Ayah 10:1آیت نمبر : 1۔
قولہ تعالیٰ : الر نحاس نے کہا ہے : اسے ابو جعفر احمد بن شعیب بن علی ابن حسین بن حریث پر پڑھا گیا تو انہوں نے کہا : ہمیں علی بن حسین نے اپنے باپ سے اور انہوں نے یزید سے یہ خبر دی ہے کہ عکرمہ نے اسے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے : الر، حم، اور نون، یہ الرحمن کے حروف ہیں جو الگ الگ بیان کیے گئے ہیں، تو میں نے اس کا ذکر اعمش سے کیا تو انہوں نے : تیرے پاس اس کی مثل (اور) بھی ہیں اور تو مجھے اس کے بارے خبر نہ دے ؟ اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے : الر کا معنی ہے انا اللہ اری (2) (المحرر الوجیز، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 102)
(میں اللہ ہوں دیکھ رہا ہوں) نحاس نے کہا ہے : میں نے ابو اسحاق کو دیکھا کہ وہ اس قول کی طرف مائل ہیں، کیونکہ سیبویہ نے عربوں سے اس کی مثل بیان کیا ہے اور شعر بھی بیان کیا ہے :
بالخیر خیرات وان شرافا ولا ارید الشر الا ان تا :
اور حسن اور عکرمہ نے کہا ہے : (آیت) ” الر قسم ہے۔ اور سعید نے حضرت قتادہ (رح) سے بیان کیا ہے : (آیت) ” الر “ سورت کا نام ہے، مزید کہا : قرآن کریم میں تمام حروف تہجی اس طرح ہیں، اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ سورتوں کے فواتح اور آغاز ہیں۔ اور محمد بن یزید نے کہا ہے : یہ حروف تنبیہ ہیں اور اسی طرح تمام حروف تہجی ہیں۔ اور کو بغیر امالہ کے پڑھا گیا ہے۔ اور امالہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے تاکہ یہ حروف میں سے حروف میں سے ما اور لہ کے مشابہ نہ ہوجائیں۔ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” تلک ایت الکتب الحکیم “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے، یعنی یہ جن کا ذکر جاری ہے کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : کتاب سے مراد تورات، انجیل اور سابقہ کتب ہیں (1) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 102)
کیونکہ (آیت) ” تلک “ مونث غائب کی طرف اشارہ ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” تلک “۔ بمعنی ھذہ ہے، یعنی ہذہ آیات الکتاب الحکیم “۔ (یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں) اور اسی سے اعشی کا قول ہے :
تلک خیلی منہ وتلک رکابی ھن صفراولادھا کالزبیب :
مراد ھذہ خیلی ہے (2) (تفسیر ماوردی، جلد 2 صفحہ، 420)
اور (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد قرآن کریم ہے اور یہی صواب کے زیادہ قریب ہے، کیونکہ سابقہ کتابوں کا ذکر جاری نہیں ہے۔ اور اس لیے بھی کہ (آیت) ” الحکیم “۔ قرآن کی صفت ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” الر، کتب احکمت ایتہ “۔ (ہود : 1)
یہ معنی سورة البقرہ : کے اول میں ہوچکا ہے۔ اور (آیت) ” الحکیم “۔ جس کے سات حلال و حرام، حدود اور احکام کے بارے فیصلہ کیا جائے۔ یہ ابو عبیدہ وغیرہ نے کہا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : حکیم بمعنی حاکم ہے، یعنی بیشک یہ حلال و حرام کے بارے فیصلہ کرنے والا ہے اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے۔ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) وانزل معھم الکتب بالحق لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ “۔ (البقرہ : 213) (اور نازل فرمائی ان کے ساتھ کتاب برحق تاکہ فیصلہ کر دے لوگوں کے درمیان جن باتوں میں وہ جھگڑنے لگے تھے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکیم بمعنی محکوم فیہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس میں عدل و احسان کرنے اور ذوالقربی کو دینے کے بارے میں فیصلہ فرمایا اور اس میں فحشاء اور منکر سے نہی کے بارے فیصلہ کیا اور اس کے بارے جنت کا فیصلہ کیا جس نے اطاعت کی اور اس کے بارے جہنم کا فیصلہ کیا جس نے نافرمانی کی، تو یہ فعیل بمعنی مفعول ہے۔ یہ حسن وغیرہ نے کہا ہے۔ اور مقاتل (رح) نے کہا ہے : حکیم بمعنی محکم من الباطل (جو باطل سے محفوظ ہو) ہے اس میں نہ کذب ہے اور نہ اختلاف، یہ فعیل بمعنی مفعل ہے، جیسے اعشی کا قول ہے وہ اپنا وہ قصیدہ بیان کرتا ہے جو اس نے کہا ہے :
وغریبۃ تاتی الملوک حکیمۃ قد قلتھا لیقال من ذا قالھا :
Ayah 10:2آیت نمبر 2۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اکان للناس عجبا “۔ یہ استفہام برائے تقریروتوبیخ ہے۔ اور (آیت) ” عجبا “۔ کان کی خبر ہے اور اس کا اسم (آیت) ” ان اوحینا “۔ ہے اور یہ محل رفع میں ہے : ای کان ایحاؤنا عجبا للناس “۔ (یعنی کیا ہمارا وحی کرنا لوگوں کے لیے باعث تعجب ہے) اور حضرت عبداللہ ؓ کی قرات میں عجب ہے اس بنا پر یہ کان کا اسم ہوگا۔ اور خبر (آیت) ” ان اوحینا “۔ ہوگی۔ (آیت) ” الی رجل منھم “۔ اس کو رجل جیم کے سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اور اس کے سبب نزول کے بارے جو حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کفار نے اس وقت کہا جب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا : بیشک اللہ تعالیٰ اس سے عظیم تر ہے کہ اس کا رسول کوئی بشر ہو۔ (1) (تفسیر ماوردی، جلد 2 صفحہ 421)
اور انہوں نے کہا : ابو طالب کے یتیم کے سوا اللہ تعالیٰ نے کوئی نہیں پایا جسے وہ رسول بنا کر بھیجے تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” اکان للناس عجبا “۔ یعنی کیا اہل مکہ کو تعجب ہوا ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں بعث (بعد الموت) کے ذکر سے تعجب ہوا۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان انذرالناس وبشرالذین امنوا “۔ یہ حرف جار کے اسقاط کے سبب محل نصب میں ہے ای بان انذر الناس۔ اور اسی طرح (آیت) ” ان لھم قدم صدق “ بھی ہے اور نذارت بشارت “ اور آیت کے دوسرے الفاظ کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور (آیت) ” قدم صدق “۔ کے معنی اختلاف ہے پس حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : (آیت) ” قدم صدق “ سے مراد منزل صدق (صدق کی منزل، مرتبہ) ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وقل رب ادخلنی مدخل صدق “۔ (الاسراء : 80)
ٓاور آپ سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد ان اعمال کا اجر حسن ہے جو انہوں نے آگے بھیجے۔ اور یہ بھی مروی ہے : (آیت) ” قدم صدق “۔ کا معنی ذکر اول میں سعادت کا سبقت لے جانا ہے۔ اور یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اور زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی بلند مرتبہ ہے۔ ذوالرمہ نے کہا ہے :
لکم قدم لا ینکر الناس انھا مع الحسب العالی طمت علی البحر :
اس میں قدم بلند مرتبہ کے معنی میں ہی ہے۔
حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی سلف صدق (صحیح کا عمل) ہے (2) (تفسیر ماوردی، جلد 2 صفحہ 421)
