11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے ہود ! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سے ہرگز چھوڑنے والے نہیں اور نہ کسی طرح تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔

یہاں تک ہود ؑ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور اس مختصر سی تقریر میں تین دفعہ انھیں ”اے میری قوم“ کہہ کر پکارا، تاکہ شاید قرابت کے واسطے ہی سے ان کے دلوں تک رسائی حاصل کرسکیں۔ کیونکہ ہود ؑ اسی قبیلے کے فرد ہو کر انھی کی بدخواہی نہیں کرسکتے تھے۔ قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ۔۔ : یہ بات یقینی ہے کہ ہر پیغمبر اللہ کی طرف سے ایسے واضح دلائل اور یقینی آیات اور نشانیاں لے کر آتا ہے کہ سننے اور دیکھنے والوں کو اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا، مگر یہ سب کچھ انھی کے لیے کار آمد ہوتا ہے جو دل کے کانوں اور آنکھوں سے سنتے اور دیکھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص یا قوم ضد اور عناد کی وجہ سے یہ طے کرلے کہ ہم نے ماننا ہی نہیں تو انھیں لاکھ دلیل سامنے ہونے کے باوجود ایک بھی نظر نہیں آتی اور ان کی حالت وہ ہوجاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ (6، 7) میں بیان فرمائی ہے۔
Ayahs 11:54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔ اس نے کہا میں تو اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ بیشک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

اس کے سوا۔ سو تم سب میرے خلاف تدبیر کرلو، پھر مجھے مہلت نہ دو۔

یہاں چار جملوں میں ہود ؑ کی قوم نے سخت ترین لفظوں میں انھیں جھٹلا کر ان پر ایمان لانے سے صاف انکار کردیا۔ پہلے جملے میں ان پر نبوت کی ایک بھی دلیل پیش نہ کرنے کا بہتان لگایا۔ دوسرے اور تیسرے جملے میں ”مَا“ نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ کرکے کچھ بھی ہوجائے اپنے معبودوں کو چھوڑنے اور ہود ؑ پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ : یہ چوتھی بات ہے جو انھوں نے ہود ؑ کو جھٹلانے کے ساتھ مزید توہین اور مذاق کے لیے کہی۔ ”عَرَا یَعْرُوْ“ اور ”اِعْتَرٰی یَعْتَرِیْ“ پیش آنا، پہنچنا، باء کے ساتھ متعدی ہو کر پہنچانا کے معنی میں ہوگیا، یعنی ہمارے کسی ایک آدھ معبود نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے، اگر سب کی مار پڑجاتی تو معلوم نہیں تیرا کیا بنتا۔ افسوس ! یہی کسی بزرگ کی مار کا تصور آج مسلمانوں میں بھی آگیا ہے، حالانکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی زندہ یا مردہ ہستی کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکتی ہے نہ بنا سکتی ہے۔ قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ۔۔ : یعنی میرا تمہارے ان بتوں سے اور اللہ کے سوا کسی معبود سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ میں ہر آن ان کا انکار اور ان سے اظہار براءت کرتا ہوں۔ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ : یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ تم پر ہمارے کسی معبود کی مار پڑگئی ہے تو ایک آدھ کے بجائے اگر تم اور تمہارے یہ سب معبود مل کر بھی میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو بگاڑ لیں اور مجھے ذرا مہلت نہ دیں، ورنہ جان لو کہ تم بھی جھوٹے اور تمہارے یہ معبود بھی غلط۔ ہود ؑ کا یہ کلام ان کی قوم کی دوسری فضول باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی جواب ہے کہ تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل، یعنی معجزہ نہیں لایا۔ معجزہ اور نشانی کیا چیز ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر معجزہ کی روح وہ چیلنج ہوتا ہے جو صاحب معجزہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ مثلاً صالح ؑ کی اونٹنی، ابراہیم ؑ کا معجزہ ان کے لیے آگ کا گلزار بن جانا، مگر یہ معجزہ بھی کیا کم ہے کہ اکیلا شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے کہ میں تم سب کو اور تمہارے خداؤں کو کچھ نہیں سمجھتا۔ تم سب مل کر میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو اور اس قوم کو للکار رہا ہے جو نہایت سخت گیر اور رحم سے نا آشنا تھے، جن کے بارے میں آتا ہے : (وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ) [ الشعراء : 130] ”اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بےرحم ہو کر پکڑتے ہو۔“ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اتنی قوت والے تھے کہ ان کے بعد ویسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا : (۽الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ) [ الفجر : 8 ] ”وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔“ جب طوفان سے ہلاک ہوئے تو : (كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ) [ الحاقۃ : 7 ] ”گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے تھے۔“ صرف ایک شخص پوری قوم کو للکار رہا ہے، جو اس کے خون کی پیاسی ہے، جس کے معبودوں کو اور پوری قوم کو اس نے جاہل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرسکتے ہو کرلو اور پوری قوم باتیں تو بناتی ہے، مگر اس کا کچھ بگاڑ نہ سکی، یہ کھلا معجزہ نہیں تو کیا ہے ؟
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

بیشک میں نے اللہ پر بھروسا کیا، جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔ کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر وہ اس کی پیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔

اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللّٰهِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ : یہ جرأت ہود ؑ میں کیسے پیدا ہوئی ؟ وہ خود فرماتے ہیں کہ میرا بھروسا اللہ پر ہے، جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔ مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا : ”نَاصِیَۃٌ“ پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں، اگر کسی کو یہاں سے اچھی طرح پکڑ لیا جائے تو وہ ہل نہیں سکتا، بلکہ پوری طرح پکڑنے والے کی گرفت میں ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِ) [ العلق : 15 ] ”تو ہم ضرور اسے پیشانی کے بالوں کے ساتھ گھسیٹیں گے۔“ مجرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنی علامت کے ساتھ پہچانے جائیں گے : (فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ) [ الرحمٰن : 41 ] ”پھر (ان کو) پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا۔“ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرعی عقیدے اور شرعی احکام میں تمہیں اختیار دیا ہے کہ مانو گے تو انعام پاؤ گے، نہ مانو گے تو مارے جاؤ گے۔ اس پر تم اکڑ گئے اور اپنے آپ کو ہر طرح مرضی کا مالک سمجھ لیا۔ سب سے پہلے تو شرعی احکام پر عمل میں اختیار دینے والے مالک کی غداری کرکے اس کی مخلوق کو اس کے شریک بنا بیٹھے، پھر اس کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی، اس کے رسول کو جھٹلایا۔ یہ نہ سوچا کہ تھوڑا سا اختیار رکھنے کے باوجود صرف تم ہی نہیں بلکہ پوری مخلوق مکمل طور پر اس کی گرفت میں ہے اور اس کی پیشانی کے بال اس نے پکڑ رکھے ہیں، وہ اس کی مرضی کے بغیر ہل بھی نہیں سکتے۔ اب تم جس طرح شرعی احکام میں اپنا اختیار غلط استعمال کرتے ہوئے اکڑ کر کہتے ہو، ہم اللہ کو نہیں مانتے، ہمارا داتا فلاں اور دستگیر فلاں ہے، ہم رسول کو نہیں مانتے، ہمارا سائیں مرشد فلاں ہے، اگر واقعی تم ایسے ہی آزاد ہو تو ان احکام پر بھی اکڑ کر دکھاؤ جن میں وہ ”کُنْ“ کہتا ہے تو وہ فوراً واقع ہوجاتے ہیں۔ جب بیمار ہوتے ہو تو یہ کہہ کر دکھاؤ کہ کوئی ہمیں بیمار نہیں کرسکتا، کوئی ہمیں بوڑھا نہیں کرسکتا، کوئی ہمارے بال سفید نہیں کرسکتا۔ اگر تم اور تمہارے خدا ایسے ہی زبردست ہیں تو اللہ کے حکم سے دل کی حرکت رکنے پر اسے چالو کر کے دکھاؤ۔ اسی طرح موت کے وقت بھی اکڑ جاؤ کہ جاؤ ہم نہیں مرتے۔ یا تمہارے شریک کہیں ہم اپنے بندے کو مرنے نہیں دیں گے۔ معلوم ہوا کہ تم اس تھوڑے سے اختیار کے باوجود مکمل طور پر میرے رب کے مکمل قبضے میں ہو، پھر جب خود اس نے مجھے بھیجا ہے اور وہ میرا پشت پناہ ہے اور اسی پر میرا بھروسا ہے، تو مجھے تمہارا کیا ڈر ہے، جاؤ جو مرضی کرلو۔ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ ”جو سیدھی راہ پر چلے وہ اس سے ملے۔“ (موضح) سورة نحل میں فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ) [ النحل : 9 ] ”اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر (جا پہنچتا ہے) اور ان میں سے کچھ (راستے) ٹیڑھے ہیں۔“ دوسرا یہ کہ اگرچہ ہر جاندار پر اس کا قبضہ ہے اور وہ اس کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کرسکتا ہے، مگر وہ صراط مستقیم پر ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (ابن کثیر)
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم پھر جاؤ تو بلاشبہ میں تمہیں وہ پیغام پہنچا چکا جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ اور میرا رب تمہارے سوا کسی اور قوم کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے۔ بیشک میرا رب ہر چیز پر اچھی طرح نگہبان ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِهٖٓ اِلَيْكُمْ۔۔ : ”تَوَلَّوْا“ اصل میں ”تَتَوَلَّوْا“ تھا، لغت عرب میں کسی فعل کے شروع میں اگر دو ”تاء“ ہوں تو عموماً ایک کو حذف کردیتے ہیں۔ یعنی رسولوں کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھ تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچا، اس لیے میں معذور ہوں، اب اگر تم نہ مانو تو بیشک نہ مانو، مگر میرا فریضہ پورا ہوگیا اور تمہارا عذر ختم ہوگیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ کہ ”وہ پیغام پہنچائے بغیر عذاب نہیں دیتا“ تمہارے لیے بہانہ نہیں بن سکتا۔ تمہارے نہ ماننے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ تمہیں ختم کرکے تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرسکو گے۔ آگے اس کی مرضی ہے کہ تمہاری جگہ اچھے لوگ لائے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ) [ محمد : 38 ] ”اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ تمہارے سوا اور لوگ لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“ اور یہ بھی اس کی مرضی ہے کہ چاہے تو مزید برے لوگ لے آئے، جیسا کہ بنی اسرائیل نے جب ارض مقدس میں فساد شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں سزا دینے کے لیے ان سے بھی برے بندے ان پر مسلط کردیے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (5 تا 7)۔ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ: یعنی جس طرح بعض جاہل فلسفی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو پیدا کیا اور اس کے قوانین بنا دیے، اب وہ ان قوانین کے مطابق خود بخود چل رہی ہے، یہ بات بالکل غلط ہے۔ میرے رب نے کائنات کو پیدا کیا، پھر ”رب“ کا معنی ہی یہ ہے کہ تربیت اور پرورش بھی وہی کر رہا ہے۔ پھر حفیظ بھی وہی ہے۔ ہر چیز اس کی نگرانی میں چل رہی ہے۔ اس سے ان مشرکوں اور جاہل صوفیوں کا بھی رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرکے اس کا انتظام قطبوں، غوثوں اور اس قسم کے خود ساختہ ناموں والے ولیوں اور بزرگوں کے حوالے کردیا ہے، جو اس کو چلا رہے ہیں اور اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اب فارغ ہے، اختیار اس نے اپنے پیاروں کو دے دیے ہیں۔ اللہ اکبر ! پہلی امتوں کے مشرکوں اور ہماری امت کے مشرکوں میں کس قدر مشابہت اور یک رنگی پائی جاتی ہے۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ نجات دی اور انھیں ایک بہت سخت عذاب سے بچالیا۔

وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُوْدًا۔۔ : ہمارے حکم سے مراد عذاب کا حکم ہے، اس کی تفصیل سورة احقاف، سورة حاقہ، سورة قمر اور دوسری سورتوں میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر شدید ہوا کی تیز و تند اور سرکش آندھی بھیجی، جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلی اور اس نے کفار میں سے ایک بھی متنفس کو باقی نہ چھوڑا۔ دیکھیے سورة حاقہ (6 تا 8) یہ تو دنیا کا عذاب تھا، آخرت میں ان کے لیے اس سے بھی سخت عذاب ”عَذَابٍ غَلِيْظٍ“ تیار ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہود ؑ اور ان کے ہمراہ ایمان لانے والوں کو ان دونوں عذابوں سے بچا لیا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خوف ناک آندھی جب چلتی ہے تو وہ مومن و کافر ہر ایک پر گزرتی ہے تو ہود ؑ اور ان کے ساتھی کس طرح بچ گئے ؟ اسی طرح ثمود پر آنے والی صیحہ (چیخ) سے کافروں کے کان اور دل تو پھٹ گئے مگر صالح ؑ اور ایمان والوں کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ ہم نے انھیں اپنی عظیم رحمت کے ساتھ بچا لیا۔ ”رَحْمَةٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، پھر جو رحمت اللہ کی طرف سے ہو اس کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہے۔ وہ آندھی اور چیخ اللہ کے امر سے کفار پر آئی تھیں، ان کے ساتھ رہنے والے مسلمانوں پر اثر انداز ہونے کا انھیں حکم ہی نہ تھا۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کے دامن میں محفوظ تھے۔ ابابیل پرندوں کی کنکریوں سے ابرہہ اور اس کا لشکر کھائے ہوئے بھس کی طرح ہوگیا، مگر مکہ والوں کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ دراصل یہ حکم اس قادر مطلق کا تھا، اگر کسی دنیا والے کا ہوتا تو کافر و مومن دونوں پس جاتے، متنبی نے کہا ہے ؂ تُسَوِّدُ الشَّمْسُ مِنَّا بِیْضَ اَوْجُھِنَا وَمَا تُسَوِّدُ بِیْضَ الْعَیْنِ وَاللِّمَمٖ وَکَانَ حَالُھُمَا فِی الْحُکْمِ وَاحِدَۃً لَوِ احْتَکَمْنَا مِنَ الدُّنْیَا إِلٰی حَکَمٖ ”دھوپ ہمارے چہروں کی سفیدی کو سیاہ کردیتی ہے، جب کہ آنکھ کی سفیدی اور بالوں کی سفیدی کو سیاہ نہیں کرتی۔ حالانکہ اگر ہم دنیا کے کسی منصف کے پاس جائیں تو فیصلے میں دونوں کا حال ایک ہی ہے۔“ بیماری کے بعد شفا بھی رحمت ہے مگر بیماری آنے ہی نہ دینا یہ اس سے بھی عظیم رحمت ہے۔
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ عاد تھے جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر زبردست جابر، سخت عناد والے کے حکم کی پیروی کی۔

