Ayahs 11:115–116آیت نمبر 115 تا 116
قولہ تعالیٰ : اصبر یعنی نماز پر صبر کیجئے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وامراھلک بالصلوٰۃ واصطبرعلیھا (طہٰ :132) اور اپنے
گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور اس پر صبر کریں۔ اور ایک قول یہ بھی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! آپ کو جو تکلیف اور اذیت ملے اس پر صبر کیجئے۔ فان اللہ لایضیع اجر المحسنین، محسنین سے مراد نماز قائم کرنے والے ہیں۔
قولہ تعالیٰ : فلولاکان، لولابمعنی ھلا ہے۔ من القرون من قبلکم، قرون سے مراد امتیں اور قومیں ہیں یعنی ان امتوں میں سے جو تم سے پہلے تھیں۔ اولوابقیۃٍ یعنی اطاعت، دین، عقل اور بصیرت والے لوگ۔ ینھون اپنی قوموں کو روکتے۔ عن الفسادفی الارض یعنی اس عقل کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی تھی اور انہیں اپنی نشانیاں اور آیات دکھائی تھیں۔ یہ کفار کے لیے زجروتوبیخ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہاں لولا نفی کے لیے ہے، یعنی ماکان من قبلکم تم سے پہلے نہیں تھے۔ جیسے اللہ کا ارشاد فلولا کا نت قریۃ اٰمنت (یونس : 98) یعنی ماکانت قریۃ آمنت کوئی بستی نہیں جو ایمان لائی ہوتی۔ الاقلیلا استثنا منقطع ہے اس سے مراد لکن قلیلا ہے۔ ممن انجینا منھم کہ وہ زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے۔ ایک قول یہ ہے : یہ حضرت (علیہ السلام) کی قوم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر الاقوم یونس (یونس :98) فرمایا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ انبیاء کے متبعین اور اہل حق ہیں۔ واتبع الذین ظلموا یعنی انہوں نے شرک کیا اور نافرمانی کی۔ مآاترفوافیہ یعنی مال اور لذت میں مشغول رہنے میں سے اور ان چیزوں کو آخرت پر ترجیح دینے جیسے کاموں میں پڑے رہے۔ وکانو امجرمین اور وہ مجرم تھے۔
Ayahs 11:117–119آیت نمبر 117 تا 119
قولہ تعالیٰ : وماکان ربک لیھلک القرٰی اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ برباد کردے بستیوں یعنی بستیوں والوں کو۔ القری سے مراد اھل القری ہے۔ بظلمٍ یعنی شرک اور کفر سے واھلھامصلحون یعنی ان کے درمیان حقوق کی باہم ادائیگی ہورہی ہو، یعنی ایسا نہیں کہ وہ انہیں صرف کفر کی وجہ سے ہلاک کرے یہاں تک کہ اس کے ساتھ ساتھ فساد بھی برپا ہوجائے، جس طرح مثلاً اس نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو کم تولنے کی وجہ سے ہلاک کیا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو لواطت کی وجہ سے ہلاک کیا، اور یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں شرک کی نسبت نافرمانی اور گناہ ہلاکت و بربادی کے عذاب تک پہنچانے میں زیادہ کردار ادا کرتے ہیں، اگرچہ آخرت میں شرک کا عذاب زیادہ مشکل ہوگا۔ صحیح ترمذی میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” لوگ جب ظالم کو دیکھتے ہیں اور اپنے سامنے اسے نہیں پکڑے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جانب سے سب پر عذاب کو عام کردے “۔ یہ پہلے گزر چکی ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : معنی یہ ہے کہ آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو برباد کردے، حالانکہ ان میں رہنے والے مسلمان ہوں وہ تو ان کی طرف سے کیے جانے والے ظلم اور حقوق کی پامالی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے، یعنی اس نے اعذار اور اندار کے بعد ہی کسی قوم کو ہلاک اور برباد کیا ہے۔ زجاج نے کہا : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ آپ کا رب ایسا نہیں کہ وہ کسی کو اس طرح ہلاکرے کہ وہ اس پر ظلم کررہا ہو، اگرچہ وہ اصلاح وہدایت کی انتہاء پر ہے، کیونکہ اس نے اپنی ملکیت میں تصرف کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے کسی پر ظلم نہ کرنے کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : ان اللہ لایظلم الناس شیئاً (یونس :44) یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرہ ھر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ وہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردے جب کہ وہ مخلص ہوں۔ مصلحون سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو ایمان میں مخلص ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ظلم سے مراد معاصی اور گناہ ہوں گے۔ قولہ تعالیٰ : ولو شآء ربک لجعل الناش امۃً واحدۃً حضرت سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : امۃً واحدۃ ً سے مراد صرف ملت اسلامیہ ہے یعنی اگر تیرا رب چاہتا تو لوگوں کو صرف ملت اسلامیہ بنا دیتا ۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد ایک دین والے ہیں یعنی سب کو گمراہ کردیتا یا پھر سب کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ۔ ولایزالون مختلفین یعنی مختلف ادیان پر رہیں گے۔ یہ مجاہد اور حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے۔ الامن رحم ربک یہ استثنا منقطع ہے، یعنی جس پر تیرے رب نے ایمان اور ہدایت کے ذریعے رحمت فرمائی تو ذریعے فرمائی تو اس نے اختلاف نہیں کیا۔ اور ایک قول یہ ہے : اس سے مراد مختلفین فی الرزق ہیں یعنی رزق میں اختلاف کرتے رہیں گے یا مختلف ہوں گے، یعنی یہ کہیں گے کہ یہ غنی ہے اور یہ فقیر، الامن رحم ربک مگر وہ لوگ جن پر تیرے رب نے قناعت عطا فرما کر رحم کیا، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ ولذٰلک خلقھم حضرت حسن، مقاتل اور عطا نے کہا : یہ اختلاف کی طرف اشارہ ہے یعنی اللہ نے انہیں اختلاف کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد، حضرت قتادہ اور ضحاک نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت کے لیے انہیں پیدا فرمایا ہے۔ اور الرحمۃ کے مونث ہونے کے باوجود ولذٰلک فرمایا ولتلک نہیں فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مصدر ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ رحمۃ کی تانیث حقیقی نہیں تو اسے فضل کے معنی پر محمول کیا گیا ہے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ذالک کے ساتھ اختلاف اور رحمت دونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بعض اوقات ذلک کے ذریعے دومتضاد چیزوں کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کے ارشاد لافارض ولابکر۔ؕعوان بین ذٰلک (البقرہ :68) میں ہے، بین ذٰلک فرمایا ہے بین ذینک ولا تینک نہیں فرمایا۔ اور ایک اور مقام پر فرمایا : والذین اذآالنفقوالم یسرفواولم یفتروا وکان بین ذٰلک قوامًا۔ (الفرقان) پھر فرمایا : ولا تجھربصلاتک ولاتخافت بھاوابتع بین ذٰلک سبیلا۔ (الاسراء) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد قل بفضل اللہ وبرحمتہٖ فبذٰلک فلیفرحوا (یونس :58) (ان سب ارشادات میں دومتضاد چیزوں کی طرف ذالک کے ذریعے اشارہ کیا گیا مثلا فارض اور بکر، اسراف اور بخل، جہر اور سر اور آخری آیت میں فضل اور رحمت (مذکر اور مونث) کی طرف بھی ذالک کے ذریعے ہی اشارہ کیا گیا ہے)
