Ayah 12:1آیت نمبر 1
الٓرٰ اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ قول تعالیٰ : الٓرٰ ۔ تلک اٰیٰت الکتٰب المبین یہاں تقدیر عبارت : تلک اٰیٰت الکتٰب
ہے۔ یہ مبتدا اور خبر ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ الٓرٰ سورت کا نام ہے یعنی یہ سورت جس کا نام الٓرٰ ہے یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی، کتاب مبین سے مراد قرآن مبین ہے یعنی جس کا حلال، حرام، اس کی حدود، اس کے احکام، اس کی ہدایت اور اس کی برکت واضح ہے۔ ایک قول یہ ہے : یعنی یہ وہ آیات ہیں جن کا تمہارے ساتھ تورات میں وعدہ کیا گیا تھا۔
Ayah 12:2آیت نمبر 2
قولہ تعالیٰ : انآانزلنٰہ قرءٰنًا عربیًا اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے : أنا انزلنا القرآن عربیًا (یعنی ہ ضمیر سے مراد قرآن ہو) قرءٰنًا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا یعنی سارا قرآن (عربی ہے) اور عربیا، قرءٰنًا کی صفت ہوگا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرءٰنًا بطور تمہید وتاکید حال ہو جیسے مررت بزید وجلا صالحاً اور عربیًا ضمیر سے حال ہوگا، یعنی اے گروہ عرب اس کو تمہاری زبان میں پڑھا جاتا ہے۔ أعرب سے مراد بین ہے اسی سے الثیب تعرب عن نفسھا ہے۔ لعلکم تفعلون یعنی تاکہ تم اس کے معانی کو جانو اور جو کچھ اس میں ہے اسے سمجھو۔ بعض عرب لعل کے ساتھ ان لاتے ہیں عسی کے ساتھ مشابہت دیتے ہوئے لعل میں لام تاکید کے لیے زائد ہے جس طرح کہ شاعر نے کہا : یاأبتا علک اوعساکا اس میں لعل کے بجائے عل ہے۔
ایک قول یہ ہے لعلکم تعقلون سے مراد یہ ہے لتکونوا علی رجاء من تدبرہ یعنی تاکہ اس کے غور وفکر سے تم پر امید ہوجاؤ، پس شک کا معنی ان کفار کی طرف راجع ہوگا کہ کہ کتاب اللہ اور اللہ کی طرف۔ اور ایک قول یہ ہے : انزلنٰہ کا معنی ہے کہ ہم نے خبر یوسف (علیہ السلام) کو نازل کیا۔ نحاس نے کہا : یہ معنی کے زیادہ مشابہ ہے کیونکہ روایت ہے کہ یہود نے کہا : اس (نبی ﷺ سے پوچھو کہ أل یعقوب شام سے مصر کیوں منتقل ہوئے ؟ اور اس سے یوسف کی خبر کے بارے میں سوال کرو۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت مکہ میں نازل فرمائی ان تعلیمات کے مطابق جو تورات میں تھیں۔ اور اس میں ان کے پاس موجود خبروں کی نسبت کچھ زیادہ خبریں تھیں۔ پس یہ نبی کریم ﷺ کے لیے ایسے ہی تھا جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مردہ کو زندہ کرنا کیونکہ آپ نے ان کو خبر دی حالانکہ آپ کھبی بھی کتاب کو نہ پڑھتے تھے اور نہ ہی آپ کتاب والی جگہ میں تھے۔
Ayah 12:3آیت نمبر 3
نحن نقص علیک مبتدا اور خبر ہے۔ احسن القصص یہ مصدر کے معنی میں ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے : قصصنا أحسن القصص۔ قصص کی اصل کسی چیز ہے۔ قصص کی اصل کسی اصل کسی چیز کے پیچھے چلنا ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقالت لاختہٖ قصیہ (القصص :11) ہے یعنی اس کے نشان قدم کی اتباع کر۔ پس قصہ گو آثار کی اتباع کرتا ہے اور ان کے متعلق خبر دیتا ہے۔ اور
حسن قصص کی طرف لوٹتا ہے نہ کہ قصہ کی طرف۔ کہا جاتا ہے فلان حسن الاقتصاص للحدیث یعنی اس کا سیاق عمدہ ہوتا ہے۔
ایک قول یہ ہے : قصص مصدر نہیں بلکہ یہ اسم کے معنی میں ہے جس طرح کہا جاتا ہے : اللہ رجاءنا یعنی مرجونا۔ اس اعتبار سے معنی یہ ہوگا : ہم آپ کو عمدہ خبروں کے ذریعے خبر دیتے ہیں۔ بمآاوحینا الیک یعنی ہماری وحی کے ذریعے پس ما فعل کے ساتھ مصدر کے قائم مقام ہوتا ہے۔
ھٰذالقراٰن، القران ھذا کی صفت ہونے کی وجہ سے یا اس سے بدل ہونے کے سبب یا عطف بیان ہونے کی وجہ سے منصوب ہے فراء نے اس کی جرکو بھی جائز کہا ہے۔ اس نے کہا : تکریر کی بنیاد پر مجرور ہے۔ یہ بصریوں کے نزدیک ما سے بدل کی بنیاد پر ہے۔ ابواسحاق نے مبتدا کے مضمر ہونے کی بنیاد پر اس کے رفع کو بھی جائز کہا ہے۔ وہ سائل تھا اس نے آپ سے وحی کے متعلق پوچھا تو اس کو کہا گیا : ھوالقران۔ وان کنت من قبلہٖ لمن الغٰفلین یعنی جو ہم نے آپ کو بتایا اس سے غافلیں میں سے۔
مسئلہ۔ علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ اس سورت کو باقی تمام قصص میں سے احسن القصص کیوں کہا گیا ؟ ایک قول یہ ہے : کیونکہ قرآن میں کوئی ایسا قصہ نہیں جس میں وہ عبرتیں اور حکمتیں ہوں جو اس قصہ میں ہیں۔ اور اس کا بیان اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے لقد کان فی قصصھم عبرۃ لاولی الالباب۔ ایک قول یہ ہے : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اپنے بھائیوں کو درگزر کرنے، ان کی اذیتوں پر آپ کے صبر، ان کا آپ کو کنویں میں لٹکانے کے بعد آپ کا ان کو معاف کرنا اور ان کو معاف کرنے میں آپ کے کرم کے حسن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا نام احسن القصص رکھا ہے حتیٰ کے آپ نے فرمایا : لاتثریب علیکم الیوم۔ ایک قول یہ ہے : کیوں کہ اس میں انبیاء صالحین، فرشتوں، شیاطین، جن، انسان، جانور، پرندے، بادشاہوں کی سیرت، مختلف ممالک، تاجر، علماء، جاہل، مردوں، عورتوں اور ان کے حیلوں اور فریبوں کا ذکر ہے اور اس میں توحید، فقہ، بین الاقوامی قانون، خوابوں کی تعبیر، سیاست، معاشرت، تدبیر معاش کا ان تمام فوائد کا ذکر ہے جو دین ونیا کی اصلاح کرتے ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے : کیوں کہ اس میں حبیب، محبوب اور ان دونوں کی سیرت کا تذکرہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں احسن بمعنی أعجب ہے۔ بعض اہل معانی نے کہا : احسن القصص اس وجہ سے ہے کہ ہر وہ شخص جس کا اس میں ذکر ہے اس کا انجام سعادت تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھو، آپ کے باپ، آپ کے بھائیوں اور عزیز مصر کی بیوی کو دیکھو۔ اور ایک قول یہ ہے : بادشاہ بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے اسلام لایا اور اس کا اسلام عمدہ تھا۔ اور خوابوں کی تعبیر چاہنے والا ساقی اور گواہ ان تمام کا معاملہ بھلائی پر ہی مبنی تھا
Ayah 12:4آیت نمبر 4
اذقال یوسف، اذظرف ہونے کی وجہ سے محل میں ہے۔ یعنی انہیں یاد کراؤ جب یوسف نے کہا۔ عام قراء کی قرأت سین کے ضمیر کے ساتھ ہے۔ طلحہ بن مصرف نے یوسف پڑھا ہے ہمزہ اور سین کے فتح کے ساتھ عجمہ ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ عربی ہے۔ ابوالحسن الاقطع کو کہ حکیم تھا اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا : لغت میں أسف حزن کو کہتے ہیں اور أسیف کا معنی بندہ ہے اور یہ چیزیں حضرت یوسف (علیہ السلام) میں جمع تھیں اس وجہ سے آپ کو یوسف کہا گیا۔ لابیہ یٰٓابت أبوعمرو، عاصم، نافع، حمزہ اور کسائی کی قراءت ” تا “ کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ یہ بصریوں کے نزریک تانیث کی علامت ہے، بالخصوص ندا میں أب پر یا اضافت کے بدلے داخل ہوتی ہے۔ بعض اوقات مذکر پر علامت تأنیث ہوتی ہے پس کہا جاتا ہے : رجل نکحۃ وھزاۃ۔ نحاس نے کہا : جب آپ یٰٓابت تا کسرہ کے ساتھ کہتے ہیں تو اس میں ” تا “ سبیویہ کے نزدیک یا اضافت کے بدلے میں ہے۔ سیبویہ کے قول ھا کے بغیر وقف جائز نہیں اور ان کے اپنے قول پر کئی دلائل موجود ہیں جن میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ آپ کا قول : یا ابہ، یاأبی کا معنی استعمال کرتے ہیں یا أبتی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ” تا “ ” یا “ کا بدل ہے لہٰذا دونوں کو جمع نہیں کیا جاسکتا۔ اور قراء کا گمان یہ ہے کہ جب کوئی آدمی یٰٓابت کہے تو اس کا کسرہ ” یا “ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس وقت نیت میں ” یا “ موجود ہے أبو اسحاق کا گمان یہ ہے کہ یہ غلط ہے اور صحیح بات وہ ہے جو اس نے کی کہ ” یا “ نیت میں کیسے ہوسکتی ہے حالانکہ یاأبتی کہا جاسکتا۔ أبوجعفر، اعرج اور عبداللہ بن عامر نے یاأبت، تا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ بصریوں نے کہا : ان قراء کی قرأت اصل میں یاأبتی کیا کے ساتھ ہے پھر ” یا “ کو الف کے ساتھ بدل دیا گیا توأبتا ہوگیا تو الف کو حذف کردیا گیا اور ” تا “ پر فتح باقی رہ گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اصل کسرہ ہے، پھر کسرہ کو فتحہ سے بدل دیا گیا جس طرح ” یا “ کو الف سے بدل دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے : یا غلام ماأقبل۔ فراء نے یااأبت یا کے ضمہ کے ساتھ بھی قرأت کو جائز قرار دیا ہے۔ انی رایت احدعشرکوکبا نحویوں کے درمیان جاءنی احد عشر رایت ومررت باحدعشر، اسی طرح ثلاثۃ عشر، تسعۃ عشر اور ان دونوں اعداد کے درمیان والوں کا اس طرح پڑھنے میں کوئی اختلاف نہیں، انھوں نے کہا : دونوں اسموں کو ایک اسم بنادیا ان دونوں کو خفیف ترین حرکات کے ساتھ اعراب دیا۔ سہیلی نے کہا : ان ستاروں کے اسماء کا ذکر مستند روایت میں آیا ہے جس کو حرث بن أبی أسامہ نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا : بستانہ۔ جو کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی ہے۔ آیا، اس نے نبی کریم ﷺ سے ان گیارہ ستاروں کے بارے میں پوچھا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” حرثان، طارق، قابس، مصبح، ضروح، ذوالکنفات، ذوالقرع، فلیق، وثاب اور عمودان۔ ان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا “۔ حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ نے فرمایا : کواکب سے مراد آپ ﷺ کے بھائی، شمس سے مراد آپ کی ماں اور قمر سے مراد آپ کے باپ ہیں۔ حضرت قتادہ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ شمس سے مراد آپ کی خالہ ہے، کیونکہ آپ کی ماں تو فوت ہوچکی تھی اور آپ کی خالہ آپ کے باپ کے نکاح میں تھی۔ رایتھم تاکید ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا رایتھم لی سٰجدین ھم ضمیر مذکر آئی ہے۔ خلیل اور سیبویہ کے بزدیک بات یہ ہے کہ جب آپ ان اشیاء کے بارے میں اطاعت اور سجدے کی خبر دی اور یہ دونوں فعل ذوی العقول کے ہیں تو ان کے بارے میں اس طرح خبر دے دی جس طرح ذوی العقول کے بارے میں خبر دی جاتی ہے۔ یہی معنی اللہ تعالیٰ کے ادشار : ترٰئھم ینظرون الیک (الاعراف :198) میں گزر چکا ہے اور عرب جب غیر ذول العقول کو ذوی العقول کے مقام پر لے آئیں تو اس کی جمع ذوی العقول کی طرح لاتے ہیں اگرچہ یہ خارج الاصل ہے۔
