Hud 11:95

Hud · from ayah 95

11:95

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا ؕ— اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ۟۠كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا‌ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

As if they had never prospered therein. Then, away with Madyan as Thamud was taken away.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:95

گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے سنو! مدین والے بھی دور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

گویا کہ وه ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، آگاه رہو مدین کے لئے بھی ویسی ہی دوری ہو جیسی دوری ﺛمود کو ہوئی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو ! مدین کی بھی ویسی ہی بربادی ہوئی جیسی بربادی ثمود کی ہوئی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے، ارے دُور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

گویا وہ ان میں کبھی بسے ہی نہ تھی۔ سنو! (اہلِ) مدین کے لئے ہلاکت ہے جیسے (قومِ) ثمود ہلاک ہوئی تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جیسے وہ ان میں نہیں رہے تھے۔ سن لو ! مدین کے لیے ہلاکت ہے، جیسے ثمود ہلاک ہوئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جیسے وہ وہاں کبھی آباد ہی نہ ہوئے تھے۔ دیکھو ! اہل مدین پر بھی ایسے ہی پھٹکار پڑی جیسے قوم ثمود پر پڑی تھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

گویا کہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، ہاں، ہلاک ہوئے مدین جس طرح دفع ہوئے ثمود

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

گویا کہ وہ ان میں کبھی رہے بسے ہی نہیں تھے، سن لو ! دوری (اور پھٹکار) ہوئی مدین والوں کے لئے جیسا کہ دوری (اور پھٹکار) ہوئی تھی ثمود کے لئے،

— مولانا اسحاق مدنی

جیسے کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے ! خوب سن لو مدین کو (رحمت سے) دوری ہوئی جیسی دوری ثمود کو ہوچکی تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جیسے کہ وہ کبھی ان میں آباد ہی نہیں تھے۔ آگاہ ہوجاؤ پھٹکار ہے مدین پر جیسے کہ ثمود پر پھٹکار ہوئی تھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن لو کہ مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

as though they had never dwelt in them before. Lo! Away with (the people of) Midian, even as the Thamud were done away with!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

as though they never lived there. Lo! Ruined were Madyan, like Thamud were ruined.

— Muhammad Taqi Usmani

as though they never lived there. Lo! Ruined were Madyan, like Thamud were ruined.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As if they had never lived there! So away with Madyan just as Thamud went away!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As though they had not dwelt there. A far removal for Midian, even as Thamud had been removed afar!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

As if they had never prospered therein. Then, away with Madyan as Thamud was taken away.

— Saheeh International

as though they had never existed. How far from (the mercy of God) had the people of Midian gone, just as those of Thamud?

— Muhammad Sarwar

As though they had never dwelt in them; now surely perdition overtook Madyan as had perished Samood.

— Muhammad Habib Shakir

As though they had never lived at ease therein. Lo! a far removal for Madyan, even as Thamud were removed afar!

— Abdul Majid Daryabadi

As if they had never dwelt and flourished there! Ah! Behold! How the Madyan were removed (from sight) as were removed the Thamud!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:95

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 93–95

مدین والوں پر عذاب الٰہی جب اللہ کے نبی ؑ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو تھک کر فرمایا اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے ؟ تم منظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔ آخرش ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ جل بھجے۔ بےحس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہوگئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–97

سورة هُوْد 102 یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضر شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چاک تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–95

اس پند و نصیحت کے بعد پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ ، یعنی تم سوچو سمجھو، ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح (علیہم السلام) پر آچکا ہے، او لوط ؑ کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دور بھی نہیں، یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے بہت قریب زمانہ میں ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 94–95

94۔ 95:۔ وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۔ کم و بیش انہی الفاط میں یہی مضمون آیات 66۔ 68 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 94–95

تاریخ کا ایک دوسرا سیاہ ورق الت دیا گیا اور مکذبین پر عذاب الٰہی ایک حقیقت بن کر آیا۔ ان لوگوں پر جو پیغمبروں کے ڈراوے کو جھٹلاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 94–95

1 یہاں قوم شعیب کا کڑک (فرشتہ کی چیخ) سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور " اعراف " میں " رجفہ " کا لفظ آیا ہے یعنی زلزلہ سے ہلاک ہوئے۔ اور سورة شعراء میں " عَذَابَ یَوْمِ الظُّلَّۃِ " آیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کے بادل سائبان کی طرح ان پر محیط ہوگئے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ تینوں قسم کے عذاب اس قوم کے حق میں جمع کردیئے گئے تھے، پھر ہر سورت میں وہاں کے سیاق کے مناسب عذاب کا ذکر کیا گیا۔ " اعراف " میں تھا کہ ان لوگوں نے شعیب سے کہا کہ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں گے۔ وہاں بتلا دیا کہ جس زمین سے نکالنا چاہتے تھے، اسی کے زلزلہ سے ہلاک ہوئے۔ یہاں ان کے سخت گستاخانہ مقالات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 95–97