اور یہ سب اقوال سے بہتر قول ہے، کیونکہ یہ عام ہے۔ اس کی طرف حضرت امام مالک (رح) نے اشارہ فرمایا ہے جسے آپ سے اشہب نے روایت کیا : اشہب نے کہا : میں نے آیت کے متعلق امام مالک سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لیے پیدا فرمایا ہے تاکہ ایک فریق جنت میں ہو اور ایک فریق دوزخ میں، یعنی اہل اختلاف کو اختلاف کے لیے پیدا فرمایا اور اہل رحمت کو رحمت کے لیے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : اللہ نے انہیں دو فریقوں میں پیدا فرمایا، ایک فریق پر وہ رحم فرماتا ہے اور ایک فریق پر رحم نہیں فرماتا ہے۔ مہدوی نے کہا : اس تقدیر کے مطابق کلام میں تقدیم وتاخیر ہے، یعنی اصل کلام یوں ہے : ولایزالون مختلفین إلامن رحم ربک وتمت کلمۃ ربک لأملأن جھنم من الجنۃ الناس اجمعین، ولذالک خلقھم اور ایک قول کے مطابق یہ ذٰلک یوم مجموع لہ الناس وذٰلک یوم مشھود کے ارشاد کے متعلق ہے یعنی ولشھود ذلک القوم خلقھم اس دن کے شہود کے لیے اس نے انہیں پیدا فرمایا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فمنھم شقی و سعید کے متعلق ہے یعنی سعادت اور شقاوت کے لیے اس نے انہیں پیدا فرمایا ہے۔
وتمت کلمۃ ربک، تمت کا معنی ثبت ہے، یعنی جس طرح اس نے ازل میں مقدر فرمایا اور خبردی وہ ثابت ہوگیا، اور کلمے کے
تمام سے مراد اس کا تغیر وتبدیل کو قبول کرنے سے ممتنع ہونا ہے۔ لاملن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین، من بیان جنس کے لیے ہے۔ یعنی لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین تاکید ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ جہنم کو بھرے گا اسی طرح اپنے نبی ﷺ کی زبان مقدس کے ذریعے یہ خبر بھی دی ہے کہ وہ جنت کو بھرے گا آپ ﷺ نے فرمایا :” ہر ایک کو تمہیں میں سے لوگوں کے ذریعے بھرے گا “ ، اس کو حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرویات میں سے امام بخاری (رح) نے روایت کیا ہے اور یہ گزر بھ چکی ہے۔
Ayah 11:120آیت نمبر 120
قولہ تعالیٰ : وکلانقص علیک، کلا، نقص کی وجہ سے منصوب ہے۔ اس کا معنی ہوگا ہر وہ جس کو رسولوں کی خبروں کی ضرورت ہو تو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں۔ اخفش نے کہا : کلا حال مقدم ہے۔ جس طرح آپ کا قول کلا ضربت القوم، من انباء الرسل یعنی ان کی خبریں اور اپنی قوم کی اذیتوں پر ان کا صبر۔ مانثبت بہٖ فوادک تاکہ ان کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو اداء رسالت اور اس سلسلہ میں آپ کو ملنے والی اذیتوں پر صبر پر پختہ کردیں۔ ایک قول یہ ہے : اس کے ذریعے ہم آپ میں پختگی اور یقین میں اضافہ کردیں۔ حضرت عباس ؓ نے فرمایا : ان کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو ہم مضبوط کردیں۔ ابن جریج نے کہا : ان کے ذریعے آپ کے دل کو ہم بہت زیادہ صبر کرنے والا بنادیں تاکہ آپ جزع فزع نہ کریں۔ اہل معانی نے کہا : ہم طیب وپاک کریں۔ تمام کا معنی قریب قریب ہے۔ ما، کلا سے بدل ہے معنی ہوگا : نقص علیک من انبآء الرسل مابثبت بہٖ فوادک۔ وجآءک فی ھٰذہ الحق، ھٰذہ سے مراد ھذہ السورۃ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابو موسیٰ ؓ اور دیگر سے مروی ہے کہ اس سورت کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں انبیاء، جنت اور دوزخ کی خبریں ہیں۔
