Ayahs 12:21–29آیت نمبر 21 تا 29
ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف پر ہے جو مکَّنا سے متعلق ہے (تقدیر یہ ہے) ای مکّنا لِنُعلَّمہٗ ، یا واؤ زائدہ ہے، اور اللہ اپنے ارادہ پر غالب ہے اس کو کوئی شئ عاجز نہیں کرسکتی، لیکن اکثر لوگ کہ وہ کافر ہیں اس سے بیخبر ہیں جب یوسف پختہ عمر کو پہنچ گئے اور وہ 30 یا 33 سال ہے، تو ہم نے ان کو حکمت اور تفقہ فی الدین منصب نبوت پر فائز کرنے سے پہلے عطا کئے اور ہم اپنے اعمال میں نیکوکاروں کو اسی طرح کی جزاء دیتے ہیں اور وہ عورت کہ جس کے گھر میں وہ تھے اور وہ زلیخا تھی ان پر ڈورے ڈالنے لگی (یعنی پھنسانے کی کوشش کرنے لگی) یعنی اس سے اپنا مقصد پورا کرنے کا مطالبہ کرنے لگی، اور (ایک روز) دروازے بند کرکے بولی جلدی آجاؤ، (اے یوسف) تم ہی سے کہتی ہوں، لک کا لام تبین کیلئے ہے اور ایک قراءت میں (ھیتَ ) ہاء کے کسرہ کے ساتھ ہے، اور ایک دوسری قراءت میں تاء کے ضمہ کے ساتھ ہے (یوسف (علیہ السلام) نے کہا خدا کی پناہ (یعنی) میں زنا سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں، وہ جس نے مجھے خریدا اور عزت بخشی میرا مالک ہے اس کی ناموس میں خیانت نہیں کرسکتا، بات یہ ہے کہ ظالم (یعنی) زنا کار فلاح نہیں پایا کرتے اور وہ پختہ ارادہ کرچکی تھی یعنی اس سے زنا کا پختہ قصد کرچکی تھی، یوسف بھی اس کا ارادہ کرلیتے اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتے، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یوسف کے سامنے یعقوب (علیہ السلام) کی صورت کردی گئی (یعقوب (علیہ السلام) نے) ان کے سینے پر (ہاتھ) مارا جس کی وجہ سے ان کو شہوت انگلیوں کے ذریعہ نکل گئی، اور لولا کا جواب لجامعھا محذوف ہے، ہم نے برہان اسلئے دکھائی کہ ہم اس کو خیانت اور زنا سے باز رکھیں درحقیقت وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے، یعنی اطاعت میں اور ایک قراءت میں (مخلصین) کے لام کے فتحہ کے ساتھ ہے یعنی برگزیدہ (بندوں میں) اور دونوں (آگے پیچھے) دروازہ کی طرف بھاگے یوسف فرار کیلئے اور وہ اس کو پکڑنے کیلئے چناچہ عورت نے یوسف کا کپڑا پکڑ لیا اور اس کو اپنی طرف کھینچا آخر کار عورت نے یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھاڑ دیا، اور دونوں نے اس کے شوہر کو دروازہ پر پایا تو عورت نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری بیوی سے زنا کا ارادہ کرے ؟ سوائے اس کے کہ اس کو جیل میں قید کردیا جائے یا یہ کہ اس کو زدو کو ب کی سخت سزا دی جائے، یوسف نے اپنی براءت ظاہر کرتے ہوئے کہا اسی نے مجھے اپنے ساتھ پھانسنے کی کوشش کی، تو اس عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے یعنی اس کے چچا زاد بھائی نے جو کہ گہوارہ میں تھا گواہی دی، کہا اس کا کرتہ اگر آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے، چناچہ جب اس کے شوہر نے یوسف کے کرتے کو پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا، کہا تیرا یہ کہنا ” ماجزاء مَنْ اراد الخ “ تم عورتوں کا مکر ہے اے عورت بلاشبہ تمہارا مکر بھی غضب کا ہے پھر کہا اے یوسف تم اس بات کو جانے دو اور اس کا تذکرہ نہ کرو تاکہ اس کی شہرت نہ ہو، اور اے زلیخا تو اپنی خطاء کی معافی مانگ بلاشبہ تو ہی خطا کاروں میں سے ہے اور یہ خبر پھیل کر مشہور ہوگئی۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وقال واؤ عاطفہ ہے، معطوف علیہ ” فاشتراہُ عزیز مِصْرَ “ ہے، ای فاشتراہُ وقال لامْرأتِہٖ الّذِی اشْتَرَاہُ ، قال کا فاعل ہے مِنْ مصرَ کائنًا کے متعلق ہو کر فاعل سے حال ہے بعض حضرات نے لفظ مصر سے پہلے اہل محذوف مانا ہے تقدیر یہ ہوگی الذی اشتراہ من اھل مصر اور بعض نے من کوفی کے معنی میں لیا ہے ای اشتراہ فی مصر، اس صورت میں کوئی التباس نہیں رہتا۔ (تفسیر ماجدی) لامرأتہ قال کے متعلق ہے، اور اکرمی مثواہ مقولہ ہے۔
قولہ : قطفیر، بروزن قندیل، مصر کے وزیر خزانہ کا نام ہے اس کا لقب عزیز ہے۔
قولہ : اکرمی مقامہ عندنا یعنی ان کو اپنے یہاں عزت و احترام سے رکھو۔
قولہ : حصورا یہ مبالغہ کا صیغہ ہے، جماع پر قدرت نہ رکھنے والا۔
قولہ : لنعلمہ فعل مضارع ہے جو کہ لام کے بعد أن مقدرہ کی وجہ سے منصوب ہے، علامہ سیوطی نے ولنعلمہ میں دو ترکیبوں کی طرف اشارہ کیا ہے اولؔ یہ کہ واؤ عاطفہ ہو اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی، مکناہ فی الارض لنمل کہ ما فیھا ولنعلمہ من تاویل الاحادیث اس صورت میں لنعلمہ کا عطف لنمل کہ محذوف پر ہوگا مفسر کے قول عطف علی مقدر کا یہی مطلب ہے دوسریؔ صورت یہ کہ واؤ زائدہ ہو اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی، مکنا لہ فی الارض لنعلمہ تاویل الاحادیث، نمل کہ اگر ملک بکسر المیم سے مشتق ہو تو معنی ہوں گے تاکہ ہم اس کو مالک بنائیں اور اگر ملک بضم المیم سے مشتق ہو تو معنی ہوں گے تاکہ اس کو بادشاہ بنائیں۔