Ayah 12:5آیت نمبر 5
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فیکیدوالک کیدا یعنی وہ آپ کو ہلاک کرنے کی سازش کریں گے، کیونکہ اس کی تاویل ظاہر ہے یعض اوقات شیطان ان کو آپ کے ساتھ برائی پر ابھارتا ہے لک میں لام تاکید کے لیے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ان کنتم للرء یا تعبرون۔ (یوسف) میں ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ خواب ایک شریف حالت اور مقام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” میرے بعد مبشرات میں سے صرف سچے، نیک خواب باقی رہ گئے ہیں جن کو نیک آدمی دیکھتا ہے یا اسے دیکھائے جاتے ہیں “۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” تم میں سے جو ازروئے خواب کے زیادہ سچا ہوگا وہی ازروئے کلام کے بھی زیادہ سچا ہوگا “۔ نبی کریم ﷺ نے خواب کے بارے میں حکم بیان فرمایا کہ یہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ایک روایت کے مطابق :” نبوت کے اسیر اجزاء میں سے (چھیالیسواں حصہ ہے) “۔ حضرت ابن عمر کی حدیث کے مطابق :” چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے “۔ حضرت عباس ؓ کی حدیث کے مطابق :” نبوت کے چالیس اجزاء ایک جز ہے “۔ حضرت أنس رضہ اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق :” چھبیس اجزاء میں سے ایک جز ہے “۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے : ” نبوت کے چوالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے “ ان میں سے صحیح چھیالیس والی حدیث ہے۔ اس کے بعد صحت احادیث سبعین (ستر والی حدیث) ہے۔ امام مسلم نے سوائے ان دو حدیثوں کے اور کوئی نقل نہیں کی، جہان تک ان سب احادیث کا تعلق ہے تو یہ شیوخ کی احادیث میں سے ہیں یہ ابن بطال کا قول ہے۔ ابوعبداللہ مازری نے کہا : محدثین کے نزدیک اکثر اور اصح من ستۃ واربعین ہے۔ (چھیالیس والی حدیث) طبری نے کہا : صحیح یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ یہ ساری احادیث یا ان میں سے اکثر صحیح ہیں، اور ان میں سے ہر حدیث کا مخرج معقول ہے، جہاں تک انھا جزء من سبعین جزأمن النموۃ کا تعلق ہے تو یہ ہر سچے اور نیک خواب کے بارے میں اور ہر مسلمان کے بارے میں جو اس خواب کو اپنی نیند کی حالت میں دیکھے اس کے لیے عام بات ہے خواہ وہ مسلمان جس بھی حالت میں ہو، جبکہ أنھا من أربعین أوستۃ وأربعین اس سے مراد اس آدمی کا خواب ہے جس کی حالت کا ذکر حضرت صدیق اکبر ؓ کے پاس ہوا یعنی جو سخت سردیوں میں وضو کو انتہائی عمدہ طریقے سے کرنے والا ہو، ناپسندیدہ باتوں پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صبر کرنے والا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا ہو تو اس کا نیک خواب اگر اللہ نے چاہا تو نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک چیز ہے۔ اور جس آدمی کی حالت ان دونوں حالتوں کے درمیان ہو اس کا سچا خواب بھی ان دونوں اجزاء کے درمیان والی کیفیت میں ہوگا یعنی چالیس سے ستر تک کے درمیان۔ ستر سے کم نہیں ہوگا اور چالیس سے زیادہ ہوگا۔ اسی معنی کی طرف ابوعمر بن عبداللہ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے : خواب کے اجزاء کی تعداد کے بارے میں آثار میں پایا جانے والا اختلاف میرے نزدیک کوئی اختلاف نہیں۔ واللہ اعلم۔ کیونکہ اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ خواب دیکھنے والا شخص جس طرح کلام کے صدق، امانت کی ادائیگی، دین متین اور حسن یقین کی قوت سے لبریز ہوگا اسی قدر اس کا خواب نبوت کے مختلف اجزاء کی تعداد کے مطابق ہوگا۔ پس قدر بندے کی نیت اپنے رب کی عبادت میں خالص ہوگی اس کا یقین پختہ ہوگا اور اس کا کلام سچا ہوگا اسی قدر اس کا خواب سچا اور بنوت کے زیادہ قریب ہوگا۔ جس طرح انبیاء کرام (علیہم السلام) کو باہمی فضیلت حاصل ہوتی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولقد فضلنا بعض النبیٖن علیٰ بعض (الاسراء :55) ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ تاویل بہت ساری احادیث کو جامع ہے اور یہی تاویل بہتر ہے بنسبت بعض کی بعض کے ساتھ تفسیر کرنے اور بعض کو چھوڑدینے کے۔ أبوسعید الاسفاقیسی نے بعض اہل علم سے جزء من ستۃ وأربعین جزأمن النبوۃ کا یہ معنی ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی نبوت میں تئیس سال تک وحی فرمائی ہے جس طرح کہ عکرمہ اور عمروبن دینار نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا ہے تو اگر ہم تئیس سال کے عرصے کو چھ ماہ کے حساب سے تقسیم کریں تو اس کے چھیالیس اجزاء بن جائیں گے اسی قول کیطرف مازری نے اپنی کتاب ” المعلم “ میں اشارہ کیا ہے اور اسکو القونوی نے اپنی تفسیر میں ” سورة یونس “ کی آیت کریمہ لھم البشرٰی فی الحیٰوۃ الدنیا (یونس :64) کے تحت اختیار کیا ہے مگر یہ مؤقف دو اعتبار سے فاسد ہے۔
