Ayahs 11:69–83آیت نمبر 69 تا 83
ترجمہ : ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر پہنچے، کہا تم پر سلام ہو سلامًا مصدر ہے ابراہیم نے کہا تم پر بھی سلام ہو کچھ) زیادہ ( دیر نہیں گزری کہ ابراہیم بھنا ہوا بچھڑا لے آئے مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑحٹے تو ان کو اجنبی محسوس کیا نَکِرَ بمعنی اَنکِرَ ہے تو ان کی طرف سے اپنے دل میں ابراہیم نے خوف محسوس کیا فرشتوں نے کہا خوف نہ کرو، ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ ہم اس کو ہلاک کریں اور ابراہیم کی بیوی سارہ ان کی خدمت میں لگی ہوئی تھی تو وہ قوم کی ہلاکت) اور لوط ( کی) نجات کی ( بشارت سن کر ہنس پڑیں، تو ہم نے اس کو اسحاق اور اس کے بعد اس کے بیٹحے یعقوب کی خوشخبری دی اور وہ زندہ رہے گی حتی کہ وہ بھی اس کو دیکھے گی، وہ کہنے لگی ہائے میری کم بختی یہ ایک کلمہ ہے جو امر عظیم کے وقت بولا جاتا ہے اور) وَیْلتٰی ( کا الف یاء اضافت سے بدلا ہوا ہے کیا میرے اولاد ہوگی ؟ حالانکہ میں 99 سال کی بوڑھی پھونس ہوں اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں ان کی عمر 120 سال ہے) شیخاً ( حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا عامل ہذا بمعنی اشیر ہے، یہ یقیناً بڑی عجیب بات ہے کہ بوڑھے خاوند اور بیوی کے اولاد ہو، فرشتوں نے کہا کیا تو اللہ کی قدرت اور اس کی رحمت اور اپنے اوپر برکتوں سے تعجب کرتی ہے، اے ابراہیم کے گھر انے والو بیشک وہ قابل ستائش کریم ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) کا خوف ختم ہوگیا، اور اس کو جب لڑکے کی خوشخبری پہنچ گئی تو وہ قوم لوط کے معاملہ میں ہم سے) یعنی (ہمارے فرشتوں سے کہنے سننے لگے یقیناً ابراہیم بہت تحمل کرنے والے بہت صبر کرنے والے نرم دل) اللہ کی طرف ( جھکنے والے تھے، ) ابراہیم (علیہ السلام) ( نے ان سے کہا تم ایسی بستی والوں کو ہلاک کردو گے جس میں تین سو مومن موجود ہیں، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، ) پھر ( کہا تم ایسی بستی کو ہلاک کردو گے جس میں دو سو مومن موجود ہیں، کہا نہیں، ) پھر ( کہا کیا تم ایسی بستی کو تباہ کردو گے جس میں چالیس مومن موجود ہیں، جواب دیا نہیں) پھر کہا ( کیا تم ایسی بستی کو تباہ کردو گے جس میں چودہ مومن موجود ہیں ؟ جواب دیا نہیں، ) پھر ابراہیم (علیہ السلام) ( نے کہا کیا تم ایسی بستی کو تباہ کرنا مناسب سمجھو گے جس میں ایک مومن ہو، جواب دیا، نہیں، ) پھر ( ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اس بستی میں لوط (علیہ السلام) ہیں، فرشتوں نے جواب دیا ہمیں خوب معلوم ہے جو اس بستی میں ہے جب ان کے درمیان کہا سنی طویل ہوگئی تو فرشتوں نے کہا، اے ابراہیم (علیہ السلام) اس بحث و تکرار کو چھوڑ دو ان کی ہلاکت کیلئے تیرے رب کا حکم آچکا ہے اور ان پر نہ ٹلنے والا عذان ضرور آنے والا ہے، اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اس لئے کہ وہ خوبصورت مہمانوں کی شکل میں تھے، جس کی وجہ سے ان کے بارے میں اپنی قوم سے اندیشہ کیا، اور کہنے لگے آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے، جب قوم کو مہمانوں کی آمد کا علم ہوا تو دوڑتے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور وہ) ان مہمانوں کی آمد ہے ( پہلے ہی بدکاریوں میں مبتلا تھے اور وہ) بدکاری ( مردوں کے ساتھ ہم جنسی کا فعل تھی، لوط (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم کے لوگو یہ ہیں میری بیٹیاں ان سے نکاح کرلو یہ تمہارے لئے پاکیزہ تر ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوانہ کرو کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں ؟ جو بھلی بات کا حکم کرے اور بری بات سے روکے انہوں نے جواب دیا کہ تم بخوبی جانتے ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں کی کوئی حاجت نہیں ہے اور ہم جو چاہتے ہیں اس سے تم بخوبی واقف ہو یعنی ہم جنسی کا عمل، لوط (علیہ السلام) نے کہا کاش کہ مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی طاقت ہوتی یا میں کسی طاقتور قبیلے کا سہارا پکڑتا جو میری مدد کرتا تو میں تمہارا مقابلہ کرتا، جب فرشتوں نے یہ صورت حال دیکھی تو کہا ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں یہ ایذا رسانی کی نیت سے تیرے پاس ہرگز نہیں پہنچ سکتے، پس تم اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر کچھ رات رہے نکل جا، تم میں سے کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھنا چاہیے تاکہ وہ اس عظیم عذاب کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہونے والا ہے، سوائے تیری بیوی کے رفع کے ساتھ احدٌ سے بدل ہے اور ایک قراءت میں نصب ہے اھل سے استثناء کی وجہ سے یعنی تو اس کو اپنے ساتھ نہ لیجانا اس لئے کہ اسے بھی وہی پہنچنے والا ہے جو ان کو پہنچے گا کہا گیا کہ لوط (علیہ السلام) اپنی بیوی کو اپنے ہمراہ نہیں لے گئے اور کہا گیا ہے کہ وہ بھی نکلی تھی اور اس نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا اور کہا ہائے میری قوم، چناچہ ایک پتھر اس کو آکر لگا اور اس کو قتل کردیا (حضرت) لوط (علیہ السلام) نے فرشتوں سے ان کی ہلاکت کا وقت معلوم کیا انہوں نے بتایا کہ ان کی ہلاکت صبح کے وقت ہے لوط (علیہ السلام) نے عرض کیا میں اس سے بھی جلدی چاہتا ہوں تو جواب دیا کہ کیا صبح بالکل قریب نہیں ہے جب ان کی ہلاکت کا ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ان کی بستیوں کو زیر وزبر کردیا بایں صورت کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے ان بستیوں کو اوپر کی طرف اٹھایا اور پلٹ کر زمین پر ڈالدیا اور ہم نے ان بستیوں پر آگ میں پکے ہوئے مسلسل کنکر برسائے جو تیرے رب کی طرف سے نشان زدہ تھے یعنی اس پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس کے ذریعہ ہلاک کیا جانا تھا عند ربک، مسومۃ کا ظرف ہے اور وہ پتھر یا ان کی بستیاں ظالموں یعنی اہل مکہ سے دور نہیں تھیں (شام آتے جاتے وہاں سے گزر ہوتا تھا) ۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مصدرٌ اس میں اشارہ ہے کہ سلامًا سلّمنا فعل محذوف کا مصدر ہے اس میں اس اعتراض کا جواب بھی ہوگیا کہ سلامًا، قالوا کا مقولہ ہے حالانکہ مقولہ مفرد نہیں ہوا کرتا، اس اضافہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلامًا مفرد نہیں ہے بلکہ سلّمنا سے مل کر جملہ ہے۔
قولہ : علیکم، مفسر علام نے علیکم محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ سلامٌ مبتداء ہے اور علیکم اس کی خبر محذوف ہے۔
سوال : سلامٌ نکرہ ہے اور نکرہ کا مبتداء واقع ہونا درست نہیں ہے۔
جواب : کا حاصل یہ ہے کہ سلامٌ میں تنوین تعظیم کی ہے ای سلامٌ عظیمٌ لہٰذا سلام کا مبتداء واقع ہونا درست ہوگیا یہ شرٌّ اَھَرَّ ذاناب کے قبیل سے ہے نیز یہاں بھی مقولہ کے مفرد ہونے کا اعتراض ختم ہوگیا۔
قولہ : بشریٰ خوش کن خبر، خوش کن خبر کا اثر چونکہ چہرۂ بشر ہوتا ہے اسلئے اس کو بشری کہتے ہیں، بشری سے یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق اور ابن اسحاق یعنی یعقوب کی خوش خبری مراد ہے جس کو آئندہ " فبشرناھا باسحق الخ " سے بیان کیا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ بشری سے عام خوشخبری مراد ہو تو اس میں حضرت لوط وغیرہ کی نجات اور اس کی بدکار قوم کی ہلاکت کی خوشخبری بھی شامل ہوگی، مفسر علام نے یہی آخری معنی مراد لئے ہیں۔
سوال : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں جملہ اسمیہ استعمال کیا اور فرشتوں نے جملہ فعلیہ اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : کا حاصل یہ ہے کہ سلام کے جواب کو سلام سے بہتر ہونا چاہیے اسلئے کہ شریعت کا یہی اصول ہے جواب سلام سلام سے جب ہی احسن ہوگا کہ جب جواب میں جملہ اسمیہ استعمال کیا جائے جملہ اسمیہ جملہ فعلیہ سے احسن ہوتا ہے اسلئے کہ جملہ اسمیہ دوام