قولہ : اشدہ یہ واحد بروزن جمع ہے۔
تنبیہ : احقر کے پیش نظر جلالین کے نسخے میں عبارت لنمکنہ ہے صحیح نسخہ لنمل کہ ہے۔
قولہ : راودتہ، اس عورت نے اس کو پھسلایا، ماضی واحد مؤنث غائب اور ضمیر واحد مذکر غائب کی ہے۔
قولہ : طلب منہ سے اشارہ کردیا کہ مفاعلہ یہاں طرف واحد کے لئے ہے۔
قولہ : ھیت لک یہ کلمہ دو لفظوں سے مرکب ہے ھیت اور لک، ھیت اسم فعل بمعنی امر ہے بمعنی آ، لک میں لام جارہ ہے اور کاف مجرور ہے جار مجرور اقول فعل محذوف سے متعلق ہیں، اس کے معنی ہیں، میں تجھ ہی سے کہتی ہوں جلدی آ (روح) سراج میں خطیب نے لکھا ہے کہ ھیت لک پورا اسم فعل ہے یہ ھلم کے معنی میں ہے جس کے معنی ہیں آ، اور ھیت کے تاء میں تینوں اعراب ہیں لک میں لام مخاطب کی وضاحت کیلئے ہے، یعنی ھیت میں جو مخاطب ہے اسی کو لک سے واضح کردیا ہے کاف مخاطب کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود وضاحت کیلئے لایا گیا ہے اسلئے کہ ھیت کے معنی وہی ہیں جو ھیت لک کے ہیں، جیسا کہ سقیالک بولتے ہیں حالانکہ سقیاً کاف خطاب کا محتاج نہیں ہے اسلئے کہ سقیاً کے معنی سقاک اللہ سقیا کے ہیں، لک کو محض تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔
قولہ : معاذ اللہ یہ عاذ یعوذ کے مصادر میں سے ایک ہے۔
قولہ : و جواب لولا لجامعھا یہ اضافہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لولا کا جواب محذوف ہے نہ کہ ماقبل میں مذکورھم بھا، اس لئے کہ لولا کا جواب لولا پر مقدم نہیں ہوتا۔
قولہ : اریناہ اس میں اشارہ ہے کہ کذلک محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے، ای أریناہ کذلک اور لنصرف کا لام ارینا محذوف کے متعلق ہے۔
تفسیر وتشریح
یوسف اور غلامی : سلسلۂ واقعہ کی اگلی کڑی یہ ہے کہ یوسف کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ایک اسماعیلی مدیانی قافلے کے ہاتھوں ایک قلیل قیمت میں غلام گریختہ قرار دے کر فروخت کردیا، یہ قافلہ شام سے مصر کو بخورات، بلسان اور مسالہ جات لے کر جا رہا تھا، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یوسف کو خود ان کے بھائیوں نے ہی کنویں سے نکال کر قافلہ کے ہاتھوں فروخت کیا تھا، مگر مفسرین کے اس قول کی تائید و موافقت نہ تو تورات کرتی ہے اور نہ قرآن عزیز، بلکہ دونوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ قافلے والوں ہی نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نکالا اور اپنا غلام بنا لیا، اور مال تجارت کے ساتھ اس کو بھی مصر لے گئے۔
حضرت یوسف کی زندگی اور عظمتیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا یہ پہلو اپنے اندر کس قدر عظمتیں پنہاں رکھتا ہے اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو چشم بصیرت رکھتا ہے، چھوٹی سی عمر ہے، والدہ کا انتقال ہوچکا ہے، باپ کی آغوش محبت تھی وہ بھی چھوٹی، وطن چھوٹا بھائیوں نے بےوفائی کی، آزادی کی جگہ غلامی نصیب ہوگئی، مگر ان تمام باتوں کے باوجود نہ آہ وزاری ہے اور نہ جزع و فزع، قسمت پر شاکر، مصائب پر صابر اور قضائے الٰہی پر راضی برضاء سرِ نیازخم کئے ہوئے بازار مصر میں فروخت ہونے کیلئے جا رہے ہیں، کسی نے خوب کیا ہے۔
نزریکاں رابیش بود حیرانی
یوسف مصر میں : تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح مصر تمدن و تہذیب کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا یہاں کے حکمراں عمالقہ (ہکیسوس) تھے مصر کے حکمراں کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا، جس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) ایک غلام کی حیثیت سے مصر میں داخل ہوئے، مصر کا دار السلطنت رعمیس تھا یہ غالباً اسی جگہ واقع تھا جہاں آج صان کی بستی واقع ہے، ان دنوں مصر کا حکمراں ریّان بن ولید تھا اور بعض نے ریان بن اسید بتایا ہے، اتفاق کی بات ہے کہ ملک مصر کا وزیر مالیات جس کو تورات نے فوطیفار یا قطفیر اور قرآن نے عزیز بتایا ہے ایک روز بازار مصر سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر یوسف (علیہ السلام) پر پڑی جن کی بولی لگ رہی تھی، لوگ بڑھ چڑھ کر قیمت لگا رہے تھے یہاں تک کہ یوسف (علیہ السلام) کے وزن کے برابر سونا اور اسی کے برابر مشک اور اتنے ہی ریشمی کپڑے قیمت لگ گئی، یہ دولت اللہ تعالیٰ نے عزیز مصر کیلئے مقدر کی تھی اس نے بڑی بھاری قیمت دیکر یوسف (علیہ السلام) کو خرید لیا۔
