11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 11:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں۔

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم کو ایک وقت مقرر تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور صاحب بزرگی کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب سے ڈر ہے۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

آیات نمبر 1 تا 4 اللہ تعالیٰ کا ارشاد الٓرٰ اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ کتٰبٌسے مراد ھذا کتاب ہے۔ احکمت اٰیٰتہٗ یہ محل رفع میں ہے کتاب کی صفت ہے۔ احکمت اٰیٰتہٗ کے معنی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سب سے عمدہ قول حضرت قتادہ کا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس سارے کے سارے کو محکم بنا دیا گیا ہے نہ اس میں کوئی خلل ہے اور نہ ہی یہ باطل ہے۔ الاحکام سے مراد کلام کا فساد سے محفوظ ہوتا ہے یعنی اس کی نظم، نظم محکم ہے نہ اس میں تناقض ہے اور نہ کوئی خلل۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ اس سے مراد ہے کہ کسی کتاب نے اس کو منسوخ نہیں کیا بخلاف تورات اور انجیل کے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اس کی بعض آیات کو اس طرح مضبوط بنا دیا گیا ہے کہ وہ ناسخ تو ہیں منسوخ نہیں۔ اس بارے میں گفتگو پہلے ہوچکی ہے (ایتہ سے بعض آیات مراد لینے کی وضاحت کرتے ہیں) بعض اوقات اسم جنس کا اطلاق نوع پر بھی ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے : اکلت طعام زید تو اس سے مراد زید کا بعض کھانا ہوتا ہے۔ حسن اور ابوالعالیہ نے کہا کہ اس کی آیات کو امر اور نہی کے ذریعے مضبوط بنایا گیا ہے۔ ثم فصلت یعنی وعدے، وعید، ثواب اور عقاب کے ساتھ اس کی وضاحت بیان کی گئی۔ قتادہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے باطل سے اس کو (محفوظ کرکے) پختہ کیا پھر حلال و حرام کے ساتھ اس کی وضاحت فرمائی (1) مجاہد نے کہا : اس کو مکمل طور پر مضبوط کیا گیا پھر توحید، نبوت، بعث بعدالموت اور دیگر عقائد پر حسب ضرورت دلیل کو ایک ایک آیت کرکے بیان کیا گیا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ لوح محفوظ میں اس کو جمع کیا گیا پھر نزول میں تفریق کی گئی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ فصلت سے مراد یہ ہے کہ ایک ایک آیت کرکے نازل کیا گیا تاکہ اسمیں غور وفکر کیا جاسکے۔ عکرمہ نے اس کو فصلت بصورت تخفیف پڑھا ہے۔ اس سے مراد ہوگا حکمت بالحق۔ من لدن، لدن بمعنی عند ہے۔ حکیم سے مراد امور کو پختہ کرنے والی ذات ہے اور خبیر سے مراد وہ ذات ہے جو باخبر ہے ہر اس کام سے جو ہوچکا اور جو نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : الا تعبدوالا اللہ کسائی اور فراء نے کہا کہ الا اصل میں بأ لّا ہے یعنی اس کو پختہ کیا گیا پھر اس کی تفصیل بیان کی گئی اس کے ساتھ کہ تم سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہ کرو۔ زجاج نے کہا کہ یہ لئلا ہے یعنی اس کو پختہ کیا گیا پھر اس کی تفصیل بیان کی گئی تاکہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو ارشاد فرمائیں کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ ، منہ کی ہ ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یعنی اللہ سے۔ نَذِیْرٌ یعنی اس کی نافرمانی کرنے والے کو اس کے عذاب اور اس کی سطوت سے ڈرانے والا۔ بَشِیْرٌ اس کی اطاعت کرنے والے کو رضا اور جنت کی خوشخبری سنانے والا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اول و آخر اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں سے ہے یعنی تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بیشک میں تمہیں اس سے ڈرانے والا ہوں، مراد یہ ہے کہ اللہ تمہیں غیر کی عبادت سے ڈرانے والا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَیُحَذِّرُ کُم اللہُ نَفْسَہٗ (آل عمران : 28) اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ پہلے پر اس کا عطف ہے۔ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یعنی اللہ کی طرف لوٹو اطاعت اور عبادت کے ساتھ۔ فراء نے کہا : یہاں ثُمَّ واؤ کے معنی میں ہے یعنی تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ کیونکہ استغفار ہی توبہ ہے اور توبہ ہی استغفار ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ تم اپنے پہلے گناہوں سے استغفار کرو اور نئے گناہ سے اس کی بارگاہ میں توبہ کرو جب تم سے سرزد ہو۔ بعض صلحاء نے کہا کہ گناہ کو چھوڑے بغیر استغفار کرنا یہ جھوٹے لوگوں کی توبہ ہے۔ یہ معنی مکمل طور پر سورة آل عمران میں گزرچکا ہے۔ اور سورة بقرہ میں ولا تتخذوٓا اٰیت اللہ ھزوا (البقرۃ :231) کے تحت گزر چکا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے استغفار کے ذکر کو مقدم فرمایا ہے کیونکہ مغفرت غرض مطلوب ہے اور توبہ اس کا سبب ہے پس مغفرت مقصود میں اوّل ہے جبکہ سبب میں آخر۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ اسکا معنی یہ ہو کہ تم صغیرہ گناہوں سے استغفار کرو اور کبیرہ گناہوں سے توبہ کرو۔ یمتعکم متاعا حسنایہ استغفار اور توبہ کا ثمر ہے یعنی وہ تم کو رزق کی وسعت اور زندگی کی خوشحالی سے منافع کے ذریعے لطف اندوز کرے گا اور تمہیں عذاب کے ذریعے جڑ سے نہیں اکھیڑے گا جس طرح اس نے ان کے ساتھ کیا جن کو اس نے تم سے پہلے ہلاک کردیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اور توبہ کا ثمر ہے یعنی وہ تم کو رزق کی وسعت اور زندگی کی خوشحالی سے منافع کے ذریعے لطف اندوز کرے گا اور تمہیں عذاب کے ذریعے جڑ سے نہیں اکھیڑے گا جس طرح اس نے ان کے ساتھ کیا جن کو اس نے تم سے پہلے ہلاک کردیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمتعکم سے مراد یہ ہے کہ وہ تم کو عمر دے گا۔ الامتاع کی اصل لمبا کرنا ہے (طوالت دینا) ہے۔ اس سے امتع اللہ بک ومتع بہ (درازی عمر کی دعا) ہے۔ سہل بن عبداللہ نے کہا المتاع الحسن مخلوق کو ترک کرنا اور حق کی طرف توجہ دینا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد موجود پر قناعت کرنا اور مفقود پر پریشانی کو ترک کرنا ہے۔ الٰی اجل مسمی ایک قول یہ ہے کہ اجل مسمی سے مراد موت ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد قبر اور اس کے علاوہ قیامت کی ہولناکیوں اور قیامت میں خوف دلانے والے امور اور ہر ناپسندیدہ چیز سے بچانا ہوگا۔ پہلا معنی (یعنی موت) زیادہ ظاہر ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی وجہ سے ویٰقوم استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یرسل السماء علیکم مدرارًاویزدکم قوۃ الٰی قوتکم یہ (معاملہ) موت کی وجہ سے ختم ہوگا اور یہی اجل مسمی ہے۔ واللہ اعلم۔ مقاتل نے کہا کہ انہوں نے انکار کیا پس رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف دعا کی وہ سات سال قحط میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ انہوں نے جلی ہوئی ہڈیاں، گندگی، مردار اور کتوں کو کھایا۔ ویوت کل ذی فصل فضلہ یعنی وہ نیک اعمال میں سے ہر صاحب عمل کو اس عمل کی جزا دے گا۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ بندہ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر فضیلت پاگئیں اس کو وہ اپنا فضل یعنی جنت دے گا اور یہی اللہ کا فضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فضلہٗ میں ہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ مجاہد نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے کلام میں سے جو وہ اپنی زبان سے کرتا ہے یا عمل میں سے جو وہ اپنے ہاتھ یا پاؤں کے ذریعے کرتا ہے جس کو شمار کرتا ہے یا اپنے مال میں سے جس بطور صدقہ دیتا ہے پس وہ اللہ کا فضل ہے۔ وہ اس کو (اس کا اجر) دیتا ہے اگر وہ ایمان لائے اور اس کو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں کرتا اگر وہ کافر ہو تو وان تولوافانی اخاف علیکم عذاب یومٍ کبیر۔ یومٍ کبیرٍسے مراد قیامت کا دن ہے۔ یہ دن بڑا ہوگا اس میں واقع ہونے والی ہولناکیوں کی وجہ سے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد یوم بدر (1) اور اس کے علاوہ (غزوات کے ایام) ہیں۔ وتولوایہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ماضی کا صیغہ ہو اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اگر وہ روگرداں رہے تو آپ ان کو فرمادیں کہ میں تم پر اندیشہ کرتا ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مضارع کا صیغہ ہو اور اس کی ایک تاکو حذف کردیا گیا ہو پھر معنی یہ ہوگا کہ آپ ان کو فرمادیں کہ اگر تم نے روگردانی کی تو میں تم پر اندیشہ کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : الی اللہ مرجعکم یعنی موت کے بعد، وھو علٰی کل شی ءٍ قدیر یعنی ثواب اور عقاب میں سے ہر چیز پر وہ قادر ہے۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سُن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے۔