اور ثبات پر دلالت کرتا ہے۔
قولہ : اَنَکَرَھم، نکرَھم کی تفسیر انکرھم سے کرکے اشارہ کردیا کہ لازم بمعنی متعدی ہے۔
قولہ : یاوَیْلَتَا، اصل میں یا ویلتیْ تھا یاء اضافت کو الف سے بدل دیا۔
قولہ : رحمۃ اللہ الخ یہ کلام مستانف ہے اور انکار تعجب کی علت ہے، یعنی تو اس سے تعجب نہ کر اسلئے کہ یہ تمہارے اوپر اللہ کی رحمت اور برکت ہے۔
قولہ : اَخَذَ یُجَادِلُنَا، یہ اس سوال مقدر کا جواب ہے کہ لَمَّا، کا جواب ماضی ہوتا ہے نہ کہ مضارع اور یہاں لَمَّا کا جواب یجادلنا مضارع واقع ہو رہا ہے جواب یہ ہے کہ یہاں اَخَذَ ماضی محذوف ہے اور وہی لَمَّا کا جواب ہے، اگرچہ ماضی مجازاً بھی لَمَّا کا جواب واقع ہوسکتا ہے بایں طور کہ مضارع پر لَمْ یا لَمَّا داخل ہوجائے مگر بہتر یہی ہے کہ حقیقۃً ماضی جواب واقع ہو۔
قولہ : شانِ چونکہ لفظ قوم میں ظرف بننے کی صلاحیت نہیں ہے اسلئے لفظ شان محذوف مان لیا تاکہ، فی کا ظرف بننا صحیح ہوجائے
قولہ : لَبطشتُ بکم اس میں اشارہ ہے کہ لَوْ کا جواب محذوف ہے۔
قولہ : بالرفع بدل الخ اس لئے کہ استثناء کلام غیر موجب میں بدل مختار ہوتا ہے۔
قولہ : استثناء من الاھل یعنی اِلاَّ امراتک، مِنَ الاھل سے استثناء ہے نہ کہ احدٌ سے اس لئے کہ اَحَدٌ سے استثناء قرار دینے میں امراۃ کا التفات کا حکم دینا لازم آئے گا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
فائدہ : اِلاَّ امرأتک، نصب کے ساتھ یہ جمہور کی قراءت ہے اور ابو عمرو اور ابن کثیر کے نزدیک احدٌ سے بدل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، پہلی قراءت کی صورت میں اِمْراتہ، فاسر باھلک، سے مستثنیٰ ہوگا، ای اسر باھلک جمیعاً الاَّ امرأتک فلا تسربھا، رفع کی قراءت کا ایک جماعت نے انکار کیا ہے، ان میں ابوعبید بھی شامل ہیں۔ (فتح القدیر شوکانی)
تفسیر و تشریح
ولقد جاءت۔۔۔ بالبشری، یہ دراصل حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے قصے کا ایک حصہ ہے حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادرزادہ یعنی اپنے بھائی ہاران کے بیٹے ہیں حضرت لوط (علیہ السلام) کا بچپن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زیر سایہ گزرا تھا اور ان کی تربیت حضرت ابراہیم کی آغوش میں ہوئی تھی اس لئے انہوں نے اور حضرت سارہ نے سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کی یہ دونوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرتوں میں بھی ہمیشہ ساتھ رہے، مصر کے سفر میں بھی یہ دونوں حضرات ساتھ تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی بحیرۂ میت (Sea Dead) کے جنوب مشرق میں واقع تھی جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین میں مقیم تھے، جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کا فیصلہ کرلیا گیا تو ان کی طرف فرشتے بھیجے گئے، یہ فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ٹھہرے اور انھیں بیٹے
کی بشارت دی۔
قالوا سلامًا۔۔۔ الخ، ای سلّمنا علَیْکَ سَلامًا، یعنی ہم آپ کو سلام کرتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بہتر طریقہ سے ان کے سلام کا جواب دیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اول وہلے میں یہ نہ سمجھ پائے کہ یہ فرشتے ہیں اور انسانی شکل میں آئے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ بڑے مہمان نواز تھے اس لئے فوراً ہی ان کے کھانے کا انتظام کیا اور بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لیکر حاضر ہوگئے مگر کھانا سامنے ہونے کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا ابراہیم کو اس سے اندیشہ ہوا کہ یہ مہمان نہیں معلوم ہوتے ممکن ہے کہ کسی غلط ارادہ سے آئے ہوں فرشتے اس اندیشے کو سمجھ گئے اور یہ کہتے ہوئے کہ ہم انسان نہیں فرشتے ہیں اندیشہ کو دور کردیا ہم آپ کو فرزند کی بشارت دینے کے علاوہ ایک اور کام کیلئے بھیجے گئے ہیں، کہ قوم لوط پر عذاب نازل کردیں حضرت سارہ یہ ساری گفتگو سن رہی تھیں، حضرت سارہ اولاد کی خوشخبری سن کر ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ کیا مجھ بڑھیا کے اولاد ہوگی اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں سب کچھ ہے تم اس سے تعجب نہ کرو آپ لوگوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہے۔ ان فرشتوں کی تعداد کیا تھی اس میں اقوال مختلف ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ تین فرشتے تھے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ فرشتے ہیں اگر اس خیال کو درست مان لیا جائے تو یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ پھر ان کے سامنے کھانا کیوں لائے جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔
حضرت سارہ (علیہما السلام) کو لڑکے کی خوشخبری : فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بجائے حضرت سارہ کو لڑکے کی خوشخبری سنائی، اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت سارہ ہی اولاد کی زیادہ متمنی اور خواہشمند تھیں اسلئے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یہاں تو حضرت ہاجرہ کے بطن سے پہلے ہی سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوچکے تھے حضرت سارہ بےاولاد تھیں ان کو خوش کرنے کیلئے فرشتوں نے حضرت سارہ کو خوشخبری سنائی اور خوشخبری صرف بیٹے اسحاق ہی کی نہیں سنائی بلکہ ساتھ ہی پوتے یعقوب کی بھی خوشخبری سنائی جس وقت یہ خوشخبری سنائی اس وقت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی عمر تیرہ سال تھی اور اس خوشخبری کے ایک سال بعد حضرت سارہ کے یہاں حضرت اسحاق پیدا ہوئے۔
حضرت سارہ (علیہا السلام) کیوں ہنسیں : بعض حضرات کہتے ہیں کہ قوم لوط کی فساد انگیزیوں اور بدکاریوں سے وہ بھی واقف تھیں ان کی ہلاکت کی خبر سن کر ان کو بھی مسرت ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور ہنسنے کا تعلق اسی اولاد کی بشارت سے ہے جو فرشتوں نے اس بوڑھے جوڑے کو دی۔
اہل بیت میں بیوی بھی شامل ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اہلیہ محترمہ حضرت سارہ کو فرشتوں نے اہل بیت میں شمار کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کی اولین مصداق اہلیہ ہوتی ہے لہٰذا اس سے اہل تشیع کے اس عقیدہ کی تردید ہوتی ہے کہ اہل بیت میں ازواج داخل نہیں، اہل تشیع اپنے دعوے پر لفظ علیکم سے استدلال کرتے ہیں کہ علیکم جمع مذکر کا صیغہ ہے جس میں مؤنث داخل نہیں حالانکہ سورة احزاب آیت 33 میں رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کو بھی اہل بیت کہا گیا ہے اور انھیں بھی علیکم کے لفظ سے خطاب کیا ہے اور لفظ کی رعایت سے علیکم کہا گیا ہے۔
یجادلنا۔۔۔ لوط یہاں مجادلہ سے وہ کہا سنی مراد ہے جو قوم لوط کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے کہا جس بستی کو تم ہلاک کرنے جا رہے ہو اس میں لوط (علیہ السلام) اور دیگر مومنین موجود ہیں ان کا کیا ہوگا ؟ فرشتوں نے جواب دیا کہ یہ بات ہمیں معلوم ہے لیکن ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو سوائے ان کی بیوی کے بچا لیں گے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کا بیان تو حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصہ کیلئے بطور تمہید کے ہے۔
