11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsسراج البیان

Ayahs 11:1–2

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الر ، یہ کتاب جس کے دلائل (آیات) مضبوط ہیں ‘ پھر تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں حکمت والے خبردار کی طرف سے ہے (ف 2) ۔

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

کہ تم اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو ، میں تمہارے فئے اس کی طرف سے ڈرانے والا ‘ اور بشارت دینے والا ہوں ،

(ف 2) قرآن حکیم کی دو خصوصیتیں بیان فرمائی ہیں ایک احکام ، دوسری تفصیل ۔ احکام سے غرض یہ ہے کہ قرآن حکیم نظم وترتیب کے لحاظ سے اس انداز کا حامل ہے کہ انسانی دخل کا اس میں امکان نہیں ، نہایت محکم اور عجیب طرز بیان ہے ۔ تفصیل سے مراد تو اصل آیات کا بیان ہے ، اور یا ضروریات دین کا موقع موقع اظہار ، یعنی آیات کے اواخر کلمات قرآن حکیم میں نہایت دلکش وزن اور عجیب طرز کے ساتھ واقع ہوئے ہیں جن کے ادا کرنے میں ایک خاص قسم کے ترنم اور سامعہ نوازی کا سامان موجود ہے اور بایہ غرض ہے کہ جس قدر دین ودنیوی ضروریات ہیں قرآن ان سب پر حاوی ہے ۔ وکیل : ذمہ دار ۔
Ayahs 11:3–4

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور کہ تم اپنے رب سے مغفرت چاہو ، پھر اس کی طرف توبہ کرو ، کہ مقررہ وقت تک وہ تمہیں اچھا فائدہ دے گا ، اور ہر بزرگی والے کو اس کی بزرگی بخشے گا ، اور جو تم پھر جاؤ گے ، تو میں تمہاری نسبت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (ف 1) ۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تمہیں اللہ کی طرف جانا ہے ، اور وہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

(ف 1) توحید کے بعد اسلامی تعلیمات میں توبہ و استغفار کو خاص اہمیت حاصل ہے یہی وجہ ہے جو یہاں توبہ و استغفار کر خاص اہمیت حاصل ہے ، یہی وجہ ہے جو یہاں توبہ و استغفار کو توحید کے بالکل بعد بیان فرمایا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ ہر وقت اپنے گناہوں کا جائزہ لیتا ہے اور اس مرکز قدس سے اکتساب خیر میں مصروف رہے ، کیونکہ گناہوں کا احساس ہی نیکی طرف پہلا قدم ہے جو شخص گناہوں کو محسوس نہیں کرتا ، وہ نیکی جانب کبھی راغب نہیں ہوسکتا ۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

سنتا ہے ، یہ کافر خدا سے چھپنے کے لئے اپنے سینے لپیٹتے ہیں ، سنتا ہے ، جب وہ اپنے کپڑے اوڑہتے ہیں ‘ خدا ان کی خفیہ وظاہری باتوں سے خبردار ہے ، وہ دلوں کی بات جانتا ہے (ف 2) ۔

(ف 2) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ گناہوں کو اللہ سے چھپا سکتے ہیں ، اس آیت میں اس خیال کی تردید ہے وہ دل کے بھیدوں سے آگاہ ہے اس لئے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی ، حل لغات : یثنون صدورھم : اعراض سے کنایہ ہے یعنی منافقین کلام الہی کو عمدا نہیں سننا چاہتے ، حضور ﷺ کو دیکھ پاتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں کہ کہیں کلمہ حق کان تک نہ پہنچ جائے ۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین میں کوئی چلنے والا نہیں ہے ، مگر اس کا رزق خدا کے ذمہ ہے اور وہ اس کا مسکن اور ٹھکانا جانتا ہے ، سب کھلی کتاب میں ہے (ف 1) ۔