آیات نمبر 5 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : الآانھم یثنون صدورھم لیستخفوامنہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور مومنین کے ساتھ مشرکین کے رویے کی خبر دی اور وہ (مشرکین) یہ گمان کرتے کہ ان کے حالات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہیں یثنون صدورھم سے مراد یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی عداوت و دشمنی کے جذبات کو لپیٹتے (یعنی چھپاتے) ہیں اس میں علی عداوۃ المسلمین کے الفاظ حذف ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ وہ اپنے سینوں میں موجود بغض اور دشمنی کو چھپاتے ہیں اور اس کے برعکس ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ ایک شیریں لسان اور شیریں کلام آدمی تھا نبی کریم ﷺ کو پسندیدہ طریقے سے ملتا اور آپ کے لیے اپنے دل میں موجود برے جذبات کو چھپالیتا (1) ۔ مجاہد نے کہا کہ یثنون صدورھم کہ وہ اپنے سینوں کو دہرا کرلیتے شک اور شبہ کی وجہ سے۔ اور حسن نے کہا کہ وہ اپنے سینوں میں موجود کفر کو چھپالیتے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت بعض منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرتے تو بعض منافقین اپنا سینہ اور اپنی پیٹھ دہری کرلیتے، اپنے سر کو جھکا لیتے اور اپنے چہرے کو ڈھانپ لیتے تاکہ نبی کریم ﷺ ان کو دیکھ کر ایمان کی دعوت نہ دے دیں اس کا معنی عبداللہ بن شداد نے بیان کیا ہے۔ منہ میں ہ ضمیر کا مرجع نبی کریم ﷺ کی ذات پاک ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ منافقین نے کہا کہ جب ہم اپنے دروازے بند کرلیں گے، اپنے کپڑے خوب اوڑھ لیں گے اور اپنے سینے محمد ﷺ کی دشمنی پر دہرے کرلیں گے تو ہمیں کون جانے گا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک قول یہ ہے کہ مسلمانون میں سے کچھ لوگ اپنے بدنوں کو ڈھانپ کر عبادت کرتے اور آسمان کے نیچے اپنے بدنوں کو ظاہر نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ عبادت تو وہ ہے جس پر ان کے دل قائم ہیں عقیدت میں سے اور جس کو وہ اپنے قول اور عمل کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ ابن جریر نے محمد بن عباد بن جعفر سے روایت بیان کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ الا انھم تثنون صدورھم لیستخفوا منہ کہ وہ آسمان کی طرف کھلے ہونے کی حالت میں نہ اپنی بیویوں سے جماع کرتے اور نہ ہی پیشاب کرتے (1) ، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ محمد بن عباد کے علاوہ (کسی اور نے) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ الاانھم تثنون صدورھم یعنی واو کے بعد بغیر نون کے ہے تنصٰوی کے وزن پر۔ تثنوی کا معنی اور آخری دونوں قرائتیں قریب قریب ہیں، کیونکہ وہ خود تو دہرا نہیں ہوتا جب کہ وہ اس (سینہ) کو دہرانہ کریں۔ اور ایک قول یہ کہ مسلمانوں پر طعن کرتے ہوئے سرگوشیاں کرتے تو ایک دوسرے پر جھک جاتے اور اپنی جہالت کی وجہ سے یہاں تک پہنچ گئے کہ وہ یہ سمجھتے کہ ان کا یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی مخفی ہے۔ یستخفوا سے مراد ہے کہ تاکہ وہ وجہ اس سے چھپالیں یعنی محمد ﷺ سے یا اللہ تعالیٰ سے۔ الا حین یستغشون ثیابھم یعنی وہ اپنے کپڑوں کے ذریعے اپنے سروں کو ڈھانپتے۔ قتادہ نے کہا کہ بندے کی سب سے زیادہ پوشیدگی والی حالت تب ہوتی ہے جب وہ اپنی پیٹھ کو جھکائے، اپنے کپڑے اوڑھ لے اور اپنے دل میں اپنے غم کو چھپالے۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی چلنے پھر نے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے۔ وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔

آیت نمبر 6 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومامن دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا اس میں ما نافیہ ہے اور من زائدہ ہے اور دابۃ محل رفع میں ہے تقدیر عبارت میں دمادابۃ ہے۔ الا علی اللہ رزقھا، علی بمعنی من ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا رزق ہے اس پر مجاہد کا قول دلالت کرتا ہے کہ رزق میں سے جو کچھ بھی آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے (3) ۔ ایک قول یہ ہے کہ علی اللہ مراد اللہ کے فضل کے طور پر ہے نہ کہ اس سے وجوب مراد ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کی طرف سے سچے وعدے کے طور پر ہے۔ اس معنی کا بیان ” سورة النساء “ میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کوئی چیز واجب نہیں۔ رزقھا مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے کہ کو فیوں کے نزدیک صفت ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ آیت کا ظاہر عموم پر دلالت کررہا ہے جبکہ اس کا معنی مخصوص ہے، کیونکہ (دواب) جانداروں میں سے بہت سارے رزق دیے جانے سے پہلے ہی ہلاک ہوگئے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ عام ہے ہر ایک کے بارے میں ہے اور ہر وہ جاندار جس کو ایسا رزق نہ دیا گیا جس کے ساتھ وہ زندگی گزارتا تو اس کی روح کو رزق دیا گیا۔ اور ماقبل کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام کے رزق کی خبر دی اور وہ ذات اس چیز کی تربیت سے غافل نہیں تو اے گروہ کفار ! تمہارے حالات اس پر کیسے مخفی ہوسکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تمہیں رزق دیتا ہے ؟ الدابۃ سے مراد ہر وہ حیوان ہے جو رینگ کر چلتا ہے اور حقیقت میں رزق وہ ہے جس کے ذریعے زندہ کو غذا دی جاتی ہے اور اس میں اس کی روح کی بقا اور اس کی نشوونما ہوتی ہے۔ رزق کا معنی ملک ہونا صحیح نہیں کیونکہ جانروں کو رزق دیا جاتا ہے جبکہ ان کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ اپنے چارے کے مالک بھی ہیں۔ اسی طرح بچوں کو دودھ بطور رزق دیا جاتا ہے مگر یہ نہیں کہا جاتا کہ پستان میں دودھ ہے وہ بچے کی ملکیت ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وفی السماء رزقکم (الذاریات :22) کہ آسمان میں تمہارا رزق ہے حالانکہ آسمان میں ہماری کوئی ملکیت نہیں۔ اور اس وجہ سے بھی کہ رزق اگر ملکیت ہوتا تو جب کوئی آدمی کسی غیر کی ملکیت میں سے کھاتا تو وہ کسی غیر کے رزق میں سے کھاتا حالانکہ یہ محال ہے، کیونکہ بندہ صرف اپنا ہی رزق کھاتا ہے۔ سورة بقرہ میں یہ معنی گزرچکا ہے۔ والحمداللہ۔ کسی آدمی کو کہا گیا : تو کہاں سے کھاتا ہے ؟ تو اس نے کہا : جس نے چکی کو پیدا کیا ہے وہ اپنے پیسنے کے ذریعے دیتا ہے اور وہ ذات جس نے وادیوں کے کناروں کو وسیع کیا وہی رزق پیدا کرنے والا ہے۔ ابوأسید کو کہا گیا کہ تو کہاں سے کھاتا ہے ؟ تو اس نے کہا : پاک ہے وہ ذات اورت اللہ کی ذات اور اللہ سب سے بڑا ہے ! اللہ تعالیٰ کتے کو رزق دیتا ہے تو کیا وہ ابوأسید کو رزق دے گا۔ حاتم الاصم کو کہا گیا : تو کہاں سے کھاتا ہے ؟ تو اس نے کہا : اللہ کی طرف سے، اس کو کہا گیا : اللہ تمہارے لیے آسمان سے دراہم اور دنیار اتارتا ہے ؟ تو اس نے کہا : گویا اس کا صرف آسمان ہے یا یہ زمین بھی اس کی ہے اور آسمان بھی اس کا ہے۔ پس اگر وہ آسمان سے مجھے میرا رزق نہ دے تو وہ اسے زمین میں سے میرے لیے بھیج دیتا ہے اور اس نے یہ شعر پڑھا۔ وکیف اخاف الفقر واللہ رازقی و رازق ھذا الخلق فی العسر ولیسما تکفل بالارزاق للخلق کلھم ولضب فی البیداء والحوت فی البحر اور مجھے فقر کا کیا خوف اس حال میں کہ اللہ میرا رازق ہے اور وہ اس مخلوق کا رازق ہے تنگی اور خوشحالی میں۔ وہ ساری مخلوق کے رزق کا کفیل ہے، وہ گوہ کے رزق کا کفیل ہے اس کے بل میں اور مچھلی کے رزق کا کفیل ہے سمندر میں۔ حکیم ترمذی نے ” نوادرلاصول “ میں اپنی سند کے ساتھ حضرت زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا ہے کہ اشعریوں کی ایک جماعت جو حضرت موسیٰ ، حضرت ابومالک اور حضرت ابو عامر ؓ پر مشتمل تھی۔ جب انہوں نے ہجرت کی اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ سفر میں جو کھانا تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھانے کا سوال کرنے کے لئے ایک شخص کو بھیجا وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر پہنچا تو انہوں نے ایک آدمی کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا : وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا ویعلم ھا ومستودعھاؕ کل فی کتب مبین اس شخص نے کہا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک اشعریوں کی بہ نسبت چوپایوں کو رزق دینا زیادہ آسان تو نہیں ہے۔ وہ واپس آگیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس نہیں گیا اور اس نے اپنے اصحاب سے کہا : تم کو خوشخبری ہو تمہارے پاس مدد آنے والی ہے۔ اس کے اصحاب نے یہی سمجھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا ہوگا اور آپ نے کھانا بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہوگا، اسی دوران دو آدمی ان کے پاس برتنوں میں کھانا لے کر آگئے جن میں گوشت کا سالن اور روٹیاں تھیں۔ انہوں نے سپرد ہو کر کھانا کھایا، پھر اس شخص نے اپنے بعض اصحاب سے کہا : تم یہ کھانا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤ کیونکہ ہم پیٹ بھر کر کھاچکے ہیں، پھر جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمارے لیے جو کھانا بھیجا تھا اس سے عمدہ اور لذیذ کھانا ہم نے کبھی نہیں کھایا۔ آپ نے فرمایا :” میں نے تو تمہیں کوئی کھانا نہیں بھیجا “۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو آپ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس نے کیا کیا تھا اور اپنے اصحاب سے کیا کہا تھا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تم کو اللہ نے یہ رزق دیا تھا “۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : ویعلم مستقرھازمین میں سے جہاں اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ ومستودعھا یعنی وہ جگہ جس میں وہ مرے گا اور اس کو دفن کیا جائے گا۔ یہ بات مقسم نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہی ہے۔ اور ربیع بن انس نے کہا کہ مستقرھا سے مراد اس کی زندگی کے دن ہیں۔ ومستودعھا سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ مرے گا اور جہاں سے اٹھایا جائے گا۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مستقرھا سے مراد رحم (مادر) ہے۔ ومستودعھا سے مراد صلب (باپ) ہے۔ اور ایک قول یہ ہے یعلم مستقرھا سے مراد جنت یا دوزخ میں (ان کا ٹھکانہ ہے) اور مستودعھا سے مراد قید میں (ٹھکانہ ہے) اہل جنت اور اہل دوزخ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد حسنت مستقرا ومقامًا۝(الفرقان) اور سآءت مستقرا ومقامًا۝(الفرقان) اس (معنی) پر دلالت کرتا ہے۔ کل فی کتبٍ مبین یعنی لوح محفوظ میں۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

آیت نمبر 7 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وھو الذی خلق السمٰوٰت والارض فی سیتۃ ایام اس کا بیان ” سورة اعراف “ میں گزر چکا ہے۔ والحمدللہ۔ وکان عرشہ علی المآء اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ عرش اور پانی کی تخلیق، زمین اور آسمان کی تخلیق سے پہلے ہے۔ حضرت کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سبز یاقوت پیدا فرمایا پھر جلال کے ساتھ اس کی طرف دیکھا تو وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے کا نپتا ہوا پانی ہوگیا۔ اس وجہ سے ابھی تک پانی مضطرب رہتا ہے اگرچہ وہ رکا ہوا ہی ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے ہوا کو پیدا فرمایا اور پانی کو ہوا کی پشت پر رکھ دیا پھر عرش کو پانی پر رکھ دیا۔ سیعد بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا : ان سے اللہ تعالیٰ عزوجل کے ارشاد وکان عرشہ علی الماء کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا : پانی کس چیز پر تھا ؟ تو آپ نے فرمایا : ہوا کہ پشت پر۔ امام بخاری نے عمران بن حصین سے روایت کیا : انہوں نے کہا : میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ آپ ﷺ کے پاس بنوتمیم کے لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا :” اے بنو تمیم ! بشارت کو قبول کرو “۔ انہوں نے کہا : آپ ہمیں بشارت تو دے چکے ہیں اب ہم کو عطا فرمائیں۔ (یہ مکالمہ دو بار ہوا) پھر اہل یمن میں سے کچھ لوگ آئے، آپ نے فرمایا :” اے اہل یمن ! بشارت کو قبول کرو اگرچہ بشارت کو بنوتمیم نے قبول نہیں کیا “۔ انہوں نے کہا : ہم نے قبول کرلیا، ہم آئے تاکہ ہم دین کے بارے میں سمجھیں اور تاکہ ہم آپ کے پاس اس امر (دنیا) کے متعلق پوچھیں کہ وہ کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تھا اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا پھر اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا اور ذکر (لوح محفوظ) میں اس نے ہر چیز لکھ دی۔ پھر میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے کہا : اے عمران ! اپنی اونٹنی پکڑ وہ تو چلی گئی ہے۔ میں اس کی تلاش میں نکلا تو وہ میرے سامنے والے سراب کو عبور کرچکی تھی اور اللہ کی قسم ! میں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ چلی گئی اور میں (نبی کریم ﷺ کی مجلس سے) نہ اٹھوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : لیبلوکم ایکم احسن عملا یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا فرمایا تاکہ اپنے بندوں کو اپنی قدرت کے کمال اور بعث بعد الموت پر استدلال اور نصیحت کے ذریعے آزمائے۔ قتادہ نے کہا : ایکم احسن عملا کا معنی ہے تم میں سے از روئے عقل کے کون زیادہ کامل ہے ؟ حضرت حسن اور سفیان ثوری نے کہا : تم میں سے دنیا میں سب سے زیادہ زہد والا کون ہے ؟ اور بیان کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک سوئے ہوئے آدمی کے پاس سے گزرے تو فرمایا : اے سونے والے اٹھ اور عبادت کر، اس نے کہا : اے روح اللہ ! میں عبادت کرچکا۔ آپ نے فرمایا : تم نے کس طرح عبادت کی ؟ اس نے کہا : میں نے دنیا کو اس کے اہل کے لئے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا : تو سو جا تو نے عبادت گزاروں پر فوقیت حاصل کرلی ہے۔ ضحاک نے کہا : تم میں سب سے زیادہ شکر ادا کرنے والا کون ہے ؟ مقاتل کے نزدیک تم میں سے اللہ سے زیادہ ڈرنے والا کون ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تم میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں سب سے زیادہ عمل کرنے والاکون ہے ؟ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا گیا نبی کریم ﷺ نے ایکم احسن عملًاکی تلاوت فرمائی۔ آپ نے فرمایا : ” تم میں سے ازروئے عقل کے کون بہتر ہے، اللہ تعالیٰ کے محارم سے کون زیادہ بچنے والا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کون سب سے زیادہ جلدی کرنے والا ہے ؟ تمام تاویلات کو جمع کردیا گیا ہے۔ یہ انشاء اللہ ” سورۂکہف “ میں بھی آئے گا۔ جب کہ ابتلا کا معنی پہلے گزرچکا ہے۔ ولئن قلت انکم مبعوثون یعنی اے محمد ﷺ ! آپ بعث بعد الموت پر رہنمائی فرمائیں۔ بعث بعد الموت کو مشرکین کے سامنے ذکر کریں تو وہ کہیں گے : یہ جادو ہے۔ انکم میں ان مکسور ہے کیونکہ یہ قول کے بعد واقع ہے اور سیبویہ نے فتحہ بیان کیا ہے (یعنی انکم) لیقولن الذین کفروٓا، لیقولن لام مفتوح ہے کیونکہ یہ ایسا فعل مقدم ہے جس میں ضمیر نہیں ہے اور اس کے بعد لیقولن ہے کیونکہ اس میں ضمیر ہے۔ وسحر یعنی غرور اور باطل ان کے نزدیک جادو کے باطل ہونے کی وجہ سے۔ حمزہ اور کسائی نے ان ھٰذآ الا سحر مبین پڑھا ہے، نبی کریم ﷺ سے کنایۃً ۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب کو روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزأ کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔

آیت نمبر 8 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولین اخرنا عنھم العذاب الٰٓی امۃ معدودۃ، لین میں ” لام “ قسم کا ہے اور لیقولن کا ” لام “ جواب قسم ہے۔ الٰٓی امۃٍ کا معنی مدت اور معلوم زمانے تک، یہاں امۃٍ کا معنی مدت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد، قتادہ اور جمہور مفسرین نے یہی کہا ہے۔ اور امۃٍکی اصل جماعت ہے اور حین اور سنین کو امۃٍکے ساتھ تعبیر کیا گیا کیونکہ امۃٍاس میں ہوتی ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا مضاف الیہ حذف ہے اور معنی ہے الی مجئ امۃ جس میں کوئی ایسا نہیں جو ایمان لاتا پس وہ ہلاکت کے مستحق ہوجاتے یا الی انقراض امۃ یعنی ایسی امت کے گزرنے تک جس میں وہ ہے جو ایمان لاتا ہے پس اس کے گزرنے کے بعد ایمان لاتا وہ باقی نہ رہتا، اور امت مشترک ہے اس کی آٹھ صورتیں بنتی ہیں۔ امت جماعت ہوتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی وجد علیہ امۃً من الناس (القصص :23) اس پر اس نے لوگوں کی جماعت کو پایا۔ اور امت انبیاء (علیہم السلام) کے پیروکاروں کو بھی کہتے ہیں، امت سے مراد بھلائی کا وہ جامع آدمی ہے جس کی اقتدا کی جاتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ان ابرٰھیم کان امۃً قانتا للہ حنیفًا (النحل :120) بیشک ابراہیم ایک امت تھے، اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار۔ امت سے مراد دین اور ملت ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشادانا وجدنآ اٰبآء نا علٰٓی امۃٍ (الزخرف : 22) ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا۔ امت سے مرادحین اور زمان ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ولین اخرنا عنھم العذاب الٰٓی امۃٍ معدودۃٍ اور اگر ہم ملتوی کردیں عذاب کچھ عرصہ تک اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد واد کر بعد امۃٍ (یوسف : 45) امت سے مراد قدوقامت بھی ہے اس سے مراد انسان کی لمبائی اور اس کی بلندی ہے، اسی سے کہا جاتا ہے : فلاں حسن الامۃ یعنی فلاں اچھی قامت والا ہے۔ اور امت سے مرادوہ آدمی بھی ہے جو اپنے دین میں منفرد ہو اس میں کوئی بھی اس کا شریک نہ ہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا یبعث زیدبن عمرو بن نفیل امۃً وحدہ زید بن عمرو بن نفیل کو اٹھایا جائے گا۔ امت سے مراد ماں (الام) ہے کہا جاتا ہے : ھذہ امۃ زید یعنی زید کی ماں۔ لیقولن مایحبسہ یعنی عذاب۔ انہوں نے یہ یا تو اس عذاب کی تکذیب کرتے ہوئے کہا ان سے اس عذاب کے مؤخر ہونے کی وجہ سے یا پھر جلدی کرتے ہوئے اور استہزا کرتے ہوئے کہا، اس سے مراد یہ ہے : کس چیز نے ہم سے اس کو روکے رکھا۔ الا یوم یاتیھم لیس مصروفا عنھم کہا گیا ہے : یہ غزوۂ بدر میں مشرکین کا قتل ہے، اور جبرئیل کا قتل کرنا ہے ان مذاق کرنے والوں کو جس طرح کہ بعد میں آئے گا۔ وحاق بھم یعنی وہ نازل ہوا اور اس نے احاطہ کیا۔ ماکانوابہ یستھزءون یعنی جزا اس کی جس کا وہ مذاق کیا کرتے تھے۔ اس میں مضاف محذوف ہے۔
Ayahs 11:9–11

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اسکو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا ہے )

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بیشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنیوالا ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

آیت نمبر 9 تا 11 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولئن اذقناالانان منارحمۃ، الانانتمام کفار کے بارے میں جنس کے لیے مشترک نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں انسان سے مراد ولید بن مغیرہ ہے اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی۔ رحمۃ یعنی بطور نعمت۔ ثم نزعنٰھا منہ یعنی ہم اس (نعمت) کو اس سے سلب کرلیں گے۔ انہ لیوس یعنی رحمت سے مایوس ہونے والا۔ کفور یعنی نعمتوں کا انکار کرنے والا۔ ابن اعرابی نے یہ کہا ہے۔ نحاس نے کہا : لیؤوس، یئس ییآس سے ہے۔ سیبویہ نے کہا : یئس ییآس اور یآس ییئس ہے اور بعض کہتے ہیں : یئس یییس ہے۔ کلام عرب میں سوائے ان چار حروف کے سالم سے فعل یفعل کے وزن پر کوئی اور صیغہ نہیں جانا گیا اور ان میں سے ایک میں اختلاف ہے اور وہ ہے یئیس ویؤوسکثرت کے طور پر جس طرح مبالغہ کے لیے فخورآتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولئن اذقنٰہ نعماء یعنی صحت، خوشحالی اور رزق میں وسعت بعد ضرآء مستہ یعنی نقصان، فقر اور شدت کے بعد۔ لیقولن ذھب السیاٰت عنی یعنی وہ غلطیاں جو غلطی کرنے والے کو بری لگتی ہیں نقصان اور فقر میں سے۔ انہ لفرح فخور یعنی وہ خوش ہوتا ہے اور وسعت میں سے جو کچھ اس کو ملا اس کی وجہ سے فخر کرتا ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا بھول جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے۔ رجل فاخرجب وہ فخر کرے اور فخورمبالغہ کے لیے ہے۔ یعقوب القاری نے کہا : بعض اہل مدینہ نے لفرحپڑھا ہے را کے ضمہ کے ساتھ جس طرح کہا جاتا ہے : رجل فظن وخذروندس۔ اور ان دونوں لفظوں کو ساکن کرنا بھی جائز ہے ضمہ اور کسرہ کے ثقیل ہونے کی وجہ سے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : الا الذین صبروا یعنی مومنین، اللہ تعالیٰ نے شدائد پر صبر کی وجہ سے ان کی تعریف فرمائی اور یہ محل نصب میں ہے۔ اخفش نے کہا : یہ استثنا ہے مگر پہلے میں سے نہیں، یعنی لیکن وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور نعمت اور محنت دونوں حالتوں میں نیک عمل کیے۔ فراء نے کہا : یہولئن اذقناہ سے استثنا ہے یعنی انسان سے پس انسان باس (لوگ) ہے۔ اور الناس کافر اور مومن دونوں کو شامل ہے پس یہ استثنا متصل ہے اور یہ عمدہ ہے۔ اولٓئک لھم مغفرۃ یہ مبتدا اور خبر ہے۔ و اجرمعطوف ہے۔ کبیر اس کی صفت ہے۔
Ayahs 11:12–13