وَتِلْكَ عَادٌ : اور یہ تھے عاد، اس سے مراد ان کے علاقے بھی ہوسکتے ہیں اور وہ قوم بھی جن کا واقعہ بیان ہوا۔ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ :”جَحَدُوْا“ کا معنی ہے دلیل سے ثابت شدہ بات کا انکار کردینا۔ آیات سے مراد کائنات میں رب تعالیٰ کی توحید کی بیشمار نشانیاں، ہود ؑ پر نازل ہونے والی آیات اور ان کا تنہا پوری قوم کے سامنے بےخوف ہو کر ڈٹ جانا وغیرہ ہیں۔ غرض اس بدنصیب قوم نے واضح نشانات، معجزات اور آیات سمجھ میں آجانے کے باوجود انھیں ماننے سے صاف انکار کردیا۔ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ : انھوں نے اگرچہ ہود ؑ ہی کی نافرمانی کی، لیکن چونکہ ایک پیغمبر کی نافرمانی تمام پیغمبروں کی نافرمانی ہے، اس لیے فرمایا : ”انھوں نے اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔“ (شوکانی) وَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ : ”عَنِيْدٍ“ سخت عناد والا، ہر وہ شخص جو حق قبول نہ کرے اور اس کے ساتھ شدت کے ساتھ اس کی مخالفت بھی کرے، مراد قوم کے سردار ہیں۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور ان کے پیچھے اس دنیا میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ سن لو ! بیشک عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو ! عاد کے لیے ہلاکت ہے، جو ہود کی قوم تھی۔

وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : لعنت کا معنی ناراض ہو کر دفع دور کردینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں عذاب اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم کردینا ہے اور انسان کی طرف سے لعنت کا مطلب اس کے لیے یہ بددعا کرنا ہے۔ (راغب) یعنی دنیا میں آنے والا ہر پیغمبر اور مومن ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کرتا رہے گا اور آخرت میں وہ سب کے سامنے رسوا اور مبتلائے عذاب ہوں گے۔ اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ۔۔ : ”اَلَآ“ کے ساتھ خبردار اس لیے کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ ان بےچاروں پر زیادتی ہوئی۔ فرمایا، سن لو ! یہ لوگ تمام جرائم سے بڑے جرم رب تعالیٰ کے کفر کے مرتکب تھے۔ پھر دوبارہ فرمایا، سن لو ! عاد کے لیے ہر قسم کی خیر اور اللہ کی رحمت سے دوری ہے، جو ہود ؑ کی قوم تھے۔ یاد رہے کہ ”کَفَرَ“ کے بعد عام طور پر باء آتی ہے، مثلاً ”کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ“ جس کا مطلب رب کی نعمتوں کی ناشکری اور انکار ہوتا ہے۔ باء کے بغیر ”كَفَرُوْا رَبَّهُمْ“ کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے سرے ہی سے اپنے رب کا انکار کردیا، جیسے دہریے رب تعالیٰ کو نہیں مانتے۔ ”كَفَرُوْا رَبَّهُمْ“ ”کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ“ سے بھی بڑا جرم ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق ”كَفَرُوْا رَبَّهُمْ“ میں یہ بھی ممکن ہے کہ ”کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ“ میں سے تخفیف کے لیے باء حذف کردی گئی ہو اور دونوں کا معنی ایک ہی ہو۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) ، اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس میں آباد کیا، سو اس سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، یقینا میرا رب قریب ہے، قبول کرنے والا ہے۔

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا : قوم ثمود مقام حجر (حاء کے کسرہ کے ساتھ) میں رہتے تھے۔ یہ جگہ حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ تک پھیلی ہوئی ہے۔ آج کل یہ علاقہ مدینہ اور تبوک کے درمیان ہے، جہاں ابھی تک ان لوگوں کے پہاڑوں کے اندر تراش کر بنائے ہوئے مکانات، جن میں وہ رہتے تھے، موجود ہیں اور یہ علاقہ مدائن صالح کہلاتا ہے۔ صالح ؑ کا قبیلہ عرب قبیلہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ تبوک (شام) کی طرف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (وادی) حجر میں تھے تو فرمایا : (لاَ تَدْخُلُوْا عَلٰی ھٰؤُلاَءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِیْنَ أَصْحَابِ الْحِجْرِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ ، فَإِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ فَلاَ تَدْخُلُوْا عَلَیْہِمْ أَنْ یُّصِیْبَکُمْ مَا أَصَابَھُمْ) ”ان عذاب دیے ہوئے لوگوں یعنی اصحاب حجر پر مت داخل ہو، مگر ایسی حالت میں کہ تم رونے والے ہو، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو ان پر داخل نہ ہونا، کہیں تمہیں بھی اس جیسا عذاب نہ آپہنچے جو ان کو پہنچا تھا۔“ [ مسند أحمد : 2؍58، ح : 5224، و صححہ شعیب الأرنؤوط و الألبانی ] قوم ثمود کا قصہ سورة اعراف، شعراء، نحل اور قمر وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔ ”اَخَاهُمْ صٰلِحًا“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی قبیلے کے فرد تھے، اس لیے ان کے خیر خواہ، ان کے مزاجوں کو سمجھنے والے اور ان میں مدت تک رہنے والے تھے۔ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ : ان کی دعوت بھی وہی دعوت توحید تھی جو تمام انبیاء کی دعوت تھی۔ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۔۔ : ”اِنْشَاءٌ“ کا معنی نئی چیز بنانا ہے۔ ”ِاسْتَعْمَرَكُمْ“ ”عَمَرَ یَعْمُرُ“ کسی جگہ کو آباد کرنا، سورة روم میں فرمایا : (وَعَمَرُوْهَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا) [ الروم : 9 ] ”اور انھوں نے اسے آباد کیا اس سے زیادہ جو انھوں نے اسے آباد کیا۔“ ”أَعْمَرَ یُعْمِرُ“ باب افعال کسی شخص کو کسی جگہ میں آباد کرنا۔ ”اِسْتَعْمَرَ“ میں حروف زائد ہیں، یعنی کسی کو کسی جگہ میں خوب آباد کرنا۔ صالح ؑ ان الفاظ کے ساتھ انھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور صرف اسی کے معبود برحق ہونے کی دلیل دے رہے ہیں کہ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، زمین کو بھی اسی نے بنایا، تمہاری ضرورت کی ہر چیز زمین سے اسی نے پیدا کی، اپنی زمین پر اس نے تمہیں خوب آباد کیا، پہاڑوں کو تراشنے کی صلاحیت اور عقل عطا فرمائی، نہایت ترقی یافتہ زراعت اور اس کے اسباب، زرخیز زمین اور چشمے عطا فرمائے۔ دیکھیے سورة شعراء (141 تا 150) اب تک اس کی جو ناشکری اور اس کے ساتھ شرک کرچکے ہو اس کی معافی مانگ کر اس پر ایمان لے آؤ اور آئندہ کے لیے اس کے ساتھ کفر و شرک سے توبہ کرو۔ ساتھ ہی ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھلا ہونے کی امید دلانے کے لیے رب تعالیٰ کی دو صفات بیان کیں کہ وہ ”قریب“ بھی ہے اور ”مجیب“ بھی۔ کوئی اسے پکارے تو اسے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ آہستہ پکارے یا بلند آواز سے، اکیلا پکارے یا مجلس میں، میرا رب قریب بھی ہے اور قبول کرنے والا بھی۔ جب اس کے سوا یہ اوصاف کسی میں بھی نہیں تو کسی اور کی عبادت کیوں ؟
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے صالح ! یقینا تو ہم میں وہ تھا جس پر اس سے پہلے امیدیں رکھی گئی تھیں، کیا تو ہمیں منع کرتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں اور بیشک ہم اس بات کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں دعوت دیتا ہے، یقینا ایک بےچین رکھنے والے شک میں ہیں۔

قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ۔۔ : یعنی ہم تو تمہاری ذہانت اور عقل مندی سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کیے بیٹھے تھے۔ کیوں نہ کرتے، نبی نبوت ملنے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی زیر نگرانی نہایت امین، صادق، عفیف، باوقار، حلیم اور تمام اوصاف حسنہ سے متصف ہوتا ہے۔ مگر جوں ہی اس شخص نے جس کے اوصاف حسنہ سب کے نزدیک مانے ہوئے تھے، ان کی خواہش نفس اور جاہلی عقائد و رواج کے خلاف بات کی تو ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا اور وہی دانا شخص ان کے نزدیک عقل و فکر سے خالی ٹھہرا اور ان کے پاس کفر و شرک کے درست ہونے کی اور صالح ؑ سے امیدیں ٹوٹنے کی دلیل کیا تھی ؟ صرف یہ کہ ہمارے آبا و اجداد جن کی عبادت کرتے تھے، یہ ان کی عبادت سے منع کرتا ہے۔ تمام گمراہ اقوام کی دلیل یہی تقلید رہی ہے، کیونکہ یہ بلا نہ کسی کی بات سننے دیتی ہے، خواہ کتنی صحیح ہو اور نہ خود سوچنے سمجھنے کی طرف آنے دیتی ہے۔ دیکھیے سورة ملک (10)۔ وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ : ”شک“ ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ ”مُرِيْبٍ“ ”أَرَابَ یُرِیْبُ إِرَابَۃً“ (رَیْبٌ سے باب افعال) بےچین کردینا، بےقرار رکھنا۔ ”مُرِيْبٍ“ بےچین رکھنے والا۔ یہاں انھوں نے اپنی حقیقی حالت بیان کی ہے۔ صالح ؑ کی دلیل اور حجت پر مبنی دعوت نے ان کے دل و دماغ میں ہلچل مچا دی تھی اور اگرچہ انھوں نے اسے نہیں مانا مگر اس دعوت نے انھیں اپنے بارے میں ایک بےچین رکھنے والے شک میں مبتلا کردیا تھا۔ اگر تقلید آباء کی شامت نہ ہوتی تو وہ لوگ چند لمحوں میں ہر طرح کے شک اور بےچینی سے نکل کر ایمان و یقین کی ٹھنڈک اور اطمینان سے سرفراز ہوچکے ہوتے۔ مگر دیکھیے کتنی بڑی حماقت تھی کہ شرک پر نہ تو مطمئن تھے اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہی تھی، مگر پھر بھی آبائی تقلید کی وجہ سے شرک کو چھوڑ کر توحید کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھے۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم ! کیا تم نے دیکھا اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی جناب سے عظیم رحمت عطا کی ہو تو کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں میری مدد کرے گا، اگر میں اس کی نافرمانی کروں، پھر خسارہ پہنچانے کے سوا تم مجھے کیا زیادہ دو گے ؟

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ۔۔ : اس کی تفسیر ان آیات سے پہلے ہود ؑ کے قصے میں دیکھیے۔ ”مِنْهُ رَحْمَةً“ سے مراد نبوت ہے۔ اِنْ عَصَيْتُهٗ : یعنی اگر میں تم تک اس کا پیغام پہنچانے میں کوتاہی کروں تو اس کی گرفت سے مجھے کون چھڑائے گا ؟ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ : یعنی اگر میں توحید کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرلوں تو یہی نہیں کہ تم مجھے اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکو گے، بلکہ تمہاری وجہ سے میرا جرم اور بھی بڑھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس بات پر مجھے دوہری سزا دے گا کہ میں نے تمہارے کہنے پر جان بوجھ کر شرک کا راستہ اختیار کیا۔ ”خَسِرَ یَخْسَرُ خُسْرَانًا“ (ع) خسارہ اٹھانا اور ”خَسَّرَ یُخَسِّرُ تَخْسِیْرًا“ (تفعیل) خسارہ پہنچانا۔
Ayahs 11:64–65

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمہارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، ورنہ تمہیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

تو انھوں نے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں، تو اس نے کہا اپنے گھروں میں تین دن خوب فائدہ اٹھالو، یہ وعدہ ہے جس میں کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا۔

وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ : اس اونٹنی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عظمت کے بیان کے لیے ہے، ورنہ ہر اونٹنی اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ قرآن مجید میں اس کے اوصاف یہ آئے ہیں کہ قوم ثمود کے معجزہ طلب کرنے پر صالح ؑ کو یہ اونٹنی ملی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ان کے کنویں کا پانی پینے کی باری مقرر کی گئی کہ ایک دن صرف وہ پیے گی اور ایک دن دوسرے تمام لوگوں کے جانور پانی پییں گے۔ اپنی باری کے دن لوگ جتنا پانی چاہیں نکال کر رکھ لیں، مگر اونٹنی کی باری کے دن صرف وہی پیے گی۔ دیکھیے سورة شعراء (154 تا 156) وہ جہاں چاہے چرے، کوئی شخص اسے اپنے کھیت سے یا کسی بھی جگہ سے چرنے سے نہیں روکے گا اور یہ کہ اگر کسی نے اسے کوئی نقصان پہنچایا تو انھیں قریب ہی عذاب عظیم آپکڑے گا۔ (آیت زیر تفسیر) یہاں ”عَذَابٌ قَرِيْبٌ“ ہے جبکہ سورة شعراء (156) میں ”عَذَابٌ یَوْمٍ عَظِیْمْ“ ہے۔ لَكُمْ اٰيَةً : اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اونٹنی ایک معجزہ تھی۔ ایک پورا دن اس کے پینے کے لیے باری مقرر کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ عام اونٹنی نہ تھی، مگر وہ کیسے وجود میں آئی ؟ قرآن و حدیث میں اس کا ذکر مجھے نہیں ملا۔ بہت سی تفاسیر کے مطالعے کے بعد کم ازکم میری تسلی تو شیخ عبد الرحمن بن ناصر بن سعدی ؓ کی تفسیر ”تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان“ کے کلام سے ہوئی، جو انھوں نے سورة اعراف میں قوم ثمود کی اونٹنی کے متعلق فرمایا ہے، چناچہ وہ لکھتے ہیں : ”جان لو کہ اکثر مفسرین یہ قصہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے نکلی، جس طرح کی اونٹنی نکالنے کا انھوں نے صالح ؑ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حاملہ ہو اور وہ ان کی آنکھوں کے سامنے حاملہ اونٹنی کی صورت میں نکلی۔ اسے حاملہ اونٹنیوں کی طرح ولادت کا درد ہو رہا تھا۔ ساتھ ہی اس کا ایک بچہ بھی پیدا ہوا۔ جس وقت انھوں نے اونٹنی کو کاٹا تو وہ پہاڑ پر چڑھ گیا اور تین دفعہ اونٹ کی طرح بلبلایا، چناچہ پہاڑ پھٹا اور وہ اس میں غائب ہوگیا اور یہ کہ صالح ؑ نے ان سے کہا کہ تمہیں جو تین دن ملے ہیں ان میں سے پہلے دن تمہارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوجائیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ انھوں نے فرمایا تھا۔“ شیخ سعدی ؓ فرماتے ہیں : ”یہ تمام باتیں اسرائیلیات سے ہیں، جنھیں اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں اور قرآن مجید میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ان باتوں میں سے کسی ایک پر کسی طرح دلالت کرتی ہو، بلکہ اگر یہ باتیں صحیح ہوتیں تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور ذکر فرماتا، کیونکہ ان میں ایسی عجیب باتیں، عبرتیں اور نشانیاں ہیں جن کا ذکر ساتھ ہی ہونا تھا۔ اب اگر یہ ایسے لوگوں کی طرف سے آئیں جن پر اعتماد ہو ہی نہیں سکتا تو کیسے قبول ہوسکتی ہیں ؟ بلکہ ان میں سے بعض تو قرآن مجید کی تصریحات ہی سے درست معلوم نہیں ہوتی ہیں، مثلاً صالح ؑ نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنے پر ان سے فرمایا : (تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ) تمتع خوب فائدہ اور لذت اٹھانے کو کہتے ہیں۔ وہ لوگ صالح ؑ کو اور عذاب آنے کو جھٹلا رہے تھے بلکہ بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کر رہے تھے، اگر ان کے چہرے ہی زرد، سرخ اور سیاہ ہوگئے ہوں تو انھیں تین دن خوب فائدہ اور لذت اٹھانے کی مہلت کیا خاک ملی۔ یہ قرآن کے صاف خلاف نہیں تو کیا ہے ؟ ہدایت کے لیے تو قرآن کافی ہے، ہاں، اگر کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو، تو وہ کتاب اللہ سے نہیں ٹکرائے گی، وہ سر آنکھوں پر اور اسے ماننے کا قرآن نے حکم دیا ہے : (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا) [ الحشر : 7 ] ”اور رسول تمہیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمہیں روک دے تو رک جاؤ۔“ اور پہلے گزر چکا ہے کہ قرآن کی تفسیر اسرائیلیات سے جائز نہیں، خواہ ان سے وہ بات نقل کرنا جائز بھی ہو، جس کا جھوٹا ہونا یقینی نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ کی کتاب کے معانی یقینی ہیں، ان کی تفسیر ایسی باتوں سے کرنا جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ تُصَدِّقُوْا أَھْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْھُمْ) [ بخاری، التفسیر، باب : (قولوا ٰامنا باللہ۔۔): 4485] ”نہ انھیں سچا سمجھا جائے نہ جھوٹا۔“ ایسا کام ہے جس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔“ تمتع کے بارے میں ایک شعر ملاحظہ فرمائیے ؂ تَمَتَّعْ مِنْ شَمِیْمِ عَرَارِ نَجْدٍ فَمَا بَعْدَ الْعَشِیَّۃِ مِنْ عَرَارِ ”نجد کی ”عرار“ نامی بوٹی کی خوشبو سے خوب فائدہ اٹھا لو، کیونکہ آج سہ پہر کے بعد پھر ”عرار“ نہیں ملے گی۔“ (کیونکہ شاعر وہاں سے کوچ کر رہا تھا)
Ayahs 11:66–68