ولما جاءت۔۔۔ بھم الخ حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس سخت پریشانی کی وجہ یہ لکھی ہے کہ یہ فرشتے جو مہمانوں کی شکل میں آئے تھے نو عمر، بےریش، نہایت خوبرو تھے، جس سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی عادت خبیثہ کے پیش نظر سخت خطرہ محسوس کیا کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو ابھی تک پتہ نہیں تھا کہ یہ نو وارد مہمان فرشتے ہیں اور اسی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے آئے ہیں۔ ادھر یہ ہوا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی جو کافرہ تھی اس نے قوم کے اوباشوں کو اپنے یہاں خوبرو مہمانوں کی آمد کی اطلاع کردی چناچہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا اندیشہ سامنے آگیا اور قوم کے لوگ حضرت لوط (علیہ السلام) کے مکان پر چڑھ آئے، اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ اغلام بازی کی مخصوص شناعت کے علاوہ اور بھی بہت سی بری عادتوں میں مبتلا تھے، اور اجنبیوں اور پردیسیوں کے ساتھ تو ان کی بدسلوکی خاص طور پر بڑھی ہوئی تھی۔
قال یقوم۔۔۔ الخ بناتی کی تشریح اور مراد کی تعیین میں مفسرین کی کافی بحث ہوئی ہے آیا اس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی صلبی بیٹیاں مراد ہیں یا امت کی عورتیں، ایک فریق نے صلبی بیٹیاں مراد لی ہیں یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے مہمانوں کی عزت و آبرو کا دفاع کرنے کیلئے اپنی بیٹیاں قوم کے سامنے پیش کردیں کہ تم میری ان بیٹیوں سے نکاح کرلو مگر مجھے اور میرے مہمانوں کو رسوا نہ کرو مگر قوم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی اور کہہ دیا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہم کس چیز کے خواہشمند ہیں لوط (علیہ السلام) کی شریعت میں مومنہ کا نکاح کافر سے جائز تھا اسلام کے ابتدائی زمانہ تک یہی حکم تھا، چناچہ آپ (علیہ السلام) نے اپنی دو صاحبزادیوں کے نکاح کافروں سے کئے تھے ایک کا عتبہ بن ابی الہب سے اور دوسری کا ابو العاص بن ربیع سے حالانکہ یہ دونوں کافر تھے، بعد میں کافر کے ساتھ مومنہ کے نکاح کی حرمت نازل ہوئی۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں بنات سے قوم کی عورتیں مراد ہیں اسلئے کہ نبی قوم کیلئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور امت بمنزلہ اولاد کے قرین قیاس بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بنات سے صلبی بیٹیاں مراد نہیں ہوسکتیں اسلئے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی کل دو یا تین بیٹیاں تھیں اور گھر پر چڑھ آنیوالا ایک کثیر مجمع تھا، دو یا تین لڑکیوں سے دو یا تین آدمیوں کا نکاح ہوسکتا تھا باقی لوگوں کا کیا ہوتا ؟ بعض حضرات نے یہ تاویل کی ہے کہ ان کے دو سردار تھے ان کیلئے حضرت لوط (علیہ السلام) نے نکاح کی پیش کش کی تھی تاکہ وہ اپنی قوم کو مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے سے روکیں مگر وہ تاویل دل کو نہیں لگتی اس لئے کہ مزاج پوری قوم کا فاسد ہوچکا تھا وہ اس فعل شنیع سے باز آنیوالے نہیں تھے اور نہ اس میں کسی قسم کی قباحت محسوس کرتے تھے چناچہ مندرجہ ذیل مفسرین نے امت کی عورتیں ہی مراد ہیں۔
المراد نساء امتہٖ (کبیر عن مجاہد و سعید بن جبیر) وھذا القول عندی ھو المختار (کبیر) اخرج ابو الشیخ عن ابن عباس۔
قولہٗ " ھٰؤلاء بناتی قال ما عَرَضَ لوطٌ بناتَہٗ علی قومِہٖ لاسفاحًا وَلا نکاحًا، انما قال ھٰؤلاءِ نساء کم، واَخرجَ ابن جریر وابن ابی حاتم عن سعید بن جبیر نحوہ، واخرج ابن ابی الدنیا وابن عساکر عن السّدی نحوہ۔ (فتح القدیر شوکانی)
جب لوط (علیہ السلام) اپنی قوم سے ہر طرح عاجز ہوگئے اور قوم نے ان کی ایک نہ سنی تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی زبان پر یہ کلمات آگئے ” لَوْ أنَّ لی بکم قوۃ اَوْ آوی الی رکن شدید “ یعنی کاش مجھ میں اتنی قوت ہوتی کہ میں اس پوری قوم کا خود مقابلہ کرسکتا یا پھر میرا کوئی جتھا ہوتا تو مجھے ان ظالموں کے ہاتھوں سے نجات دلاتا فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کا اضطراب دیکھ کر بات کھول دی اور کہا گھبرائیے نہیں آپ کی جماعت بڑی قوی اور مضبوط ہے، ہم اللہ کے فرشتے ہیں ان کے قابو میں آنے والے نہیں ان پر عذاب واقع کرنے کے لئے آئے ہیں۔