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو ۔ اس (خیال) سے تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا ؟ یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ (اے محمد) تم تو صرف نصیحت کرنیوالے ہو اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن از خود بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ خدا کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا بھی لو

آیت نمبر 12 تا 13 اللہ تعالیٰ کا فرمان : فلعلک تارک بعض مایوحٰٓی الیک یعنی شاید آپ ان کی طرف سے جو کفر اور تکذیب دیکھتے ہیں اس کو بڑا خیال کریں اور یہ گمان کریں کہ وہ آپ کو وحی کے بعض حصہ سے ہٹا دیں گے۔ ایک قول یہ ہے : جب انہوں نے کہا لو لا انزل علیہ کنز اوجآء معہ ملکتو آپ نے ارادہ فرمایا کہ آپ ان کے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ کلام کا معنی استفہام ہے یعنی کیا آپ چھوڑیں گے جو قرآن میں ان کے بتوں کو برا بھلا کہا گیا ہے جس طرح کہ وہ آپ سے سوال (مطالبہ) کرتے ہیں ؟ اور آپ پر تبلیغ کے سلسلہ میں اللہ ے تعالیٰ نے امر کو اور زیادہ پختہ فرما دیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشادیٰٓایھا الرسول بلغ مآ انزل الیک من ربک (المائدہ :67) اے رسول ! تبلیغ کیجئے اس کی جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ ایک اور قول یہ ہے : کلام کا معنی نفی مع استبعاد ہے (اس بات کو بعید خیال کرنا) یعنی آپ کی طرف سے ایسا نہیں ہوگا بلکہ آپ کی طرف کو نازل کیا گیا آپ اس کو (جوں کا توں) پہنچادیں گے۔ اور یہ اس وجہ سے کہ مشرکین مکہ نے نبی کریم ﷺ کو کہا : اگر آپ ہمارے لیے کوئی ایسی کتاب لے آئیں جس میں ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہا گیا ہو تو ہم آپ کی اتباع کریں گے، تو نبی کریم ﷺ نے ان کے معبودوں کو برا کہنا ترک کرنے کا ارادہ فرمایا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وضآئق بہٖ صدرک، تارک پر عطف ہے اور صدرک اس کی وجہ مرفوع ہے۔ بہٖ کی ہ ضمیر کا مرجع ما ہے یا بعض ہے یا تبلیغ ہے یا پھر تکذیب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ضآئق فرمایا ضیقنہ فرمایا تاکہ یہ تارک جو کہ اس سے پہلے ہے اس کا ہم شکل (ہم وزن) ہوجائے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ضآئق عارض ہے جب کہ ضیق اس سے زیادہ لازم ہے۔ ان یقولوامحل نصب میں ہے یعنی اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ وہ کہیں گے یا اس سے مراد ہے لئلا یقولواتا کہ وہ یہ نہ کہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد یبین اللہ لکم ان تضلوا (النساء :176) یہاں ان تضلوا سے مرادلئلا ے ضلوا ہے یا پھر یہلأن یقولوا ہے۔ لولآ سے مراد ہے ھلا یعنی کیوں نہ۔ انزل علیہ کنزاوجآء معہ ملکجو اس کی تصدیق کرتا، عبداللہ بن ابی امیۃ مخزومی نے یوں کہا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد ﷺ انمآانت نذیر یعنی آپ پر ان کو ڈرانا ہے نہ کہ آپ انکے لیے لائیں ایسی آیات جنکی وہ تجویزیں پیش کرتے ہیں۔ واللہ علیٰ کل شیء وکیل یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبان۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ام یقولون افترٰئہ، امبمعنی بل ہے۔ یہ ” سورۂیونس “ میں گزرچکا ہے یعنی آپ کی نبوت کے بارے میں ان کے اشکال اور ان کے اعتراضات اس قرآن کے ذریعے ختم ہوگئے اور آپ نے اس کے ذریعے ان پر حجت قائم کردی۔ پس اگر وہ کہیں : تو نے اس کو گھڑ لیا ہے یعنی تو نے خود اس کو تخلیق کرلیا ہے۔ پس وہ اپنے گمان کے مطابق اس جیسا گھڑا ہوا لے آئیں۔ وادعوامن استطعتم من دون اللہ کاہنوں اور مددگاروں میں سے جس کو بلاسکتے ہیں بلالیں۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئے۔

آیت نمبر 14 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فالم یسجیبوالکم یعنی معارضیت (چیلنج) کے بارے میں اور یہ اس کے لیے تیار نہیں تو ان پر حجت قائم ہوچکی کیونکہ وہ بلیغ لغت اور فصیح زبان والے ہیں۔ فاعلموٓاانمآانزل بعلم اللہ یعنی تم محمد ﷺ کی سچائی کو جان لو۔ اور جان لووان لا الٰہ الاھو ۚفھل انتم مسلمونیہ استفہام بمعنی امر ہے آیت کے معنی کے بارے میں گفتگو پہلے گزرچکی ہے اور یہ کہ قرآن معجز ہے (مقدمہ کتاب میں) والحمدللہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل فاتوا اور اس کے بعد فالم یستجیبوالکم (اس میں لکم کے بجائے) لک نہیں کہا۔ ایک قول یہ ہے : یہ مخاطب کو بطور تعظیم وتفخیم مفرد سے جمع کی طرف پھیرنا ہے۔ بعض اوقات رئیس کو (ایسے الفاظ کے ساتھ) خطاب کیا جاتا ہے جن ذریعے جماعت کو مخاطب ہوا جاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے لکم اور فاعلموٓا میں ضمیر تمام کے لئے ہے یعنی سب کو جان لینا چاہیے کہ انمآ انزل بعلم اللہ مجاہد نے یوں کہا ہے، اور ایک قول یہ ہے لکما اور فاعلموٓا میں ضمیر مشرکین کے لیے ہے اور معنی یہ ہوگا اگر وہ جن کو تم نے معاونت کی دعوت دی وہ تمہاری دعوت کا جواب نہ دیں اور تمہارے لئے مقابلہ ممکن نہ ہو۔ فاعلموا انمآ انزل بعلم اللہ تو پھر جان لو کہ یہ قرآن محض علم الہٰی سے اتارا گیا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے لکم میں ضمیر نبی کریم ﷺ کے لیے ہے اور فاعلموٓا میں مشرکین کے لیے ہے۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طا لب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں انکی حق تلفی نہیں کی جاتی۔