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ بیشک تیرا رب ہی بےحد قوت والا، سب پر غالب ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔ سن لو ! بیشک ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو ! ثمود کے لیے ہلاکت ہے۔

ان آیات کی تفسیر سورة اعراف کی آیات (77 تا 79) میں اور سورة ہود کے اس سے پچھلے رکوع کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ”کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا“ ”غَنِیَ یَغْنٰی“ (ع) ”فِیْ مَکَانٍ کَذَا“ جب کوئی شخص لمبی مدت کسی جگہ میں یوں رہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی جگہ سے غنی ہو۔”مَغْنَی“ مصدر بھی ہے، مکان بھی، یعنی رہنا اور رہنے کی جگہ۔ (مفردات راغب)
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر آئے، انھوں نے سلام کہا، اس نے کہا سلام ہو، پھر دیر نہیں کی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔

وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بالْبُشْرٰي : ”رُسُلُنَآ“ ہمارے بھیجے ہوئے سے مراد فرشتے ہیں جو انسانی شکل میں ابراہیم ؑ کے پاس بیٹے اور پوتے اسحاق اور یعقوب کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ ان کی تعداد بعض نے تین بیان کی، جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل، بعض نے نو (9) اور بعض نے تیرہ (13) ، مگر قرآن و سنت سے ان کی تعداد کا ذکر ہمیں نہیں ملا۔ سورة حجر (49، 50) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے غفور و رحیم ہونے اور اپنے عذاب کے عذاب الیم ہونے کی خبر دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد ابراہیم اور لوط ؑ کے یہ واقعات ذکر فرمائے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کی ایک ہی جماعت ایک کے لیے خوش خبری اور دوسری قوم کے لیے عذاب لے کر آئی تھی۔ چناچہ ان کے آنے سے اللہ تعالیٰ کی دونوں صفات کا اظہار ہوا تھا۔ یہاں ان فرشتوں کے آنے کو ابراہیم ؑ کے لیے خوش خبری لانے والے فرمایا ہے، کیونکہ اگر ابراہیم ؑ کے لیے بیٹے اور پوتے کی خبر خوش خبری ہے تو لوط ؑ کی ملعون قوم کی بربادی کی خبر بھی ابراہیم اور لوط ؑ دونوں کے لیے خوش خبری ہے، البتہ قوم لوط کے لیے بری خبر ہے۔ قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ : پہلا ”سَلٰمًا“ منصوب ہے، یہ جملہ فعلیہ ہے : ”نُسَلِّمُ سَلاَمًا“ ”ہم سلام کہتے ہیں۔“ دوسرا ”سَلٰمٌ“ مرفوع ہے، یعنی ”سَلَامٌ عَلَیْکُمْ“ ”تم پر سلام ہو۔“ معلوم ہوا کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کیا جس میں کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام کہنے کا حکم ہے۔ دیکھیے سورة نور (27) بلکہ ابن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا ہے : (اَلسَّلَامُ قَبْلَ السُّؤَالِ فَمَنْ بَدَأَکُمْ بالسُّؤَالِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِیْبُوْہٗ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 1؍458، ح : 816 ] ”سلام سوال سے پہلے ہے، جو تم سے سلام سے پہلے سوال کرے، اسے جواب مت دو۔“ اور ایک روایت میں فرمایا : (مَنْ بَدَأَ بالْکَلَامِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِیْبُوْہٗ) [ صحیح الجامع : 6122 ] ”جو سلام سے پہلے بات کرے اسے جواب مت دو۔“ ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے بہتر جواب دیا جو سورة نساء (86) میں ہے، کیونکہ جملہ فعلیہ کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے جب کہ جملہ اسمیہ میں استمرار یعنی ہمیشگی پائی جاتی ہے، یعنی تم پر ہمیشہ سلامتی ہو۔ ”سَلٰمًا“ کے جواب میں ”َسلٰمٌ‘ بہتر جواب ہے۔ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ : اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ فرشتے انسانی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ حدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ معروف حدیث جبریل ؑ میں فرشتے کا ایک اعرابی کی شکل میں آنا بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [ بخاری : 4777۔ مسلم : 8] دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابراہیم ؑ اولو العزم پیغمبر ہو کر بھی مہمانوں کو پہچان نہ سکے، ورنہ وہ کھانے کا اہتمام نہ کرتے، کیونکہ فرشتے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ جب ابراہیم ؑ علم غیب نہیں رکھتے تھے تو پھر ان لوگوں کی کیا اوقات ہے جو نہ نبی ہیں اور نہ ان کے اصلی حالات اللہ کے سوا کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کیا حیثیت ہے ؟ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابراہیم ؑ بیحد مہمان نواز تھے۔ یہ وصف ہر نبی خصوصاً ابراہیم ؑ اور ہمارے نبی ﷺ میں بہت پایا جاتا تھا۔ ہماری ماں خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کی پہلی وحی کے موقع پر آپ کے اوصاف میں اس وصف کا خصوصی ذکر فرمایا : (وَتَقْرِی الضَّیْفَ) [ بخاری : 3 ] ”آپ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔“ آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کا یہ حال تھا کہ نافع ؓ بیان کرتے ہیں : (کَانَ ابْنُ عُمْرَ لَا یَأْکُلُ حَتَّی یُؤْتٰی بِمِسْکِیْنٍ یَأْکُلُ مَعَہٗ) ”عبد اللہ بن عمر ؓ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مسکین ان کے ساتھ کھانے کے لیے نہ لایا جاتا۔“ [ بخاری، الأطعمۃ، باب المؤمن یأکل في معی واحد : 5393 ] پھر نبی کریم ﷺ اور ان کے والد ماجد ابراہیم ؑ کی فیاضی کا کیا حال ہوگا۔ چوتھی بات یہ معلوم ہوئی کہ مہمان نوازی میں دیر نہیں کرنی چاہیے، نہ ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ سورة ذاریات میں ہے کہ ابراہیم ؑ چپکے سے گھر گئے اور کھانا لے آئے۔ وقت کی مناسبت سے جو حاضر ہو پیش کردیا جائے، مہمان کی خواہش ہے تو کھالے، ورنہ اس کی مرضی۔ پانچویں یہ کہ ابراہیم ؑ پر دنیوی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کا فضل تھا، ورنہ بھنا ہوا بچھڑا تھوڑی دیر میں لا کر پیش کردینا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ چھٹی یہ کہ وہ احادیث جن میں گائے کے گوشت کو بیماری کہا گیا ہے، بظاہر اچھی سند کی بھی ہوں تو شاذ ہیں، کیونکہ قرآن میں گائے کے گوشت کو بطور انعام ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی قربانی اور مختلف موقعوں پر ذبح کرنا قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اس کا رسول ﷺ بیماری والی چیز کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں ؟ ساتویں یہ کہ ابراہیم ؑ ، ہمارے نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء بشر تھے اور کھانا کھاتے تھے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ یا اس کا کوئی جزو تھے اور نہ فرشتے، بلکہ وہ انسان تھے، کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (دیکھیے فرقان : 20) اور ان کی بیویاں تھیں اور اولادیں بھی۔ (دیکھیے رعد : 38) جب کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے ان سب سے پاک ہیں۔ آٹھویں یہ کہ صوفیاء جو جان دار یا اس سے نکلنے والی چیزیں اپنے خود ساختہ وظیفوں اور چلّوں کے دوران میں یا ہمیشہ کے لیے کھانا ترک کردیتے ہیں وہ ملت ابراہیمی کے نہیں بلکہ ہندو مذہب کے پیروکار ہیں۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

