Ayahs 11:1–5آیت نمبر 1 تا 5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیات عجیب نظم اور انوکھے معانی کے ذریعہ محکم کی گئی ہیں، پھر حکیم باخبر یعنی اللہ کی طرف سے احکام اور واقعات اور نصائح کے اعتبار سے صاف صاف بیان کی گئی ہیں، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کو بندگی نہ کرو میں اس کی طرف سے تم کو عذاب سے ڈرانے والا ہوں اگر تم کفر کرو گے اور ثواب کی خوشخبری دینے والا ہوں اگر تم ایمان لاو گے اور یہ کہ تم اپنے رب سے شرک سے مغفرت طلب کرو پھر طاعت ل کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ دنیا میں تم کو معینہ مدت تک اچھا سامان عیش اور وسعت رزق دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ اجر دے گا اور اگر تم، اعراض کرو گے) تولوا (میں دو تاوں میں سے ایک تاء حذف کردی گئی ہے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کہ وہ قیامت کا دن ہے، کے عذاب کا اندیشہ ہے تم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر شئ پر قادر ہے اور اسی ہر شئ میں ثواب اور عقاب بحی ہے، اور) آئندہ آیت (جیسا کہ امام ابخاری نے اس کو حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ جو اس خیال سے کہ میرا یہ عمل آسمان) یعنی اللہ ( تک پہنچ رہا ہے قضائے حاجت کرنے اور) بیوی سے (مجامعت کرنے میں شرم محسوس کرتا تھا، اور کہا گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی یاد رکھو وہ لوگ اپنے سینوں کو دہرا کئے ہیں) یعنی جھکے جاتے ہیں (تاکہ اللہ سے اپنی باتیں چھپا سکیں یاد رکھو کہ وہ لوگ جس وقت اپنے کپڑے لپیٹ لیتے ہیں) یعنی (ان میں چھپ جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ) اس وقت بھی (اس چیز کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں لہٰذا ان کے چھپانے سے کوئی فائدہ نہیں، بلاشبہ وہ تو دلوں کے اندر کی باتوں کو جانتا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : سورة ھود بترکیب اضافی مبتداء مکیۃ خبر اول مائۃ الخ خبر ثانی، مکیۃ مستثنیٰ منہ ہے اِلاَّ حرف استثناء اقم الصلوۃ) الآیۃ (مستثنیٰ یعنی پوری سورت مکی ہے سوائے ایک آیت واقم الصلوۃ) الآیۃ ( کے یہ قول ابن عباس ؓ کا ہے۔
قولہ : اَوْ اِلاَّ فَلَعَلَّکَ تارک بعض ما یوحٰی اِلَیْکَ ) الآیۃ ( یہ دوسرے قول کی طرف اشارہ ہے اس قول کے مطابق پوری سورت مکی ہے مگر دو آیتیں، ایک تو فَلَعَلَّک اور دوسری اولئکَ یومنون بہ) الآیۃ ( یہ قول مقاتل کا ہے۔
قولہ : ھذا، اس میں اشارہ ہے کہ کتاب مبتداء محذوف کی خبر ہے نہ کہ خود مبتداء اس لئے کہ نکرہ محضہ مبتداء واقع نہیں ہوتا، اُحکمتْ آیاتہ، جملہ ہو کر کتاب کی صفت ہے۔
قولہ : ثُمَّ فصلت، ثُمَّ میں دو احتمال ہیں اول یہ اخبار محض کیلئے ہے، اور معنی ہوں گے اللہ نے ہم کو خبر دی کہ قرآن غایت درجہ
باحسن وجوہ محکم ہے اور بہترین تفصیل کے ساتح مفصل ہے، جیسا کہ عرب بولتے ہیں، " فلان کریم الاصل ثم کریم الفصل " دوسرا احتمال یہ ہے کہ ثُمَّ نزول کے اعتبار سے ترتیب زمانی کے ہو بایں طور کہ نزول اول یعنی عرش سے لوح محفوظ پر نزول کے وقت محکم کیا گیا پھر حسب موقع تفصیل کے ساتھ نازل ہوا۔
قولہ : من لدنْ حکیم خبیر یہ کتاب کی دوسری صفت ہے۔
قولہ : باَنْ اس میں اشارہ ہے کہ ان مصدریہ ہے، ان تفسیر یہ بھی ہوسکتا ہے، ان کے تفسیر یہ ہونے کیلئے یہ شرط ہے کہ اس سے پہلے قول یا قول کے ہم معنی کوئی لفظ ہو یہاں اگرچہ لفظ قول نہیں مگر اس کا معنی فصلت، موجود ہے لہٰذا ان کا مفسرہ ہونا بھی درست ہے، اور یہاں تفسیر یہ ہی بہتر ہے۔ ) صاوی (
قولہ : قیل فی المنافقین، اگر منافقین سے معروف منافقین مراد ہیں تو اس میں نظر ہے اس لئے کہ معروف منافقین کا وجود مکہ میں نہیں تھا اور آیت مکی ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کہ منافقین مکہ میں سے تھا یہ شخص چرب زبان حسین المنظر تھا اور رسول اللہ ﷺ کو خوش کن خبریں سنایا کرتا تھا اور دل میں اس کے خلاف پوشیدہ رکھتا تھا اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
قولہ : یثنون، الثنی الطّی چھپانے کیلئے لپیٹنا، یَثنُون کی اصل یَثْنیون تھی ضمہ یاء پر دشوار رکھ کر نون کو دیدیا، یاء اور واو کے درمیان التقاء ساکنین کی وجہ سے یاء کو حذف کردیا، یثنُون ہوگیا۔
تفسیر و تشریح
سورة ہود کے مضامین : اس سورت میں بھی ان ہی قوموں کا تذکرہ ہے جو آیات الہٰی اور پیغمبروں کی تکذیب کرکے عذاب الہٰی کا نشانہ بنیں، اور تاریخ کے صفحات سے یا تو حرف غلط کی طرف مٹا دی گئیں، یا تاریخ کے اوراق میں عبرت کا نمونہ بن کر موجود ہیں، اسی لئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا، کیا وجہ ہے کہ آپ بوڑھے ہوئے چلے جارہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا " مجھے ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا "۔
ابن مردویہ اور ابن عسا کرو غیر ہما نے مسروق کی سند سے حضرت ابوبکر صدیق سے روایت کیا ہے۔ قال، قلتُ ، یا رسول اللہ لَقَدْ اَسْرَع الیک الشیبُ فقال شیّبَتْنی ھود والواقعۃ والحاقۃ والمرسلات وعمّ یتسٰالون واذا الشمس کورت۔ ) تفسیر فتح القدیر (