ربیع نے کہا ہے : اس کا معنی ثواب صدق (سچ کا ثواب) ہے عطا نے کہا ہے : مراد مقام صدق ہے، یمان نے کہا ہے : مراد ایمان صدق ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد ملائکہ کی دعوت ہے (فرشتون کا دعا کرنا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد وہ صالح بچہ ہے جسے وہ آگے بھیجیں، ماوردی ہے کہا ہے تاکہ صدق طاعت، صدق جزا کے موافق ہوجائے۔ (3) (تفسیر ماوردی، جلد 2 صفحہ 422)
اور حضرت حسن (رح) اور قتادہ (رح) نے بھی کہا ہے : وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ ہیں، کیونکہ آپ شفاعت فرمانے والے ہیں جن کی اطاعت کی گئی ہے آپ ان سے آگے ہوں گے، جیسا کہ آپ نے فرمایا : انافرطکم علی الحوض (4) (صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 127)
(میں تم سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا) تحقیق آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ھی شفاعتی توسلون بی الی ربکم (یہ میری شفاعت ہے تم مجھے اپنے رب کی بارگاہ میں بطور وسیلہ پیش کرو گے) اور ترمذی الحکیم نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مقام محمود پر مقدم کرے گا۔ اور حسن (رح) سے بھی مروی ہے : مراد حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے بارے میں ان کا مصیبت اور تکلیف میں پڑنا ہے۔ اور عبدالعزیز بن یحی نے کہا ہے : (آیت) ” قدم صدق “۔ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
(آیت) ” ان الذین سبقت لھم منا الحسنی، اولئک عنھا مبعدون “۔ (الانبیائ)
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جن کے لیے مقدر ہوچکی ہے ہماری طرف سے بھلائی تو وہی اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔
اور مقاتل نے کہا ہے : مراد وہ اعمال ہیں جنہیں انہوں نے آگے بھیجا۔ اس کا علامہ طبری نے اختیار کیا ہے۔ الوضاح نے کہا ہے :
صل لذی العرش واتخذ قدما تنجیک یوم العشار والزلل :
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا اس امت کو قبروں سے اٹھائے جانے میں اور جنت میں داخل کرنے میں مقدم کرنا ہے، جیسا کہ فرمایا : نحن الاخرون السابقون یوم القیامۃ المقضی لھم قبل الخلائق۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب التوحید، جلد 2، صفحہ 1116)
(ہم بعد میں آنے والے قیامت کے دن سبقت لے جانے والے ہیں ان کے لیے مخلوقات سے پہلے اس کا فیصلہ کردیا گیا ہے) اور اس کی حقیقت یہ ہے یہ عمل صالح میں سعی کرنے سے کنایہ ہے۔ پس اس کو بطور کنایہ قدم سے ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ انعام کا ذکر بطور کنایہ ید (ہاتھ) سے کیا جاتا ہے اور ثنا (تعریف) کو بطور کنایہ لسان (زبان) سے ذکر کیا جاتا ہے۔ اور حضرت حسان ؓ نے بیان کیا ہے :
لنا القدم العلیا الیک وخلفنا لاولنا فی طاعۃ اللہ تابع :
ہمارے لیے تیری طرف عمل صالح کی کوشش کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں ہمارے پیچھے آنے والے پہلوں کے تابع ہیں۔
وہ السابقۃ سے مراد اخلاص فی الطاعۃ لیتے ہیں (2) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 422)
واللہ اعلم۔ اور ابو عبید اور کسائی نے کہا ہے : خیر یا شر میں سے ہر سبقت لے جانے والا عربوں کے نزدیک قدم ہے : کہا جاتا ہے۔ لفلان قدم فی الاسلام (فلاں اسلام میں سبقت لے جانا والا ہے) لہ عندی قدم صدق وقدم شر وقدم خیر (اس کی میرے نزدیک سچ میں سبقت ہے اور شر میں سبقت ہے اور خیر میں سبقت ہے)
یہ لفظ مونث ہے اور کبھی مذکر ذکر کیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے : قدم حسن اور قدم صالحۃ۔ اور ابن الاعرابی نے کہا ہے : القدم سے مراد شرف میں آگے بڑھنا ہے عجاج نے کہا ہے :
زل بنو العوام عن آل الحکم وترکوا الملک لملک ذی قدم :
اور صحاح میں ہے کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے فرمایا : ” میرے پانچ اسماء ہیں : میں محمد اور احمد ﷺ ہوں، میں وہ ماحی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کفر کو مٹا دے گا اور میں وہ حاشر ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں میں اٹھایا جائے گا اور میں عاقب ہوں “ (3) (صحیح بخاری، کتاب المناقب، جلد 1، صفحہ 501۔ 500)
اس سے مراد آخرالانبیاء (تمام انبیاء سے آخر میں آنے والا) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” خاتم النبین “۔ (الاحزاب : 40)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قال الکفرون ان ھذا لسحر مبین “۔ ابن محیصن، ابن کثیر، کو فیوں، عاصم، حمزہ، کسائی، خلف اور اعمشرحمۃ اللہ علیہمان تمام نے لساحر پڑھا ہے اس لیے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی صفت ہے اور باقیوں نے لسحر پڑھا ہے اس لیے کہ یہ قرآن کی صفت ہے۔ سحر کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 10:3آیت نمبر : 3۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش “۔ اس کی تفسیر سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ (آیت) ” یدبر الامر “۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہ اکیلے ہر کام کا فیصلہ کرتا ہے اور اس کو مقرر کرتا ہے۔ (1) المحررالوجیز، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 104)
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اپنی خلق کی تدبیر میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ امر کے ساتھ بھیجتا ہے۔ یہ قول بھی ہے وہ امر کے سات نازل کرتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ ہر کام کے بارے حکم دیتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے۔ یہ تمام معانی باہم متقارب ہیں، پس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی کے لیے حضرت میکائیل (علیہ السلام) بارش کیلیے، حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکنے کے لیے اور حضرت عزرائیل (علیہ السلام) (روح) قبض کرنے کے لیے مقرر ہیں۔ اور (آیت) ” یدبرالامر “۔ کا حقیقی معنی امور کو ان کے انجام کے احکام کی بنا پر ان کے مراتب پر رکھنا ہے اور یہ الدبر سے مشتق ہے اور الامر جنس امور کا اسم ہے، (آیت) ” ما من شفیع “ یہ محل فعل میں ہے رفع میں ہے اس کا معنی ما شفیع (کوئی شفاعت کرنے والا نہیں) ہے۔
(آیت) ” الا من بعد اذنہ “۔ شفاعت کا معنی سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ فلا یشفع احد نبی ولا غیرہ الا باذنہ سبحانہ۔ (پس کوئی نبی شفاعت نہیں کرسکے گا اور نہ کوئی اور مگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اجازت کے ساتھ) یہ کفار کے اس قول کا رد ہے جو انہوں نے ان کے بارے کہا جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے تھے : (آیت) ” ھؤلآء شفعآؤنا عند اللہ “۔ (یونس : 18) (یہ اللہ کے پاس ہماری شفاعت کرنے والے ہوں گے) پس اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ فرما دیا کہ اس کی اجازت کے بگیر کوئی کسی کی شفاعت نہیں کرسکے گا پس بتوں کی شفاعت کیسے ممکن ہو سکتی ہے جو عقل ہی نہیں رکھتے ؟