ایک تو اس وجہ سے کہ أبومسلمہ نے حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ مدت بیس سال تھی اور نبی کریم ﷺ کی بعثت چالیس سال کے آخر میں ہوئی پھر دس سال آپ نے مکہ میں قیام فرمایا یہ عروہ، شبعی، ابن شہاب، حسن، عطا خراسانی اور سعید بن مسیب کے مختلف اقوال سے ثابت ہے اور یہی ربیعہ اور غالب کی روایت ہے حضرت أنس ؓ سے پس اگر یہ حدیث ثابت ہوجائے تو پھر یہ تاویل باطل ہوجائیگی۔
اور دوسرا سبب یہ ہے کہ پھر اجزاء مختلفہ کے بارے میں وارد تمام احادیث بےمعنی ہو کر رہ جائیں گی۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ صرف خوب نبوت کے اجزا میں سے تھا کیوں کہ اس میں ایسی چیزیں ہیں جو عاجز کرتی ہیں اور مانع ہوتی ہے جس طرح کہ پر اواز کرنا، ایمان کو بدل دینا اور علم غیب میں سے کسی چیز پر مطلع ہونا، جیسا کہ ارشاد رسول ﷺ ہے : ” نبوت “ کی مبشرات میں سے سوائے نیند کے سچے خواب کے کوئی شے باقی نہیں رہی۔ الحدیث المختصر سچا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نبوت کے اجزاء میں سے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” خواب اللہ کی طرف سے ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے “ ، اس بات کی تصدیق حق ہے اور عمدہ تاویل ہے اور بعض اوقات بعض چیزوں کی تاویل کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور خواب میں اللہ تعالیٰ کے بدیع ہونے اور اس کی مہربانی کے ایسے دلائل ہوتے ہیں جو بندہ مومن کے ایمان میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس معاملے میں اہل دین اور اہل حق میں سے اہل رائے اور محدثین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور سوائے معتزلہ میں سے ملحد اور بےدین لوگوں کے خواب کا کوئی بھی منکر نہیں۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے : جب سچا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے تو پھر کافر، جھوٹا اور خلط ملط کرنے والا اس کا اہل کیسے ہوسکتا ہے ؟ حالانکہ بعض کفار اور دیگر ایسے لوگوں سے جن کا دین پسندیدہ نہیں ان سے بھی صحیح اور سچے خواب کا ظہور ہوا ہے جس طرح اس بادشاہ کا خواب جس نے خواب میں سات گائیں دیکھیں، قید خانے میں دونوں جوانوں کے خواب، بخت نصر کا وہ خواب جس کی تعبیر داینال نے اس کی بادشاہت کے جانے کے ساتھ کی، ظہور نبی کریم ﷺ کے بارے میں کسری کا خواب اور عاتکہ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی کا آپ کے بارے میں خواب حالانکہ وہ کافرہ تھی اسی طرح امام بخاری نے باب رؤیا اھل الجن کا عنوان قائم کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کافر، فاسق، فاجر اور جھوٹے آدمی کا خواب اگرچہ بعض اوقات وہ سچا بھی ہوتا ہے وہ وحی اور نبوت میں نہیں ہے، کیونکہ ہر وہ آدمی جس کی غیب کی بات سچی ہو اس کی بات اور خبر نبوت میں سے نہیں ہوتی اس کی تفصیل ” سورة الانعام “ میں گزرچکی ہے کہ کاہن اور دیگر لوگ بعض اوقات سچی خبر دیتے ہیں لیکن یہ شاذونادر ہی ہوتا ہے تو اس طرح ان کے خوابوں کی بھی کیفیت ہوتی ہے۔ مہلب نے کہا : امام بخاری (رح) نے تو یہ عنوان صرف اس لیے قائم کیا ہے تاکہ یہ بات ثابت ہوجائے کہ مشرکین کے خواب بھی سچے ہوسکتے ہیں جس طرح کہ دونوں جوانوں کے خواب سچے تھے مگر یہ درست نہیں کہ مومنین کے خوابوں کی طرح ان کے خوابوں کی نسبت نبوت کی طرف کی جائے، کیونکہ ہر وہ بات جس کی سچی تاویل کرنا ممکن ہو اس کا نبوت کے اجزاء میں سے ہونا ضروری نہیں۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے والے خواب وہ ہوتے ہیں جو پریشانی اور وہم سے خالی ہوں اور ان کی تاویل لوح محفوظ میں مرقوم تقدیر کے موافق ہو۔ وہ خواب جو اضغاث کی خبر میں سے ہوں وہ پریشان کن افکار ہیں جن کا سراغ نہیں ملتا۔ یہ شیطان کی طرف منسوب ہوتے ہیں انہیں کو ضغث کہا جاتا ہے، کیوں کہ ان میں متضاد چیزیں ہوتی ہیں۔ اس کا معنی مہلب نے بیان کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خواب کی کئی قسمیں بیان فرمائی ہیں جو ہر قائل کے قول سے مستغنی کردیتی ہیں۔ حضرت عوف بن مالک ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” خواب تین ہیں ان میں سے ایک شیطان کے احوال ہیں تاکہ وہ ابن آدم کو پریشان کرے اور ان میں سے کچھ خواب وہ ہوتے ہیں کہ جو حالات حالت بیداری میں بندے کو درپیش ہوتے ہیں انہی کو وہ خواب میں دیکھتا ہے اور کچھ وہ خواب ہیں جو نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہیں “۔ سننے والے نے کہا : آپ نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ! میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال یٰبنی لاتقصص رء یاک علیٰ اخوتک الایۃ۔ لارؤیا، رأی فی المنام سے مصدر ہے، رؤیا فعلی کے وزن پر ہے سقیا اور عشری، اس کا الف تأنیث کا ہے اسی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ علماء کا رؤیا کی حقیقت میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ ایسے اجزا کا ادراک ہے جن کو آفت نہیں آتی جس طرح متفرق نیند وغیرہ۔ اسی وجہ سے نیند کے غلبہ کی قلت کے سبب اکثر خواب رات کے آخری حصہ میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ خواب دیکھنے والے کے لیے علم ناشی پیدا فرماتا ہے اور دیکھنے والے کے لیے اس کے مشاہدے کے مطابق اس کو پیدا فرماتا تاکہ ادراک صحیح ہوجائے۔ ابن عربی (رح) نے کہا : خواب میں صرف وہی دکھایا جاتا ہے جس کا ادراک حالت بیداری میں صحیح ہو۔ اسی وجہ سے خوب میں کوئی کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے کسی حالت میں نہیں دکھایا جاتا اور صرف معتاد چیزیں ہی دکھائی جاتی ہیں۔ ایک یہ قول ہے : اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جو سونے والے کے محل مدرک میں دیکھی جانے والی چیزیں پیش کرتا ہے اور پھر اس کو محسوس صورتوں کی تمثیل دیتا ہے۔ کھبی وہ صورتیں پائی جانے والی چیزوں کے موافق تمثیلی صورت اختیار کرتی ہیں اور کھبی وہ عقل کے ذریعے سمجھے جانے والے غیر محسوس معانی کی صورت اختیار کرتی ہیں، البتہ دونوں حالتوں میں وہ بشارت دینے والی یا ڈرانے والی ہوتیں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے صحیح مسلم اور دیگر کتب میں :” میں نے سیاہ پراگندہ سر (عورت) کو دیکھا جو مدینہ سے مہیقہ (جحفہ کا مقام جو اہل شام کا میقات ہے) تک نکلتی ہے پس میں نے اس کی تعبیر بحار کے ساتھ کی ہے “۔ اور ” میں نے اپنی تلوار کو ایکھا جس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا اور گائے کو دیکھا جس کا نحر کیا جاتا ہے تو میں نے ان دونوں کی تعبیر یہ کی ہے کہ میرے اہل بیت کے آدمی کو شہید کیا جائے گا اور گائے میرے صحابہ کی ایک جماعت ہے جن کو شہید کیا جائے گا “ ، اور ” میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک محفوظ ذرع میں داخل کیا ہے تو اس کی تعبیر میں نے مدینہ سے کی ہے “۔ اور ” میں نے اپنے ہاتھ میں دو کنگن دیکھے تو ان دونوں کی تعبیر میں نے دو کذابوں سے کی جو میرے بعد نکلیں گے “۔ علاوہ ازیں ایسے خواب جن کی تمثیل ہوسکتی ہے۔ اور ان میں سے کچھ خواب وہ ہوتے ہیں جن کے معنی پہلے ہی ظاہر ہوتے ہیں اور بعض وہ ہوتے ہیں جن کے معنی غور وفکر کے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی تعبیر سالوں سے کی اور آپ نے گیارہ ستارے، سورج اور چاند کو دیکھا تو ان کی تعبیر اپنے بھائیوں اور اپنے والدین سے کی۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے : حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی خواب کے وقت چھوٹے تھے اور صغیر کے فعل ہر کوئی حکم نہیں لگایا جاتا تو آپ کا خواب ایسا کس طرح ہوگیا کہ جس پر حکم لگایا جاسکتا ہے حتیٰ کہ آپ کے والد نے فرمایا : لا تقصص رء یاک علی اخوتک تو اس کا جواب یہ ہے کہ خواب ایک حقیقت کا ادراک ہے جس طرح کہ پہلے بیان ہوا تو یہ صغیر سے بھی ہوسکتا ہے جس طرح اس سے حالت بیدادی میں ادراک حقیقی ممکن ہے اور جب وہ اپنی دیکھی ہوئی چیز کی سچی خبر دے تو یہی کیفیت ہوگی چیز کی خبر دے جس کو اس نے حالت خواب میں دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے خواب کے بارے میں خبر دی اور یہ خواب آپ کے مشاہدہ کے مطابق پایا بھی گیا تو اس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔ روایت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر بارہ سال تھی۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خواب غیر شفیق اور غیر مخلص آدمی کے سامنے بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسے آدمی کے سامنے اس کو بیان کیا جائے جو خواب کی تعبیر عمدہ طریقے سے نہیں کرسکتا۔ أبورزین عقیلی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” خواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے اور خواب پرندے کی ٹانگ کے ساتھ تب تک معلق رہتا ہے جب کہ خواب دیکھنے والا اس کو بیان نہ کرے اور جب وہ اس کو بیان کرے تو وہ واقع ہوجاتا ہے سو تم سوائے عقلمند، محبت کرنے والے اور مخلص آدمی کے کسی کے سامنے اس کو بیان نہ کرو “۔ امام ترمذی نے اس کو روایت کیا اور اس کے بارے میں آپ نے کہا : حدیث حسن صحیح، أبورزین کا نام : لقیط بن عامر ہے۔ حضرت امام مالک (رح) کو کہا گیا : کیا ہر ایک خواب کی تعبیر کرسکتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : کیا نبوت کے ساتھ کھیلا جاسکتا ہے ؟ اور امام مالک (رح) نے فرمایا : کوئی آدمی خواب کی تعبیر نہ کرے سوائے ایسے آدمی کے جو عمدہ طریقے سے تعبیر کرسکتا ہے۔ اگر اس میں کوئی بھلائی دیکھے تو اس کی خبر دے اور اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو یا تو اچھی کرے یا پھر خاموشی اختیار کرے۔ ایک قول یہ ہے : کیا تعبیر کرنے والا اس کی اچھی تعبیر کرسکتا ہے حالانکہ اس کے نزدیک وہ ناپسندیدہ ہو ؟ تو آپ نے فرمایا : نہیں پھر آپ نے کہا : خواب نبوت کا حصہ ہے لہٰذا نبوت کے ساتھ نہ کھیلا جائے۔