آیت 95 كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ اہل مدین بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار کا نشانہ بن کر اسی طرح ہلاک ہوگئے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی تھی۔ اب آخر پر بہت مختصر انداز میں حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 94–95

106 اہل مدین پر عذاب کی نوعیت :۔ یہاں قوم شعیب کا چنگھاڑ (فرشتہ کی چیخ) سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہوا ہے اور سورة شعراء میں عذاب یوم الظلۃ کا ذکر ہے یعنی عذاب کے بادل سائبان کی طرح ان پر محیط ہوگئے تھے گویا اس قوم پر تینوں قسم کا عذاب آیا ہے اور قرآن نے ہر مقام پر صرف اس عذاب کا ذکر فرمایا جیسا کہ مضمون چل رہا تھا مثلاً اس سورة میں قوم کا لہجہ تلخ اور باتیں گستاخانہ تھیں جو سنگسار کرنے کی دھمکی دے رہے تھے تو یہاں سخت قسم کے جگر خراش عذاب یعنی چنگھاڑ کا ذکر فرمایا سورة اعراف میں یہ ذکر تھا کہ قوم نے دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس سرزمین سے نکال دیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

139۔ رحمت الہی سے محروم وبعید ہوجاتے ہیں تو اہم مدین کی مثال ہر پرانی مغضوب ومقہور قوم سے دی جاسکتی ہے، قوم ثمود کا نام خصوصیت کے ساتھ لینے میں شاید کہ یہ مناسبت ہو کہ قوم ثمود بھی اس سے قبل اسی نواح اور اسی علاقہ میں آباد رہ چکی تھی ! اہل مدین نے اپنے ہی گرد ونواح کی تاریخ سے عبرت نہ حاصل کی ! بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ اہل مدین بھی قوم ثمود ہی کی طرح نسل عرب سے تھے۔ اور ان کی بےدینی اور بداعمالی بھی انہی کی سی تھی۔ کانوا جیرانھم قریبامنہم فی الدار شبیھا بھم فی الکفر وقطع الطریق وکانوا عربا مثلھم (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کان لم یغنوا فیھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ گھروں میں زندگی کی حالت میں رہتے ہی نہ تھے (یعنی گھر اجاڑ ہوگئے) ۔ الا بعد المدین کما بعدت ثمود خوب سن (اور عبرت حاصل کرو) کہ مدین کو رحمت سے دوری ہوئی جیسے ثمود رحمت سے دور ہوئے تھے۔ قوم ثمود کی ہلاکت بھی ایک چیخ سے ہوئی تھی ‘ اس لئے اہل مدین کی ہلاکت کو قوم ثمود کی ہلاکت سے تشبیہ دی۔ فرق اتنا تھا کہ قوم ثمود کی ہلاکت زمین کی اندرونی چیخ سے ہوئی تھی اور قوم شعیب کی ہلاکت آسمانی چیخ سے۔ بَعُدَ (باب کرم) اصل ہے اور بَعِدَ (باب سمع سے) بھی آیا ہے ‘ دونوں کا مصدر بعد آتا ہے۔ بَعُدَ (باب کرم) دور ہوگیا۔ بَعِدَ (باب سمع) ہلاک ہونے کی وجہ سے دور ہوگیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 94–95

(94۔ 95) چناچہ جب ہمارا عذاب آیا تو ہم نے حضرت شعیب ؑ کو اور جو ان کے ساتھ اہل ایمان تھے ان کو اپنی خصوصی رحمت سے نجات دی اور ان مشرکوں یعنی قوم شعیب کو ایک سخت آواز کے عذاب نے آگھیرا، سو وہ اپنے گھروں میں مردہ خاک بن کر رہ گئے جیسے وہ کبھی زمین پر تھے ہی نہیں، حضرت شعیب ؑ کی قوم کو رحمت خداوندی سے دوری ہوئی جیسا کہ قوم صالح کو رحمت خداوندی سے دوری ہوئی اور قوم صالح اور قوم شعیب کا عذاب دونوں پر برابر ہے، ایک سخت آواز نے ان دونوں قوموں کو آگھیرا تھا، باقی قوم صالح پر نیچے کی طرف سے عذاب آیا تھا اور قوم شعیب کو ان کے اوپر کی طرف سے عذاب آیا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 94–95

وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا۔۔ : یہ اللہ تعالیٰ کے ہر قوم پر آنے والے عذاب کی عجیب صفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا، نہ آندھی نے، نہ چیخ نے اور نہ زلزلے نے۔ صرف کفار اور ظالم مشرک ہی اس سے برباد ہوئے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (57) کی تفسیر۔ اللہ کے حکم سے آنے والے اس عذاب کو سورة اعراف (91) اور عنکبوت (37) میں ”اَلرَّجْفَۃ ‘ یعنی زلزلہ فرمایا، یہاں ”الصَّيْحَةُ“ یعنی چیخ فرمایا اور سورة شعراء (189) میں ”عَذَابّ یَوْمِ الظُّلَّۃِ“ سائبان کے دن والا عذاب فرمایا۔ اس لیے زیادہ واضح بات یہی نظر آتی ہے کہ پہلے ”الصَّيْحَةُ“ چنگھاڑ یا سخت چیخ بلند ہوئی، جب وہ حد سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 89–97

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔ 2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔ 3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَان : جیسے کہ ] [ لَمْ يَغْنَوْا : وہ رہتے ہی نہ تھے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ اَلَا : سن لو ] [ بُعْدًا : دوری ہے ] [ لِمَدْيَنَ : مدین (والوں) کے لئے ] [كَمَا : جیسے ] [ بَعِدَتْ : دور ہوئے ] [ثَمُوْدُ : ثمود ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 91–95

اہل مدین کا بری طرح جواب دینا اور ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت برابر جاری رہی ‘ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو جو جواب دئیے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بعض باتیں نہ سمجھتے ہوں کیونکہ توجہ کے ساتھ سنتے ہی نہ تھے۔ اپنی اس بےہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–95

قصہ شعیب (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔ (ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 94–95

81:۔ آخر وقت موعود پر اللہ کا عذاب آگیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے مؤمن ساتھیوں کو اللہ نے بچا لیا اور تمام مشرک ایک آسمانی گرجدار آواز سے ہلاک کردئیے گئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل ایسے مردہ پڑے تھے گویا کہ وہ کبھی ان گھروں میں آباد ہی نہ ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 91–95

ربط آیات گزشتہ آیات میں شعیب (علیہ السلام) نے قوم کی طرف سے کئے گئے بیہودہ اعتراض کا جواب دیا تھا۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی نماز کو طعن کی بنیاد بنایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے آبائو اجدا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے تصرف سے باز آسکتے ہیں۔ شعیب (علیہ السلام) نے اچھے طریقے سے سمجھایا کہ دیکھو ! کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت اور پاکیزہ روزی عطا فرمائی ہے۔ میں جو بات تم سے کہتا ہوں ، اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں یعنی میرے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے ، میں حسب استطاعت اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں اور میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْہَا۝ 0 ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَـمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۝ 95 ۧ غنی وغَنَى في مکان کذا : إذا طال مقامه فيه مستغنیا به عن غيره بغنی، قال : كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا[ الأعراف/ 92] ( غ ن ی ) الغنیٰ غنی فی مکان کذا ۔ کسی جگہ مدت دراز تک اقامت کرنا گویا وہ دوسری جگہوں سے بےنیاز ہے ۔ قرآن میں ہے : كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا[ الأعراف/ 92] گویا وہ ان میں کبھی آبادہی نہیں ہوئے تھے ۔ بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–109

1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 94–95

وَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ط اَلاَ بُعْدًالِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ۔ (سورۃ ہود : 94، 95) (اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے بچا لیا شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے، آپ کے ساتھ، اپنی خاص رحمت سے۔ اور پکڑ لیا ظالموں کو خوفناک کڑک نے، تو انھوں نے صبح کی اپنے گھروں میں اس حال میں کہ وہ اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔ گویا وہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، خبردار دوری ہے مدین کے لیے جیسے دوری ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 94–95

فہم القرآن ربط کلام : قوم مدین جرائم سے تائب ہونے کی بجائے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہے۔ قوم مدین نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو کلی طور پر ٹھکراتے ہوئے نہ صرف انہیں ان کی گھر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں بلکہ یہ بھی بار بار مطالبہ کیا کہ اگر تو اپنے وعدہ میں سچا ہے تو آسمان کا کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دو ۔ اس کے نتیجہ میں قوم مدین پر بیک وقت آسمان اور زمین سے عذاب نازل ہوا۔ جس کی کیفیت مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات دن تک اس علاقہ کی ہوا کو جامد کردیا۔ سورج کی گرمی اور حبس نے ان لوگوں کو ہلکان کردیا۔ دن کو سکون اور نہ ہی رات کو نیند، جس کی وجہ سے ان کے جسم اکڑ گئے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