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ذلکم اللہ ربکم فاعبدوہ “۔ یعنی یہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں سے یہ کام کیے ہیں یہی تمہارا رب ہے اس کے سوا تمہارا کوئی رب نہیں۔ (آیت) ” فاعبدوہ “۔ پس تم اسے وحدہ لا شریک مانو اور اسی کے لیے عبادت کو خالص کرو۔ (آیت) ” افلا تذکرون “۔ تو کیا تم غور وفکر نہیں کرتے کہ یہ اس کی مخلوقات ہیں پس تم ان سے اس کی ذات پر استدلال کرو۔
Ayah 10:4آیت نمبر : 4 :
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الیہ مرجعکم “۔ یہ مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے۔ (آیت) ” جمیعا “ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور رجوع الی اللہ کا معنی اس کی جزا کی طرف لوٹنا ہے۔ (آیت) ” وعداللہ حقا “۔ یہ دونوں مصدر ہیں، یعنی وعداللہ ذالک وعدا وحققہ، حقا، صدقا لا خلف فیہ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرما رکھا ہے اور اس نے اسے سچ ثابت کیا ہے اس میں اس کا خلاف قطعا نہیں۔ اور ابراہیم بن ابی عبلہ نے (آیت) ” وعداللہ حق “۔ پڑھا ہے اور اس استیناف پر محمول کیا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” انہ یبدؤاالخلق “۔ بیشک وہی مٹی سے پیدائش کی ابتداء کرتا ہے، (آیت) ” ثم یعیدہ “۔ پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے گا۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہی اسے پیدا کرتا ہے پھر وہی اسے مارتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھانے کے لیے اسے زندہ کرے گا (1)
بے شک وہی اسے پانی سے پیدا کرتا ہے پھر اسے ایک حال سے دوسرے حال کی طرف لوٹاتا ہے۔
یزید بن قعقاع نے (آیت) ” انہ یبدا الخلق “ پڑھا ہے اس میں ان محل نصب میں ہوگا، ای وعدکم انہ یبدا الخلق “۔ (کیونکہ وہی پیدائش کی ابتداء کرتا ہے) جیسے کہا جاتا ہے : لبیک ان الحمد والنعمۃ لک اور اس میں کسرہ عمدہ ہے اور فراء نے جائز قرار دیا ہے کہ ان محل رفع میں ہو اور وہ اسم ہو۔ احمد بن یحییٰ نے کہا ہے : تقدیر کلام یہ ہوگی حقا ابداؤہ الخلق اس کی پیدائش کی ابتداء کرنا حق ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت بالقسط “۔ تاکہ وہ انہیں عدل کے ساتھ جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ (آیت) ” والذین کفروا لھم شراب من حمیم “۔ یعنی کافروں کے لیے ایسا گرم پانی ہوگا جس کی گرمی اپنی انتہاء کو پہنچی ہوگی، الحمیمۃ بھی اسی کی مثل ہے۔ کہا جاتا ہے : حممت الماء احمہ فھو حمیم، ای محموم، یہ فعیل بمعنی مفعول ہے۔ (سخت گرم کیا ہوا) اور عربوں کے نزدیک ہر گرم کی ہوئی شی حمیم کہلاتی ہے۔ (آیت) ” و عذاب الیم “۔ یعنی انکے کفر کے سبب (یہ عذاب ہوگا) بڑے بڑے قریش یہ اعتراف کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے، پس ان کے خلاف اس سے استدلال کیا ہے اور فرمایا ہے : جو ابتداء پر قادر ہے وہ فنا کرنے کے بعد یا اجزاء کو متفرق کرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔
Ayah 10:5آیت نمبر : 5۔
قولہ تعالیٰ : تعالیٰ : (آیت) ” ھوالذی جعل الشمس ضیآء “۔ یہ دونوں (الشمس اور ضیائ) مفعول ہیں، ضیاء بمعنی مضیۃ (روشن کرنے والا) اور اسے مونث ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ مصدر ہے، یا پھر یہ بمعنی ذات ضیاء ہے (روشنی والا) (آیت) ” والقمر نورا “۔ یہ ماقبل پر معطوف ہے۔ یہ بھی نور بمعنی منیرا یا ذانور ہے (نور والا) پس ضیاء سے مراد وہ روشنی ہے جو چیزوں کو روشن کردیتی ہے، اور نور وہ ہے جو ظاہر ہوتا ہے اور چھپ جاتا ہے کیونکہ یہ ایک ہی اصل نار سے ہے، اور ضیاء ضؤ کی جمع ہے، جیسا سیاط سوط (کوڑا) کی جمع ہے اور حیاض حوض کی جمع ہے قنبل نے ابن کثیر سے ضئا یا کو حمزہ سے بدل کر پڑھا ہے اور اس کی کوئی وجہ نہیں ہے، کیونکہ اس کی یاء واؤ مفتوحہ تھی اور یہ فعل کا عین کلمہ ہے، اس کی اصل ضواء ہے پھر اس میں قلب کیا گیا اور اسے یاء بنادیا گیا جیسا کہ صیام اور قیام میں کیا گیا ہے، مہدوی نے کہا ہے : جس نے ضئاء ہمزہ کے ساتھ پڑھا تو وہ قلب کیا گیا ہے، الف کے بعد والے ہمزہ کو مقدم کیا گیا تو وہ الف زائدہ کے بعد واقع ہے۔ اسی طرح اگر تو مقدر مان لے کہ یاء جس وقت مؤخر ہو تو وہ اس واؤ کی طرف لوٹ جائیگی جس سے وہ بدلی تھی۔ اور پھر وہ بھی ہمزہ سے بدل جائے گی پس اس کا وزن فلاع ہے جو فعال سے مقلوب ہے، اور کہا جاتا ہے : بیشک سورج اور چاند ان دونوں کے چہرے سات آسمانوں کے باسیوں کو اور ان کی پستیں سات زمینوں کے رہنے والوں کو روشن کرتی ہیں۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وقدرہ منازل “۔ یعنی اس کو منزلوں والا بنایا یا اس کی منزلیں مقرر کیں، پھر کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وقدرھما (یعنی دونوں کے لیے منزلیں مقرر کیں) لیکن ایجاز واختصار کے لیے ضمیرواحد ذکر کی، جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : (آیت) ” واذا راواتجارۃ او لھو انفضوا الیھا “۔ (الجمعۃ : 11) (اور (بعض لوگوں نے) جب دیکھا کسی تجارت یا تماشا کو تو بکھر گئے اس کی طرف) اور جیسا کہ کسی شاعر نے کہا :
نحن بما عندنا وانت بما عندک راض والرای مختلف :
ہم اس کے ساتھ راضی ہیں جو ہمارے پاس ہے اور تو اس کے ساتھ راضی ہے جو تیرے پاس ہے اور رائے مختلف ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ اکیلے چاند کے بارے میں خبر ہو، کیونکہ اسی کے ساتھ ان مہینوں کو شمار کیا جاتا ہے جن پر معاملات وغیرہ میں عمل ہوتا ہے جیسا کہ سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے اور سورة یاسین میں ہے : (آیت) ” والقمر قدرنہ منازل “۔ (یسین : 39) یعنی مہینے کے عدد پر اس کی منزلیں مقرر کیں اور وہ اٹھائیس منزلیں ہیں، اور دو دو (اس کے) نقصان (کم ہونے) اور محاق (دکھائی نہ دینے) کے لیے ہیں۔ اس کا تفصیلی بیان وہاں آئے گا۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” لتعلموا عدد السنین والحساب “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ دو سورج بناتا ایک سورج دن کے لیے اور ایک سورج رات کے لیے تو ان دونوں میں نہ تاریکی ہوتی اور نہ رات، نہ سالوں کی گنتی اور مہینوں کا حساب معلوم ہوتا۔ اور (آیت) ” السنین “ کی واحد سنۃ ہے۔ اور بعض کہتے ہیں : سنھات ہے اور تصغیر سنیۃ اور سنیۃ ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ما خلق اللہ ذلک الا بالحق “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق سے محض حکمت اور صواب کا ارادہ کیا ہے اور اپنی صنعت و حکمت کے اظہار کے لیے اور اپنی قدرت اور اپنے علم پر دلالت کرنے کے لیے ایسا کیا اور تاکہ ہر نفس کو اس کی جزا دی جائے جو اس نے کمایا اور یہی حق ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” یفصل الایت لقوم یعلمون “۔ آیات کی تفصیل سے مراد ان کی تبیین اور وضاحت کرنا ہے تاکہ ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر استدلال کیا جائے، اس لیے کہ رات اپنی تاریکی کے ساتھ اور دن اپنی روشنی کے ساتھ خاص ہے لیکن نہ یہ ان دونوں کا استحقاق ہے اور نہ اللہ کریم پر واجب ہے، پس یہ ان کے لیے اس پر دلیل ہے کہ یہ مرید (ارادہ کرنے والے) کے ارادہ سے ہوا ہے۔ اور ابن کثیر، ابو عمرو، حفص اور یعقوب نے یفصل یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے ہی اختیار کیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ما خلق اللہ ذلک الا بالحق “۔ اور اس کے بعد یہ ہے : (آیت) ” وما خلق اللہ فی السموت والارض “۔ پس یہ اس کے تابع ہوگا، اور ابن السمیقع نے تفصل تاء کے ضمہ اور صاد کے فتحہ کے ساتھ فعل مجہول پڑھا ہے۔ اور (آیت) ” الایت “ کو مرفوع پڑھا ہے اور باقیوں نے تعظیم کی بناء پر نون کے ساتھ نفصل پڑھا ہے۔
Ayah 10:6آیت نمبر : 6۔
سورۃ البقرہ میں اس کا معنی ومفہوم گزر چکا ہے تحقیق کہا گیا ہے : بیشک اس کا سبب نزول یہ ہے کہ اہل مکہ نے علامت ونشانی کے بارے سوال کیا تو انہیں جواب یہ دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مصنوعات میں تامل اور نظر وفکر کریں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے (آیت) ” لقوم یتقون “۔ یعنی اس قوم کے لیے جو شرک سے بچتے ہیں، پس جس نے شرک کا ارتکاب کیا اور راہنمائی حاصل نہ کی تو پھر یہ نشانی (آیت) اس کے لیے نشانی نہیں ہے۔
Ayahs 10:7–8آیت نمبر 7 تا 8۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین لا یرجعون لقآء نا “ اس میں یرجعون “۔ معنی یخافون ہے یعنی بیشک وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اسی معنی میں شاعر کا قول بھی ہے :
اذا لسعتہ النحل لم یرج لسعھا وخالفھا فی بیت نوب عواسل : (1) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 423)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” یرجعون “۔ بمعنی یطمعون ہے بیشک وہ لوگ جو حرص اور طمع نہیں رکھتے اور اس معنی میں ایک دوسرے شاعر کا قول ہے :
ایرجو بنو مردان سمعی وطاعتی وقومی تمیم والغلاۃ ورائیا (2) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 423)
پس رجاء خوف اور طمع کے معنی میں ہوتا ہے، یعنی نہ وہ سزا سے درتے ہیں اور نہ ثواب کی حرص رکھتے ہیں، اور عذاب اور ثواب سے ملنے کو ان دونوں کو تفخیم کی خاطر لقاء اللہ سے تعبیر کیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لقاء اپنے ظاہر معنی پر بھی جاری ہے اور وہ رؤیت (دیکھنا) ہے یعنی وہ جو ہماری رؤیت کی حرص اور طمع نہیں رکھتے، اور بعض علماء نے کہا ہے : رجاء خوف کے معنی میں واقع نہیں ہوتا مگر جب انکار کے ساتھ ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” مالکم لا ترجعون للہ وقارا “۔ (نوح) اور بعض نے یہ کہا ہے : بلکہ ہر جگہ اس معنی میں واقع ہو سکتا ہے یہ معنی اس پر دلیل ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ورضوا بالحیوۃ الدنیا “۔ یعنی وہ آخرت کے عوض اس دنیوی زندگی سے خوش و خرم ہیں پس انہوں نے اسی کے لیے عمل کیے۔ (آیت) ” واطمانوا بھا “۔ یعنی وہ اس کے ساتھ خوش ہوگئے اور اسی میں راحت و سکون پالیا، اطمان کی اصل طامن طمانینۃ ہے پس اس کی میم کو مقدم کیا گیا اور نون اور الف وصل (ہمزہ وصل) زائد کردیا گیا، اسے غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ (آیت) ” والذین ھم عن ایتنا “۔ اور وہ لوگ جو ہمارے دلائل سے (آیت) ” غفلون “۔ غفلت برتتے ہیں یعنی نہ وہ ان کا اعتبار کرتے ہیں اور نہ ان میں غور وفکر کرتے ہیں۔ (آیت) ” اولئک ماوھم “۔ ان کا ٹھکانا اور ان کا مقام (آیت) ” النار بما کانوا یکسبون “۔ دوزخ ہے بسبب کفر اور تکذیب کے جس کا ارتکاب وہ کرتے ہیں۔
Ayah 10:9آیت نمبر : 9۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین امنوا ‘۔ یقینا وہ لوگ جنہوں نے تصدیق کی۔ (آیت) ” وعملوا الصلحت یھدیھم ربھم بایمانھم “ اور نیک عمل کیے ان کے لیے ان کا رب ہدایت میں اضافہ فرما دے گا، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی “۔ (محمد 17) (اور جو لوگ راہ ہدایت پر چلے اللہ تعالیٰ بڑھا دیتا ہے ان کے نور ہدایت کو)
اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” یھدیھم ربھم بایمانھم “۔ ان کے ایمان کے باعث ان کا رب ان کی رہنمائی ایسے مکان کی طرف کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور ابو روق نے کہا ہے : ان کے ایمان کے باعث ان کا رب ان کی رہنمائی جنت کی طرف کر دے گا، اور عطیہ نے کہا : یھدیم وہ انہیں ثواب اور جزا دے گا۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یھدیھم ربھم ان کا رب نور کے ساتھ پل صراط پر ان کی رانمائی کرے گا اور کافر کا عمل انتہائی قبیح صورت میں اس سے ملے گا پس وہ اسے وحشت زدہ کر دے گا اور اسے گمراہ کر دے گا “ (2۔ تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 24۔ 423 ) ۔ یہ حدیث کا معنی ہے۔ اور ابن جریج نے کہا ہے : ان کا رب ان کے عمل کو ان کے لیے ہادی بنا دے گا۔ اور حسن نے کہا ہے : یھدیھم، یرحمہم کے معنی میں ہے) یعنی ان کا رب ان پر رحم فرمائے گا)
قولہ تعالیٰ : آیت : تجری من تحتھم الانھر کہا گیا ہے کہ کلام میں واو محذوف ہے، ای وتجری من تحتھم یعنی ان کے باغوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کے تختوں اور محلات کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور سیر و تفریح اور کشادگی میں یہی احسن ہے۔
Ayah 10:10آیت نمبر : 10
قولہ تعالیٰ : آیت : دعوھم فیھا سبحنک اللھم، دعوھم یعنی ان کی پکار (اور دعا) اور الدعوی دعایدعو کا مصدر ہے، جیسا الشکوی شکایش کو کا مصدر ہے، یعنی جنت میں ان کی دعا اور پکار یہ ہوگی کہ وہ کہیں گے پاک ہے تو اے اللہ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جب وہ کوئی چیز مانگنے کا ارادہ کریں گے تو وہ سوال لفظ تسبیح سے شروع کریں گے اور اسے حمد کے ساتھ ختم کریں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پکار اور ندا خدام کو ہوگی تاکہ وہ ان کے پاس وہ چیز لے کر آئیں جو ان کی خواہش اور چاہت ہے، پھر وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے۔ اور یہ قول بھی ہے : بیشک یہاں دعا تمنی ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ولکم فیھا ما تدعون (حم السجدہ) ای ما تتمنون ( اور تمہارے لیے اس میں وہ ہوگا جس کی تم تمنا اور خواہش کرو گے) ۔ واللہ اعلم