رزق خدا کے ہاتھ میں ہے : (ف 1) اگ لوگ اس حقیقت کو جان لیں کہ رزق کی کشائش اور دولت اللہ کے اختیار میں ہے تو بہت سے گناہوں سے بچ جائیں ، طمع اور بےجا حرص کی تمام آلودگیاں ، فتنہ و فساد کی بیشتر صورتیں اس فلسفہ سے نا آشنائی کا نتیجہ ہیں ، اللہ کا مائدہ فضل رحمت اس درجہ وسیع ہے کہ اس میں کافر و مومن کی کوئی تمیز نہیں وہ سب کو یکساں دیتا ہے ۔ اے کریمے کہ از خزانہ مغیب گبر وتر سا وظیفہ خورداری : بلکہ اس عموم کو اس درجہ وسعت ہے کہ ہر جاندار جو صفحہ ارض پر موجود اس کی رزاقیت سے بحرہ ور ہے ۔ چناں پہن خوان کرم گسترد کہ سیمرغ درقاف روزی خورد : ماں کے پیٹ میں دیتا ہے تاریکی اور ظلمتوں میں دیتا ہے بچپن میں جب منہ دانت نہیں ہوتے ، ہاتھ پاؤں جدوجہد حیات کے قابل نہیں ہوتے ، ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کردیتا ہے ، اندھوں کو دیتا ہے اپاہج اس کی نعمتوں سے بہرہ یاب ہیں پتھر میں جو کیڑا ہے اس کی غذا بھی اس کو پہنچاتا ہے ، ان حقائق واقعات کی روشنی میں انسان کے لئے کتنا بڑا یقین اور ایمان کا سامان ہے ۔ خدا کو رازق ماں لینے کے معنی یہ نہیں کہ ہم دنیا میں روٹی کے لئے کسی شخصیت اور قوت کے محتاج نہیں ، ہم مگر اللہ کے مشن کو پورا کریں گے اور فرائض انسانی کو ادا کریں گے ، تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہمیں بھوکوں مارے کتاب جبیں سے مراد علم الہی یا لوح محفوظ ہے ۔
Ayahs 11:7–11

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے ، اور اس کا تخت پانی پر تھا ، تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون عمل میں اچھا ہے ، اور تو کہے کہ تم مرنے کے بعد پھر اٹھو گے ، تو البتہ کافر کہیں گے ، کہ یہ بات تو صاف جادو ہے (ف 2) ۔

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ہم ایک مدت مقرر تک ان سے عذاب روکتے ہیں تو ٹھٹھے سے کہتے ہیں ‘ کہ کس چیز نے اسے روک رکھا ہے جو نہیں آتا سنتا ہے ، جس دن ان پر عذاب آئے گا ، ان کی طرف سے موڑا دئیے جائیگا ، اور جس چیز پر ٹھٹھا کرتے تھے وہی انہیں گھیر لے گی ،

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت چکھائیں پھر اس رحمت کو اس سے چھین لیں تو وہ ناامید اور ناشکر ہوتا ہے ۔

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر ہم اسے تکلیف کے بعد جو اسے پہنچے نعمتیں چکھائیں تو کہتا ہے کہ میری سختیاں چلی گئیں ، تو وہ خوشی کرنے والا شیخی خورا ہے ۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر جو ثابت قدم اور نیک اعمال ہیں ‘ انہیں کے لئے مغفرت اور بڑا ثواب ہے ۔

(ف 2) یعنی کائنات کی ابتدا پانی سے ہے ، (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شی حی “۔ علم الحیات کے ماہرین بیشمار تجارب اور ارتقاء کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زندگی کی ابتداء ان حیوانات سے ہوتی ہے جو بحری ہیں قرآن نے نہایت بہتر الفاظ میں علم الحیات کے اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے کہ خدا کا عرش حکومت ابتداء پانی سے وابستہ تھا ۔ (آیت) ” لیبلوکم “ میں مقصد حیات کی طرف اشارہ ہے ، یعنی تمہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ بہترین اعمال سے زمین کو رشک فردوس بنا دو ۔ حل لغات : دآبۃ : ہر جاندار زمین پر چلنے والا ۔ مستقر : جائے قرار ۔ مستودع : جہاں سونپاجائے امانت کا ، امۃ : مدت ، زمانہ ۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

سو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیں تو وحی کی باتیں جو تجھ پر نازل ہوئیں چھوڑ بیٹھے گا ، اور تیرا دل اس سے تنگ ہوجائیگا ، (اس خیال سے) کہ وہ کہتے ہیں کہ اس پر خزانہ کیوں نہ نازل ہوا ، یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا تو تو ڈرسنانے والا ہے ‘ اور اللہ ہر شے پر وکیل ہے (ف 1) ۔