اس واقع پر تورات کی عبارت : ” شہر کے مردوں یعنی سدوم کے مردوں نے جو ان سے لے کر بوڑھوں تک سب لوگوں نے ہر طرف سے اس گھر کا گھیر لیا اور انہوں نے لوط کو پکار کر کہا وہ مرد جو آج کی رات تیرے یہاں آئے ہیں کہاں ہیں ؟ انھیں ہمارے پاس باہر لاتا کہ ہم ان سے صحبت کریں تب لوط دروازہ سے ان کے پاس باہر گیا اور کواڑ اپنے پیچھے بند کیا اور کہا کہ اے بھائیو ایسا برا کام نہ کیجیو اب دیکھو میری دو بیٹیاں ہیں جو مرد سے واقف نہیں مرضی ہو تو ان کو تمہارے پاس نکال لاؤں، اور جو تمہاری نظر میں پسند ہو ان سے نکاح کرلو مگر ان مردوں سے کچھ کام نہ رکھو کیونکہ وہ اسی واسطے میری چھت کے سایہ میں آئے ہیں “۔ (پیدائش 804: 19)
قوم لوط کا مسکن : شہر سدوم اور عمورہ بحر مردار کے ساحل پر واقع تھے اور قریش مکہ اپنے شام کے سفر میں برابر اسی راستہ سے آتے جاتے تھے ان آبادیوں کی ہلاکت کا زمانہ جدید تحقیق کے مطابق 2061 ق م ہے۔ (ماجدی)
Ayahs 11:84–95آیت نمبر 84 تا 95
ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی) ان کے حق میں کچھ بھی کمی نہ کرو، اور قتل وغیرہ کے ذریعہ ملک میں فساد پھیلاتے مت پھرو، (تَعْثَوْا) عَثِنَی، ثاء کے کسرہ کے ساتھ ہے، بمعنی اَفْسَدَ ، اور مفسدین اپنے عامل تَعْثَوْا کے معنی سے حال مؤکدہ ہے، پورا تولنے اور ناپنے کے بعد اللہ کا دیا ہوا جو تمہارے پاس بچ جائے وہ کم دینے سے بہت بہتر ہے اگر تمہیں یقین آوے اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں کہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دوں مجھے تو آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے تو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) سے استہزاء کے طور پر کہا اے شعیب کیا تیری نماز تجھ کو اس بات کا حکم کرتی ہے کہ تو ہم کو اس بات کا مکلف بنائے کہ ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے آباؤ اجداد بندگی کرتے تھے یا یہ کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی منشا کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں، مطلب یہ کہ یہ غلط بات ہے کوئی خیر کی دعوت دینے والا اس کی دعوت نہیں دے سکتا، واقعی تم بڑے عقلمند دین پر چلنے والے ہو، انہوں نے یہ بات تمسخر کے طور پر کہی، شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل لئے ہوئے ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین حلال روزی دے رکھی ہے کیا میں اس میں حرام کی جو کہ وہ نجس اور کم ناپ تول ہے آمیزش کر دوں اور میرا یہ ارادہ بالکل نہیں کہ تمہاری مخالفت کروں اور میں جس چیز سے تمہیں منع کرتا ہوں اس کی مخالفت کرکے اسی کی طرف چلا جاؤں یعنی خود اس کا ارتکاب کرلوں اور میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر انصاف کے ساتھ تمہاری اصلاح کرنے ہی کا ہے اور میری توفیق یعنی میری قدرت اس پر اور اس کے علاوہ پر اللہ ہی کی مدد سے ہے اور اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں اور اے میری قوم کے لوگو کہیں ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت تم کو مجرم بنا دے (شِقاقی) یَجْرمُ کا فاعل ہے اور کُمْ ضمیر مفعولِ اول ہے اور دوسرا مفعول اَنْ یُصیبَکم الخ ہے، اور تم کو ویسا ہی عذاب پہنچ جائے جیسا قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح کو پہنچا تھا، اور قوم لوط یعنی اسکے مکانات یا ان کی ہلاکت کا زمانہ تم سے دور نہیں ہے، لہٰذا عبرت حاصل کرو اور اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو، یقین مانو میرا رب مومنین پر بڑا مہربان اور ان سے بہت محبت کرنے والا ہے بےتوجہی کو ظاہر کرنے کیلئے ان لوگوں نے کہا اے شعیب تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں، اور ہم تو تجھ کو اپنے اندر کمزور ذلیل پاتے ہیں، اگر تیرے قبیلہ کا خیال نہ ہوتا یقیناً ہم تجھے سنگسار کردیتے اور تجھ کو سنگسار کردینا ہمارے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا البتہ تیرا قبیلہ عزت دار ہے، شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا اے میری قوم کے لوگو کیا میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ سے بھی زیادہ ذی عزت ہے ؟ کہ جن کی وجہ سے تم میرے قتل سے باز رہتے ہو، اور اللہ کیلئے میری حفاظت نہیں کرتے ہو اور تم نے اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے یعنی تم نے اس کو پس پشت ڈالا ہوا سمجھ لیا ہے جس کی وجہ سے تم اس کی نگہداشت نہیں کرتے ہو بلاشبہ میرا رب تمہارا علمی احاطہ کئے ہوئے ہے لہٰذا وہ تم کو جزاء دے گا، اور اے میری قوم کے لوگو تم اپنے طریق پر عمل کئے جاؤ اور میں اپنے طور پر عمل کر رہا ہوں تمہیں عنقریب معلوم ہوجائیگا کہ مَن موصولہ تعلمون کا مفعول ہے کون ہے وہ کہ جس کے پاس رسوا کن عذاب آئیگا ؟ اور جھوٹا کون ہے ؟ اور تم اپنے معاملہ کے انجام کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں، اور جب انکو ہلاک کرنے کا ہمارا حکم آگیا تو ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ظالموں کو ایک چیخ نے جس کو جبرائیل (علیہ السلام) نے مارا تھا پکڑ لیا تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مردہ ہو کر پڑے رہ گئے (کأنْ ) مخففہ ہے یعنی اصل میں کأنَّھم تھا گویا کہ وہ ان گھروں میں کبھی رہتے ہی نہ تھے، خوب سن لو (اہل) مدین کو (رحمت سے) دوری ہوئی جیسی دوری ثمود کو ہوئی۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مَدْیَنَ ، ای اھل مدین ، شعیب (علیہ السلام) اسی قوم کے ایک فرد تھے جو ان کی طرف مبعوث کئے گئے تھے، مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا نام ہے جو ہاجری اور سارہ کے علاوہ ایک تیسری بیوی قطورا کے بطن سے تھے ان ہی کے نام پر ایک شہر کا نام مدین رکھا گیا، اس کا محل و قوع عقبہ سے شرقی جانب تھا آج کل اس کو ” معان “ کہتے ہیں یہ لوگ تجارت پیشہ تھے مصر فلسطین اور لبنان سے تجارت کرتے تھے۔
قولہ : وصف الیوم بہ مجازٌ لوقوعہ فیہ، یہ عبارت اس سوال کا جواب ہے کہ محیط، عذاب کی صفت ہے نہ کہ یوم کی حالانکہ محیط کی اضافت یوم کی جانب ہے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ اس میں مجاز ہے چونکہ عذاب یوم میں واقع ہوگا اور یوم عذاب کا ظرف ہوگا اسی مناسبت کی وجہ سے مظروف کی اضافت ظرف کی جانب کردی ہے۔
قولہ : حال مؤکدۃ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ تَعْثَوْا کے معنی فساد کے ہیں اور مفسدین کے معنی بھی فساد کے ہیں لہٰذا اس میں تکرار ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ تکرار نہیں بلکہ باعتبار معنی کے تاکید ہے۔
قولہ : لا تَعْثَوْا عِثِیٌّ اور عُثِیٌ سے نہی جمع مذکر حاضر، تم فساد برپا نہ کرو۔
قولہ : لمعنی عاملھا، یعنی مفسدین اپنے عامل لا تَعْثَوا کے معنی سے حال ہے اور معنی فساد ہیں۔
قولہ : بَقیَّتُ اللہ لمبی تاء (تاء مطلولہ) کے ساتھ اور ابو عمرو، کسائی اور باقیوں نے تاء مدورہ کے ساتھ پڑھا ہے، بَقیّۃ بچی ہوئی چیز، فعیلۃ کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے یعنی پورا تولنے اور حقوق ادا کرنے کے بعد جو بچے وہ تمہارے لئے اس سے بدد جہا بہتر ہے جو تم کم ناپ تول کر لوگوں کے حقوق مار کر بچا کر اور جمع کرتے ہو، بقیت کی اضافت اللہ کی طرف اس لئے ہے کہ اس ہی نے رزق عطاء کیا ہے یہاں طاعت اور اعمال صالحہ کے معنی میں نہیں ہے۔
قولہ : بتکلیفنا ای بتکلیفک ایّانا، بتکلیفنا مقدر مان کر مفسر علام نے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔
سوال : یہ ہے کہ ترک، کفار کا فعل ہے اور مامور اَصَلٰوتک تامرکَ میں شعیب (علیہ السلام) ہیں ترک کا ترجمہ یہ ہوگا اے شعیب کیا تیری نماز تجھ کو یہ حکم کرتی ہے کہ ہم بتوں کی بندگی ترک کردیں، اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ترک کا حکم تو شعیب (علیہ السلام) کو ہو اور عمل اس پر کافر کریں۔
