Ayahs 11:100–109آیت نمبر 100 تا 109
قولہ تعالیٰ : ذٰلک من انۘبآء القرٰی نقصہ علیک، ذٰلکمبتدا کے مضمر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی الامرذالک اور اگر آپ چاہیں تو اسے مبتدا کی حیثیت سے بھی مرفوع بناسکتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا : یہ گزشتہ خبر ان بستیوں کی بعض خبروں میں سے جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ منھاقآئم وحصیدحضرت قتادہ نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو برباد ہوچکی ہی اور ان کے نشانات ہیں جب کے حصید سے مراد ویہ ہیں جن کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے : قائم سے مراد آباد ہیں جب کہ حصید سے مراد بےآباد اور برباد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جو اپنے سازو سامان سمیت بربادہوچ کی ہیں اور حصید سے مراد کھیتی کی طرح کٹی ہوئی ہیں۔ شاعر نے کہا :
والناس فی قسم المنیۃ بینھم کالزرع منہ قائم و حصید
لوگ اپنے اندر موت کی تقسیم میں کھیتی کی طرح ہیں اس میں سے کچھ ہے اور کٹی ہوئی ہے۔
دوسرے شاعر نے کہا :
إنما نحن مثل خامۃ زرعٍ فمتی یأن یأت مختصدہ
اخفش سعید نے کہا : حصید سے مراد محصود ہے یعنی فعیلبمعنی مفعول اور اس کی جمع حصدی اور حصادآتی ہے جیسے مرضی اور مراض۔ اخفش ہی نے کہا : ذوی العقول کے لیے جمع حصدیآتا ہے جیسے قتیل اور قتلی۔ وماظلمنٰھم لغت میں ظلم کی اصل کسی چیز کو ایسی جگہ رکھنا ہے کو اس کا مقام نہ ہو۔ سورة بقرہ میں یہ تفصیلاً گزرچکا ہے۔
ولٰکن ظلموٓاانفسھم یعنی کفر اور گناہوں کے ذریعے۔ اور سیبویہ نے حکایت کہا ہے کہ ظلم ایاہ کہا جاتا ہے۔ فمآ اغنت یعنی نہ دور کیا۔ عنھم اٰلھتھم التی یدعون من دون اللہ من شیءٍکلام میں حذف ہے، یعنی التی کانوا یدعون اور یدعونکا معنی یعبدون ہے یعنی وہ عبادت کرتے تھے۔ لماجآء امرربک ؕ ومازادوھم غیرتثبیب، کا معنی خسارہ اور بربادی ہے، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ لبید نے کہا :
قفد بلیت وکل صاحب جدۃ لبلی یعود و ذاکم التتبیب
تتبیبٍکا معنی ہلاکت، خسران اور بربادی ہے۔ آیت میں اضمار ہے، یعنی مازادتھم عبادۃ الاصنام غیر تتبیب مضاف کو حذف کردیا گیا مراد یہ ہے کہ ان کے بتوں کی پوجا کرنے نے آخرت کے ثواب کو ضائع کردیا۔
وکذٰلک اخذربک اذآاخذالقرٰی یعنی جس طرح قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کی بستیوں کو پکڑ لیا گیا اسی طرح تمام ان بستیوں کو پکڑا جائے گا جن کے باسی ظالم ہیں۔ عاصم حجددی اور طلحہ بن مصرف نے وکذالک أخذربک إذاخذالقری پڑھا ہے اور حجدری سے جماعت کی قراءت کی طرحوکذٰلک اخذربک اذآاخذالقرٰیبھی مروی ہے۔ مہدوی نے کہا : جس نے وکذالک أخذربک إذاخذپڑھا ہے تو یہ گزشتہ قوموں کی ہلاکت و بربادی کے سلسلہ میں جو عادت ہے اس کے متعلق خبر ہوگی اور معنی یہ ہوگا : اور اسی طرح تیرے رب نے ہلاک ہونے والی قوموں میں سے جس کو بھی پکڑا اسے پکڑا۔ اور جماعت کی قراءت اخذ کے مصدر ہونے کی بنیاد پر ہے اور معنی یہ ہے : اسی طرح تیرا رب جسے ہلاک کرنا چاہے اس کی پکڑ ہوتی ہے جب بھی وہ اسے پکڑلے۔ اذگزشتہ زمانے کے لیے آتا ہے جب کہ اذامستقبل کے لیے آتا ہے۔ وھی ظالمۃ یعنی اس کے اھلظالم ہیں۔ مضاف کو مضاف کردیا گیا جیسے وسئل القریۃ (یوسف :82) مرادواسأل اھل القریۃ ہے۔ ان اخذہٓ الیم شدید یعنی مشرکین کو اس کی طرف سے ملنے والی سزا دردناک اور سخت ہے۔ صحیح مسلم اور ترمذی میں حضرت ابوموسیٰ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے حتی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے نہیں چھوڑتا “۔ پھر آپ نے کذٰلک اخذربک اذآاخذالقرٰیکی تلاوت فرمائی۔ ابوعیسیٰ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
ان فی ذٰلک الاٰیۃًآیت سے مراد عبرت اور نصیحت ہے۔ لمن خاف عذاب الاٰخرۃ اس کے لیے جو عذاب
آخرت سے ڈرتا ہے۔ ذٰلک یومیہ مبتدا اور خبر ہیں۔ مجموع یوم کی صفت ہے۔ لہ الناس مجموعکا نائب فاعل ہے، اسی وجہ سے مجموعون نہیں فرمایا گیا۔ اگر آپ الناسکو مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع مانیں اور مجموع لہکو بطور خبر تو پھر مجموعونہونا چاہے، کیونکہ لہفاعل کے قائم مقام ہے اور جمع سے مراد حشر ہے یعنی اس دن کے لیے جمع کیے جائیں گے۔ وذٰلک یوم مشھود یعنی نیک اور بدکار اس کی گواہی دیتا ہے اور آسمان والے بھی اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اور ہم (قرطبی) نے یہ دونوں اسماء اور ان کے علاوہ قیامت کے دیگر اسماء کو کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے اور ان دونوں کی وضاحت کی ہے۔ والحمد للہ
قولہ تعالیٰومانؤخرہٓیعنی اس دن کو ہم مؤخر نہیں کریں گے الالاجلٍ معدودٍیعنی اس مدت کے لیے جس کے متعلق
ہمارا فیصلہ ہوچکا ہے، وہ ہمارے نزدیک معدود ہے۔
یوم یاتیاس کو یوم یات بھی پڑھا گیا ہے کیونکہ جب یا کا ماقبل مسکور ہو تو یا کو حذف کردیا جاتا ہے، جیسے آپ لا ادر کہتے ہیں۔ اس کو قشیری نے ذکر کیا ہے۔ نحاس نے کہا : اہل مدینہ، ابوعمرو اور کسائی نے ادراج کی صورت میں یا کے اثبات کے ساتھ پڑھا ہے اور وقف کی صورت میں اسے حذف کردیا ہے۔ اور حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ نے وقف و وصل دونوں صورتوں میں یوم یاتییا کے اثبات کے ساتھ ہی پڑھا ہے۔ اعمش اور حمزہ نے وقف ووصل میں بغیر یا کے یوم یاتپڑھا ہے۔ ابوجعفر نحاس نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پر وقف نہ کیا جائے اور یا کے اثبات کے ساتھ وصل کیا جائے۔ کیونکہ نحویوں کی ایک جماعت نے کہا ہے : یا کو حذف نہ کیا جائے اور بغیر جازم کے کسی چیز کو جزم نہ دی جائے، جہاں تک بغیر یا کے وقف کی بات ہے تو اس میں کسائی کا قول ہے۔ اس نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ فعل سالم پر مجزوم کی طرح وقف کیا جاتا ہے لہٰذا یا کو حذف کردیا جائے گا جس طرح ضمہ کو حذف کردیا جاتا ہے اور جہاں تک حمزہ کی قراءت کا تعلق ہے تو وصل وقف میں یا کے حذف پر ابوعبید نے دو دلیلیں ذکر کی ہیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے مصحف عثمان ؓ میں اس کو بغیر یا کے دیکھا ہے۔ اور دوسری دلیل یہ ہے کہ انہوں نے حکایت کی ہے کہ یہ ہذیل کی لغت ہے وہ ما ادرکہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : ان کی جو مصحف عثمان ؓ والی دلیل ہے یہ تو ایسی دلیل ہے جس کو اکثر علماء نے رد کیا ہے۔ حضرت مالک بن انس (رح) نے کہا : میں نے مصحف عثمان ؓ کے بارے میں پوچھا تو مجھے کہا گیا کہ وہ تو چلا گیا ہے اور جہاں تک ما ادر کے ان کے قول کے ذریعے دلیل پکڑنے کی بات ہے تو اس میں کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ اس حذف کو تو قدیم نحویوں نے حکایت کیا ہے، اس کی علت بھی ذکر کی ہے اور اس کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ فراء نے یا کے حذف پر شعر بھی پڑھا ہے :
کفاک کف ما تلیق درھما جودًا وأخری تعط بالسیف الدما