خزائن رحمت کی فراوانی : (ف 1) حضور ﷺ شفقت و رحمت کے پیکر تھے ، تمام تکالیف جو دعوت تبلیغ کی پیش آتیں ، بخندہ پیشانی برداشت کرتے ، قوم کی مخالفت کی ذرہ برابر پرواہ نہ کرتے ، گالیوں ، اور طعنوں اور الزاموں کو سنتے اور صبر کرتے ، دن رات قوم کی اصلاح کے درپے رہتے مگر جب کھلا اور واضح عنا د کی واشگاف دشمنی دیکھتے ، تو پھر فطرتا آپ کو تکلیف محسوس ہوتی ، اور اس وقت آپ باوجود تحمل و برداشت کے گھبرا اٹھتے ، کیونکہ قوم جب تک بےعلم رہے جاہل اور ناآشنا ہو ، مرشد کامل کا فرض ہے کہ اسے سمجھائے مگر جب جان بوجھ کر بار بار مخالفت وعداوت کی جائے اس وقت ایک مخلص رہنما کو طبعا دکھ ہوتا ہے ، اور یہ دیکھ نتیجہ ہوتا ہے ، انتہائی خلوص وہمدردی کا رسول اللہ ﷺ جو رحمۃ العالمین ہیں کبھی کبھی ان لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے بےچین ہوجاتے ، اور بالخصوص جب کہ وہ اس قسم کے طعنے سنتے کہ یہ کیسا رسول ہے جس کے پاس مال و دولت کے خزائن نہیں ، جو نہ خود فرشتہ ہے اور نہ جس کے پاس فرشتے دکھائی دیتے ہیں ، آپ زیادہ اذیت محسوس کرتے ، کیونکہ اس مطالبہ میں ہدایت وسعادت کا کوئی جذبہ نہیں جو کار فرما ہو ، مقصد محض حضور ﷺ کو ستانا اور چھیڑنا ہے ، ورنہ کون نہیں جانتا آپ کے پاس ہر وقت برکات وفیوض کے خزائن رہتے اور فرشتے آپ کے جلو میں ہوتے ، حضور ﷺ کے پاس دولت ایمان کی اس قدر فراوانی تھی کہ دس ہزار عالم سیر ہوجائے اور وہ ختم نہ ہوتی ، بزرگی و حشمت کے اس درجہ آپ مالک تھے کہ فرشتے آپ کے حضور میں آنا وجہ افتخار سمجھیں ۔
Ayahs 11:13–16

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں کہ اس نے جھوٹ باندھا ہے تو کہہ ایسی جھوٹ باندھی ہوئی تو دس ہی آیتیں لے آؤ ٗ اور خدا کے سوا جسے پکار سکتے ہو ، پکارو اگر سچے ہو (ف 2) ۔

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پھر اگر ساری بات نہ کریں ‘ تو جانو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوا ہے اور یہ کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ، پس اب تم حکم مانتے ہو ،

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو کوئی حیات دنیا اور اس کی زینت کا طالب ہے ہم اسے دنیا میں اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے ‘ اور اس میں انہیں نقصان نہ ہوگا ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جن کا حصہ آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں ، اور ان کے اعمال آخرت میں ضائع و باطل ہیں ۔

(ف 2) نبی ہی کی نبوت پر زندہ دلیل وہ کلام ہے جس کو اس نے دنیا کے سامنے پیش کیا جس کے شوشے شوشے میں حکمت ومعرفت کے دریا موجزن ہیں جس میں فصاحت وبلاغت کے سمندر پنہاں ہیں جس کی آیت زندگی کا ایک عنوان ہے کائنات کی تشریح ہے جس کے لفظ لفظ میں زندگی اور زندگی کا پروگرام ہے ۔ ان آیات میں تمام دنیائے علم کو دعوت مقاء مت دی کہ آئے اور قرآن جیسی دس آیتین پیش کرے جن میں قرآن کی سی خوبیاں ہوں قرآن کی سی فصاحت وبلاغت ہو ، قرآن کی سی جامعیت ہو ، قرآن کی سی معنویت ہو ، چودہ سو سال گزر چکے ہیں ، قرآن کا اب بھی یہ دعوے موجود ہے ، مگر یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص نے بھی معاندین میں سے قرآن کے اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرات نہیں کی قرآن کا جواب انسانی طاقت سے باہر ہے قرآن اس خدا کا کلام ہے جو اپنی صفتوں میں لاشریک ہے پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس کے کلام کا مقابلہ کیا جاسکے ،
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جو اپنے رب کی کھلی راہ پر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک گواہ بھی اللہ کی طرف سے ہے ، اور اس کے آگے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت ہے ‘ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں ‘ اور جو بھی فرقوں میں سے قرآن کا منکر ہے ‘ سو اس کے وعدہ کی جگہ آگ ہے ، پس تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کی نسبت شک میں نہ رہ وہ تیرے رب سے حق ہے لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے (ف 1) ۔