ایک قول یہ ہے : اس سورت کا بالخصوص ذکر تاکیداً ہے ورنہ حق تو پورے کے پورے قرآن میں ہے۔ حضرت قتادہ اور حضرت حسن نے کہا : ھذہ الدنیا ہے اور مراد نبوت ہے۔ وموعظۃ وذکرٰی للمومنین، موعظۃ سے مراد گزشتہ امتوں کی ہلاکت اور چھوٹی اور برباد ہونے والی قوموں کے اوقعات میں سے جن کے ذریعے نصیحت حاصل کی جاتی ہے، اور یہ اس سورت کی شرافت ہے، کیونکہ اس کے علاوہ دیگر سورتوں میں بھی حق، نصیحت اور یاد دہانی ہے مگر ان میں بالخصوص اس طرح نہیں کیا گیا جس طرح اس کے بارے میں ہے۔ وذکرٰی للمومنین یعنی وہ ہلاک وبرباد ہونے والوں کے اوپر نازل ہونے والی مصیبت کو یاد کرتے ہیں تو توبہ کرلیتے ہیں، اور مومنین کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء کے واقعات کو سن کر وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Ayahs 11:121–123آیت نمبر 121 تا 123
قولہ تعالیٰ : وقل للذین لایؤمنون اعملوا علیٰ مکانتکم دھمکی اور وعید ہے۔ اناعٰملونۙوانتظروا۔ۚ انا منتظرون دوسری دھمکی ہے اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ وللہ غیب السمٰوٰت والارض یعنی زمین و آسمان کے غیب اور ان کی شہادت اللہ ہی کے لیے ہے۔ شہادت کو معنی کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد آسمان اور زمین کے خزانے ہیں۔ ضحاک نے کہا : اس سے آسمانوں اور زمین کی جو چیزیں بندوں سے غائب ہیں وہ ساری مراد ہیں۔ باقیوں نے کہا : غیب السمٰوٰت والارض سے عذاب کا آسمان سے نزول اور زمین سے طلوع مراد ہے۔ ابو علی فارسی نے کہا : للہ غیب السمٰوٰت والارض سے مراد ہے کہ جو آسمانوں اور زمین میں غائب ہے اس کو اللہ جانتا ہے۔ غیب کو مضاف کیا اور یہ مفعول کی طرف مضاف ہے تو اس کی اضافت تو سعاً ہے، کیونکہ حرف جر کو حذف کردیا گیا ہے۔ آپ کہتے ہیں : غبت فی الارض وغبت ببلد کذا میں زمین میں غائب ہوا اور میں فلاں شہر میں غائب ہوا۔ والیہ یرجع الامرکلہ یعنی قیامت کے دن سارے کام اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ کیونکہ مخلوق کو تو اس کے اذن کے بغیر امر حاصل نہیں ہوگا۔ نافع اور حفض نے یرجع یاء کے ضمہ اور جیم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی لوٹائے جائیں گے۔ فاعبدہ و توکل علیہ یعنی اس کی پناہ لو اور اس پر بھروسہ واعتماد کرو۔ وما ربک بغافل عماتعملون یعنی وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزادے گا۔ اہل مدینہ اہل شام اور حفص نے تعملون تا کے ساتھ مخاطب کے صیغے کے طور پر پڑھا ہے۔ جب کہ باقیوں نے بطور خبر یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اخفش سعید نے کہا : تعملون ہوگا بشرطیکہ نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ مخاطب نہ ہوں، اس نے کہا : بعض نے تعملون تا کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب فرمایا ہے اور فرمایا : آپ ان کو کہہ دیجئے وماربک بغافل عما تعملون۔ کعب احبار نے کہا : تورات کا خاتمہ ہی سورت ہود کا حاتمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وللہ غیب السمٰوٰت والارض سے لے کر سورة کے آخر تک سورت ہود مکمل ہوئی اور اس کے بعد سورة یوسف (علیہ السلام) ہے۔