کتاب احکمت آیاتہ، قرآنی آیات نظم و معانی کے اعتبارے سے اتنی محکم اور پختہ ہیں کہ نہ ان کی ترکیب لفظی میں کوئی خلل ہے اور نہ ترکیب مغوی میں اس کے علاوہ اس میں احکام و شرائع، مواعظ و قصص، عقائدو ایمانیات، عقائد و اخلاقیات جس طرح وضاحت و تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں کتب سابقہ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ محکم اس جگہ منسوخ کے مقابلہ میں ہے مطلب یہ ہے کہ اس
کتاب کو اللہ تعالیٰ نے مجموعی حیثیت سے محکم غیر منسوخ بنایا ہے یعنی جس طرح سابقہ کتابیں تورات انجیل وغیرہ مجموعی اعتبار سے منسوخ ہوگئیں یہ کتاب تا قیامت منسوخ نہ ہوگی اسلئے کہ نبوت و رسالت کا سلسلہ منطقع ہوگیا ہے بعض قرآنی آیات کا بعض کے ذریعہ منسوخ ہونا اس کے منافی نہیں، ثم فُصَّلَتْ کی تفسیر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گذرچ کی ہے ملاحظہ کرلیا جائے۔
یُمتعکم متاعاً حَسَنًا، دینوی سامان عیش کو قرآن میں دوسری جگہ " متاع غرور " کہا گیا ہے یعنی دھوکے کا سامان اور یہاں اسے " متاع حَسَن " قرار دیا گیا ہے دونوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے، مطلب اس کا یہ ہے کہ جو آخرت سے غافل ہو کر متاع دنیا سے استفادہ کرے گا اس کے لئے یہ متاع غرور ہے اور جو آخرت کی تیاری کے ساتھ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اس کیلئے یہ چند روزہ متاع، متاع حسن ہے۔
شان نزول : اَلا اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھم) الآیۃ ( اس آیت کے شان نزول کے بارے میں نفسرین کا اختلاف ہے اسی لئے اس کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے۔ ) صحیح بخاری تفسیر سورة ہود ( میں بیان کردہ شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو غلبہ حیا کی وجہ سے قضائے حاجت اور بیوی سے ہمبستری کے وقت برہنہ ہونا اور ستر کھولنا پسند نہیں کرتے تھے کہ اللہ جل شانہ ہمیں دیکھ رہا ہے اس لئے ایسے موقع پر شرم گاہ کو چھپانے کے لئے اپنے سینوں کو دہرا کرلیتے تھے، اللہ نے فرمایا رات کو جب وہ اپنے بستروں میں اپنے کپڑوں میں خود کو ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی وہ ان کو دیکھتا ہے مطلب یہ ہے کہ شرم و حیا کا جذبہ اپنی جگہ بہت اچھا ہے لیکن اس میں اتنا غلو اور افراط بھی صحیح نہیں، اسلئے کہ جس ذات کی خاطر تم ایسا کرتے ہو، اس سے تو تم پھر بھی نہیں چھپ سکتے تو اس طرح کے تکلیف سے کیا فائدہ۔
Ayahs 11:6–8آیت نمبر 6 تا 8
ترجمہ : زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق اللہ کے ذمہ ہے، مِنْ زائدہ ہے) دَابَّۃ (اس جاندار کو کہتے ہیں جو زمین پر چلتا ہے، یعنی اللہ ہی ان کی روزی کا اپنے فضل سے کفیل ہے وہی ان کو رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے آیا دنیا میں ہے یا پشت پدر میں اور مرنے کے بعد اسکے سپرد کئے جانے کی جگہ کو یا رحم مادر میں ہے) اس کا مقام (کو جانتا ہے اور ہر چیز کا جو مذکور ہوئی وہ کتاب مبین میں ہے اور وہ لوح محفوظ ہے، اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ان کا پہلا میدان یکشنبہ تھا اور آخری دن جمعہ کا اور آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا اور پانی ہوا کے دوش پر تھا، تاکہ تم کو آزمائے) لِیَبْلُوَکم (خَلَقَ کے متعلق ہے یعنی ان دونوں کو اور ان میں جو کچھ ہے تمہارے منافع اور تمہاری مصلحتوں کیلئے پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے، کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے ؟ یعنی کون اللہ کا زیادہ تابع فرمان ہے، اور اگر) اے محمد (تم کہو کہ تم کو مرنے کے بعد) زندہ کرکے ( اٹھایا جائیگا، تو منکرین فوراً بول اٹھیں گے کہ یہ قرآن جو بعث بعد الموت کی بات کرتا ہے یا جو بات تم کرتے ہو وہ کھلا ہوا جادو ہے، اور ایک قراءت میں) سِحر (کے بجائے ساحِر ہے اور اس کے مصداق نبی ﷺ ہوں گے، اور اگر ہم ان سے متعین عذاب کو کچھ مدت کیلئے ملتوی کردیتے ہیں تو بطور استہزاء کہنے لگتے ہیں کہ اس عذاب کو آنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یاد رکھو جس دن وہ) عذاب (ان پر آپڑے گا تو ٹالے نہ ٹلے گا اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہی ان کو آگھیرے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : تکفلَ بہ فضلاً منہ یہ اضافہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے کہ اِلاَّ علی اللہ رزقھا سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر رزق رسانی واجب ہے، حالانکہ وجوب اللہ پر محال ہے۔
جواب : کا حاصل یہ ہے کہ مخلوق کے لئے رزق رسانی کا اللہ پر لزوم و جوباً نہیں ہے بلکہ محض فضلاً وشفقۃً ہے۔
قولہ : کل مِمَّا ذکرَ اس میں اشارہ ہے کہ کلُّ ، کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔
قولہ : بَیِّن، مبین کی تفسیر بَیّن سے کرکے اشارہ کردیا کہ متعدی بمعنی لازم ہے۔
قولہ : جماعۃ اوقات اس میں اشارہ ہے کہ اُمَّۃ سے مراد لوگوں کی جماعت نہیں ہے بلکہ اس سے اوقات کا محدود مجموعہ مراد ہے، اُمۃ اصل میں لوگوں کی جماعت کو کہتے ہیں ای طائفۃ من الناس، یہاں طائفۃ من الازمنۃ مراد ہے جیسا کہ شارح (رح) تعالیٰ نے لفظ اوقات کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا ہے۔