قرآن خود دلیل ہے اپنی صداقت کی ! (ف 1) حضور ﷺ نے جو دین پیش کیا وہ دلائل وبراہین کا دین ہے ، اس میں کوئی بات ایسی نہیں ، جو محض تقلید کا نتیجہ ہو ، سابقہ کتب میں اس دین کی تصدیق موجود ہے ، یا یوں کہئے کہ تمام سابقہ دین اسلام کے لئے بمنزلہ تمہید کے ہیں ، اسلام اس نقطہ اعتدال و توازن کا نام ہے ، جو افراط تفریط کے ناہموار خطوط کے درمیان واقع ہے ۔ (آیت) ” ویتلوہ شاھد منہ “۔ قرآن کی ایک مخصوص صفت پر دال ہے ، یعنی قرآن کی صداقت پر کھنے کے لئے بروانی شہادتوں اور گواہیوں کی ضرورت نہیں ، قرآن کا لفظ لفظ نقطہ نطقہ اور شوشہ شوشہ دلائل وبراہین کا بحر متواج ہے ، نگاہ اگر دقیقہ رس ہو ، فطرت سعید ہو ، اور عربی کا صحیح ذوق ہو ، تو پھر قرآن کی تلاوت ہی کافی ہے ، یہ سراسر سچائی ہے اور سچائی کی دلیل ۔ حل لغات : شاھد : گواہ دلیل ، شہادت ۔ اماما : مستند ، مانی ہوئی کتاب ، مریۃ : شک :
Ayahs 11:18–19

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ، وہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے اور گواہ کہیں گے ، یہی ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا سنتا ہے ، ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے (ف 1) ۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ، اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں ، اور وہ آخرت کے منکر ہیں ۔

آفتاب آمد دلیل آفتاب : (ف 1) قرآن حکیم افتراء علی اللہ کو بدترین ظلم ٹھہراتا ہے ، اس کے نزدیک خدا پر جھوٹ باندھنا نہایت مذموم فعل ہے ، اس لئے وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان موجود ہے ، نبوت کاذبہ کا مدعی نہیں ہو سکتا ، وہ جھوٹا مدعی مجنون ہوگا ، خلل دماغ کی وجہ سے ایسی باتیں کرتا ہے یا انتہا درجے کا بدمعاش ہوگا جس کے دل میں بالکل خوف خدا نہ ہو ، جو مذہب کو محض فریب جانتا ہو ، یہ ضرور نہیں کہ ایسا شخص بالظاہر بھی برا معلوم ہو ، البتہ اگر آپ نقاب الٹا دیں ، اور اصل چہرے کو دیکھنے کی کوشش کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا ، کہ یہ چہرہ جھوٹے اور فریبی انسان کا ہے ، جسے مصنوعی تقدس کے نقاب نے چھپا رکھا تھا ۔
Ayahs 11:20–21

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

وہ ملک میں (بھاگ کر) تھکا نہ سکیں گے ، اور اللہ کے سوا ان کا کوئی دوست نہ ہوگا ، ان کو دونا عذاب ملے گا ، اس لئے کہ وہ دیکھتے نہ تھے (ف 2) ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا ، اور جھوٹ جو باندھا تھا ان سے گم وہو گیا ۔