اس میں تعطاصل میں تعطی ہے اور سیبویہ اور خلیل نے حکایت کی عرب لا ادرکہتے ہیں یا کو حذف کرتے ہیں یا کو حذف کرتے ہیں اور کسرہ کے ساتھ اسے پڑھتے ہیں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ کثرت استعمال کی وجہ سے ہے۔ زجاج نے کہا : نحو میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ یا ثابت رکھا جائے۔ انہوں نے کہا : جو اس کو مصحف کا اتباع اور قراء کا اجماع خیال کرتا ہے، (تو اس اعتبار
سے بھی) کیونکہ قراءت سنت ہے اور اس طرح بھی کلام عرب میں وارد ہوا ہے۔ لا تکلم نفس الاباذنہٖاصل تتکلم ہے تخفیفاً ایک تا کو حذف کردیا گیا ہے اور اس کلام میں اضمار ہے، یعنی لاتتکلم فیہ نفس الابالما ذون فیہ من حسن الکلام اور ایک قول یہ ہے : اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی کسی دلیل کے بارے میں گفتگو کرسکے گا اور نہ ہی شفاعت کے متعلق۔ ایک قول یہ ہے کہ حشر میں اس کی اجازت کے بغیر ان کے لیے ایک ایسا وقت ہوگا جس میں اس کی اجازت کے بغیر ان پر کلام کرنے کی ممانعت ہوگی۔ اور یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں دین میں ملحداکثر سوال کرتے ہیں، وہ کہتے ہی کہ لاتکلم نفس الا باذنہٖ ۔ ھٰذایوم لاینطقون۔ۙ ولا یؤذن لھم فیعتذرون۔ (المرسلات) کیوں کہا گیا ہے حالانکہ قیامت کے ذکر میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : واقبل بعضھم علیٰ بعضٍ یتسآءلون۔ (الصافات) کہ وہ ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتے ہوئے متوجہ ہوں گے۔ یوم تاتی کل نفسٍ تجادل عن نفسھا (النحل :111) جس دن ہر نفس اپنے بارے میں جھگڑتے ہوئے آرہا ہوگا۔ وقفوھم انھم مسؤلون۔ (الصافات) اور (اب ذرا) روک لو انہیں ان سے باز پرس کی جائے گی۔
فیومئذٍلایسئل عن ذنبہٖٓ انس ولاجآن۔ (الرحمٰن) تو اس روز کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا۔ اس کا جواب وہی ہے جو ہم نے ذکر کردیا ہے کہ وہ ایسی حجت کے بارے میں نہیں بولیں گے جو انہیں لازم ہوگی بلکہ اپنے گناہوں کے اقرار، ایک دوسرے کو ملامت کرنے، اور ایک دوسرے پر گناہ کا الزام ڈالنے کے حوالے سے گفتگو کریں گے البتہ انہیں حجت اور دلیل کے متعلق گفتگو اور کلام کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے اکثر آپ کو مخاطب کرتا ہو اور اس کا خطاب حجت و دلیل سے خالی ہو تو اسے آپ کہتے ہیں : تو نے کوئی کلام کیا ہی نہیں، تو بولا ہی نہیں۔ لہٰذا جو آدمی بغیر حجت و دلیل کے بولا اسے کہا گیا کہ وہ بولا ہی نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے : وہ دن بہت لمبا ہوگا اور اس میں ٹھہرنے کے لیے کئی مقامات ہوں گے، جن میں سے بعض میں گفتگو کی ممانعت ہوگی اور بعض مقامات میں اجازت ہوگی۔ پس یہ صورت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کوئی نفس اس کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کرے گا۔ فمنھم شقی و سعید یعنی نفوس میں سے یا لوگوں میں سے کچھ بدنصیب ہیں اور کچھ سعادت مند۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کو ارشاد یوم مجموع ۙ لہ الناس میں ذکر فرمایا ہے۔ شقی وہ ہے جس پر بد نصیبی لکھ دی گئی ہو اور سعید وہ ہے جس پر سعادت لکھ دی گئی ہو۔ لبید نے کہا :
فمنھم سعید آخذ بنصیبہ ومنھم شقئ بالمعیشۃ قانع
ان میں سے کوئی سعادت مند ہے جو اپنا حصہ وصول کررہا ہے اور کوئی بدنصیب ہے زندگی پر قناعت کرنے والا ہے۔
امام ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا : حضرت ابن عمر ؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے آپ نے فرمایا : جب یہ آیتفمنھم شقی وسعیدنازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم کس چیز کے مطابق عمل کرتے ہیں ؟ کیا اس کے مطابق جن کا موں سے فراغت ہوگئی ہے یا جن سے فراغت نہیں ہوئی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” بلکہ جس چیز سے فراغت ہوگئی ہے، اے عمر اس کے مطابق قلم لکھ چکے ہیں لیکن جس کے لیے بندے کو پیدا کیا گیا ہے وہ کام اس کے لیے آسان کردیا گیا ہے “۔ ھذا حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ۔ ہم اس کو صرف حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث سے ہی جانتے ہیں۔ سورة اعراف میں یہ گزرچکی ہے۔
فاما الذین شقوایہ مبتدا ہے۔ ففی الناریہ محل خبر میں ہے اور اسی طرح لھم فیھا زفیروشھیق ابوالعالیہ نے
کہا : زفیرسینے سے (نکلی ہوئی آواز) ہے اور شھیقحلق سے (نکلی ہوئی آواز) ہے۔ انہیں سے اس کے برعکس بھی مروی ہے۔ زجاج نے کہا : زفیررونے کی شدت میں سے ہے اور شھیقبہت زیادہ بلند آواز سے رونے کی آواز ہے۔ زجاج ہی نے کہا ہے : کوفی اور بصری اہل لغت کا خیال یہ ہے کہ زفیرگدھے کے ہینگنے کی ابتدائی آواز ہے اور شھیق اس کی آخری آواز ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کے برعکس ارشاد فرمایا ہے : آپ نے فرمایا زفیرسخت آواز جب کہ شھیقکمزور آواز ہے۔ ضحاک اور مقاتل نے کہا : زفیرگدھے کے ہینگنے کی ابتدائی آواز کی طرح ہے اور شھیق اس کی آخری آواز ہے جب وہ ہینگنا ختم کرتا ہے۔ شاعر نے کہا :
حشرج فی الجوف سحیلا أو شھق حتی یقال ناھق وما نھق
سحیل اس آواز کو کہتے ہیں جو گدھے کے سینے میں گھومتی ہے اور شہق حلق سے نکلی ہوئی آواز ہے۔
ایک قول یہ ہے : زفیر سانس کا نکلنا ہے اور وہ یہ ہے کہ پیٹ غم سے بھرا ہوا ہوتا ہے تو سانس کے ذریعے وہ نکلتا ہے اور شہیق اس کا واپس لوٹانا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : زفیر شدت غم سے سانس کو لوٹانا ہے یہ زفر سے ماخوذ ہے اور یہ پیٹھ پر بوجھ ہے اور شہیق لمبا کھنچا ہوا سانس ہے۔ یہ عربوں کے قول جبل شاھق سے ماخوذ ہے، یعنی لمبا اور بلند پہاڑ اور زفیر اور شہیق دونوں پریشان لوگوں کی آوازوں میں سے ہیں۔
قولہ تعالیٰ : خٰلدین فیھامادامت السمٰوٰت والارض، مادامتظرف ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ مراد دوام السموات والارض ہے اور تقدیر وقت ذالک ہے یعنی اس کا وقت آسمانوں اور زمین کا دوام ہے۔ اس کی تاویل میں اختلاف ہے، ایک گروہ نے کہا جس میں ضحاک بھی ہیں : معنی یہ ہے کہ جب تک جنت و دوزخ کے آسمان اور ان کی زمینیں ہیں۔ السماء ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو تیرے اوپر ہے اور تیرے اوپر سایہ کیے ہوئے ہیں اور الارضجس پر تیرے قدم قرار حاصل کرتے ہیں۔
قرآن مجید میں ہے : واورثناالارض نتموا من الجنۃ حیث نشآء (زمر :74) اور وارث بنا دیا ہمیں اس (پاک) زمین کا اب ہم ٹھہریں گے جنت میں جہاں چاہیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے : ان مراد دنیا کے آسمان و زمین ہی ہیں اور عربوں کی عادت کے مطابق کسی چیز کے دوام اور ابدیت کے متعلق خبر دی جارہی ہے۔ جس طرح ان کا قول : میں تمہارے پاس نہیں آؤں گا جب تک رات ہے، یا پانی بہہ رہا ہے، جب تک رات اور دن کا اختلاف ہے، جب تک کبوتری کی آواز ہے، جب تک آسمان اور زمین ہیں، اور اس جیسے دیگر جملے جن سے وہ لامتناہی اور لمبا وقت مراد لیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اگرچہ آسمانوں اور زمین کے زوال کے ذریعے خبر دی مگر کفار کے ہمیشہ اس میں رہنے کی خبر دے دی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ پیدا ہونے والی تمام چیزوں کی اصل عرش کے نور سے ہے، اور آخرت میں آسمان اور زمین اسی نور کی طرف واپس لوٹ جائیں گے جس نور سے انہیں لیا گیا تھا، لہذا یہ دونوں عرش کے نور میں ہمیشہ دائمی ہیں۔