قولہ : معدودۃ، معدودۃ سے مراد قلیلۃ ہے اس لئے کہ حصر بالعدد قلت پر دلالت کرتا ہے۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : پچھلی آیات میں حق تعالیٰ کے علم محیط کا ذکر تھا جس سے کائنات کا کوئی زرہ اور دلوں کا کوئی راز بھی پوشیدہ نہیں، تو بھلا وہ جانداروں کو ان کی روزی کے معاملہ میں کیسے فراموش کرسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جانداروں کی روزی کی کفالت اپنے ذمہ محض اپنے فضل سے لے لی ہے اللہ تعالیٰ پر کسی کی طرف سے نہ کوئی شئ واجب ہے اور نہ کسی کا دباو، اور روزی رسانی کا انتظام اسی وقت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر جاندار کا مقام مستقر معلوم ہو ورنہ روزی رسانی کا نظام ممکن ہی نہیں ہوسکتا، تو کفار کے یہ ارادے کہ اپنے کسی کام کو اللہ تعالیٰ سے چھپالیں جہالت اور بےوقوفی کے سوا کچھ نہیں۔
رزق سے متعلق ایک سوال اور اس کا جواب :
سوال : یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب روزی رسانی کی ذمہ داری اللہ رب العٰلمین کی ہے تو پھر ہزار ہا جاندار بھوک اور پیاس سے کیوں مرجاتے ہیں ؟
جواب : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی موت کے اسباب اپنے علم ازلی کے مطابق متعین فرما دیئے کہ فلاں مرض کی وجہ سے مرے گا اور فلاں جل کر مرے گا اور فلاں ڈوب کر مرے گا اور فلاں قتل ہو کر مرے گا ایسے ہی اسباب میں سے ایک سبب یہ بحی ہے کہ وہ بھوک سے مرے گا اسی سبب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی روزی بند کردی جاتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ اللہ تعالیٰ کے خزانہ میں کوئی کمی آگئی ہے یا اس کے یہاں غذائی اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔ ) نعوذ باللہ (۔
آیت میں " مستقر " اور " مستودع " کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں ان کی تعریف میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک منتہائے سیر کا نام مستقر ہے اور جس کا ٹھکانا بنائے وہ مستودع ہے اور بعض کے نزدیک رحم مادر مستقر اور صلب پدر مستودع ہے، اور بعض کے نزدیک انسان یا حیوان جہاں بودوباش رکھتا ہے وہ مستقر ہے اور یہاں مرنے کے بعد دفن ہوگا وہ مستودع ہے) ابن کثیر ( بہرحال جو معنی بھی لئے جائیں مفہوم واضح ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک کا مستقر ومستودع معلوم ہے اس لئے وہ ہر ایک کو روزی پہنچانے پر قادر ہے۔
اسباب کا اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں : علی اللہ رزقھا، اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی روزی رسانی کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے لی ہے لہٰذا اب نہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اسباب اختیار کرنے کی ضرورت، اسلئے کہ شریعت کی تعلیم ترک اسباب کی نہیں ہے اور نہ اسباب کا اختیار کرنا توکل کے خلاف ہے، حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ اسباب کو اگر اس اعتقاد کے ساتھ اختیار کیا جائے کہ مسبب الاسباب اللہ ہی ہے اور یہ اعتقاد نہ رکھا جائے کہ بغیر اسباب کے رزق حاصل ہو ہی نہیں سکتا، تو یہ توکل کے منافی نہیں ہے، بلکہ اس عالم میں اسباب ظاہری کی پوری رعایت کرکے پھر توکل کیا جائے، عارف رومی نے اپنی مثنوی میں توکل کے صحیح طریقہ کی ایک حکایت بیان کی ہے۔
حکایت : بیان فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی آپ کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا، آپ نے دریافت فرمایا اونٹنی کو کیا کیا ؟ اس نے کہا خدا کے توکل پر یوں ہی چھوڑ دیا ہے، آپ نے فرمایا اسے باندھ دو اور پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔
گفت پیغمبر بآواز بلند بر توکل زانوئے اشتربہ بند
وھو الذی خَلَقَ السمٰوٰت والارض فی ستۃ ایام وکان عرشہ علی الماء، اس آیت میں حق تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت ظاہرہ کا ایک اور مظہر ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ان چیزوں کے پیدا کرنے سے پہلے عرش رحمان پانی پر تھا، آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان کے چھ دن میں پیدا کرنے کی تفصیل سورة حم سجدہ میں اس طرح آئی ہے کہ وہ دن میں زمین بنائی گئی اور دو دن میں زمین کے پہاڑ دریا درخت اور جانداروں کی غذا پیدا فرمائی اور دو دن میں سات آسمان بنائے
کائنات کو چھ دن میں پیدا کرنے کا مطلب : تفسیر مظہری میں ہے کہ آسمان سے مراد تمام علویات ہیں اور زمین سے مراد تمام سفلیات ہیں اور سن سے مراد وقت کی وہ مقدار ہے جو آسمان و زمین میں پیدا کرنے کے بعد آفتاب کے طلوع و غروب تک ہوتا ہے، اگرچہ آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت نہ آفتاب تھا اور نہ اس کا طلوع و غروب۔ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ میں یہ بھی تھا کہ ان تمام کو ایک دن میں پیدا کر دے مگر اس نے اپنی حکمت سے اس عالم کے نظام کو تدریجی بنایا ہے جو انسان مزاج کے مناسب ہے، اس آیت کے آخر میں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کا مقصد بیان فرمایا ہے، لِیَبْلوَکم ایکم اَحْسَنُ عملاً ، یعنی یہ سب چیزیں اس لئے پیدا کی گئیں کہ ہم تمہارا امتحان لیں کہ کون تم میں سے زیادہ اچھا عمل کرتا ہے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش مقصود بالذات نہیں تھی بلکہ اس کو عمل کرنے والے انسان کے لئے بنایا گیا تاکہ وہ ان چیزوں سے اپنے معاش کا فائدہ بھی حاصل کریں، اور ان میں غور و فکر کرکے اپنے رب حقیقی کو بھی پہچانیں۔