(ف 2) دوہرے عذاب سے یہ غرض نہیں کہ ان کو استحقاق سے زائد عذاب میں مبتلا کیا جائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کا جرم چونکہ دوہرا ہے یعنی وہ منکر بھی تھے ، اور خدا کی راہ سے دوسروں کو روکتے بھی تھے اس لئے انہیں عذاب بھی دگنا دیا جائے گا ۔
Ayah 11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بیشک وہ آخرت میں سب سے زیادہ زیان کار ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) یعنی ان کی افتراپردازیاں محض دنیا تک ہیں ، عقبی میں جب مشاہدہ حق ہوگا ، اور یہ خدائے علیم کے حضور میں پہنچیں گے ، تو سب طرح کی چالاکیاں ، بھول جائیں گی ، اور کوئی جھوٹ کسی طرح ان کے کام آسکے گا ۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو ایمان لائے ، اور نیک کام کئے ، اور رب کے سامنے عاجزی کی وہی بہشتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (ف 2) ۔

(ف 2) اخبات کے معنی خشوع و طمانیت کے ہیں ، یعنی وہ لوگ جو اپنی خواہشات نفس کو اللہ کے تابع کردیں اور پھر اس ایثار پر مطمئن بھی ہوں ، تکلیفوں اور مصیبتوں کو خدا کی راہ میں برداشت کریں اور اس کے بعد خوش بھی ہوں ، تو یہ لوگ مبارک ہیں ، اور خدا کی رضا کو حاصل کرنے والے ۔
Ayahs 11:24–26

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دو فرقوں (مومن وکافر) کی ایسی مثال ہے جیسے اندھا اور بہرا اور دیکھتا اور سنتا ، کیا مثال میں دونوں برابر ہیں ، کیا تم دھیان نہیں کرتے (ف 3) ۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ میں تمہارے لئے صریح ڈرانے والا ہوں ۔

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو ، میں تمہاری نسبت دکھ دینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔

(ف 3) مسلمان بصارت اور اجرت کا مالک ہے ، کافر کی آنکھیں نہیں ، مسلمان گوش شنوا رکھتا ہے ، منکرین حق نیوش اور بصیرت کی نعمت سے محروم ہیں یعنی مسلمان کبھی حقائق وواقعات کا انکار نہیں کرتا آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے آواز کو سنتا ہے ، منکروں کو تعصب کی وجہ سے صداقت میں روشنی نظر نہیں آتی ، عناد وجہالت سے روشن ، ترین دلائل کو وہ نہیں دیکھتے ، کانوں پر غفلت کے پردے پڑے ہوئے ہیں ، اس لئے یہ دونوں استعداد کے لحاظ سے ہرگز برابر نہیں ہو سکتے ، مسلمان کے دل میں بصیرت کی روشنی اور چمک ہے گوش حق نیوش ہیں ، مگر منکین ان نعمتوں سے محروم ہیں ۔ حل لغات : لاجرم : بیشک ۔ بالضرور ، قطعی طور پر ۔
Ayahs 11:27–28

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

اس کی قوم کے سردار کافروں نے کہا ، ہم تجھے اپنی ہی مانند ایک آدمی دیکھتے ہیں ، اور ہم تیرے تابع ان لوگوں کے سوا نہیں دیکھتے جو ہمارے کمینے ظاہری سمجھ کے آدمی ہیں اور ہم تم میں اپنی نسبت کچھ فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو (ف 1) ۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