آیت نمبر 15 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانمن کا ن میں کا نزائدہ ہے، اسی وجہ سے جواب (شرط) مجزوم ہے۔ اللہ تعالیٰ مئ فرمایا : نوف الیھمیہ فراء کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : من کانشرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے اور اس کا جواب نوف الیھم ہے اس سے مرادمن تکن یرید ہے۔ لفظ پہلا ماضی ہے اورت دوسرا مضارع جس طرح زہیرنے کہا : ومن ھاب أسباب المنیۃ یلقھا ولو رام أسباب السماء لسلم جو موت کے اسباب سے بھاگا وہ اس کو ملے گا اگرچہ سیڑھی کے ذریعہ آسمان کے اسباب کا ہی قصد کیوں نہ کرے۔ استشھاد (اس میں ” ھاب “ ماضی ہے جب کہ لیقھاٰمضارع) اس آیت کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے یہ کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ ضحاک نے کہا ہے اور نحاس نے اس کو اختیار کیا ہے اس کے بعد آنے والی آیت کی دلیل کی وجہ سے اولٰٓیک الذین لیس لھم فی الاٰخرۃ الا النار یعنی ان میں سے جس شخص نے صلہ رحمی اور صدقہ کیا ہم اس کو دنیا میں ہی جسمانی صحت اور کثرت رزق کے ذریعے اس کا بدلہ دیں گے لیکن آخرت میں اس کے لئے کوئی نیکی نہیں۔” سورة براۃ “ میں یہ معنی مکمل طور پر گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ ہے آیت سے مراد مومنین ہیں، یعنی جس نے اپنے عمل کے ذریعے دنیا کے ثواب کا ارادہ کیا اسے جلدی ثواب دیا جائے گا اور دنیا میں کسی چیز کی کمی نہیں کی جائے گی اور آخرت میں اس کے لئے عذاب ہوگا کیونکہ اس کا ارادہ صرف دنیا کا تھا اور یہ (ایسے ہی ہے) جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے “۔ پس بندے کو اس کے ارادے کے سبب اور اس کے ضمیر کے فیصلے پر عطا کیا جاتا ہے اور یہ ہر ملت میں تمام قوموں میں متفق علیہ بات ہے۔ ایک قول یہ ہے یہ ریا کاروں کے لیے ہے، حدیث طیبہ میں ہے کہ ریاکاروں کو کہا جائے گا :” تم نے روزہ رکھا، تم نے نماز پڑھی، تم نے صدقہ کیا، تم نے جہاد کیا اور تم نے تلاوت کی تاکہ تمہیں ایسا کہا جائے پس یہ کہہ دیا گیا “۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” بیشک یہ پہلے لوگ ہوں گے جن پر آگ جلائی جائے گی “ (دوزخ میں ڈالے جائیں گے) اس کو حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا پھر آپ بہت زیادہ روئے اور کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا اور آپ نے دو آیتیں پڑھیں۔ امام مسلم نے اس کو اس کے معنی کے ساتھ اپنی صحیح (مسلم) میں روایت کیا اور ترمذی نے بھی روایت کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ آیت ہر اس آدمی کے بارے میں عام ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کی نیت کرتا ہے وہ مومن ہو یا نہ ہو۔ مجاہد اور میمون بن مہران نے یوں کہا ہے، اس جانب حضرت معاویہ گئے ہیں اور میمون بن مہران نے کہا : کوئی بھی آدمی اچھا عمل کرے تو اس کا پورا پورا ثواب دیا جاتا ہے پس اگر مخلص مسلمان ہو تو دنیا وآخرت (دونوں) میں (ثواب) دیا جاتا ہے اور اگر وہ کافر ہوتودنیاہی میں پورا بدلہ دیا جاتا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جو نبی کریم ﷺ کیساتھ غزوہ میں دنیا چاہتا ہے تو وہ اس کو دے دی جاتی ہے یعنی غازیوں والا اجر پورا دے دیا جاتا ہے اور اسمیں کوئی کمی نہیں کی جاتی (اس معنی کے اعتبار سے) یہ مخصوص ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ اسمیں عموم ہے مسئلہ نمبر 2 ۔ بعض علماء نے کہا : اس آیت کا معنی نبی کریم ﷺ کا ارشاد : انما الاعمال بالنیات ہے یعنی اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس آدمی نے رمضان میں رمضان کے علاوہ (کوئی اور) روزہ رکھا تو وہ رمضان کا روزہ نہیں ہوگا اور یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے ٹھنڈک (کے حصول) اور نظافت کی خاطر وضو کیا تو وہ نماز کی طرف سے بطور قربت واقع نہ ہوگا اور اس طرح ہر وہ حکم جو اس معنی میں ہوا (اس کا یہی حکم ہے) (عندالمالکیتہ) ۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ آیت مطلق ہے اور اس طرح سورة الشوریٰ والی آیتمن کان یرید حرث الاٰخرۃٍ نزدلہ فی حرثہ ۚ ومن کان یرید حرث الدنیا تؤتہٖ منھا الایۃ (الشوریٰ :20) اس طرحومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہٖ منھا۔ سورة سبحان میں موجود آیتمن کان یرید العاجلۃ عجلنالہ فیھا مانشآء لمن نرید سے محظورًا۝(بنی اسرائیل :18 تا 20) کے ارشاد تک نے اس کی قید اور تفسیر بیان کی ہے۔ اللہ سبحانہ نے خبر دی کہ بندہ نیت اور ارادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : من کان یرید الحیٰوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارشادمن کان یریدالعاجلۃ (بنی اسرائیل :18) کے ذریعے منسوخ ہے اور صحیح وہ ہے جو ہم (قرطبی) نے ذکر کیا ہے اور اس کا تعلق اور تنقید کی بحث سے ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واذاسالک عبادی عنی فانی قریب ؕاجیب دعوۃ الداع اذادعان (البقرہ :186) بھی ہے اس کا ظاہر تو یہ ہے کہ ہر حال میں ہمیشہ ہر پکارنے والے کے جواب کے متعلق خبر ہے حالانکہ اس طرح نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : فیکشف ماتدعون الیہ ان شاء (الانعام :41) کی وجہ سے۔ اور اخبار میں نسخ جائز نہیں ہوتا کیونکہ واجبات عقیلہ کی تبدیلی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ محال ہے، جہاں تک احکام شرعیہ کے متلعق اخبار کا تعلق ہے تو ان کا نسخ جائز ہے اس میں اختلاف ہے جس طرح کہ اصول میں مذکوہ ہے اور اس کا بیان انشاء اللہ سورة النحل میں آئے گا۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں (آتش جہنم) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا۔

آیت نمبر 16 اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اولٓئک الذین لیس ہھم فی الاٰخرۃ الا النار میں ہمیشہ (جہنم میں) رہنے کی طرف اشارہ ہے جب کہ مومن ہمیشہ (جہنم میں) نہیں رہے گا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے ان اللہ لایغفران یشرک بہٖ ویغفر مادون ذٰلک الایۃ (النساء :116) بیشک اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائے گا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ معاف فرمادے گا۔ پس اس کو اس ریاکار کی کفر پر وفات ہونے پر محمول کیا جائے گا۔ ایک قول یہ ہے لیس لھم الا النارکا معنی یہ ہے کہ وہ معلوم دن آگ میں رہیں گے پھر ان کو نکال لیا جائے گا یا تو شفاعت کے ذریعے یا ذریعے یا مٹھی بھرنے کے ذریعے (یعنی پکڑ کر) اور آیت کریمہ ایمان کو سلب کرنے کے ذریعے وعید کا تقاضا کرتی ہے اور گزشتہ (حضرت ابوہریرہ ؓ والی) حدیث میں کفر اور بالخصوص ریا مراد ہے، کیونکہ یہ بھی شرک ہے جس طرح کہ سورة النساء میں اس کا بیان گزرچکا ہے اور سورة الکہف نے آخر میں بھی آئے گا۔ وبٰطل ما کانوایعملونیہ مبتدا اور خبر ہیں۔ ابو حاتم نے کہا : ھا کو حذف کردیا گیا ہے، نجاس نے کہا : اس کو حذف کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مصدر کے معنی و باطل عملہ کہ اس کا عمل باطل ہے۔ حضرت ابی اور حضرت عبداللہ کے حرف میں وبالا ماکانوا یعلمون، مازائدہ ہوگا یعنی وکانوا یعملون باطلا کہ وہ باطل کام کیا کرتے تھے۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے ؟ ) یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لانے۔