نکتہ : اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ کون زیادہ عمل کرتا ہے بلکہ فرمایا کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے اچھا عمل وہ ہوتا ہے جو رضائے الہیٰ کے لئے ہو اور یہ کہ سنت کے مطابق ہو اگر مذکورہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں گی تو وہ اچھا عمل نہیں رہے گا چاہے وہ کتنا بھی زیادہ عمل کیوں نہ ہو اللہ کے یہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
کان عرشہ علی الماء، یہ جملہ معترضہ ہے جو اس سوال کا جواب ہوسکتا ہے کہ آسمان اور زمین جب نہیں تھے تو اس وقت کیا تھا ؟ اس سوال کا جواب مختصر انداز میں یہ دیا گیا کہ پہلے پانی تھا، نہیں کہا جاسکتا کہ پانی سے کیا مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ موجودہ عالم کو پیدا کرنے سے پہلے عالم آب تھا اور اسی پر اللہ تعالیٰ کی حکومت تھی عرش کے پانی پر ہونے کا مطلب اس کی حکومت کا پانی پر ہونا ہے۔
وَحَاقَ بھم ما کانوا بہ یَسْتھزءون، یہاں استعجال یعنی جلدی طلب کرنے کو استہزاء سے تعبیر کیا گیا ہے، کہ وہ استعجال بطور استہزاء ہی ہوتا تھا یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تاخیر پر انسان کو غفلت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اس کی گرفت کسی وقت بھی آسکتی ہے۔
Ayahs 11:9–24آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ ہیں کہ جن کیلئے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے وہ جنت ہے، تو اے محمد ایسا نہ ہو کہ قرآن سے ان کی بےتوجہی کہ وجہ سے اس وحی کے کچھ حصے کو جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے ان تک پہنچانے کو چھوڑ دیں اور ان کو قرآن سنانے سے ان کی اس بات کی وجہ سے تنگ دل ہوتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ کس لئے ان پر ہماری تجویز کے مطابق خزانہ نازل نہیں کیا گیا یا کس لئے ان کے ساتھ فرشتہ نہیں آیا جو ان کی تصدیق کرتا، آپ تو صرف آگاہ کرنے والے ہیں آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے نہ کہ وہ سب کچھ کردکھانا جس کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے اور اللہ ہر شئ پر پورا اختیار رکھنے والا ہے تو وہ ان کو سزا دے گا کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن خود گھڑ لیا ہے تو) جواب میں ( آپ کہئے کہ تم بھی فصاحت و بلاغت میں میرے جیسے فصیح عرب ہو لہٰذا اس کے جیسی دس سورتیں گھڑ کرلے آو، اولاً ان کو دس سورتوں سے چیلنج دیا) اور ( پھر ایک سورت سے۔ اور اس کام میں مدد کے لئے اللہ کے سوا جس کو تم بلاسکتے ہو بلالو اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ اس کو اس نے خود گھڑ لیا ہے۔ پس اگر وہ غیر جن کو تم نے مدد کیلئے پکارا ہے تمہاری پکار کا جواب نہ دیں تو سمجھ لو خطاب مشرکوں کو ہے کہ یہ) قرآن ( خدا ہی کے علم کے ساتھ اتارا گیا ہے اور اس پر افتراء نہیں ہے اور یہ بھی یقین کرلو انْ مخففہ عن الثقیلہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو کیا تم اس حجت قاطعہ کے بعد بھی مسلمان ہوتے ہو ؟ یعنی مسلمان ہوجاو، جس شخص نے دنیوی زندگی اور اس کی رونق ہی کو مقصد بنا لیا ہے بایں طور کہ اس نے شرک پر اصرار کیا، اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت ریاکاروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو ہم ان کے اعمال خیر مثلاً صدقہ اور صلہ رحمی کا صلہ) دنیا ہی میں ( پورا پورا دیتے ہیں بایں طور کہ ہم ان کے رزق میں وسعت کردیتے ہیں اور دنیا میں ان کے صلہ میں کچھ کمی نہیں کی جاتی) سو ( یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے لئے آخرت میں ناز جہنم کے سوا کچھ نہیں، اور جو کچھ انہوں نے عمل خیر کیا آخرت میں سب ضائع ہوگا تو ان کو کچھ اجر نہ ملے گا اور جو) عمل خیر (وہ کرتے رہے ہیں سب باطل ہوجائیگا، کیا وہ شخص جو اپنے رب کی جانب سے دلیل پر ہو اور وہ) دلیل ( قرآن ہے اور وہ شخص نبی ﷺ یا مومنین ہیں اور اس کے ساتح اللہ کی طرف سے شاہد بھی ہو کہ جو اس کی تصدیق کرتا ہو اور وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں اور قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات بھی اس کی شاہد ہے، حال یہ ہے کہ وہ پیشوا اور رحمت ہے اس شخص کے برابر جو ایسا نہیں ہے، ہوسکتا ہے ؟ نہیں ہوسکتا اور یہی لوگ جو دلیل پر ہیں قرآن پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کیلئے جنت ہے اور تمام کفار میں سے جو فریق بھی اس کا منکر ہوگا تو اس کیلئے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے تو قرآن کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ بالقین قرآن تیرے رب کی جانب سے سراسر حق ہے لیکن اکثر لوگ) یعنی ( اہل مکہ یقین کرنے والے نہیں ہیں اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا کہ جو اللہ کی طرف شریک اور ولد کی نسبت کرکے اللہ پر جھوٹا بہتان لگاتا ہے ؟ کوئی نہیں ہوگا ایسے لوگ منجملہ دیگر لوگوں کے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے) اشھاد ( شاھد کی جمع ہے مراد فرشتے ہیں رسولوں کے بارے میں پیغام رسانی کی اور کفار کے بارے میں جھٹلانے کی گواہی دیں گے گواہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق جھوٹی باتیں کہی تھیں، سب سن لو ایسے ظالموں مشرکوں پر اللہ کی لعنت ہے جو اللہ کے راستے سے دین اسلام سے روکتے تھے اور ٹیڑھے راستہ کی جستجو میں لگے رہتے تھے اور یہ لوگ آخرت کے بھی منکر تھے، ھُمْ سابق ھم کی تاکید ہے یہ لوگ روئے زمین پر اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے تھے اور نہ کوئی غیر اللہ ان کا مددگار ہوگا جو ان سے اللہ کے عذاب کو دفع کرسکے، دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے ایسوں کو دوگنی سزا ہوگی یہ لوگ نفرت کی وجہ سے نہ حق بات سن سکتے تھے اس سے شدید کراہت کی وجہ سے گویا کہ ان میں اس کی طاقت ہی نہیں تھی یہ وہ لوگ ہیں جو دائمی آگ کی طرف لوٹنے کی وجہ سے خود کو برباد کر بیٹھے اللہ پر جو دعوائے شریک گھڑا تھا سب بھول جائیں گے یقینی بات ہے کہ آخرت میں یہی لوگ سب سے زیادہ خسارہ میں ہوں گے، بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور) دل سے ( اپنے رب کی جانب جھکے اور ان کو اطمینان ہوا اور) اس کی طرف ( رجوع کیا، ایسے لوگ اہل جنت ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے دونوں فریقوں یعنی کافروں اور مومنوں کی حالت ایسی ہے جیسے ایک شخص اندھا اور بہرا ہو یہ مثال کافر کی ہے اور ایک شخص ایسا ہو کہ جو دیکھتا بھی ہو اور سنتا بھی ہو یہ مثال مومن کی ہے، کیا دونوں شخص حالت میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں ہوسکتے، کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟ اس میں اصل میں تاء کا ذال میں ادغام، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَلَئِن اَذَقْنَا الْانسَانَ مِنّا رحمۃً ) الآیۃ (لَئنْ میں لام قسمیہ ہے، انَّہ لَیئوس کفور، جواب قسم ہے اور جواب شرط محذوف ہے مِنّا
حال ہے رحمۃً ۔ اَذَقنا کا مفعول ثانی ہے، مِنّا اصل میں رحمۃً کی صفت ہے مقدم ہونے کی وجہ سے حال ہوگئی۔
قولہ : لیئوس اور کفور، یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور یہ دونوں اِنَّ کی خبریں ہیں۔
قولہ : الکافر، اس میں اشارہ ہے کہ الانسان میں الف لام عہد کا ہے۔
قولہ : شدید الکفر بہ یہ کفور کے صیغہ مبالغہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : ولم یتوقع زوَالَھا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذھَبَ السیئات میں مصائب کے صرف ختم ہونے ہی کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ قائل نے ان مصائب کے عدم عود کا ارادہ کیا ہے، یعنی اب حاصل شدہ نعمتوں کے زوال کا اندیشہ نہیں ہے۔
قولہ : لکن اِلاّ کی تفسیر لکن سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہ مستثنیٰ ہے اسلئے کہ لئن اَذقنا الانسانَ میں انسان سے مراد انسان کافر ہے لہٰذا اَلَّذینَ صبروا اس میں داخل نہ ہوں گے۔
قولہ : بیان، بیّنۃ کی تفسیر بیان سے کرکے ایک سوال کا جواب دینا مقصود ہے۔
سوال : اللہ تعالیٰ کے قول یتلوہ کی ضمیر بینۃ کی طرف راجع ہے ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ بینۃ معنی میں بیان کے ہے۔
قولہ : ھو النبی ﷺ او المومنون یہ مَنْ کانَ علیٰ بیْنۃ میں مَنْ کے مصداق کی وضاحت ہے مَن کے مصداق میں دو احتمال ہیں ایک تو آپ ﷺ اور دوسرا مومنون اور وھی القرآن، بینۃ کے مصداق کا بیان ہے۔
قولہ : حَال، ای ھما حالان من کتاب موسیٰ (علیہ السلام) ۔
قولہ : کمن لیس کذلک، مفسر علام نے اس جملہ کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ اَفَمَنْ کانَ الخ مبتداء کی خبر محذوف ہے اور وہ کمنْ لیسَ کذلک ہے۔
قولہ : لا اس میں اشارہ ہے کہ اَفَمَنْ کان علی بینۃ میں ہمزہ انکاری ہے۔
قولہ : یَطلبُون السبیل یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یَبْغونھا کی ضمیر سبیل کی طرف لوٹ رہی ہے حالانکہ ضمیر مونث ہے اور سبیل مذکر ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ لفظ سبیل مذکر اور مونث دونوں طرح مستعمل ہے۔
تفسیر و تشریح
وَلَئِن اَذقنَا الْانسَانَ ) الآیۃ ( پہلی اور دوسری آیت میں بشری طبیعت اور ایک طبعی عادت قبیحہ کا ذکر ہے، اور مسلمانوں کو
اس سے بچنے کی ہدایت ہے، ارشاد ربانی ہے کہ اگر ہم انسان کو کوئی نعمت چکھا دیتے ہیں اور پھر اس سے واپس لے لیتے ہیں تو ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے، اور اگر کسی تکلیف کے بعد کسی نعمت کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ درد دور ہوگئے، اور وہ اترانے اور دوسروں پر فوقیت جتانے اور شیخی بگھارنے لگتا ہے مطلب یہ کہ انسان فطرۃ عجلت پسند اور زود رنج واقع ہوا ہے گذشتہ پر ناشکری اور آئندہ سے مایوسی یہی اس کی زندگی کا حاصل ہے، اگر خدا چند روز اپنی مہربانی سے عیش و آرام میں رکھنے کے بعد کسی تکلیف سے دو چار کردیتا ہے تو پچھلی مہربانیاں بھی بھلا دیتا ہے اور ناامید ہو کر آئندہ کیلئے آس توڑ بیٹھتا ہے۔
اِلا الذین صَبَروا وعملوا لصّٰلحٰت) الآیۃ ( اوپر جو عام لوگوں کا حال بیان ہوا ہے اس سے اللہ کے وہ بندے مستثنی ہیں جو تکلیف و مصیبت کا مقابلہ صبر و استقامت سے کرتے ہیں اور امن و راحت کے وقت شکر گزاری کے ساتھ عمل صالح میں مستعدی سے لگے رہتے ہیں، مذکورہ صفات کے حاملین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انکی خطائیں بخشدی جائیں گی اور ان کو ان کے اعمال کا بڑا اجر ملے گا