خدا کی قدرت و حکمت : خدائے تعالیٰ کی کارسازی دیکھئے کہ ایک بدوی اور وہ بھی غلام ایک متمدن اور صاحب شوکت و حشمت رئیس کے یہاں جب پہنچتا ہے تو اہنی عصمت مآب زندگی، حلم و وقار اور امانت و سلیقہ مندی کے پاس اوصاف کی بدولت اس کی آنکھوں کا تارا اور دل کا دلارا بن جاتا ہے اور وہ اپنی بیوی سے جس کا نام راعیل یا زلیخا بتایا جاتا ہے کہتا ہے اکرمی مثواہ عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا دیکھو، اسے عزت سے رکھو کچھ عجب نہیں کہ یہ ہم کو فائدہ بخشے یا اس کو ہم اپنا بیٹا بنالیں۔
معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ہو رہا ہے یہ کوئی اتفاقی واقعات نہیں ہیں بلکہ رب العلمین کی بنائی ہوئی مستحکم تدبیر کے اجزاء ہیں جس کے تحت ایک بدوی یتیم بچہ کو جو حضارت و مدنیت سے یکسر ناآشنا ہے جہانداری اور جہانبانی کیلئے تیار کیا جا رہا ہے جو عنقریب سپرد کی جانے والی ہے، گویا اس کی تمہید ہے اسی لئے ارشاد ہوا، وکذلک مکنا لیوسف فی الارض ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ (الآیۃ)
عزیز مصر کی بیوی اور یوسف (علیہ السلام) : ایک مشہور مقولہ ہے ” ربما کمنت المنن فی المحن “ اللہ تعالیٰ کے اکثر احسانات و کرم مصائب میں مستور ہوتے ہیں، یوسف (علیہ السلام) کی ساری زندگی ہو بہو اس کا مصداق ہے، بچپن کی پہلی مصیبت یا آزمائش نے کنعان کی بدوی زندگی سے نکال کر تہذیب و تمدن کے گہوارہ مصر کے ایک بڑے گھرانے کا مالک بنادیا، غلامی میں آقائی اسی کو کہتے ہیں۔
اب زندگی کی سب سے بری اور کٹھن آزمائش شروع ہوتی ہے، وہ یہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جوانی کا عالم تھا حسن و خوبروئی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو ان کے اندر موجود نہ ہو، جمال و رعنائی کا پیکر مجسم، رخ روشن شمس و قمر کی طرح منور، عصمت و حیا کی فراوانی سونے پر سہاگہ، اور ہر وقت کا ساتھ، عزیز مصر کی بیوی دل پر قابو نہ رکھ سکی دامن صبر ہاتھ سے چھوٹ گیا، یوسف پر بہ ہزار جان پروانہ وار قربان ہونے لگی، مگر ابراہیم (علیہ السلام) کا پوتا اسحاق و یعقوب کا نور دیدہ، خانوادۂ نبوت کا چشم و چراغ اور منصب نبوت کیلئے منتخب بھلا اس سے یہ کس طرح ممکن تھا کہ ناپاکی اور فحش میں مبتلا ہو اور عزیز مصر کی بیوی کے ناپاک عزم کو پورا کرے۔
زلیخا کا جادو نہ چل سکا : لیکن مصر کی اس آزاد عورت نے جب اس طرح جادو چلتے نہ دیکھا تو ایک روز بےقابو ہو کر مکان کے دروازے بند کر دئیے اور اصرار کرنے لگی کہ مجھے شاد کام کر، حضرت یوسف (علیہ السلام) کیلئے یہ وقت سخت آزمائش کا تھا، شاہی خاندان کی نوجوان عورت، شعلۂ حسن سے لالہ رو، محبوب نہیں بلکہ عاشق، آرائش حسن کی بےپناہ نمائش، عشوہ طرازیوں کی بارش، ادھر یوسف (علیہ السلام) خود نوجوان، دروازے بند کسی کا نہ خوف اور نہ ڈر، مالکہ خود ذمہ دار، حالات ہر طرح سازگار، مگر کیا حالات کی سازگاری سے یوسف نے ایک لمحہ کیلئے بھی عزیز مصر کی بیوی کی حوصلہ افزائی کی، کیا اس کے دل نے قرار چھوڑ کر بےقراری کی، کیا نفس نے ثبات قلب کو ایک لمحہ کیلئے بھی متزلزل کیا ؟ نہیں ہرگز نہیں، بلکہ اس کے برعکس اس پیکر عصمت، امین نبوت مہبط وحی الٰہی نے دو ایسے معقول و محکم دلائل سے اس مصری حسینہ کو سمجھانے کی کوشش کی جو ایک ایسی ہستی ہی سے ممکن تھے جس کی تربیت براہ راست آغوش الٰہی میں ہوئی ہو، فرمایا یہ ناممکن ہے، پناہ بخدا، میں اور اس کی نافرمانی کروں جس کا اسم جلالت اللہ ہے اور وہ تمام کائنات کا مالک و مولا ہے، اور کیا میں اپنے اس مربی عزیز مصر کی امانت میں خیانت کروں جس نے غلام سمجھنے کے بجائے مجھے یہ عزت و حرمت بخشی، اگر میں ایسا کروں تو ظالم ٹھہروں گا اور ظالموں کیلئے انجام و مآل کے اعتبار سے کبھی فلاح نہیں ہے۔ مگر عزیز مصر کی بیوی پر اس نصیحت کا مطلق اثر نہ ہوا، اور اس نے اپنے ارادہ کو عملی شکل دینے پر اصرار کیا، تب یوسف نے اپنے اس برہان ربی کے پیش نظر جس کو وہ دیکھ چکے تھے صاف انکار کردیا۔
وراودتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ وغلقت الابواب وقالت ھیت لک قال معاذ اللہ انا ربی احسن مثوای انہ لا یفلح الظلمون ولقد ھمت بہ ربھم بھا لولا أن راٰبرھان ربہ کذلک لنصرف عنہ السوء و الفحشاء انہ من عبادنا المخلصین۔
