11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 11:96–109

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا۔

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آ گے آگے چلے گا اور انکو دوزخ میں جا اتارے گا۔ اور جس مقام پر وہ اتارے جائیں گے وہ برا ہے۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس جہان میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی (پیچھے لگی رہے گی) جو انعام انکو ملا ہے برا ہے۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ انکے کچھ بھی کام نہ آئے اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے۔

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اسکی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی (اور) سخت ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

ان (قصوں) میں اس شخص کے لئے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کئے جائیں گے۔

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اسکے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں۔

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہو نگے اور کچھ نیک بخت۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں انکو چلانا اور دھاڑنا ہوگا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

(اور) جب تک آسمان و زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک بخت ہوں گے ہے بہشت میں (داخل کئے جائیں گے اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ کہ خدا کی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے ہیں۔ اور ہم ان کا انکا حصہ پورا پورا بلاکم وکاست دینے والے ہیں۔

آیت نمبر 96 تا 109 ترجمہ : اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور روشن دلیلوں یعنی واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور یہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اس کی اتباع کرتے تھے، پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا اور (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے اور اس دنیا میں بھی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے دن بھی پڑے گا، برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا یہ مذکور چند بستیوں کی سرگذشت ہے جو ہم اے محمد تم کو سنا رہے ہیں ان بستیوں میں سے بعض تو (اب بھی) قائم ہیں کہ ان کے مکین ہلاک ہوگئے مگر بستیاں موجود ہیں اور ان میں سے بعض مع اپنے مکینوں کے ختم ہوگئیں کہ درانتی سے کٹی ہوئی کھیتی کے مانند ان کا نام و نشان بھی نہیں رہا، بغیر جرم کے ہم نے ان کو ہلاک کرکے ان پر ظلم نہیں کیا، لیکن شرک کرکے انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا سو ان کے وہ معبود جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے ان کا کچھ بھی دفاع نہ کرسکے، جب تیرے رب کا عذاب آگیا، اور ان کو بتوں کی عبادت نے بربادی کے سوا کچھ فائدہ نہیں پہنچایا اس پکڑ کے مانند تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ہے جبکہ وہ بستیوں کے ظالم باشندوں کو گناہوں کی وجہ سے پکڑتا ہے بستیوں سے بستیوں کے رہنے والے مراد ہیں یعنی اس کی پکڑ سے ان کو کوئی چیز نہیں بجا سکتی ہے بیشک اس کی پکڑ بڑی دردناک ہے اور بخاری و مسلم نے ابو موسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اس کو چھوڑتا نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے وکذلک اَخْذُ ربک الخ تلاوت فرمائی، یقیناً ان مذکورہ قصوں میں ان لوگوں کیلئے نشان عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں، یہ یعنی قیامت کا دن وہ دن ہے کہ جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ دن حاضری کا دن ہوگا اس دن میں تمام مخلوق حاضر ہوگی، اور ہم اس کو صرف تھوڑی مدت کیلئے جو اللہ کو معلوم ہے ملتوی کئے ہوئے ہیں (پھر) جس وقت وہ دن آئے گا تو کوئی شخص خدا