تو جب ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس کی طرف نہیں پہنچتے تو انھیں اوپرا جانا اور ان سے ایک قسم کا خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا نہ ڈر ! بیشک ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ۔۔ : ابراہیم ؑ نے صرف کھانا پیش ہی نہیں کیا بلکہ انھیں کھانے کے لیے اصرار بھی کیا : (قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ) [ الذاریات : 27 ] ”فرمایا کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟“ پھر بھی جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو دل میں ایک قسم کا خوف محسوس کیا۔ ”خِيْفَةً“ کی تنوین کی وجہ سے ”ایک قسم کا خوف“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ خوف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے علاقے میں اگر کوئی اجنبی آتا اور وہ مہمانی میں پیش کیا ہوا کھانا قبول نہ کرتا تو اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ وہ کسی برے ارادے سے آیا ہے، یا یہ بھی ہوسکتا ہے اور شاید یہی زیادہ موقع کے مناسب ہے کہ ابراہیم ؑ اور ان کی بیوی نے ان کے کھانا تناول نہ کرنے کی وجہ سے ان کے فرشتے ہونے کو بھانپ لیا ہو اور وہ اس بنا پر ڈر گئے ہوں کہ یہ ان کی بستی پر عذاب کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ (شوکانی) فرشتوں نے ان کے خوف کو بھانپ لیا، بلکہ سورة حجر (52) میں ہے کہ ابراہیم ؑ نے صاف کہہ دیا : (اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ) ”ہم تو تم سے خوف زدہ ہیں۔“ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰي قَوْمِ لُوْطٍ : فرشتوں نے کہا، آپ مت ڈریں، ہمیں (آپ کی بستی پر نہیں بلکہ) لوط ؑ کی قوم پر عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس سے انبیائے کرام ؑ کے عالم الغیب ہونے کی اور ان کے کائنات پر اختیار رکھنے کی صاف نفی ہو رہی ہے۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور اس کی بیوی کھڑی تھی، سو ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ : ان کی بیوی سارہ[ مہمانوں کی خدمت کے لیے پردے کے پیچھے ساتھ ہی کھڑی تھی اور خوف زدہ تھی۔ جب اس نے یہ بات سنی تو ہنس پڑی، یا تو اس لیے کہ ہم انھیں ڈاکو سمجھے تھے یہ تو فرشتے نکلے، یا اس خوشی میں کہ ہم تو خوف زدہ تھے کہ اس طرح فرشتوں کی آمد خطرے سے خالی نہیں ہوتی (دیکھیے حجر : 8) مگر یہ تو ہم پر عذاب کے بجائے ہمارے عزیز پیغمبر لوط ؑ کی نافرمان قوم پر عذاب کی خوش خبری لے کر آئے ہیں اور دشمن کی ہلاکت کی خبر سے یقیناً خوشی ہوتی ہے۔ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ۔۔ : سارہ[ کے لیے ایک خوشی کی خبر وہ تھی جو اوپر گزری، جس پر وہ بےساختہ ہنس پڑیں۔ فرشتوں نے انھیں مزید دو خوش خبریاں دیں، ایک بیٹا عطا ہونے کی، پھر اس بیٹے سے پوتا یعقوب عطا ہونے کی اور ان کے ضمن میں یہ خوش خبری تھی کہ تم دونوں میاں بیوی ابھی اتنی عمر اور پاؤ گے کہ بیٹا ملے گا، وہ جوان ہوگا، پھر اس کی شادی ہوگی اور اسے یعقوب عطا ہوگا، گویا مسلسل چار خوش خبریاں۔ یہ چاروں خوش خبریاں فرشتوں نے دی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسے یہ خوش خبریاں دیں، کیونکہ فرشتوں کا کام تو صرف پہنچانا تھا، اصل خوش خبری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی جو کسی صورت غلط نہیں ہوسکتی۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا ہائے میری بربادی ! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینا یہ تو ایک عجیب چیز ہے۔

قَالَتْ يٰوَيْلَتٰٓى : امام طبری ؓ نے فرمایا کہ ”یَا وَیْلَتَا“ کا کلمہ عرب کسی چیز پر تعجب اور اسے انوکھا سمجھنے کے وقت بولتے ہیں، چناچہ تعجب کے وقت کہتے ہیں : ”وَیْلُ أُمِّہِ مَا أَرْجَلَہُ“ ”اس کی ماں ہلاک ہو، وہ کس قدر مرد ہے۔“ باقی الف کے متعلق طبری کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ الف ”ندبہ“ کا ہے اور تاء کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ”وَیْلٌ“ کے بعد والا الف ندبہ اتنا واضح اور لمبا نہیں ہوسکتا جتنا درمیان میں تاء کے اضافے سے ہوسکتا ہے۔ ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ۔۔ : پہلی خوش خبری کا رد عمل وہ ہنسی تھی جو سارہ[ کے چہرے پر نمودار ہوئی، اب ایک ایسی چیز کی خوش خبری ملی جو ساری زندگی کی آرزو کا خلاصہ تھی اور اس وقت ملی جب دنیاوی اسباب کے لحاظ سے اس کی امید ہی نہ تھی تو سارہ[ کی ہنسی حیرت اور دہشت میں بدل گئی۔ کہا کیا ایسا ہوگا کہ میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ جب کہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے، یقیناً یہ تو ایک عجیب چیز ہے۔ یہ خوش خبری فرشتوں نے ابراہیم ؑ کو بھی دی تھی، جیسا کہ سورة ذاریات میں ہے : (ۭ وَبَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ) [ الذاریات : 28 ] ”اور انھوں نے اسے (ابراہیم ؑ کو ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دی۔“ مگر یہاں خصوصاً ان کی بیوی کو خوش خبری دینے اور ان سے گفتگو کا ذکر کیا ہے، کیونکہ ابراہیم ؑ کے ہاں تو ہاجرہ[ سے اسماعیل پیدا ہوچکے تھے، لیکن سارہ[ ابھی تک بےاولاد تھیں۔ قدیم مفسرین اور اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ابراہیم ؑ کی عمر سو سال اور سارہ[ کی عمر نوے سال تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کی عمر کے تعین کا کوئی بااعتماد ذریعہ ہمارے پاس نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا بیان سارہ[ کا ”عَجُوْزٌ“ ہونا اور ان کے خاوند کا ”شَیْخاً“ ہونا ہی ”لَشَيْءٌ عَجِيْبٌ“ سمجھنے کے لیے کافی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کی عمر بھی بیان فرما دیتا۔ یہ آیت دلیل ہے کہ ذبیح اسماعیل ؑ تھے، کیونکہ اسحاق ؑ کی خوش خبری کے ساتھ ہی یعقوب پوتے کی خوش خبری بھی تھی، ان کے ذبح کے حکم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (قرطبی)
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے ؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو ! بیشک وہ بےحد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔

قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : یعنی وہ تو ماں باپ کے بغیر بھی پیدا کرسکتا ہے، پھر بوڑھی عورت کو بچہ عطا کرنا اسے کیا مشکل ہے۔ جب اللہ کے امر کے سامنے کوئی چیز ناممکن نہیں تو تعجب کیسا۔ پھر اس گھر میں شروع سے اللہ کی رحمت و برکت کے جو معجزے ظاہر ہوتے رہے ہیں، مثلاً آگ کا گلزار ہونا، اسماعیل ؑ کا ذبح سے محفوظ رہنا، مصر کے اس ظالم جبار سے سارہ[ کی عصمت کا محفوظ رہنا وغیرہ، ان کے بعد تو اللہ کے حکم سے کسی بھی ناممکن کام کے ہوجانے پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ :”اَهْلَ الْبَيْتِ“ سے پہلے حرف ندا ”یَا“ مقدر ہے، اس لیے یہ منصوب ہے، یعنی ”اے گھر والو !“ پہلے ”سَلٰماً“ کہا تھا، اب ”رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ“ کے ساتھ وہ مکمل ہوگیا، اس سے زائد الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ اس وقت فرشتوں کی مخاطب صرف اکیلی سارہ[ تھیں، ان کے لیے فرشتوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، ان میں سے دو الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں، ایک تو یہ کہ اکیلی عورت کو ”عَلَیْکُم“ جمع مذکر حاضر کے لفظ سے خطاب کیا ہے، حالانکہ وہ مؤنث تھیں۔ دوسرا انھیں ”اَهْلَ الْبَيْتِ“ کہہ کر خطاب کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ آدمی کے اہل بیت (گھر والے) اس کی بیوی ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ سلام اور رحمت و برکت کہتے وقت عورتوں کو بھی مذکر کے صیغے سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ یہ آیت فیصلہ کن ہے کہ سورة احزاب کی آیت : (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا) [ الأحزاب : 33 ] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو ! اور تمہیں پاک کر دے خوب پاک کرنا۔“ اس آیت میں اہل بیت کا ذکر کرتے ہوئے پہلے بھی اور بعد میں بھی نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کا ذکر ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی ”عَنْکُم“ اور ”اَهْلَ الْبَيْتِ“ اور ”یُطَھِّرَکُمْ“ تینوں میں رسول اللہ ﷺ کی بیویاں مراد ہیں۔ اس کی نفی کرنے والے ایک واضح اور ثابت شدہ حقیقت کی نفی کر رہے ہیں، جس کی وجہ نبی ﷺ کی محبوب ازواج مطہرات سے بغض و عناد کے سوا کچھ نہیں اور جو نبی ﷺ کے پیاروں سے بغض رکھے وہ نبی ﷺ کی محبت سے کیسے بہرہ ور ہوسکتا ہے۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی اور اس کے پاس خوش خبری آگئی تو وہ ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں جھگڑنے لگا۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِيْمَ الرَّوْعُ۔۔ : ابراہیم ؑ کی قوم لوط سے متعلق بحث فرشتوں سے ہوئی تھی، جیسا کہ سورة عنکبوت (32) میں صراحت ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ساتھ جھگڑا فرمایا، کیونکہ فرشتے تو جو کچھ کر رہے تھے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے کر رہے تھے۔”يُجَادِلُنَا“ مضارع کا صیغہ حکایت حال یعنی اس وقت کی منظر کشی کے لیے استعمال فرمایا ہے۔
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم تو نہایت بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔

اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ : اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بحث و تکرار کا برا نہ مانا، بلکہ نہایت پیار سے ان کا ذکر فرمایا۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اسے رہنے دے، بیشک حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا حکم آچکا اور یقینا یہ لوگ ! ان پر وہ عذاب آنے والا ہے جو ہٹایا جانے والا نہیں۔

يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۔۔ : یہ فرشتوں کی بات ہے جو بالآخر انھوں نے ابراہیم ؑ سے کہی کہ اب بحث و تکرار کا کچھ فائدہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آجانے کے بعد عذاب ٹلنے کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔

وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْۗءَ بِهِمْ۔۔ : یہاں سے لوط ؑ کا قصہ شروع ہوتا ہے جو کئی سورتوں میں مختلف انداز سے ذکر ہوا ہے، مثلاً سورة اعراف، حجر، شعراء، نمل، عنکبوت، صافات، ذاریات اور قمر۔ ان سورتوں میں بھی تفسیر دیکھ لیں۔ لوط ؑ ابراہیم ؑ کے آگ سے صحیح سلامت باہر نکل آنے پر ان پر ایمان لے آئے تھے اور انھوں نے ان کے ساتھ ہی شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت سے سرفراز فرمایا اور وادی اردن میں ”سدوم“ نامی بستی اور اس کے گرد و نواح کے لیے مبعوث فرمایا۔ یہ قوم شرک و کفر کے ساتھ ساتھ ایسے فعل بد کی مرتکب تھی جس کا ارتکاب ان سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ بدفعلی کے عادی تھے۔ اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا برائی کرنا اور ڈاکے مارنا ان کا عام رویہ تھا۔ دیکھیے سورة عنکبوت (29) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (80 تا 83) کی تفسیر۔ سِيْۗءَ بِهِمْ۔۔ : ”سَاءَہُ یَسُوْءُہُ“ سے ماضی مجہول ہے، غمگین کرنا، برا لگنا۔ یہاں ”سِيْۗءَ“ کا نائب فاعل لوط ؑ کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے اور فاعل محذوف ہے، گویا عبارت یوں ہے کہ ”سَاءَ ہُ مَجِیْءُھُمْ“ یعنی ان کے آنے نے اسے مغموم کردیا۔ فعل مجہول کا معنی ہوگا، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا۔ ”وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا“ ”ذَرْعٌ“ اور ”ذِرَاعٌ“ بازو یا جانور کی اگلی ٹانگوں کو کہتے ہیں، اونٹ یا کسی بھی جان دار پر اگر بوجھ نہ ہو تو وہ کھلا قدم اٹھاتا ہے اور اگر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ ہو تو وہ بڑی مشکل سے قدم اٹھاتا ہے اور وہ بھی بالکل تنگ سا، اس لیے ”ضَاقَ ذَرْعًا“ سے مراد دل تنگ ہونا لیا جاتا ہے۔ لوط ؑ کے ان کے آنے کی وجہ سے مغموم ہونے کی وجہ مہمان نوازی میں بخل نہ تھا، نبی سے بڑھ کر کون فراخ دل اور سخی ہوسکتا ہے، بلکہ انھیں اپنی قوم کی عادت بد کا علم تھا۔ ظاہر ہے فرشتے انسانی شکل میں آئے ہوں تو وہ کس قدر خوبصورت ہوں گے۔ لوط ؑ کو معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں، کیونکہ غیب تو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور لوط ؑ کو یہ بات بتائی نہیں گئی تھی، اس لیے ان کے دل پر جو گزری، اللہ تعالیٰ نے اس کا کمال نقشہ کھینچا ہے۔ پہلے غم ہوا، پھر اپنی بےبسی پر تنگ دل ہوئے، پھر جس طرح کوئی شخص کوئی لفظ کہہ کر دل کو کچھ نہ کچھ تسلی دیتا ہے، یہ کہا کہ یہ دن تو بہت سخت ہے۔ [ التحریر والتنویر ]
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بےاختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ؟

وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ : ”ھَرَعَ“ (ف) کا معنی کسی کو تیزی سے دھکیلنا ہے۔ فعل مجہول کا مطلب یہ ہے کہ جب اس خبیث قوم کو لوط ؑ کے گھر ایسے حسینوں کے آنے کی خبر ملی تو وہ ان کی طرف تیزی سے اس طرح بےاختیار دوڑتے ہوئے آئے جیسے کوئی انھیں پیچھے سے دھکیل رہا ہے۔ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ : فعل مضارع پر ”کَانَ“ آئے تو استمرار اور ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی دلیل ہو۔ اس لیے زمخشری نے اس کا معنی کیا ہے : ”وَ مِنْ قَبْلِ ذٰلِکَ الْوَقْتِ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ الْفَوَاحِشَ وَیُکْثِرُوْنَھَا فَضَرَوْا بِھَا وَمَرَنُوْا عَلَیْھَا“ ”اس سے پہلے وہ یہ برے کام کثرت سے کرتے تھے، حتیٰ کہ یہ ان کی عادت بن چکی تھی۔“ یعنی کوئی آدمی شروع شروع میں ایسا غلیظ فعل کرنے سے کچھ جھجکتا ہے مگر یہ لوگ بےاختیار تیزی سے اس لیے آئے کہ کثرت سے اس فعل بد کے ارتکاب نے ان کی حیا اور جھجک بالکل ختم کردی تھی۔ قَالَ يٰقَوْمِ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ۔۔ : جب وہ گھس آئے اور شدت سے مہمانوں کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے تو لوط ؑ نے مہمانوں کی عزت بچانے کے لیے اپنی تواضع کی انتہا کردی، کہا یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، اللہ سے ڈرو ! مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں ؟ یہاں مفسرین نے بیٹیاں پیش کرنے کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ اشرف الحواشی میں ہے کہ ”بَنَاتِی“ (بیٹیوں) سے مراد ان لوگوں کی اپنی عورتیں ہیں، کیونکہ نبی اپنی قوم کے لیے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور قوم کی ساری عورتیں نبی کی بیٹیاں ہوتی ہیں، جیسا کہ نبی ﷺ کے متعلق ارشاد ہے : (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ) [ الأحزاب : 6 ] ”یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“ یہی تفسیر راجح ہے، گو بعض نے لوط ؑ کی اپنی بیٹیاں بھی مراد لی ہیں کہ ان سے شادی کرلو۔ (کما فی الموضح) اس تفسیر کے راجح ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ لوط ؑ کی بیٹیاں معروف قول کے مطابق صرف دو تھیں، اگر کم و بیش بھی ہوں تو پوری قوم سے تو ان کی شادی نہیں ہوسکتی، اس لیے بیٹیوں سے مراد قوم کی بیٹیاں یعنی ان کی بیویاں ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اپنی ہی بیٹیاں تھیں، مگر نہ انھیں ان کے حوالے کرنا مقصود تھا نہ ان کی ان سے شادی کرنا، بلکہ محض انھیں شرمندہ کرکے اپنے مہمانوں کی عزت بچانا مقصود تھا، کیونکہ وہ بھی جانتے تھے اور قوم بھی کہ اپنی بیٹیاں کوئی کسی کے حوالے نہیں کرتا۔ یہ صرف اپنی عاجزی کے اظہار اور انھیں شرمندہ کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ سلیمان ؑ نے فیصلہ کیا تھا کہ لاؤ بچے کے دو ٹکڑے کرکے دونوں دعویدار عورتوں کو ایک ایک حصہ دے دیتے ہیں، حالانکہ ان کی مراد ہرگز یہ نہ تھی کہ واقعی بچے کو درمیان سے کاٹ دیاجائے، بلکہ وہ حقیقت اگلوانا چاہتے تھے۔ آیت کے ظاہر الفاظ سے یہ معنی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ”هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ“ کا مطلب یہ نہیں کہ مردوں سے یہ فعل بھی کچھ طہارت رکھتا ہے، مگر عورتیں زیادہ طاہر ہیں، بلکہ یہاں یہ بہت پاکیزہ کے معنوں میں ہے۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ۔۔ : یعنی ہمارا تمہاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں (گویا آنے والے مہمان مردوں سے بدفعلی ان کا پورا حق ہے) ، یا یہ مطلب ہے کہ ہمیں عورتوں یا بیویوں سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم جو چاہتے ہیں وہ تجھے معلوم ہی ہے کہ ہم کس بدفعلی کے عادی ہیں، اس لیے تم ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بنو۔ ان کے اس جواب سے ان کی خباثت کا پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے اور صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کیوں ان کو اس عذاب کا مستحق سمجھا گیا جو ان کے علاوہ کسی قوم پر نازل نہیں کیا گیا۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

اس نے کہا کاش ! واقعی میرے پاس تمہارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔

قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً۔۔ : لوط ؑ اس قوم میں ایک طرح سے اجنبی تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں اہل سدوم کی اصلاح کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلے کی قوت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا، یعنی میرا خاندان یہاں ہوتا تو میں تم سے نمٹ لیتا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَأْوِيْ إِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قولہ عزو جل : (و نبءھم عن ضیف إبراہیم): 3372 ] ”اللہ تعالیٰ لوط پر رحم کرے، یقیناً وہ بہت مضبوط سہارے کی پناہ رکھتے تھے۔“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا سہارا رکھتے تھے جو سب سے مضبوط ہے اور اس وقت ان کے پاس فرشتوں کی شکل میں بھی مضبوط سہارا موجود تھا، اگرچہ انھیں معلوم نہ تھا۔ حافظ ابن حزم ؓ نے ”اَلْفِصَلُ فِی الْمِلَلِ“ میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان میں لوط ؑ کی شان میں کمی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ اسباب کا مہیا کرنا یا ان کی خواہش کرنا اللہ تعالیٰ پر توکل کے خلاف نہیں ہے۔ لوط ؑ یقیناً اللہ تعالیٰ کو اپنا سہارا سمجھتے تھے مگر اس وقت وہ ساتھی مہیا ہونے کی صورت میں فوری طور پر اس خبیث قوم کا راستہ قوت بازو کے ساتھ روکنے کے خواہش مند تھے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے کئی لوگوں اور قبیلوں سے کہا کہ کون میری مدد کرتا اور مجھے جگہ دیتا ہے کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں۔ آخر کار انصار مدینہ نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور اپنی جان و مال اور اولاد کی طرح آپ کی حفاظت اور آپ کا دفاع کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَار اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَار اللّٰهِ) [ الصف : 14 ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کے مددگار بن جاؤ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں ؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔“ اس لیے دنیاوی اسباب مہیا ہونے کی کوشش و خواہش جائز بلکہ مستحب ہے۔ ابوہریرہ ؓ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فَمَا بَعَثَ اللّٰہُ بَعْدَہُ مِنْ نَبِيٍّ اِلَّا فِيْ ثَرْوَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 4؍152، ح : 1617 ] ”پھر لوط ؑ کے بعد اللہ نے جو نبی بھی بھیجا وہ اس کی قوم کے کثیر لوگوں میں سے بھیجا۔“