مسئلہ نمبر 9 ۔ اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ کسی مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کو کسی خوفناک چیز سے ڈرانا مباح ہے اور یہ غیبت کے معنی میں داخل نہیں کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے دے ڈرایا کہ وہ اپنی سازش کریں گے۔ اور اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ جس آدمی کو اپنے خاندان میں سے کسی آدمی سے حسد اور سازش کا ڈر ہو اس کے سامنے تعمت کا اظہار نہ کرنا جائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” اپنی ضرورت کو چھپانے کے ذریعے مدد طلب کرو کیونکہ ہر نعمت والے آدمی کے ساتھ حسد کیا جاتا ہے۔ اس آیت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر کو جاننے پر بھی واضح دلیل ہے۔ پس انہوں نے اس کی تعبیر کو جان لیا کہ عنقریب وہ تعبیر ان کے سامنے ظاہر ہوگی اور آپ نے اپنے دل میں اس کی پرواہ نہ کی۔ آدمی یہ بات تو چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس سے بہتر ہوگا مگر اپنے بھائی کے بارے میں یہ نہیں چاہتا۔ اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بارے میں حسد وبعض کو محسوس کرلیا تھا تو آپ نے ان کو ان کے سامنے خواب بیان کرنے سے روک دیا اس خوف سے کہ ان کے سینے اس کے حسد میں جلنے نہ لگیں اور وہ آپ کی ہلاکت بارے میں سازش کرنے لگیں۔ یہ وجہ اور ان (بھائیوں) کی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کا روائی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس وقت نبی نہیں تھے۔ ابن زید کی کتاب الطبری میں ہے کہ وہ انبیاء تھے مگر یہ بات دینوی حسد، والدین کی نافرمانی، مومن کی ہلاکت پر ابھارنے اور مومن کے قتل کا کسی کو حکم دینے سے انبیاء کے محفوظ ہونے کے عقیدے کو قطعی رد کرتی ہے لہٰذا جس آدمی نے ان کے انبیاء ہونے کی بات کی ہے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ دی جائے۔ عقل نبی کی لغزش کو محال نہیں سمجھتی البتہ اگر وہ لغزش کبیرہ گناہ کو جامع ہو تو مسلمان کا ان سے انبیاء کے معصوم ہونے پر اجماع ہے، جبکہ صیغرہ گناہوں کے بارے میں مسلمان کا اختلاف ہے جس طرح کہ پہلے بیان ہوا اور بعد میں بھی اس کا بیان آئے گا۔
مسئلہ نمبر 10 ۔ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :” نبوت میں سے سوائے مبشرات کے کوئی چیز باقی نہیں رہی “ انہوں نے کہا : مبشرات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” نیک خواب “۔ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی کے اعتبار سے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خواب مطلقاً بشارت ہے حالانکہ ایسا نہیں۔ بیشک سچا خواب بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والا ہے۔ اسے دیکھنے والا خوش نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ مومن کو ایسا خواب اس کے ساتھ میربانی اور رحمت کرتے ہوئے دکھاتا ہے تاکہ مصبیت سے پہلے اس کے نزول کے لیے بندہ تیاری کرلے۔ امام شافعی (رح) نے مصر میں امام احمد بن حنبل (رح) کے بارے میں خواب دیکھا جو ان کی محنت پر دلالت کرتا تھا تو آپ نے ان کی طرف یہ خواب لکھا تاکہ وہ اس کے لیے تیار ہوجائیں۔” سورة یونس آیت 64“ میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد لھم المشرٰی فی الحیٰوۃ الدنیا کی تفسیر گزر چکی ہے کہ اس سے مراد ” نیک خواب ہے “ یہ اور امام بخاری کی حدیث کا محرج اکثر واغلب ہے واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 11 ۔ امام بخاری نے ابوسلمہ سے روایت کیا انہوں نے کہا : میں نے خواب دیکھا تو اس نے مجھے بیمار کردیا حتیٰ کہ میں نے ابو قتادہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں خواب دیکھا کرتا تھا تو وہ مجھے بیمار کردیتا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جب تم میں سے کوئی کسی پسندیدہ چیز کو دیکھے تو اس کو صرف اسی کے سامنے بیان کرے جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے اور جب وہ کسی ناپسندیدہ بات کو دیکھے تو اسے اس بات کے شر سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہئے۔ اور اسے تین مرتبہ تھوکنا چاہیے اور وہ کسی کو بھی وہ خواب بیان نہ کرے تو اس کو کوئی نقصان نہیں دے گا “۔ ہمارے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس خواب سے استعاذہ کو اس سے أذیت کے اٹھ جانے کا باعث بنایا ہے۔ کیا آپ نے أبو قتادہ کا قول نہیں دیکھا : میں خواب دیکھا کرتا تھا یہ مجھ پر پہاڑ سے زیارہ بوجھل ہوتا۔ جب میں نے یہ حدیث سنی تو میں اس کو کوئی چیز شمار نہیں کرتا تھا۔ امام مسلم (رح) نے حضرت جابر ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے روایت میں اضافہ کیا کہ آپ نے فرمایا :” جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اسے تین مرتبہ اپنے بائیں جانب تھوکنا چاہیے تین مرتبہ شیطان کی پناہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لینی چاہئے اور جس پہلو پر ہو اس سے اس کو پہلو بدل لینا چاہیے “۔ حضرت ابوہریرہ کی نبی کریم ﷺ سے حدیث ہے آپ نے فرمایا :” جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اٹھے اور نماز پڑھے “۔ ہمارے علماء نے کہا : یہ سارے کا سارا باہم متعارض نہیں، یہ معاملہ جگہ بدلنے کا ہے اور نماز کا اس میں اضافہ ہے تو خواب دیکھنے والے پر یہ سارے کام کرنا لازم ہیں اور نماز کے لیے اٹھنا ان تمام افعال کو شامل ہے کیونکہ جب وہ نماز پڑھے گا تو نماز کے لیے اس کا عمل تمام امور کو شامل ہوگا کیونکہ جب نماز کے لیے اٹھے گا تو وہ پہلو کو بدلے گا، جب منہ میں پانی ڈالے گا اور جب شروع کرے گا تو تعوذ پڑھے گا، دعا کرے گا اور اللہ تعالیٰ سے اس معاملے میں تضرع کرے گا کہ وہ خواب کے شر سے اس کو کافی ہوگا اس کی یہ زاری ایسی حالت میں ہوگی جو قبولیت کے زیادہ قریب ہے اور یہ رات میں صبح سے تھوڑا سا پہلے ہوگا۔