شان نزول : فَلَعلَّکَ تارِک بعض ما یوحٰی اِلیکَ یہ آیت ایک واقعہ میں نازل ہوئی ہے واقعہ یہ تھا کہ مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کے سامنے مختلف قسم کی فرمائشیں پیش کیں جن میں ایک یہ کہ اس قرآن میں چونکہ ہمارے بتوں کو برا کہا گیا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان نہیں لاسکتے اسلئے آپ یا تو کوئی دوسرا قرآن لائیں یا اسی میں ترمیم کرکے ہمارے بتوں کی مذمت نکال دیں، ائتِ بقرآن غیر ھذا او بدّلہُ ۔ دوسرے یہ کہ ہم آپ کے رسول ہونے پر جب یقین کریں گے کہ یا تو دنیا کے بادشاہوں کی طرح آپ پر کوئی خزانہ نازل ہوجائے جس سے سب لوگ استفادہ کریں، یا پھر کوئی فرشتہ آسمان سے آجائے وہ آپ کے ساتھ یہ تصدیق کرتا پھرے کہ بیشک یہ اللہ کے رسول ہیں۔
رسول اللہ ﷺ ان کی بیہودہ فرمائشوں سے بہت دل تنگ ہوتے تھے اسلئے کہ یہ فرمائشیں محض بےعقلی پر مبنی تھیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دل جوئی اور تسلی کیلئے یہ آیت نازل فرمائی جس میں کہا گیا ہے کہ کچھ باتیں جو آپ کی جانب وحی کی گئی ہیں اور وہ مشرکین کو گراں گذرتی ہیں، ممکن ہے کہ آپ وہ باتیں انھیں سنانا پسند نہ کریں آپ کا کام صرف انذار و تبلیغ ہے وہ آپ ہر صورت میں کئے جائیں۔
Ayahs 11:25–35آیت نمبر 25 تا 35
ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، ) اَلرّای ( ہمزہ اور ترک ہمزہ کے ساتھ ہے، یعنی تیرے بارے میں بغیر سوچے سمجھے عمل کرنے والے ہیں، اور) بادیَ ( کا نصب ظرفیت کی بنا پر ہے، یعنی پہلے ظاہر ہونے والی رائے پر) بغیر غور و فکر ( عمل کرنے والے، اور ہم تو اپنے اوپر تمہاری کسی قسم کی برتری نہیں سمجھتے کہ جس کی وجہ سے تم ہماری اطاعت کے مستحق ہو، بلکہ ہم تو تم کو دعوائے رسالت میں جھوٹا سمجھتے ہیں خطاب میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کو بھی شامل کرلیا ہے) ورنہ نظنکم کے بجائے نظنکَ ہوتا ( نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو تم مجھے بتاو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل پر ہوا اور اس نے مجھے اپنے فضل سے رحمت) یعنی ( نبوت عطا کی اور تم پر وہ مخفی رہی، اور ایک قراءت میں) عُمِّیَتْ ( میم کی تشدید اور مجھول کے صیغہ کے ساتھ ہے، کیا میں اس رحمت کو زبردستی تمہارے سرمنڈھ سکتا ہوں ؟ یعنی کیا میں اس کو قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہوں ؟ حال یہ کہ تم اس رحمت کو ناپسند کرتے ہو، ہم اس پر قادر نہیں ہیں، اور اے میری قوم کے لوگو میں اس پیغام رسانی پر تم سے مال کا مطالبہ نہیں کرتا کہ جس کو تم مجھے دیتے ہو، میرا اجر وثواب تو اللہ پر ہے اور نہ میں تمہارے کہنے کے مطابق ایمان لانے والوں کو) اپنے پاس سے ( نکال سکتا ہوں انھیں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے رب سے ملنا ہے وہ ان کو جزاء دے گا اور ان لوگوں سے جنہوں نے ان پر ظلم کیا ہوگا اور ان کو دھتکارا ہوگا بدلہ لے گا، لیکن تم کو اپنے انجام سے بیخبر لوگ سمجھتا ہوں، اور اے میری قوم کے لوگو اگر میں ان کو) اپنے پاس سے ( نکال دوں تو مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا ؟ یعنی میرا کوئی بچانے والا نہیں ہوگا، تم کس لئے نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟ تاء ثانیہ کو اصل میں ذال میں ادغام کرکے بمعنی تتعظون، اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ میں عالم الغیب ہوں، اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں بلکہ میں تو تمہارے جیسا بشر ہوں، اور میں ان لوگوں کے بارے میں جن کو تم حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہو یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ ان کو اجر نہ دے گا، جو کچھ ان کے دل میں ہے، اللہ اس کو خوب جانتا ہے، اگر میں ایسا کہوں تو میں بلاشبہ ظالموں میں شمار ہوں گا، ) قوم کے لوگوں نے ( کہا اے نوح تو نے ہم سے بحث کرلی اور خوب بحث کرلی، اب تو جس عذاب کی ہم کو دھمکی دیتا ہے وہ عذاب ہمارے پاس لے آ اگر تو اس دھمکانے میں سچا ہے، ) حضرت نوح (علیہ السلام) نے ( جواب دیا اسے اللہ ہی لائیگا اگر اس کو تمہارے اوپر جلدی لانا چاہے گا اس کا اختیار اسی کے پاس ہے نہ کہ میرے پاس، تم اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے تمہیں میری نصیحت کوئی فائدہ نہیں دے سکتی اگر اللہ کو تمہاری گمراہی مقصود ہو، گو میں تم کو کتنی ہی نصیحت کروں، اور جواب شرط) محذوف ہے ( جس پر لاینفعکم نصحی، دلالت کر رہا ہے، وہی تمہارا پروردگار ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاو گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا کفار مکہ کہتے ہیں کہ قرآن محمد ﷺ نے ازخود تصنیف کرلیا ہے) اے محمد ( کہہ دو کہ اگر اس قرآن کو میں نے ازخود تصنیف کیا ہے تو اس کا جرم یعنی اسکی سزا میرے اوپر ہے اور میری طرف تصنیف کی نسبت کرکے جو جرم تم کرتے ہو میں اس سے بری ہوں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : فیہ ادغام التاء الخ، یعنی تَذَکّرُونَ باب تفعّل سے ہے نہ کہ تفعیل سے۔
