Ayah 11:81قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ۔۔ : قوم کے بدمعاش جب باز نہ آئے بلکہ دیواریں پھلانگ کر یا دروازہ توڑ کر اندر آگئے تو فرشتے نے پر مارا، جس سے سب اندھے ہو کر بھاگ اٹھے۔ سورة قمر میں اس کی طرف اشارہ ہے، فرمایا : (وَلَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ فَطَمَسْـنَآ اَعْيُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِيْ وَنُذُرِ) [ القمر : 37 ] ”اور بلاشبہ یقیناً انھوں نے اسے اس کے مہمانوں سے بہکانے کی کوشش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔“ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب فرشتوں نے دیکھا کہ لوط ؑ بالکل عاجز آگئے ہیں اور اپنی قوم کے بدکاروں کو نہ روک سکنے کی وجہ سے سخت رنجیدہ ہیں تو انھوں نے ظاہر کردیا کہ ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ وہ تھا جو انھوں نے ان بدکاروں کی آنکھیں مٹا کر کیا، مزید تسلی یہ دی کہ یہ لوگ کبھی آپ کی گرد کو بھی نہیں پاسکتے۔
فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ۔۔ : یعنی رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے۔ صرف گھر والوں کو لے کر نکلنے کا حکم اس لیے دیا کہ کوئی اور شخص ان کے سوا مسلمان ہی نہیں ہوا تھا۔ دیکھیے سورة ذاریات (35، 36)۔
اِلَّا امْرَاَتَكَ : اس کی دو تفسیریں ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ ”فَاَسْرِ بِاَھْلِک“ سے استثنا ہے، یعنی اپنی بیوی کے سوا دوسرے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ۔ دوسری یہ کہ تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے، مگر تمہاری بیوی مڑ کر دیکھے گی اور اپنے کفر اور قوم کی ہمدردی کی وجہ سے ان پر عذاب دیکھ کر آہ و پکار کرے گی تو اسے بھی وہی عذاب آپہنچے گا جو ان کو پہنچا۔ پہلا معنی زیادہ قریب ہے۔ (واللہ اعلم) قدرتی بات ہے کہ انسان کو اپنے دشمن کی جلد از جلد بربادی کی خواہش ہوتی ہے، فرشتوں نے بتایا کہ ان پر عذاب صبح کے وقت آئے گا۔ لوط ؑ کے مزید جلدی کے مطالبے پر انھوں نے کہا : (اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ) ”کیا صبح واقعی قریب نہیں ہے ؟“ صبح کا وقت شاید اس لیے مقرر کیا گیا ہو کہ وہ آرام کا وقت ہوتا ہے اور لوگ کچھ کچھ جاگ رہے ہوتے ہیں۔ آرام کے وقت عذاب زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے اور ایسے وقت میں عذاب دیکھنے والوں کے لیے باعث عبرت بھی ہوتا ہے۔ (آلوسی) ”اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ“ پر شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”ہمارے نبی ﷺ کو مکہ فتح ہوا صبح کے وقت، شاید وہی اشارہ ہو۔“ (موضح)
Ayah 11:82فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا۔۔ : یعنی جب ہمارے عذاب کا حکم آیا تو ہم نے اس بستی کے اوپر کا حصہ اس کا نیچے کا حصہ کردیا، یعنی پوری بستی الٹ دی۔ یہ عذاب ان کے فعل شنیع سے مناسبت رکھتا تھا کہ انھوں نے بھی فطرت کو بدل کر عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کو اپنی شہوت رانی کا ذریعہ بنا لیا۔
سِجِّيْلٍ : سنگ و گِل (پتھر اور مٹی کے ملے ہوئے ڈھیلے) یا سنگ گِل (مٹی کے پتھر یعنی پختہ اینٹوں کے روڑے یا کھنگر) مزید عذاب کے طور پر بستی الٹنے کے بعد اس پر اینٹوں اور پتھروں کی ایسی مسلسل بارش برسائی کہ ان کی تہیں لگ گئیں۔
Ayah 11:83مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ : ”نشان لگے ہوئے“ یعنی ان میں سے ہر پتھر پر کوئی علامت بنائی گئی تھی کہ اس سے کس کو ہلا ک کرنا ہے۔ (ابن کثیر)
وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ : اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ جو لوگ بھی ظلم کی روش پر چلیں گے (مثلاً مغربی اقوام اور ان کے پرستار جو دھڑلے سے اس فعل بد کا ارتکاب اور اس کی اشاعت کر رہے ہیں) ان پر بھی یہ عذاب آنا کچھ دور نہیں، یا الف لام عہد کا ہو تو ان ظالموں (یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے کافروں) پر بھی نزول عذاب بعید از قیاس نہیں۔ اگر قوم لوط پر عذاب آسکتا ہے تو ان پر بھی آسکتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ الٹی ہوئی بستیاں ان مکہ کے ظالموں سے کچھ دور نہیں، بلکہ ملک شام کو جاتے ہوئے دائمی آباد راستے میں ہیں، جن کی بےمثال بربادی یہ لوگ صبح و شام آتے جاتے دیکھتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حجر (76) اور صافات (137، 138) کے حواشی۔
Ayah 11:84وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يٰقَوْمِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (85 تا 93) اور سورة شعراء (176 تا 190) مکیال اور کیل سے مراد کسی مقرر پیمانے کے برتن مثلاً صاع (ٹوپہ وغیرہ) میں ڈال کر غلے وغیرہ کو ماپنا اور میزان اور وزن کا معنی ترازو وغیرہ سے تولنا ہے۔
اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ : یعنی تم اچھے خاصے خوش حال ہو، پھر اس قسم کی بےایمانی اور فریب کاری کی کیا ضرورت ہے۔
عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ : یعنی آخرت کا عذاب یا دنیا ہی میں اس دن کا عذاب جس کے گھیرے سے کوئی نکل نہ سکے گا۔
Ayah 11:85وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ : پہلے فرمایا کہ ماپ اور تول میں کمی نہ کرو، اب اس کی مزید تاکید فرمائی کہ ماپ اور تول پورا کرو، نہ دیتے وقت کم دو ، نہ لیتے وقت زیادہ لو۔ مزید دیکھیے سورة مطففین (1 تا 3)۔
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ : پہلے ماپ تول کا خاص طور پر ذکر فرمایا، اب لینے دینے کے ہر طریقے کو ان الفاظ کے ذریعے سے شامل کرلیا، مثلاً کسی بھی طرح کے میٹروں کے ذریعے، یا گننے کے ذریعے، غرض کسی بھی طرح لوگوں کو ان کی چیز کم مت دو ، نہ زیادہ لو۔
وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ : ”عَثِیَ یَعْثٰی“ بروزن ”رَضِیَ یَرْضٰی“ حد سے بڑھ کر فساد کرنا، مثلاً ان کی عادت تھی کہ اگر کم ماپ تول کے خلاف کوئی شخص احتجاج کرتا تو سب مل کر اس پر حملہ آور ہوجاتے۔ اسی طرح موقع ملتا تو ڈاکے مارتے اور لوگوں سے چیزیں چھین لیتے۔ خلاصہ یہ کہ شعیب ؑ نے انھیں ہر قسم کے فساد سے منع فرمایا۔
Ayah 11:86بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔۔ : یعنی بےایمانی سے جمع کردہ مال سے اتنی بچت اور منافع ہر طرح سے بہتر ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق حاصل ہو۔ ”اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ“ (بشرطیکہ تم مومن ہو) کیونکہ کافر کے نیک اعمال بھی قیامت کے دن اس کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ دیکھیے سورة کہف (105)۔
وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ : یعنی میں تم پر نگران تو نہیں ہوں جو ہر وقت تمہارے ناپ تول کو دیکھتا رہوں اور نہ یہ میرے بس میں ہے۔ ہر ایک کے ایک ایک لمحہ پر نظر تو صرف رب تعالیٰ کی ہے، میرا کام تو تمہیں سمجھا دینا اور اللہ کے عذاب سے ڈرا دینا ہے، ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔
Ayah 11:87قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ۔۔ : یعنی کیا تو اپنی نماز کا دائرۂ عمل اس قدر وسیع سمجھتا ہے کہ دوسروں کے مذہبی اور مالی معاملات میں بھی دخل دینے لگا ہے۔ ہماری مرضی ہے جس کی چاہیں پوجا اور جس کی چاہیں بندگی کریں اور یہ مال جو ہمارے اپنے ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں، جائز و ناجائز جیسے چاہیں کمائیں، کوئی ہمیں کیوں ٹوکے ! یہ وہی سیکولر سوچ ہے جو آج کل بھی چل رہی ہے کہ نماز اور دین ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے۔ مملکت اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے ہم پابند نہیں۔ بیشک دین سود سے روکتا ہے مگر ساری دنیا کی معیشت اس پر چل رہی ہے، دین کا اس میں کیا دخل ؟ پھر کوئی شرک کرے، کفر کرے یا موحد ہو، اللہ تعالیٰ کو مانے یا نہ مانے، کسی کو اس سے کیا غرض۔ بس مملکت کے جو قانون خود لوگوں نے اکثریت سے بنائے ہیں، ان کی پابندی لازم ہے، باقی کسی پر کوئی پابندی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی بغاوت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی دعا نہ ہوتی کہ یا اللہ ! میری امت (دعوت و اجابت) کو عام عذاب سے ہلاک نہ کرنا تو کب کا عذاب آچکا ہوتا۔
اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ : اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تم تو خاندان میں بڑے بردبار اور نہایت سمجھ دار سمجھے جاتے ہو، تمہیں کیا ہوگیا کہ ایسی اکھڑی اکھڑی باتیں کرنے لگے ہو۔ دوسرا یہ کہ دراصل وہ انھیں ٹھٹھے اور مذاق سے یہ کہہ رہے تھے، مقصد ان کا انھیں نہایت بےحوصلہ اور نادان کہنا تھا۔ صاحب کشاف نے اس کی مثال دی کہ جیسے کوئی شخص کسی سخت بخیل آدمی کو کہے کہ تمہاری سخاوت کا کیا کہنا، اگر تمہیں حاتم طائی دیکھے تو وہ بھی تمہارے آگے سر جھکا دے۔ ایک معنی یہ ہے کہ بس تو ہی ایک عقل مند اور نیک چلن رہ گیا ہے ؟ باقی ہم اور ہمارے باپ دادا جاہل اور احمق ہی رہے ؟ یہ بھی استہزا اور تمسخر کی ایک صورت تھی۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکوں کے کام آپ نہ کرسکیں تو انھی کو لگیں چڑانے، یہی خصلت ہے کفر کی۔“ (موضح)
Ayah 11:88قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ۔۔ :”بَيِّنَةٍ“ وہ دلیل جس کے ساتھ حق اور باطل واضح اور الگ الگ ہوجائے۔ ”رِزْقًا حَسَـنًا“ یہ لفظ تین چیزوں کے لیے آیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نبوت، حلال روزی اور صاف ستھری پاکیزہ زندگی۔ یہاں ”اَرَءَيْتُمْ“ کا جواب محذوف ہے، یعنی اے میری قوم ! یہ بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے رزق حسن دیا ہو تو کیا میں اسے چھوڑ کر تمہاری طرح حرام کھانے لگوں اور تمہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دوں ؟ ”رِزْقًا حَسَـنًا“ سے معلوم ہو رہا ہے کہ شعیب ؑ عطائے نبوت کے ساتھ ساتھ حلال روزی کے ذریعے سے اچھے خاصے مال دار آدمی تھے۔
وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ۔۔ : یعنی میں جو تمہیں اللہ کے ساتھ شرک سے اور ماپ تول میں کمی سے منع کر رہا ہوں، اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمہیں تو اس سے باز رہنے کی تلقین کروں اور خود اس کا ارتکاب کرتا رہوں، بلکہ میں تم سے جو بات بھی کہتا ہوں، پہلے خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ تمام انبیاء ؑ کا اور سلف صالحین کا بھی یہی شیوہ رہا ہے۔ اس کے برعکس کرنے والوں کا انجام حدیث میں یوں ہے، اسامہ بن زید ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یُجَاء بالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقَی فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہٗ فِي النَّارِ ، فَیَدُوْرُ کَمَا یَدُوْرُ الْحِمَارُ بِرَحَاہٗ فَیَجْتَمِعُ أَھْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُوْلُوْنَ یَا فُلَانُ ! مَا شَأْنُکَ ؟ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ ؟ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَلاَ آتِیْہِ ، وَأَنْھَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ) [ بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنھا مخلوقۃ : 3267 ] ”ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اس کی انتڑیاں تیزی سے باہر نکل پڑیں گی تو وہ اس طرح گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے، تو جہنمی اس پر اکٹھے ہوجائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں ! تیرا کیا معاملہ ہے ؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور ہمیں برائی سے منع نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا، میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود وہ نیکی نہیں کرتا تھا اور تمہیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔“
اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ : تاکہ تمہارا دنیا و آخرت میں بھلا ہو۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ خصلت ہے اللہ کے نیک لوگوں کی کہ چڑانے سے برا نہ مانا اور اپنے مقدور بھر سمجھاتے رہے۔“
وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ : یعنی آج میں تمہیں جو نصیحت کر رہا ہوں یا کرنا چاہتا ہوں، اس کو جاری رکھنے اور اس کی کامیابی کا دارو مدار اللہ ہی پر ہے۔
Ayah 11:89وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ۔۔ :”شِقَاقٌ شِقٌّ“ سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، بمعنی جانب، یعنی دونوں ایک دوسرے کے مخالف سمت میں آمنے سامنے ہوجائیں، یعنی صاف مخالفت اور مقابلے پر اتر آنا۔ ”لَا يَجْرِمَنَّكُمْ“ تمہیں آمادہ نہ کر دے، تمہیں ابھار نہ دے، تمہیں اس بات کا مجرم نہ بنا دے، تمہارے لیے اس کا باعث نہ بن جائے، یہ تمام معانی ہوسکتے ہیں۔
وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ : یعنی اگر تمہیں قوم نوح کے غرق ہونے، قوم ہود کے آندھی کے ساتھ ہلاک ہونے اور قوم صالح کے چیخ اور زلزلے سے نیست و نابود ہونے سے عبرت نہیں ہوئی، کیونکہ ان کا علاقہ یا زمانہ تم سے دور تھا، تو لوط ؑ کی قوم تو تم سے کچھ دور نہیں، نہ اسے زیادہ وقت گزرا ہے اور نہ ان کا علاقہ تمہارے علاقے سے کچھ دور ہے۔ واضح رہے کہ جغرافیائی اعتبار سے بھی مدین کا علاقہ اس زمین سے متصل واقع تھا جہاں لوط ؑ کی قوم بستی تھی۔
Ayah 11:90اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ : یعنی میرا رب اپنے بندوں پر نہایت رحم کرنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے، اسی لیے اس نے تمہیں پہلے خبردار کرنے کا انتظام فرمایا کہ تم آئندہ کے لیے باز آجاؤ اور پچھلے کی معافی مانگو اور اپنے اعمال کے انجام بد سے بچ جاؤ۔
Ayah 11:91قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ۔۔ : ”فَقِہَ یَفْقَہُ“ (ع) متکلم کی بات کا مطلب سمجھنا۔ یہ بات انھوں نے استہزا اور تحقیر، یعنی شعیب ؑ اور ان کے کلام کو بےوقعت قرار دینے کے لیے کہی، یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے کرتے ان کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے تھے کہ شعیب ؑ کی سیدھی باتیں بھی واقعتا ان کے ذہن میں نہیں آتی تھیں، حالانکہ شعیب ؑ نہ کسی غیر زبان میں گفتگو کرتے تھے اور نہ ان کا انداز بیان ہی پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا، بلکہ شعیب ؑ کی گفتگو سے صاف پتا چل رہا ہے کہ وہ کتنے بڑے فصیح اللسان خطیب تھے۔ مفسر ابوالسعود کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ بات کہ ”ہم تیری بات کا مطلب ہی نہیں سمجھتے“ اس وقت کہی جب وہ بہترین اور بلیغ ترین طریقے سے شعیب ؑ سے حق اور اس کے ایسے واضح دلائل سن چکے جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اب اس سے آگے ان کے پاس کوئی بات باقی ہی نہ تھی جو وہ کہہ سکتے، تو جس طرح کوئی بندہ لاجواب ہو کر بدزبانی، گالی گلوچ اور دھمکیوں پر اتر آتا ہے، یہی کام انھوں نے کیا۔
وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا : یعنی نہ تیرے پاس فوج ہے، نہ حکومت اور نہ کرو فر۔
وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ : جو ہمارے دین پر ہیں، لیکن تیری پشت پناہی کر رہے ہیں۔
وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ : ”عَزِیْزٌ“ معزز، محبوب اور قوی، یعنی تو ہم پر کسی طرح بھی عزیز نہیں ہے، نہ ہم تمہاری کچھ عزت سمجھتے ہیں، نہ ہمیں تجھ سے کوئی محبت ہے اور نہ تو ہم سے طاقت میں بڑھ کر ہے۔ غرض تجھے سنگسار کرنا ہمیں کچھ بھی مشکل نہیں، اگر تیرے قبیلے کے لوگ جو ہمارے ہی دین پر ہیں، تیری پشت پر نہ ہوتے تو ہم ضرور تجھے سنگسار کردیتے۔ جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئیں بالکل وہی صورت حال نبی ﷺ کو مکہ معظمہ میں درپیش تھی۔ قریش آپ ﷺ کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور ہر ممکن طریقے سے آپ کی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے، لیکن چونکہ بنو ہاشم آپ کی پشت پر تھے اور خاص طور پر آپ کے چچا ابوطالب آپ کی پوری طرح حفاظت کر رہے تھے، اس لیے قریش کو آپ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوسکی۔
Ayah 11:92قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ۔۔ :”ظِهْرِيًّا“ ”ظَھْرٌ“ کی طرف منسوب ہے، نسبت کی وجہ سے ظاء پر کسرہ آگیا ہے۔ یہاں سے شعیب ؑ کا لہجہ کچھ سختی میں بدل جاتا ہے، فرماتے ہیں، کیا میری برادری تمہارے نزدیک اللہ سے بھی زیادہ معزز اور قوی ہے، جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس ہر شے کے مالک کو تو تم نے ایسے سمجھ رکھا ہے جیسے کوئی بےوقعت چیز پیٹھ پیچھے پھینک دی گئی ہوتی ہے۔ مقصد یہ کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کی پروا نہ کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی بےوقعتی اور بےقدری کرنا ہے۔
اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ : وہ تمہارے تمام اعمال (جن میں ان کے اقوال، ارادے، سازشیں اور وہ سب کچھ شامل ہے جو وہ شعیب ؑ کے خلاف کر رہے تھے) سے پوری طرح واقف ہے، کوئی چیز اس کے احاطے سے باہر نہیں۔
Ayah 11:93وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ۔۔ : اس آیت میں لہجہ پچھلی آیت سے بھی سخت ہے، کیونکہ شعیب ؑ ان کے اللہ تعالیٰ کی سطوت و عزت سے بےبس انسانوں کی عزت و سطوت زیادہ سمجھنے اور ان کے ایمان لانے سے ناامید ہونے پر انھیں اللہ کے عذاب کی دھمکی دے رہے ہیں کہ تم اپنی جگہ عمل کرو، میں بھی اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے پر دعوت کا کام جاری رکھوں گا۔ نتیجہ بہت جلد سامنے آجائے گا۔ ان دونوں آیات میں کفار کی ان تمام باتوں کا جواب موجود ہے جو پچھلی آیت میں ذکر ہوئی ہیں کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں، ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں، صرف اپنی برادری کی وجہ سے تو سنگسار ہونے سے بچا ہوا ہے، ورنہ ہمارے ہاں تیری نہ کوئی عزت ہے نہ طاقت۔ فرمایا بہت جلد ان تمام باتوں کا فیصلہ ہوجائے گا۔ کس کی قوت زیادہ ہے، کون سنگسار ہوتا ہے، کون سچا ہے اور کون جھوٹا، فیصلہ ہوچکا، اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ فیصلہ کس طرح عمل میں آتا ہے۔ سو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔
Ayahs 11:94–95وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا۔۔ : یہ اللہ تعالیٰ کے ہر قوم پر آنے والے عذاب کی عجیب صفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا، نہ آندھی نے، نہ چیخ نے اور نہ زلزلے نے۔ صرف کفار اور ظالم مشرک ہی اس سے برباد ہوئے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (57) کی تفسیر۔
اللہ کے حکم سے آنے والے اس عذاب کو سورة اعراف (91) اور عنکبوت (37) میں ”اَلرَّجْفَۃ ‘ یعنی زلزلہ فرمایا، یہاں ”الصَّيْحَةُ“ یعنی چیخ فرمایا اور سورة شعراء (189) میں ”عَذَابّ یَوْمِ الظُّلَّۃِ“ سائبان کے دن والا عذاب فرمایا۔ اس لیے زیادہ واضح بات یہی نظر آتی ہے کہ پہلے ”الصَّيْحَةُ“ چنگھاڑ یا سخت چیخ بلند ہوئی، جب وہ حد سے گزری تو شدید زلزلہ آگیا جس نے پہاڑوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور اس آواز سے کفار کے دل اور جگر پھٹ گئے اور جو جہاں تھا وہیں پڑا رہ گیا۔ زلزلے نے باقی کسر پوری کردی اور تمام کفار کا نام و نشان اس طرح مٹا جیسے وہ یہاں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ آج بھی مدین کے علاقے میں سیکڑوں میل تک جو پہاڑ پائے جاتے ہیں ان پر زلزلے کے آثار واضح ہیں۔ تمام پہاڑ اس طرح پھٹے ہوئے ہیں جیسے کسی زبردست زلزلے نے انھیں کھیل کھیل کردیا ہو۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا کہ یہ تمام عذاب ان پر آئے مگر آیات کے سیاق میں ہر مقام کے مطابق جو عذاب تھا اس کا ذکر ہوا۔ سورة اعراف (88) میں کفار کا قول ذکر ہوا تھا : (لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَآ) ”اے شعیب ! ہم تجھے اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔“ وہاں ”اَالرَّجْفَۃ“ کا ذکر ہے کہ یہ ہے وہ بستی جہاں سے تم نبی کو نکالنا چاہتے تھے۔ یہاں سورة ہود میں جب انھوں نے پیغمبر کی گستاخی کی تو اس کی مناسبت سے چیخ کا ذکر فرمایا اور سورة شعراء میں ان کا مطالبہ تھا کہ ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے تو وہاں سائبان والے عذاب کا ذکر فرمایا۔
اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ : یعنی قوم شعیب پر ویسی ہی ہلاکت مسلط ہوئی جیسی ثمود پر ہوئی، ان کے علاقے بھی ایک دوسرے کے قریب تھے اور کفر و سرکشی میں بھی دونوں قومیں ایک جیسی تھیں اور دونوں عرب تھے۔
Ayah 11:96وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی جو آیات اور ”سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ“ (واضح دلیل) دے کر بھیجا تھا، ان سے کیا مراد ہے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے نو آیات بینات دی تھیں (دیکھیے بنی اسرائیل : 101) جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوئیں : 1 عصائے موسیٰ 2 ید بیضا 3 سنین (قحط سالیاں) 4 نقص من الثمرات 5 طوفان 6 جراد 7 قمل 8 ضفادع 9 دم انھی کو ”سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ“ کہا گیا ہے۔ واؤ ہمیشہ مغایرت کے لیے نہیں ہوتی، جیسا کہ سورة عصر میں فرمایا : (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بالصَّبْر) اس میں ہر بعد والی چیز اپنے سے پہلے والی تمام چیزوں میں داخل اور اس کا حصہ ہے۔
ایک جواب یہ ہے کہ ”سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ“ سے مراد عصائے موسیٰ اور ید بیضا ہیں، جو سب سے پہلے موسیٰ ؑ نے فرعون کے سامنے اپنی نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کیے۔ ان کی خصوصیت کے پیش نظر انھیں علیحدہ بھی ذکر فرمایا، حالانکہ یہ آیات میں داخل تھے اور ایک جواب یہ کہ ”سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ“ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام ہے جو موسیٰ اور ہارون ؑ فرعون کے پاس لے کر گئے اور وہ عقلی اور فطری دلائل ہیں جو لاٹھی پھینکنے سے پہلے موسیٰ ؑ نے فرعون سے بحث کے دوران پیش فرمائے اور وہ ان دلائل سے لاجواب ہو کر قید کی دھمکی دینے لگا اور معجزے کا مطالبہ کرنے لگا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (47 تا 55) اور شعراء (15 تا 29) یہ تینوں تفسیریں صحیح ہیں۔ بعض حضرات نے ”بِاٰیٰتِنَا“ سے مراد نو معجزے اور ”سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ“ سے مراد تورات بیان کی ہے، مگر تورات تو فرعون کے غرق ہونے کے بعد نازل ہوئی، اس لیے یہ تفسیر صحیح نہیں۔
Ayah 11:97اِلٰي فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ۔۔ : یہاں فرعون کے ساتھ اس کے سرداروں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ وہی اس کے احکام کو نافذ کرنے والے تھے۔ بقول زمخشری ان کی جہالت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ وہ فرعون کے احکام کے پیچھے لگے رہے، حالانکہ وہ احکام عقل کے صریح خلاف تھے، مثلاً اپنے جیسے ایک انسان کے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ مان لینا جس میں ہر انسانی کمزوری پائی جاتی ہے اور حد سے بڑھ کر ظلم وستم، مثلاً معصوم بچوں کو قتل کرنے وغیرہ کے حکم پر عمل کرنا، مگر فرعون نے انھیں اس قدر ہلکا اور ذلیل کیا ہوا تھا کہ وہ موسیٰ ؑ کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون ہی کے پیچھے لگے رہے، کیونکہ موسیٰ ؑ پر ایمان لانے میں انھیں اپنا فسق (نافرمانی) چھوڑنا پڑتا تھا، فرمایا : (فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ) [ الزخرف : 54 ] ”غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (اور بےوزن) کردیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقیناً وہ نافرمان لوگ تھے۔“
وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ : ”رَشَدَ“ (ن، ف) سے ”رَشِیْدٌ“ وہ شخص جس کی رائے درست اور سوچ اچھی ہو، یہاں فرعون کے حکم کو فرمایا کہ وہ ہرگز کسی طرح درست نہ تھا، بلکہ واضح طور پر گمراہی پر مبنی تھا۔ اتنی تاکید نفی کی باء اور ”بِرَشِيْدٍ“ کی تنوین سے حاصل ہو رہی ہے۔
Ayah 11:98يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ۔۔ :”قَدِمَ یَقْدَمُ (ع) آنا اور ”قَدَمَ یَقْدُمُ“ (ن) آگے ہونا۔”فَاَوْرَدَهُمُ“ ”وِرْدٌ“ (واؤ کے کسرہ کے ساتھ) وہ پانی جسے پینے کے لیے لوگ اور جانور آتے ہوں، یعنی گھاٹ۔ ”اَوْرَدَ“ باب افعال سے ماضی معلوم ہے، یعنی جس طرح دنیا میں وہ اپنے لوگوں کا پیشوا تھا، اسی طرح آخرت میں بھی ان کا پیشوا ہوگا اور پینے کے لیے انھیں لے کر پانی کے گھاٹ پر جانے کے بجائے خود آگے ہو کر سب کو آگ میں لے جائے گا۔ یہی حال ان تمام لوگوں کا ہوگا جو کسی قوم کی رہنمائی کفر اور معصیت کی طرف کرتے ہیں کہ وہ انھی کی قیادت میں چل کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ ”یَقْدُمُ“ مضارع ہے، آگے ہوگا، اس کے بعد مضارع ”یُوْرِدُھُمْ“ (انھیں آگ پرلے آئے گا) کے بجائے ”فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ“ (وہ انھیں آگ پر لے گیا) ماضی کا لفظ یقین کے لیے استعمال فرمایا۔
وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ : پینے کی جگہ تو لوگ پیاس بجھانے کے لیے جاتے ہیں، مگر وہاں پانی کے بجائے آگ سے ان کی مہمان داری کی جائے گی۔ (والعیاذ باللہ)
Ayah 11:99وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً۔۔ : یعنی آگ کے علاوہ انھیں یہ سزا بھی دی گئی کہ رہتی دنیا تک لوگ ان پر پھٹکار بھیجتے رہیں گے اور قیامت کے دن ان پر جو پھٹکار پڑے گی اس کا حال تو معلوم ہی ہے۔ ان آیات میں فرعون کو صریح دوزخی بتایا گیا ہے، مگر بعض لوگوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے تصوف کے پردے میں وحدت الوجود کا عقیدہ ایجاد کیا اور کہا کہ ہر چیز ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہے، سو فرعون ”اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى“ کہنے میں غلط نہ تھا۔ ان لوگوں کے نزدیک حسین بن منصور حلاج، جسے عام طور پر منصور کہتے ہیں، کامل ولی تھا، کیونکہ وہ کہتا تھا کہ میں خدا ہوں۔ وہ اصل حقیقت کو پا گیا تھا اور صاف کہتا تھا کہ ”أَنَا الْحَقُّ“ مگر اس وقت اسلام کے محافظ خلیفۂ وقت نے اس کفریہ عقیدے کے ثابت ہونے پر اسے سولی پر چڑھا دیا۔ ان وجودی ملحدوں کے کہنے کے مطابق وہ سولی پر چڑھ گیا، مگر حق کہنے سے باز نہ آیا۔ ایسے کفر یہ الفاظ اور عقیدے پر اللہ کی پھٹکار جس کے نتیجے میں خالق و مخلوق کا فرق ختم، جنت و دوزخ کا فرق ختم اور شریعت کا ہر حکم ہی ختم ہوجاتا ہے۔ جب کہا جائے کہ فرعون اپنی سرکشی کی پاداش میں سمندر میں غرق کردیا گیا تو وہ کہتے ہیں کہ فرعون دراصل بحر توحید میں غرق تھا۔ غرض اس طرح کی صریح کفر کی باتیں جو صاف قرآن کے خلاف ہیں، کہتے ہیں، مگر مسلمانوں میں شامل رہنے اور انھیں گمراہ کرنے کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں، حالانکہ یہ عقیدہ اس اسلام کے صریح مخالف ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آیا اور قرآن و حدیث کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس عقیدے کی رو سے نیکی و بدی، شرک و توحید، نکاح و زنا، غرض ہر اطاعت اور نافرمانی کا فرق ہی مٹ جاتا ہے اور انبیاء و رسل اور کتب الٰہیہ سب بےکار ٹھہرتے ہیں۔ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ الْعَقِیْدَۃِ الْمَلْعُوْنَۃِ ] قرآن مجید میں صراحت ہے کہ آل فرعون کو مرتے ہی آگ نے گھیر لیا اور قیامت کو وہ سخت ترین عذاب میں داخل ہوں گے۔ دیکھیے سورة مومن (45، 46)۔
”الرِّفْدُ“ کا معنی عطیہ،”الْمَرْفُوْدُ“ جو انھیں دیا گیا، یعنی دنیا اور آخرت میں لعنت کا عطیہ۔ لعنت کو عطیہ اور انعام بطور مذاق فرمایا ہے، جیسے فرمایا : (فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ آل عمران : 21]”سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔“
Ayah 11:100ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي۔۔ : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی گزشتہ بستیوں کی یہ چند خبریں ہیں جو ہم آپ کو بیان کر رہے ہیں۔ اس سورت میں انبیاء کے حالات زمانے کی ترتیب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، یعنی نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب اور موسیٰ ؑ۔ ”قَائِمٌ“ کھڑی (کھیتی) ، ”حَصِیٌد“ وہ کھیتی جو کاٹی جا چکی ہو، یعنی ان بستیوں میں سے بعض کے نشانات اب بھی قائم ہیں، مثلاً صالح ؑ کی قوم کے پہاڑوں میں تراشے ہوئے مکانات اور بعض کے نام و نشان تک مٹ چکے ہیں، جیسے کٹی ہوئی کھیتی کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔
Ayah 11:101وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ۔۔ : یعنی ہم نے جو ان پر عذاب بھیجے اس میں ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اپنی جانوں پر ان کا سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ شرک اور پھر رسولوں کو جھٹلانا تھا، جس کی انھیں سزا ملی۔
فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ۔۔ : پھر اللہ کا عذاب آنے پر ان کے معبود، حاجت روا، مشکل کشا، گنج بخش اور دستگیر ان کے کسی کام نہ آسکے، بلکہ وہ ان کے لیے ہلاک کیے جانے میں اور عذاب میں اضافے ہی کا سبب بنے، کیونکہ انھی کی وجہ سے ان پر تباہی اور بربادی آئی۔ ”تَتْبِيْبٍ“ فعل ”تَبَّ“ (وہ ہلاک ہوا) سے باب تفعیل ہے، ہلاک کرنا۔
