11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 11:50–60

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عدا کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں اس (وعظ ونصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں ؟

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے اور تمہاری طاقت بڑھائے گا۔ اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم رودگرانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے انکو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور انھیں عذاب شدید نجات دی۔

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔

آیت نمبر 50 تا 60 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم ذات العماد میں مذکور ہیں۔ عاد ایک آدمی کا نام ہے پھر اس کی طرف منسوب ایک قوم پر اس کا اطلاق ہوا۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ۔ غیرہلفظا مجرور اور غیرہمحلا مرفوع اور غیرہاستثنا کی بنیاد پر منصوبان انتم الامفترون یعنی تم غیر کو معبود بنانے میں اس (اللہ تعالیٰ عزوجل) پر جھوٹ بولنے والے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یٰقوم لآاسئلکم علیہ اجرًا ؕ ان اجری الاعلی الذی فطرنی اس کا معنی گزر چکا ہے۔ اور فطرت (سے مراد) مخلوق کی ابتدا ہے۔ افلا تعقلون یعنی اس کو جو قوم نوح پر جاری ہوا جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادویٰقوم استغفرواربکم ثم توبوٓا الیہسورت کی ابتداء میں یہ گزر چکا ہے۔ یرسل السمآء، یرسلمجزوم ہے کیونکہ یہ جواب ہے اور اس میں جزا کا معنی ہے۔ علیکم مدرارًاحال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اس میں کثرت کا معنی ہے، یعنی آسمان موسلادھار بارش برسائے گا۔ اور عرب مفعال میں نسب کی صورت میں ہا کو حذف کردیتے ہیں۔ اکثر اوقات مفعال کا وزن افعلباب افعال سے آتا ہے جب کہ یہاں فعل سے آیا ہے کیونکہ یہ دزت السماء تدر اور تدر سے مشتق ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد باغوں، کھیتوں اور عمارتوں والی قوم تھی اور ان کی رہائش گاہیں شام اور یمن کے درمیان والے ٹیلے تھے جس طرح کہ سورة اعراف میں گزر گیا۔ ویزدکم یرسل پر اس کا عطف ہے۔ قوۃً الیٰ قوتکممجاہد نے کہا : (قوت سے مراد) شدت ہے۔ ضحاک نے کہا : شادابی، علی بن عیسیٰ کے نزدیک : عزت۔ اور عکرمہ کے نزدیک : اولاد ہے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین سال ان سے بارش روک لی اور رحموں کو بانچھ کردیا پس ان کا کوئی بچہ پیدا نہ ہوا، تو حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں کہا : اگر تم ایمان لے آؤ تو اللہ تعالیٰ تمہارے شہروں کو زندہ (آباد) کردے گا اور تمہیں مال اور اولاد عطا فرمائے گا۔ پس یہی قوت ہے۔ زجاج نے کہا : معنی یہ ہے کہ وہ قوت کا اضافہ فرمادے گا نعمتوں میں۔ ولا تتولوامجرمین یعنی تم اس سے اعراض نہ کرو جس کی طرف میں تمکو دعوت دیتا ہوں اور کفر پر قائم نہ ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالوایٰھودماجئتنا ببینۃ یعنی واضح حجت۔ ومانحن لک بمؤمنینان کی طرف سے کفر پر اصرار ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ان نقول الا اعترٰئک یعنی تجھے مبتلا کردیا ہے۔ بعض اٰلھتنا اس سے مراد بت ہیں۔ بسوٓءٍ یعنی جنون نے آپ کا ان کو برا بھلا کہنے کی وجہ سے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے یہ مروی ہے کہا جاتا ہے : عراہ الا مرد اعتراہجب کوئی اس میں مبتلا ہوجائے۔ اور اسی سے ہے : واطعموا القانع والمعتر (الحج :36) قال انی اشھد اللہ یعنی ذات پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں۔ واشھدوٓا یعنی میں تم کو گواہ بناتا ہوں، اس وجہ سے نہیں کہ وہ اہل شہادت میں سے تھے بلکہ یہ تقریر کی انتہا ہے، یعنی اس لیے کہ تم پہچان لو۔ انی بریٓء مماتشرکون یعنی ان بتوں کی پوجا سے جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ فکیدونی جمیعًا یعنی تم اور تمہارے بت میری دشمنی اور مجھے نقصان دینے میں مکر کریں۔ ثم لاتنظرون یعنی تم مجھے مہلت نہ دو ۔ دشمنوں کی کثرت کے باوجود یہ قول اللہ تعالیٰ کی مدد پر کامل بھروسہ پر دلالت کرتا ہے۔ اور یہ نبوت کی علامات میں سے ہے کہ رسول اکیلا اپنی قوم کو کہتا ہے : فکیدونی جمیعًااسی طرح نبی کریم ﷺ نے قریش کو کہا اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا : فاجمعوٓاامرکم وشرکآکمالایۃ (یونس :71) تم اپنا معاملہ اور اپنے شرکاء کو جمع کرلو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : انی توکلت علی اللہ ربی وربکم یعنی میں اس کے حکم پر راضی ہوں اور اس کی مدد کے بارے میں پر امید ہوں۔ مامن دآبۃٍیعنی جو زمین پر رینگتا ہے۔ یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ الاھواٰخذبنا صیتھا تم مجھے نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔ ہر وہ چیز جس میں روح ہو اس کو دابیادابۃ کہا جاتا ہے اور اس دابۃ میں ہا مبالغہ کے لیے ہے۔ فراء نے کہا (اس سے مراد ہے کہ وہ) اس کا مالک اور اس پر قادر ہے۔ قتبی نے کہا : وہ اس پر غالب ہے، کیونکہ جس بندے کی پیشانی کو تو پکڑلے تو (گویا) تو اس پر غالب آگیا ہے۔ ضحاک نے کہا : وہ اس کو پیدا کرتا ہے پھر اس کو مارتا ہے اور معنی قریب قریب ہے اور نا صیۃ سے مراد سر کے اگلے حصے کے بال ہیں۔ نصوت الرجل انصوہ نصواً (کہا جاتا ہے) جب تم اس کی بیشانی کو کھینچو۔ ابن جریج نے کہا : اس کو ناصیۃ کے ساتھ کیا کیونکہ عرب یہ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کسی آدمی کی صفت عاجزی اور خضوع کے ساتھ بیان کی جائے۔ پس وہ کہتے ہیں : فلاں کی پیشانی فلاں کے ہاتھ میں ہے یعنی وہ اس کا مطیع ہے جس طرح چاہے وہ اس میں تصرف کرے۔ اور (عرب) جس کسی قیدی کو گرفتار کرتے اور پھر اس پر احسان کرکے اس کو آزاد کرنا چاہتے تو وہ اس کے پیشانی کے بالوں کو پکڑے تاکہ اس طرح وہ اس پر فخر کا اظہار کریں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب فرمایا ایسے محاورہ کے ذریعے جس کو وہ اپنے کلام میں جانتے تھے۔ ترمذی حکیم نے ” نوادرالاصول “ میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشادمامن دآبۃٍ الاھواٰخذۘبنا صیتھا کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے اعمال کے مقام پر مقرر فرمائے پھر ان کی طرف دیکھا پھر انسان کی تخلیق فرمائی اور نگاہ قدرت ان کی تخلیق سے پہلے ہی ان کے ان اعمال سے پار ہوگئی جو وہ کرنے والے تھے پس جب ان کو پیدا فرمایا تو اس نظر کے نور کو ان کی پیشانیوں میں لکھ دیا پس یہ نور ان کی پیشانیوں کو پکڑے والا ہے۔ یہ انہیں ان اعمال کی طرف لے جاتا ہے جو مقادیر والے ان پر مقرر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے، مقادیر کو زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے پیدا فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص نے اسے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :” اللہ تعالیٰ نے مقادیر کو زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مقرر فرمایا “۔ اسی وجہ سے رسولوں کو تقویت ملی اور وہ اولوالعزم میں سے ہوگئے کیونکہ انہوں نے پیشانیوں کے نور کو ملاحظہ فرمایا اور انہیں یقین ہوچکا تھا کہ اس کی ساری مخلوق ان انوار کے سبب اتباع کررہی ہے جہاں تک اعمال میں سے ان میں اس کی بصارت پار ہوچکی ہے، پس ان میں سے جو مشاہدہ کے اعتبار سے زیادہ ہیں وہ عزم میں زیادہ پختہ ہیں، اسی وجہ سے اللہ کے نبی حضرت ہود السلام اتنے مضبوط ہوچکے تھے کہ یہاں تک کہہ دیا : فکیدونی جمیعا ثم لاتنظرون، انی توکلت علی اللہ ربی وربکم مامن دآبۃٍ الا ھواٰخذۢبناصیتھا پس سازش کرلو میرے خلاف سب مل کر پھر مجھے مہلت نہ دو بلاشبہ میں نے بھروسہ کرلیا ہے اللہ تعالیٰ پر جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی ہے کوئی جاندار بھی نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے پکڑا ہوا ہے اسے پیشانی کے بالوں سے۔ اس کو ناصیۃ اس لیے کہا گیا کیونکہ اعمال غیب الغیب سے ظاہر ہوئے اور مقادیر میں منصوص ہوگئے، خالق کی بصارت مخلوق کی تمام حرکات سے قدرت کے ذریعے پار ہوگئی، پھر زمین پر چلنے والے ہر حیوان کی حرکت اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان اس کی پیشانی میں دکھ دی گئی، پس اس کی اس جگہ کو ناصیۃ کہہ دیا گیا، کیونکہ وہ تقدیر کے مطابق بندوں کی حرکات کو ظاہر کرتی ہے، ناصیۃ ان حرکات کے اظہار سے ماخوذ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کرنے سے پہلے دیکھا، اور اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کی پیشانی کے بارے میں ناصیۃٍکاذبۃٍخاطئۃٍ ۔ (العلق) فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ پیشانیوں میں کاذبۃ اور خاطئۃ بھی ہوتی ہیں۔ ان کی بیان کردہ تاویل کے مطابق ناصیۃ کو کذب اور خطا کی طرف منسوب کرنا محال ہے۔ ان ربی علیٰ صراطٍ مستقیمٍنحاس نے کہا : صراط کا لغوی معنی واضح راستہ ہے، معنی یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اگرچہ ہر چیز پر قادر ہے مگر بغیر حق کے وہ لوگوں کو نہیں پکڑتا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی تدبیر میں کوئی خلل نہیں اور اس کی تخلیق میں کوئی تفاوت نہیں وہ پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فان تولوامحل جزم میں ہے۔ اس وجہ سے اس میں سے نون کو حذف کردیا گیا ہے اور یہ اصل میں تتولواتھا اجتماع تائین کی وجہ سے تا کو حذف کردیا گیا۔ فقد ابلغتکم مآارسلت بہٖٓ الیکم اس کا معنی ہے کہ میں نے تمہارے لیے بیان کردیا ہے۔ ویستخلف ربی قومًا غیرکم یعنی وہ تمہیں ہلاک کردے گا اور وہ ان کو پیدا فرمائے گا جو تمہاری نسبت زیادہ اس کی اطاعت کرنے والے ہوں گے وہ اس کی وحدانیت کا اعلان کریں گے اور اس کی عبادت کریں گے۔ ویستخلفیہ ماقبل سے مقطوع ہے اس وجہ سے مرفوع ہے۔ فقدابلغتکم کے ارشاد میں فا کے بعد ثابت ہو رہا ہے یہ اس پر معطوف ہے۔ حفص سے روایت کی گئی ہے انہوں نے عاصم سے روایت کی ویستخلفجزم کے ساتھ فا کی جگہ اور اس کے مابعد پر محمول کرتے ہوئے جس طرحویذرھم فی طغیانھم یعمھون۔ (الاعراف) اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولاتضرونہ شیئا یعنی روگردانی اور اعراض کے ذریعے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ ان ربی علیٰ کل شیء حفیظ یعنی ہر چیز کا نگہبان علی بمعنی لام ہے۔ پس وہ میری حفاظت فرماتا ہے اس سے کہ تم مجھے کوئی برائی پہنچاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : لماجآء امرنا یعنی جب آیا ہمارا عذاب قوم عاد کی ہلاکت کے ذریعے۔ نجیناھودًاوالذین اٰمنوامعہ برحمۃٍ مناکیون کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر نجات نہیں پاتا اگرچہ اسے نیک اعمال ہی کیوں نہ حاصل ہوں۔ صحیح مسلم، صحیح بخاری اور دیگر (کتب) میں نبی کریم ﷺ سے ہے ” تم میں سے کسی کو اس کا عمل ہرگز نجات نہیں دے سکتا “۔ انہوں نے عرض کیا : اور نہ آپ کو یا رسول اللہ ؟ ﷺ آپ نے فرمایا :” اور نہ مجھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے “۔ ایک قول یہ ہے کہ برحمۃٍ مناکا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کے لیے اس ہدایت کو بیان کردیا جو رحمت ہے۔ اور وہ چار ہزار تھے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ تین ہزار تھے۔ ونجینٰھم من عذاب غلیظٍیعنی قیامت کے دن کے عذاب (سے) اور کہا گیا ہے : وہ سخت آندھی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورة ذاریات وغیرہ میں ذکر فرمایا اور اس کا بیان آئے گا۔ قشیری ابونصر نے کہا : وہ عذاب جس کے ذریعے نبی اپنی امت کو دھمکی دیتا ہے جب آجائے تو اللہ نبی اور اس کے ساتھ مومنین کو اس سے نجات عطا فرماتا ہے۔ ہاں ! اللہ کا نبی اور اس کی قوم کو مبتلا کرنا (ازقیاس بات) نہیں پس وہ ان کو آزمائش میں مبتلا فرمائے تو وہ کافروں کے لیے سزا ہوگی اور مومنوں کے لیے آزمائش، جب یہ اس میں سے نہ ہو نبی نے جسکی دھمکی دی ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وتلک عادمبتدا اور خبر ہے۔ کسائی نے بیان کیا کہ عربوں میں سے جو عاد کو منصرف نہیں بناتا پس وہ اس کو قبیلہ کا نام بنا دیتا ہے۔ جحدوابٰایٰت ربھم یعنی انہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور ان کا انکار کیا۔ وعصوا رسلہ یعنی صرف حضرت ہود (علیہ السلام) کا، کیونکہ ان کی طرف سوائے آپ کے کوئی اور رسول نہ بھیجا گیا۔ اس کی مثال (یعنی جمع بول کر واحد مراد لینا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یٰایھا الرسل کلوا من الطیبٰت (المومنون :51) (الرسل سے مراد) صرف نبی کریم ﷺ ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے زمانے میں آپ کے علاوہ کوئی رسول نہ تھا۔ اور یہاں جمع ہے کیونکہ جس نے ایک رسول کی تکذیب کی تو (گویا) اس نے سب رسولوں کی تکذیب کی۔ اور ایک قول یہ ہے : انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) اور آپ سے پہلے رسولوں کی تکذیب کی، اور وہ اس طرح تھے کہ اگر ان کی طرف ہزار رسول بھی بھیجے جاتے تو وہ سب کا انکار کردیتے، واتبعوا امرکل جبارٍعنیدٍیعنی ان کے کمتر لوگوں نے اپنے رئیسوں کی اتباع کی۔ جبار سے مراد تکبر کرنے والا ہے اور عنید سے مراد سرکش ہے جو حق کو قبول نہیں کرتا اور نہ اس کا اقرار کرتا ہے۔ ابوعبیدنے کہا : عنید، عنود، عاند اور معاند سے مراد محالفت کی وجہ سے اعراض کرنے والا ہے۔ اور اسی سے اس رگ کو عاند کہا جاتا ہے جو خون کے ذریعے بہہ پڑتی ہے۔ زاجر نے کہا : إنی کبیر لا أطیق العندا اللہ تعالیٰ کا فرمان : واتبعوافی ھٰذہ الدنیالعنۃًیعنی ان کو اس کے ساتھ ملادیا گیا۔ ویوم القیٰمۃ یعنی ان کے پیچھے لگائی جائے گی قیامت کے دن اس کی مثل پس یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ویوم القیٰمۃ پر تمام ہورہی ہے۔ الآان عادًا کفروا ربھم فراء نے کہا : یعنی انہوں نے اپنے رب کی نعمت کا انکار کیا، اس نے کہا : کفرتہ اور کفرتبہ کہا جاتا ہے جس طرح شکرتہ اور شکرت لہ کہا جاتا ہے (یعنی یہ با کے صلہ کے ساتھ اور صلہ کے بغیر دونوں طرح آتا ہے) الابعدً العادٍ قوم ھود یعنی وہ اللہ کی رحمت سے دور رہیں گے اور بعد سے مراد ہلاکت ہے اور بعدبھلائی سے دوری کو بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : بعد یبعد بعدجب وہ پیچھے رہ جائے اور دور ہوجائے۔ اور بعد یبعد بعدا (کہا جاتا ہے) جب وہ ہلاک ہو۔ شاعر نے کہا : لا یبعدن قومی الذین ھم سم العداۃ وآفۃ الجزر نابغہ نے کہا : فلا تبعدن إن المنیۃ منھل وکل امری یومًا بہ الحال زائل
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پید کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔

آیت نمبر 61 اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ ثمود یعنی ہم نے ثمود کی طرف بھیجا۔ اخاھم یعنی نسب میں ان کا بھائی صٰلحًایحییٰ بن وثاب نے الیٰ ثمودے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور حسن سے بھی اسی طرح روایت کیا گیا ہے اور تمام قراء نے پورے قرآن میں اس میں اختلاف کیا ہے پس انہوں نے کسی جگہ اس کو منصرف پڑھا ہے اور کسی جگہ غیر منصرف۔ ابو عبیدہ نے گمان کیا کہ اگر جماعت کی مخالفت نہ ہو تو مناسب صرف کو ترک کرنا ہے۔ کیونکہ اس میں ثابت غالب ہے۔ نحاس نے کہا : جو ابوعبید نے کہا۔ اللہ اس پر رحم کرے۔ کہ اس پر تانیث غالب ہے (یہ) کلام مردود ہے، کیونکہ ثمودا محلے کو بھی کہا جاتا ہے اور قبیلہ کو بھی اور اس پر قبیلہ غالب نہیں، بلکہ سیبویہ کے نزدیک معاملہ اس کے برعکس ہے اور جس کے بارے میں بنو فلاں نہ کہا گیا ہو اس میں سیبویہ کے نزدیک عمدہ اس کو منصرف پڑھنا ہے جس طرح قریش، ثقیف اور جوان دونوں کے مشابہ ہو، اسی طرح ثمود بھی ہے۔ اس میں علت یہ ہے کہ جب مذکر اصل ہے اور اس کا مذکر اور مونث (دونوں) ہوں تو اصل اخف اولی ہے اور تانیث عمدہ اور حسن ہے۔ سیبویہ نے تانیث میں شعر کہا : غلب المسامیح الولید سماحۃ وکفی قریش المعضلات وسادھا مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہگزرچکا ہے۔ ھوانشاکم من الارض یعنی اس نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی زمین سے اور یہ اس وجہ سے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین سے پیدا کیا گیا جس طرح کے ” سورة بقرہ “ اور ” سورة الانعام “ میں گزر چکا ہے۔ اور لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیے گئے۔ ایک قول یہ ہے اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ غیرہکیھو کی ھا میں ادغام جائز نہیں سوائے اس شخص کی لغت کے جس نے ادراج کی صورت میں واؤ کو حذف کردیا ہو۔ واستعمرکم فیھا یعنی اس نے تمہیں اس کا آباد کرنے والا اور رہائشی بنایا۔ مجاہد نے کہا : استعمرکم کا معنی ہے اعمرکم یعنی اس نے تمہیں عمر بھر (زمین میں) رکھا، جیسے اعمرفلان فلانا دارہ یعنی فلاں فلاں کو اپنا گھر عمر بھر کے لیے دیا پس یہ بھر اس کا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس نے تمہیں اس میں آباد کیا، ان دونوں قولوں کے مطابق استفعل افعل ہوگا جیسے بمعنی اجاب۔ ضحاک نے کہا : اس نے تمہاری عمروں کو دراز کیا اور ان کی عمریں تین سو سے ہزار (سال) تک تھیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک معنی ہے : اس نے تمہیں اس میں زندہ رکھا۔ زید بن اسلم کے نزدیک اس نے تمہیں حکم دیا اس میں رہائش گاہوں کی تعمیر اور درخت لگانے میں سے جس کی تمہیں ضرورت ہو اس کے بنانے کا۔ اور ایک قول یہ ہے : معنی یہ ہے کہ اس نے کھیتی باڑی، درخت لگانا اور نہروں کی کھدائی وغیرہ میں سے اس کی آبادی کا تمہیں الہام کیا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ابن عربی نے کہا کہ بعض شافعی علماء نے کہا : استعمار سے مراد طلب عمارت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطلق مطالبہ وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ قاضی ابوبکر نے کہا : استفعلکا کلمہ عربوں کی زبان پر کئی معافی کے لیے آتا ہے ان میں سے ایک استفعلبمعنی طلب فعل ہے جس طرح کسی کا قول استحملتہ یعنی میں نے اس سے لادنے کا مطالبہ کیا، اور بمعنی اعتقد بھی ہے جس طرٖ ان کا قول : استسھلت ھذا المر یعنی میں نے اس کے آسان ہونے کا اعتقاد رکھا یا میں نے اس کو آسان پایا اور استعظمۃ یعنی میں نے اس کے عظیم ہونے کا اعتقاد رکھا اور اس کو عظیم پایا، اور اسی سے استفعلتبمعنی اصبت ہے جس طرح ان کا قول : استجدتہ یعنی میں نے اس کو عمدہ پایا، اور اسی سے بمعنی فعل ہے جس طرح اس کا قول قرنی المکان واستقر یعنی وہ مکان میں قرار پذیر ہوا اور اس نے قرار چاہا، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یستھزؤن اور یستسخرون اسی قبیل سے ہے پس اللہ تعالیٰ کا ارشاداستعمرفیھا (کا معنی ہوگا) اس نے تمہیں اس کی آبادی کے لیے پیدا فرمایا۔ استجدتہ اور استسھلتہ کے معنی پر نہیں یعنی میں نے اسے عمدہ اور سہل طریقے سے پالیا۔ یہ خالق کی طرف سے محال ہے تو یہ اس طرف راجع ہوگا کہ اس نے پیدا فرمایا، کیونکہ یہ (پیدا کرنا) اس کا فائدہ ہے اور بعض اوقات کسی چیز کو مجازاً اس کے فائدہ سے تعبیر کردیا جاتا ہے۔ یہ صحیح نہیں کہ کہا جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی آبادی کی طلب ہے کیونکہ یہ لفظ اس (اللہ تعالیٰ کی ذات) کے حق میں جائز نہیں، البتہ یہ کہنا صحیح ہے کہ اس نے اس کی آبادی کو چاہا پس وہ استفعل کے لفظ کے ذریعے اسے لایا۔ اور یہ قول کے ذریعے اپنے سے کم مرتبہ ذات سے فعل کی استدعا ہے کہ یہ امر ہو اور جب ادنی کی طرف سے اعلیٰ سے عقل کا مطالبہ ہو تو وہ رغبت ہوتی ہے۔ میں نے کہا : استفعلبمعنیافعلذکر نہیں کیا گیا جس طرح کے استوقدبمعنیاوقد ہے اور ہم نے اسے ذکر کردیا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اس میں اسکان اور عمری پر دلیل ہوگی۔ سورة بقرہ میں سکنی اور رقبیٰ کے بارے میں قول گزر گیا ہے۔ جہاں تک عمریٰ کا تعلق ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے جس کے بارے میں تین اقوال ہیں کہ یہ معمر (عمریٰ کرنے والا) کی زندگی میں گردن (ذات) کے منافع کا مالک بنانا ہے اس کی عمر کی مدت میں پس اگر وہ اس کی انتہا کو ذکر نہ کرے اور معمرفوت ہوجائے تو یہ اسی کے پاس واپس آجائے گا جس نے اس کو دیا تھا یا اس کے ورثاء کے لیے ہوگا، یہ قاسم بن محمد، یزید بن قسیط اور لیث بن سعد کا قول ہے۔ یہی امام مالک کا مشہور مذہب ہے اور امام شافعی کے اقوال میں سے ایک ہے، اس قول کی دلیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ 2 ۔ یہ گردن (ذات) اور اس کے منافع کا مالک بنانا ہے اور یہ نافذ شدہ ہبہ ہے جو واہب کی طرف واپس نہ ہو سکے گا یہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی ان دونوں کے اصحاب م ثوری، حسن ابن حی، امام احمد بن حنبل، ابن شبرمۃ اور ابوعبید کا قول ہے۔ انہوں نے کہا : جس نے عمریٰ کیا کسی بندے کو اس کی زندگی کا تو یہ اس کی زندگی میں اس کا ہوگا اور اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کے لیے ہوگا۔ کیونکہ وہ اس کی گردن کا مالک بن چکا ہے اور دینے والے کا زندگی اور عمر کی شرط لگانا باطل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” عمریٰ جائز ہے “ اور عمریٰ اس کے لیے ہے جس کو ہبہ کیا گیا “۔ 3 ۔ اگر اس نے ” عمرک “ کہا اور اس کے جانشین کا ذکر کیا تو یہ پہلے کی طرح ہے اور اگر اس نے عمرک لعقبک کہا تو یہ دوسرے قول کی طرح ہے۔ یہی زہری، ابوثور، ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن زئب نے کہا ہے۔ اور امام مالک (رح) سے روایت کیا گیا اور یہی مؤطا میں ان کے قول کا ظاہر ہے۔ آپ سے اور آپ کے اصحاب سے (جس کے لیے عمریٰ کیا گیا) معروف یہ ہے کہ معمر کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے جب معمر کی اولاد ختم ہوجائے اگر معمر (عمریٰ کرنے والا) زندہ ہو ورنہ اس کی طرف جو اس کے ورثاء میں سے زندہ ہو اور اس کی میراث کا لوگوں میں زیادہ حق دار ہو۔ امام مالک اور آپکے اصحاب کے نزدیک معمر (جس کے لیے عمریٰ کیا گیا) عمریٰ کے لفظ کے ذریعے اشیاء میں سے کسی چیز کی گردن کا مالک نہیں بنے گا، عمریٰ کے لفظ سے وہ منفعت کا مالک ہوگا نہ کہ گردن کا۔ امام مالک (رح) نے وقف شدہ چیزوں کے بارے میں بھی کہا ہے : جب کسی نے کوئی چیز کسی آدمی کے لیے اور اس کی اولاد کے لیے وقف کی تو وہ اس کی طرف رجوع نہیں کرسکتا اور اگر کسی معین آدمی کے لیے اس کی زندگی میں وقف کیا تو وہ رجوع کرسکتا ہے۔ اور اسی طرح عمریٰ بھی ہے اس پر قیاس کرتے ہوئے یہی مؤطا کا ظاہر ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس آدمی نے کسی آدمی اور اس کی اولاد کے لیے عمریٰ کیا، اس نے کہا یہ میں نے تجھے اور تیری اولاد کو دیا جو تم میں سے بچ گیا تو یہ اس کے لیے ہوگا جس کو عطا کیا گیا اور یہ (عمریٰ ) اپنے مالک کی طرف نہیں لوٹے گا اس وجہ سے کہ اس نے یہ ایسی عطا کی ہے جس میں وارثت واقع ہوگی “ اور انہی سے ہے کہ انہوں نے کہا : وہ عمریٰ جس کو رسول اللہ ﷺ نے جائز قرار دیا وہ یہ ہے کہ وہ کہے : یہ تیرے لیے اور تیری اولاد کے لیے ہے اور اگر اس نے کہا : یہ تیرے لیے ہے جب تک تو زندہ رہے تو یہ (عمریٰ ) اپنے مالک کے پاس لوٹ جائے گا۔ معمر نے کہا اس پر زہری فتویٰ دیا کرتے تھے۔ میں (قرطبی) نے کہا : قرآن کا معنی دوسرے قول والوں کے ساتھ چلتا ہے کیونکہ اللہ سبحانہ نے فرمایا : واستعمرکم یعنی اعمرکمپس نیک آدمی نے اس میں اپنی زندگی کی مدت نیک عمل اور اپنی موت کے بعد ذکر جمیل اور عمدہ تعریف کے ذریعے عمریٰ کیا اور فاجر آدمی نے اس کے برعکس (عمریٰ کیا) پس دنیا ان دونوں کے لیے زندگی اور موت کے اعتبار سے ظرف ہے۔ کہا جاتا ہے : بیشک عمدہ تعریف اولاد کے قائم مقائم ہے۔ تنزیل میں واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین۔ (الشعراء) سے مراد عمدہ تعریف ہے، کہا گیا ہے، وہ حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وجعلنا ذریتہ ھم البٰقین۔ (الصافات) اور ہم نے بنا دیا فقط ان کی نسل کو باقی رہنے والا اور فرمایا : وبٰرکنا علیہ وعلیٰٓ اسحاق ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہٖ مبین۔ (الصافات) اور ہم نے برکتیں نازل کیں اس پر اور اسحاق پر اور ان کی نسل میں کوئی نیک ہوگا اور کوئی اپنی جان پر کھلا ظلم کرنے والا ہوگا۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فاستغفروہ یعنی اس سے بتوں کی عبادت سے مغفرت کا سوال کرو۔ ثم توبوٓا الیہ یعنی اس کی عبادت کی طرف رجوع کرو۔ ان ربی قریب مجیب یعنی جواب دینے کے قریب اس آدمی کے لیے جو اس سے دعا مانگے، سورة بقرہ میں اللہ کے ارشادفانی قریب ؕ اجیب دعوۃ الداع (البقرہ :186) میں گفتگو گزر چکی ہے۔
Ayahs 11:62–68

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوچنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قومی شبہہ ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اسکے سامنے میری کون مدد کریگا ؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم ! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اسکو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھالوں۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

