11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فرقوں (یعنی کافر ومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہر ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

آیت نمبر 24 قولہ تعالیٰ : مثل الفریقینیہ مبتدا ہے اور کالاعمٰیاور اس کا مابعد اس کی خبر ہے۔ اخفش نے کہا : یعنیکمثل الا عمی ہے۔ نحاس نے کہا : تقدیر عبارت : مثل فریق الکافرکالأعمی والأصم ہے اور مثل فریق المومن کا لسمیع والبصیر ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ھل یستویٰناس کو فریقین کی طرف لوٹایا گیا اور وہ دو ہیں۔ اس کا معنی حضرت قتادہ اور دیگر سے مروی ہے۔ ضحاک نے کہا : الاعمی والأصم کافر کے لیے مثال ہے اور السمیع اور البصیر مومن کے لیے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ ہے کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہیں، اور کیا بہرا اور سننے والا برابر ہیں۔ مثلاً تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ افلاتذکرون کیا تم ان دونوں وصفوں میں غوروفکر نہیں کرتے اور نہیں دیکھتے۔
Ayahs 11:25–26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو انکی قوم کی طرف بھیجا تو (انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے (اور پیغام پہنچانے) آیا ہوں

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔

آیت نمبر 25 تا 26 قولہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا نوحًاالٰی قومہٖٓاللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کے قصص کو ذکر کیا تاکہ آپ کفار کی اذیتوں پر صبر کو لازم پکڑیں اور اللہ تعالیٰ ان کے معاملات میں آپ ﷺ کو کافی ہوجائے گا۔ ان یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : ان یعنی میں، کیونکہ ارسال میں قول کا معنی موجود ہے۔ ابن کثیر، ابوعمرو اور کسائی نے انی کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ارسلناہ بانی لکم نزیر مبین۔ انہ نہیں فرمایا کیونکہ غیب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے اپنی قوم کو حطاب کی طرف رجوع فرمایا۔ جس طرح وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیءٍ فرمایا اور پھر فخذھا بقوۃٍ (الاعراف :145) فرمایا یعنی پہلے غیب اور پھر مخاطب کے صیغے۔ قولہ تعالیٰ : ان لا تعبدوٓا الا اللہ یعنی بتوں کو چھوڑدو، انکی عبادت نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ جو یکتا ہے اسکی اطاعت کرو اور جس نے انیکو کسرہ کیساتھ پڑھا ہے اسنے اسے کلام میں جملہ معترضہ بنایا ہے، اور معنی یہ ہوگا کہ ہم نے اسکو بھیجا تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ انیٓ اخاف علیکم عذاب یومٍ الیمٍیعنی میں ڈرتا ہوں کہ تم پر عذاب کا دردناک دن نہ آجائے۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں اور وہ بھی رائے ظاہرے سے (نہ غور وتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

آیت نمبر 27 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فقال الملا ابواسحاق زجاج نے کہا : الملا سے مراد سردار ہیں، یعنی وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کے ذریعے وہ بھر دیتے ہیں۔ سورة بقرہ میں یہ گزرچکا ہے۔ مانرٰئک الابشرًبشر سے مراد آدمی ہے۔ مثلناحال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور مثلنامعرفہ کی طرف مضاف ہے اور یہ نکرہ ہے تنوین اس میں مقدر ہے جس طرح کہ شاعر نے کہا : یا رب مثلک فی النساء غریرہ مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وما نرٰئک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا، اراذل ، أرذل کی جمع ہے اور ارذل رذل کی جمع ہے۔ جس طرح کی جمع اکلب اور اکلب کی جمع اکالب آتی ہے۔ اور ایک قول کے مطابق : اذل ، أرذل کی جمع ہے جس طرحاساود، اسود کی جمع ہے جس کا معنی سانپ ہے اور رذل سے مراد کسی چیز کا گھٹیا حصہ ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ کی اتباع کرتے ہیں وہ ہم میں سے گھٹیا، حقیر اور رسوالوگ ہیں۔ زجاج نے کہا : انہوں نے انہیں پیشہ کی طرف منسوب کیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ پیشوں کا دیانت میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔ نحاس نے کہا : اراذل سے مراد وہ فقراء اور وہ لوگ ہیں جن کا کوئی حسب نہیں اور گھٹیا پیشہ اختیار کرنے والے لوگ ہیں۔ حدیث طیبہ میں ہے :” وہ جولا ہے اور حجام ہیں “۔ اور یہ ان کی طرف سے جہالت تھی کیونکہ انہوں نے اللہ کے نبی پر ایسا عیب لگایا جو ان میں نہیں تھا، کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) پر دلائل وبراہین اور آیات کو لانا لازم ہوتا ہے ان پر ہیئتیں اور صورتیں تبدیل کرنا تو لازم نہیں ہوتا اور انہیں تمام لوگوں کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ اور اگر ان میں سے کوئی گھٹیا آدمی ایمان لے آئے تو اس وجہ سے انہیں کوئی نقص لاحق نہیں ہوتا، کیونکہ ان پر تو ہر اسلام قبول کرنے والے کے سلام کو قبول کرنا لازم ہوتا ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اراذل سے یہاں مراد فقراء اور ضعفاء ہیں، جس طرح ہر قل نے ابوسفیان کو کہا کہ لوگوں میں سے اشرف اس (نبی) کی پیروی کرتے ہیں یا ضعفاء ؟ تو ابوسفیان نے کہا : ان میں سے ضعفاء (ایمان لائے ہیں) تو ہر قل نے کہا : یہی لوگ انبیاء کے پیروکار ہوتے ہیں۔ ہمارے علماء نے کہا : اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اشرف پر ریاست و حکومت غالب ہے اور ان کا اس سے علیحدگی اختیار کرنا مشکل ہوتا ہے، اور غیر کی اطاعت کرنا ان کے لئے ذلت کا باعث ہوتا ہے، جب کہ فقیر ان موانع سے خالی ہوتا ہے، لہٰذا وہ بات کو قبول کرنے اور اطاعت کرنے میں تیزی کرتا ہے، اور یہ اہل دنیا کے اکثر حالات ہوتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ علماء کا گھٹیا پن کی تعیین میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن مبارک نے سفیان سے ذکر کیا ہے کہ گھٹیا لوگ وہ ہیں جو بادشاہوں کے آنے کے وقت لہو ولعب کی اضافت کے ذریعے ان کا استقبال کرتے ہیں۔ اور قاضیوں اور بادشاہوں کے دروازوں پر حاضری کے لئے آتے ہیں۔ ثعلب نے ابن عرابی سے نقل کرتے ہوئے کہا : گھٹیا لوگوں سے مراد وہ آدمی ہے جو اپنے دین کے ذریعے دنیا حاصل کرتا ہے، انہیں کہا گیا کہ پھر گھٹیا ترین کون ہوا ؟ تو انہوں نے کہا : وہ آدمی جو اپنے دین کی بربادی کے ذریعے کسی کی دنیا کی اصلاح کرتا ہے۔ حضرت علی ؓ سے گھٹیا پن کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ان سے مراد ایسے لوگ ہیں کہ جو اگر اکھٹے ہوجائیں تو غالب آجائیں اور اگر جدا جدا ہوں تو پہچانے بھی نہ جائیں۔ حضرت مالک بن انس سے ان کے بارے میں پوچھا گیا لوگ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : جو صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ارذلون سے مراد جولا ہے اور حجام ہیں۔ یحییٰ بن اکثم نے کہا : ان سے مراد ایسے غیر عرب لوگ ہیں کو کھالیں رنگ کرتے اور صفائی ستھرائی کا کام کرتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ جب عورت اپنے شوہر کو یا سفلہ کہے اور مراد سے کہے : اگر میں ان میں سے ہوں تو تجھے طلاق۔ نقاش نے بیان کیا کہ ایک آدمی امام ترمذی کے پاس آیا اس نے کہا : میری بیوی نے مجھے یا سفلہ کہا ہے تو میں نے اسے کہا : اگر میں سفلہ ہوں تو تجھے طاق، امام ترمذی نے کہا : تیرا پیشہ کون سا ہے ؟ اس نے کہا : مچھیرا، تو آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم سفلہ، اللہ کی قسم سفلہ۔ میں (قرطبی) نے کہا کہ جس طرح حضرت ابن مبارک نے سفیان سے ذکر کیا ہے اس طرح تو اسے طلاق واقع نہیں ہوگی، اسی طرح امام مالک اور ابن اعرابی کے قول کے مطابق بھی اسے کوئی چیز واقع نہیں ہوگی۔ قولہ تعالیٰ : بادی الرایاس سے مراد رائے کا ظاہر ہے اور ان کا باطن اس کے خلافت ہے جب کوئی چیز ظاہر ہو تو اس وقتبدایبدو کہا جاتا ہے۔ جس طرح کسی نے کہا : فالیوم حین بدون للنظار صحرا کو بھی ظاہر ہونے کی وجہ سے بادیۃ کہا جاتا ہے اور بدالی ان افعل کذاکا مطلب ہوتا ہے کہ میرے لیے پہلی رائے کے علاوہ رائے ہوئی ہے۔ ازہری نے کہا : اس کا معنی رائے میں سے جو کچھ ہمارے سامنے ظاہر ہوتا ہے وہ ہے۔ ہوسکتا ہے بادی الرای، بدأیبدأ سے مشتق ہو اور ہمزہ کو حذف کردیا گیا ہو۔ ابوعمرو نے ہمزہ کو ثابت کرتے ہوئے بادئ الرای پڑھا ہے یعنی پہلی رائے، یعنی وہ لوگ تیری پیروی کرتے ہیں جب وہ پہلی نظر سے تمہیں دیکھتے ہیں، اگر انہوں نے گہری نظر وفکر سے کام لیا ہوتا تو وہ تیری اتباع نہ کرتے، یہاں پھر ہمزہ کے ساتھ اور ہمزہ کے بغیر معنی میں کوئی فرق نہیں اور اس کی نصب فی کے خذف کی وجہ سے ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : واختار موسیٰ قومہ (الاعراف :155) ومانرٰی لکم علینا من فضل یعنی اس کی اتباع میں اور یہ ان کی طرف سے آپ کی نبوت کا انکار ہے۔ بل نظنکم کٰذبئنیہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو ان کا خطاب ہے۔
Ayahs 11:28–31

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ؟ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انکو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور برادران ملت اگر میں انکو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لئے) کون میری مدد کرسکتا ہے ؟ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دیگا جو انکے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں۔

آیت نمبر 28 تا 31 قولہ تعالیٰ : قال یقوم اریتم ان کنت علیٰ بینۃٍ من ربی یعنی یقین پر، یہ ابوعمران جونی کا قول ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ معجزہ پر سورة انعام میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ واٰتٰئنی رحمۃً من عبدہٖرحمت سے مراد نبوت و رسالت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ (نبوت و رسالت) مخلوق پر رحمت ہے۔ اور ایک قول کے مطابق رحمت سے مراد دلائل کے ساتھ اللہ کی طرف ہدایت دینا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ایمان اور اسلام ہے۔ فعبیت علیکم یعنی رسالت اور ہدایت تم سے پوشیدہ ہوگئی ہو اور تم اسے سمجھ سکے ہو۔ عمیت عن کذا اور عمی علی کذا کہا جاتا ہے یعنی میں اسے نہ سمجھ سکا۔ اور معنی رحمت کا پوشیدہ ہونا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ قلب ہے کیونکہ رحمت پوشیدہ نہیں ہوتی بلکہ اس سے پوشیدہ یا اندھا ہوا جاتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کا قولادخلت فی القلنسودراسی یعنی میں نے ٹوپی میں اپنا سر داخل کیا اور موزا میرے پاؤں میں داخل ہوا۔ اعمش، حمزہ اور کسائی نے اسے فعمیت عینکے ضمہ اور میم کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے اوپر پوشیدہ کردیا۔ ابی کی قراءت بھی اسی طرح ہے۔ فعماھا اس کو ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ انلزمکموھا ایک قول کے مطابق اس دعوت سے مراد لآ الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ اور ایک قول یہ بھی کہ ہا ضمیر رحمت کی طرف راجع ہے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ بینۃ کی طرف راجع ہے، یعنی کیا ہم اس کو قبول کرنے پر تمہیں مجبور کریں اور اس کو تمہارے اوپر لازم کریں ؟ یہ استفہام انکار ہے۔ یعنی مجھے اس بات پر قدرت نہیں دی گئی کہ میں تمہیں اس کی معرفت پر مجبور کروں۔ اس قول کے ذریعے حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کی تردید کرنے کا قصد فرمایا ہے۔ کسائی اور فراء نے اسےأنلزمکموھاپہلی میم کے سکون کے ساتھ حکایت کیا ہے اور سیبویہ نے ایسا جائز قرار دیا ہے۔ اس نے شعر پڑھا : فالیوم اشرت غیر مستحقب إثما من اللہ ولا واغل نحاس نے کہا : حضرت یونس (علیہ السلام) کے قول کے مطابق قرآن کے علاوہ انلزمکمھا بھی جائز ہے مضمر کو مظہر کی جگہ رکھتے ہوئے۔ جس طرح آپ کہتے ہیں انلزمکم ذالک، وانتم لھا کٰرھون یعنی تمہارا اسے ناپسند کرتے ہوئے قبول کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ حضرت قتادہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ کے نبی حضرت نوح (علیہ السلام) استطاعت رکھتے ہوتے تو ضرور اسے اپنی قوم پر لازم کرتے، لیکن وہ اس کے مالک نہ تھے۔ دعوت اور اس پر ایمان لانے پر اجر یعنی ” مالا “ مال (کا تم سے سوال نہیں کرتا) کہ تم پر بوجھ کا سبب نبے۔ ان اجری الا علی اللہ یعنی تبلیغ رسالت میں میرا ثواب اللہ کے ذمہ کرم میں ہے۔ ومآانابطاردالذین اٰمنوا انہوں نے آپ کو کہا کہ آپ ان گھٹیا لوگوں کو نکال دیں جو آپ پر ایمان لائے، جس طرح قریش نے نبی کریم ﷺ کو کہا کہ آپ غلاموں اور فقروں کو نکال دیں۔ جس طرح سورة الانعام میں اس کا بیان گزرچکا، تو آپ نے ان کو اپنے اس قول کے ساتھ جواب دیا : ومآانابطاردالذین اٰمنو انھم ملقواربھم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے ان کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کو عظیم قرار دیتے ہوئے یہ کہا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علی وجہ الاختصام (بطور جھگڑا) یہ کہا۔ یعنی اگر میں ایسا کروں تو وہ اللہ کے ہاں میرے ساتھ جھگڑیں گے پس وہ ان کو ان کے ایمان پر جزادے گا اور وہ اسے بھی جزا دے گا جس نے ان کو نکال دیا۔ ولٰکنیٓ ارٰئکم قومًاتجھلون۝ ان کو گھٹیا سمجھنے میں اور ان کے نکال دینے کا مطالبہ کرنے میں میں نے تمہیں جاہل قوم سمجھا۔ قولہ تعالیٰ : ویٰقوم من ینصرنی من اللہ فراء نے کہا : یعنی جو اس کے عذاب کو مجھ سے روکے گا۔ ان طردتھم یعنی ان کے ایمان کی وجہ سے افلا تذکرون تاکو ذال میں مدغم کیا گیا۔ اس کو حذف کرنا بھی جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولآاقول لکم عندی خزآئن اللہ ولا اعلم الغیب آپ نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عاجزی اور تواضع کی خبر دی اور اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ان کے پاس نہیں اس کا دعویٰ نہیں کرتے۔ اور یہ اللہ کا انعام ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور یہ کہ وہ غیب نہیں جانتے کیونکہ غیب کو وہ نہیں جانتے سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ ولآاقول انی ملک یعنی میں نہیں کہتا کہ لوگوں کے ہاں میرا مقام فرشتوں جیسا ہے اور علماء نے کہا : کلام میں اس بات پر دلالت ہے کہ ملائکہ انبیاء سے افضل ہیں اطاعت میں ان کے دوام اور قیامت تک ان کی عبادت کے اتصال کی وجہ سے۔ صلوات اللہ علیھم اجمعین۔ سورة البقرہ میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ ولآاقول للذین تزدریٓ اعینکم یعنی جن کو تمہاری آنکھیں تاء سے بدلی ہوئی ہے کیوں کہ تزدری میں اصل تزتری ہے، مگر ” زا “ کے بعد تا کو دال سے بدل دیا گیا، کیونکہ ” زا “ مجہورہ ہے اور تا مہموسہ پس تا کو اس کے ہم مخرج حرف مجہور کے ساتھ بدل دیا گیا۔ اور کہا جاتا ہے : أزریت علیہجب تو اس کو عیب لگائے اور زریت علیہ (کہا جاتا ہے) جب تو اس کو حقیر خیال کرے۔ فراء نے شعر پڑھا : یباعدہ الصدیق و تزدریہ حلیلتہ وینھرہ الصغیر دوست اس کو دور کرتا ہے اور اس کی بیوی اسے حقیر سمجھتی ہے اور چھوٹا اس کو جھڑکتا ہے۔ (وجہ استشہاد تزدریہ ہے) لن یؤتیھم اللہ خیرًا یعنی تمہارا ان کو حقیر سمجھنا ان کے اجروں کو باطل نہیں کرتا یا ان کے ثواب کو کم نہیں کرتا، اللہ اعلم بما فیٓ انفسھم، پس وہ ان کو اس پر جزا دے گا اور اس سے ان کا مواخذہ فرمائے گا۔ انیٓ اذًالمن الظلمین یعنی اگر میں وہ کہوں جس کا ذکر گزرچکا ہے۔ اذًا، ملغیٰ عن العمل ہے، کیونکہ یہ درمیان کلام میں ہے۔