الاماشآء ربکیہ محل نصب میں ہے، کیونکہ یہ استثنا منقطع ہے، اس کے بارے میں دس اختلافی اقوال ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ یہ ففی النار سے استثنا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سوائے اس کے کہ تیرا پروردگار کسی قوم سے اس کو مؤخر کرنا چاہے۔ اس قول کو ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری یا حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے من شاء نہیں فرمایا کیونکہ مراد تعداد ہے اشخاص نہیں، جس طرح نکاح کے باب میں ماطاب لکم فرمایا جتنی تمہیں پسند آئیں۔ ابونضرہ عن رسول اللہ ﷺ روایت ہے۔” مگر جنکو چاہے اللہ تعالیٰ داخل نہ کرے اگرچہ وہ نافرمانی کیوجہ سے بدنصیب ہی کیوں نہ ہوں “۔
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ استثنانافرمان مومنین کے لیے ہے کہ انہیں دوزخ میں کچھ عرصہ گزرنے کے بعد نکال لیا جائے گا۔ اس اعتبار سے فاما الذین شقواکفار کا قول ہے۔ صحیح میں حضرت انس مومنوں کے لیے عام حکم ہوگا اور خالدین سے ہی استثناء ہوگی۔ یہ حضرت قتادہ، ضحاک اور ابوسنان وغیرہ کا قول ہے۔ صحیح میں حضرت انس بن مالک کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کچھ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے حتی کہ جب وہ راکھ اور کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں اس سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا تو کہا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں “ ، سورة النساء میں یہ گذرچکا ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ استثنا زفیر اور شہیق سے ہے، یعنی ” لھم فیھازفیروشھیق الاماشاء ربک “ ان کے لیے زفیر اور شہیق ہے مگر جتنا تیرا پروردگار چاہے گا ان کے لیے عذاب کی وہ اقسام ہوں گی جن کو اللہ نے ذکر نہیں کیا، اسی طرح اہل جنت کے لیے وہ نعمتیں ہوں گی جن کا اس نے ذکر کیا اور جن کا ذکر نہیں کیا۔ اس کو ابن انباری نے حکایت کیا ہے۔
چوتھا : حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : خٰلدین فیھامادامت السمٰوٰت الارض اس میں نہ وہ مریں گے، اور نہ ہی انہیں اس سے نکالا جائے گا۔ الاماشآء ربک اور وہ یہ ہے کہ وہ آگ کو حکم دے گا تو وہ انہیں کھا جائے گی اور فنا کر دے گی، پھر اللہ تعالیٰ دوبارہ نئے سرے سے ان کی تخلیق فرمائے گا۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ قول کافر کے ساتھ خاص ہے اور اس کے لیے کھانے اور نئی تخلیق میں استثنا ہے۔
پانچواں : الابمعنی سوائے جس طرح آپ کلام میں کہتے ہیں : مامعی رجل إلازیدا ورلیٰ علیک الفادرھم الا الالف التی لی علیک میرے ساتھ کوئی آدمی نہیں سوائے زید کے اور میرا تیرے اوپر دوہزار درہم ہے سوائے اس ایک ہزار کے جو میرا تیرے اوپر ہے۔ یہ کہا گیا ہے : معنی یہ ہے کہ جب تک آسمان اور زمین ہیں سوائے اس کے جتنا تیرا رب خلود میں سے چاہے گا۔
چھٹا : یہ اخراج سے استثنا ہے اور وہ نہیں شاہتا کہ انہیں جہنم سے نکالے، جس طرح آپ گفتگو میں کہتے ہیں : أردت أن أفعل ذالک إلاإن شاء غیرہ اور حال یہ ہے کہ آپ اس فعل پر قائم ہیں۔ معنی یہ ہوگا کہ اگر اس نے انہیں نکالنا چاہا تو وہ انہیں نکال لے گا، لیکن اس نے انہیں بتادیا ہے کہ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ دو قول زجاج نے اہل لغت سے نقل کرکے ذکر کیے ہیں، اور کہا کہ اہل معافی کے دو اور قول بھی ہیں : خٰلدین فیھامادامت السمٰوٰت والارض الاماشآء ربک یعنی ان کی قبروں کے سرہانے پر ان کے موقف کی مقدار میں سے اور محاسبہ کے لیے، اور دنیا اور برزخ ان کے ٹھہرنے کی مقدار اور حساب کے لیے وقوف کی مقدار میں سے جتنا تیرا پروردگار چاہے گا، دوسرا قول یہ ہے کہ استثنا کا وقوع نعمت اور عذاب پر زیادتی میں ہے تقدیر یہ ہوگئی : وہ دوزخ میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں مگر تیرا پروردگار چاہے گا اہل جنت کے لیے تعمتوں
کی زیادتی اور اہل دوزخ کے لیے عذاب کی زیادتی میں سے۔
میں (قرطبی) نے کہا : دنیا میں آسمان اور زمین کے ہونے کی مدت کی مقدار خلود سے زیادتی میں یہ استثنا ہے اور اس کو ترمذی حکیم ابوعبداللہ محمد بن علی نے اختیار کیا ہے۔ یعنی آسمان اور زمین کے دوام کی مقدار وہ جہنم میں رہیں گے، اور یہ دنیا کی موت ہے جب کہ آسمان اور زمین کے لیے ایسا وقت بھی ہے جس میں یہ تبدیل ہوجائیں گے، اللہ کا ارشاد ہے : یوم تبدل الارض غیرالارض (ابراہیم :48) اس دن زمین دوسری زمین سے تبدیل کردی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آدمی اور ان کے عامل پیدا کیے، ان میں سے کچھ کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلے میں خریدا، اور اس پر میثاق والے دن ان سے عہد لیا، جس نے عہد پورا کیا اس کے لیے جنت ہے، اور جو اپنی جان لے کر چلا گیا وہ دوزخ میں آسمان اور زمین کے دوام کی مقدار رہے گا، یہ دونوں معاملہ کے لیے رہیں گے، اسی طرح اہل جنت کا جنت میں خلود اس کی مقدار کے مطابق ہوگا، جب یہ معاملہ مکمل ہوجائے گا تو سارے کے سارے اللہ کی مشیت میں آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وماخلقناالسمآء والارض ومابینھمالٰعبین۔ (الانبیاء) ماخلقنٰھمآالابالحق (الدخان :39)
پس جنت و دوزخ دونوں کے باسی آسمان و زمین کے دوام کی مقدار رہیں گے، اس مقدار کے ساتھ یہ حق ربوبیت ہے، پھر ان کے لیے ہمیشہ ہمیشہ یہی دونوں دار لازم فرمادے گا اور یہ حق احدیث کی وجہ سے ہے، پس جو اس کی احدیث کی وجہ سے موجد ہو کر اسے ملا تو وہ ہمیشہ اپنے دار میں باقی رہے گا، اور اس کی احدیث کے ساتھ کسی اور معبود کو شریک ٹھہراتے ہوئے اسے ملا وہ ہمیشہ قید میں باقی رہے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کو خلود کی مقدار کے بارے میں بتادیا، تو فرمایا : الاماشآء ربک یعنی مدت کی اس زیادتی کے بارے میں جو اللہ چاہے گا جس زیادتی کا ادراک انسانی قلوب واذہان کرنے سے عاجز ہیں کیونکہ اس کی کوئی انتہا اور غایت نہیں۔ اعتقادمی اعتبار سے ہمیشہ کے لیے دارین میں ان کا خلود دائمی ہوگا اور یہ بھی کہا گیا کہ الابمعنی واؤ ہے۔ یہ فراء اور بعض اہل نظر کا قول ہے اور آٹھواں قول ہے۔ معنی یہ ہوگا : دنیا میں آسمان و زمین کے دوام کی مدت پر خلود میں اضافے اور زیادتی میں سے جتنا تیرا رب چاہے گا۔ قرآن مجید میں إلابمعنی واؤ استعمال ہوا ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ان للذین ظلموا (الطور :47) یعنی
وألذین ظلموا اور شاعر نے کہا :
وکل أخ مفارقہ أخوہ لعمر أبیک إلا الفرقدان