آیت نمبر 17 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : افمن کان علی بینۃٍ من ربہٖمبتدا ہے اور خبر محذوف ہے یعنی کیا نبی کریم ﷺ کے پیروکاروں میں سے وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہے اور اس کے پاس وہ فضل ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس کے لیے بیان فرماتا ہے وہ اپنے علاوہ کسی ایسے آدمی کی طرح ہوسکتا ہے جو دینوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتا ہے ؟ یہ علی بن حسین اور حسن بن ابی الحسن سے مروی ہے۔ اور اسی طرح ابن زید نے بھی کہا ہے۔ بیشک جو روشن دلیل پر ہے وہ وہ ہے جس نے نبی کریم ﷺ کی اتباع کی ویتلوہ شاھدٌ منہ یعنی اللہ کی طرف سے اور وہ (شاہد) نبی کریم ﷺ ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ افمن کان علٰی بینۃٍ من ربہٖسے مراد نبی کریم ﷺ ہیں اور کلام اللہ تعالیٰ کے ارشادوضائق بہٖ صدرک کی طرف راجع ہے یعنی کیا وہ شخص جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہو، قرآن کی طرح کا معجزہ ہو، اس کے ساتھ جبریل کی طرح کا گواہ ہو۔ جس طرح کہ آئے گا۔ اور گزشتہ کتب اس کو اس کی خوشخبری سنا چکی ہوں، تبلیغ کی وجہ سے اس کا سینہ تنگ ہو سکتا ہے ؟ اور وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے نہیں چھوڑے گا۔ اور ربہٖ کی ہ ضمیر نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادویتلوہ شاھد منہ کے بارے میں عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ جبریل ہیں۔ یہی مجاہد اور نخعی کا قول ہے۔ منہ کی ہ ضمیر اللہ تعالیٰ عزوجل کے لیے ہے۔ یعنی بیان اور برہانکے پیچھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہ آگیا ہے، مجاہد نے کہا : شاہد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ ہے جو اس (کتاب) کی حفاظت کرتا ہے اور اس کو مضبوط کرتا ہے۔ حضرت حسن بصری ؓ اور قتادہ نے کہا : شاہد رسول اللہ ﷺ کی زبان ہے۔ حضرت محمد بن علی بن حنفیہ نے کہا : میں نے اپنے باپ کو کہا : کیا آپ شاہد ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں پسند کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں، لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کی زبان ہے۔ ایک قول یہ ہے وہ حضرت علی بن ابی طالب ہیں۔ حضرت علی ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : آپ کے بارے میں کیا نازل ہوا ہے ؟ تو حضرت علی ؓ نے فرمایا : ویتلوہ شاھد منہ۔ ایک قول یہ ہے شاہد نبی کریم ﷺ کی صورت آپکا چہرہ اور آپکی ہیئت و صورت ہے، کیوں کہ جس شخص کو عقل وفضل حاصل ہو وہ نبی کریم ﷺ کیطرف دیکھے تو وہ جان لے گا کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اس صورت میں منہ کی ضمیر نبی کریم ﷺ کیطرف راجع ہوگی ابن زید اور انکے علاوہ کے قول کے مطابق۔ ایک قول یہ ہے : شاہد قرآن ہے اپنی نظم، اپنی بلاغت اور ایک لفظ کے کثیر معانی میں۔ حسین بن فضل نے یوں کہا ہے۔ منہ کی ضمیر (اس صورت میں) قرآن پاک کے لئے ہوگی۔ فراء نے کہا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے : ویتلوہ شاھد منہ سے مراد انجیل ہے اگرچہ یہ قرآن سے پہلے ہے مگر تصدیق میں قرآن سے پیچھے ہے، (اس صورت میں) منہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہوگی۔ اور ایک قول یہ ہے بینۃٍاللہ تعالیٰ کی وہ معرفت ہے جو دلوں کو روشن کرتی ہے اور شاہد جو اس کے پیچھے آتا ہے وہ وہ عقل ہے جو اس کے دماغ میں ترکیب پاتی ہے اور اپنے نور کے ذریعے اس کے سینے کو روشن کرتی ہے۔ ومن قبلہ یعنی انجیل سے پہلے کتب موسٰٓیمبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ابواسحاق زجاج نے کہا کہ معنی یہ ہے کہ اس سے پہلے حضرت موسیٰ کی کتاب اس کے پیچھے آئی، کیونکہ نبی کریم ﷺ کتاب موسیٰ میں موصوف ہیں۔ یجدونہ مکتوبًاعندھم فی التورٰتۃ والانجیل (الاعراف :57) وہ اس کو اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ ابوحاتم نے بعض سے بیان کیا کہ انہوں نے اس کو ومن قبلہ کتب موسٰٓیپڑھا ہے نصب کے ساتھ۔ مہدوی نے کلبی سے اس کو بیان کیا اس کا یتلوہکیہضمیر پر عطف ہے اور معنی یہ ہوگا، جبریل (علیہ السلام) کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کو تلاوت کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی یہ ہوگا اس سے پہلے جبریل نے کتاب موسیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) پر تلاوت کیا۔ وہ بھی درست ہے جو ابن عباس ؓ نے ذکر کیا۔ کتاب مرفوع ہوگی اس بنیاد پر کہ اس کا معنی یہ ہوگا اس سے پہلے کتاب موسیٰ بھی اسی طرح ہے، یعنی جبریل نے اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تلاوت کیا جس طرح اس نے قرآن کو حضرت محمد ﷺ پر تلاوت کیا۔ امامًایہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ورحمۃًمعطوف ہے اولٓئک یومنون بہٖبنی اسرائیل کی طرف اشارہ ہے، یعنی وہ ایمان لاتے ہیں اس بشارت پر جو تورات میں آپ کے متعلق ہے اور ان کے بعد میں آنے والوں نے آپ کا انکار کردیا، پس یہی ہیں آتش (جہنم) جن کے وعدہ کی جگہ ہے، قشیری نے اس کو بیان کیا ہے۔ بہٖیعنی جو بھی کفر کرے قرآن کا یا نبی کریم ﷺ کا۔ من الاحزاب یعنی تمام ملتوں میں سے۔ قتادہ سے ہے اور اسی طرح حضرت سعید بن جبیر نے کہا : الاحزاب سے مراد تمام ادیان والے ہیں، کیونکہ ان کے دل اور اعمال مشابہت رکھتے ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ قریش اور انکے حلیف ہیں۔ فالنارموعدہوہ دوزخیوں میں سے ہیں حضرت حسان ؓ نے شعر کہا ہے : أردتموھا حیاض الموت ضاحیۃ فالنار موعدھا والموت لاقیھا
Ayahs 11:18–19

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ؟ ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔

آیت نمبر 18، 19 ومن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبًا۔ یعنی ان لوگوں سے زیادہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا کوئی نہیں کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھا ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو کسی اور کی طرف منسوب کیا اور یہ گمان کیا کہ وہ اس کا شریک اور بیٹا ہے۔ اور بتوں کے بارے میں کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے سفارشی ہیں۔ اولٰٓئک یعرضون علی ربھم۔ یعنی وہ ان کے اعمال پر ان کا محاسبہ کرے گا۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو یونس ؓ کی نبی کریم ﷺ سے مروی روایت ہے :” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے میرے بارے میں کسی یہودی اور نصرانی نے سنا پھر تعلیمات پر ایمان لائے بغیر مرگیا تو وہ دوزخی ہوگا “۔ فلاتک فی مریۃٍشک میں نہ ہوجاؤ۔ منہضمیر سے مراد قرآن کریم ہے۔ انہ الحق من ربک، حق سے مراد قرآن کریم ہے۔ یہ مقاتل نے کہا۔ کلبی نے کہا : معنی یہ ہوگا کہ کافر کے دوزخ میں ہونے میں شک نہ کرو۔ انہ الحق، مراد قول حق ہے۔ حطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد تمام مکلفین ہیں۔ ویقول الاشھاد یعنی حفاظت کرنے والے فرشتے مجاہد وغیرہ سے مروی ہے۔ سفیان نے کہا : میں نے اعمش سے اشہباد کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا : اس سے مراد ملائکہ ہیں۔ ضحاک نے کہا : وہ انبیاء ومرسلین ہیں، ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : فکیف اذا من کل امۃٍ بشھید وجئنابک علی ھٰٓؤلآء شھیدًا۝(النساء) ہے۔ اور ایک قول کے مطابق وہ فرشتے اور انبیاء ہیں اور وہ علماء ہیں جنہوں نے رسالت کی تبلیغ کی۔ حضرت قتادہ نے کہا : اس سے مراد ساری مخلوق ہے۔ صحیح مسلم میں صفوان بن محرزعن ابن عمر عن النبی ﷺ روایت ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : جہاں تک کفار اور منافقین کا تعلق ہے تو لوگوں کے سامنے ان کے بارے میں یہ صدا لگائی جائے گی کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر کذب وافتراء سے کام لیا ہے۔ الا لعنۃ اللہ علی الظٰلمین یعنی جن لوگوں نے عبادت کو ایسے مقام پر رکھا جو عبادت کے لیے نہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : الذین یصدون عن سبیل اللہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ الذین، الظلمین کی صفت ہونے کی وجہ سے محل جر میں ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ محل رفع میں ہو یعنی ھم الذین اور ایک قول یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خطاب کی ابتدا ہے، یعنی وہ لوگ جو اپنے آپکو اور دوسرے لوگوں کو ایمان اور اطاعت سے روکتے ہیں ویبغونھا عوجًا یعنی اس طریقے سے وہ لوگوں کو گناہ اور شرک کیطرف لے جاتے ہیں۔ وھم بالاٰخرۃ ھم کٰفرون، ھمضمیر کا اعادہ تاکیدا کیا گیا ہے۔
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے۔