وہ بولا اے قوم ، بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے حجت پر ہوں ، اور اس نے مجھ پر رحمت کی ہے ۔ پھر یہ کیفیت تمہاری آنکھوں سے پوشیدہ کی گئی ، تو کیا ہم وہ رحمت زبردستی تمہارے سرچپپیٹ دیں اور تم اسے ناپسند بھی کرتے ہو ۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے دو اعتراض : (ف 1) انبیاء کے متعلق یہ پرانا خیال ہے کہ انہیں فوق البشر ہونا چاہئے ، خلعت بشریت کو کسوت نبوت کے منافی قرار دنیا قدیم سے شیوہ کفر و انکار رہا ہے ، یہ اعتراض بھی قدیم ہے کہ ابتداء دعوت کو لبیک کہنے والے غریب اور مفلس لوگ ہوتے ہیں چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب قوم کو ہدایت کی جانب بلایا ، اور کہا کہ مسلک توحید پر گامزن ہوجاؤ ، ورنہ حق کے مقابلہ میں تم نپٹ نہیں سکو گے ، قدرت کا اٹل فیصلہ ہے کہ جو قومیں قانون فطرت کو نہ مانیں انہیں زندہ رہنے کا کوئی استحقاق نہیں ، قوم کے اکابر نے اس وعظ کو سنا ، اور نہایت شوخ چشمی سے کہا تم میں اور ہم میں امتیاز ہی کیا ہے ، تم بھی ایک ضرورت مندا انسان اور ہم بھی انسان نیز تمہیں اشراف قوم نے ٹھکرا دیا ہے ، بڑے بڑے لوگوں نے تمہاری اطاعت قبول نہیں کی ، کیا چند ذلیل لوگوں میں شامل ہونے کے لئے ہمیں دعوت دیتے ہو ، کیا ہم ایمان لا کر ان کی طرح ذلیل ہوجائیں ۔ بعد کی آیات میں ان دونوں اعتراضات کا مفصل جواب دیا ہے غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن حکیم نے قوم نوح کے اعتراضات نقل کرکے حضور ﷺ کو آگاہ فرمایا ہے ، کہ جس طرح انسان کی حقیقت ایک ہے ، اسی طرح کفر میں یکساں طور چلا آرہا ہے ، ابتدا سے لے کر اب تک کفار کی ذہنیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ، حل لغات : بادی الرای : اول فکر یعنی بظاہر ۔ عمیت : عمایت سے ہے ، یعنی اندھا پن تمہارے حصہ میں آیا ہے ۔
Ayahs 11:29–30

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس پر تم سے کچھ مال نہیں مانگتا ، میرا بدلہ صرف اللہ پر ہے ‘ اور میں ایمانداروں کو نکالنے والا بھی نہیں ، انہیں اپنے رب سے ملنا ہے ، لیکن تم مجھے (صاف) جاہل نظر آتے ہو (ف 1) ۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے قوم ! اگر میں انہیں نکال دوں تو اللہ سے (بچانے میں) کون میری مدد کریگا کیا تم دھیان نہیں کرتے ؟

دوسرے اعتراض کا جواب : (ف 1) سب سے پہلے قرآن حکیم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان سے دوسرے اعتراض کا جواب دیا ہے اس لئے کہ وہ باوجود بشریت کے حضرت نوح (علیہ السلام) کو پیغمبر مان سکتے تھے ، مگر یہ ان کے کبر و غرور کے لئے قطعا ناقابل برداشت تھا کہ وہ غرباء کم درجہ لوگوں کے دین کو قبول کرلیں ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے جوابا ارشاد فرمایا ، میں اپنے دعاوی میں سچا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے صداقت کے دلائل عنایت فرمائے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ تمہیں حق کی راہ سوجھائی نہیں دیتی ، میں تم سے کچھ اجر طلب نہیں کرتا ہوں ، کہ مخلص دیندار غربا کو اپنے پاس سے ہٹا دوں ، تم جاہل ہو اس لئے افلاس وغربت کو معیوب سمجھتے ہو ، اللہ کے نزدیک دیندار مفلس ، سرمایہ دار کافر سے بہتر ہے ، البتہ اگر افلاس برا ہے ، تو تنگدستی کا افلاس نہیں اگر اخلاق و ایمان کا افلاس برا ہے ، اللہ کے نزدیک ذلیل وہ ہے ، جو اخلاق سے تہی دامن ہے اور بجز ذات حق تعالیٰ کے ہر کہ ومہ مخلوق فقیر اور حاجت مند ہے ۔ (آیت) ” واللہ الغنی وانتم الفقرآء “۔
Ayahs 11:31–33

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میں غیب دان ہوں ، اور نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں ، اور میں ان کے حق میں جنہیں تمہاری آنکھیں بحقارت دیکھتی ہیں ، نہیں کہتا کہ خدا انہیں کچھ (ف 2) ۔ نہ دے گا ، جو ان کے دلوں میں ہے خدا خوب جانتا ہے اگر ایسا کہوں تو بیشک میں ظالموں میں ہوں گا ۔

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

بولے ‘ اے نوح (علیہ السلام) تو ہم سے جھگڑا ، اور بہت جھگڑ چکا ، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر تو سچا ہے ۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