95: کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا (گویا وہ گھروں میں بستے ہی نہ تھے) گویا زندگی میں انہوں نے ان گھروں میں رہائش اختیار ہی نہیں کی نہ تو پورے اختیار سے اور نہ آتے جاتے۔ اَ لَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ (خبردار مدین والوں کیلئے دوری ہو) البُعد۔ البَعَد کے معنی میں ہے۔ اور اس کا معنی ہلاکت ہے۔ جیسے الرشد بمعنی الرَشَد ہے کیا قرآن مجید کی اس آیت کی طرف نہیں دیکھتے۔ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ (جیسے قوم ثمود دور ہوئی ) ۔ نحو، قراءت : بَعِدَت کو بَعُدتْ پڑھا گیا ہے معنی ہر دو صورت میں ایک ہے۔ یہ قرب کی ضد ہے۔ مگر انہوں نے بُعْد بمعنی ہلاکت) کے درمیان اور دوسرے کے درمیان فرق کیا پس بناء کو بدل دیا جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

95۔” کان لم یغنوا “ گویا کہ وہ نہیں مقیم رہے ” فیھا الا بعدا “ ہلاکت ” لمدین کما بعدت “ ہلاک ہوگئے۔” ثمود “ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 94–95

94۔ 95۔ جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناامید ہوگئے اور جان لیا کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے تو فرمایا کہ دیکھو کون عذاب سے رسوا ہو کر ہلاک ہوتا ہے اس وقت خدا کا عذاب آیا اللہ پاک نے اپنے رسول شعیب (علیہ السلام) کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور قوم شعیب (علیہ السلام) کو جنہوں نے ظلم کیا تھا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہیں لائے یہ سب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی ایک سخت چیخ سے اس طرح ہلاک ہوگئے یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ اس گاؤں میں کوئی بستا بھی تھا یا نہیں جس طرح قوم ثمود چنگھاڑ سے ہلاک ہوئی اسی طرح یہ قوم بھی ہلاک ہوئی اس لئے یہاں ثمود کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

۔ (آیت) ” سنو، پھٹکار ہے مدین کے لئے “ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا (آیت) ” جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر “ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ” خطیب الانبیاء “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں۔ (1) کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور جس بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں، کیونکہ جناب شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 93–95

189 ۔ منکرین و معاندین کے لیے آخری جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے آخری جواب کے طور پر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر کام کرتا ہوں۔ عن قریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ سو اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ جھوٹا کون تھا تم یا ہم۔ کیونکہ وہ لوگ آپ کو کاذب کہتے تھے۔ (جامع البیان) جیسا کہ دوسرے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی کہا گیا ہے۔ بلکہ " کاذب " سے بڑھ کر ان کو " کذاب " کہا گیا جو کہ کذب سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 84–95

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 84–95

آیات 84 تا 95 اسرار و معارف شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔ ناپ تول میں کمی چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 94–95

ف 9 ۔ سورة اعراف اور عنکبوت میں ہے کہ انہیں ” رجفہ “ یعنی زلزلے نے آدبایا اس لئے اخلب یہ ہے کہ پہلے ” صبحۃ “ (چنگھاڑ) یا سخت چیخ بلند ہوئی ہوگی اور پھر زلزلہ آیا ہوگا۔ آج بی ” مدین “ کے علاقے میں سینکڑوں میل تک جو پہاڑ پائے جاتے ہیں ان پر زلزلے کے آثار ہیں تمام پہاڑ اس طرح سے پھٹے ہوئے ہیں جیسے کسی زبردست زلزلے نے انہیں کھیل کھیل کردیا ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:95) کان لم یغنوا فیہا۔ (ملاحظہ ہو 1:68) ۔ بعدا۔ دوری۔ ہلاکت (نیز ملاحظہ ہو 11:44) ۔ بعدث۔ وہ تباہ ہوئی۔ اس پر لعنت ہوئی وہ دور ہوئی (باب سمع) بعد مصدر۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 89–95