یہاں بھی الا الفرقدانبمعنیوالفرقدان ہے۔ ابو محمد مکی نے کہا : بصریوں کے نزدیک یہ بڑے دور کی بات ہے کہ الا بمعنی واؤ ہو۔ سورة بقرہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ ہے اس کا معنی ہے کماشاء ربک یعنی جس طرح تیرا رب چاہے گا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : ولاتنکحوامانکح اٰبآؤکم من النسآء الاماقدسلف (النساء :22) یعنی کما سلفیہ نواں قول ہے۔
دسواں : دسواں قول یہ ہے کہ الاماشآء ربک میں استثنا کا استعمال صرف ایسے ہی ہے جیسا کہ ہر کلام میں اس کا استعمال
مستحب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لتدخلن المسجدالحرام ان شآء اللہ اٰمنین (الفتح :27) اب یہ واجب میں استثناء ہے، اور استثناء اسی طرح شرط کے حکم میں بھی ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان شاء ربک اور اس کی صفت نہ متصل سے اور نہ ہی منقطع سے بیان کی گئی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : عطآءًغیرمجذوذٍاس کی تائید کرتا ہے اور اسے تقویت دیتا ہے اور اس قسم کی دلیل ابوعبید سے بھی منقول ہے اس نے کہا : اس سے پہلے دارین میں فریقین کے خلود کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کی عزیمت گزرچکی ہے۔ فوراً بعد استثنا کا لفظ وارد ہوگیا ہے، جب کہ عزیمت خلود میں گزر چکی ہے۔ ابوعبید نے پھر کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : لتدخلن المسجدالحرام ان شآء اللہ اٰمنین (الفتح : 27) کی طرح ہے کہ یہ بات معلوم ہے کہ وہ حتمی اور یقینی طور پر داخل ہوں گے۔ لہذا ان دونوں مقامات پر استثنا خیار کو ثابت نہیں کرتی، کیونکہ دارین میں خلود کے بارے میں اور مسجد حرام میں دونوں کے بارے میں مشیت عزیمت کے ساتھ گزرچکی ہے، فراء سے بھی اس طرح منقول ہے۔ اور گیارہواں قول یہ ہے کہ اشقیاء ہی سعداء ہی اشقیاء ہیں ان کے علاوہ نہیں، دو مقامات پر استثنا انہیں کی طرف راجع ہے، اور اس کی وضاحت اور بیان یہ ہے کہ مابمعنی من ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں میں سے استثناء ان لوگوں کی کی ہے جو نبی کریم ﷺ کی امت میں سے اپنے ایمان کی وجہ سے ان جہنمیوں میں سے نکل جائیں گے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوں گے پھر دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہوجائیں گے پس یہی لوگ جن پر دوسری استثنا واقع ہوئی ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سو وہ جو بد نصیب ہیں وہ آگ میں ہوں گے ان کے (مقدر میں) وہاں چیخنا اور چلانا ہوگا وہ دوزخ میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں مگر جس کو آپ کا پروردگار چاہے گا تو اسے وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رکھے گا، یعنیفاما الذین شقواففی النارلھم فیھازفیرو شھیق۔ۙ خٰلدین فیھامادامت السمٰوٰت والارض الاماشآء ربک (ہود :107) الایخلدہ فیھا اور یہ وہ لوگ ہیں جو امت محمد ﷺ میں سے اپنے ایمان اور محمد کریم ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے جہنم سے نکلیں گے۔ لہٰذا جہنم میں ان کے داخل ہونے کی وجہ سے انہیں شقی اور بدنصیب کہا گیا اور جنت میں ان کے داخلہ کی وجہ سے سعید اور خوش نصیب کہلائے، جس طرح ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا : جو لوگ خوش بخت اور سعادت مند ہیں وہ دوزخ میں
داخل ہونے کی وجہ سے بد نصیب اور شقی ہوگئے پھر دوزخ سے نکلنے اور جنت میں داخل ہونے کی وجہ سے سعادت مند ہوگئے۔
اعمش، حفص، حمزہ اور کسائی نے واما الذین سعدواسین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عمرو نے کہا : اس کے سعدوا ہونے پر دلیل یہ ہے کہ پہلاشقوا ہے اشقوا نہیں۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو دیکھا کہ وہ کسائی کی قراءت سعدوا پر تعجب کا اظہار کرتے حالانکہ عربی کو جانتے تھے، اگر یہ بولنے کی طرز تھی تو درست نہیں، کیونکہ سعد فلان واسعدہ اللہ، وأسعدبروزن امرض کہا جاتا ہے، کسائی نے ان کے قول مسعود سے استدلال کیا ہے حالانکہ اس میں ان کے لیے کوئی حجت نہیں، کیونکہ مکان مسعود فیہ کہا جاتا ہے پھر اس میں سے فیہکو حذف کردیا جاتا اور مسعود نام بن گیا۔ مہدوی نے کہا : سعدہ اللہ نہیں کہا جاتا بلکہ صرف ” أسعدہ اللہ “ کہا جاتا ہے۔ ثعلبی نے کہا : سعدواسین کے ضمہ کے ساتھ کا مطلب ہے رزقوا السعادۃ کہ انہیں سعادت عطا فرمائی گئی۔ سعد اور اسعد ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ باقی لوگوں نے سعدواکو شقوا پر قیاس کرتے ہوئے کرتے ہوئے سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابوعبیدہ اور ابوحاتم نے اسے ہی اختیار کیا ہے۔ جوہری نے کہا : سعادت، شقاوت کے خلاف ہے۔ آپسعدالرجل فھوسعیدکہتے ہیں جیسے سلم اور سلیم ہے اور سعدفھومسعود اس میں مسعد نہیں کیا جاتا، گو یا وہ مسعود کے ذریعے اس سے مستغنی ہوگئے۔
ابونصرعبدالرحیم قشیری نے کہا : سعدہ اللہ فھو مسعود اور اسعدہ اللہ فھومسعد بھی وارد ہوا ہے، یہ کو فیوں کے قول کو تقویت دیتا ہے۔ سیبیویہ نے کہا : جس طرح شقی فلان نہیں کہا جاتا اسی طرح سعدفلان بھی نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ متعدی نہیں۔” عطامجذوذ، غیرمجذوذ “ سے مراد غیرمقطوع ہے یعنی نہ ختم ہونے والی عطا، یہ جذیجذ سے ہے جس کا معنی ہے اس نے کاٹا، نابغہ نے کہا :
تجذ السو المضاعف نسجہ وتوقد بالصفاح نار الحباحب
تجذکا مطلب ہے وہ کاٹتی ہے۔ قولہ تعالیٰ : فلاتکنہی کی وجہ سے مجذوم ہے اکثرت استعمال کی وجہ سے نون کو حذف کردیا گیا ہے۔ فی مریۃٍیعنی شک میں۔ ممایعبدھٰؤلآء یعنی اے سننے والے ! جن معبودوں کی یہ عبادت کرتے ہیں ان کے باطل ہونے میں تو شک میں مبتلا نہ ہوجا۔ اور اس سے خوبصورت اور عمدہ بات یہ ہے۔ اے محمد ! ﷺ ہر اس آدمی کو فرمادیجئے جو شک میں ہے : فلاتک فی مریۃً مماتعبدھٰؤلآء کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات کا حکم نہیں دیا۔ پس یہ ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے آباء و اجداد نے ان کی عبادت کی تو یہ ان کی تقلید کرتے ہیں۔ وانالموفوھم نصیبھم غیر منقوص ان کے بارے میں تین قول ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ رزق میں ان کا حصہ مراد ہے۔ یہ ابوالعالیہ کا قول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب میں ان کا حصہ مراد ہے۔ یہ ابن زید کا قول ہے۔ اور تیسرا قول یہ ہے کہ خیر اور شر میں سے جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے وہ مراد ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
Ayah 11:110آیت نمبر 110