قولہ تعالیٰ : آیت : وتحیتھم فیھا سلم یعنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی دعا یا فرشتے کی دعا یا ان میں سے بعض کی بعض کے لیے دعا یہ ہوگی کہ ” سلامتی ہو “ اور تحیہ کا مکمل مفہوم سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ والحمد للہ
قولہ تعالیٰ : آیت : واخردعوھم ان الحمد للہ رب العلمین
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ کہا گیا ہے : بیشک اہل جنت کے پاس سے جب کوئی پرندہ گزرے گا اور وہ اس کی خواہش کریں گے تو کہیں گے : سبحنک اللھم (پاک ہے تو اے اللہ ! ) تو فرشتہ اسے ان کے پاس ان کے پاس لے آئے گا جس کی انہوں نے خواہش کی ہوگی، پس جب وہ کھا چکیں گے تو اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کریں گے پس ان کا سوال لفظ تسبیح کے ساتھ ہوگا اور اس کا اختتام لفظ حمد کے ساتھ ہوگا۔ اور ابو عبید نے ان کو تخفیف کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کے مابعد کو رفع دیا ہے۔ فرمایا : بلاشبہ ہم نے انہیں دیکھا ہے انہوں نے اسے اختیار کیا ہے اور انہوں نے اس کے درمیان اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے درمیان فرق کیا ہے : ان لعنت اللہ (النور : 7) اور ان غضب اللہ (النور : 9) کیونکہ انہوں نے حکایت کا ارادہ کیا ہے جس وقت کہا جائے گا الحمد للہ۔
نحاس نے کہا ہے : خلیل اور سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ ان مخففہ من الثقیلہ ہے اور اس کا معنی ہے انہ الحمدللہ۔ محمد بن یزید نے کہا ہے کہ ان الحمد للہ بھی جائز ہے اس میں خفیہ ثقیلہ کے عمل کی طرح عمل کرتا ہے، لیکن رفع عمدہ اور زیادہ بہتر ہے۔ نحاس نے کہا ہے : ابو حاتم نے بیان کیا ہے کہ بلال بن ابی بردہ نے آیت : واخردعوھم ان الحمد للہ رب العلمین پڑھا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ ابن محیص کی قراءت ہے، اسے غزنوی نے بیان کیا ہے کیونکہ وہ ان سے بیان کرتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2۔ سبحان اللہ، الحمد للہ اور لا الہ الا اللہ کو دعا کا نام دیا جا رہا ہے۔ مسلم اور بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مصیبت اور کرب کے وقت کہا کرتے تھے : لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم، لا الہ الا اللہ رب العرش العظیم، لا الہ الا اللہ رب السموات ورب الارض ورب العرش الکریم (1۔ صحیح بخاری، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 939) علامہ طبری نے کہا ہے : سلف اس دعا کے ساتھ پکارتے تھے اور دعاء الکرب کا نام دیتے تھے۔ اور ابن عیینہ نے کہا ہے اس حال میں کہ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : کیا تو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” جب میرے بندے کو مجھ سے کچھ مانگنے سے ثناء مشغول رکھتی ہے تو میں اسے اس سے افضل اور بہتر عطا فرماتا ہوں جو میں سوال کرنے والوں کو عطا کرتا ہوں “۔ اور وہ چیز جس سے جھگڑا ختم ہوجاتا ہے اور یہ کہ اس کا نام دعا رکھا جاتا ہے اگرچہ اس میں دعا کے معنی کی کوئی شے نہیں ہے تو بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے لیے ہے اور اس کی ثنا اور تعریف کی بنا پر ہے، جیسا کہ وہ روایت جسے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے روایت کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یہ مچھلی والے کی دعا ہے جب انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ مچھلی کے پیٹ میں دعا کی آیت : لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین (الانبیائ) پس اب کوئی مسلمان ان الفاظ کے ساتھ کسی شے کے بارے میں ہر گز دعا نہیں کرے گا مگر اس کی دعا قبول کی جائے گی (1) ۔
مسئلہ نمبر 3۔ یہ سنت میں سے ہے کہ جو بندہ کھانا شروع کرے تو وہ اہل جنت کی اقتداء کرتے ہوئے کھانے، پینے کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے اور جب اس سے فارغ ہو تو الحمد للہ کہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی اور خوش ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھاتا ہے تو وہ اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے یا ایک گھونٹ پانی پیتا ہے تو وہ اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے “ (2) ۔
مسئلہ نمبر 4۔ دعا مانگنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی دعا کے آخر میں اسی طرح کہے جو اہل جنت کہیں گے۔ ان کی پکار یہ ہوگی کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے اور بہت خوب ہے کہ وہ سورة والصافات کی آخری آیات پڑھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور پاکی کو جامع ہیں ان چیزوں سے جو اس کیطرف منسوب کی گئی ہیں۔ اور مرسلین پر سلام بھیجنے کو اور اختتام الحمد للہ رب العالمین کے ساتھ ہے۔
Ayah 10:11آیت نمبر : 11
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولو یعجل اللہ للناس الشر کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو سزا دینے میں جلدی کرتا جیسے وہ ثواب اور بھلائی کے لیے جلد بازی کرتے ہیں تو وہ یقینا مر چکے ہوتے، کیونکہ وہ دنیا میں ضعیف اور کمزور مخلوق کی صورت میں پیدا کیے گئے ہیں اور قیامت کے دن وہ اس طرح نہ ہوں گے، کیونکہ قیامت کے دن انہیں باقی رہنے کے لیے تخلیق کیا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ مکروہ اور تکلیف دہ دعا کو قبول کرنے میں اسی طرح کرتا جیسے وہ چاہتے ہیں کہ خیر اور بھلائی کی دعا قبول کرنے میں وہ ان کے ساتھ کرے تو یقینا وہ انہیں ہلاک کرچکا ہوتا۔ اور آیت : لقضی الیھم اجلھم کا معنی یہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ کافر کے ساتھ خاص ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ کافر کو اس کے کفر پر عذاب دینے میں جلدی کرتا جیسا کہ اس نے اس کو مال اور اولاد میں سے دنیا کی بھلائی عطا کرنے میں جلدی کی ہے تو یقینا وہ اس کے لیے اس کی میعاد پوری کرنے میں جلدی کرتا تاکہ وہ آخرت کے عذاب کو جلدی پائے۔ یہ ابن اسحاق نے کہا ہے (تفسیر ماوردی، سوری یونس، جلد 2، صفحہ 425 ) ۔
مقاتل نے کہا ہے : وہ نضر بن حارث کا یہ قول ہے : اے اللہ ! اگر یہی تیری طرف سے سچ ہو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، پس اگر اللہ تعالیٰ ان کے لیے اس کی جلدی کرتا تو یقینا وہ ہلاک ہوجاتے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ آیت ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اپنی ذات یا اپنے مال یا اپنی اولاد کو بدعا دیتا ہے جب وہ غصے میں ہوتا ہے : اے اللہ اسے ہلاک کر دے، اے اللہ ! اس کے لیے اس میں برکت نہ دے اور اس پر لعنت بھیج یا اسی طرح کی اور بددعائیں (2۔ تفسیر طبری، سورة یونس، جلد 11، صفحۃ 108) ۔ پس اگر اسے اس کی طرف سے قبول کرلیا جائے جیسے خیر اور بھلائی کی دعا کو قبول کیا جاتا ہے تو ان کی میعاد پوری کردی گئی ہوتی۔ پس یہ آیت اخلاق ذمیمہ کی مذمت کرنے کے لیے نازل ہوئی۔ یہ ان بعض لوگوں کے بارے میں ہے جو خیر اور بھلائی کی دعا کرتے ہیں اور اس کی جلدی قبولیت کی خواہش رکھتے ہیں پھر کبھی کبھار بداخلاقی انہیں شر کے بارے دعا پر ابھارتی ہے۔ پس اگر وہ ان کے لیے (اس کے بارے) جلدی کرتا تو وہ یقینا ہلاک ہوجاتے۔