بولا اس کو اللہ ہی لائے گا ، اگر وہ چاہے گا اور تم (بھاگ کر اسے) تھکا نہ سکو گے ۔

پہلے اعتراض کا جواب : (ف 2) بشریت کے متعلق اعتراض کا جواب یہ ہے کہ انبیاء نے کبھی یہ دعوے ہی نہیں کیا کہ وہ عام انسانوں کی طرح حوائج بشری سے متصف نہیں ، یا ان کی ضروریات انسانی ضروریات سے مختلف ہیں ، چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کمبختو ! میں نے کب یہ کہا ہے کہ میرے پاس خزانے میں اور میں بہت بڑی دولت کا مالک ہوں ، میں تو اللہ کا رسول ہوں ، رسول اگر مالدار نہ ہو تو بھی معارف وحکم کے خزانوں سے اس کا دل معمور ہوتا ہے ، وہ فطرت کے لحاظ سے فرشتہ نہیں ہوتا مگر فرشتے اس کی تقدیس کے معترف ہوتے ہیں وہ غیب نہیں جانتا ، مگر اللہ کے عنایت کہے ہوئے علوم میں وہ کائنات میں کسی دوسرے کو اپنا شریک وسہیم نہیں بناتا ۔
Ayahs 11:34–36

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر اللہ تمہیں گمراہ کرنا چاہے گا ، تو میری نصیحت تمہیں سفید نہ ہوگی ، اگرچہ میں تم کو نصیحت کرنا (بھی) چاہوں ، وہ تمہارا رب ہے ، اور تم اسی کی طرف جاؤ گے (ف 1) ۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ قرآن کو بنا لایا ہے تو کہہ اگر میں اسے بنا لایا ہوں ، تو میرا گناہ مجھ پر ہے ‘ اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بالکل بےتعلق ہوں ۔

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لا چکے ہیں اب ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا ، سو تو اس پر غم نہ کھا جو وہ کرتے ہیں ،

غوایت سے مراد ہلاکت ہے ! (ف 1) (آیت) ” ان کان اللہ یرید “۔ الخ یعنی اگر اللہ کے علم میں یہ حقیقت پہلے سے موجود ہے کہ تم بالآخر گمراہی کو ترجیح دو کے ، اور ہدایت کو قبول نہیں کرو گے ، تو بتاؤ کہ تمہاری گمراہی کو ہدایت سے کون بدل سکتا ہے ۔ (آیت) ” یغویکم “۔ کے معنی ہلاکت کے بھی ہو سکتے ہیں اور ادب عربی میں اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ قرآن میں ان معنوں کی تائید کرتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے ، (آیت) ” فسوف یلقون غیا “۔ ظاہر ہے یہاں گمراہی مراد نہیں ، گمراہی کی عقوبت یا عذاب مراد ہے ، علامہ ابن جریر (رح) فرماتے ہیں ، (آیت) ” من یغویکم یھلکم بعذابہ “۔ بنی طے کا استعمال یہ ہے کہ مریض کو غاوی کہتے ہیں ۔ جیسا کہ محاورہ ہے ” اصبح فلان غاویا “۔ ، یعنی مریضا : بہرحال یہ انداز بیان ہے ، ورنہ مقصود یہ نہیں کہ اللہ کو گمراہی پسند ہے ، اللہ اگر گمراہی چاہتا ہے تو پھر یہ بعث انبیاء اور ارسال کتب کا کیا مطلب ہے ؟ ۔ حل لغات : جادلتنا : بحث و تکرار ۔ اجرامی : میرا گناہ ۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور تو ہماری وحی کے موافق اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا ، اور ہم سے ظالموں کی نسبت نہ بول ، کہ وہ غرق ہوں گے (ف 1) ۔

(ف 1) نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جب بہت زیادہ مخالفت کی اور پندوعظ سے کامل بیزاری کا اظہار کیا ، تو اللہ کا غضب بھڑکا ، ارشاد ہوا ، کشتی طیار کرو ، ایک عذاب بھیجا جائے گا ، جس سے یہ ہمکنار ہوں گے اور بچ نہیں سکیں گے ، اور جو لوگ اس قابل ہیں کہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جائیں ، ان کے متعلق سفارش نہ کی جائے ، کیونکہ منشاء ایزدی یہ ہے کہ کفر کا مکمل استیصال کردیا جائے ، اور انہیں بتا دیا جائے کہ خدا کی زمین پر ایسے مجرموں کو بےصرف اور آسائش سے رہنے کا کوئی حق نہیں ، اللہ تعالیٰ زمین کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کرنا چاہتا ہے ۔ ” ربا عیننا “۔ سے غرض نگرانی ہے یعنی ہماری ہدایات کے مطابق یہ مجازی استعمال ہے ، قرآن حکیم ہیں اس نوع کے جس قدر الفاظ وارد ہوئے ہیں ، سب میں مجازی رنگ ہے ، ورنہ وہ تو خود آنکھیں بخشتا ہے ، اور آنکھوں میں نور پیدا کرتا ہے اسے آنکھوں کی حاجت نہیں ، وہ بغیر آلات وجوارح کے کامل ہے ۔
Ayahs 11:38–39

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ کشتی بناتا تھا ، اور اس کی قوم کے سردار جب اس پر سے گزرتے ، تو اس پر ہنستے ، نوح (علیہ السلام) نے کہا اگر تم ہم پر ہنستے ہو ، تو ہم تم پر ہنسیں گے ، جیسے تم ہنستے ہو (ف 2) ۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

سو عقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا ، کہ وہ کون ہے جس پر رسوائی کا عذاب آئے گا ، اور اس پر دائمی عذاب اترے گا ۔

(ف 2) نوح (علیہ السلام) نے جب کشتی بنانا شروع کیا تو قوم مذاق اڑانے لگی ، ان کے خیال میں یہ مجنونانہ حرکت تھی ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہایت استقلال اور وثوق کے ساتھ کہا ، اس وقت تم ہنس لو ، عنقریب وقت آنے والا ہے ، جب تمہیں اس تمسخر کی سزا دی جائے گی ، اس وقت تمہاری حماقت ونادانی پرہ میں ہنسی آئے گی ، اور زمین وآسمان کا ذرہ ذرہ تمہاری بربادی کا مضحکہ آڑائے گا ، حل لغات : فلا تبتئس : بوس سے مشتق ہے یعنی تکلیف نہ محسوس نہ کر ۔ مقیم : دائمی ۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا ، اور تنور نے جوش مارا تو ہم نے کہا کہ ہر قسم کے دو عدد جوڑا اور سوائے اس کے جس کی نسبت پہلے حکم ہوچکا ہے ، (اور) اپنے اہل کو ، اور جو ایمان لایا ہو (سب کو) اس کشتی میں چڑھاؤ اور اس کے ساتھ ایماندار تھوڑے تھے (ف 1) ۔

تنور کے مختلف معنی : (ف 1) تنور کے کئی معنے ہیں :۔ 1۔ سطح ارض ، ابن عباس ؓ عکرمہ زہری ، اور ابن عیینہ اسی کے قائل ہیں ۔ 2۔ روٹی پکانے کا تنور ، (مجاہد عطیہ وحسن کا مذہب ہے) ۔ 3۔ کشتی میں پانی جمع ہونے جانے کی جگہ ، (بعض کا خیال ہے) 4۔ طلوع فجر سے کنایہ ہے ، (حضرت علی ؓ سے مروی ہے) 5۔ مسجد کوفہ ۔ (شعبی حلف اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ ابتدا میں پانی کوفہ کی مسجد سے پھوٹا ۔ 6۔ اونچی جگہیں ، (قتادہ کا ارشاد ہے ) ۔ 7۔ ایک چشمہ کا نام ہے ، جو ارض شام میں واقع ہے ۔ 8۔ ہندوستان کی جگہ جہاں حضرت حواء روٹیاں پکایا کرتیں ۔ پہلے معنی لغت وادب کے زیادہ قریب ہیں ، مقصد یہ ہے کہ جب اللہ کا عذاب نازل ہوا ززمین سے سوتے چل نکلے ، اور زمین شق ہوگئی ۔ (آیت) ” من کل زوجین “۔ سے غرض یہ ہے کہ ضروریات کے جانور اپنے ساتھ لے لو ، تاکہ نسل باقی ہے ، یہ عذاب مقامی تھا : نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے ساری دنیا کے لئے قرآن میں ثبوت نہیں ۔