قولہ تعالیٰ : ولولاکلمۃ سبقت من ربککلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ قیامت تک ان سے عذاب کو مؤخر کردیا جائے کیونکہ اسی میں اصلاح اور بہتری معلوم ہوتی ہے، اگر یہ فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے درمیان ان کی اجل کا فیصلہ ہوجاتا کہ مومن کو ثواب دیا جائے اور کافر کو سزا، ایک قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کے بارے میں اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ مراد ہے یا اس صورت میں مصدق اور مکذب کے درمیان تھے۔ ایک قول یہ ہے : اے محمد ! ﷺ آپ کی ذات کے بارے میں ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان اگر عقاب میں جلدی کے بارے میں فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو عذاب نازل کردیا جاتا لیکن اس امت سے قیامت تک عقاب کی تاخیر کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ وانھم لفی شکٍ مریبٍاگر آپ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر حکم لگاتے ہیں یعنی یہ کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کے بارے میں شک میں تھے تو یہ قرآن کے بارے
میں شک میں مبتلا ہیں۔
Ayah 11:111آیت نمبر 111
قولہ تعالیٰ : وان کلالمالیوم فینھم ربک اعمالھم یعنی وہ تمام قومیں جنہیں ہم نے شمار کیا ہے اپنے اعمال کی جزاء کو دیکھ لیں گی۔ اے محمد ! ﷺ اسی طرح آپ کی قوم بھی دیکھ لے گی۔ وان کلالما کی قراءت میں قراء کا اختلاف ہے۔ اہل حرمین، نافع، ابن کثیر اور ان کے ساتھ ابوبکر نے وان کلاتخفیف کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے اسے ان مشقلہ سے مخففہ معملہ بنایا ہے۔ خلیل نحوی اور سیبیویہ نے بھی اسے ذکر کیا ہے، سیبیویہ نے کہا : ہمیں ایک ایسے آدمی نے بیان کیا ہے جس پر میں اعتماد کرتا ہے۔ خلیل نحوی اور سیبویہ نے بھی اسے ذکر کیا ہے، سیبویہ نے کہا : ہمیں ایک ایسے آدمی نے بیان کیا ہے جس پر میں اعتماد کرتا ہوں کہ اس نے عربوں کو إن زیدالمنطلقکہتے سنا ہے۔ اور شاعر کا شعر بھی بطور استدلال اس نے پڑھا :
کأن ظبیۃ تعطو الی وارق السلم
اس کی مراد کأنھاظبیۃ ہے یعنی اس کو محفف کردیا اور مابعد کو نصب دے دی، بصری أن مشددہ کو عاملہ بناتے ہوئے بھی اس کی تخفیف کو جائز قرار دیتے ہیں۔ جب کہ کسائی نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا : میں نہیں جانتا کہ کس بنیاد پر وان کلا پڑھا گیا ہے اور فراء کا خیال یہ ہے کہ جس نے تخفیف کی ہے اس کے کلا کو لیوفینھم کی وجہ سے نصب دی ہے وان لیوفینھم کلا جب کہ تمام نحویوں نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے : یہ بڑی غلطیوں میں سے ایک غلطی ہے۔ کسی کے نزدیک بھی زیدا لاضربنہ جائز اور صحیح نہیں ہے اور باقیوں نے ان کو مشدد اور کلا کو اس کی اصل کے مطابق اس کے ذریعے نصب دی ہے۔ اور عاصم، حمزہ اور ابن عامر نے لما کو شد کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے إن کلالیوفینھم کے معنی پر اسے مخفف پڑھا ہے۔ اور ماکو انہوں نے صلہ بنایا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے یہ ان دو لاموں کے درمیان فاصلہ کرنے کے لیے آیا ہے جو قسم پر آتی ہیں، اور وہ دونوں مفتوح ہیں تو ان کے درمیان ما کے ذریعے فاصلہ کیا گیا۔ زجاج نے کہا : لما کی لام تو ان کی وجہ سے ہے جب کہ مازائدہ موکدہ ہے، جیسے آپ ان زید المنطلق کہتے ہیں۔ ان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اسم یا خبر پر لام داخل ہو جیسے ان اللہ غفور رحیم۠(التوبہ) اور ان فی ذٰلک لذکرٰی (ق :37) اور لیوفینھم میں موجود لام وہ ہے جس کے ذریعے قسم کے ساتھ ملا جاتا ہے، یہ فعل پر داخل ہوتی ہے اور اسے نون مشددہ یا مخففہ لازم کردیتی ہے اور جب دو لا میں جمع ہوگئیں تو ان کے درمیان ما کے ذریعے فاصلہ کیا گیا اور ما زائدہ مؤکدہ ہے۔ فراء نے کہا : مابمعنی من ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وان منکم لمن لیبطئن (النساء :72) میں ہے یعنی وان کلا لمالیوفیھم اور لیوفینھم میں لام قسم کے لیے ہے۔ اس کا معنی زجاج کے قول کے مطابق ہے البتہ یہ فرق ہے کہ زجاج کے نزدیک مازائدہ ہے کہ فراء کے نزدیک مابمعنی من اسم ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ زائدہ نہیں، بلکہ یہ اسم ہے اور اس پر لام تاکید داخل ہوئی اور یہ ان کی خبر ہے جب کہ لیوفینھم جواب قسم ہے، تقدیر عبارت یہ ہے : وإن کلاخلق لیوفینھم ربک أعمالھم یقینا سب کے سب مخلوق ہیں تیرا رب ضرور انہیں ان کے کرتوتوں کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ اور ایک قول کے مطابق ما بمعنی من ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : فانکحوا ماطاب لکم من النسآء (النساء :3) میں ما بمعنی من ہے۔ اور یہ سارے کا سارا بعینہ فراء کا قول ہے۔ اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے لما اور ان دونوں کو مشدد یعنی وان کلا لما پڑھا ہے۔ اور وہ حمزہ اور اس کی موافقت کرنے والے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ ایک لمحہ ہے، جو محمد بن زید سے منقول ہے تو یہ جائز نہیں، کیونکہ ان زیدا الا لاضربنہ نہیں کہا جاتا اور نہ ہی زیدالمالضربتہ کہا جاتا ہے اور کسائی نے کہا : اس قراءت کے بارے میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کسائی اور ابوعلیٰ فارسی نے یہ بھی کہا ہے : انب دونوں کو مشدد پڑھنا مشکل ہے۔ نحاس وغیرہ نے کہا : نحویوں کے اس بارے میں کئی اقوال ہیں۔
پہلا : اس کی اصل لمن ما ہے نون کو میم سے بدلا، تین میمیں جمع ہوگئیں تو درمیان والی کو حذف کردیا گیا تو لما بن گیا اس قول کے مطابق مابمعنی من ہے اور اس کی تقدیر وان کلا لمن الذین ہے، جس طرح کہ ان کا یہ قول :
وإنی لما أصدر الأمر وجھہٰ إذا ھو أعیا بالسبیل مصادرہ
اس شعر میں لما کی یہی صورتحال ہے۔ زجاج نے اس کو ناکارہ قرار دیا ہے اور کہا : من دو حرفوں پر مشتمل ایک اسم ہے لہٰذا اس کا حذف جائز نہیں۔
دوسرا : اصل لمن ہے اجتماع میمات کی وجہ سے میم مک سورة کو حذف کردیا گیا، تقدیر عبارت وان کلالما لیوفینھم ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : لما، لم کا مصدر ہے اور وصل کو وقف پر محمول کرتے ہوئے بغیر تنوین کے آیا ہے، اس بنیاد پر یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد وتاکلون التراث اکلالما۔ (الفجر) کی طرح ہے اکلالما سے مراد مال ماکول کو جامع ہے۔ اس صورت میں تقدیر عبارت : وإن کلالیو فینھم ربک اعمالھم توفیۃ لما ہوگی۔ اور معنی ہوگا : ان سب کے اعمال کو جامع، اور یہ آپ کے قول : قیامالأقومن کی طرح ہے۔ اور زہری نے اس معنی کی بنیاد پر لماتشدید اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔
تیسرا : لما، الا کے معنی ہے اہل لغت نے حکایت کیا ہے : سالتک باللہ لما فعلت یعنی إلافعلت اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ان کل نفسٍ لماعلیھا حافظ۔ (الطارق) اسی کی طرح ہے یعنی الاعلیھا حافظ تو آیت کا معنی یہ ہوگا : ان میں سے کوئی بھی نہیں مگر وہ انہیں ضرور پورا پورا بدلہ دے گا۔ ماکل واحد منھم إلا لیوفینھم۔ قشیری نے کہا : زجاج نے اس قول کو اس بنیاد پر ناکارہ قرار دیا ہے کہ وان کلا لما
میں نفی ہے ہی نہیں کہ إلا کو مقدر مان لیا جائے اس پر دلیل یہ ہے کہ ذھب الناس لما زید تو نہیں کہا جاتا (یعنی بغیر نفی إلا نہیں آتا)
