12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 12:1–6

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الف لام را۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سجمھ سکو

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں۔ اور تم اس سے پہلے بیخبر تھے۔

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (ممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بیشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم عالا ہے، الٓمرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں کتاب مبین حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب کی ہیں (آیات الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اے اہل مکہ تم اس اس کے معانی کو (پہلے) سمجھو، ہم نے اس قرآن کی وحی آپ کی طرف کرکے آپ کو ایک بہت عمدہ قصہ سنانا چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اس سے پہلے بالکل بیخبر تھے اور اِنْ مخففہ ہے ای واِنَّہ وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ابا یعقوب (علیہ السلام) سے کہا تھا اب اباجان (أبَتِ ) کی تاء کے کسرہ کے ساتھ جو کہ یاء اضافت محذوفہ پر دال ہے، اور تاء کے فتحہ کے ساتھ، جو کہ الف محذوفہ پر دال ہے جو کہ یاء سے بدلا ہوا ہے میں نے خواب میں گیارہ ستاروں کو اور شمس و قمر کو اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (ساجدین) یاء نون کے ساتھ جمع لائی گئی ہے ستاروں کے سجدہ کے وصف سے متصف ہونے کی وجہ سے جو کہ عقلاء کی صفت ہے (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا اے میرے پیارے بیٹے تم اپنے اس خواب کا تذکرہ اپنے بھائیوں سے نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں حسد کی وجہ سے تیری ہلاکت کی کوئی تدبیر کریں ان کے اس خواب کی تعبیر سے واقف ہونے کی وجہ سے کہ کواکب سے مراد وہ خود ہیں اور شمس سے تیری والدہ اور قمر سے مراد تیرے والد ہیں شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے یعنی اس کی دشمنی ظاہر ہے، اور اس کے مطابق جو تو نے (خواب میں) دیکھا تیرا رب تجھ کو منتخب کرے گا، اور تجھ کو تعبیر رؤیا کا علم سکھائیگا اور تجھے تیرا رب نبوت کے ذریعہ بھر پور نعمتیں عطا کرے گا اور آل یعقوب یعنی اس کی اولاد کو بھی جیسا کہ اس سے پہلے نبوت کے ذریعہ تیرے باپ دادا ابراہیم و اسحاق کو نعمتیں عطا فرمائیں، بیشک تیرا رب اپنی مخلوق سے باخبر ہے اور ان کے ساتھ ان کی تدبیر کے بارے میں باحکمت ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ھذہ الآیات، اس میں تلک اسم اشارہ مونث لانے کی وجہ کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : المظھر للحق اس میں اشارہ ہے کہ مبین ابان سے متعدی ہے۔ قولہ : بایحائنا، اس میں اشارہ ہے کہ مَا مصدریہ ہے نہ کہ موصولہ کہ اس کے صلہ میں عائد کی ضرورت ہو۔ قولہ : مخففۃ ای اِنَّہٗ اس میں اشارہ ہے کہ انْ مخففہ عن المثقلہ اور اِنْ کا اسم ضمیر شان محذوف ہے ای اِنہٗ ، اور لَمَنَ الغٰفلین میں لام فارقہ ہے۔ قولہ : دلالۃ علی الفٍ محذوفۃ، اسلئے کہ اس کی اصل یا اَبَتَا تھی الف حذف کردیا گیا فتحہ باقی رہ گیا تاکہ حذف الف پر دلالت کرے قولہ : فی المنام، اس اضافہ میں اشارہ ہے کہ رأیتُ رؤیا سے بدل ہے نہ کہ رؤیت سے۔ قولہ : تاکیدٌ، رأیتُھُمْ رأیتُ کی تاکید ہے لہٰذا بےفائدہ تکرار کا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : یحتالوا، کا اضافہ اس بات کا جواب ہے کہ کیدًا متعدی بنفسہ ہوتا ہے حالانکہ یہاں متعدی باللام لایا گیا ہے جواب کا حاصل یہ ہے کیدٌ کا احتیال کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے متعدی بالام لانا درست ہے۔ تفسیر و تشریح آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد : آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی ہوتی ہے اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے کہ جب وہ کتاب اس قوم کی زبان میں ہو جو اس کے اولین مکاطب ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر آسمانی کتاب اسی قوم کی زبان میں نازل ہوئی جس قوم کی ہدایت کیلئے وہ نازل کی گئی، قرآن کریم کے اولین مخاطب چونکہ عرب تھے اس لئے قرآن عربی زبان میں نازل ہوا، علاوہ ازیں اپنی فصاحت و بلاغت اور اعجاز اور ادائے مافی الضمیر کے اعتبار سے دنیا کی بہترین زبان ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس اشرف کتب کو اشرف اللغات (عربی) اشرف الرسل (محمد ﷺ پر اشرف الملائکہ (جبرائیل) کے ذریعہ نازل فرمایا۔ شان نزول : شان نزول کے سلسلہ میں جو روایت ملتی ہے ایک ان میں سے وہ ہے جس کو ابن مردویہ اور ابو نعیم اور بیہقی نے جابر بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک یہودی بستانی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے محمد آپ مجھے ان ستاروں کے بارے میں بتلائیے جن کو یوسف (علیہ السلام) نے خواب میں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، آپ ﷺ اس وقت خاموش رہے اس کے بعد حضرت جبرائیل نازل ہوئے ان گیارہ ستاروں کے نام بتائے آپ ﷺ نے اس یہودی بستانی کو بلایا اور اس سے کہا اگر میں ان کے نام بتادوں تو کیا ایمان لائیگا اس نے کہا ہاں، تو آپ نے ستاروں (بھائیوں) کے نام بتائیے۔ (1) الذیال (2) الوثاب (3) الطارق (4) فلیق (5) الصبح (6) القابس (7) الضروح (8) الخرثان (9) الکتفان (10) العمودان (11) ذوالفرع۔ یہودی نے کہا صدقت یا محمد اور وہ اسلام نہیں لایا، مگر اس روایت کی سند میں کئی راوی متکلم فیہ ہیں اور ابن جوزی نے کہا یہ روایت موضوع ہے (اعراب القرآن للدرویش) بعض روایتوں میں ناموں کا اختلاف بھی ہے حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی مرحوم نے قصص القرآن میں سورة یوسف کا شان نزول اس طرح تحریر فرمایا ہے، لکھتے ہیں کہ سورة یوسف کے شان نزول کے سلسلہ میں حدیثی روایات اور مفسرین کے اقوال کا حاصل یہ ہے کہ کفار مکہ نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کے متعلق گفتگو کی اور اپنی درماندگی اور پریشانی اور عاجزی کا اظہار کیا، اس پر یہود نے ان سے کہا اس مدعی نبوت کو زچ کرنے اور جھوٹا ثابت کرنے کے لئے تم ان سے یہ سوال کرو کہ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد شام سے مصر کیوں منتقل ہوئی ؟ اور یوسف (علیہ السلام) سے متعلق جو واقعات ہیں ان کی تفصیل کیا ہے ؟ اگر یہ نبی نہیں ہے تو ہرگز نہ بتاسکے گا۔ کفار نے یہود کی ہدایت کے مطابق ذات اقدس ﷺ سے یہ دونوں سوال کئے اور آپ نے وحی کے ذریعہ ان کو سب کچھ بتادیا جو سورة یوسف میں موجود ہے۔ (قصص القرآن) حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ السلام کا نسب نامہ : یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) اس طرح یوسف (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پڑپوتے ہیں ان کی والدہ کا نام راحیل بنت لیّان یا لایان ہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدہ کا انتقال ان کے چھوٹے بھائی بن یامین کی ولادت کے وقت مدت نفاس ہی میں ہوگیا تھا ان کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خالہ لیا بنت لیان سے نکاح کرلیا تھا بن یامین حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے اور باقی بھائی علاقی (باپ شریک) تھے جن کے نام اوپر مذکور ہوئے۔ قرآن عزیز میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر : حضرت یوسف (علیہ السلام) کا نام قرآن کریم میں 36 مرتبہ آیا ہے جن میں سے 24 مرتبہ صرف سورة یوسف میں آیا ہے اور بقیہ مرتبہ دیگر سورتوں میں، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ اپنے دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ان کے نام کی بھی قرآن کی ایک سورت (سورۂ یوسف) نازل ہوئی۔ قرآن عزیز نے یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں جس قدر نوعیت کے اعتبار سے عجیب دل کش اور زمانۂ عروج وزوال کی زندہ یادگار ہے، یہ ایک فرد کے ذریعہ قوموں کے بننے اور بگڑنے، گرنے اور ابھرنے کی ایسی بولتی ہوئی تصویر ہے جو کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں۔ تاریخی و جغرافیائی حالات : اس قصہ کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ مختصراً اس کے متعلق کچھ تاریخی و جغرافیائی معلومات بھی ناظرین کے پیش نظر رہیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے اور اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت ابراہیم کے پڑپوتے تھے، فلسطین میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی جائے قیام حبرون کی وادی میں تھی، حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مسکن بھی یہی تھا، اس کے علاوہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی کچھ زمین سکّم (موجودہ نابلس) میں بھی تھی، بائبل کے علماء کی تحقیق اگر درست مان لی جائے تو یوسف کی پیدائش 1906 ق م کے لگ بھگ ہوئی اور 1890 ق م میں خواب کا واقعہ پیش آیا جس سے اس قصہ کی ابتداء ہوتی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور واقعہ کی ابتداء : اِذْ قال یوسف لابیہِ یٰآبَتِ اِنِّیْ رأیتُ اَحَدَ عَشَرَ کو کبًا والشمس والقمر رأیتُھُمْ لی ساجدین حضرت یعقوب اپنی اولاد میں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بیحد محبت کرتے تھے یہ بات برادران یوسف کے لئے بےحد شاق اور ناقابل برداشت تھی اور وہ ہر وقت اس فکر میں لگے رہتے تھے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل سے اس کی محبت نکال ڈالیں یا پھر یوسف ہی کو راستہ سے ہٹا دیں تاکہ قصہ ہی پاک ہوجائے۔ ان بھائیوں کے حاسدانہ تخیل پر تازیانہ یہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) نے ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے اور سورج، چاند ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں، یعقوب (علیہ السلام) نے جب یہ خواب سنا تو سختی کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) کو منع کردیا کہ اپنا یہ خواب کسی سے بیان نہ کریں ایسا نہ ہو کہ تیرے بھائی تیرے ساتھ برائی سے پیش آئیں اور تیرے خواب کی تعبیر بہت صاف ہے، جس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ خواب دیکھا تھا اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر باختلاف روایات 14، 13 یا 17 سال تھی۔ خواب کا مطلب : خواب کا صاف مطلب یہ تھا کہ سورج سے مراد حضرت یعقوب اور چاند سے مراد ان کی بیوی یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سوتیلی والدہ اور گیارہ ستاروں سے گیارہ بھائی بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شمس سے مراد والدہ اور قمر سے والد مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا گیارہ ستاروں سے مراد یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی اور چاند سورج سے مراد ان کے ماں باپ ہیں، والدہ راحیل کا اگرچہ انتقال ہوچکا تھا مگر اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خالہ لیّا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے نکاح میں تھیں خالہ اور سوتیلی ماں چونکہ حقیقی ماں کے قائم مقام ہوتی ہے اسلئے خالہ کو والدہ سے تعبیر کیا ہے۔
Ayahs 12:7–20

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

ہاں یوسف اور انکے بھائیوں کے (قصے) میں پوچھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالوں یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائیگی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہتے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ گیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو) ۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کرکے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ ابا جان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اسکے خیر خواہ ہیں ؟

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اسکے نگہبان ہیں۔

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جداہو جائے) اور مجھے یہ بھی خوف ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑ یا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اسکو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور انکو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی۔

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑ نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا حقیقت الحال یوں نہیں تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو اچھا صبر اور وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب خدا کی شان دیکھو) کہ اس (کنوئیں) کے قریب ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقا بھیجا اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اسکو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپالیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اسکو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدو دے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انھیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔

آیت نمبر 7 تا 20 ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف متوجہ رہیں گے تمہارے علاوہ کسی اور کی طرف توجہ نہ کریں گے، یوسف کو قتل کرنے یا دور پہنچانے کے بعد، پھر توبہ کرکے نیک بن جانا ان میں سے ایک بولا یوسف کو قتل نہ کرو (بلکہ) کسی اندھیرے کنویں میں ڈال دو ، اور ایک قراءت میں (غیابات) جمع کے ساتھ ہے، (اباجان سے) جدا کرنے کے سلسلہ میں اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو اسی پر اکتفا کرو، اسے مسافروں کا کوئی قافلہ نکال لے جائیگا (اس تجویز کے مطابق) انہوں نے (جاکر) کہا ابا جان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے معاملہ میں ہمارے اوپر اعتماد نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں، یعنی اس کی مصلحتوں کا خیال رکھنے والے ہیں، کل اس کو ہمارے ساتھ جنگل کی طرف بھیج دیجئے تاکہ مزے سے کھائے کھیلے (اور ایک قراءت میں) دونوں (فعل) نون کے ساتھ ہیں تاکہ ہم تیر اندازی کریں اور کھیلیں کودیں، اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں، یعقوب (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ تمہارا اس کو لیجانا اس کی جدائی کی وجہ سے مجھے بہت رنجیدہ کرے گا اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھاجائے اور (ذئب سے) جنس ذئب مراد ہے، اور ان کے علاقہ میں بھیڑئیے بکثرت تھے، اور تم اس سے غافل رہو یعنی کھیل کود میں مشغول رہو ان لوگوں نے جواب دیا واللہ اگر اسے بھیڑیا کھاجائے حال یہ کہ ہم ایک (بڑی) جماعت ہیں تو ہم ناکارہ ہی ٹھہرے، القصہ (یعقوب (علیہ السلام) نے) یوسف (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ بھیج دیا، چناچہ جب اس کو لے گئے اور پختہ ارادہ کرلیا کہ اس کو کسی اندھے کنویں ڈال دیں (لمَّا) کا جواب محذوف ہے اور وہ (فَعَلوا ذلک) ہے یعنی انہوں نے یہ کیا کہ اس کی قمیص اتارنے اور اس کو زدو کو ب کرنے اور اس کی تذلیل کرنے کے بعد اس کو قتل کے ارادہ سے کنویں میں لٹکا دیا، جب یوسف (علیہ السلام) درمیان کنویں تک پہنچ گئے تو اس کو چھوڑ دیا تاکہ مرجائے، غرضیکہ یوسف (علیہ السلام) پانی میں جاگرے پھر اس نے ایک پتھر کا سہارا لیا، تو بھائیوں نے اس کو آواز دی (یوسف نے) ان کی آواز پر یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید ان کو رحم آگیا ہو لبیک کہا، تو انہوں نے پتھر سے سرکچلنے کا ارادہ کیا، مگر یہودا نے ان کو اس حرکت سے منع کیا، اور ہم نے کنویں ہی میں یوسف کے پاس اطمینان قلبی کیلئے حقیقۃً وحی بھیجی اور یوسف اس وقت سترہ سال یا اس سے کچھ کم کے تھے کہ (اے یوسف) تو مستقبل میں ان کی اس حرکت کی خبر دے گا حال یہ کہ خبر دیتے وقت وہ تجھ کو نہ پہچان سکیں گے، اور شام کے وقت سب بھائی اپنے ابا جان کے پاس روتے ہوئے آئے کہا اے ہمارے ابا جان ہم تو تیر اندازی کے مقابلہ بازہ میں مشغول ہوگئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے کپڑے وغیرہ سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا اس کو تو بھیڑیا کھا گیا، آپ تو ہماری بات کا یقین کرنے والے ہیں نہیں اگرچہ ہم تمہارے نزدیک سچے ہیں مگر تم اس معاملہ میں یوسف کی محبت کی وجہ سے، ہمیں یقیناً متہم کرو گے، اور آپ ہماری بات کا یقین کر بھی کیسے سکتے ہیں ؟ جبکہ آپ ہمارے بارے میں بدگمانی رکھتے ہیں، اور برادران یوسف، یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا لائے علی قمیصہ ظرفیت کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے، ای فوق قمیصہٖ ، یعنی جھوٹا خون اس طریقہ پر کہ ایک بھیڑ کے بچہ کو ذبح کیا اور اس قمیص کو اس کے خون میں آلودہ کرلیا مگر قمیص کو پھاڑنا ان کے خیال سے نکل گیا اور کہہ دیا کہ یہ یوسف کا خون ہے، یعقوب (علیہ السلام) نے جب قمیص کو صحیح سدالم دیکھا تو ان کے جھوٹ کو سمجھ گئے (یعقوب (علیہ السلام) نے کہا (جو تم کہہ رہے ہو) بات ایسی نہیں ہے بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات گھڑ لی جس کو تم نے اس کے ساتھ عملی جامہ پہنایا ہے، (اب تو) میرے لئے صبر جمیل وہ ہے کہ جس میں کوئی شکوہ نہ ہو (آہ و فغاں نہ ہو) فصبرٌ جمیل، امری مبتداء محذوف کی خبر ہے اور یوسف کے معاملہ میں جو تم باتیں بنا رہے ہو اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے یعنی اس سے مدد مطلوب ہے اور مدین کے مسافروں کا ایک قافلہ مصر جانے کے لئے آیا اور اس کنویں کے قریب پڑاؤ کیا جس میں یوسف (علیہ السلام) پڑے ہوئے تھے، اور اہل قافلہ نے اپنے سقے کو پانی لانے کیلئے بھیجا جس کی ذمہ داری پانی کا نظم کرنے کی تھی تاکہ اس سے سیرابی حاصل کریں، سو سقے نے جب کنویں میں ڈول ڈالا تو اس سے لٹک گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو سقے نے نکال لیا اور (وہ سقا) چلا اٹھا مبارک ہو اور ایک قراءت میں بُشْریْ ہے اور اس کو ندا مجازاً ہے، اے میری خوشخبری تو حاضر ہوجایہ تیرے حاضر ہونے کا وقت ہے، یہ تو ایک لڑکا ہے، چناچہ اس کا علم اس (یوسف) کے بھائیوں کو بھی