Ayahs 11:32–35

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر نازل کرو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کو تو خدا ہی چاہے گا تو نازل کریگا۔ اور تم (اس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور خدا یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیر خواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے۔ اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ و کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں برئی الذمہ ہوں۔

آیت نمبر 32 تا 35 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالوایٰنوح قدجٰدلتنافاکثرت جدالنا یعنی تو نے ہمارے ساتھ جھگڑے کو طول دیا اور اس میں مبالغہ کیا۔ جدل کلام عرب میں جھگڑے میں مبالغہ کے لیے (استعمال ہوتا) ہے۔ الجدل سے مشتق ہے اور یہ رسی کو مضبوطی سے بنانا (بٹنا) ہے۔ شکرے کو بھی اجدل کہا جاتا ہے اڑنے میں اس کی سختی کی وجہ سے۔ یہ معنی سورة الانعام میں اس سے زیادہ واضح طریقے سے گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فاکثرت جدالناپڑھا ہے، نحاس نے اس کو ذکر کیا۔ دین میں جدال کرنا محمود ہے اسی وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں سے جدال کیا یہاں تک حق غالب ہوجائے پس جس نے اس کو قبول کیا وہ کامیاب اور کامران ہوگیا اور جس نے اس کو رد کیا وہ ناکام اور نامراد ہوگیا اور ناحق جدال کرنا تاکہ باطل کو غلبہ ہو مذموم ہے اور ایسا جدال کرنے والا دنیا وآخرت میں ملامت کیا جاتا ہے۔ فاتنا بما تعدنآ یعنی عذاب سے۔ ان کنت من الصدقین یعنی اپنے قول میں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال انما یاتیکم بہ اللہ ان شآء یعنی اگر اس نے تمہاری ہلاکت کا ارادہ کیا تو وہ تمہیں عذاب دے گا۔ ومآانتم بمعجزیناس معجزین کا معنی فائتین ہے۔ ایک قول یہ ہے تم اپنی کثرت کی وجہ سے غالب نہیں ہو، کیونکہ وہ اس وجہ سے تکبر کرتے تھے، انہوں نے زمین کے میدانوں اور پہاڑوں کو بھر دیا تھا جس طرح کہ بعد میں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولاینفعکم نصحٓی یعنی میری تبلیغ اور کوشش تمہارے ایمان میں۔ ان اردت ان انصح لکم یعنی اس وجہ سے کہ تم کو بطور نصیحت قبول نہیں کرتے۔ سورة براءۃ میں نصح کا لغوی معنی گزرچکا ہے۔ ان کان اللہ یریدان یٖویکم یعنی یہ کہ وہ تمہیں گمراہ کرے، اور یہ معتزلہ قدریہ اور ان کے موافق مذہب رکھنے والے کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ کوئی نافرمانی کرنے والا نافرمانی کرے، کفر کرنے والا کفر کرے اور کوئی گمراہ گمراہی کرے اور جو ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ نہیں فرماتا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے ان کی تردید فرما دی کہ ان کان اللہ یرید ان یغویکم یہ معنی سورة الفاتحہ میں اور اس کے علاوہ (دیگر سورتوں) میں گزرچکا ہے، اور ان کے شیخ لعین ابلیس نے اپنی گمراہی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرففبما اغویتنیکے ذریعے کرکے ان کی تکذیب کردی ہے۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے ارشاد : ان کان اللہ یریدان یغویکم سے تو ان کے لیے کوئی مفرہی نہیں کہ آپ نے ان کی گمراہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا، کیونکہ وہی ہدایت دینے والا اور گمراہ کرنے والا ہے جو کچھ منکر اور ظالم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان یغویکم سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہیں ہلاک کرے گا، کیونکہ گمراہی ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔ طبری نے کہا : ان یغویکم سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہیں ہلاک کرے گا اپنے عذاب کے ذریعے، طیئ سے بیان کیا گیا : اصبح فلان غادیا یعنی مریض ہوگیا اورأغویتہ سے مراد ہے میں نے اس کو ہلاک کردیا، اور اسی سے ہے فسوف یلقون غیًا۝(مریم) ھوربکمپس اسی کی طرف سے گمراہی ہے اور اسی کی طرف سے ہدایتوالیہ ترجعونیہ دھمکی اور وعید ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ام یقولون افترٰئہ اس سے وہ نبی کریم ﷺ کی ذات مراد لیتے ہیں، افتریباب افتعال ہے۔ یعنی اس نے قرآن اپنی طرف سے بنالیا، اور جو اس کے ذریعے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے متعلق خبر دی ہے (وہ بھی اپنی طرف سے بنالی ہے) مقاتل نے یہ کہا۔ حضرت ابن عباس رضی ابن عباس ؓ نے کہا : یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کے لئے محاورہ ہے۔ اور یہی زیادہ ظاہر ہے، کیونکہ اس سے پہلے اور بعد صرف حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم ہی کا ذکر ہے، پس خطاب انہی کی طرف سے اور ان کے لیے ہے۔ قل ان افتریتہ یعنی اگر میں وحی اور رسالت کو (اپنی طرف سے) بنالوں۔ فعلی اجرامیتو میرے جرم کی سزا مجھ پر ہے اور اگر میں اپنی گفتگو میں سچا ہوں تو تم پر میری تکذیب کی سزا ہوگی۔ الاجرام، اجرمکامصدر ہے اور اس سے مراد گناہ کا ارتکاب کرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ معنی یہ ہے : میرے جرم اور میرے عمل کی جزا مجھ پر ہے اور جرم اور أجرمکا ایک ہی معنی ہے۔ نحاس اور اس کے علاوہ سے ہے انہوں نے کہا : طرید عشیرۃٍ ورھین جرمٍ بما جرمت یدی و جنی لسانی جس نے أجرامیہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے وہ اس جانب گیا ہے کہ یہ جرم کی جمع ہے، نحاس نے بھی اس کو ذکر کیا ہے۔ وانابریٓء مماتجرمون یعنی کفر اور تکذیب میں سے۔