اور پھسلایا یوسف کو اس عورت نے جس کے گھر میں وہ رہتے تھے اس کے نفس کے بارے میں اور دروازے بند کر دئیے اور کہنے لگی آمیرے پاس آ، یوسف نے کہا خدا کی پناہ بلاشبہ (عزیز مصر) میرا مربی ہے جس نے مجھے عزت سے رکھا، بلاشبہ ظالم فلاح نہیں پاتے اور البتہ اس عورت نے یوسف سے ارادہ کیا اور وہ بھی ارادہ کرتے اگر اپنے پروردگار کی برہان نہ دیکھ لیتے، اور اس
طرح ہوا تاکہ ہٹائیں ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں ہے۔
ولقد ھمت بہ ربھم بھا کی تفسیر : مفسرین نے آیت مذکورہ کی مختلف تفسیریں کی ہیں، لیکن اوپر آیت کے جو معنی کئے گئے ہیں وہی مقام و موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں و مناسب ہیں، مطلب یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے برہان رب سن لینے کے بعد بھی اپنی ہٹ سے باز نہ آئی اور اپنا ارادہ و بکار لانے پر مصر رہی یوسف (علیہ السلام) نے اس کے ارادہ کو قطعاً رد کردیا اور اس کے سامنے اس کے ارادہ کی بالکل پرواہ نہیں کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ یوسف اس سے بچنے کیلئے دروازہ کی طرف بھاگے اور عزیز مصر کی بیوی نے ان کا پیچھا کیا۔
بعض مفسرین نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے کہ نحوی قواعد کا تقاضا ہے کہ لولا، کلام کے شروع میں استعمال ہوا ہے اسلئے کہ عربی قاعدہ کے لحاظ سے اس کا درمیان کلام میں استعمال درست نہیں ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی ” وھم بھا لو لاأن راٰی برھان ربہ “ یوسف بھی گناہ کا ارادہ کرلیتے اگر اپنے رب کے برہان کو نہ دیکھ لیتے مگر یہ اعتراض اسلئے درست نہیں کہ اس مقام پر بھی لولا کا استعمال شروع کلام ہی میں ہوا ہے دال علی الجواب مقدم ہے اور لولا کا جواب جو بعد میں مذکور ہوتا اس دال علی الجواب کی وجہ سے محذوف ہے، علامہ سیوطی نے بھی لجامعھا محذوف مان کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اس قاعدہ کی نظیر قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے تذکرہ سے متعلق یہ آیت ہے، ان کا دت لتبدی بہ لولا ان ربطنا علی قلبھا (قریب تھا کہ وہ اس کو ظاہر کر دے اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے) یہاں بھی لولا کا جواب تبدی بہ محذوف ہے اور دال علی الجواب مقدم ہے، اسی طرح یہاں بھی یہ معنی ہیں، اگر یوسف (علیہ السلام) کو برہان رب حاصل نہ ہوتا تو وہ بھی ارادہ کرلیتا لیکن انہوں نے ارادہ نہیں کیا کیونکہ وہ برہان رب دیکھ چکے تھے۔
وہ برہان رب کیا تھا ؟ جس برہان کو دیکھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) بدی کے ارادہ سے بھی باز رہے وہ کیا تھا ؟ قرآن کریم نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ برہان رب کیا تھا ؟ قرآن مجید نے اپنی بلیغانہ اور معجزانہ خطابت میں خود ہی اس کو اس طرح بیان کردیا ہے کہ اس کے بعد سوال کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی دروازہ بند ہوجانے پر عزیز کی بیوی کو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا ایسے مقام کے لحاظ سے اس سے بہتر جواب کیا ہوسکتا تھا، سو یہی وہ برہان رب تھا جو یوسف کو عطا ہوا اور جس نے عصمت یوسف کو بےداغ رکھا، یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اسے اس کے بعد بڑے شدومد سے بیان کیا، ” کذلک “ یوں ہی ہوا۔ ” تاکہ ہٹا دیں ہم اس سے برائی اور بےحیائی، بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے ہے “۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یعقوب کی صورت کا نظر آنا اور ان کا اشارہ سے منع کرنا یا فرشتہ کا ظاہر ہو کر اس کو اس سے روکنا یا عزیز کے گھر میں رکھے ہوئے بت پر عزیز مصر کی بیوی کا پردہ ڈالنا، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس سے عبرت حاصل کرنا ان تمام اقوال کے مقابلہ میں ” برہان رب “ کی وہی تفسیر بہتر ہے جو قرآن عزیز کی نظم و ترتیب سے ثابت ہے یعنی (1) ایمان باللہ کا حقیقی تصور (2) مربی مجازی کے احسان کی احسان شناسی اور وصف امانت۔
بہرحال حضرت یوسف جب دروازے کے طرف بھاگے تو عزیز کی بیوی نے پیچھا کی دروازہ کسی طرح کھل گیا سامنے عزیز مصر اور عورت کا چچا زاد بھائی کھڑے ہوئے تھے عورت ان کو دیکھ کر سٹپٹاگئی اور اصل حقیقت کو چھپانے کیلئے غیظ و غضب میں آکر کہنے لگی کہ ایسے شخص کی سزا قید خانہ یا دردناک سزا کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے جو تیرے اہل کے ساتھ ارادۂ بد رکھتا ہو، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کے مکر و فریب کو سنا تو فرمایا، یہ اس کا بہتان ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ خود اس نے میرے ساتھ ارادۂ بد کیا تھا مگر میں نے کسی طرح نہ مانا اور بھاگ کر باہر نکل جانا چاہتا تھا کہ اس نے پیچھا کیا اتفافاً سامنے آپ نظر آگئے تو اس نے یہ جھوٹ گھڑ لیا۔