ہوگیا، چناچہ وہ قافلہ والوں کے پاس آئے، اور بھائیوں نے یوسف کو مال تجارت قرار دیتے ہوئے (واقعہ) کی اصل حقیقت کو چھپایا، اس طریقہ پر کہ انہوں نے کہا ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے اور یوسف اس خیال سے خاموش رہے کہ کہیں ان کو قتل نہ کردیں، حالانکہ وہ جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس سے باخبر تھا اور یوسف کے بھائیوں نے یوسف کو قافلے والوں میں سے ایک شخص کے ہاتھ بہت ہی قلیل قیمت یعنی گنتی کے چند درہموں یعنی بیس یا بائیس درہم کے عوض فروخت کردیا، اور یوسف کے بھائی یوسف سے کوئی رغبت نہیں رکھتے تھے، چناچہ قافلہ یوسف کو مصر لے آیا، اور جس شخص نے یوسف کو خریدا تھا اس نے بیس دینار اور دو جوڑی جوتوں اور دو جوڑے کپڑوں میں یوسف کو بیچ دیا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : خبر مفسر علام نے خبر مضاف محذوف مان کر ایک سوال کا جواب دیا ہے سوال یہ ہے کہ آیت میں یوسف (علیہ السلام) فی کا ظرف واقع ہے حالانکہ یوسف چونکہ ذات ہے اسلئے اس میں ظرف بننے کی صلاحیت نہیں جواب کا حاصل یہ ہے کہ یوسف ظرف نہیں ہے بلکہ یوسف سے پہلے خبر محذوف ہے جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں ہے۔ قولہ : مبتدأ، اس میں اشارہ ہے کہ لیوسف پر لام ابتدائیہ ہے نہ کہ قسمیہ۔ قولہ : شقیقہٗ اس میں اشارہ ہے کہ بنیامین حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے اور بقیہ تمام بھائی علاتی بھائی تھے قولہ : بارض بعیدۃ، بعیدۃ کے اضافہ میں اشارہ ہے کہ ارضاً کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ قولہ : غیابۃ الجُبِّ ، تاریک کنواں، کنویں کی اندھیری، گہرائی۔ قولہ : فاکتفوا بذلک، یہ ان کنتم کا جواب ہے جو محذوف ہے۔ قولہ : یرتع مضارع واحد مذکر غائب (فتح) پھل کھائے، مزے اڑائے، راتع چرنے والا۔ قولہ : فعلوا ذلک یہ لَمَّا کا جواب ہے۔ قولہ : بأن نزعوا قمیصہٗ ، باء تصویر یہ ہے کہ جو کہ صورت فعل کو بتانے کیلئے ہے، یعنی کنویں میں یوسف (علیہ السلام) کو کس طرح ڈالا۔ قولہ : بالنون والیاء فیھا ننشط ونتسع اس اضافہ کا مقصد یرتع ویلعب میں دو قراءتوں کو بیان کرنا ہے یعنی یرفع اور یلعب واحد مذکر غائب اور جمع متکلم دونوں قراءتیں ہیں، اور ننشط نلعب کی تفسیر ہے یعنی تاکہ ہم تیر اندازی میں مسابقت کریں اور نتسع یہ نرتع کی تفسیر ہے یعنی تاکہ ہم کھائیں اور مزے اڑائیں، اس تفسیر میں لف و نشر غیر مرتب ہے۔ قولہ : المراد بہ الجنس اس اضافہ سے یہ بتانا مقصود ہے الذئب میں الف لام عہد کا نہیں ہے اس لئے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ذہن میں کوئی متعین بھیڑیا نہیں تھا بلکہ الف لام جنس کا ہے یعنی بھیڑئیے کا کوئی بھی فرد اس کو کھاجائے۔ قولہ : انّا اذًا لخاسرون، جواب قسم ہے۔ قولہ : جوابُ لَمَّا محذوف یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ کلام تام نہیں ہے اسلئے کہ فَلَمَّا ذھبوا کا جواب مذکور نہیں ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ لَمَّا کا جواب محذوف ہے اور وہ فعلوا ذلک ہے۔ قولہ : رَضَخَہٗ (ف) رَضخًا پتھر سے کچلنا، ٹکرانا۔ قولہ : ولو کنّا صادقین، ای فرضًا۔ قولہ : لا تَّھَمْتَنَا یہ لو کنا کا جواب محذوف ہے۔ قولہ : محلّہ نصبٌ علی الظرفیۃ، یعنی علی قمیصہ ظرف ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ” وجاء و فوق قمیصہ بدم کذبٍ “۔ قولہ : ای ذی کذب اس اضافہ کا مقصد اس اعتراض کو دفع کرنا ہے کہ بدمٍ کذبٍ میں مصدر کا حمل ذات پر ہے جو کہ درست نہیں ہے ذی کا اضافہ کرکے بتادیا کہ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے لہذٰا اب کوئی اعتراض نہیں، اور اگر ذی محذوف نہ مانا جائے تو بطور مبالغہ حمل درست ہوگا جیسا کہ زید عدل میں ہے۔ قولہ : الذی یرد الماء یہ واردٌ کی تفسیر ہے یعنی وہ شخص جو پانی کا انتظام کرتا ہے جس کو سقا کہتے ہیں اس سقے کا نام مالک ابن ذعر خزاعی تھا۔ قولہ : لیستسقی منہ تاکہ کنویں سے پانی لائے، بعض نسخوں میں لیستقی ہے دونوں کا صلہ من آتا ہے، استقٰی من النھر، نہر سے پانی لایا۔ قولہ : فی قراءۃ بُشرِیْ میری خوشخبری، بشارت کو نداء مجازًا کہہ دیا ہے اس لئے کہ بشارت میں مخاطب بننے کی صلاحیت نہیں ہے تفسیر و تشریح لقد کان۔۔۔۔ للسائلین، اس آیت میں اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ قصۂ یوسف کو محض ایک قصہ مت سمجھو بلکہ اس میں تحقیق کرنے والوں اور سوال کرنے والوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں۔ سائلین کون تھے : سورة یوسف کے شان نزول کے سلسلہ میں یہ بات گذر چکی ہے کہ پوری سورة یوسف مشرکین مکہ کے ایک سوال کے جواب میں بیک وقت نازل ہوئی تھی، مکہ میں جب آپ ﷺ کی نبوت کا چرچا ہوا تو مشرکین مکہ نے اس کی بڑی شدت سے مخالفت کی اور ایذا رسانی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا اور کوشش کی (نزعم خویش) اس فتنہ کو بہر صورت ختم کردیا جائے، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوئے اور اسلامی تحریک دن بدن ترقی کرتی رہی آخر کار مشرکین نے تنگ آکر یہود مدینہ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی اور اپنی پریشانی اور لاچاری کا اظہار کیا اس پر یہود نے کہا کہ تم اس مدعی نبوت سے دو سوال کرو ایک یہ کہ یعقوب کی اولاد شام سے مصر کیوں منتقل ہوئی ؟ دوسرے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے متعلق واقعات کی تفصیل کیا ہے ؟ اگر نبی نہیں ہے تو ہرگز نہ بتاسکے گا۔ کفار نے یہود کی ہدایت کے مطابق آپ ﷺ سے یہ دونوں سوال کئے اور آپ نے وحی الٰہی کے ذریعہ وہ سب کچھ ان کو سنا دیا جو سورة یوسف میں موجود ہے۔ یہ واقعہ یہودیوں نے اس لئے منتخب کیا تھا کہ نہ اس واقعہ کی کوئی عام شہرت تھی اور نہ مکہ میں اس واقعہ سے کوئی واقف تھا اور اس وقت مکہ میں اہل کتاب میں سے بھی کوئی موجود نہیں تھا کہ ان کے ذریعہ تورات کے حوالہ سے یہ واقعہ معلوم ہوسکتا آپ ﷺ کا اس تفصیل سے واقعہ یوسف کو بیان کردینا یہ آپ کا معجزہ اور نبوت کی کھلی دلیل ہے اس لئے کہ ایک امّی کیلئے اس بسط و تفصیل سے واقعہ کو بیان کردینا کہ تورات میں بھی اتنی تفصیل نہیں ہے یہ وحی الٰہی سے ہی ہوسکتا تھا۔ قطع نظر یہود کے سوال کے خود یہ واقعہ ایسے امور پر مشتمل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی نشانیاں اور تحقیق کرنے والوں کیلئے بڑی ہدایتیں اور احکام و مسائل موجود ہیں کہ جس بچہ کو بھائیوں نے ہلاکت کیلئے کنویں میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ کی قدرت نے اس کو کہاں سے کہاں پہنچایا، اس واقعہ کو سنکر قلوب میں حق تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت کا نقش جم جاتا ہے، نبی کریم ﷺ کی صداقت کا بین ثبوت ملتا ہے، اس واقعہ میں خصوصاً مشرکین مکہ کیلئے جو یہود کے اکسانے پر آپ ﷺ سے سوال کر رہے تھے بڑی عبرت ہے کہ جس طرح یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں نے گھر سے نکالا ازراہ حسد قتل اور جلاوطن کرنے کے مشورہ کئے قسم قسم کی اذیتیں پہنچائیں، اہانت اور استخفاف میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا آخر ایک وقت آیا کہ یوسف کی طرف نادم و محتاج ہو کر آئے، یوسف (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ نے دین و دنیا کے اعلیٰ مناصب پر فائز کیا اور انہوں نے اپنے عروج و اقتدار کے وقت بھائیوں کے جرائم سے چشم پوشی کی اور نہایت دریا دلی سے سب کے قصور معاف کر دئیے ٹھیک اسی طرح محمد ﷺ کی برادری نے آپ کے متعلق ناپاک منصوبے بنائے اذیتیں پہنچائیں آپ ﷺ کی عزت و آبرو پر حملے کئے حتی کہ وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، لیکن جلد ہی وہ دن آگیا کہ وطن سے علیحدہ ہو کر آپ کی کامیابی اور رفعت شان کا آفتاب چمکا اور چند ہی سالوں کے بعد فتح مکہ کا وہ تاریخی دن آگیا کہ جب آپ نے اپنے وطنی اور قومی بھائیوں اور جانی دشمنوں کی تمام تقصیرات پر بعینہ حضرت یوسف والے کلمات ” لاتثریب علیکم الیوم “ فرما کر قلم عفو پھیر دیا۔ واقعہ کی تفصیل : حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے کل بارہ بیٹے تھے ان میں سے ہر لڑکا صاحب اولاد ہوا ہے اور سب کے خاندان خوب پھلے پھولے، چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا اسلئے یہ بارہ خاندان بنی اسرائیل کہلائے، (معارف) ان بارہ بیٹوں میں سے دس بیٹے یعقوب (علیہ السلام) کی پہلی بیوی لیّا بنت لیّان کے بطن سے تھے، ان کی وفات کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے لیّا کہ بہن راحیل بنت لیان سے نکاح کرلیا ان کے بطن سے دو لڑکے یوسف (علیہ السلام) اور نبی امین پیدا ہوئے، بن یامین حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے اور باقی دس علاتی بھائی تھے جن کے ناموں کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدہ راحیل کا انتقال بھی ان کے بچپن میں بنیامین کی ولادت کے وقت ہوگیا تھا۔ دوسری آیت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے والد صاحب کو دیکھا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) سے غیر معمولی محبت رکھتے ہیں، اس پر ان کو حسد ہوا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی طرح بھائیوں کو یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا علم ہوگیا ہو جس سے انہوں نے محسوس کیا ہو کہ یوسف کی بڑی شان ہونے والی ہے اس سے حسد ہوا اور وہ سمجھتے ہوں کہ محبت تو ہم سے زیادہ ہونی چاہیے اسلئے کہ ہم ایک بڑی اور طاقتور جماعت ہیں وقت پڑنے پر ہم ہی کام آسکتے ہیں یہ بچے کیا کام آسکتے ہیں ؟ اسلئے ہمارے والد صاحب کی یہ کھلی ناانصافی ہے اس کے علاج کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں یا تو یوسف کو قتل کرو دو تاکہ قصہ پاک ہوجائے یا پھر ان کو کسی دور دراز ملک میں پہنچا دو اس طرح والد صاحب کی توجہ اور محبت تمہارے ساتھ مخصوص ہوجائیگی، رہا قتل یا کنویں میں ڈالنے کا گناہ تو بعد میں توبہ کرکے تم نیک بن سکتے ہو وتکونوا۔۔۔ صالحین، کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ یوسف کو راستہ سے ہٹانے کے بعد تمہارے حالات درست ہوجائیں گے کیونکہ باپ کی توجہ کا یہ مرکز ختم ہوجائیگا۔ قال۔۔۔ منھم، ان ہی بھائیوں میں سے ایک بھائی نے جو کہ ان میں سب سے زیادہ صائب الرائے تھے جس کا نام بعض مفسرین نے یہوذ اور بعض نے روبیل اور بعض نے شمعون بتایا ہے کہا یوسف کو قتل نہ کرو اگر کچھ کرنا ہے تو اسے کنویں میں ایسی جگہ ڈال دو جہاں یہ زندہ رہے اور جب مسافر اس کنویں پر آئیں تو اس کو نکال کرلے جائیں، اس طرح تمہارا مقصد بھی پورا ہوجائیگا اور اس کو لے کر تمہیں کہیں دور مقام پر جانا بھی نہ پڑے گا۔ قالوا۔۔۔۔ یوسف، جب بھائیوں کے درمیان مشورہ میں یہ بات طے ہوگئی کہ یوسف کو کسی اندھیرے کنویں میں ڈال دیا جائے تو اپنے والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خیر خواہانہ انداز میں یہ درخواست پیش کی کہ ابا جان یہ کیا بات ہے کہ آپ کو یوسف کے بارے میں ہم پر اطمینان نہیں حالانکہ ہم اس کے پورے خیر خواہ اور ہمدرد ہیں، کل آپ اس کو ہمارے ساتھ سیرو تفریح کیلئے بھیج دیجئے کہ وہ بھی آزادی کے ساتھ کھائے پیئے اور کھیلے کودے، اور ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس کو تمہارے ساتھ بھیجنا دو وجہ سے پسند نہیں کرتا اول مجھے اس نور نظر کے بغیر چین نہیں آتا دوسرے یہ کہ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلت کی ووجہ سے اسے کوئی بھیڑیا کھاجائے۔ یعقوب (علیہ السلام) کو بھیڑیئے کا خطرہ محسوس ہونے کی وجہ : یعقوب (علیہ السلام) نے بھیڑئیے کا خطرہ یا تو اس وجہ سے محسوس کیا کہ سر زمین کنعان میں بھیڑئیے زیادہ تھے، اور یا اس وجہ سے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ایک خواب دیکھا تھا کہ وہ خود ایک پہاڑ کے اوپر ہیں اور یوسف (علیہ السلام) پہاڑ کے دامن میں ہیں اچانک دس بھیڑیوں نے یوسف پر حملہ کرنا چاہا مگر ان میں سے ایک بھیڑئیے نے مدافعت کرکے چھڑا دیا، پھر یوسف (علیہ السلام) زمین کے اندر چھپ گئے، جس کی تعبیر بعد میں اس طرح ظاہر ہوئی کہ دس بھیڑئیے یہ دس بھائی تھے اور جس بھیڑیئے نے مدافعت کرکے ان کو ہلاکت سے بچایا وہ بڑے بھائی یہوذا تھے، اور زمین میں چھپ جانا کنوئیں کے گہرائی کی تعبیر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے ایک روایت میں منقول ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کو اس خواب کی بنا پر خود ان بھائیوں سے خطرہ تھا ان ہی کو بھیڑیا کہا تھا مگر مصلحتاً پوری بات ظاہر نہیں کی۔ امام قرطبی نے یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کا واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ جب ان کو کنوئیں میں ڈالنے لگے تو وہ کنوئیں کی من سے چمٹ گئے بھائیوں نے ان کے ہاتھ باندھ دئیے تاکہ کسی چیز کو پکڑ نہ سکیں، اس وقت یوسف (علیہ السلام) نے پھر ان سے فریاد کی مگر بجائے ان پر رحم کرنے کے جواب یہ ملا کہ گیارہ ستارے جو تجھے سجدہ کرتے ہیں ان کو بلا، وہی تیری مدد کریں گے، پھر ایک ڈول میں رکھ کر کنویں میں لٹکایا اور درمیان ہی میں رسی کاٹ دی اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی حفاظت فرمائی اور قریب ہی ایک پتھر کی چٹان جو باہر کو نکلی ہوئی تھی صحیح سالم اس پر بیٹھ گئے، بعض روایات میں ہے کہ جبرائیل نے ان کو چٹان پر بٹھا دیا۔ یوسف (علیہ السلام) تین روز کنوئیں میں رہے ان کا بھائی یہوذا دوسرے بھائیوں سے چھپ کر روزانہ ان کیلئے کھانا لاتا اور ڈول کے ذریعہ ان تک پہنچا دیتا۔ شام کو بھائیوں کا روتے ہوئے آنا : وجاء۔۔۔۔ یبکون، یعنی عشاء کے وقت یہ بھائی روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس پہنچے حضرت یعقوب ان کے رونے کی آواز سن کر باہر آئے، معلوم کیا کیا حادثہ پیش آیا ہے کیا تمہاری بکریوں پر کسی نے حملہ کیا ہے ؟ اور یوسف کہاں ہے ؟ تو بھائیوں نے کہا، ہم آپس میں دوڑ لگانے میں مشغول ہوگئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا، اس درمیان یوسف کو بھیڑیا کھا گیا، اور ہم کتنے ہی سچے ہوں آپ کو ہمارا یقین تو آئیگا نہیں۔ شریعت میں جائز کھیلوں کا حکم : ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ باہمی مسابقت (دوڑ) شریعت میں مشروع اور اچھی بات ہے جو جنگ و جہاد میں کام آتی ہے خود رسول اللہ ﷺ سے بنفس نفیس مسابقت کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، صحابۂ کرام میں سے سلمہ بن اکوع نے ایک شخص کے ساتھ دو ڈ میں مسابقت کی تو سلمہ غالب آگئے تھے۔ وجاء۔۔۔۔ کذب، یعنی یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف کے کرتے پر ایک بکری کا بچہ ذبح کرکے اس کا خون لگا لائے تاکہ والد صاحب کو یقین دلائیں کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹ ظاہر کرنے کیلئے ان کو اس بات سے غافل کردیا کہ کرتے پر خون لگانے کے ساتھ اس کو پھاڑ بھی دیتے تاکہ بھیڑئیے کا کھانا ثابت ہوجاتا، یعقوب (علیہ السلام) نے کرتہ کو صحیح سالم دیکھ کر فرمایا، بیٹو ! یہ بھیڑیا کیسا حکیم اور عقلمند تھا کہ اس نے یوسف کو اس طرح کھایا کہ کرتہ نہیں سے نہیں پھٹا ؟ اس طرح حضرت یعقوب پر ان کی جعل سازی کا راز فاش ہوگیا، تو فرمایا ” بل سوّلت لکم انفسکم امراً فصبرٌ جمیل “۔ فائدہ : حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کرتہ کے صحیح سالم ہونے سے برادران یوسف کے جھوٹ پر استدلال کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ قاضی یا حاکم کو فریقین کے دعوے اور دلائل کے ساتھ حالات اور قرائن پر بھی نظر کرنا چاہیے (قرطبی، معارف قافلہ کا ورود اور یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں سے نکالنا : اتفاقاً ایک قافلہ اس سرزمین پر آنکلا یہ قافلہ شام سے مصر جا رہا تھا اور راستہ بھٹک کر اس غیر آباد میدان میں پہنچ گیا اور پانی کیلئے پانی کے منتظم سقے کو کنوئیں پر بھیجا، گو لوگوں کی نظر میں یہ اتفافی واقعہ تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت تکوینی میں کوئی بخت و اتفاق نہیں، حق تعالیٰ شانہ، جس کی شان فَعّالٌ لما یرید ہے مخفی حکمتوں کے تحت ایسے حالات پیدا فرما دیتے ہیں کہ ظاہری واقعات سے ان کو جوڑ سمجھ میں نہیں آتا تو انسان ان کو اتفافی حوادث قرار دیتا ہے۔ بہرحال قافلہ والوں نے اپنے ایک شخص کو جس کے ذمہ پانی کی فراہمی کی ذمہ داری تھی اس کا نام مالک بن ذعر بتلایا جاتا ہے پانی لانے کیلئے بھیجا، جب اسنے کنوئیں میں ڈول ڈالا تو یوسف (علیہ السلام) نے ڈول پکڑ لیا اور جو ڈول نکالا تو ایک کمسن نہایت ہی خوبرو بچہ برآمد ہوا بچہ کو دیکھ کر وہ فوراً ہی چلا اٹھا ” یا بشریٰ ھذا غلام “ بڑی خوشی کی بات ہے یہ تو بڑا اچھا لڑکا نکل آیا، جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو معلوم ہوا کہ قافلہ والوں نے یوسف کو کنوئیں سے نکال لیا ہے تو دوڑے ہوئے پہنچے، اس مقام پر بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ برادران یوسف کو قافلے والوں کے ساتھ فروخت کردیا مگر مفسرین کے اس قول کی تائید نہ تورات سے ہوتی ہے اور نہ روایات سے اور نہ قرآن عزیز کی آیات سے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قافلے والوں ہی نے یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں سے نکالا اور غلام بنا لیا، اور مال تجارت کے ساتھ ان کو مصر لے گئے۔ وشروہ۔۔۔ معدودۃ، لفظ شراء عربی زبان میں خریدو فروخت دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے، یہاں دونوں ہی معنی کا احتمال ہے، ضمیر اگر برادران یوسف کی طرف لوٹائی جائے تو فروخت کرنے کے معنی ہوں گے اور اگر قافلہ والوں کی طرف لوٹائی جائے تو خریدنے کے معنی ہوں گے، ابن کثیر نے بروایت عبد اللہ بن مسعود لکھا ہے کہ بیس درہم میں سودا ہوا اور دس بھائیوں نے دو دو درہم آپس میں تقسیم کرلئے، تعداد کے سلسلہ میں 22 اور 40 دراہم کی روایات بھی ہیں۔ وکانوا۔۔۔ زاھدین، زاھدین، زاھد کی جمع ہے جو زھد سے مشتق ہے زھد کے لفظی معنی بےرغبتی اور بےتوجہی کے ہیں محاورات میں دنیا کے مال و دولت سے بےرغبتی کے ہیں آیت کے معنی یہ ہیں کہ برادران یوسف اس معاملہ میں دراصل مال کے خواہشمند نہ تھے ان کا اصل مقصد یوسف (علیہ السلام) کو باپ سے جدا کرنا تھا اس لئے قلیل دراہم میں معاملہ کرلیا۔