کی اجازت کے بغیر بات تک نہ کرسکے گا (تَکلَّمُ ) میں ایک تاء کو حذف کردیا گیا ہے، پھر مخلوق میں سے بعض بدنصیب ہوں گے اور بعض ان میں سے خوش نصیب ہوں گے اور یہ سب کچھ روز ازل میں لکھا جا چکا ہے، سو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم میں بدنصیب ہیں وہ دوزخ میں ایسے حال میں ہوں گے کہ ان کی آگ میں زور کی اور آہستہ چیخ پکار ہوگی (اور) وہ اسی حالت میں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم ہیں، دنیا میں ان کے دوام کی مدت تک (یہ دوام کیلئے ایک محاورہ ہے) سوائے (مع) اس مزید مدت کے جو تیرا رب چاہے زمین و آسمان کی مدت پر کہ جس کی کوئی انتہا نہیں ہے، اور معنی (آیت) کے یہ ہیں کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے، یقیناً میرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے لیکن جو لوگ نیک بخت کئے گئے، سین کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، وہ جنت میں ہوں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم رہیں گے مگر جو تیرا رب چاہے جیسا کہ سابق میں گذرا، اور اس پر ان کے بارے میں باری تعالیٰ کا قول عطاء غیر مجذوذ دلالت کر رہا ہے یہ سب بےانتہاء بخشش ہے (یعنی) ختم نہ ہونے والی، اور جو تاویل سابق میں بیان ہوئی (یعنی اِلاَّ بمعنی غیر کی) یہ وہ ہے جو میرے سمجھ میں آئی، اور یہ تکلیف سے خالی ہے، اور اللہ اپنی مراد خود ہی بہتر جانتا ہے، لہٰذا اے محمد جن بتوں کی یہ پرستش کر رہے ہیں اس سے شک میں نہ پڑیں ہم ان کو یقیناً عذاب دیں گے جیسا کہ ان سے پہلوں کو عذاب دے چکے ہیں، اور یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے ان کی پوجا پاٹ تو ایسی ہی ہے جیسی کہ اس سے پہلے ان کے باپ دادا نے کی تھی اور ہم نے ان کو عذاب دیا، اور ہم ان کو عذاب کا بغیر نقصان کے پورا پورا حصہ دینے والے ہیں یعنی مکمل۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ن آیتِنَا وسُلطانٍ مبینٍ ، آیات سے مراد تورات اور سلطان مبین سے مراد معجزات ہیں۔ (فتح القدیر) قولہ ؛ المرفود، بمعنی عطاء، انعام، عون، مدد، المعاون، لعنت کو مرفود استہزاء کہا ہے۔ قولہ : الورد اترنے کی جگہ، گھاٹ۔ قولہ : مِنھا، علامہ سیوطی نے منھا محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ حصید کا عطف قائمٌ پر ہے حصیدٌ مبتداء مؤخر اور منھا خبر مقدم ہے قولہ : حصید، فعیل صفت مشبہ بمعنی مفعول کٹی ہوئی کھیتی۔ قولہ : یُفلتہٗ ، اِفلات (افعال) چھوڑنا۔ قولہ : فیہِ ، اس میں اشارہ ہے کہ لَہٌ، میں لام بمعنی فی ہے۔ قولہ : یَشھَدُدٗ ای یشھد فیہ۔ قولہ : غیرَ ما شاء رَبُّکَ میں الابمعنی غیر ہے، سوال اِلاَّ بمعنی غیر لینے میں کیا مصلحت ہے ؟ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ اِلاَّ کے ذریعہ اگر استثناء خلود سے ہے جیسا کہ بعض نے کیا ہے تو یہ کافروں کے جہنم میں عدم خلود پر دلالت کرے گا حالانکہ امر واقعہ ایسا نہیں ہے اور اگر حکم اصلی سے استثناء ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کا قول ففی النار ہے تو اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کفار جہنم میں داخل ہونے کے بعد بعض اوقات جہنم سے نکلیں گے حالانکہ یہ بھی خلاف واقعہ ہے۔ جواب : حاصل جواب یہ ہے کہ اِلاَّ بمعنی غیر ہے اور یہ عرب کے قول ” عَلَیَّ الف اِلاَّ الفان المتقدمان “ یعنی میرے اوپر فلاں شخص کے ایک ہزار ہیں مع سابق دو ہزاروں کے یعنی ایک ہزار دو ہزار کے ساتھ مل کر تین ہزار ہیں اس وقت آیت کے معنی یہ ہوں گے اَنَّ لھم عذابٌ مدۃ دوام السمٰوٰتِ والارض فی الدنیا مع الزیادۃ التی لا آخر لَھَا علی مدۃ بقاءِ السمٰوات والارض۔ قولہ : کما تقدّمَ من قولہ من الزیادۃ علی مدتھما مما لا منتھیٰ لہ، یعنی جو تاویل ما قبل میں ہوئی ہے وہی یہاں ہوگی۔ قولہ : انا نعذبھم الخ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ شک حکم کے ساتھ متعلق ہوتا ہے اور مِریۃ، حکم نہیں ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے ای لاتک یا محمد فی مریۃ اِنا نعذبھم الخ۔ قولہ : کعبادتھم اس میں اشارہ ہے کہ ما یعبدون میں ما مصدر یہ ہے یعنی یہ لوگ اپنے آباء کے عبادت کرنے کے مطابق عبادت کرتے ہیں۔ قولہ : تامًا کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ بعض اوقات کل بول کر بعض مراد ہوتا ہے مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔ تفسیر و تشریح ولقد ارسلنا۔۔۔۔ مبین، اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا، آیات سے مراد بعض حضرات کے نزدیک تورات اور سلطان مبین سے معجزات مراد ہیں، اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ آیات سے آیات تسعہ اور سلطان مبین (روشن دلیل) سے عصا مراد ہے، عصا اگرچہ آیات تسعہ میں شامل ہے لیکن یہ معجزہ چونکہ نہایت عظیم الشان تھا اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سلطان مبین سے وہ روشن دلائل مراد ہوں جو توحید وغیرہ کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کئے تھے۔ وما امر۔۔۔ برشید، یعنی کھلے معجزات دیکھ کر بھی فرعونیوں نے پیغمبر خدا (موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہ مانی اسی دشمن خدا کے حکم پر چلتے رہے حالانکہ اس کی کوئی بات ٹھکانے کی نہیں تھی جسے مان کر انسان بھلائی حاصل کرسکتا، فرعون جس طرح دنیا میں کفر و تکذیب کا امام تھا قیامت کے دن بھی امام رہے گا۔ فرعون چونکہ دنیا میں بدی اور بدکاری کا لیڈر تھا دوزخ میں بھی اس کی یہ لیڈری قائم رہے گی اور یہ حکم فرعون کے ساتھ خاص نہیں محققین نے کہا ہے کہ جو کوئی مفسدوں کا پیشوا ہوگا وہ اپنے متبعین اور ذریعت کو لے کر ہی جہنم میں داخل ہوگا، اور یہی وہ گھاٹ ہے جہاں ٹھنڈے پانی کے بجائے بھسم کردینے والی آگ ملے گی، وِرد پانی کی گھاٹ کو کہتے ہیں جہاں پیاسے جاکر اپنی پیاس بجھاتے ہیں، لیکن یہاں جہنم کو ورد کہا گیا ہے۔ واتبعوا۔۔۔ الخ لعنت سے مراد پھٹکار اور رحمت الہٰی سے دوری و محرومی ہے یعنی رہتی دنیا تک ان پر لعنت پڑتی رہے گی اور قیامت میں بھی فرشتے اور اہل موقف ان پر لعنت کریں گے۔ ذلک من انباء القریٰ ، یعنی پچھلی قوموں کے قصے جو ہم تم کو سنا رہے ہیں ان میں دو قسم کی بستیاں تھیں ایک تو وہ کہ جن کو بالکل صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا یہاں تک کہ روئے زمین پر ان کا کوئی نشان تک نہیں چھوڑا مثلاً امت لوط کا مسکن کہ ان کا اب دنیا میں کوئی نشان بھی موجود نہیں دوسرے وہ جن کی آبادی ہلاک کردی گئی باقی وہ زمین اور علاقے قائم ہیں جیسے عاد وثمود کے مکانوں کے کھنڈر۔ واما الذین۔۔۔ الخ ان آیات کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جس قدر مدت آسمان اور زمین دنیا میں باقی رہے اتنی ہی مدت اشقیا (بدکار) دوزخ میں اور سعداء (نیکو کار) جنت میں رہیں گے مگر جو اور زیادہ چاہے تیرا رب، وہ اسی کو معلوم ہے اسلئے کہ جب طویل سے طویل زمانہ کا تصور کرتے ہیں تو اپنے ماحول کے اعتبار سے بڑی مدت یہی خیال میں آتی ہے اس لئے مادامت السمٰوات والارض وغیرہ الفاظ محاورات عرب میں دوام کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے بولے جاتے ہیں، باقی دوام و ابدیت کا اصلی مدلول جسے لامحدود زمانہ کہنا چاہیے وہ حق تعالیٰ کے علم غیر متناہی کے ساتھ مختص ہے جس کو ماشاء ربّک سے ادا کیا ہے۔ دوسرے معنی آیت کے یہ ہوسکتے ہیں کہ لفظ مادامت السمٰوات والارض کو کنایہ دوام سے مانا جائے یا آسمان و زمین سے آخرت کی زمین مراد لی جائے جیسے فرمایا ” یوم تبدّل الارض غیر الارض والسمٰوات (سورۂ ابراہیم) مطلب یہ ہوا کہ اشقیاء دوزخ اور سعداء جنت میں اس وقت تک رہیں گے جب تک آخرت کی زمین و آسمان باقی رہیں گے یعنی ہمیشہ، مگر جو چاہے تیرا رب تو موقوف کر دے، وہاں ہمیشہ نہ رہنے دے کیونکہ دوزخیوں اور جنتیوں کا خلود بھی اسی کی مشیت اور اختیار سے ہے لیکن وہ چاہ چکا کہ کفار و مشرکین کا عذاب اور اہل جنت کا ثواب کبھی موقوف نہ ہوگا۔ (فوائد عثمانی)
Ayahs 11:110–123