عزیز کی بیوی کا چچا زاد بھائی ذکی یعنی سمجھدار اور ہوشیار تھا اس نے کہا یوسف کا پیراہن دیکھنا چاہیے اگر وہ سامنے سے چاک ہے تو عورت راستباز ہے اور اگر پیچھے سے چاک ہے تو یوسف صادق القول ہے اور عورت جھوٹی ہے جب دیکھا گیا تو یوسف کا پیراہن پیچھے سے چاک تھا عزیز مصر نے اصل حقیقت کو سمجھ لیا مگر اپنی عزت و ناموس کی خاطر معاملہ کو ختم کرتے ہوئے کہا، یوسف سچے تم ہی ہو اور اس عورت کے معاملہ سے درگزر کرو اور اس کو یہیں ختم کردو اور پھر بیوی سے کہا یہ سب تیرا مکر ہے اور تم عورتوں کا مکرو فریب بہت ہی بڑا ہوتا ہے بلاشبہ تو ہی خطا کار ہے لہٰذا اپنی اس حرکت بد کیلئے استغفار کر اور معافی مانگ۔
بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ شہادت پیش کرنے والا ایک شیر خوار بچہ تھا خدا نے اسے قوت گویائی عطا فرمائی اور اس بچہ نے یہ شہادت دی، لیکن یہ روایت کسی صحیح قوی سند سے ثابت نہیں ہے اور نہ اس معاملہ میں خواہ مخواہ معجزہ سے مدد لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اس شاہد نے جس قرینہ کی بنیاد پر جس شہادت کی طرف توجہ دلائی ہے وہ سراسر ایک معقول شہادت ہے اور اسکو دیکھنے سے بیک نظر معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ شخص ایک معاملہ فہم اور جہاندیدہ آدمی تھا جو صورت معاملہ سامنے آتے ہی معاملہ کی تہ تک پہنچ گیا، مفسرین کے یہاں شیرخوار بچہ کا قصہ دراصل یہودی روایات سے آیا ہے۔ (ملاحظہ ھو تلمود)
تفسیروں میں ایک مرفوع روایت کے حوالہ سے آتا ہے کہ یہ گواہ ایک شیرخوار بچہ تھا جو بطور خرق عادت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صفائی میں بول اٹھا تھا، لیکن بہت سے ائمہ تفسیر نے اسکے علاوہ کہا ہے کہ یہ شخص زلیخا کا چچا زاد بھائی تھا جو شاہی درباریوں میں سے تھا، ما کان بصبی ولکن کان رجلا حکیما (ابن جریر عن عکرمہ) یہاں شہادت سے عرفی اور اصطلاحی شہادت مراد نہیں ہے جس کیلئے عاقل بالغ مسلمان عادل اور موقع پر موجود ہونا شرط ہے یہ اصطلاحات بعد کی پیداوار ہیں، یہ گواہی تو صرف اس معنی میں تھی کہ اس نے فریقین کے متضاد بیانات کے درمیان فیصلے کا ایک عاقلانہ طریقہ سمجھا دیا۔
Ayahs 12:30–35آیت نمبر 30 تا 35
ترجمہ : اور شہر مصر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے محبت نے اس کو بےقرار کر رکھا ہے، اس کی محبت اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہوگئی ہے، ہمارے نزدیک تو وہ اس سے محبت کرنے کے معاملہ میں صریح غلطی پر ہے جب عزیز کی بیوی نے ان کی مکارانہ باتیں یعنی انکی بدگوئی کی باتیں سنیں تو ان کو بلاوا بھیج دیا اور ان کیلئے چھری سے کاٹ کر کھایا جانے والا کھانا تیار کرایا اس کھانے کو متکئا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو کھاتے وقت تکیہ لگا لیتے ہیں۔
دوسرا ترجمہ : اور ان کیلئے مسندوں سے آراستہ مجلس تیار کرائی اور وہ کھانا ترنج تھا، اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دیدی اور یوسف سے کہہ دیا کہ ذرا ان کے سامنے نکل آؤ چناچہ جب ان کی نظر یوسف پر پڑی تو دنگ رہ گئیں اور چھری سے اپنے ہاتھ کاٹ لئے، اور ان کے دلوں کے یوسف کے ساتھ مشغول ہونے کی وجہ سے ان کو تکلیف کا احساس بھی نہ ہوا اور پکار اٹھیں حاشا اللہ پاکی اللہ کیلئے ہے، یہ یعنی یوسف انسان نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے اس لئے کہ اس کو ایسے حسن نے گھیر لیا ہے کہ عادۃً کسی فرد بشر میں نہیں ہوتا، اور صحیح حدیث میں ہے کہ (حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مجموعی) حسن کا نصف حصہ عطا کیا گیا تھا، عزیز کی بیوی نے جب ان کی حالت غیر دیکھی تو کہا یہی تو ہے وہ جس کی محبت کے بارے میں تم مجھ کو طعنے دیتی تھیں، یہ اپنے عذر کا بیان ہے، اور بیشک میں نے اس کو رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا، اور اگر یہ وہ کام نہیں کرے گا جو اس سے میں چاہتی ہوں تو یقیناً قید کیا جائیگا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا، تو ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا اپنی مالکن کی بات مان لے، یوسف (علیہ السلام) نے دعاء