Ayah 11:102وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ۔۔ : ”اَخَذَ“ کا معنی اچانک جلدی سے پکڑ لینا، جیسا کہ کہتے ہیں : ”فُلَانٌ اَخَذَہُ الْمَوْتُ“ فلاں کو موت نے آدبوچا۔ یعنی جس طرح گزشتہ سات انبیاء ؑ کی اقوام پر ظلم کی وجہ سے پکڑ آئی، کسی بھی ظالم بستی (والوں) پر تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ لَیُمْلِیْ للظَّالِمِ حَتّٰی إِذَا أَخَذَہٗ لَمْ یُفْلِتْہُ ، ثُمَّ قَرَأَ : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) [ بخاری، التفسیر، باب : (و کذلک أخذ ربک۔۔) : 4686۔ مسلم : 2583 ] ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے، لیکن آخر کار جب اسے پکڑتا ہے تو ایسا پکڑتا ہے کہ وہ اس سے چھوٹ کر کہیں جا نہیں سکتا۔“ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ یہ آیت ہر زمانے میں ہر ظالم کو شامل ہے۔ سلف میں سے کسی نے کہا ہے : ”کفر کے ساتھ سلطنت قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔“
Ayah 11:103اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ : یعنی ان آیات و واقعات سے وہی عبرت حاصل کرے گا جس کا آخرت پر ایمان ہے، مگر جس کا آخرت پر ایمان نہیں وہ ان تمام واقعات کی کوئی نہ کوئی سائنسی توجیہ کرے گا کہ زمین و آسمان کے تغیرات کی وجہ سے ایسا ہوا، ظلم یا عدل سے اس کا کیا تعلق ؟
ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ : یعنی وہ قیامت کا دن ایسا ہے جس کے لیے تمام لوگ جمع کیے ہوئے ہوں گے۔ زمخشری نے فرمایا کہ فعل مجہول ”یُجْمَعُ لَہُ“ (جمع کیے جائیں گے) کے بجائے اسم مفعول ”مَّجْمُوْعٌ لہ“ (جمع کیے ہوئے ہوں گے) اس لیے استعمال فرمایا کہ اسم میں دوام اور ہمیشگی پائی جاتی ہے جب کہ فعل میں یہ چیز نہیں ہوتی۔
وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ : یعنی اس میں سب لوگ حاضر کیے ہوئے ہوں گے، کوئی چھپ سکے گا نہ ادھر ادھر ہو سکے گا۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس دن ہر نیکی یا بدی کی شہادت موجود ہوگی اور پیش بھی کی جائے گی۔ یہ بھی مراد ہے کہ اس دن پہلے، پچھلے انسان اور جن سب حاضر ہوں گے، فرشتے بھی اور خود ذات الٰہی بھی فیصلے کے لیے تشریف لائیں گے، فرمایا : (وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) [ الفجر : 22 ] ”اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔“
Ayah 11:104وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ :”مَّعْدُوْدٍ“ کا معنی ہے گنا ہوا۔ گنی ہوئی چیز آخر ختم ہوجاتی ہے، یعنی قیامت کی مہلت گنتی کے چند دن ہیں، جیسے روزوں کے متعلق فرمایا : (اَیَّاماً مَّعْدُوْدَاتٍ) [ البقرۃ : 184 ] ”گنے ہوئے چند دنوں میں۔“ اور وہ گنتی صرف اللہ کے علم میں ہے، قیامت نہ اس سے پہلے آسکتی ہے، نہ اس سے مؤخر ہوسکتی ہے۔
Ayah 11:105يَوْمَ يَاْتِ : یہاں چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس دن کا کچھ نقشہ بیان فرمایا ہے۔ ”یَاتِ“ اصل میں ”یَأْتِیْ“ ہی ہے۔ زمخشری نے لکھا ”يَوْمَ يَاْتِ“ کی طرح ”لاَ أَدْرِ“ بھی کہہ دیتے ہیں۔ سیبویہ اور خلیل نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یاء کو حذف کرکے اس کی جگہ کسرہ پر اکتفا کرنا ہذیل کی لغت میں بہت ہے (یعنی دوسری لغات میں بھی ہے مگر کم ہے)۔ ”يَاْتِ“ کا فاعل وہی ہے جو اوپر گزرا ”يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ“۔ ”یَوْمٌ“ کا لفظ عربی میں وقت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ”التحریر والتنویر لابن عاشور“ یعنی جس دن وہ وقت آئے گا، یا جس وقت وہ دن آئے گا۔ زمخشری نے ایک معنی یہ لکھا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ آئے گا، یعنی ”یَاتِ“ کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) [ الفجر : 22 ] ”اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔“
لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ : یہاں سے نصرانیوں کی اور بعض مسلمانوں کی اس سفارش کا رد ہوگیا جو ان کے خیال میں کچھ ہستیوں کے اختیار میں ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہونے یا بڑے زبردست ہونے کی وجہ سے جسے چاہیں گے چھڑا لیں گے، حالانکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بات کرنے کی جرأت ہی نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة نبا (38)۔
فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ : ”شَقِيٌّ“ بروزن ”فَعِیْلٌ“ مبالغہ کے لیے ہے۔ قاموس میں ہے ”اَلشَّقَا“ کو کبھی ”اَلشَّقَاءُ“ بھی کہا جاتا ہے، سختی، تنگی۔ ”شَقِیَ یَشْقٰی“ (ع) یہ ”رَضِیَ یَرْضٰی“ کی طرح ہے، یعنی ناقص واوی ہے۔ زمخشری نے فرمایا : ”اَلَّذِیْ وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ بِإِسَاءَتِہِ“ یعنی وہ بدبخت جس کے لیے اس کی بدعملی کی وجہ سے آگ واجب ہوگئی۔ ”سَعِیْد“ وہ خوش قسمت جس کے لیے اس کے نیک اعمال کی وجہ سے جنت واجب ہوگئی۔
Ayah 11:106فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا۔۔ : ”زَفِیر“ اور ”شَھِیْق“ دونوں گدھے کی آوازیں ہیں۔ ”زَفِیر“ اس کے شروع کی آواز اور ”شَھِیْق“ اس کے آخر کی آواز، یعنی نہایت بری چیخنے چلانے کی آوازیں نکالیں گے۔
Ayahs 11:107–108خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : ”جب تک سارے آسمان و زمین قائم ہیں“ مراد ہمیشہ کا عذاب ہے، کیونکہ جب کسی چیز کی ہمیشگی ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو عرب ”مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ“ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں، ورنہ تعلیق نہیں، یعنی یہ معنی نہیں کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے عذاب رہے گا پھر نہیں۔ ہاں آسمان و زمین سے مراد آخرت کے آسمان و زمین ہوں تو محاورے کے بغیر ہی ہمیشگی مراد ہے، کیونکہ دنیا کے زمین و آسمان تو اس دن بدل دیے جائیں گے، فرمایا : (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار) [ إبراہیم : 48 ] ”جس دن یہ زمین اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے۔“ آخرت کے آسمان و زمین میں جنت واقع ہوگی اور وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ لہٰذا وہ زمین و آسمان بھی دائمی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کا قول ذکر فرمایا : (وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ) [ الزمر : 74 ] ”اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنادیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں جگہ بنالیں۔“ تو مطلب یہ ہوگا کہ جہنمی جہنم میں اور جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ابن کثیر)
اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ : یہ لفظ ”شَقِیٌّ“ اور ”سَعِیْد“ دونوں کے تذکرے میں آئے ہیں، یعنی بدبخت آگ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے۔ اسی طرح سعادت مندوں کے متعلق بھی فرمایا کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے۔ دونوں آیتوں میں ”مگر جو تیرا رب چاہے“ کا تعلق اہل توحید سے ہے۔ پہلی آیت میں مطلب یہ ہوگا کہ مومن موحد گناہ گار جب اپنی سزا بھگت لیں گے تو انھیں جہنم سے نکال لیا جائے گا، جیسا کہ ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : (یَدْخُلُ أَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ وَأَھْلُ النَّار النَّارَ ثُمَّ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالَی أَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِیْمَانٍ ، فَیُخْرَجُوْنَ مِنْھَا قَدِ اسْوَدُّوْا فَیُلْقَوْنَ فِيْ نَھْرِ الْحَیَا أَوِ الْحَیَاۃِ ، شَکَّ مَالِکٌ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّۃُ فِيْ جَانِبِ السَّیْلِ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّھَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِیَۃً ؟) [ بخاری، الإیمان، باب تفاضل أہل الإیمان فی الأعمال : 22۔ مسلم : 184 ] ”اہل جنت، جنت میں اور اہل نار آگ میں داخل ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”جس شخص کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے اس سے نکال لو !“ تو وہ اس سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ سیاہ ہوچکے ہوں گے، پھر انھیں ”نَھْرُ الْحَیَا“ (بارش کے پانی کی نہر) یا ”نَھْرُ الْحَیَاۃِ“ (زندگی کی نہر) میں ڈال دیا جائے گا (امام مالک کو شک ہے) تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے بوٹیوں کا بیج سیلاب کی جانب میں اگ آتا ہے۔ تم نے نہیں دیکھا کہ وہ زرد لپٹا ہوا اگتا ہے ؟“
اس مفہوم کی بہت سی احادیث آئی ہیں کہ سزا پا کر یا شفاعت سے یا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے گناہ گار مسلمان آخر کار جہنم سے نکل کر جنت میں چلے جائیں گے، اس پر اہل سنت کا اتفاق ہے۔ گو بعض نے اس سے دوزخ کے بالآخر فنا ہونے پر استدلال کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ضعیف حدیث اور کچھ غریب اقوال بھی نقل کیے ہیں، مگر یہ مطلب قرآن کی دوسری آیات کے خلاف ہے، جن میں جہنمیوں کے متعلق ”خالدین“ اور ”ابدا“ کے الفاظ مذکور ہیں اور ان احادیث کے بھی صریح خلاف ہے، جن میں ہے : (یُجَاء بالْمَوْتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہٗ کَبْشٌ أَمْلَحُ حَتّٰی یُجْعَلَ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ یُذْبَحُ ، ثُمَّ یُنَادِيْ مُنَادٍ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ ! لاَ مَوْتَ ، یَا أَھْلَ النَّارِ ! لاَ مَوْتَ ، فَیَزْدَادُ أَھْلُ الْجَنَّۃِ فَرَحًا إِلٰی فَرَحِھِمْ ، وَیَزْدَادُ أَھْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلٰی حُزْنِھِمْ) [ مسلم، الجنۃ و نعیمہا، باب النار یدخلہا الجبارون : 2849، 43؍2850۔ بخاری : 6548 ] ”موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں جنت اور جہنم کے درمیان لا کر ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ اے اہل جنت ! (اب) موت نہیں اور اے اہل نار ! اب موت نہیں ! تو جنتیوں کی خوشیوں کے ساتھ مزید خوشی کا اور جہنمیوں کے غم کے ساتھ مزید غم کا اضافہ ہوجائے گا۔“ اور مسلم کی ایک روایت (42؍2850) میں ہے : (کُلٌّ خَالِدٌ فِیْمَا ھُوَ فِیْہِ) کہ ہر ایک جس جگہ میں ہے اس میں ہمیشہ رہے گا۔ ایسی بہت سی صحیح احادیث موجود ہیں، اس لیے جہنم کے بالآخر فنا ہونے کی کوئی واضح اور پختہ دلیل موجود نہیں۔
اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ : یہ ان لوگوں پر رد ہے جو ہر عمل کی تاثیر ذاتی سمجھتے ہیں، جیسا کہ زہر کھانے کا لازمی نتیجہ موت ہے، چناچہ معتزلہ اور خارجیوں کا کہنا ہے کہ جو مسلمان کبائر کا مرتکب ہو اور توبہ نہ کی ہو، وہ بھی ابدی جہنمی ہے۔ ایک دفعہ جو آگ میں چلا گیا وہ وہاں سے کبھی نہیں نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل شقاوت (جو جہنم میں جائیں گے، جن میں کافر اور گناہ گار مسلمان دونوں شامل ہیں) کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، مگر جو تیرا رب چاہے۔ کیونکہ بلاشبہ تیرا رب جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی بھی چیز کی تاثیر اللہ کے حکم ہی سے ہوتی ہے، وہ چاہے تو آگ جلاتی ہے، پانی غرق کرتا ہے، زہر موت کا باعث بنتا ہے، اگر وہ اس کے برعکس چاہے تو نہ آگ جلاتی ہے، نہ پانی غرق کرتا ہے، نہ زہر کھانا موت کا باعث ہوتا ہے، حالانکہ یہ ان کی اپنی تاثیر کے خلاف ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اہل کبائر مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا، وہ جو چاہے کر گزرنے والا ہے، کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔
وَاَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا۔۔ : اس دوسری آیت میں اہل سعادت (اہل جنت) کے متعلق بھی ”مگر جو تیرا رب چاہے“ کے الفاظ فرمائے ہیں۔ یہاں بھی ان سے مراد گناہ گار مسلمان ہی ہیں، یعنی جنتی جنت میں ہمیشہ رہیں گے، تاہم کچھ لوگ اللہ کی مشیت کے تحت جہنم سے نکال کر جنت میں لائے جائیں گے۔ گویا وہ ہمیشہ جنت میں نہ رہے مگر جنت میں داخل ہونے کے بعد چونکہ کوئی بھی اس سے نہیں نکلے گا، اس لیے آخر میں فرمایا : (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ) یعنی جنت ایسا عطیہ ہے جو قطع کیا جانے والا نہیں۔ (روح المعانی)
شاہ عبد القادر ؓ اپنے فوائد میں لکھتے ہیں کہ اس کے یعنی آیت : (مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ) کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ رہیں گے آگ میں جتنی دیر رہ چکے ہیں آسمان و زمین دنیا میں، مگر جتنا اور چاہے تیرا رب، وہ اسی کو معلوم ہے۔ دوسرے یہ کہ رہیں گے آگ میں جب تک رہے آسمان و زمین اس (آخری) جہان کا، یعنی ہمیشہ مگر جو چاہے رب تو موقوف کر دے، لیکن وہ چاہ چکا کہ موقوف نہ ہو۔ اس کہنے میں فرق نکلا اللہ کے ہمیشہ رہنے میں اور بندے کے کہ بندے کے ہمیشہ رہنے پر ساتھ یہ بات لگی ہے کہ اللہ چاہے تو فنا کر دے۔“ (موضح) گویا شاہ صاحب نے اس مشہور اعتراض کا بھی جواب دے دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بھی ہمیشہ رہنے والی ہے، جنتی اور جہنمی بھی ہمیشہ جنت اور جہنم میں رہنے والے ہوئے تو دونوں ایک دوسرے کی مثل ابدی ہوگئے، جب کہ فرمایا : (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئْ) [ الشوریٰ : 11 ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ جواب یہ ہے کہ بندے کا جہنم یا جنت میں ہمیشہ رہنا اور ابدی ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا ابدی ہونا کسی کی مشیت پر موقوف نہیں۔ وہ خود ہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، وہ ازلی بھی ہے اور ابدی بھی۔
Ayah 11:109فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ : یعنی ان کے معبودوں کے باطل ہونے یا نفع نقصان کا مالک نہ ہونے میں کسی قسم کا شک نہ کر۔ ”مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ“ (جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں) میں ”یہ لوگ“ سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ میں نے قرآن کی اس اصطلاح کی جستجو کی تو تقریباً گیارہ مقامات میں ایسا ہی پایا۔ یہ بات میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالی گئی ہے اور میں نے آیت : (وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا) [ النساء : 41 ] کی تفسیر میں اس کی وضاحت کی ہے۔ [ التحریر والتنویر ] یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ کو اس قسم کا کوئی شک تھا جس سے اللہ تعالیٰ منع فرما رہا ہے ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : (اَقِمِ الصَّلٰوۃَ) [ ہود : 114 ] ”نماز قائم کر۔“ اسی طرح فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ) [ الأحزاب : 1 ] ”اے نبی ! اللہ سے ڈر اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کر۔“ تو کیا نبی ﷺ پہلے نماز قائم نہیں کرتے تھے ؟ یا کیا آپ اس سے پہلے اللہ سے نہیں ڈرتے تھے ؟ اور کیا آپ کفار و منافقین کی اطاعت کیا کرتے تھے ؟ نہیں، ہرگز نہیں، اس قسم کے احکام جن پر نبی ﷺ اور مخلص اہل ایمان پہلے ہی کار بند ہوں، نازل کرنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ نبی ﷺ اور پہلے سے عمل کرنے والے ہمیشہ ان پر کاربند رہیں اور استقامت اختیار کریں اور دوسرے تمام انسان بھی نبی ﷺ کے واسطے سے اپنے آپ کو مخاطب سمجھ کر ان احکام پر عمل کریں کہ جب نبی کو یہ حکم ہے تو ہماری کیا اوقات ہے کہ ہم اس پر عمل نہ کریں۔
مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ :”اٰبَاۗؤُهُمْ“ سے مراد عادوثمود ہیں، کیونکہ عدنانی عربوں کی ماں بنوجرہم سے تھی جو اسماعیل ؑ کی بیوی تھی۔ بنو جرہم ثمود سے تھے اور قریش کی ماں بنو خزاعہ سے تھی، جو قصی کی بیوی تھی اور عرب میں بت پرستی عمرو بن لحی نے شروع کی تھی جو خزاعی تھا۔ (ابن عاشور) یعنی ان کی غیر اللہ کی پرستش کی بنیاد سوائے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور کچھ نہیں ہے۔ (ابن کثیر) آبا و اجداد کی غیر اللہ کی عبادت کیا تھی ؟ یہی کہ وہ اپنے بزرگوں یا ان کے بتوں یا قبروں کو مصیبت کے وقت پکارتے تھے، انھیں اللہ کا بیٹا یا جز یا عین قرار دیتے تھے۔ اسی طرح عبادت میں ان کے نام کی نذر و نیاز ماننا، اللہ کے حصے کے ساتھ جانوروں اور کھیتیوں میں ان کا حصہ رکھنا، ان کو اللہ کی صفات، مثلاً علم غیب کا مالک، دور سے فریاد سننے اور مدد کرنے والا سمجھنا سبھی شامل ہیں۔ ہر زمانے کے مشرک ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں : (بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْن) [ المؤمنون : 81 ] ”بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا“ اور ان کے پاس تقلید آباء کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی اور ان پر وہی محاورہ صادق آتا ہے کہ ”مَا أَشْبَہَ اللَّیْلَۃَ بالْبَارِحَۃِ“ ”آج کی رات کل کی رات کے کس قدر مشابہ ہے۔“
وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ : انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ کسی شخص کا تقدیر میں دنیا کا جو رزق اور آسائشیں لکھی گئی ہیں، وہ مسلمان ہو یا کافر ہر ایک کو ملیں گی، کافروں کو بھی ان کا حصہ پورا ملے گا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (20) دوسری یہ کہ ان کی نیکیاں جو انھوں نے دنیا میں کی ہیں ان کا پورا بدلہ ہم انھیں دنیا ہی میں دے دیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (20) اور تیسری یہ کہ ہم ان کی غیر اللہ کی عبادت اور شرک کا پورا پورا بدلہ دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن ضرور دینے والے ہیں۔ یہاں یہ آخری معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان لوگوں کو نبی ﷺ کی برکت سے پہلی قوموں کی طرح دنیا میں آسمانی عذاب نہیں دیا گیا، جس سے ان کا نام و نشان مٹ جاتا۔