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہ میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) انکے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا۔ بیشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے۔

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ وہ تمہارے (سب) اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں انکی طرف مائل نہ ہونا نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آ لپٹے گی۔ اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں (اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے) تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں۔

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کئے رہو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ؟ ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ انہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جن میں عیش و آرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہ ظلم تباہ کردے۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لئے اس نے انکو پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

(اے محمد) پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور (یہ) مومنوں کے لئے نصیت اور عبرت ہے۔

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ ہم (اپنی جگہ) عمل کئے جاتے ہیں۔

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور (نتیجہ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھر وسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بیخبر نہیں۔

آیت نمبر 110 تا 123 ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف اشارہ کرنے کیلئے ہے اور لام فارقہ ہے اور ایک قراءت میں لَمَا تشدید کے حکم سے عمل اور دعوت الی الحق پر حکم کے مطابق ثابت قدم رہے اور وہ بھی ثابت قدم رہیں جو آپ کی ساتھ ایمان لاچکے ہیں اور اللہ کی حدود سے تجاوز نہ کرو وہ یقیناً جو کچھ تم کرتے ہو دیکھتا ہے لہٰذا وہ اس کی جزاء دے گا، (اور دیکھو) ظالموں کی طرف مت جھکنا ان کے ساتھ دوستی کرکے یا نرمی کرکے یا ان کے اعمال پر رضا مندی ظاہر کرکے (ورنہ) تمہیں بھی آتش دوزخ لگ جائے گی، اور اللہ کے سوا دوسرا کوئی تمہارا حمایتی نہ ہوگا جو تم کو اللہ سے بچا سکے اور نہ تم اس کے عذاب سے بچائے جاؤ گے، اور (اے محمد) دن کے دونوں طرفوں صبح اور شام یعنی فجر کی اور ظہر کی اور عصر کی نمازوں کی پابندی رکھئے اور رات کے ایک حصہ میں (بھی) یعنی مغرب اور عشاء کی (زُلَفًا) زُلفۃ کی جمع ہے اس کے معنی حصہ کے ہیں، بلاشبہ نیکیاں مثلاً پنجوقتہ نماز صغیرہ گناہوں کو ختم کردیتی ہیں (مذکورہ آیت اس شخص ابو الیسر) کے بارے میں نازل ہوئی جس نے ایک اجنبی عورت کا بوسہ لے لیا تھا، پھر اس کی اطلاع نبی ﷺ کو دی تو مذکورہ آیت نازل ہوئی، تو اس شخص نے کہا کیا یہ (حکم) میرے لئے خاص ہے آپ نے فرمایا، میری پوری امت کیلئے ہے، شیخین نے اس کو روایت کیا ہے، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے، اور اے محمد اپنی قوم کی ایذا رسانی پر یا نماز کی پابندی پر صبر کرو طاعت پر صبر کے ذریعہ نیکی کرنے والوں کے اجر کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں فرماتے پس کس لئے تم سے پہلے سابقہ امتوں میں کیوں ایسے دیندار اور اصحاب فضل نہ ہوئے جو (لوگوں کو) فساد فی الارض سے روکتے ؟ مراد (استفہام سے) نفی ہے یعنی ان میں ایسے لوگ نہیں ہوئے، لیکن بہت کم جن کو ہم نے ان میں سے نجات دی، کہ انہوں (برائی سے) روکا جس کی وجہ سے وہ نجات پاگئے، مِنْ بیانیہ ہے اور جن لوگوں نے فساد یا ترک نہی کرکے ظلم کیا وہ تو اسی سامانِ عیش کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دئیے گئے تھے اور وہ مجرم ہی رہے، اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلما ہلاک کر دے حالانکہ اس بستی والے مومن ہوں، اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک دین پر کردیتا اور وہ دین کے معاملہ میں مسلسل اختلاف ہی کرتے رہے، سوائے اس کے کہ جس پر تیرے رب نے رحم کیا کہ ان کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا تو انہوں نے دین میں اختلاف نہیں کیا اور اسی کے لئے ان کو یعنی اہل اختلاف کو اختلاف کے لئے اور اہل رحمت کو رحمت کیلئے پیدا فرمایا اور تیرے رب کی یہ بات پوری ہوگی اور وہ یہ کہ میں جہنم کو جنوں سے اور انسانوں سے بھر دوں گا، اور ہم رسولوں کے قصوں میں سے یہ تمام (مذکورہ) قصے سنا رہے ہیں (کلّا) نقصُّ کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے یعنی ہر وہ قصہ جس کے سنانے کی ضرورت ہو ما، کلاَّ سے بدل ہے تاکہ ہم اس کے ذریعہ آپ کے دل کو تقویت (تسلی) دیں اور ان واقعات یا آیات میں بھی حق آپ کے پاس پہنچ چکا ہے اور مومنین کے لئے وعظ و نصیحت ہے مومنین کو اس لئے خاص کیا گیا ہے کہ وہ ان پندو نصائح سے اپنے ایمان میں فائدہ اٹھاتے ہیں، بخلاف کفار کے آپ ایمان نہ لانے والوں سے کہہ دو تم اپنے طور پر عمل کئے جاؤ ہم اپنے طور پر عمل کر رہے ہیں (یہ) ان کیلئے تہدید (دھمکی) ہے تم اپنے عمل کے انجام کا انتظار کرو میں (بھی) اس کا انتطار کر رہا ہوں زمین اور آسمانوں کی پوشیدہ چیزوں کا علم صرف اللہ ہی کو ہے یعنی ان چیزوں کا علم جو ان میں مخفی ہیں، اور تمام امور اسی کی طرف رجوع ہوں گے (یرجع) معروف اور مجھول دونوں طرح ہے لہٰذا وہ نافرمانی کرنے والے سے انتقام لے گا، تو آپ صرف اسی کی بندگی کیجئے اور اسی پر بھروسہ کیجئے اسلئے کہ وہ تمہارے لئے کافی ہے اور آپ کا رب ان باتوں سے غافل نہیں جو تم لوگ کر رہے ہو (یہ اور بات ہے) کہ ان کو اس نے ان کے وقت مقرر تک کے لئے مہلت دے رکھے ہے، اور ایک قراءت میں (تاء) فوقانیہ کے ساتھ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَاِنَّ بالتشدید والتخفیف کُلاَّ ای کلّ الخلائقِ لَمَّا، اِنَّ اور لَمَّا میں کل چار قراءتیں ہیں، (1) اِنْ اور لَمَا دونوں مخفف، (2) دونوں مشدد، (3) اِنْ مخففہ اور لَمَّا مشددہ، (4) اِنَّ مشددہ اور لَمَا مخففہ، یہ چاروں قراءتیں متواترہ ہیں۔ چاروں قراءتوں میں کُلاًّ اسم اِنَّ ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا، اور اِنَّ کی خبر جملہ قسمیہ لیوفّینَّھُمْ رَبُّکَ اَعْمالَھم ہوگی، اور لَمَّا مشددہ ہونے کی صورت میں لیُوَفینَّھُمْ الخ جملہ ہو کر اِنَّ کی خبر ہوگی۔ قولہ : الخَلائق، لفظ خلائق محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ کُلٌّ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ قولہ : مَا زائدۃ، لَمَا مخففہ کی صورت میں مَا زائدہ ہے اگر مَا زائدہ کو حذف کردیا جائے تو لفظ واحد پر دو لاموں کا داخل ہونا لازم آئیگا جو کہ موجب تقل ہوگا اور تقدیر عبارت لَلَیوفَینَّھُمْ ہوگی۔ قولہ : وَالاَّ لام موطئۃ لقسم مقدرٍ یعنی لیوفینَّھُمْ میں لام قسم کے حذف پر دال ہوگا، یعنی اس بات پر دلالت کرے گا کہ قسم محذوف ہے۔ قولہ : اَوفارقۃ، یعنی لَیُوَفِّینَّھُمْ میں لام فارقہ ہے یہ لیوفینَّھُمْ کے لام میں دوسرے مذہب کی طرف اشارہ ہے، لام فارقہ کا مطلب ہے ان نافیہ کے درمیان فرق کرنے والا یعنی اگر خبر پر لام داخل ہو تو اس سے معلوم ہوجائیگا کہ اِنْ مخففہ عن المثقلہ ہے۔ تنبیہ : یہ بات یاد رہے کہ لام فارقہ ان مخففہ کی خبر پر اس وقت داخل ہوتا ہے جب اِنْ مخففہ کو عمل سے روک دیا گیا ہو (یعنی اہمال کی صورت میں) جیسے اِنْ زیدٌ لَقَائمٌ اور اگر ان زیدًا لقائم پڑھا تو التباس نہ ہونے کی وجہ سے لام فارقہ کی ضرورت نہ ہوگی، اور آیت کریمہ اِنَّ کُلاِّ لَمَّا لَیوفینَّھُمْ میں چونکہ اِنَّ عاملہ ہے، لہٰذا لام کو فارقہ قرار دینا درست نہیں ہے، اس لئے کہ ان نافیہ اور مخففہ میں اسی وقت التباس ہوتا ہے جب ان کو عمل سے روک دیا گیا، اور بعض حضرات نے مذکورہ عبارت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ واللام مؤطیۃ کا تعلق اِنَّ مشددہ کی صورت سے ہے اور فارقہ کا تعلق مخففہ سے ہے۔ قولہ : کُلاًّ نصبٌ بنقصُّ یعنی کُلاًّ سے پہلے نقصُّ محذوف ہے جو کُلاًّ کا ناصب ہے۔ تفسیر و تشریح ولقد۔۔۔ فیہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ قرآن کے بارے میں لوگوں کی نکتہ چینیوں اور چہ میگویوں سے رنجیدہ اور خاطر برداشتہ نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر نبی اور ہر کتاب کے بارے میں لوگوں نے یہی معاملہ کیا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی گئی تھی تو اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا، بیشک خدا کو یہ قدرت تھی کہ یہ اختلاف و تفریق پیدا نہ ہونے دیتا اور پیدا ہونے کے بعد دم زدن میں فیصلہ کرتا مگر اس کی حکمت تکوینی کے تحت یہ بات پہلے ہی طے ہوچکی تھی کہ انسان کو ایک خاص حد تک کسب و اختیار کی آزادی دیکر آزمائے کہ وہ کس راستہ پر چلتا ہے آیا وہ خالق و مخلوق کا حق پہچان کر رحمت خداوندی کا مستحق بنتا ہے یا کجروی اور غلط کاری سے خدا کے غیظ و غضب کا مستحق قرار پاتا ہے، غرضیکہ اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر انسان کی ساخت ایسی بنائی کی وہ نیکی یا بدی کے اختیار کرنے میں بالکل مجبور و مضطر نہ ہو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں خیر و شر نیکی و بدی کی ہمیشہ آمیزش جاری رہے گی، اور وقت آنے پر ہر ایک کے اعمال کا پورا پورا بدلہ چکا دیا جائیگا، عام لوگ اِنْ حکمتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے خلجان و تردد میں پڑے ہوئے ہیں کہ آئندہ بھی ان اختلافات کا فیصلہ ہوگا یا نہیں۔ فَاسْتفم۔۔۔۔ الخ اس آیت میں آپ ﷺ اور اہل ایمان کو ایک تو استقامت کی تلقین کی جا رہی ہے جو دشمن کے مقابلہ کیلئے ایک بہت بڑا ہتھیار ہے دوسرے طغیان و سرکشی سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جو اہل ایمان کی اخلاقی قوت اور رفعت کردار کیلئے بہت ضروری ہے حتی کہ تجاوز دشمن کے ساتھ معاملہ کرتے وقت بھی جائز نہیں۔ ولا ترکنوا۔۔۔ الخ سابقہ آیت میں خود کو تعدی اور عدوان سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے اب اس آیت میں ظالموں اور سرکشوں کی جانب میلان سے روکا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ساتھ بےجا نرمی اور مداہنت کرتے ہوئے ان سے مدد کے طالب نہ ہو، ان کو اس سے یہ تاثر ملے گا کہ گویا تم ان کی دوسری باتوں کو بھی پسند کرتے ہو، اس طرح تمہارا یہ کام بڑا جرم بن جائے گا جس کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ آتش دوزخ کی کوئی لپٹ آپ کو بھی لگ جائے۔ واقم الصلوۃ۔۔۔ الخ دونوں سروں سے مراد بعض مفسرین نے فجر اور مغرب اور بعض نے صرف عشاء اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت لیا ہے، امام ابن کثیر فرماتے ہیں ممکن ہے یہ آیت معراج سے پہلے نازل ہوئی جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں، کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نمازیں ضروری تھیں ایک طلوع شمس سے قبل اور غروب سے قبل اور رات کے آخری حصہ میں تہجد کی نماز، پھر تہجد کی نماز امت سے معاف کردی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ ﷺ سے بھی ساقط ہوگیا، (ابن کثیر) یہ چار نمازوں کے اوقات کا بیان ہوگیا، ظہر کی نماز کا وقت ” اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس “ میں آیا ہے، زُلَفًا، زُلفَۃ کی جمع ہے جس کے معنی ایک حصہ کے ہیں۔ ایک عظیم فائدہ : اس آیت میں نمازوں کے اوقات کے بیان کے بعد بتلایا گیا ہے کہ ” اِنَّ الحسناتِ یُذھبنَ السّیاٰت “ یعنی نیک کام برے کاموں کو مٹا دیتے ہیں، نیک کاموں سے ہر قسم کے نیک کام مراد ہیں مگر نمازوں کو ان سب میں اولیت حاصل ہے اسی طرح سیّآت کا لفظ تمام برے کاموں کو شامل ہے خواہ وہ کبیرہ ہوں یا صغیرہ لیکن قرآن مجید کی ایک دوسری آیت نیز رسول اللہ ﷺ کے متعدد ارشادات نے اس کو صغیرہ گناہوں کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے، قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ ” اِنْ تَجْتَنِبُوا کبائرَ مَا تُنْھَونَ عنہ نکفر عنکم سیآتکم “ یعنی اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہوں کا خود کفارہ کردیں گے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کہ پانچ نمازیں اور ایک جمہ دوسرے جمہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ان تمام گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں جو ان کے درمیان صادر ہوئے ہوں، جبکہ یہ شخص کبیرہ گناہوں سے بچا رہا ہو “ مطلب یہ کہ بڑے گناہ تو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے مگر چھوٹے گناہ دوسرے نیک کاموں سے معاف ہوجاتے ہیں، مگر تفسیر بحر محیط میں محققین علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ صغیرہ گناہ بھی نیک کام کرنے سے جب ہی معاف ہوتے ہیں جبکہ آدمی ان کے کرنے پر نادم ہو اور آئندہ نہ کرنے کا ارادہ کرے ان پر اصرار نہ کرے۔ الا من رحم۔۔۔ الخ یعنی اللہ کی تقدیر اور قضاء میں یہ بات طے ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو جنت کے اور کچھ ایسے ہوں گے جو جہنم کے مستحق ہوں گے اور دوزخ و جنت کو انسانوں اور جنوں سے بھر دیا جائیگا، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ نے فرمایا ” جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑ پڑے، جنت نے کہا کیا بات ہے کہ میرے وہی لوگ آئیں گے جو کمزور اور معاشرہ کے گرے پڑے لوگ ہوں گے ؟ جہنم نے کہا میرے اندر تو بڑے بڑے جبار اور متکبر قسم کے لوگ ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت کی مظہر ہے تیرے ذریعہ سے میں جس کو چاہوں گا جزا دوں گا، اللہ تعالیٰ دوزخ اور جنت دونوں کو بھر دے گا، جنت میں ہمیشہ اس کا فضل ہوگا، حتی کہ اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا کرے گا جو جنت کے باقی ماندہ رقبے کو بھر دے گی اور جہنم، جہنمیوں کی کثرت کے باوجود ” ھَلْ مِنْ مزید “ کا نعرہ بلند کرے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدم رکھے گا جس پر جہنم کہہ اٹھے گی قَط قَط وَعزتک ” بس بس تیری عزت و جلال کی قسم “۔ (صحیح بخاری کتاب التوحید، باب النار) تم بحمد اللہ