چوتھا : ابوعثمان ازنی نے کہا : اصل میں وان کلالما، لما کی تخفیف کے ساتھ ہے پھر اس پر شد ڈال دی گئی، جس طرح کہ یہ شعر ہے : لقد خشیت ان أزی جدبا فی عامنا ذا بعد ما أخصبا
اس میں جدبا، لقد اخصبا اصلاً بغیر شد کے ہیں بعد میں ان کو مشدد کردیا گیا ہے۔ ابواسحاق زجاج نے کہا : یہ غلط ہے : مثقل کو
تو مخفف بنایا جاتا ہے مگر مخفف کو مثقل نہیں بنایا جاتا۔
پانچواں : ابوقاسم بن سلام نے کہا : ہوسکتا ہے کہ تشدید عربوں کے اس قول کے قبیل سے ہو : لممت الثیء المہ لما یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اس چیز کو جمع کرلیں، پھر اس سے فعلی کا وزن بنالیا گیا ہو جس طرح ثم ارسلنارسلناتترا (المومنون :44) پڑھا جاتا ہے، یہ تنوین اور بغیر تنوین دونوں طرح آتا ہے، اس بنیاد پر الف تانیث کا ہوگا، اصحاب امالہ کے نزدیک اس قول پر امالہ کیا جائے گا۔ ابواسحاق نے کہا : وہ بات کہ جس کے علاوہ میرے نزدیک کوئی اور جائز ہی نہیں وہ یہ ہے کہ یہ مخففہ من مثقلہ ہو اور ما کے معنی میں ہو جسطرح ان کل نفسٍ لما علیھا حافط (الطارق) ہے اور اسی طرح اپنی اصل کے مطابق یہ مشدد بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں بھی یہ بمعنی ما ہوگا اور لما بمعنی الا ہوگا۔ یہ خلیل، سیبویہ اور تمام مصریوں سے منقول ہے۔ اور لما بمعنی الا استعمال ہوتا رہتا ہے۔
میں (قرطبی) نے کہا : یہ قول کس کو زجاج نے پسند کیا ہے اسے زجاج سے نحاس وغیرہ نے بیان کیا ہے، اسی جیسا قول اور زجاج کا اسے ضعیف قرار دینا گزر چکا ہے البتہ اتنا فرق ضرور ہے کہ اس قول میں ان نافیہ ہے اور وہاں مخففہ من مثقلہ ہے پس دونوں میں فرق ہے۔ اب دو قراءتیں باقی رہ گئیں۔ ابو حاتم نے کہا : ابی کے حروف میں ان کل الالیوفینھم ہے اور اعمش سے وان کلالما مروی ہے یعنی ان کی تخفیف کل کے رفع اور لما کی تشدید کے ساتھ۔ نحاس نے کہا : یہ قراءتیں جماعت کے مخالف ہیں اس میں ان بمعنی ما ہوگا اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں ہوسکتی، کیونکہ جماعت کے مخالف سوائے اس طریقے کے پڑھنا جائز نہیں۔ انہ بما یعملون خبیر یہ دھمکی اور وعید ہے۔
Ayah 11:112آیت نمبر 112
قولہ تعالیٰ : فاستقیم کمآامرت نبی کریم ﷺ اور دیگر لوگوں کو خطاب ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ خطاب آپ ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے۔ یہ سدی کا قول ہے۔ اور ایک قول یہ ہے :إستقم یعنی میں اللہ تعالیٰ سے دین پر قائم رہنے کی گزارش کرتا ہوں اور اس بات کا سوال کرتا ہوں لہٰذا استقم کی سین سوال کی سین ہوگی۔ جس طرح آپ استغفر اللہ کہتے ہیں یعنی میں مغفرت طلب کرتا ہوں۔ دائیں، بائیں کی طرف سے کوئی چیز لیے بغیر صرف ایک ہی جہت میں استمرا اختیار کرنا استقامت کہلاتا ہے، یعنی اللہ کے امر کی بجا آوری پر ثابت قدم رہیے، صحیح مسلم میں حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی سے راویت ہے انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! ﷺ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتائیے جس کے متعلق میں آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں ؟ آپ نے فرمایا : قل أمنت باللہ ثم استقم کہ دو کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ثابت قدم ہوجا۔ ابومحمد دارمی نے عثمان بن حاضرازدی سے اپنی مسند میں روایت بیان کی ہے اس نے کہا : میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا تو میں نے کہا : مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا : ہاں ! اللہ کا تقوی اور استقامت کو لازم پکڑ، اتباع کر اور بدعت اختیار نہ کر۔ ومن تاب معک یعنی آپ بھی ثابت قدم رہیں اور جو آپ کے ساتھ تائب ہو کر آئے ہیں ان سے مراد آپ کے وہ صحابہ ہیں جنہوں نے شرک سے توبہ کی اور ان کے بعد آپ کی امت میں سے جنہوں نے ان کی اتباع کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ پر کوئی بھی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جو آپ پر اس آیت سے زیادہ سخت اور شدید ہو، اسی وجہ سے آپ ﷺ کے صحابہ نے جب آپ کو عرض کی کہ آپ پر بڑی تیزی سے بڑھاپا آگیا ہے تو آپ نے انہیں فرمایا :” مجھے (سورت) ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے “۔ سورت کے آغاز میں یہ گزرچکا ہے۔
ابوعبیدالرحمن سلمی سے مروی ہے انہوں نے کہا میں نے ابو علی سری کو کہتے ہوئے سنا ہے : میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا : یارسول اللہ ! ﷺ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :” مجھے ہود نے بوڑھا کردیا “۔ آپ نے فرمایا :” ہاں “۔ میں نے آپ کو عرض کیا : اس میں سے کس چیز نے آپ کو بوڑھا کیا ؟ انبیاء کے قصص نے یا امتوں کی ہلاکت نے ؟ آپ نے فرمایا :” نہیں، اللہ کے ارشاد فاستقم کما امرت نے “۔ ولاتطغوا سرکشی سے نہی ہے طغیان، حد کو تجاوز کرنا ہے، اسی سے انالماطغا الماء (الحاقہ :11) ہے جب پانی نے حد سے تجاوز کیا۔ اور ایک قول یہ ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ کسی پر بھی جبر نہ کرو۔
Ayah 11:113آیت نمبر 113
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ولاترکنوٓا، رکون کی حقیقت کسی چیز سے سکون حاصل کرنا، اس پر اعتماد کرنا، اس کی طرف جھکنا اور اس پر راضی ہونا ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ انکے ساتھ محبت نہ کرو اور ان کی اطاعت نہ کرو۔ ابن جریج نے کہا : ان کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرو۔ ابوالعالیہ نے کہا : انکے اعمال کو پسند نہ کرو۔ یہ تمام کے تمام قریب قریب ہیں۔ ابن زید نے کہا : یہاں رکون سے مراد مداہنت ہے اور وہ یہ ہے کہ ان پر ان کے کفر کو وہ ناپسند نہ کرے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ جمہور نے ترکنوٓا کاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، ابوعمرو نے کہا : یہ اہل حجاز کی لغت ہے۔ طلحہ بن مصرف۔ قتادہ اور دیگر لوگوں نے ترکنوٓا کاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، فراء نے کہا : یہ تمیم اور قیس کی لغت ہے۔ اور بعض لوگوں نے رکن یرکن بروزن منع یمنع کو بھی جائز اور صحیح قرار دیا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہٰ تعالیٰ : الی الذین ظلموا ایک قول یہ ہے : اس سے مراد مشرکین ہیں جب کہ ایک قول کے مطابق اس سے مراد عام کافر اور نافرمان لوگ ہیں، جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : واذارایت الذین یخوضون فیٓ اٰیٰتنا الایۃ (الانعام :68) ہے۔ اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے گا جو ہماری آیتوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں، یہ گزر چکا ہے۔ اور آیت کے معنی میں یہی صحیح ہے اور یہ کفار اور بدعتیوں میں سے نافرمان لوگوں کو چھوڑنے پر دلالت کرتی ہے۔ یقیناً ان کی صحبت کفر یا معصیت ہے، کیونکہ صحبت
صرف محبت ہی سے ہوتی ہے، ایک حکیم نے کہا ہے :
عن المرء لا تسأل وسل عن قرینہ فکل قرین بالمقارن یقتدی