مسئلہ نمبر 2۔ اس دعا کی قبولیت میں اختلاف کیا گیا ہے۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” بیشک میں نے اللہ تعالیٰ عزوجل سے التجا کی ہے کہ وہ کسی دوست کی دعا اپنے دوست کے خلاف قبول نہ کرے “۔ اور شہر بن حوشب نے کہا ہے : میں نے بعض کتب میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ملائکہ کو فرماتا ہے جو بندوں پر مقرر کیے گئے ہیں : تم میرے بندے کے خلاف اس حال میں کچھ نہ لکھو جو اسے غمزدہ کر کے کسی شی پر مجبور کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس پر لطف و عنایت ہے۔
بعض نے کہا ہے : کبھی ایسی دعا قبول کرلی جاتی ہے۔ اور انہوں نے حضرت جابررضی ؓ نے بیان کیا : ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں غزوہ بطن بواط (بواط جہینہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے) میں چلے اور آپ مجدی بن عمرو جہنی کو تلاش کر رہے تھے اور ہم میں سے پانچ، چھ یا ساتھ آدمیوں کے پاس ایک اونٹ تھا اور ہم باری باری اس پر سوار ہوتے تھے، پس انصار، میں سے ایک آدمی کی باری اونٹ پر سوار ہونے کی آئی پس اس نے اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہوگیا، پھر اس نے اسے اٹھایا اس نے توقف کیا اور نہ اٹھا۔ پس اس نے اسے کہا : شاء (یعنی اونٹ کو جھڑکا) اللہ تعالیٰ تجھ پر لعنت کرے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اپنے اونٹ کو لعنت کرنے والا کون ہے “ ؟ اس نے کہا : میں ہوں یا رسول اللہ ﷺ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تو اس سے نیچے اتر آ اور تو ملعون کے ساتھ ہمارے ساتھ نہ چل۔ تم نہ بددعا دو اپنی ذاتوں کو اور نہ بددعا دو اپنی اولاد کو اور نہ بددعا کرو اپنے مالوں کے لیے تم اللہ تعالیٰ سے ایسی ساعت میں موافقت نہ کرو کہ جس میں اس سے عطا کا سوال کیا جاتا ہے اور تمہارے لیے وہ اسے قبول فرما لیتا ہے “ (3۔ صحیح مسلم، کتاب الزہد، جلد 2، صفہ 416) ۔
کتاب مسلم کے علاوہ کسی اور میں ہے کہ حضسور نبی مکرم ﷺ ایک سفر میں تھے تو ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کو لعنت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :” کہاں ہے وہ جس نے اپنی ناقہ پر لعنت کی ہے ؟ “۔ تو اس آدمی نے کہا : میں یہ ہوں یا رسول اللہ ! ﷺ ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :” تو اسے اپنے پیچھے چھوڑ دے تحقیق اس کے حق میں تیری بددعا قبول ہوچکی ہے “۔ اسے حلیمی نے منہاج الدین میں ذکر کیا ہے، شا، یہ لفظ سین اور شین دونوں کے ساتھ روایت کیا جاتا ہے اور اس کا معنی اونٹ کو جھڑکنا ہے اور یہ بمعنی سر (تو چل) ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولو یعجل اللہ علماء نے بیان کیا ہے کہ تعجیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور استعجال (عجلت کا مطالبہ) بندے کی جانب سے ہوتا ہے۔ اور ابو علی نے کہا ہے : یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ اور کلام میں حذف ہے ای ولو یعجل اللہ للناس الشر تعجیلا مثل استعجالھم بالخیر (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو شر پہچانے میں اتنی ہی جلدی کرے جیسے وہ انہیں خیر اور بھلائی پہنچانے کے لیے جلدی کرتا ہے) پھر تعجیلا کو کلام سے حذف کردیا گیا ہے اور اس کی صفت کو اس کے قائم مقام رکھ دیا، پھر اس کی صفت کو حذف کردیا اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام رکھ دیا۔ یہ خلیل اور سیبویہ کا مذہب ہے۔ اور اخفش اور فراء کے قول کے مطابق یہ کا ستعجالھم ہے پھر کاف کو حذف کردیا اور اسے نصب دے دی۔ فراء نے کہا ہے : جیسے تو کہتا ہے : ضربت زیدا ضربک ای کضربک ( یعنی اس میں کاف کو حذف کیا گیا ہے)
اور ابن عامر نے آیت : لقضی الیھم اجلھم پڑھا ہے اور یہ قراءت عمدہ ہے کیونکہ اس قول کے ساتھ متصل ہے : آیت : ولو یعجل اللہ للناس الشر۔
قولہ تعالیٰ : آیت : فنذر الذین لا یرجون لقاء نا یعنی وہ انہیں شر پہنچانے میں جلدی نہیں کرتا بسا اوقات ان میں سے کوئی توبہ کرنے والا توبہ کرلیتا ہے یا ان کی پشتوں سے کوئی مومن پیدا ہوتا ہے۔ آیت : فی طغیانھم یعمھون تاکہ وہ اپنی سرکشی میں متحیر رہیں۔ طغیان کا معنی بلندی اور رفعت ہے۔ یہ سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں اہل مکہ مراد ہیں۔ اور یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے یہ کہا : آیت : اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک الایہ (الانفال : 32) جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، واللہ اعلم
Ayah 10:12آیت نمبر : 12
قولہ تعالیٰ : آیت : واذامس الانسان الضر دعانا لجنبہ کہا گیا ہے کہ یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ابو حذیفہ بن مغیرہ مشرک ہے، اسے کوئی تکلیف، شدت اور مشقت پہنچتی تھی۔ آیت : دعانا لجنبہ وہ ہمیں پکارتا اپنے پہلو پر لیٹے ہوئے۔
آیت : او قا عدا اوقائما (یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے ہو) اس سے مراد اس کے جمیع حالات ہیں، کیونکہ انسان ان تین حالات میں سے کسی ایک سے بھاگ نہیں سکتا (1۔ معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 142 ) ۔ بعض نے کہا ہے : بیشک آغاز لینے سے کیا ہے کیونکہ اسے امر غالب میں جتنی شدید ترین ہوتی ہے، تو وہ اتنا زیادہ پکارتا ہے اور اس کی کوشش میں بھی اتنی ہی شدید ہوتی ہے، پھر بیٹھنے کا ذکر کیا اور پھر کھڑے ہونے کا۔
آیت : فلما کشفنا عنہ ضرہ مر پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو چل دیتا ہے یعنی اپنے کفر پر برقرار رہتا ہے اور شکر ادا نہیں کرتا اور نہ ہی نصیحت حاصل کرتا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ بہت سے مخلوط موحدین کی صفت ہے، جب اسے عافیت پہنچتی ہے تو وہ گناہوں کی اس روش پر چل دیتا ہے جس پر وہ پہلے تھا۔ پس یہ آیت کافر اور غیر کافر تمام کو عام ہے۔ آیت : کان لم یدعنا اخفش نے کہا : یہ کان ثقیلہ سے مخففہ بنایا گیا ہے اور اس کا معنی کا نہ ہے اور یہ شعر بھی بیان کیا ہے
وی کان من یکن لہ نشب یحبب ومن یفتقر یعش عیش ضر
آیت : کذلک زین یعنی جس طرح اس کے لیے تکلیف اور آزمائش کے وقت دعا کو اور آسودگی اور خوشحالی کے وقت اعراض کو آراستہ کیا گیا۔ آیت : زین للمسرفین اسی طرح مشرکوں کے لیے کفرومعاصی میں سے ان کے اعمال آراستہ کردیئے گئے۔ اور اس تزیین کے بارے میں یہ بھی جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہو۔ اور اس کا گمراہ کرنا اس کا کفر کی طرف دعوت دینا ہے۔