جواب : کا حاصل یہ ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے اور وہ بتکلیفنا ہے، اب ترجمہ یہ ہوگا کہ اے شعیب کیا تیری نماز تجھ کو اس بات کا حکم کرتی ہے کہ تو ہم کو بتوں کی بندگی کو ترک کا مکلف بنائے۔
قولہ : نَتْرک، اس سے اشارہ کردیا کہ اَنْ نفعل کا بتاویل مصدر ہو کر مَا پر عطف ہے۔
قولہ : افَأشوبہ اس کے حذف میں اشارہ ہے اِنْ شرطیہ کا جواب محذوف ہے۔
قولہ : وَاَذْھَبْ ۔ سوال : اَذْھَبَ مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟
جواب : اس لئے کہ یہاں اخالفَ کا صلہ اِلیٰ لایا گیا ہے حالانکہ اخالف کا صلہ الیٰ نہیں آتا بلکہ عن آتا ہے اذھب محذوف مان کر بتادیا کہ اخالفَ اَذْھَبَ کے معنی کو متضمن ہے لہٰذا الی صلہ لانا درست ہے۔
قولہ : ظِھْرِیًّا پس پشت ڈالا ہوا، الظھری ظَھْر کی جانب منسوب ہے، عرب کی یہ عادت ہے کہ کسی چیز کی طرف نسبت کرتے ہوئے تلفظ میں تغیر کرلیتے ہیں مگر اس پر دوسرے لفظ کو قیاس نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ یہ تغیر کسی قاعدہ کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ غیر قیاسی ہوتا ہے مثلاً بصریٌ کسرہ کے ساتھ بولتے ہیں حالانکہ قیاس فتحہ کے ساتھ ہے اسی طریقہ پر ظھریٌ ہے حالانکہ قیاس ظَھْریٌ فتحہ ظاء کے ساتھ تھا۔
تفسیر و تشریح
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر قرآن میں : وَاِلیٰ مَدْیَنَ أخاھم شُعَیبًا، حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ اعراف اور ھود اور شعراء میں قدرے تفصیل سے کیا گیا ہے اور حجر و عنکبوت میں اجمالی طور پر، قرآن کریم میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر دس جگہ آیا ہے۔
قوم شعیب : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بعثت مدین یا مدیان میں ہوئی تھی، مدین کسی مقام کا نام نہیں بلکہ ایک قبیلہ کا نام ہے یہ قبیلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے مدین کی نسل سے تھا جو ان کی تیسری بیوی قطورا سے پیدا ہوا تھا، اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ خاندان بنی قطورا کہلایا، مدین اپنے اہل و عیال کے ساتھ علاتی بھائی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے قریبی علاقہ حجاز ہی میں آباد ہوگیا تھا یہی خاندان آگے چل کر ایک بڑا قبیلہ بن گیا اور شعیب (علیہ السلام) بھی چونکہ اسی نسل اور اسی قبیلہ سے تھے اس لئے ان کی بعثت کے بعد یہ قبیلہ قوم شعیب کہلایا۔
اصحاب مدین یا اصحاب ایکہ : یہ قبیلہ کس جگہ آباد تھا ؟ اس کے متعلق عبد الوہاب نجار لکھتے ہیں کہ یہ حجاز میں شام کے متصل ایسی جگہ آباد تھا کہ جس کا عرض البلد افریقہ کے جنوبی صحراء کے عرض البلد کے مطابق پڑتا ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ شام کے متصل معان کے خطہ زمین پر آباد تھا۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ مدین اور اصحاب ایکہ دونوں ایک ہی قبیلہ کے نام ہیں یا الگ الگ قبیلہ تھے بعض کا خیال ہے کہ دونوں جدا جدا قبیلہ تھے، مگر راجح یہی ہے کہ دونوں ایک قبیلے کے نام ہیں حافظ عماد الدین ابن کثیر کا خیال ہے کہ یہاں ایکہ نام کا ایک درخت تھا اہل قبیلہ چونکہ اس درخت کی پوجا کرتے تھے لہٰذا اسی نسبت سے مدین کو اصحاب ایکہ کہا گیا، اصحاب الایکہ نسبی نام نہیں بلکہ مذہبی نام ہے، نسبی نسبت سے یہ قبیلہ مدین کہلایا اور مذہبی نسبت سے اصحاب الایکہ کہلایا، مذکورۃ الصدر آیات میں حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ مذکور ہے، ان کی قوم کفر و شرک اور ناپ تول میں کمی کے مرض میں مبتلا تھی، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور ناپ تول میں کمی کرنے سے منع فرمایا اور اس کے انجام بد سے بھی آگاہ کیا مگر قوم اپنے انکار اور سرکشی پر قائم رہی تو پوری قوم کو ایک سخت عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا، یہ عذاب سخت زلزلہ اور آگ کی شکل میں نازل ہوا تھا۔