Ayah 12:6آیت نمبر 6
وکذٰلک یجتبیک ربک میں کاف ضمیر محل نصب میں ہے کیونکہ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ارشاد : کمآ اتمھا علیٰ ابویک من قبل میں کاف اور ما کافہ ہے۔ ایک قول یہ ہے : وکذٰلک یعنی جس طرح اس نے خواب کے ذریعے تجھے عزت عطا فرمائی پس اسی طرح وہ تجھے چن لے گا اور خواب کو سچا ثابت کرکے تیرے اوپر احسان فرمائے گا۔ مقاتل نے کہا : تیرے لیے سجدوں کے ذریعے (تجھے چن لے گا) حضرت حسن نے کہا : نبوت کے ذریعے، اجتباء سے مراد مجبیٰ کے لیے امور کی بلندی کو اختیار کرنا ہے۔ اس کی جبیت الشیئ ہے یعنی میں نے اس کو حاصل کرلیا۔ اسی سے جبیت الماء فی الحوض ہے، یہ نحاس کا قول ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعریف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تعدید ہے جس طرح زمین میں اقتدار دینا اور خوابوں کی تعبیر کی تعلیم اور علماء کا اجماع ہے کہ یہ انتخاب خوابوں کی تعبیر کے سلسلہ میں ہے۔ عبداللہ بن الہاد نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی تفسیر چالیس سال بعد ہوئی۔ اور یہ خواب کی انتہاء ہے۔
الاحادیث سے مراد وہ ہے جو لوگ خواب میں دیکھے ہیں اور یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معجزہ ہے پس اس میں آپ کو غلطی لاحق نہ ہوئی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) خوابوں کی تعبیر کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ جانتے تھے۔ اور ہمارے نبی ﷺ بھی اسی طرح تھے، اور حضرت ابوبکر ؓ لوگوں میں اس کے سب سے زیادہ تعبیر بتانے والے تھے، ابن سیرین کو اس میں زیادہ تقدم طبع اور احسان حاصل ہوا۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ ان جیسے یا ان کے قریب قریب تھے۔ اپنے قول کی تاویل کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا : ویعلمک من تاویل الاحادیث یعنی قوموں اور کتابوں کی گفتگو اور دلادلائل توحید یہ نبوت کی طرف اشارہ ہے یہی اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ویتم نعمتہ علیک سے مقصود ہے یعنی بنوت کے ذریعے ( وہ اپنی نعمت تیرے اوپر مکمل فرمائے گا) ایک قول یہ ہے : تیرے بھائیوں کا تیری طرف نکلنے کے ساتھ۔ اور ایک قول یہ ہے : تجھے ہر ناپسندیدہ کاروائی سے نجات عطا فرمانے کے ذریعے۔ کمآ اتمھا علیٰ ابویک من قبل ابرٰاھیم خلت اور آگ سے ان کو نجات عطا فرمانے کے ذریعے واسحٰق نبوت کے ذریعے۔ ایک قول یہ ہے : ذبح کے ذریعے۔ یہ عکرمہ کا قول ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد وعلیٰ اٰل یعقوب کے ذریعے آپ کو اس بات سے آگاہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ تمام بنی یعقوب کو بنوت فرمائے گا۔ یہ مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے۔ ان ربک علیم اس کو جاننے والا ہے جو کچھ وہ تجھے عطا فرمائے گا : حکیم تیرے ساتھ اپنے فعل میں (حکمت والا ہے) ۔
Ayahs 12:7–9آیت نمبر 7 تا 9
لقد کان فی یوسف واخوتہٖ اٰیٰت للسآئلین یعنی جس نے ان کی گفتگو کے بارے میں پوچھا۔ اہل مکہ نے ایت واحد پڑھا ہے اور ابوعبیدہ نے اٰیٰت جمع کو اختیار کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ خبر کثیر ہے۔ نحاس نے کہا : یہاں ” ایۃ “ عمدہ قرات ہے یعنی جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خبر کے بارے میں ان کو ان کے بارے میں جو خبر دی گئی اس میں ان کے لیے نشانی ہے، کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اور آپ مکہ میں تھے انہوں نے کہا : ہمیں انبیاء میں سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں خبر دیجئے جو شام میں تھا، اس کے بیٹے کو مصر لے جایا گیا تو وہ اس پر رویا یہاں تک کے نابینا ہوگیا ؟ اور مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی نہیں تھا اور نہ ہی انبیاء کی خبر کو کوئی جانتا تھا۔ یہودی مدینہ سے متوجہ ہوئے اور آپ سے انہوں نے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف یکبارگی نازل فرمادی، اس میں وہ سب کچھ ہے جو تو رات میں تھا اور اس سے کچھ زائد بھی، تو یہ نبی کریم ﷺ کے لیے اسی طرح نشانی تھی جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے لیے مردہ کو زندہ کرنا۔ اٰیٰت سے مراد نصیحت ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد عبرت ہے۔ ایک روایت کے مطابق بعض مصاحف میں عبرۃ ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد بصیرت ہے۔ ایک قول کے مطابق : عجب۔ جس طرح کہا جاتا ہے۔ فلان آیت فی العلم والحسن یعنی فلاں آدمی علم وحسن میں عجب ہے۔ ثعلبی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے : جب خواب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں تک پہنچا تو انہوں نے آپ کے ساتھ حسد کیا۔ ابن زید نے کہا : وہ انبیاء تھے اور انہوں نے کہا : کیا اسے یہ بات پسند ہے کہ اس کے بھائی اسے سجدہ کریں حتیٰ کے اسے اس کے والدین سجدہ کریں ! تو انہوں نے عداوت کے سبب آپ سے بغاوت کردی۔ اس قول کا درپہلے گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لقد کا فی یوسف واخوتہٖٓ اور ان کے اسماء : روبیل یہ ان میں سے سب سے بڑا تھا۔ شمعون، لاوی، یہوذا، زیالون، یشجر ان کی ماں لیا بنت لیان تھی یہ حضرت یعقوب کی خالہ کی بیٹی تھی آپ کے چار بیٹے دو کنیزوں میں سے تھے۔ دان، نقتالی، جاد اور آشر۔ پھر لیا فوت ہوگئی تو یعقوب (علیہ السلام) نے اس کی بہن راحیل سے شادی کرلی، تو آپ کے بیٹے یوسف اور بنیامین پیدا ہوئے۔ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے۔ سہیلی نے کہا : حضرت یعقوب کی ماں کا نام رفقا تھا اور راحیل بنیامین کے نفاس میں فوت ہوگئی اور لیان بن ناہر بن آزر حضرت یعقوب کی خالہ تھی۔ ایک قول یہ ہے : دونوں لونڈیوں کے نام لیا اور تلتا تھا۔ ان میں ایک راحیل اور دوسری اس کی بہن لیا تھی یہ دونوں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ہبہ کی گئیں تھیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان دونوں کو اپنے پاس جمع کیا اور آپ کے بعد کسی کے لیے بھی حلال نہیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وان تجمعوابین الاختین الاماقدسلف (النساء :23) کے سبب ابن زید نے کہا اس کی تردید پہلے گزر چکی ہے۔ والحمدللہ۔
اذقالوا لیوسف، یوسف، مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ لام تاکید کے لیے ہے۔ یہ وہ لام ہے جس کے ذریعے قسم اٹھائی جاتی ہے یعنی واللہ لیوسف، واخوہ اس پر اس کا عطف ہے۔ احب الیٰ ابینا منا اس کی خبر ہے اس کا تثنیہ آتا ہے اور نہ جمع کیونکہ یہ فلی کے معنی میں ہے۔ انہوں نے یہ صرف اس وجہ سے کہا کہ ان تک خواب کی خبر پہنچ گئی تو انہوں نے شازش شروع کی۔ ونحن عصمۃ یعنی جماعت اور وہ دس تھے۔ عصبہ ایک سے لے کر دس تک کے درمیان (بولا جاتا ہے) ایک قول ہے : پندرہ تک۔ ایک قول ہے : اس سے چالیس کے درمیان۔ اور لفظوں میں اس کا واحد نہیں جس طرح کہ نفرا اور رھط (کا واحد نہیں ہوتا) ان ابانالفی ضلٰلٍ مبین اس سے ان کی مراد دین کی گمراہی نہیں کیونکہ اگر وہ یہ مراد لیتے تو وہ کافر ہوجاتے، بلکہ ان کی مراد تدبیر کے رستے سے ہٹ جانا ہے اس طرح کہ اس پر دو کو ترجع دے دی ناوجود ان کے ساتھ نسبت کی برابری کے۔ ایک قول یہ ہے : حضرت یوسف اور ان کے بھائی کو ہمارے اوپر ترجع دے دی باوجود ان کے ساتھ نسبت کی برابری کے۔ ایک قول یہ ہے : حضرت یوسف اور ان کے بھائی کو ہمارے اوپر ترجع کے ذریعے واضح غلطی میں ہونے کی وجہ سے۔
اقتوا یوسف کلام میں حذف ہے یعنی ان میں سے کہنے والے نے کہا : اقتلوا یوسف یوسف کو قتل کروتا کہ یہ امر کے مادہ کو ہی ختم کرنے والا ہوجائے۔ اواطرحوہ ارضًا یعنی زمین میں فی حرف جر کو حذف کرکے ارضا کو نصب دے دی گئی فی کے حذف کے حوالے سے سیبویہ نے شعر بطور استشہاد پیش کیا ہے۔
لدن بھز الکف یعسل متنہ فیہ کما عسل الطریق الشعلب
مقام استشہاد عسل الطریق ہے جو کہ اصل میں عسل فی الطریق تھا۔
نحاس نے کہا : آیت کریمہ میں بہت سارے حسن ہیں کیونکہ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ ان دو میں سے ایک حرف ہے پس جب حرف کو حذف کردیا گیا تو فعل اس کی طرف متعدی ہوگیا۔ یہ (قتل اور پھینکنے کی) بات کہنے والے کے بارے میں ایک قول یہ ہے : وہ شمعون تھا۔ یہ وہب بن منیبہ کا قول ہے۔ کعب احبار نے کہا : دان۔ مقاتل نے کہا : روبیل۔ واللہ اعلم۔ اور ارضا سے مراد ایسی زمین ہے جوان کے باپ سے دور ہو۔ اس میں اضمار ضروری ہے کیونکہ وہ (حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے باپ کے پاس بھی تو زمین ہی میں تھے۔ یخل مجزوم ہے جواب امر ہونے کی وجہ سے اس کا معنی ہے : خالص ہوجائے اور صاف ہوجائے لکم وجہ ابیکم پس وہ مکمل طور پر تمہاری طرف متوجہ ہوجائے گا۔ وتکونوا من بعدہٖ اور تم ہوجانا اس کے بعد یعنی گناہ کے بعد ایک قول یہ ہے : یوسف کے بعد قومًا صٰلحین یعنی توبہ کرنے والے لوگ یعنی اس عمل کے بعد توبہ کرلینا تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ کو قبول فرمائے گا۔ اس میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ قاتل کی تو یہ بھی قابل قبول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے آنے والی اس بات کا انکار اور رد نہیں فرمایا۔ ایک قول یہ ہے : صٰلحین سے مراد ہے یعنی بغیر کسی ترجع اور فضیلت کے تمہارے معاملات تمہارے باپ کے نزدیک درست ہوجائیں گے۔