Ayah 10:13آیت نمبر : 13۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ولقد اھلکنا القرون من قبلکم لما ظلموا یعنی جب اہل مکہ سے قبل گزشتہ امتوں نے زیادتیاں کیں تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ آیت : لماظلموا یعنی جب انہوں نے کفر اور شرک کیا۔ آیت : وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پاس ان کے رسول آئے واضح معجزات اور روشن دلیلیں لے کر۔ آیت : وماکانوا لیومنوا یعنی ہم نے انہیں ہلاک کردیا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو گزشتہ امتوں کے عذاب سے ڈرا رہا ہے، یعنی ہم ان کے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو جھٹلانے کے سبب انہیں ہلاک کرنے پر قادر ہیں لیکن ہم انہیں مہلت دے رہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں وہ بھی ہیں جو ایمان لے آئیں گے یا ان کی صلبوں سے وہ نکلیں گے جو ایمان لائیں گے۔ یہ آیت ان گمراہ لوگوں کا رد ہے جو ہدایت اور ایمان کے مخلوق ہونے کا قول کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت : ماکانوا لیومنوا کا معنی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر پر انہیں جزا یہ دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : کذلک نجزی القوم المجرمین۔
Ayah 10:14آیت نمبر : 14
قولہ تعالیٰ : آیت : ثم جعلنکم خلئف (کم اور خلائف) دونوں مفعول ہیں۔ اور الخلائف خلیفہ کی جمع ہے اور اس کا ذکر سورة انعام کے آخر میں گزر چکا ہے، یعنی ہم نے تمہیں زمین میں سکونت اختیار کرنے والا بنایا۔ من بعدھم یعنی ہلاک ہونے والے بستیوں کے بعد۔ لننظر یہ لام کی کے سبب منصوب ہے۔ اور اس کی نظائر اور مثالیں پہلے گزر چکی ہیں، یعنی تاکہ تم سے وہ عمل واقع ہو جس کے سبب تم ثواب اور عقاب کے مستحق بن جاؤ گے اور وہ اسے مسلسل غیب جانتا رہا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تاکہ وہ تمہارے ساتھ اظہار عدل کے لیے مخیر ( امتحان لینے والا) کے معاملہ کرے۔ اور یہ قول بھی ہے : نظر کی نسبت رسل کے طرف ہے، یعنی تاکہ ہمارے رسول اور ہمارے اولیاء دیکھ لیں تمہارے اعمال کیسے ہیں۔ اور کیف تعملون کے سبب منصوب ہے، کیونکہ استفہام کے لیے صدر کلام ضروری ہے اور اس کا ماقبل اس میں عمل نہیں کرسکتا۔
Ayah 10:15آیت نمبر : 15۔
اس آیت میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایاتنا “۔ تتلی یعنی تقرء (اور جب ان پر پڑھی جاتی ہیں ہماری آیات) اور بینات حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے یعنی واضح اور بین آیتیں جن میں نہ کوئی التباس ہے اور نہ کوئی اشکال۔ (آیت) ” قال الذین لا یرجون لقآء نا “۔ یعنی جو نہ یوم بعث اور حساب سے ڈرتے ہیں اور نہ ثواب کی امید رکھتے ہیں (نہ کہنے لگتے ہیں)
حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : مراد مکہ کے رہنے والے مشرک ہیں (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 144)
(آیت) ” ائت بقران غیر ھذا او بدلہ “۔ اس میں تبدیلی کرنے اور اس کے علاوہ دوسرا (قرآن) لانے میں فرق یہ ہے کہ اس کو تبدیل کرنے میں یہ جائز نہیں کہ یہ اس کے ساتھ ہو اور اس کے علاوہ دوسرا (قرآن) لانے میں یہ جائز ہو سکتا ہے کہ یہ اس کے ساتھ ہو، ان کے اس قول میں تین وجوہ ہیں۔
(1) کہ انہوں نے آپ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ وہ وعدہ کو وعید میں اور وعید کو وعدہ میں، حلال کو حرام میں اور حرام کو حلال میں بدل دیں، یہ ابن جریر طبری کا قول ہے۔
(2) انہوں نے آپ سے یہ سوال کیا کہ ان کے معبودوں کے عیوب کے بارے میں ان کے عقل مندوں کو احمق اور بیوقوف کہے جانے کے بارے میں جو کچھ قرآن کریم میں ہے اسے ساقط کردیں، ختم کردیں یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے۔
(3) انہوں نے آپ سے یہ سوال کیا کہ موت کے بعد زندہ کیے جانے اور اٹھائے جانے کا جو ذکر قرآن کریم میں ہے اسے ساقط کردیں، زائل کردیں، یہ زجاج نے کہا ہے : (1) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 426)
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل مایکون لی “۔ اے محمد ﷺ آپ فرما دیجئے میرے اختیار میں نہیں۔ (آیت) ” ان ابدلہ من تلقآء نفسی “۔ کہ میں اپنی طرف سے اس میں ردوبدل کردوں، جیسا کہ مجھے یہ اختیار نہیں کہ میں اسے رد کر دوں اور جھٹلا دوں، (آیت) ” ان اتبع الا ما یوحی الی “۔ یعنی میں اتباع نہیں کرتا مگر اس کی جس کی میں تم پر وعدہ ووعید، حرام و حلال اور امرو نہی میں سے تلاوت کرتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقای نفسی “۔ اور اس استدلال میں خاصا بعد ہے، کیونکہ آیت مشرکوں کے اس مطالبے کے بارے میں وارد ہوئی ہے کہ نظم (والفاظ) کے اعتبار سے قرآن کی مثل لاؤ اور رسول اللہ ﷺ پر اس قادر نہیں اور انہوں نے آپ سے الفاظ کے بغیر حکم تبدیل کرنے کا سوال نہیں کیونکہ وہ جو رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں تبھی ہو سکتا ہے، جب یہ وحی ہو آپ کی اپنی مرضی سے نہ ہو، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہو۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” انی اخاف ان عصیت ربی یعنی میں ڈرتا ہوں اگر میں اس تغیر وتبدل کرکے یا اس کے مطابق عمل ترک کرکے اپنے رب کی مخالفت کروں، (آیت) ” عذاب یوم عظیم “۔ یعنی یوم قیامت کے عذاب سے (2) ایضا جلد 2، صفحہ 427 )
Ayah 10:16آیت نمبر : 16۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل لوشآء اللہ تلوتہ علیکم ولا ادرکم بہ “۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ مجھے تمہاری طرف نہ بھیجتا اور (نہ) میں تم پر قرآن کریم پڑھتا اور نہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے بارے آگاہ کرتا اور نہ تمہیں خبر دیتا، کہا جاتا ہے : دریت الشیئ (میں نے کسی شی کو جان لیا) وادرائی اللہ بہ (اور اللہ نے مجھے اس کے بارے آگاہ کیا) ودریتہ ودریت بہ (میں نے اسے جان لیا اور مجھے اس کے بارے آگاہ کیا گیا) اور درایت میں دھوکہ اور فریب دینا کا معنی پایا جاتا ہے اور اسی سے ہے دریت الرجل، یعنی ختلتہ (میں نے اسے دھوکا دیا) اسی وجہ سے الداری مطلق اللہ تعالیٰ کے حق میں نہیں استعمال کیا جاسکتا اور یہ بھی کہ اس میں توفیق نہیں ہے۔ اور ابن کثیر نے ولا دراکم بہ لام اور ہمزہ کے درمیان بغیر الف کے اسے پڑھا ہے اور اس کا معنی ہے : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ تمہیں اس کے بارے آگاہ کردیتا بغیر اس کے کہ میں تم پر اس کی تلاوت کرتا پس یہ لام تاکید ہے جو افعل کے الف پر داخل ہے، حضرت ابن عباس ؓ اور حسن رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ولا ادراتکم بہ یاء کو الف سے تبدیل کرکے پڑھا ہے، اور یہ بنی عقیل کی لغت پر ہے، شاعر نے کہا ہے :
