راستے کی طرف آتے ہی نہیں، اگر تمہاری سیدھے راستے کی طرف آنے کی خواہش اور جستجو ہوتی تو تم صرف قرآن کی نشانی کو دیکھ کر راہ حق کو پالیتے، کیونکہ یہ کتاب واضح دلائل سے لبریز ہے۔ اب اگر تم اپنی خواہشات اور شیطان ہی کے پیچھے چلتے جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف لوٹ کر آنے کی رغبت ہی نہ رکھو تو تمہیں اللہ کے راستے پر چلنا کیسے نصیب ہو، وہ تو اپنی طرف آنے کے راستے پر چلنے کی توفیق انھی کو دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع رکھیں اور لوٹ کر آنا چاہیں۔
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن لو ! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ۔۔ : یہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی صفت ہے، ذکر کا معنی نصیحت بھی ہے اور یاد کرنا بھی۔ اس لحاظ سے آیت کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ انھی کو اپنی طرف ہدایت دیتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل کو وحی الٰہی سے ملنے والی نصیحت سے پوری تسلی ہوجاتی ہے، اس کے سوا انھیں کہیں سے تسلی نہیں ہوتی، کوئی دوسرا اپنے خیال میں کیسی اچھی بات کیوں نہ کہے انھیں اس پر یقین نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بھی ان جیسا انسان ہے، اس کی بات درست بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی، اس لیے اس پر انھیں اطمینان نہیں ہوتا، صرف اللہ کی بات ایسی ہے جو غلط نہیں ہوتی، اس لیے اسی پر ان کے دل کو یقین و اطمینان ہوتا ہے۔ ”ذکر اللہ“ یعنی اللہ کی نصیحت صرف رسول پر نازل ہوئی، قرآن کی صورت میں بھی اور حدیث کی صورت میں بھی، پھر اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا، فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) [ الحجر : 9 ] ”بیشک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ کافر اس نعمت سے محروم ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہدایت کی نعمت صرف اسی کو ملتی ہے جو اس کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرے، ایمان لائے اور وحی الٰہی سے اسے پوری تسلی حاصل ہوجائے۔ کوئی شخص اگر ایمان کا دعویٰ کرے مگر اسے قرآن و حدیث کے بجائے تسلی کسی اور کی بات سے ہوتی ہو تو وہ بدنصیب بھی ہدایت الٰہی سے محروم ہے۔ ”ذکر اللہ“ کا دوسرا معنی یاد الٰہی ہے۔ مولانا محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں : ”یہ ایمان کے خالص اور پختہ ہونے کی علامت ہے کہ ذہن خواہ کتنی ہی فکروں میں الجھا ہوا ہو لیکن جوں ہی نماز شروع کرے یا اللہ کو یاد کرے تو تمام فکر بھول جائیں اور انسان حقیقی اطمینان قلب سے بہرہ ور ہوجائے۔“ یہاں اگرچہ دونوں معنوں کی گنجائش ہے مگر پہلا معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ کافر نشانی مانگ رہے ہیں جبکہ سب سے بڑی نشانی قرآن موجود ہے۔ اہل ایمان کو اسی سے اطمینان ہوجاتا ہے، جبکہ کافر بدنصیب شک ہی میں مارا جاتا ہے اور مزید معجزے مانگتا رہتا ہے۔
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے خوشحالی اور اچھا ٹھکانا ہے۔

طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ : ”طُوْبٰى“ اصل میں ”طَابَ یَطِیْبُ“ (اچھا اور عمدہ ہونا) سے ”طُیْبٰی“ تھا، مصدر بروزن ”بُشْرٰی“ بمعنی خوشی، مبارک باد۔ ”مَاٰبٍ“ ”اٰبَ یَؤُوْبُ أَؤْبًا“ کا معنی ہے لوٹنا اور ”مَاٰب“ کا معنی لوٹ کر جانے کی جگہ، ٹھکانا یعنی ایمان اور عمل صالح کی برکت سے عمدہ ترین زندگی حاصل ہوتی ہے اور آخری ٹھکانا بھی بہترین ملے گا، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ النحل : 97 ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقیناً ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔“ مسند احمد کی ایک حدیث میں جو عتبہ بن عبد السلمی سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے جنت کے ایک درخت کا نام بھی طوبیٰ بتایا ہے۔ [ مسند أحمد : 4؍183، ح : 17660، وقال شعیب الأرنؤوط إسنادہ قابل للتحسین ]
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے تجھے ایسی امت میں بھیجا جس سے پہلے کئی امتیں گزر چکیں، تاکہ تو انھیں وہ وحی پڑھ کر سنائے جو ہم نے تیری طرف بھیجی ہے، اس حال میں کہ وہ اس بےحد مہربان سے کفر کر رہے ہیں۔ کہہ دے وہی میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ : امت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ لوگ جن کی طرف رسول بھیجا جائے، وہ مسلمان ہوں یا کافر، جیسے قوم ثمود کا ہر مسلم و کافر صالح ؑ کی امت تھا اور عاد کا ہر فرد ہود ؑ کی امت میں سے تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد قیامت تک ہر مسلم و کافر، یہودی، نصرانی، ہندو اور دہریہ، غرض ہر شخص آپ ﷺ کی امت میں سے ہے، اسے امت دعوت کہا جاتا ہے، پھر جو لوگ رسول کی دعوت کو قبول کرلیں وہ امت اجابت کہلاتے ہیں، اس آیت میں امت دعوت مراد ہے۔ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ : یعنی نہ آپ پہلے رسول ہیں نہ آپ کی امت دعوت کوئی پہلی امت ہے۔ اس سے مقصود آپ کی امت کو پہلی جھٹلانے والی امتوں کے انجام بد سے ڈرانا ہے۔ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ : یعنی آپ کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ انھیں وہ آیات و احکام پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیے۔ ”عَلَيْهِمُ“ سے اولین مراد قریش مکہ ہیں اور پھر بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگ بھی، جیسا کہ فرمایا : (هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ۝ ۙوَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) [ الجمعۃ : 2، 3 ] ”وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں تھے۔ اور ان میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (آپ کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ ”جو ابھی تک ان سے نہیں ملے“ سے مراد قیامت تک کے لوگ ہیں۔ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ : یعنی اللہ نے اپنی رحمت سے ان لوگوں پر کرم فرمایا کہ آپ کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا، مگر ان کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ اس کا حق پہچاننے سے منکر ہوگئے ہیں۔ کفار مکہ اللہ کے خالق ہونے کا تو اقرار کرتے تھے، مگر اس کے ”رحمان“ ہونے کے منکر تھے، بلکہ جب اللہ تعالیٰ کے رحمٰن ہونے اور اسے اس نام سے پکارنے کی دعوت دی جاتی تو اس سے چڑتے اور کہتے : (وَمَا الرَّحْمٰنُ ۤ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا) [ الفرقان : 60 ] ”رحمان کیا چیز ہے ؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات انھیں بدکنے میں بڑھا دیتی ہے۔“ نیز حدیبیہ کے صلح نامہ پر جب نبی ﷺ نے ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ لکھوانا چاہا تو کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے کہا : ”اللہ کی قسم ! میں رحمٰن کو نہیں جانتا کہ وہ کون ہے، آپ ”بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ“ لکھوائیے۔“ [ بخاری، الشروط، باب الشروط في الجہاد۔۔ : 2731، 2732 ] ”الرَّحْمٰنُ“ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسم اللہ کے بعد سب سے محترم نام ہے۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَاءِکُمْ إِلَی اللّٰہِ عَبْدُ اللّٰہِ وَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ) ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پیارے نام عبداللہ اور عبد الرحمان ہیں۔“ [ مسلم، الآداب، باب النھي عن التکني بأبی القاسم۔۔ : 2132 ]
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور واقعی اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس کے ذریعے زمین قطع کی جاتی، یا اس کے ذریعے مردوں سے کلام کیا جاتا۔ بلکہ کام سارے کا سارا اللہ کے اختیار میں ہے، تو کیا جو لوگ ایمان لائے ہیں مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہے تو یقینا سب کے سب لوگوں کو ہدایت دے دے، اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہمیشہ اس حال میں رہیں گے کہ انھیں اس کی وجہ سے جو انھوں نے کیا، کوئی نہ کوئی سخت مصیبت پہنچتی رہے گی، یا ان کے گھر کے قریب اترتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے۔ بیشک اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ : ”قُرْاٰنًا“ نکرہ ہے، کوئی قرآن، یعنی پڑھی جانے والی کوئی کتاب۔ ”لو“ شرطیہ ہے، اس کا جواب محذوف ہے، جو آیت کے سیاق وسباق سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے اور قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر موجود بھی ہے۔ تفاسیر میں دو جواب مذکور ہیں اور دونوں درست ہیں، ایک تو یہ کہ اگر واقعی کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے سے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس کے ذریعے سے زمین قطع کی جاتی، یا اس کے ذریعے سے مردوں سے کلام کیا جاتا تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، کیونکہ یہ ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں۔ ان تین چیزوں کا خصوصاً ذکر اس لیے کیا کہ قرآن مجید کے معجزے کے بعد، جس کے چیلنج کے مقابلے میں سب لاجواب ہوچکے تھے، اب وہ لوگ خصوصاً انھی تین چیزوں کے دکھانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب لاجواب ہونے کے باوجود یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہیں لائے تو اگر کوئی ایسا قرآن بھی آجائے جس سے ان کے مطالبے پورے ہوں، پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، کیونکہ تمام کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور یہ لوگ جب عناد کی وجہ سے اس قرآن پر ایمان نہ لا کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا نشانہ بن چکے ہیں، جو سب معجزوں سے بڑا معجزہ ہے، تو اپنے مطلوبہ معجزے دیکھ لینے کے بعد بھی اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے ان کو ایمان لانے کی توفیق کیسے ملے گی اور کہاں سے ملے گی۔ جب کوئی جان بوجھ کر آنکھیں ہی بند کرلے تو کوئی اسے کس طرح دکھا سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ) [ الأنعام : 111 ] ”اور اگر واقعی ہم ان کی طرف فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے گفتگو کرتے اور ہم ہر چیز ان کے پاس سامنے لا جمع کرتے تو بھی وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ اللہ چاہے اور لیکن ان کے اکثر جہالت برتتے ہیں۔“ اس آیت سے ”لَوْ“ کا جواب صراحت کے ساتھ معلوم ہو رہا ہے۔ دوسرا جواب اس ”لَوْ“ کا یہ ہے کہ ان صفات کا حامل اگر کوئی قرآن ہوتا تو وہ یہی قرآن تھا، جیسا کہ فرمایا : (لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ) [ الحشر : 21 ] ”اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو یقیناً تو اسے اللہ کے ڈر سے پست ہونے والا، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا دیکھتا۔“ اس میں اس قرآن کی عظمت کا بیان ہے کہ تم جو مطالبے کر رہے ہو قرآن کے لیے ان میں سے کوئی بھی پورا کرنا مشکل نہیں، مگر سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایسا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے، کیونکہ اس کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں تمہیں عذاب سے ملیامیٹ کردیا جاتا، جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا۔ اَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : مفسرین نے ”اَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ“ کے دو معنی لکھے ہیں، ایک معنی ہے کہ ”أَفَلَمْ یَعْلَمْ“ کہ کیا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں انھیں معلوم نہیں ہوا کہ جن نشانیوں کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دکھانے پر قادر ہے، کیونکہ اسے ہر چیز کا اختیار ہے، مگر اس توقع پر ان نشانیوں کا دکھانا بےسود ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اتنے سرکش اور ضدی ہیں کہ یہ نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے اور ”اَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ“ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا ابھی مسلمان ان کے ایمان لانے سے مایوس نہیں ہوئے، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔۔ اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا : یعنی ہدایت تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے جو ان نشانات کے دکھائے بغیر بھی ہوسکتی ہے۔ (شوکانی) وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : یعنی یہ کفار مکہ نشانیوں کو دیکھ کر مان لینے والے نہیں ہیں۔ یہ مانیں گے تو اس طرح کہ ان کے کرتوتوں کی سزا میں آئے دن کوئی نہ کوئی آفت ان پر نازل ہوتی رہے، جیسے قتل، قید، قحط یا بیماری وغیرہ۔ چناچہ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”لیکن کافر مسلمان یوں ہوں گے کہ ان پر آفت پڑتی رہے گی، ان پر پڑے یا ہمسائے پر، جب تک سارے عرب ایمان میں آجائیں۔ وہ آفت یہی تھی جہاد مسلمانوں کے ہاتھ سے۔“ (موضح) اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ : یعنی وہ آفت ان کے آس پاس والوں پر اترے گی اور وہ ان کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کریں گے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ : چناچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا، قریش میں سے بعض لوگ مارے گئے اور بعض قید ہوئے، یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوا، یعنی مکہ فتح ہوا۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے ان لوگوں کو مہلت دی جنھوں نے کفر کیا، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا۔

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ۔۔ :”عِقَابِ“ اصل میں ”عِقَابِیْ“ تھا۔ آیات کی موافقت کے لیے یاء حذف کر کے کسرہ رہنے دیا گیا۔ ”أَمْلَیْتُ“ باب افعال (ناقص واوی) بمعنی مہلت دینا، اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کافروں کے ٹھٹھا مذاق کرنے اور ناجائز اور ناممکن مطالبات کرنے سے بددل نہ ہوں، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ نوح ؑ کشتی بنا رہے تھے تو ہر گزرنے والا ان سے ٹھٹھا کرتا۔ [ ہود : 38 ] شعیب ؑ سے ان کی قوم نے کہا : ”ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔“ [ الشعراء : 187 ] ہود ؑ کی قوم نے کہا : ”ہم یقیناً تجھے بےوقوفی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔“ [ الأعراف : 66 ] فرعون نے موسیٰ ؑ کو ”مُھِیْن“ (حقیر) کہا اور زبان کی لکنت کا طعنہ دیا۔ [ الزخرف : 52 ] فرمایا، اس کے باوجود میں نے کفار کو مہلت دی، تاکہ ان کا عذر ختم ہوجائے، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو آپ بھی ان کی حرکتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ لَیُمْلِيْ للظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَہُ لَمْ یُفْلِتْہُ) ”اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) [ ھود : 102 ] ”اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔“ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (و کذٰلک أخذ ربک إذا أخذ القریٰ۔۔) : 4686، عن أبي موسیٰ۔ مسلم : 2583 ]