قولہ : بیّن الانذار، مبین کی تفسیر بیّن سے کرکے اشارہ کردیا کہ مبین یہاں لازم ہے۔
قولہ : عذابَ یوم الیم، یوم کی صفت الیم کے ساتح اسناد مجازی کے طور پر ہے علاقہ ظرفیت کی وجہ سے۔
قولہ : کالحاکۃِ یہ حائک کی جمع ہے، بمعنی جلاہا۔ قولہ : اَسَاکفۃ یہ اسکاف کی جمع ہے بمعنی موچی، کفش دوز۔
قولہ : بالھمزۃ وتر کہ، یعنی ہمزہ کو باقی رکھ کر) الرای ( اور ہمزہ کو ساقط کرکے) الرای (۔
قولہ : ابتداء الخ اس میں اشارہ ہے کہ بادی بَدَا سے ہے بمعنی ابتداء نہ کہ بدو سے جو کہ بمعنی ظہور ہے۔
قولہ : نصبُہ علی الظرفیۃِ ، یعنی بادِیَ ، اِتبَعَکَ کا ظرف ہے۔
قولہ : وقت حدوث اول رایھم، وقت مضاف محذوف مان کر ایک سوال کا جواب دینا مقصود ہے۔
سوال : یہ ہے کہ ظرف یا تو زمان ہوتا ہے یا مکان اور بادی نہ زمان اور نہ مکان۔
جواب : کا حاصل یہ ہے کہ بادی سے پہلے وقت محذوف ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : ادرجوا قومہ معہ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ نوح (علیہ السلام) تو فرد واحد تھے پھر ان کیلئے نظنکم، جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا ؟۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ کذب کی نسبت میں حضرت نوح کے ساتھ ان پر ایمان لانے والوں کو بھی شریک کرلیا اسی وجہ سے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے۔
قولہ : وَالبناء للمفعول ای اُخْفِیَتْ ۔ قولہ : علی تبلیغ الرسالۃِ اس اضافہ کا مقصد علیہ کی ضمیر کا مرجع بیان کرنا ہے۔
سوال : ماقبل میں تبلیغ الرسالہ کا کہیں ذکر نہیں ہے لہٰذا اس میں اضمار قبل الذکر لازم آتا ہے۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ تبلیغ رسالت کا ماقبل میں اگرچہ صراحۃً ذکر نہیں ہے مگر فحوائے کلام سے مفہوم لے لہٰذا اضمار قبل الذکر لازم نہیں آتا۔
قولہ : اِنّی مفسر علام نے اِنّی مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ لا اعلم کا عطف عندی خزائن اللہ پر ہے نہ کہ اقول پر اسلئے مراد، اِنی لا اقول لک انی اعلم الغیب ہے۔
قولہ : تزدری، اِزدراء) افتعال ( یہ زری یزری سے مشتق ہے اس کے معنی عیب لگانا زریٰ علیہ ای عابہ اس کی اصل تزتری تھی تاء کو دال سے بدل دیا۔
قولہ : بہ اس میں اشارہ ہے کہ ما موصولہ کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے۔
قولہ : اِغوائکم اس میں اشارہ ہے کہ ان یغویکم میں ان مصدریہ ہے۔
قولہ : و جواب الشرط دَلَّ علیہ، ولا ینفعکم نصحی، ثانی شرط یعنی ان کان اللہ الخ کا جواب محذوف ہے جس پر ولا ینفعکم دلالت کر رہا ہے، اور ثانی شرط اپنے جواب شرط سے مل کر اول شرط یعنی ان اردت الخ کا جواب ہے اور یہ ترکیب بصریین کے مذہب کے مطابق ہے اور کفیین کے نزدیک اول شرط کی جزاء، ولا ینفعکم مقدم ہے اس صورت میں تقدیر کلام یہ ہوگی، " ان کان اللہ یرید ان یغویکم فاِنْ اردتُ ان انصح لکم فلا ینفعکم نصحی " اور یہ ترکیب اس وجہ سے ہے کہ جب دو شرطیں اور ایک جواب جمع ہوجائیں تو جواب ثانی شرط کا قرار دیا جاتا ہے اور شرط ثانی اپنی جواب سے مل کر اول شرط کی جزاء ہوتی ہے۔
تفسیر و تشریح
قوم نوح (علیہ السلام) کے شبہات اور ان کے جوابات : حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی تو قوم نے ان کی نبوت اور رسالت پر چند شبہات و اعتراضات پیش کئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے جوابات دئیے جن کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل دیانت اور معاشرت کے بھی آگئے ان آیات میں یہی مکالمہ بیان کیا گیا ہے۔
اعتراضات کا خلاصہ : قوم نوح نے پہلا اعتراض یہ کہہ کر کیا " مَا نَرَاکَ اِلاَّ بشرًا مِثلَنَا " یعنی تم ہم جیسے انسان ہو ہماری ہی طرح کھاتے پیتے چلتے پھرتے ہو، سوتے جاگتے ہو، فرشتے نہیں ہو بشر بھی ایسے کہ تم کو کوئی ہمارے مقابلہ میں امتیازی شان حاصل نہیں ہے مثلاً آپ کوئی دولتمند یا جاہ و حکومت کے مالک ہوتے، اور جو لوگ آپ کے پیرو ہوئے وہ بھی ماشاء اللہ سب کے سب مفلس و نادار رذیل و پست ادنی طبقے کے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنا بھی ہم جیسے شریفوں کیلئے ننگ و عار کی بات ہے، کیا ساری خدائی میں خدا کو منصب نبوت و رسالت پر فائز کرنے کیلئے صرف تم ہی ملے تھے، آخر ہم تم سے حسب و نسب، مال و دولت لوگ ہوتے بھلا ان رذیل اور نیچ لوگوں کو پیرو ہونا آپ کیلئے کیا موجب فضل و شرف ہوسکتا ہے، ایسے سطحی لوگوں کا بےسوچے سمجھے ایمان لے آنا آپ کا کونسا کمال ہے، بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ تم اور تمہارے ساتھی سب چھوٹے ہو بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایک نئی بات پیش کی اور چند بیوقوف گھٹیا قسم کے لوگوں نے ہاں میں ہاں ملا دی تاکہ اس طرح ایک نئ تحریک کھڑی کرکے مالی منفعت اور سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ) یہ ہے ان ملعونوں کی تقریر کا خلاصہ (
حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات کا خلاصہ : یا قوم ارایتم ان کنت علی بینۃ من رّبی الخ یہاں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات کی تقریر شروع ہو رہی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ رسول کا بشر ہونا نبوت و رسالت کے منافی نہیں ہے بلکہ اگر غور کرو تو معلوم ہوگا کہ انسانوں کے رسول کا انسان ہونا ہی ضروری ہے تاکہ انسان کیلئے اس سے استفادہ آسان ہو، انسان اور فرشتے کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے، اگر فرشتہ کا رسول بنا کر بھیج دیا جاتا تو انسان کیلئے اس سے استفادہ نہایت دشوار ہوتا کیونکہ فرشتہ کو نہ تو بھوک لگتی ہے اور نہ پیاس نہ نیند آتی ہے اور نہ تھکان ہوتی ہے اور نہ اس کو انسانی ضروریات و حوائج پیش آتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کو انسانی کمزوری اور ضرورت کا احساس نہیں ہوتا، یہ مضمون قرآن کی دوسری آیتوں میں صراحۃ وکنایۃ آچکا ہے یہاں اس کا ذکر کرنے کے بجائے یہ بتلایا کہ اگر عقل سے کام لو تو رسول کیلئے یہ تو ضروری نہیں کہ وہ بشر نہ ہو البتہ یہ ضروری ہے کہ اللہ کی طرف سے کوئی بینہ اور حجت اس کے پاس ہو، جس کو دیکھ کر لوگوں کو یہ تسلیم کرنا آسان ہوجائے کہ یہ خدا ہی کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہے اور بینہ اور حجت عام لوگوں کیلئے انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات ہوتے ہیں اسی لئے نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے ساتھ بینہ اور حجت اور رحمت لیکر آیا ہوں اگر تم اس کو دیکھتے اور اس میں غور کرتے تو انکار نہ کرتے مگر تمہارے انکار وعناد نے تمہاری نگاہوں کو اس سے اندھا کردیا کہ تم انکار اور ضد پر جمے رہے۔
مگر خدا کی یہ رحمت پیغمبر کے ذریعہ آتی ہے ایسی چیز نہیں کہ زبردستی لوگوں کے سر ڈال دی جائے جب تک وہ خود اس کی طرف رغبت نہ کریں، اس میں اشارہ پایا گیا کہ دولت ایمان کہ جو میں لے کر آیا ہوں اگر میرا بس چلتا تو تمہارے انکار اور ضد کے باوجود تمہیں دے ہی دیتا، مگر یہ قانون قدرت کے خلاف ہے، یہ نعمت زبردستی کسی کے سر نہیں ڈالی جاسکتی، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زبردستی کسی کو مومن و مسلمان بنانا کسی دور نبوت میں جائز نہیں رہا، بزور شمشیر اسلام پھیلانے کا سفید جھوٹ گھڑنے والے خود بھی اس حقیقت سے بیخبر نہیں، مگر ایک بات ہے جو ناواقفوں کے دلوں میں تردد پیدا کرنے کیلئے چلتی کی جاتی ہے۔
اعتراض کا دوسرا جزء : دوسرا جزء جس کو " وَمَا نراکَ اتبعَکَ اِلا الذین ھم اراذلنا بادی الرای " سے بیان کیا ہے یعنی دیکھئے کہ آپ کی پیروی کرنے والے اور آپ پر ایمان لانے والے سب حقیر و ذلیل لوگ ہیں ان میں کوئی شریف اور بڑا آدمی نظر نہیں آتا۔ ایک مطلب تو اس کو یہ ہے کہ اگر تمہاری بات حق ہوتی تو قوم کے بڑے لوگ اس کو قبول کرتے ان ذلیل اور کمزور لوگوں کا قبول کرنا اس کی علامت ہے کہ آپ کی دعوت ہی قبول کرنے کے لائق نہیں اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لئے آپ کی دعوت ایمان قبول کرنے سے رکاوٹ یہ ہے کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو بحیثیت مسلمان ہم بھی ان کے برابر سمجھے جائیں گے نمازوں کی صفوں اور دوسرے مجالس میں ہمیں ان کے ساتھ ان کے برابر بیٹھنا پڑے گا یہ ہم سے نہیں ہوسکتا۔
تجربہ شاہد ہے کہ جاہ و مال کا ایک نشہ ہوتا ہے جو انسان کو بہت سے معقول اور صحیح باتوں کو قبول کرنے سے روک دیتا ہے، کمزور اور غریب آدمی کے سامنے یہ رکاوٹیں نہیں ہوتیں، یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم سے عادۃ اللہ یہی رہی ہے کہ پیغمبروں پر اول ایمان لانے والے غرباء اور کمزور طبقے کے لوگ ہی ہوتے ہیں، اور پچھلی آسمانی کتابوں میں اس کی تصریحات موجود ہیں، اسی وجہ سے جب ہرقل بادشاہ روم کے پاس آنحضرت ﷺ کا دعوتی نامہ مبارک پہنچا تو اس کو یہ فکر ہوئی کہ معاملہ کی تحقیق کرے چونکہ وہ تورات و انجیل میں انبیاء (علیہم السلام) کی علامات پڑھے ہوئے تھا اسلئے عرب کے جو لوگ جن میں ابو سفیان بھی شامل تھے ملک شام میں آئے ہوئے تھے ان کو اپنے دربار میں بلا کر ان سے مدعی نبوت ﷺ کے بارے میں چند سوالات کئے۔
ان سوالات میں ایک یہ بھی تھا کہ ان کی اتباع کرنے والے قوم کے کمزور طبقہ کے لوگ ہیں یا وہ جو قوم کے بڑے کہلاتے ہیں، ان لوگوں نے بتلایا کہ کمزور اور غریب لوگ ہیں، اس پر ہرقل نے اقرار کیا کہ یہ علامت تو سچے نبی ہونے کی ہے اسلئے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے پیرواول یہی کمزور اور غریب لوگ ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ غرباء و مساکین کو نیچ اور ذلیل سمجھنا ان کی جہالت تھی حقیقت میں ذلیل و رذیل تو وہ شخص ہے جو اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کو نہ پہچانے اس کے احکام سے روگردانی کرے۔
یا قوم۔۔۔۔ مالا الخ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے واضح الفاظ میں یہ بات صاف کردی کہ میں اس پیغام رسانی کے عوض تم سے کوئی اجرت و مالی منفعت نہیں چاہتا میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے لہٰذا تمہارے دماغوں میں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ اس دعوائے نبوت سے کہیں ان کا مقصد دنیا کی دولت تو جمع کرنا نہیں ہے تمہاری دولت تم کو مبارک ہو میرا اجر تو اللہ پر ہے۔
وما انا۔۔۔۔ ربھم الخ یعنی اللہ اور رسول کے پیروکاروں کو حقیر سمجھنا پھر ان کو قرب نبوت سے دور کرنے کا مطالبہ کرنا یہ تمہاری جہالت ہے یہ لوگ تو اس لائق ہیں کہ انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے، نہ یہ کہ دھتکارا جائے۔