آیت نمبر 62 تا 68 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالو ایٰصٰلح قدکنت فیھا مرجوًاقبل ھٰذآ یعنی اس سے پہلے ہم امید کرتے تھے کہ آپ ہی ہم میں سے سردار ہوں گے، یعنی آپ کے دعویٰ نبوت سے پہلے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے معبودوں کو غیب کی طرف منسوب کرتے اور ان سے نفرت کرتے تھے۔ اور وہ آپ سے انہی کے دین کی طرف لوٹنے کی امید کرتے تھے، پس جب آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تو انہوں نے کہا : ہماری تم سے وابستہ امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ اتنھٰنآاستفہام ہے جس کا معنی انکار ہے۔ ان نعبد یعنی (عن ان نعبد) اس بات سے کہ ہم عبادت کریں۔ مایعبداٰباؤناان محل نصب میں ہے عن حرب جر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔ واننالفی شکٍسورۂ ابراہیم میں وانا ہے اور اصل میں واننا ہے۔ تین نون ثقیل ہوئے پس تیسرے نون کو ساقط کردیا۔ مماتدعونآ، خطاب حضرت صالح (علیہ السلام) کو ہے۔ سورة ابراہیم میں تدعوننا ہے کیونکہ مخاطف تمام رسول صلوٰات اللہ وسلامہ علیہم ہیں۔ الیہ مریبٍیہ اربتہ فأناأریبہ سے ہے جب تو کوئی ایسا کام کرے جو تیرے پاس بےچینی کو ثابت کردے۔ ہذی نے کہا : کنت إذا أتوتہ من غیب یشم عطفی و یبذ ثؤبی کأنما اربتہ بریب اللہ تعالیٰ کا فرمان : قال یٰقوم ارءیتم ان کنت علیٰ بینۃ من ربی واٰتٰنی منہ رحمۃًاس کا معنی حضرت نوح (علیہ السلام) کے قول میں گزر چکا ہے۔ فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہاستفہام ہے جس کا معنی نفی ہے یعنی کوئی بھی اس کی طرف سے میری مدد نہیں کرے گا اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ فماتزیدوننی غیرتخسیرٍیعنی گمراہی اور بھلائی سے دور۔ فراء کا یہی قول ہے اور نقصان ان (کفار) کے لیے ہے نہ کہ آپ (علیہ السلام) کے لیے گویا کہ آپ نے یوں کہا : سوائے تمہارے لیے نقصان کے نہ کہ میرے لیے۔ اور کہا گیا : اے خسارے کو دیکھے بغیر اپنے آباء کے دین کے ذریعے حجت پکڑے میں تم میرے لیے زیادہ نہیں کرتے، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ویٰقوم ھٰذہٖ ناقۃ اللہ مبتدا اور خبر ہے۔ لکم اٰیۃًحال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور عامل ھذہ میں تنبیہ یا اشارہ کا معنی ہے۔ اور کہا گیا : ناقۃ اللہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس (اونٹنی) کو ان کے لیے پہاڑ سے نکالا ان کے مطالبہ پر، اس وجہ سے کہ وہ ایمان لائیں گے۔ ایک قول یہ ہے : حجر کے ایک طرف صماء کی منفرد چٹان سے اللہ تعالیٰ نے اسے نکالا جس کو کا ثبہ کہا جاتا ہے، جب اونٹنی نکلی ان کے مطالبہ پر تو ان کو اللہ کے نبی حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا : ھٰذہٖ ناقۃ اللہ لکم اٰیۃً ، فذروھاتا کل، امر اور جواب امر ہے، فذروھا سے نون کو حذف کردیا گیا، کیونکہ یہ امر ہے اور وزر اور وازد نہیں کہا جاتا مگر شاذ اور نحویوں کے اس میں دو قول ہیں، سیبویہ نے کہا (واو) کو چھوڑ کر اس سے مستغنی ہوگئے اور کسی اور نے کہا : جب واؤ ثقیل تھی اور کلام میں اس کے معنی کا فعل بھی تھا جس میں واؤ نہیں تو انہوں (نحویوں) نے اس کو لغو کردیا۔ ابواسحاق زجاج نے کہا : تاکل کارفع بھی جائز ہے حال اور جملہ مستانفہ ہونے کی بنیاد پر۔ ولاتمسوھانہی کی وجہ سے مجزوم ہے۔ بسوٓءٍفراء نے کہا : کونچ کانٹے کے ذریعے۔ فیاخذکم نہی کا جواب ہے۔ عذاب قریب یعنی اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹنے کے قریب۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فعقروھافقال تمتعوافی دارکم ثلٰثۃ ایام۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فعقروھا اس کی کونچیں تو ان میں سے بعض نے کاٹیں اور اس کو تمام کی طرف منسوب کردیا گیا کیونکہ یہ باقی لوگوں کی رضامندی سے تھا۔ اور اس کی کونچوں کے کاٹنے کے بارے میں سورة اعراف میں کلام گزر گیا ہے اور آئے گا بھی۔ فقال تمتعوا یعنی ان کو حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا : تم لطف اندوز ہولو، یعنی عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ عزوجل کی تعمتوں کے ذریعے۔ فی دار کم، فی بلادکممراد ہے یعنی اپنے شہر میں، اگر آپ دار سے گھر مراد لیتے تو آپ دورکم فرماتے۔ ایک قول یہ ہے : یعنی تم میں سے ہر ایک اپنے گھر اور اپنی رہائش گاہ میں لطف اندوز ہوے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشادیخرجکم طفلا (غافر :67) یعنی ہر ایک بچہ۔ اور زندگی کے ساتھ لطف اندوز ہونے کے ساتھ اس کو تعبیر کیا، کیونکہ میت نہ لذت حاصل کرتی ہے اور نہ کسی چیز کے ساتھ لطف اندوز ہوتی ہے۔ بدھ کے دن کونچیں کاٹی گئیں، جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کے دن وہ رہے اور اتوار کے دن ان پر عذاب آیا۔ وہ تین دن مقیم رہے، کیونکہ اس اونٹنی نے تین بار آواز نکالی تھی جیسا کہ سورة اعراف میں گزرچکا ہے۔ پہلے دن ان کے رنگ زرد ہوگئے، پھر دوسرے دن سرخ ہوگئے اور پھر تیسرے دن سیاہ ہوگئے اور چوتھے دن وہ ہلاک ہوگئے، سورة اعراف میں یہ گزرچکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ہمارے علماء مالکیہ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے تین دن اللہ کے عذاب کو مؤخر کرنے سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ جب مسافر چار راتوں کی اقامت نہ کرے تو وہ قصر کرے گا، کیونکہ تین دن اقامت کے حکم سے خارج ہیں، اس سلسلہ میں علماء کے جو اقوال ہیں وہ سورة نساء میں گزرچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ذٰلک وعدغیرمکذوبٍیعنی مکذوببمعنی کذب ہے ایک قول یہ بھی ہے : غیرمکذوب فیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فلما جآء امرنا یعنی ہمارا عذابنجینا صٰلحًا والذین اٰمنو معہ برحمۃٍ منایہ گزر چکا ہے ومن خزی یومئذٍیعنی ہم نے ان کو نجات دی اس دن کی رسوائی سے، یعنی اس کی رسوائی اور ذلت سے۔ کہا گیا ہے : واؤ زائدہ ہے یعنی ” نجیناھم من خزی یومئذ “ ہے کہ ہم نے ان کو اس دن کی رسوائی سے نجات دی۔ سیبویہ اور اہل بصرہ کے نزدیک اس کو زائد جائز نہیں اور کو فیوں کے نزدیکلما اور حتی کے ساتھ اس کو زائد کرنا جائز ہے ان کے علاوہ نہیں۔ نافع اور کسائی نے یومئذکو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے یوم کی اذکی طرف اضافت کی بنا پر کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابوحاتم نے کہا : ہم سے ابوزید نے ابوعمرو سے بیان کیا کہ اس نے ومن خزی یومئذپڑھا یعنی اس نے یا کو یا میں ادغام کیا اور مضاف کیا اور یومئذ میں میم کو کسرہ دیا۔ نحاس نے کہا : جس کو سیبویہ اور ان کے قریب قریب والے نحوی انوعمرو سے اس قسم کی قراءت راویت کرتے ہیں وہ اخفا ہے جہاں تک ادغام کا تعلق ہے جائز نہیں، کیونکہ یہ التفاء ساکنین ہے اور زا کا کسرہ جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واخذالذین ظلموا الصیحۃ یعنی چوتھے دن میں ان پر چنگھاڑ ہوئی تو وہ مرگئے اور (اخذ) کو مذکر ذکر کیا کیونکہ الصحیۃ اور الصیاح ایک ہی ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ جبریل امین کی چیخ تھی۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ آسمان سے ایک چنگھاڑ آئی تھی جس میں ہر بجلی کی کڑک اور زمین کی ہر چیز کی آواز تھی پس ان کے دل پھٹ گئے اور وہ مرگئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں واخذالذین ظلموا الصیحۃ فرمایا اور سورة اعراف میں فاخذتھم الرجفۃ فرمایا، اس کا بیان وہاں گزرچکا ہے۔ تفسیر میں ہے، جب انہیں عذاب کا یقین ہوگیا تو انہوں نے ایک دوسرے کو کہا : اگر اچانک عذاب آگیا تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے کہا پھر ہم کیا کریں گے ؟ پس انہوں نے اپنی تلواریں، نیزے اور اپنے جتھے لے لیے۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ بارہ ہزار قبیلے تھے، ہر قبیلہ میں بارہ ہزار جنگجو تھے۔ وہ راستوں اور چوراہوں پر کھڑے ہوگئے، ان کا گمان تھا کہ وہ عذاب سے لڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو حکم دیا جو سورج کے ساتھ موکل ہے کہ وہ ان کو اپنی گرمی کا عذاب دے پھر ان پر اس کا کم از کم عذاب یہ تھا کہ ان کے ہاتھ جل گئے اور پیاس سے ان کی زبانیں ان کے سینوں پر لٹک گئیں اور جو جانور وغیرہ ان کے پاس تھے وہ مرگئے اور چشموں کا پانی جوش سے ابلنے لگا یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ گیا، وہ جس چیز پر گرتا اس کو اپنی گرمی کی شدت سے ہلاک کردیتا۔ اسی طرح جاری رہا، اور اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو حکم دیا کہ وہ ان کی روحوں کو قبض نہ کرے ان کو عذاب دینے کے لیے یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔ وہ مٹی کے ساتھ پرندے کی طرح چمٹ گئے جو اپنا سینہ زمین پر لگادے۔ الآ ان ثمود کفرواربھم ؕ الا بعد الثمود اس کا معنی گزرچکا ہے۔