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا وہ جو ہر جان پر اس کا نگران ہے جو اس نے کمایا (کوئی دوسرا اس کے برابر ہوسکتا ہے ؟) اور انھوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا لیے۔ کہہ دے ان کے نام لو، یا کیا تم اسے اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا، یا ظاہری بات سے (کہہ رہے ہو ؟) بلکہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کا مکر خوشنما بنادیا گیا اور وہ سیدھے راستے سے روک دیے گئے اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ : یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے ثبوت اور شرک کے رد کا بیان فرمایا ہے۔ ”قَاۗىِٕمٌ“ سے مراد یہاں نگران اور محافظ ہے۔ ”اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ“ مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور وہ ہے ”کَمَنْ لَیْسَ کَذٰلِکَ“ اور یہ حذف شدہ خبر کلام کے پہلے اور پچھلے حصے سے خود بخود سمجھ میں آرہی ہے۔ یعنی کیا وہ معبود برحق جو ہر جان کا ہر لمحہ اور ہر حالت کا نگران اور محافظ ہے اور اس کے ہر عمل سے، نیک ہو یا بد، پوری طرح واقف ہے، وہ تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی طرح ہے جو سرے سے اس وصف سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس وصف کے لیے دیکھیے سورة انعام (59) ، ہود (6) اور آیت الکرسی وغیرہ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ : اس سے پہلے جملے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ضمیر ”ھُوَ“ کے ساتھ تھا، یہاں ضمیر کے بجائے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ان کے شرک کی قباحت ظاہر کی کہ کتنے ظالم ہیں کہ انھوں نے ”اللہ“ کے شریک بنا لیے، جس کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا۔ فرمایا ان شریک بنانے والوں سے کہو ذرا ان شریکوں کے نام تو بتاؤ، انھیں سامنے تو لاؤ۔ اگر تم بالفرض نام لے بھی دو ، تو ایسی ہستیوں کا نام لو گے جو محض خیالی ہیں، حقیقت میں ان کا کوئی وجود ہی نہیں، وہ خود اپنے وجود اور بقا میں دوسروں کی محتاج ہیں، نہ اپنے نفع نقصان کا اختیار رکھتی ہیں نہ کسی دوسرے کا، ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتیں۔ پھر ان کا نام اللہ کے شریک کے طور پر لینا کس قدر نادانی اور جہالت کی بات ہے۔ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ : یا تم اسے اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا، حالانکہ اسے زمین کے چپے چپے کی خبر ہے، تو اگر ان شرکاء کا کہیں وجود ہوتا تو وہ انھیں ضرور جانتا۔ اس تفسیر کی رو سے ”لَا يَعْلَمُ“ میں ”ھُوَ“ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”لَا يَعْلَمُ“ میں ضمیر ”مَا“ کے لیے ہو اور مطلب یہ ہو کہ کیا اللہ تعالیٰ کو ان بےجان بتوں کے معبود ہونے کی خبر دیتے ہو جن کو ذرا بھی علم نہیں ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں، اس سے مقصود تو زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کرنا ہے، لہٰذا ”فِي الْاَرْضِ“ کی قید محض اس لیے لگائی ہے کہ کفار یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کے یہ شریک زمین میں ہیں۔ (روح، ابن کثیر) اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ : یا ظاہری بات ہے، جو تم صرف منہ سے کہہ رہے ہو، دل سے تمہیں بھی یقین نہیں کہ کوئی اللہ کا شریک ہے، کیونکہ اگر غور وفکر کرو تو انسانی فطرت بھی اللہ کا کوئی شریک ہونا تسلیم نہیں کرتی۔ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ : مکر سے مراد کفر اور اس کے لیے باطل دلیلیں گھڑنا اور لوگوں کو دھوکا دے کر مشرک بنانا ہے۔ ”خوش نما بنادیا گیا“ خوش نما بنانے والی کئی چیزیں ہیں، اس لیے فعل مجہول استعمال کیا گیا، مثلاً : 1 ان کے اعمالِ بد کی نحوست 2 نفسانی خواہشات 3 شیطان 4 ان کے فسق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر لگنے والی مہر، غرض بہت سی چیزیں ان کے کفر کو خوش نما بنانے کا باعث بنیں۔ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ۔۔ : ”مِنْ هَادٍ“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ہدایت نہیں لکھی۔ اب ایسے لوگ سیدھی راہ پر کیسے آسکتے ہیں۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کے لیے ایک عذاب دنیا کی زندگی میں ہے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور انھیں اللہ سے کوئی بھی بچانے والا نہیں۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : یعنی دنیا ہی میں بعض اوقات آسمانی آفات، بیماریوں، فاقوں اور مختلف مصیبتوں کے ذریعے سے عذاب ہوگا اور بعض اوقات مجاہدین اسلام کے ہاتھوں قید، قتل یا ذلیل ہوں گے اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے۔ اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نَارُکُمْ ھٰذِہِ الَّتِيْ یُوْقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِنْ حَرِّ جَھَنَّمَ۔۔ کُلُّھَا مِثْلُ حَرِّھَا) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللّٰہ منہا : 2843، عن أبی ہریرہ ؓ ]”تمہاری یہ آگ جو ابن آدم جلاتا ہے، جہنم کی گرمی کے ستر (70) حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔۔ سب کی گرمی اس کی مثل ہے۔“ اور آخرت کے عذاب کے بہت زیادہ سخت ہونے کا سب سے بڑا باعث یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ مزید دیکھیے سورة فجر (25، 26) اور سورة فرقان (11 تا 15)۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں، اس کا پھل ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی بنے اور کافروں کا انجام آگ ہے۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ۔۔ : ”مَثَلُ“ کا معنی یہاں صفت یا حال ہے، اہل جہنم کے ذکر کے بعد متقی لوگوں کو ملنے والی جنت کا حال اور اس کی صفت بیان فرمائی کہ اس کے درختوں اور مکانوں کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، اس کا پھل دائمی ہے، یہ نہیں کہ کبھی ہو اور کبھی نہ ہو، اسی طرح اس کا سایہ بھی دائمی ہے، اس کے پھل نہ ختم ہوں گے، نہ کسی جنتی کو ان سے کوئی رکاوٹ ہوگی۔ (دیکھیے واقعہ : 33) جنت کی نہروں کی صفت کے لیے سورة محمد (15) اور سائے کی حالت کے لیے سورة دہر (14) ، نساء (57) اور طٰہٰ (118، 119) ملاحظہ فرمائیں۔ مزید تفصیل کے لیے اس مقام پر تفسیر ابن کثیر اور کتب احادیث میں جنت اور جہنم کے احوال کے ابواب ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس پر خوش ہوتے ہیں جو تیری طرف اتارا گیا ہے اور کچھ گروہ وہ ہیں جو اس کے بعض کا انکار کرتے ہیں۔ کہہ دے مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔

وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ۔۔ : ”الْكِتٰبَ“ سے مراد یا تو پہلی کتابیں ہیں، یعنی تورات و انجیل، مطلب یہ ہوگا کہ پہلی کتب میں چونکہ آپ ﷺ کے سچے رسول ہونے کے بہت سے شواہد اور بشارتیں موجود ہیں، اس لیے جن لوگوں کو وہ کتابیں دی گئی ہیں وہ آپ کی طرف اترنے والی آیات پر خوش ہوتے ہیں۔ دیکھیے سورة عنکبوت (47) اور آل عمران (113) کیونکہ وہ آپ کو پہچان کر ایمان لا چکے ہیں، ہاں ان کے کئی گروہ قرآن کی بعض چیزوں کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان کی ان باتوں کا رد کرتا ہے جو انھوں نے اپنے پاس سے داخل کرلی تھیں، یا ان میں تبدیلی اور تحریف کردی تھی، مثلاً یہود کا عزیر ؑ اور نصاریٰ کا مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دینا اور وہ باتیں ظاہر کرنا ہے جو وہ چھپاتے تھے، مثلاً رجم کی حد، سود کی حرمت، نبی ﷺ کی صفات وغیرہ، لہٰذا وہ پہچاننے کے باوجود عناد کی وجہ سے ان باتوں کا انکار کرتے اور اپنے کفر پر اڑے ہوئے تھے۔ دیکھیے سورة توبہ (30، 31) یا پھر ”الْكِتٰبَ“ سے مراد قرآن مجید ہے اور ”جن لوگوں کو یہ کتاب دی“ سے مراد مسلمان ہیں کہ وہ آپ پر اترنے والی آیات پر دل سے خوش ہوتے ہیں اور ”الْاَحْزَابِ“ سے مراد عرب کے وہ جاہل اور ضدی لوگ ہیں جنھوں نے قرآن کی بعض باتیں اپنی مرضی کے خلاف ہونے کی وجہ سے نہ مانیں اور مسلمان نہ ہوئے۔ یہ لوگ خوش ہونے کے بجائے ناراض اور سیخ پا ہوتے ہیں۔ قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ۔۔ : تو جو شخص نہیں مانتا وہ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت سے انکار کرتا ہے۔ وَاِلَيْهِ مَاٰبِ : ”مَاٰبِ“ یہ ”اٰبَ یَؤُوْبُ“ (ن، اجوف واوی) سے مصدر میمی ہے، اصل ”مَاٰبِیْ“ تھا، یعنی میرا لوٹنا، ”یاء“ حذف کر کے کسرہ اس پر دلالت کے لیے باقی رکھا ہے۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فرمان بنا کر اتارا ہے اور یقینا اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس کے بعد جو تیرے پاس علم آچکا تو اللہ کے مقابلے میں نہ تیرا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا : یعنی جس طرح پہلے انبیاء کی طرف کتابیں اتریں اسی طرح ہم نے آپ پر یہ قرآن اتارا اور جس طرح ہر نبی پر اس کی قوم کی زبان میں وحی اور کتاب نازل کی اسی طرح عربوں پر بھی انھی کی زبان میں کتاب اتاری، کسی دوسری زبان میں نہیں، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم تو یہ زبان جانتے ہی نہیں۔ ”اَنْزَلْنٰهُ“ (ہم نے اسے اتارا) سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید اور وحی الٰہی اوپر کی جانب سے آئی ہیں۔ اس سے ان لوگوں کا صاف رد ہوگیا جو اللہ تعالیٰ کے لیے اوپر کی جانب ہونے یا عرش پر ہونے کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ کبھی کہتے ہیں کہ وہ لامکان ہے، یعنی کہیں بھی نہیں اور کبھی کہتے ہیں وہ ہر جگہ ہے، حالانکہ قرآن نے کئی جگہ صراحت فرما دی ہے کہ وہ اوپر کی جانب ہے اور عرش پر ہے، فرمایا : (قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ) [ البقرۃ : 144 ] ”یقیناً ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں۔“ اور فرمایا : (ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ) [ الأعراف : 54 ] ”پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔“ اور دیگر متعدد آیات۔ پھر آپ کے مخاطب اگرچہ قیامت تک کے تمام جن و انس ہیں، تاہم سب سے اول مخاطب عرب تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کی رہنمائی کے لیے ان کا اور ان کی زبان کا انتخاب ان کی فطری خوبیوں اور ان کی زبان کی جامعیت، فصاحت و بلاغت، حسن ادا، آسان ہونے اور دوسری خوبیوں کی وجہ سے فرمایا اور اسے اہل عرب پر احسان قرار دیا : (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ) [ الزخرف : 44 ] ”اور بیشک وہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے نصیحت (یا شہرت کا باعث) ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔“ پھر اس قرآن نے عربی زبان کو ایسا محفوظ کیا کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود عربی زبان اصل صورت میں موجود ہے، جبکہ دوسری تمام زبانیں کچھ عرصہ بعد بدل جاتی ہیں، حتیٰ کہ پہلے لفظ بالکل ہی متروک ہوجاتے ہیں، جیسا کہ انگریزی وغیرہ کا حال ہے۔ خود عربی کو دیکھ لیجیے کہ قرآن کی وجہ سے فصیح عربی محفوظ ہے، مگر عام لوگوں کی عربی بھی مختلف علاقوں اور مختلف ادوار کے لحاظ سے اتنی مختلف ہے کہ ایک علاقے کا عرب دوسرے علاقے کی عامی زبان نہیں سمجھتا۔ البتہ اصل عربی کو قرآن نے صدیوں سے اصل صورت میں باندھ رکھا ہے، وہ دنیا بھر میں ایک ہی ہے۔ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاۗءَهُمْ۔۔ : یہ خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن مراد ہر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اور اس کے غصے سے ڈرنے والا ہے اور اس میں وعید ہے ان علماء کے لیے جو جانتے بوجھتے سنت کی راہ چھوڑ کر بدعت و ضلالت اور قرآن و حدیث چھوڑ کر اقوال رجال کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے کئی رسول تجھ سے پہلے بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور بچے بنائے اور کسی رسول کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی لے آتا، مگر اللہ کے اذن سے۔ ہر وقت کے لیے ایک کتاب ہے۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ۔۔ : نبی کریم ﷺ کی نبوت پر مشرکین یہ بھی اعتراض کرتے کہ یہ عجیب پیغمبر ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح نکاح کرتے ہیں، ان کی اولاد بھی ہے، حالانکہ پیغمبر کو ان باتوں سے کیا واسطہ ؟ ! بلکہ انھیں اس پر بھی اعتراض تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : 7) اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے کہ نبوت عورتوں سے نکاح کے منافی نہیں، آپ سے پہلے جتنے بھی اللہ کے پیغمبر ہو گزرے ہیں وہ سب بشر ہی تھے اور ان میں اکثریت ان پیغمبروں کی ہے جو بیوی بچے رکھتے تھے۔ وہ سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (دیکھیے فرقان : 20) تمہیں ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی اولاد ہونے پر فخر ہے تو کیا تم ان کی شادی کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہو ؟ ! اسی طرح بنی اسرائیل اور ان کے انبیاء کو دیکھ لو۔ سلیمان ؑ کی بیویوں اور لونڈیوں کی تعداد کی طرف دھیان کرو ! غرض تمہارا یہ اعتراض سرے سے ہے ہی لغو۔ ہمارے زمانے میں بھی کئی لوگ انھی لوگوں کو اللہ والے، ولی اور بزرگ سمجھتے ہیں جو نہ شادی کریں، نہ کمائی، راہب بن کر دین کی دعوت اور جہاد کے بجائے گوشہ نشینی اور خود محنت کرکے کھانے کے بجائے دوسروں کی کمائی پر زندگی بسر کریں، حالانکہ اسلام میں یہ کام حرام ہیں۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : (جَاءَ ثَلَاثَۃُ رَھْطٍ إِلٰی بُیُوْتِ أَزْوَاج النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أُخْبِرُوْا کَأَنَّھُمْ تَقَالُّوْھَا فَقَالُوْا وَأَیْنَ نَحْنُ مِنَ النِّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَقَالَ أَحَدُھُمْ أَمَّا أَنَا فَأَنَا أُصَلِّي اللَّیْلَ أَبَدًا، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُوْمُ الدَّھْرَ وَلَا أُفْطِرُ ، وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ إِلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا ؟ أَمَا وَاللّٰہِ ! إِنِّيْ لَأَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَتْقَاکُمْ لَہُ ، لٰکِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ ، وَأُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ) [ بخاری، النکاح، باب الترغیب في النکاح : 5063۔ مسلم : 1401 ] ”تین آدمی نبی ﷺ کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے، وہ نبی ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ جب انھیں بتایا گیا تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا، کہنے لگے : ”ہماری نبی ﷺ سے کیا نسبت ؟ آپ ﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں۔“ چناچہ ان میں سے ایک نے کہا : ”میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا۔“ دوسرے نے کہا : ”میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا۔“ تیسرے نے کہا : ”میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔“ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے (انھیں بلوایا) اور فرمایا : ”تم لوگوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں، یاد رکھو ! اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ کی خشیت والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ کے تقویٰ والا ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو میرے طریقے سے بےرغبتی کرے گا وہ مجھ سے نہیں۔“ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ : مخالفین کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر یہ (محمد ﷺ واقعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں تو ہماری طلب کے مطابق معجزے اور نشانیاں کیوں نہیں لاتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ پہلے پیغمبر جتنے معجزے لائے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکم سے لائے ہیں، اب اگر اللہ کا حکم ہوگا تو وہ اپنے اس پیغمبر سے بھی معجزے ظاہر کر دے گا، ورنہ پیغمبر میں از خود یہ ہمت کہاں ہے کہ اپنی مرضی سے جو معجزہ چاہے ظاہر کر دے۔ یہی حال اولیاء کی کرامتوں کا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کرامت دکھلانے پر قادر نہیں ہوتے۔ یہاں آیت سے مراد قرآن کی آیت بھی ہوسکتی ہے جس میں ان کی مرضی کے مطابق کوئی حکم نازل ہوجائے۔ (ابن کثیر) لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ : یعنی ہر وقت کے لیے ایک لکھا ہوا فیصلہ ہے جو اس وقت ہو کر رہے گا۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ۔۔ : بظاہر یہ آیت اس حدیث کے خلاف ہے : (جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ) [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء : 5076 ] ”جس چیز یا حال کو تم ملنے والے ہو قلم اس کے ساتھ خشک ہوچکا ہے۔“ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہوچکا وہ اب مٹنے والا نہیں، اس سوال کے حل کے لیے اس آیت کی تفسیر اہل علم نے دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ جس طرح معجزہ اور کرامت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں، اسی طرح کسی حکم کو باقی رکھنا یا اسے منسوخ کردینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ کون سا حکم کب تک باقی رکھنا ہے اور کون سا حکم منسوخ کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ گویا یہ یہود پر رد ہے جو نسخ کے قائل نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں بھی ان پر رد فرمایا : (ما نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا) [ البقرۃ : 106 ] یعنی جو بھی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لے آتے ہیں اور یہ سب باقی رکھنا یا منسوخ کرنا (محو و اثبات) ام الکتاب میں درج ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ سورة بقرہ کی آیت (106) کی تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ایک رسول کے احکام پر عمل قائم رکھتا ہے، پھر جس وقت چاہتا ہے بعد میں آنے والے رسول کے احکام پر عمل فرض کردیتا ہے اور پہلے پر عمل ختم کردیتا ہے۔ ”يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ“ میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بندے کے نامۂ اعمال میں کوئی بھی نیک یا بدعمل اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو باقی رکھتا ہے، چاہتا ہے تو مٹا دیتا ہے اور یہ نہیں کہ پہلے اسے علم نہیں تھا کہ میں نے کیا ثابت رکھنا ہے اور کیا مٹانا ہے، بلکہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اسے قضائے مبرم کہتے ہیں اور یہ وہی ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ابوہریرہ ؓ سے فرمایا : (جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ) [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء : 5076 ] ”تم جس چیز یا حال کو ملنے والے ہو اس کے ساتھ قلم خشک ہوچکا ہے۔“ اور ایک تقدیر وہ ہے جس میں تبدیلی ہوتی ہے، اسے تقدیر معلق کہتے ہیں اور وہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ چناچہ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے، بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں۔ اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ مقرر ہے، جب اللہ چاہے ان کی تاثیر اندازے سے کم یا زیادہ کر دے اور جب چاہے ویسی ہی رکھے۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور گولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے، وہ ہرگز نہیں بدلتا۔ اندازے کو تقدیر کہتے ہیں، یہ دو تقدیریں ہوئیں، ایک بدلتی ہے (تقدیر تاثیر اسباب) اور ایک نہیں بدلتی (یعنی علم الٰہی)۔“ (موضح) شیخ ناصر الدین البانی نے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ (5448) میں فرمایا : ”قرطبی نے بھی اپنی تفسیر ”الجامع (5؍332)“ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے، وہ لکھتے ہیں : ”اور عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے (قضا) میں تبدیلی نہیں ہوتی اور یہ محو و اثبات بھی ان چیزوں میں شامل ہے جن کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ قضا میں سے کچھ چیزیں وہ ہیں جو لازماً ہو کر رہنی ہیں، یہ وہ ہیں جو ثابت (مبرم) ہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں بعض اسباب سے تبدیلی ہوجاتی ہے، یہ محو (مٹائی ہوئی) ہیں۔ (واللہ اعلم) غزنوی ؓ نے فرمایا : ”میرے نزدیک یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ ہے وہ غیب سے نکل چکا ہے، کیونکہ بعض فرشتے بھی اس سے واقف ہیں، اس لیے وہ تبدیل ہوسکتا ہے، کیونکہ مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے پورے علم سے واقف ہونا محال ہے اور اس کے علم میں اشیاء کی جو تقدیر اور طے شدہ بات ہے وہ کبھی نہیں بدلتی۔“ (سلسلہ ضعیفہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ غزنوی سے مراد عالی بن ابراہیم بن اسماعیل ہیں جن کا لقب ”تاج الشریعہ“ ہے، یہ ایک حنفی فقیہ مفسر ہیں، ان کی کتاب تفسیر التفسیر ہے جو بہت عمدہ ہے، جیسا کہ کئی علماء نے فرمایا ہے، 582 ھ میں فوت ہوئے۔ الاعلام) خلاصہ یہ کہ اس ”محو و اثبات“ کا اس ”بدا“ کے غلط عقیدے سے کوئی تعلق نہیں جو بعض گمراہ لوگوں نے اختیار کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم کوئی کام کرو، پھر اس کا غلط ہونا تمہیں معلوم ہو تو اسے بدل دو۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا حرام ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے۔ اس تفصیل سے اللہ کے فیصلے کے بدل نہ سکنے کے عقیدے اور ان تمام احادیث و اقوال صحابہ کے متعلق اشکال ختم ہوجاتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات تقدیر بدل سکتی ہے، خصوصاً دعا سے، مثلاً رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : (لاَ یَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلاَّ الدَّعَاءُ وَلَا یَزِیْدُ فِی الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ) [ ترمذی، القدر، باب ما جاء لا یرد القدر إلا الدعاء : 2139۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 1؍ 153، ح : 154 ] ”تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں ٹالتی اور عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز زیادہ نہیں کرتی۔“ اسی طرح بعض صحابہ کی دعائیں کہ یا اللہ ! اگر تو نے مجھے شقی لکھا ہے تو اسے بدل کر سعید لکھ دے۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے اس کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا واقعی تجھے اٹھا لیں تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۔۔ : ”مَا“ شرط کے معنی کی تاکید کے لیے ہے جو ”اِنْ“ کا مفہوم ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے دکھا دیں۔“ یہاں ”نُرِيَنَّكَ“ کا معنی آنکھوں سے دکھانا ہے، دل سے یا گمان اور خیال سے نہیں۔ شرط میں مذکور ”نُرِيَنَّكَ“ اور ”نَتَوَفَّيَنَّكَ“ دونوں کا جواب محذوف ہے، یعنی ضروری نہیں کہ دنیا میں انھیں دی جانے والی سزا ہم آپ کی زندگی ہی میں آپ کو دکھا کردیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ان کی سزا کا وقت آئے، اگر ہم آپ کو آنکھوں سے ان کی کچھ دنیوی سزا دکھا دیں تو یہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے سینوں اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہوگا اور اگر پہلے فوت کرلیں تب بھی آپ فکر نہ کریں، کیونکہ آپ کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔ رہا ان کے اعمال پر محاسبہ اور مؤاخذہ تو وہ ہمارے ذمے ہے۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ کچھ وعدے تو آپ کی زندگی میں پورے ہوں گے اور کچھ آپ کی وفات کے بعد۔ باغبان پودے لگاتا ہے، کچھ اس کی زندگی میں پھل دے دیتے ہیں اور کچھ کئی سالوں کے بعد آنے والی نسل کو پھل دیتے ہیں، لہٰذا آپ کو اس کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہیے اور انھیں بےفکر اور غافل نہیں رہنا چاہیے۔