لعمرک ما اخشی التصعلک مابقی، علی الارض قیسی یسوق الاباعرا (1) (تفسیر طبری، سورة ، جلد 11، صفحہ 113)
اور دوسرے نے کہا ہے :
الا اذنت اھل الیمامۃ طیء بحرب کناصات الاغر المشھر (2) (تفسیر طبری، سورة ، جلد 11، صفحہ 113)
ابو حاتم نے کہا ہے : میں نے اصمعی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے عمر بن علاء سے پوچھا : کیا حسن کی قرات ولا ادراتکم بہ کی کوئی وجہ اور دلیل ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : نہیں اور ابو عبید نے کہا ہے : حسن کی قرات ولا ادراتکم بہ کی سوائے غلط ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے، نحاس نے کہا ہے : ابو عبید کے قول کا معنی ہے : کوئی وجہ نہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے غلط ہونے پر، کیونکہ کہا جاتا ہے : دریت ای علمت (میں نے جان لیا) اور ادریت غیری (میں نے اپنے غیر کو آگاہ کیا) اور کہا جاتا ہے : درات ای دفعت (میں نے دور کیا، میں نے دفاع کیا) پس دریت اور درآت کے درمیان غلطی واقع ہو رہی ہے، ابو حاتم نے کہا ہے : جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ حسن اس میں ولا ادریتکم بہ کا ارادہ رکھتے ہیں پس انہوں نے بنی حارث بن کعب کی لغت کے مطابق یا کو الف سے بدل دیا ہے (کیونکہ) وہ یا کو الف سے بدل دیتے ہیں جب اس کا ماقبل مفتوح ہو جیسا کہ (آیت) ” ان ھذن لسحرن “۔ (طہ : 63)
مہدوی نے کہا ہے : جس نے ادراتکم پڑھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمزہ کی اصل یا ہے پس اس کی اصل ادریتکم ہے پھر یاء کو الف سے بدل دیا گیا اگرچہ وہ ساکن ہے، جیسا کہ کہا : یایس یا اصل میں ییبس ہے۔ اور طائی اصل میں طیء ہے، پھر الف کو ہمزہ سے بدل دیا گیا ہے ان کی لغت کے مطابق جنہوں نے العالم میں العالم اور الحاتم اور الحاتم کہا ہے، نحاس نے کہا ہے۔ اور حسن سے ایک روایت ولا ادراتکم ہمزہ کے ساتھ بھی ہے اور ابو حاتم وغیرہ نے کلام کی ہے کہ وہ ہمزہ کے بغیر ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ درات بمعنی دفعت سے ہو، یعنی میں تمہیں حکم نہ دیتا تھا کہ تم دور ہوجاؤ اور قرآن کے بدلے کفر کو چھوڑ دو ،
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فقد لبثت فیکم عمرا “۔ یہ ظرف ہے، یعنی زمانے کی ایک مقدار اور وہ چالیس برس ہے (یعنی میں تم میں اتنا عرصہ گزار چکا ہوں) (آیت) ” من قبلہ “۔ قرآن کریم سے پہلے۔ تم مجھے صدق اور امانت کے سبب پہچانتے ہو، نہ میں پڑھتا ہوں اور نہ لکھتا ہوں، پھر میں تمہارے معجزات لے کر آیا۔ (آیت) افلا تعقلون “۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ یہ نہیں ہو سکتا مگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہ کہ میری جانب سے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” لبثت فیکم عمرا “۔ کا معنی ہے میں نے اپنی جوانی کی مدت تمہارے درمیان گزاری ہے میں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی۔ کیا تم اب مجھ سے یہ چاہتے ہو حالانکہ میں چالیس سال کی عمر کو پہنچ چکا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کروں اور میں اس میں رد وبدل کروں جو وہ مجھ پر نازل فرماتا ہے، حضرت قتادہ (رح) نے کہا : آپ نے ان میں چالیس برس گزارے اور دو سال اس حال میں گزارے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے خواب دیکھتے رہے، اور آپ ﷺ نے باسٹھ برس کی عمر میں وصال فرمایا :
Ayah 10:17آیت نمبر : 17۔
یہ استفہام بمعنی انکار ہے، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افتراء باندھا اور اس کے کلام کو بدل دیا اور اس کی طرف ایسی شے کی نسبت کردی جو اس نے نازل نہیں کی، اور اسی طرح تم سے زیادہ کوئی ظلم کرنے والا نہیں جب تم نے قرآن کریم کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افترا باندھا اور تم نے یہ کہا : یہ اس کا کلام نہیں، اور یہ اس میں سے ہے جس کے بارے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ نہیں یہ کہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ابتداء اللہ تعالیٰ کا قول ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ افترا باندھنے والا مشرک ہے اور آیات کو جھٹلانے والا اہل کتاب میں سے ہے۔ (آیت) ” انہ لا یفلح المجرمون “۔
Ayah 10:18آیت نمبر : 18۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویعبدون من دون اللہ مالا یضرھم ولا ینفعھم “۔ (اس میں من دون اللہ سے) مراد بت ہیں۔ (آیت) ” ویقولون ھؤلاء شفعآؤنا عنداللہ “۔ یہ ان کی طرف سے جہالت کی انتہاء ہے، اس حیثیت سے کہ انجام کار کے طور پر شفاعت کا انتظار ان سے کررہے ہیں جن سے حال میں نہ نہ نفع پایا جاسکتا ہے اور نہ نقصان، اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” شفعآؤنا “۔ یعنی یہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس دنیا میں ہماری معاشی اصلاح کے بارے میں سفارش کریں گے۔
(آیت) ” قل اتنبئون اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض “۔ عام قرات تنبئون تشدید کے ساتھ ہے، اور ابو السحال العدوی نے اتنبئون اللہ مخفف کرکے پڑھا ہے۔ یہ انباینبئی سے ہے اور عام قرات نباینبی تنبئۃ سے ہے۔ اور دونوں ایک ہی معنی میں ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں دونوں جمع ہیں : (آیت) ” من انباک ھذا قال نبانی العلیم الخبیر “۔ (التحریم) یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کو خبر دے رہے ہو کہ اس کا اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے یا اس کی کوئی شریک نہیں پس اسی لیے وہ اسے نہیں جانتا، اس کی نظیر یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ام تنبئونہ بما لایعلم فی الارض “۔ (الرعد : 33) پھر اس نے اپنی ذات کی پاکی بیان کی اور اسے شرک سے پاکیزہ قرار دیا اور فرمایا : (آیت) ” سبحنہ وتعالی عما یشرکون “۔ یعنی وہ اس سے عظیم تر ہے کہ اس کا کوئی شریک ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ عبادت کرتے ہیں ان کی جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ تمیز کرسکتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : یہ (معبود) اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، پس وہ جھوٹ بولتے ہیں کیا اس نے تمہیں تیار کیا ہے کہ تم اسے اس بات کے بارے آگاہ کرو جو وہ نہیں جانتا، اس کی ذات پاک ہے اور اس سے بلند تر ہے جسے وہ شریک ٹھہراتے ہیں، حمزہ اور کسائی نے تشرکون تا کے ساتھ پڑھا ہے اور اسے ہی ابو عبید نے اختیار کیا ہے اور باقیوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے۔