کی اے میرے پروردگار مجھے جیل منظور ہے اس کام کے مقابلہ میں جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہے اور اگر تو نے مجھ سے ان کی حال بازیوں کو دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤنگا، اور گنہگاروں میں شامل ہوجاؤں گا اور (الاتصرف) سے مقصد دعاء ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فاستجاب فرمایا تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی کہ اس سے ان کے مکر کو دفع کردیا بلاشبہ وہ باتوں کا سننے والا عمل کا دیکھنے والا ہے پھر اس نے یہ طے کیا کہ اس کو واللہ جیل میں ڈالدیں گے ایک مدت کیلئے باوجود یکہ وہ یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی پر دلالت کرنے والی نشانیاں دیکھ چکے تھے، اس (حذف فاعل) پر لیسجننہ دلالت کر رہا ہے تاکہ اس بات کا چرچا ختم ہوجائے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : نسوۃ عورتوں کی جماعت، یہ اسم جمع ہے اس کا لفظوں میں واحد نہیں ہے اور باعتبار معنی کے امرأۃ اس کا واحد ہے نسوہ مؤنث غیر حقیقی ہے اس کے فعل کا مذکر اور مؤنث دونوں لانا جائز ہے اسی وجہ سے قالت کے بجائے قال لائے ہیں۔
قولہ : مدینۃ مصر، اس میں اشارہ ہے کہ المدینۃ میں الف لام عہد کا ہے۔
قولہ : امرأۃ العزیز مبتداء ہے اور تراود، اسکی خبر ہے، تراود مضارع واحد مؤنث غائب ہے (مفاعلۃ) وہ بہلاتی ہے وہ پھسلاتی ہے
قولہ : تمییز یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ شغف متعدی بیک مفعول ہے حالانکہ یہاں اسکے دو مفعول میں اول ھا اور دوسرے حباً ، جواب یہ ہے کہ حباً تمییز ہے نہ کہ مفعول، یہ فاعل سے منتقل ہو کر آتی ہے اصل عبارت یہ تھی دخل حبہ فی سغاف قلبھا۔
قولہ : شغاف، شغاف القلب، وہ جھلی جو قلب کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔
قولہ : اعتدت یہ اعتاد سے بمعنی تیار کرنا ماضی واحد مؤنث غائب۔
قولہ : متکأ اسم مکان ٹیک لگانے کی جگہ، گاؤ تکیہ، مسند، عرب مُتکأً اس چیز کو کہتے ہیں جس پر کھانے پینے یا باتیں کرنے کے وقت سہارا لگایا جاتا ہے امام رازی نے کہا ہے کہ وہ کھانا جس کو کھانے کیلئے چھری کی ضرورت پڑے، (تفسیر کبیر) جس طرح آجکل میز لگانے اور دستر خوان لگانے سے مراد کھانا چننا اور میز یا دستر خوان پر بیٹھنے سے مراد ہوتا ہے کھانے کیلئے بیٹھنا، اسی طرح اس زمانہ میں گاؤ تکیہ لگانے سے مراد کھانا کھانے کیلئے بیٹھنا ہوتا تھا، اسی معنی میں جمیل کا شعر ہے ؎
فَظَلِلْنَا بِنِعْمَۃٍ وَاتَّکَأْنَا وَشَرِبْنَا الْحَلَالَ مِنْ قُلَلِہٖ
” ہم نے عیش میں دن گزارا اور کھانا کھایا، اور مٹکوں سے نکال کر شراب پی “
علامہ سیوطی نے متکأً کی تفسیر طعاما یقطع بالسکین سے کی ہے، اور یہی قول امام رازی کا ہے، لیکن اس کے بعد لکھا ہے وھو الاترج (ترنج) علامہ سیوطی نے ایسا وہب کی اتباع میں کیا ہے ابو عبیدہ اور دیگر اہل لغت نے اس کا انکار کیا ہے، اسلئے کہ ترنج کو مُتْک یا مُتکۃ کہا جاتا ہے ضرار بن نہشل نے بھی متکۃ بمعنی ترنج استعمال کیا ہے، فاھدت متکۃ لبنی أبیھا، اس نے اپنے چچا زاد بھائیوں کیلئے ترنج ہدیہ میں بھیجے۔ (لغات القرآن)
قولہ : للاتکاء یہ کھانے کو متکأ کہنے کی وجہ سے تسمیہ ہے چونکہ عرب کھانے کے وقت ٹیک لگایا کرتے تھے اسی مناسبت سے اس کھانے ہی کو استعارہ کے طور پر متکأ کہہ دیا گیا ہے۔
قولہ : حاش للہ، خاشا حرف تنزیہ ہے اس وقت یہ اسم ہوگا اور اس کا استعمال استثناء کے طور پر ہوتا ہے اس وقت حرف ہوگا۔
قولہ : بیان لعذرھا، یہ اس کا جواب ہے کہ مصری عورتوں کو تو معلوم تھا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام پر فریفتہ ہوگئی ہے پھر فذالکن الذی لمتننی فیہ یہ ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی ہو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ اس کا مقصد خبر دینا نہیں ہے بلکہ اپنی مجبوری اور لاچاری کو بیان کرنا ہے کہ جس کو تم ایک نظر دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ زخمی کر بیٹھیں تو تم خود ہی بتاؤ کہ جب وہ ہر وقت میرے ساتھ میرے گھر میں رہتا ہے تو میرا کیا حال ہوگا ؟ لہٰذا تم مجھے اس معاملہ میں معذور سمجھو۔
قولہ : بہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ آمرہٗ کی ضمیر بظاہر یوسف (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اگر ایسا ہے تو ما موصولہ بغیر عائد کے رہ جائیگا۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ آمرہٗ کی ضمیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف نہیں بلکہ ما موصولہ کی طرف راجع ہے اور آمرہٗ اصل میں آمربہ تھا باء کو حذف کردیا جیسا کہ امرتک الخیر اصل میں امرتک بالخیر تھا۔