آیت نمبر 20 قولہ تعالیٰ : اولٰٓئک لم یکونوا معجزین فی الررض یعنی وہ اللہ کے عذاب سے بچنے والے نہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے : وہ مجھے اس بات سے عاجز نہیں کرسکتے کہ میں زمین کو حکم دوں کہ وہ ان کو دنگل لے۔ وماکان لھم من دون اللہ من اولیاء سے مراد مددگار ہیں اور من زائدہ ہے اور ایک قول کے مطابق ما بمعنی الذی ہے اور تقدیر عبارت یہ ہوگی : اولٰیک لم یکونوا معجزین لاھم ولا الذین کانوالھم من اولیاء من دون اللہ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ یضٰعف لھم العذاب یعنی ان کے کفر اور ان کی نافرمانیوں سے دوگنا۔ ماکانویستطیعون السمع، ما اس بنیاد پر محل نصب میں ہے کہ اس کا معنی ہوگا ماکانوایستطیعون السمع وماکانوایبصرون یعنی وہ اسے حق کو سننے اور اسے دیکھنے میں استعمال نہیں کرتے۔ اور عرب اس طرح کلام استعمال کرتے رہتے ہیں مثلاً وہ جس طرح جزیتہ مافعل کہتے ہیں اسی طرح جزیتہ بمافعل بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات باکو حذف کردیتے ہیں اور بعض اوقات اسے ثابت رکھتے ہیں سیبویہ نے شعر پڑھا ہے : أمرًتک الخیر فافعل ما أمرت بہ فقد ترکتک ذا مال و ذا نشب اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما طرفیہ ہو اور معنی ہو : ان کے لئے ہمیشہ دوگنا فرمائے گا، یعنی ان کے (آواز حق) کو سننے اور (نور حق) کو دیکھنے کی استطاعت کے وقت، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ انہیں جہنم میں ڈالے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نافیہ ہو اور اس کا کوئی محل نہ ہو، کیونکہ کلام اس سے پہلے مکمل ہوچکا ہے۔ اور العذابپر وقف کافی ہے، اور معنی یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں ایسا سننے کی استطاعت نہیں رکھتے جو انہیں دے، اور نہ ہی ایسا دیکھ سکتے ہیں جو ہدایت یافتہ کا دیکھنا ہو۔ فراء نے کہا : وہ سننے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لوح محفوظ سے خارج کردیا ہے۔ زجاج نے کہا : ان کی نبی کریم ﷺ کے ساتھ دشمنی اور عدوات کی وجہ سے آپ سے نہ سن سکتے تھے اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ نحاس نے کہا : یہ کلام عرب میں معروف ہے کہ جب کسی کے لیے دوسرے کو دیکھنا عقل کا باعث ہو تو کہا جاتا ہے فلاں، فلاں کو دیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
Ayahs 11:21–22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتارہا۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سب زیادہ نقصان پانیوالے ہیں۔

آیت نمبر 21 تا 22 قولہ تعالیٰ : اولٰٓئک الذین خسروٓاانفسھمیہ مبتدا اور خبر ہے۔ وضل عنھم ماکانوا یفترون یعنی ان سے ان کی بہتان تراشی ضائع اور گم ہوگئی۔ قولہ تعالیٰ : لاجرمعلماء کے اس کے بارے میں کئی اقوال ہیں، خلیل اور سیبویہ نے کہا : لاجرمبمعنی حق ہے۔ ان دونوں کے نزدیکفلا جرم ایک ہی کلمہ ہے، اور انان کے بزدیک محل رفع میں ہے۔ یہ فراء اور محمد بن یزید کا قول ہے۔ اور نحاس نے اس کو بیان کیا ہے۔ مہدوی نے کہا : خلیل سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی لابد اور لامحالۃ ہے یہ بھی فراء کا قول ہے۔ ثعلبی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اور زجاج نے کہا : یہاں لا نافیہ ہے، اور یہ ان کے اس قول کا رد ہے کہ بت انہیں نفع دیں گے، گویا معنی یہ ہے کہ وہ انہیں نفع نہیں دیں گے، اور جرمبمعنی کسب ہے، یعنی اس فعل نے ان کے لئے خسارہ کمایا اور کسبکا فعل مضمر ہے اور ان جزم کی وجہ سے منصوب ہے جس طرح آپ کہتے ہیں : کسب جفاءک زید اغضبہ علیکشاعر نے کہا : نصبنا رأسہ فی جذع نخلٍ بما جرمت یداہ وما اعتدینا شعر میں بماجرمتکا معنی بما کسبت ہے۔ کسائی نے کہا : لاجرمکا معنیلاصدولامنع ہے ایک قول کے مطابق معنیلاقطع قاطع ہے کثرت استعمال کی وجہ سے فاعل کو حذف کردیا گیا اور الجرم سے مرادالقطع ہے۔ جرم النحل وا جترمہ سے مراد ضرمہ ہے اسی طرح قوم جرم اور جزا ماورھذا زمن الجرام والجرام استعمال ہوتا ہے اور جرمت صوف الشاۃ کا مطلب ہے میں نے بکری کی اون کو کاٹا۔ اور جرمت منہ یعنیاخذت منہ ہے جیسے جلمت الشئ جلما یعنی میں نے کاٹا۔ اور اگر آپ اس کی ہڈیوں سے گوشت کو اتارلیں تو جلمت الجزوراجزوراجلمھا جلما کہا جاتا ہے اور اخذت الشئ بجلمتہلام ساکن بولا جاتا ہے جب آپ اس باری کو لے لیں اور ھذاجلمۃ الجزورلام کی حرکت کے ساتھ کا معنی ہے اس کا سارا گوشت، یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : کسائی کا خیال ہے کہ اس کی چار لغتیں ہیں۔ لاجرم لاعن ذاجرم، لاان ذاجرم اور کسائی نے کہا، بنی فزارہ کے لوگ کہتے ہیں : لاجرائھم یعنی بغیر میم کے پڑھتے ہیں۔ اور فراء نے اس کے بارے میں دو اور لغتیں بیان کی ہیں اس نے کہا : بنو عامرلاذاجرمکہتے ہیں اور عرب کے کچھ لوگلا جرمپڑھتے ہیں جیم کے ضمہ کے ساتھ۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی یہی صاحب جنت ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

آیت نمبر 23 قولہ تعالیٰ : ان الذین اٰمنوا، الذین، انکا اسم ہے اوراٰمنواصلہ ہے یعنی انہوں نے تصدیق کی۔ وعملوا الصلحٰت واخمتوٓالٰی ربھمصلہ پر عطف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اخمتوٓاکا معنی ہے وہ جھک گئے۔ مجاہد نے کہا : انہوں نے اطاعت کی۔ حضرت قتادہ نے کہا : انہوں نے خشوع و خضوع کیا۔ مقاتل نے کہا : انہوں نے اخلاص کا مظاہرہ کیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اخبات سے مراد دل میں موجود خوف کی وجہ سے اختیار کیا جانے والا خشوع ہے اور اخبات کی اصل استواء ہے، یہ خبت سے مشتق ہے اور اس سے مراد کھلی اور ہموارزمین ہے، لہذا اخبات سے مراد خشوع، اطمینان یا مکمل طور پر مسلسل اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جھکاؤ ہے۔ الٰی ربھمفراء نے کہا : الٰی ربھم اور لربھمدونوں ایک ہی ہیں اور اس کا معنی ہوگا انہوں نے اپنے جھکاؤ کا مرکز اپنے رب کو بنایا۔ اولٰٓئکیہ انکی خبر ہے۔