آدمی کے بارے میں نہ پوچھ، ان کے دوست کے بارے میں پوچھ، ہر دوست اپنے دوست کی اقتدا کرتا ہے۔ اور اگر صحبت
صرف ضرورت یا تقیہ کی بنیاد پر ہو تو اس کے بارے میں سورة آل عمران اور المائدہ میں گفتگو گزر چکی ہے۔ اور مجبوری کی حالت
میں تقیۃ پر ظالم کی صحبت نہی سے مشتثنی ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : فتمسکم النار یعنی ان کے ساتھ ملنے، صحبت اختیار کرنے، ان کے اعراض کے باوجود ان کی طرف میلان اور جھکاؤ رکھنے اور ان کے معاملات میں ان کی موافقت کرنے کی وجہ سے آگ تمہیں بھی چلائے گی۔
Ayah 11:114آیت نمبر 114
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : واقم الصلوٰۃ طرفی النھار اہل تاویل میں سے کسی نے بھی اس میں اختلاف نہیں کیا کہ اس آیت میں نماز سے مراد فرض نمازیں ہیں۔ اور ان کو بالخصوص ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایمان کی ثانی ہیں اور مشکلات میں انہیں کی پناہ تلاش کی جاتی ہے، نبی کریم ﷺ جب بھی کوئی مصیبت و پریشانی آتی تو آپ نماز کی پناہ لیتے تھے۔ صوفیاء کے شیوخ نے کہا ہے : اس آیت سے فرض اور نفل عبادت میں اپنے سارے اوقات کو صرف کرنا مراد ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ ضعیف ہے، یقیناً امر اس بات کو شامل نہیں حتیٰ کہ نہ واجب کو اور نہ نفل کو شامل ہے۔ اور ادمعلوم ہیں اور وہ اوقات جن میں نوافل کی ترغیب دی گئی ہے وہ محدود ہیں، ان کے علاوہ جتنے اوقات ہیں وہ مستحب اوقات ہیں بدل کی بنا پر نہ کہ عمومیت کی بنا پر اور یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : طرفی النھار مجاہد نے کہا : پہلی طرف صبح کی نماز ہے، اور دوسری طرف ظہر اور عصر کی نماز ہے۔ اس کو ابن عطیہ نے بھی اختیار کیا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ دو طرفین صبح اور مغرب ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے۔ حضرت حسن ہی سے مروی ہے : دوسری طرف صرف عصر ہے اور حضرت قتادہ وضحاک کا بھی یہی قول ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے : دو طرفیں ظہر اور عصر ہیں اور زلف سے مغرب، عشاء اور صبح مراد ہے۔ گویا اس کہنے والے نے قراءت کے جہر کی رعایت کی ہے۔ مادری نے بیان کیا ہے کہ طرف اول بالاتفاق صبح کی نماز ہے۔
میں (قرطبی) نے کہا : اس اتفاق کو اس سے پہلے والا قول توڑ دیتا ہے اور طبری نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ دو طرفوں سے مراد صبح اور مغرب ہے اور یہ ظاہر ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ مغرب اس میں داخل نہیں کیونکہ یہ مغرب ہے اور یہ ظاہر ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ مغرب اس میں داخل نہیں کیونکہ یہ رات کی نماز ہے۔ ابن عربی نے کہا : طبری سے تعجب ہے کہ جس نے صبح اور مغرب کو دو طرفین خیال کرلیا ہے حالانکہ یہ دونوں رات کی
طرفیں ہیں۔ فقلب القوس رکوۃ وحاد عن البر جاس غلوۃ
طبری نے کہا : اس پر دلیل تمام لوگوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ دو طرفوں میں سے ایک صبح ہے، تو یہ اس بات پر دلیل ہے کہ دوسری طرف مغرب ہے، اور اس بات کے ساتھ کوئی بھی جمع نہیں ہوا۔
میں (قرطبی) نے کہا : رد کے سلسلہ میں یہ ابن عربی کی طرف سے ایک تکلیف دہ بات ہے جو انہوں نے اپنے ذمے لے لی ہے کہ اس بات پر ان کے ساتھ کوئی بھی جمع نہیں ہوا، ہم نے مجاہد سے ذکر کیا کہ طرف اول صبح کی نماز ہے، اس بات پر اتفاق ہے کہ جس نے طلوع فجر کے بعد کھالیا یا جماع کرلیا تو اس کا وہ دن فطر کا دن ہوگا، اور اس پر قضا اور کفارہ ہے۔ اور یہ جان بوجھ کر اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب طلوع فجر کے بعد والا وقت دن کا حصہ ہو۔ تو صبح کے سلسلہ میں تو جو طبری نے کہا یہ اس کی صحت پر دال ہے، اب اس پر صرف مغرب کا اعتراض باقی ہے اور اس سلسلہ میں اس کی تردید پہلے گزر چکی ہے۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 3 ۔ قولہ تعالیٰ : وزلفامن الیل یعنی رات کے حصے میں اور زلف سے مراد وہ گھڑیاں ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہوں۔ اس سے مزدلفہ کا نام مزدلفہ ہے، کیونکہ وہ عرفہ کے بعد ایسا مقام ہے جو مکہ کے قریب ہے۔ ابن قعقاع اور ابن اسحاق وغیرہ نے وزلفا لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے اسے زلیف کی جمع کہا ہے، کیونکہ یہ زلیف کے ساتھ بولا جاتا ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا واحد زلفۃ ہو جسے بسرہ اور بسریہ اس آدمی کی لغت کے مطابق ہوگا جو سین کو ضمے کے ساتھ پڑھتا ہے۔ ابن محیصن نے وزلفامن الیل لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور واحد زلفۃ ہے جیسے درۃ اور در، اور برۃ اور بر۔ اور مجاہد اور ابن محیصن نے زلفی بروزن قربی بھی پڑھا ہے اور باقیوں نے وزلفالام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جیسے غرفۃ اور غرف۔ ابن اعرابی نے کہا : زلف سے مراد ساعات ہے، اس کا واحد زلفۃ ہے اور ایک قوم نے کہا ہے : زلفۃ سورج کے غائب ہونے کے بعد رات کے پہلے حصے کو کہتے ہیں۔ اس صورت میں زلف اللیل سے مراد رات کی پہلی تہائی کی نماز یا عشاء کی نماز ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد مغرب اور عشاء ہے۔ ایک قول کے مطابق مغرب، عشاء اور صبح ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اخفش نے کہا : اس سے رات کی نماز مراد ہے البتہ معین نہیں۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : ان الحسنٰت یذھبن السیاٰت صحابہ وتابعین میں سے جمہور مفسرین کا نقطہ نظریہ ہے کہ یہاں حسنات سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔ مجاہد نے کہا : حسنات سے مراد آدمی کا سبحان اللہ، والحمدللہ، لاإلہ إلا اللہ اور اللہ اکبر کہنا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : نیکیوں میں یہ مثال کے طریقہ پر ہے اور یہ وہ چیز ہے جو اس چیز کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ لفظ حسنات میں عام ہے اور سیئات میں خاص، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو نے کبائر سے اجتناب نہیں کیا “۔