قولہ : لھم، ای للعزیز واھلہ۔
قولہ : ان یسجنوہ، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے اعتراض یہ ہے کہ بدا فعل ہے اس کا فاعل لیسجننہ ہے حالانکہ فعل بغیر فاعل کے واقع نہیں ہوا کرتا لہٰذا فاعل کے رہ گیا جو کہ جائز نہیں ہے۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ بدا کا فاعل لیسجننہ نہیں ہے بلکہ فاعل مقدر ہے اور وہ ان یسجنوہ ہے ان یسجنوہ، أن مصدریہ کی وجہ سے بتاویل مصدر ہو کر بدا کا فاعل ہے تقدیر عبارت یہ ہے بدا تسجینہٗ ۔
تفسیر و تشریح
وقال نسوۃ عزیز مصر نے اگرچہ فضیحت و رسوائی سے بچنے کیلئے اس معاملہ کو یہیں ختم کردیا مگر بات پوشیدہ نہ رہ سکی، اور شدہ شدہ شاہی خاندانوں کی عورتوں میں یہ چرچا ہونے لگا کہ عزیز مصر کی بیوی کس قدر بےحیا ہے کہ اپنے غلام پر ریجھ گئی، اتنے بڑے مرتبہ کی عورت اور غلام سے اختلاط کا ارادہ ؟ آہستہ آہستہ اس طعن وتشنیع کی خبر عزیز کی بیوی تک بھی پہنچ گئی، اس کو یہ طعن بیحد شاق گزرا، اور اس نے چاہا کہ اس کا انتقام لے، اور ایسا انتقام لے کہ جس بات پر وہ مجھ پر طعن کرتی ہیں اسی میں ان کو مبتلا کیا جائے یہ سوچ کر ایک روز شاہی خاندان اور عمائدین شہر کی عورتوں کے کھانے کی دعوت دی اور جب کھانا کھانے کیلئے دستر خوان پر بیٹھ گے ئیں اور سب نے ترنج یا گوشت وغیرہ کاٹنے کیلئے چھریاں ہاتھ میں لے لیں تب عزیز کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ باہر آئیں حضرت یوسف (علیہ السلام) مالکہ کے حکم سے باہر نکلے تو تمام عورتیں جمال یوسف کو دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور رخ انور کی تجلی و تابانی سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ چیزیں کاٹنے کے بجائے بیخودی میں اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بےساختہ کہنے لگیں کہ کون کہتا ہے یہ انسان ہے ؟ بخدا یہ تو نور کا پتلا اور بزرگ فرشتہ ہے یہ دیکھ کر عزیز کی بیوی بیحد محفوظ ہوئی اپنی کامیابی اور ان کی شکست پر فخر کرتے ہوئے کہنے لگی یہی تو وہ غلام ہے جس کے عزق و محبت کے بارے میں تم نے مجھ کو مطعون کر رکھا ہے، اب اس کو دیکھ کر خود تمہارا حال کیا ہے ؟ اب تم خود ہی بتاؤ میرا یہ عشق بجا ہے یا بےجا، اور تمہاری ملامت برمحل ہے یا بےمحل ؟
مصری عورتوں کی یہ مدہوشی دیکھ کر اس کو مزید حوصلہ ہوگیا اور شرم و حیا کے سارے حجاب درکنار کرکے اس نے اپنے برے ارادہ کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا، اور یہ بھی کہا کہ بیشک میں نے اس کا دل اپنے قابو میں لینا چاہا تھا مگر وہ قابو میں نہ ہوا، مگر یہ کہے دیتی ہوں اگر اس نے میرا کہنا نہ مانا تو اس کو جیل جانا پڑے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔
قال رب السجن احب الی الخ ذرا ان حالات کا اندازہ کیجئے جن حالات میں یوسف مبتلا تھے، انیس بیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان ہے جو بدویانہ زندگی سے بہترین تندرستی اور بھری جوانی لے کر آیا ہے جلاوطنی اور جبری غلامی کے مراحل سے گزرنے کے بعد قدرت اسے رئیس اور رکن سلطنت کے گھر لے آئی ہے، یہاں پہلے تو خود گھر کی بیگم ہی اس کے پیچھے پڑجاتی ہے جس سے اس کا شب و روز کا سابقہ ہے پھر اس کے حسن کا چرچا پورے دار السلطنت میں ہونے لگتا ہے اور شہر بھر کے امیر گھرانوں کی عورتیں اس پر فریفتہ ہوجاتی ہیں، اب ایک طرف وہ اور دوسری طرف سینکڑوں خوبصورت جال ہیں جو ہر وقت ہر جگہ اسے پھانسنے کیلئے پھیلے ہوئے ہیں، اس حالت میں یہ خدا پرست نوجوان جس کامیابی کے ساتھ ان شیطانی ترغیبات کا مقابلہ کرتا ہے وہ بجائے خود کچھ کم قابل تعریف نہیں ہے مگر اس پر بھی وہ اپنی بشری کمزوریوں کا خیال کرکے کانپ اٹھتا ہے اور نہایت عاجزی کے ساتھ خدا سے دل ہی دل میں مدد کی التجا کرتا ہے کہ اے رب میں ایک کمزور انسان ہوں میرا اتنا بل بوتاکہاں کہ ان بےپناہ ترغیبات کا مقابلہ کرسکوں تو مجھے سہارا دے اور مجھے اپنی پناہ رکھ، ڈرتا ہوں کہ کہیں میرے قدم نہ پھسل جائیں۔