Ayahs 11:36–37

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جو کام یہ کر رہے ہیں انکی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے۔

آیت نمبر 36 تا 37 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واوحی الیٰ نوحٍ انہ لن تیؤمن من قومک الامن قداٰمن، انہمحل رفع میں ہے۔ اوحی کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محل نصب میں ہو۔ انہ اوراٰمن، یومن کی وجہ سے محل نصب میں ہوں اور کلام کا مطلب ان کے ایمان سے مایوسی اور ان کے کفر کا دوام چاہنا ہے اور مقصد ان پر وعید کے نزول کو ثابت کرنا ہے۔ ضحاک نے کہا : جب (اللہ) نے آپ کو اس کی خبر سی تو آپ نے ان پر بددعا کی عرض کیا : رب لاتذرعلی الارض من الکٰفرین دیارًا۝(نوح) دو آیتیں (تلاوت کیں) اے میرے رب ! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے آدمی نے اپنے بیٹے کو اپنے کندھے پر اٹھایا۔ بچے نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو دیکھا تو اپنے پاپ سے کہا : مجھے پتھر دو اس کو پتھر دیا اور اس نے یہ پتھر حضرت نوح (علیہ السلام) کا مارا تو اس نے آپ کو زخمی کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا نہ لن یومن من قومک الامن قداٰمن۔ فلاتبتئس بما کانوایفعلون یعنی ان کی ہلاکت کی وجہ سے آپ غمگین نہ ہوں یہاں تک کہ آپ غمزدہ نہ ہوجائیں۔ بائسا یعنی غمگین ہونے والا اور البؤسکا معنی ہے الحزن۔ اسی سے شاعر کا قول ہے۔ وکم من خلیل أوحمیم رزئتہ فلم أبتئس والرزء فیہ جلیل بت اس لرجل کہا جاتا ہے جب اس کو کوئی ناپسندہ خبر پہنچے اور ألابتئاس، عاجزمی میں غم کو (کہا جاتا) ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واصنع الفلک باعینناو وحینا یعنی کشتی بناتا کہ آپ اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والے اس میں سوار ہوں۔ باعیننا یعنی ہماری طرف سے نگرانی کے ساتھ اور اس طرح کہ ہم تجھے دیکھیں۔ ربیع بن انس نے کہا : ہماری طرف سے تمہاری حفاظت کے ساتھ ایسے شخص کی حفاظت کی طرح کو تجھے دیکھ رہا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہماری حفاظت کے ساتھ، معنی ایک ہی ہے۔ پس رؤیت کو اعین کے ساتھ تعبیر کیا گیا کیونکہ رؤیت اسی کے ساتھ ہوتی ہے۔ أعین کو جمع ذکر کرنا عظمت کے لیے ہے نہ کہ کثرت کے لیے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فنعم القدرون۝ (اٰمرسلات) فنعم المٰھدون۝(الذاریات) اور وانالموسعون۝(الذاریات) (ان تمام میں قادرون، ماہدون اور موسعون کو اظہار عظمت کے لیے جمع ذکر کیا گیا ہے) اس آیت کریمہ میں اور اس کے علاوہ میں الاعینکامعنی عین کے معنی کی طرف راجع ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولتضنع علیٰ عینی۝(طہٰ ) اور یہ سارے کا سارا عبادت ہے ادراک اور احاطہ کرنے سے اور وہ حواسی، تشبیہ اور کیفیت سے پاک ہے۔ اس کے علاوہ کوئی پروردگار نہیں ایک قول یہ ہے : باعینناکا معنی ہے یعنی ہمارے ان فرشتوں کی نگرانی میں جن کو ہم نے تمہاری حفاظت اور معاونت پر آنکھوں (کی مثل) بنادیا ہے۔ اس کثرت کی بنیاد پر جمع اپنے باب پر ہوگی۔ ایک قول یہ ہے باعیننا یعنی اس کے بنانے کے لیے جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اس کے مطابقولاتخاطھنی فی الذین ظلموا ۚ انھم مغرقون یعنی ان کے لیے مہلت نہ مانگو، میں ان کو غرق کرنے والا ہوں۔
Ayahs 11:38–40

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو (نوح نے) کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب انکی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے ' وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح (کو) حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجا ئیگا) اسکو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اسکو کشتی میں سوار کرلو اور انکے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔

آیت نمبر 38 تا 40 اللہ تعالیٰ کا فرمان : ویصنع الفلک یعنی آپ بنانے لگے۔ زید بن اسلم نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) سو سال درخت لگاتے رہے، ان کو کانٹے رہے اور خشک کرتے رہے، اور سو سال ان میں کام کرتے رہے (کشتی بناتے رہے) ابن قاسم نے ابن اشرس عن مالک روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : مجھ تک خبر پہنچی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے زمین کو بھر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے میدانوں اور پہاڑوں کو بھردیا، پس وہ (پہاڑ والے) ان (میدان والوں) کی طرف نہیں اتر سکتے تھے اور نہ یہ (میدان والے) ان (پہاڑ والوں) کی طرف چڑھ سکتے تھے، پس حضرت نوح (علیہ السلام) سو سال کشتی بنانے کے لیے درخت لگاتے رہے، پھر ان کو جمع کیا سو سال تک خشک کرتے رہے اور آپ کی قوم مذاق اڑاتی رہی، اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے آپ کو یہ (کشتی) بناتے ہوئے دیکھا حتیٰ کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاقے میں کشتی بنائی اور اس کی لکڑی لبنان کے پہاڑ سے کاٹی۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کو نکالا جو مومن کے اصلاب اور ارحام میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی انہ لن یومن من قومک الامن قداٰمن، فاصنع الفلک آپ نے عرض کیا : اے رب ! میں بڑھئی نہیں ہوں۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا : ہاں بیشک یہ میری نگرانی میں ہوگا آپ نے کلہاڑا اپنے ہاتھ میں لیا اور آپ کا ہاتھ صحیح صحیح کام کرنے لگا۔ پس انہوں نے آپ کے پاس سے گزرنا شروع کردیا اور کہتے : یہ ہے وہ جو گمان کرتا ہے کہ یہ نبی ہے، (اب) بڑھئی بن گیا ہے۔ پس آپ نے اس (کشتی) کا کام چالیس سال میں کیا۔ ثعلبی اور ابونصرقشیری نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) نے دو سال میں کشتی بنائی۔ ثعلبی نے (اس میں یہ) اضافہ کیا، اور یہ اس وجہ سے کہ آپ کو پتہ نہ تھا کہ کشتی کیسے بنتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپکی طرف وحی فرمائی کہ اسکو پرندے کے سینے کی طرح بناؤ، حضرت کعب نے کہا : آپ نے اس کو تیس سال میں بنایا۔ واللہ اعلم مہدوی نے کہا : حدیث طیبہ میں آیا ہے کہ ملائکہ آپ کو سکھاتے تھے کہ آپ اس کو کس طرح بنائیں۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی کے بارے میں (علماء نے) اختلاف کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس کی لمبائی تین سو ذراع، چوڑائی پچاس ذراع اور بلندی تیس ذراع تھی اور یہ ساکھو کی لکڑی سے (بنائی گئی) تھی۔ اور اسی طرح کلبی، قتادہ اور عکرمہ نے کہا ہے کہ اس کی لمبائی تین سو ذراع تھی اور ذراع کندھے تک ہے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ نے یہ کہا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کشتی کی لمبائی ایک ہزار دوسوذراع اور چوڑائی سات سو ذراع ہے۔ ثعلبی نے اس کو کتاب ” العرائس “ میں بیان کیا ہے۔ علی بن زید نے یوسف بن مہران سے روایت کیا انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (ان کے) حواریوں نے کہا : اگر آپ ہمارے لیے کسی ایسے آدمی کو اٹھائیں جس نے کشتی کو دیکھا ہو تو وہ ہمارے ساتھ اس متعلق گفتگو کرے۔ آپ ان کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ آپ مٹی کے ایک ڈھیر کے پاس رکے۔ اس مٹی میں سے مٹھی بھرلی۔ فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : یہ حام بن نوح کی کہنی ہے۔ انہوں نے کہا : آپ نے اپنا عصا اس ریت کے ٹیلے کو مارا اور فرمایا : اللہ کے اذن سے اٹھ، پس وہ اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کھڑا ہوگیا اور وہ بوڑھا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اسے فرمایا : کیا تو اسی طرح ہلاک ہوا تھا ؟ اس نے کہا : نہیں بلکہ میں مرا تو جوانی کی حالت میں تھا لیکن میں نے سمجھا کہ یہ قیامت ہے پس اس وجہ سے بوڑھا ہوگیا۔ آپ نے فرمایا : ہمیں حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بارے میں خبر دے۔ اس نے کہا : اس کی لمبائی ایک ہزار دو سو ذراع اور چوڑائی سات سو ذراع تھی اور اس کی تین منرلیں تھیں، ایک منزل میں چوپائے اور وحشی جانور، ایک منزل میں انسان اور ایک منزل میں پرندے تھے۔ انہوں نے باقی حدیث کو ذکر کیا جس طرح کہ اس کا ذکر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ کلبی نے کہا جو اس کو نقاش نے بیان کیا : اس میں چار ذراع پانی داخل ہوا، اس کے تین دروازے تھے، ایک دروازے میں درندے اور پرندے، ایک دروازے میں وحشی جانور اور چوپائے اور ایک دروازے میں مرد اور عورتیں تھیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تین منزلیں بنائی ہیں۔ نیچے والی منزل وحشی جانوروں، درندوں اور چوپاؤں کے لیے، درمیان کھانے، پینے کے لیے اور اوپر منزل میں آپ خود سوار ہوئے۔ اور اپنے ساتھ حضرت آدم (علیہ السلام) کے جسم کو مردوں اور عورتوں کے درمیان چوڑائی کی صورت میں اٹھایا، پھر بعد میں بیت المقدس میں ان کو دفن کردیا اور شیطان ان کے ساتھ کشتی کے پچھلے حصے میں تھا۔ کہا گیا : سانپ اور بچھو کشتی میں داخل ہونے کے لیے آئے تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : میں تم دونوں کو سوار نہیں کروں گا، کیونکہ تم دونوں نقصان اور مصیبت کا سبب ہو، تو انہوں نے کہا : ہمیں سوار کرلیجئے، ہم آپ کو ضمانت دیتے ہیں کہ ہم کسی بھی ایسے شخص کو نقصان نہیں دیں گے جو آپ کو یاد کرے گا۔ پس جس نے بھی ان سے نقصان کے خوف کے وقت سلام علی نوح فی العالیمن پڑھا تو انہوں نے اسے کوئی نقصان نہ دیا۔ قیشری اور ان کے علاوہ نے اس کو ذکر کیا۔ حافظ ابن عسا کرنے اپنی تاریخ میں حضرت ابی امامتہ کی حدیث سے مرفوعاً ذکر کیا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس نے شام کے وقت صلی اللہ علی نوح وعلی نوح السلام کہا تو اس رات بچھو اس کو نہیں ڈسے گا “۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد کلما ظرف ہے۔ مرعلیہ ملامن قومہٖ سخروامنہاخفش اور کسائی نے کہا کہ سخرت بہ ومنہ کہا جاتا ہے (یعنی سخر کا صلہب اور من دونوں ہوسکتے ہیں) اور ان (کفار) کے مذاق کے بارے میں دو قول ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آپ کو خشکی میں کشتی بناتے ہوئے دیکھتے تھے تو آپ کا تمسخر اڑاتے اور استہزا کرتے تھے اور کہتے : اے نوح ! تو نبوت کے بعد بڑھئی بن گیا۔ دوسرا۔ جب انہوں نے آپ کو کشتی بناتے ہوئے دیکھا جب کہ اس سے قبل انہوں نے کشتی بنتی نہیں دیکھی تھی تو انہوں نے کہا : اے نوح ! تو کیا بنارہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں ایسا گھر بنارہا ہوں جو پانی پر چلے گا، تو وہ آپ کی بات سے حیران ہوئے اور آپ کا تمسخر اڑایا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : طوفان (نوح) سے پہلے زمین پر کوئی نہر اور دریا نہیں تھا پس اس وجہ سے انہوں نے مذاق کیا، اور دریاؤں کا پانی یہ طوفان کا ہی ماندہ ہے۔ قال ان تسخروامنا یعنی جس نے کشتی بناتے وقت آج ہمارے ساتھ (مذاق) کیا۔ فانا نسخرمنکمکل غرق کے وقت (ہم تم سے مذاق کریں گے) اور یہاں مذاق سے مراد حقیر سمجھنا ہے اور اس کا معنی یہ ہوگا کہ اگر تم ہمیں حقیر سمجھو گے تو ہم تمہیں حقیر سمجھیں گے جس طرح تم ہمیں حقیر سمجھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فسوف تعلمون ۙ من یاتیہ عذاب یخزیہ (یہ) دھمکی (ہے) اور من، سوف تعلمون کی وجہ سے متصلہ ہے۔ تعلمون یہاں متعدی ہے۔ یعنیفسوف تعلمون الذی یاتیہ العذاب، تم جان لوگے اس عذاب کو جو آئے گا، یہ بھی جائز ہے کہ مناستفہامیہ ہو، یعنی ہم میں سے کس پر وہ عذاب آتا ہے ؟ ایک قول یہ ہے : منمبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور یاتیہ خبر ہے اور یخزیہ عذاب کی صفت ہے۔ کسائی نے بیان کیا کہ اہل حجاز میں سے کچھ لوگسوف تعلمونکہتے ہیں اور انہوں (کسائی) نے کہا کہ جس ستعلمون کیا ہے اس نے واؤ اور فا دونوں کو ساقط کردیا ہے۔ کو فیوں نے سف تعلمونبیان کیا ہے، اور بصری سوائے سوف تفعل اور ستفعل کے (کوئی اور صورت) نہیں جانتے یہ دو لغتیں ہیں ان میں سے ایک دوسری میں سے نہیں۔ ویجل علیہ یعنی (کون ہے) جس پر ثابت ہوتا ہے اور اترتا ہے عذاب مقیم یعنی ہمیشہ رہنے والا مراد آخرت کا عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : حتی اذاجآء امرناوفارالتنورعلماء (کا) تنور کے بارے میں اختلاف ہے (اس کے بارے میں) سات اقوال ہیں۔ پہلا : کہ یہ زمین کی اوپر والی سطح ہے، عرب زمین کی اوپر والی سطح کو تنور کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ، عکرمہ، زہری اور ابن عیینہ نے یہی کہا ہے اور یہ اس وجہ سے کہ آپ (حضرت نوح علیہ السلام) کو کہا گیا : جب آپ زمین کی سطح پر پانی دیکھیں تو آپ اور جو آپ کے ساتھ ہیں وہ سوار ہوجائیں۔ دوسرا : یہ وہ روٹی والا تنور ہے جس میں روٹی پکائی جاتی ہے یہ تنور پتھر سے (بنا) ہوتا تھا اور یہ حضرت حواء کا تھا یہاں تک کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہوگیا آپ کو کہا گیا : جب آپ پانی کو تنور سے ابلتا ہوا دیکھیں تو آپ اور آپ کے اصحاب (دوست) سوار ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ نے تنور سے پانی کو جاری فرمایا، پس آپ کی بیوی کو اس کا پتہ چلا تو اس نے کہا : اے نوح (علیہ السلام) ! پانی تنور سے ابل پڑا ہے۔ تو آپ نے فرمایا : میرے رب کا وعدہ آگیا کو کہ سچا ہے۔ یہ حسن کا قول ہے، مجاہد اور عطیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ قول بیان کیا ہے۔ تیسرا : یہ کشتی میں پانی جمع ہونے کی جگہ تھی، حسن ؓ سے بھی (یہی منقول ہے) ۔ چوتھا : یہ فجر کا طلوع ہونا اور صبح کی روشنی ہے، ان (عربوں) کے قول سے تور الفجر تنویرا یعنی فجر روشن ہوگئی۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے یوں فرمایا ہے۔ پانچواں : یہ کوفہ کی مسجد ہے، حضرت علی ابی طالب ؓ نے بھی یہی کہا ہے یہ مجاہد کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : تنور کی سمت کوفہ میں تھی، انہوں نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوفہ کی مسجد کے درمیان میں کشتی بنائی اور تنور باب کندہ سے متصل اندر دائیں جانب تھا اور اس سے پانی کا نکلنا حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے ان کی قوم کی ہلاکت کی نشانی اور دلیل تھی۔ شاعر نے کہا جو کہ امیہ ہے : فار تنورھم جاش بماء صار فوق الجبال حتی علاھا ان کا تنور ابل پڑا اور پانی کے ذریعے جوش میں آگیا۔ تو آپ (حضرت نوح علیہ السلام) پہاڑوں کے اوپر ہوگئے یہاں تک کہ آپ ان پر چڑھ گئے۔ چھٹا : یہ وہ چشمہ ہے جو ” عین الوردۃ “ کے جزیرہ میں ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا (تنور) چشمہ تھا اور یہ شام کے ایک مقام پر تھا جس کو ” عین الوردۃ “ کہا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بھی کہا ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) کا تنور ہند میں ابل پڑا۔ نحاس نے کہا : ان اقوال میں کوئی تناقض نہیں، کیونکہ اللہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ پانی آسمان اور زمین (دونوں) سے آیا (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا ففتحنآ ابواب السمآء بمآءٍ منھمرٍ۝(القمر) پس ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیئے موسلادھار بارش سے۔ وفجرناالارض عیوناً (القمر :12) اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیئے۔ پس یہ سارے اقوال اس بات کو جامع ہیں کہ یہ (تنور کا ابلنا عذاب کی) علامت تھا۔ فوران سے مراد ابلنا، جوش کھانا ہے، تنور عجمی نام ہے جس کو عربوں نے عربی بنالیا ہے اور یہ فعل کے وزن پر ہے، کیونکہ اس کی بنا کی اصل تنر ہے اور کلام عرب میں را سے پہلے نون نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے فارالتنور کا معنی عذاب کے آجانے کے لیے بطور تمثیل ہے جس طرح عربوں کا قول حمی الوطیس (یہ اس وقت بولا جاتا ہے) جب جنگ سخت ہوجائے۔ الوطیس سے مراد التنور ہے، کہا جاتا ہے : فارت قدر القوم (یہ اس وقت بولا جاتا ہے) جب ان کی جنگ سخت ہوجائے۔ شاعر نے کہا : ترکتم قدرکم لاشئ فیھا وقدر القوم حامیۃ تفور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قلنا احمل فیھا من کل زوجین اثنین یعنی مذکر اور مونث، (مرد اور عورت) طوفان کے بعد نسل کی اصل کو باقی رکھنے کے لیے۔ حفص نے کل زوجین اثنینپڑھا ہے۔ کل کی تنوین کے ساتھ یعنی ہر چیز میں سے جوڑا جوڑا۔ دونوں قراءتیں ایک ہی معنی کی طرف راجع ہوتی ہیں (یعنی) ایک چیز جس کے ساتھ دوسری ایسی چیز ہو جس سے وہ مستغنی نہ ہو ایسی دوچیزوں کے بارے میں ” ھمازوجان “ کہا جاتا ہے۔ جس میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے مستغنی نہ ہو پس ان دونوں میں سے ہر ایک زوج کہتے ہیں، کہا جاتا ہے لہ زوجانعلجب اس کے پاس دو جوتے ہوں، اور اسی طرح (کہا جاتا ہے) ” عندہ زوجاحمام “ اس کے پاس دو حمام ہیں اور علیہ زدجاقیود اس پر دوقیود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وانہ خلق الزوجین الذکروالانثیٰ۝(النجم) اس نے جوڑا یعنی مذکر اور مونث کو پیدا فرمایا۔ عورت کو کہا جاتا ہے : یہ مرد کا زوج ہے جب کہ مرد کو کہا جاتا ہے : یہ اس (عورت) کا زوج ہے۔ اور بعض اوقات دو کے بارے میں کہا جاتا ہے : ھمازوج یعنی وہ دونوں زوج ہیں اور بعض اوقات زوجین بمعنی ضربیں اور صنفین ہوتا ہے اور ہر قسم کو زوج کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واتبتت من کل زوج بھیج۔ (الحج) یعنی ہر رنگ اور صنف میں سے۔ اغشی نے کہا : وکل زوج من الدیباج یلبسہ أبو قدامۃ محبو بذاک معاً اس نے ہر قسم اور رنگ مراد لیا، من کل زوجین، احمل کی وجہ سے محل نصب میں ہے، اثنین (اس کی) تاکید ہے۔ واھلک یعنی اور آپ اپنے گھر والوں کو سوار کریں۔ الامن سبق، مناستثنا کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ علیہ القولان میں سے یعنی ہلاکت کا، اور وہ آپ کا بیٹا کنعان اور آپ کی بیوی واعلتہ ہے جو دونوں کافر تھے۔ ومن اٰمن۔ ضحاک اور ابن جریج نے کہا : یعنی تو سوار کر اس کو جو مجھ پر ایمان لایا یعنی جس نے آپ کی تصدیق کی۔ پسمنا، احمل کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ ومآاٰمن معہ الاقلیلابن عباس ؓ نے کہا : آپ کی قوم کے اسی انسان ایمان لائے۔ ان میں سے تین آپ کے بیٹے سام، حام اور یافث تھے اور تین ان کی بیویاں تھیں، جب وہ کشتی سے نکلے تو انہوں نے ایک گاؤں بنایا، وہ آج بھی موصل کے نواح میں ” قریۃ الثمانین “ اسی اشخاص کا گاؤں کہلاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ کشتی میں آٹھ آدمی تھے، حضرت نوح (علیہ السلام) آپ کی بیوی۔ سزایافتہ بیوی کے علاوہ، آپ کے تین بیٹے اور ان کی بیویاں۔ یہ قتادہ، حکم بن عتیبہ، ابن جریج اور محمد بن کعب کا قول ہے : حام نے کشتی میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرلیا تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اس کے نطفے کو تبدیل کردے تو اس نے سیاہ رنگ والے کو جنم دیا۔ عطا نے کہا : حضرت نوع (علیہ السلام) نے حام کے خلاف دعا کی کہ اس کی اولاد کے بال ان کے کانوں سے آگے نہ بڑھیں اور یہ کہ وہ جہاں ہوں اس کی اولاد سام اور یافت کی اولاد کی غلام ہو کر رہے۔ اعمش نے کہا : وہ سات تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، تین ان کے بیٹوں کی بیویاں اور تین بیٹے، انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کو ساقط کردیا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : ان کی عورتوں کے علاوہ وہ دس تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، آپ کے بیٹے سام، حام اور یافث چھ آدمی ان لوگوں میں سے جو آپ پر ایمان لائے تھے اور ان سب کی بیویاں اور قلیل، اٰمن (کا فاعل ہونے) کی وجہ سے مرفوع ہے۔ استثناء کی وجہ سے اس کو نصب دینا جائز نہیں کیونکہ اس سے پہلے کلام مکمل نہیں ہوتا، مگر یہ کہ ” الا “ اور ” ما “ کے دخول میں فائدہ ہے کیونکہ آپ کہیں آپ کے ساتھ فلاں فلاں ایمان لایا تو ممکن ہے ان کے علاوہ ایمان لائے ہوں اور جب آپ ” الا “ اور ” ما “ لگاتے ہیں تو جو ” الا “ کے بعد ہیں وہ ثابت ہوجائیں گے اور ان کے علاوہ کی نفی ہوجائے گی۔