میں (قرطبی) نے کہا : سبب نزول جمہور کے قول کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ انصار کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی، ایک قول کے مطابق وہ ابو الیسربن عمرو تھا۔ ایک قول یہ ہے : اس کا نام عباد تھا، اس نے کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کی، اسے بوسہ دیا اور فرج کے علاوہ اس نے اس کے ذریعہ لطف حاصل کیا۔ ترمذی نے حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں نے مدینہ کے کنارے میں ایک عورت کو گرالیا اور میں نے جماع کے سوا اس کے ساتھ سب کچھ کرلیا اور اب میں حاضر ہوں آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمادیں۔ حضرت عمر ؓ نے اسے فرمایا : اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی، تو بھی اپنے اوپر پردہ ڈال لیتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب ارشاد نہیں فرمایا۔ وہ آدمی چلا گیا تو نبی کریم ﷺ نے اس کے پیچھے بندہ بھیج کر اسے بلوایا، اور اس کے سامنے واقم الصلوٰۃ طرفی النھاروزلفًا من الیل۔ؕان الحسنٰت یذھبن السیاٰت۔ؕذلک ذکرٰی للذکرین۔ کی تلاوت فرمائی۔ قوم میں سے ایک شخص نے کہا : کیا یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” نہیں بلکہ یہ تمام لوگوں کے لیے ہے “۔ ترمذی نے کہا : حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے ہی مروی ہے کہ آدمی نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا پھر نبی کریم ﷺ کے پاس اس کے کفارہ کے متعلق پوچھنے کے لیے آیا تو واقم الصلوٰۃ طرفی النھاروزلفامن الیل۔ؕان الحسنٰت یذھبن السیاٰت نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کو اس آدمی نے کہا : کیا یہ حکم میرے لیے ہی ہے اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :” تیرے لیے اور میری امت میں سے جس نے بھی یہ کام کیا “۔ ترمذی نے کہا : ہذا حدیث حسن صحیح۔ حضرت ابوالیسر ؓ سے مروی ہے آپ نے کہا : میرے پاس ایک عورت کھجور خریدنے کے لیے آئی۔ میں نے کہا : کمرے میں اس سے زیادہ عمدہ کھجور پڑی ہے وہ میرے ساتھ کمرے میں داخل ہوگئی۔ میں اس کی طرف پڑھا اور اسے بوسہ دے دیا، حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آیا ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا : اپنے اس واقعہ کو چھپا، توبہ کر اور کسی کو اس کے بارے میں خبر نہ دے پس مجھ سے صبر نہ ہوسکا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا :” کیا تم نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی غازی کے گھر والوں کی اس کی غیر حاضری میں خبر گیری کی ہے “۔ حتی کہ میں نے یہ تمنا کی کہ کاش میں اس وقت اسلام لایا ہوتا اور میں نے یہ گمان کیا کہ میں دوزخیوں میں سے ہوں۔ راوی نے کہا : ان الحسنٰت بذھبن السیاٰت۔ؕذٰلک ذکرٰی للذکرین۔ حضرت ابوالیسر نے کہا : میں آپ کے پاس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ میرے سامنے پڑھی تو آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ صرف ان کے لیے خاص ہے یا تمام لوگوں کے لیے عام حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تمام لوگوں کے لیے عام ہے “۔ حضرت ابوعیسیٰ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے، وکیع وغیرہ نے قیس بن ربیع کو ضیعف قرار دیا۔ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے توجہ ہٹالی اور عصر کی نماز ادا کی گئی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو جبریل امین (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے، تب رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا : ” کیا تم ہمارے ساتھ نماز میں حاضر تھے “ ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ آپ نے فرمایا :” جایہ تیری کاروائی کا کفارہ ہوگیا ہے “۔ اور روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب ان کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی تو فرمایا :” اٹھو اور چار رکعت ادا کرو “۔ واللہ اعلم۔
اور حکیم ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے حدیث ” نواردالاصول “ میں بیان کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” میں نے پرانے گناہ کے لیے نئی نیکی سے ازروئے طلب کے زیادہ خوبصورت اور ادراک کے اعتبار سے زیادہ تیز کوئی چیز نہیں دیکھی، ان الحسنٰت یذھبن السیاٰت۔ؕذٰلک ذکرٰی للذکرین۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ یہ آیت کریمہ بمعہ ان احادیث کے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حرام بوسہ اور حرام لمس کی صورت میں حد واجب نہیں ہوتی۔ اور اس کے ذریعے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں پر کوئی حد اور تادیب نہیں ہوگی اگرچہ وہ دونوں ایک ہی کپڑے میں پائے گئے۔ یہ ابن منذر کا مختار مسلک ہے، کیونکہ جب اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ذکر کیا گیا تو اس حدیث کو اس جانب اشارہ کرتے ذکر کردیا جائے گا کہ ان پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی، اور سورة نور میں اس کی تفصیل آئے گی کہ
علماء نے اس کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نماز کو رکوع، سجود، قیام، قراءت اور اسماء سمیت اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا : اقم الصلوٰۃ، الایۃ نماز قائم کرو۔ فرمایا اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الایۃ (الاسراء :78) سورج کے ڈھلتے وقت نماز قائم کرو۔ فرمایا : فسبحٰن اللہ حین تمسون وحین تصبحون۔ (الروم) شام کے وقت اور صبح کے وقت اللہ کی تسبح بیان کرو۔ ولہ الحمدفی السمٰوٰت والارض وعشیا وحین تظھرون۔ (الروم) اور آسمان اور زمین میں اسی کی حمد ہے اور عشاء کے وقت اس کی تسبح بیان کرو۔ فرمایا وسبح بحمدربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا (طہٰ :130) اپنے رب کی تسبیح بیان کر سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے۔ فرمایا رکوع کرو اور سجدہ کرو یعنی ارکعواواسجدوا (الحج :77) فرمایا : وقومو اللہ قٰنتین۔ (البقرہ) اور اللہ کی خاطر ڈرتے ہوئے قیام کرو۔ فرمایا : واذاقرئ القراٰن فاستبعوالہ وانصتوا (الاعراف :204) اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور خاموش رہو۔ اور فرمایا ولاتجھر بصلاتک ولاتخافت بھا (الاسراء :110) یعنی نماز میں بلند آواز سے قراءت نہ کر اور نہ ہی انتہائی پست آواز میں قراءت کرو۔ یہ سارے کا سارا اجمال ہے اور اس کی وضاحت اور بیان کو اپنے نبی ﷺ پر چھوڑدیا، اور ارشاد فرمایا : وانزلنآالیک الذکرلتبین للناس مانزل الیھم (النحل :44) اور ہم نے آپ پر ذکر (یعنی قرآن) اتارا تاکہ جوان کی طرف اتارا گیا اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں۔ تو نبی کریم ﷺ نے مواقیت صلوٰۃ، رکعات اور سجدوں کی تعداد، پوری نماز سے مستحبات ہیں انہیں بیان فرمایا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ نے فرمایا :” صلواکمارأیتمونی أصلی “ اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اور آپ سے مکمل تفصلات منقول ہوئیں۔ اور آپ ﷺ نے اپنے وصال سے پہلے لوگوں کی ضرورت کے جملہ معاملات کو بیان فرمادیا۔ دین مکمل ہوگیا، اور آپ نے راستہ واضح فرمادیا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا الیوم الکملت لکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینًا (المائدہ : 3) آج تمہارے لیے میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند کرلیا
ذلک ذکرٰی للذکرین یعنی قرآن نصیحت اور توبہ ہے اس آدمی کے لیے کو نصیحت حاصل کرے۔ اور نصحت حاصل کرنے والوں کو قرآن کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہی نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور الذکری مصدر ہے جو الف تانیث کے ساتھ آیا ہے۔