لغات القرآن آیت نمبر 89 تا 95 لایجرمن (مجرم نہ بنا دے) شقاق (ضد، ہٹ دھرمی) ان یصیب (یہ کہ پہنچے گی) ودود (محبت کرنے والا) مانفقہ (ہم نہیں سمجھتے ) ضعیف (کمزور) رھط (خاندان، قبیلہ) رجمنا (ہم رجم کرتے (پتھر مار مار کر ہلاک کرنا) عزیز (زبردست، قوت و طاقت والا) اعز (زیادہ طاقتور، زیادہ قوت والا) اعز (زیادہ، طاقتور، زیادہ قوت والا) ظھری (پشت، پیٹھ) محیط (گھیرنے والا) عامل (کام کرنے والا) مکان (جگہ) یخزی (رسوا کر دے گا) کاذب (جھوٹ بولنے والا) ارتقبوا (نگرانی کرو، انتظار کرو) رقیب نگران الصیحۃ (چنگھاڑ تیز آواز) اصبحوا (وہ رہ گئے) جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) لم یغنوا (آباد نہ تھے) بعدت (دور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 94–95

شعیب (علیہ السلام) کی ظالم قوم پر عذاب کا آنا : جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناامید ہوگئے اور جان لیا کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے تو اس وقت خدا کا عذاب آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول شعیب (علیہ السلام) کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو اپنی رحمت سے بچالیا اور قوم شعیب (علیہ السلام) کو جنہوں نے ظلم کیا تھا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہیں لائے۔ یہ سب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی ایک سخت چیخ سے اس طرح ہلاک ہوگئے جس طرح قوم ثمود چنگھاڑ سے ہلاک ہوئی اس لئے یہاں ثمود کا نام لیا قوم لوط کا نام نہیں لیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 89–99

[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 93–96

(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دھمکی کو صبر و عزیمت کے ساتھ سنا اور کہا ، تمہیں میرے عزیزوں کا تو خیال ہے ، مگر اللہ کا خیال نہیں ، جس کی جانب سے میں مبعوث ہو کر آیا ہوں ، تم اس کی آواز پر کان نہیں دھرتے تمہیں اس بات کی فکر نہیں کہ وہ تمہیں کیا کہے گا تم جو چاہو ، کرتے رہو میں ہرگز تمہارے طرز عمل سے خائف نہیں ، تم عنقریب جان لوگے ، کہ جھوٹا کون ہے ، اور سچا کون ، کس پر اللہ کی رحمتیں ہیں اور کون ذلیل اور کون عذاب کا مستحق ہے ۔ چنانچہ اللہ کا عذاب آیا اور انکار کرنے والے صفحہ ہستی سے ہٹ گئے ، اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

95 اور ایسے مرے جیسے وہ لوگ کبھی ان گھروں میں بسے اور رہے ہی نہ تھے خوب سن لو اور عبرت حاصل کرو مدین بھی رحمت سے اسی طرح دور کئے گئے جس طرح ثمود رحمت سے دور کئے گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 93–95

ف 3۔ یعنی تم دعوی نبوت میں مجھ کو جھوٹا کہتے ہو اور حقیر سمجھتے ہو تو اب معلوم ہوجائے گا کہ جرم کذب کا مرتکب اور سزائے ذلت کا مستوجب کون تھا تم یا میں دیکھیں عذاب کا وقوع ہوتا ہے جیسا میں کہتا ہوں یا عدم وقوع جیسا تمہارا زعم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کی بستیوں کو جب دیکھنے والوں نے دیکھا تو ایسی تھیں گویا یہاں کبھی کوئی بسا ہی نہیں ۔ 121 شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گئی ہوئی مدت کی آخری رات جو آئی تو عین اس وقت جب وہ اپنے اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے تو یک بیک ایک ہولناک زلزلہ آیا اور ابھی یہ ہولناکی ختم نہ ہوئی تھی کہ اوپر سے آگ برسنے لگی اور ساتھ ہی سخت بارش کے چھینٹے شروع ہوگئے اور ان ساری باتوں کا جو نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ صبح کو اس علاقہ سے باہر کے لوگوں نے جو آ کر دیکھا تو کل کے سرکش اور مغرور آج گھنٹوں کے بل اوندھے جھلسے ہوئے پڑے تھے۔ ہاں ! اس عذاب کی لپیٹ سے اگر کوئی بچا تو وہ وہی لوگ تھے جو شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–97

102. When Shu'ayb's people stated that they did not understand much of what Shu'ayb said, they did not say so because Shu'ayb (peace be on him) spoke in some foreign language, or because he talked in an ambiguous or complicated manner. On the contrary, Shu'ayb's teaching was quite clear and simple and was conveyed to his people in a language they fully understood - their own. The difficulty in understanding Shu'ayb's teaching arose from the fact that his people had become simply too perverse to grasp it. It is always the case that when some people become fully seized by their prejudice, are…

Read the full tafseer →