یوسف (علیہ السلام) زندان میں : بہرحال یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ بھیج دیا گیا اور ایک بےخطا کو خطا وار، معصوم کو مجرم بنادیا گیا تاکہ بیوی فضیحت و رسوائی سے بچ جائے اور مجرم کو کوئی مجرم نہ کہہ سکے عزیز مصر اور اس کے دوستوں کو اگرچہ یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی کی کھلی نشانیاں ایکھ کر یقین ہوگیا تھا مگر شہر میں اس واقعہ کا چرچا ہونے لگا اس کو ختم کرنے کیلئے مصلحت اسی میں نظر آئی کی کچھ عرصہ کیلئے یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیج دیا جائے اور یہ مصلحت بھی پیش نظر ہوسکتی ہے کہ اس بہانے سے یوسف کو اپنی بیوی سے الگ کردیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اس قسم کی حرکت نہ کرسکے۔
Ayahs 12:36–42آیت نمبر 36 تا 42
ترجمہ : چناچہ (یوسف کو) جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے جو بادشاہ کے غلام تھے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا شاہی مطبخ کا ذمہ دار، ان دونوں کو معلوم ہوا کہ (یوسف) خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں تو دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کو ضرور آزمائیں گے، ان میں سے ایک نے جو کہ ساقی تھا کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے مطبخ کے ذمہ دار نے کہا میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیک آدمی سمجھتے ہیں، (یوسف (علیہ السلام) نے) ان کو یہ بتاتے ہوئے کہ وہ خوابوں کی تعبیر سے واقف ہیں کہا کہ جو کھانے (پینے کی چیز) تم کو خواب میں کھلائی جاتی ہے بیدار ہونے کے بعد میں نے اس کی تعبیر بتادی اس کی تعبیر خارج میں ظاہر ہونے سے پہلے، یہ وہ علم ہے کہ جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے اس مقولہ میں ان دونوں کو ایمان پر آمادہ کرنا ہے پھر اسی کی تائید اپنے قول ” انی ترکت ملۃ الخ “ سے کی ہے میں نے تو ان لوگوں کا دین چھوڑ رکھا جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ آخرت کے بھی منکر ہیں دوسرا ھم پہلے ھم کی تاکید ہے اور میں نے تو اپنے آباو اجداد ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کا دین اختیار کر رکھا ہے، ہمارے لئے ہماری عصمت کی وجہ سے کسی طرح زیبا نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں، یہ توحید ہمارے اور تمام لوگوں پر اللہ کا فضل ہے لیکن اکثر لوگ کہ وہ کافر ہیں اللہ کی شکر گزاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ شرک کرتے ہیں پھر صراحت کے ساتھ ان کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے کہا اے میرے قید خانہ کے رفیقو (تم خود ہی سوچو) کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا ایک کہ وہ اللہ ہے بہتر ہے، کہ جو (سب پر) غالب ہے استفہام تقریر کیلئے ہے اس کے علاوہ جن کی تم بندگی کرتے ہو ہو اس کے سوا کچھ نہیں کہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں اور اللہ نے ان کی عبادت پر کوئی سند اور دلیل نازل نہیں کی حکم (فیصلہ) صرف اللہ وحدہٗ لاشریک لہ کا ہے اسی نے حکم دیا کہ صرف اسی کی بندگی کرو اور یہ توحید ہی صحیح دین ہے، لیکن اکثر لوگ اور وہ کافر ہیں اس عذاب کو نہیں جانتے جس کی طرف وہ جا رہے ہیں، اسی وجہ سے وہ شرک کرتے ہیں، اے میرے زندان کے ساتھیو ! تم میں سے ایک یعنی ساقی تین دن کے بعد (جیل سے) رہا کیا جائیگا، تو وہ حسب سابق اپنے مالک کو شراب پلائیگا یہ اس کے خواب کی تعبیر ہے، اور دوسرا (بھی) تین دن کے بعد (جیل سے) رہا کیا جائیگا تو وہ سولی چڑھایا جائیگا پرندے اس کے سر کو (نوچ نوچ کر) کھائیں گے یہ اس کے خواب کی تعبیر ہے، تو ان دونوں نے کہا ہم نے کوئی خواب واب نہیں دیکھا، تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا جس کا تم نے سوال کیا اس کا فیصلہ کردیا گیا خواہ تم نے سچ بولا یا جھوٹ بولا، اور دونوں میں سے جس کے بارے میں بری ہونے کا یقین تھا اس سے کہا اور وہ ساقی تھا، اپنے مالک سے میرا ذکر کرنا اور اس سے کہنا ایک غلام زندان میں ظلما بند ہے، چناچہ وہ (قید خانہ سے) رہا ہوگیا مگر شیطان نے ساقی کو اپنے مالک سے یوسف کا ذکر کرنا بھلا دیا جس کی وجہ سے یوسف قید میں کئی سال رہے کہا گیا ہے کہ سات سال رہے اور کہا گیا ہے کہ بارہ سال رہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : فسجن اس حذف میں اشارہ ہے کہ واؤ عاطفہ ہے اور دخل کا عطف محذوف پر ہے اور محذوف سجن ہے۔
قولہ : الملک اس بادشاہ کا نام ریان بن الولید تھا۔
قولہ : ای عنبا یہ مایول الیہ کے اعتبار سے مجاز ہے لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ خمر نچوڑنے کی چیز نہیں ہے۔
قولہ : مخبرا انہ عالم بتعبیر الرؤیا، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا جواب، سوال کے مطابق نہیں ہے۔
قولہ : فی منامکما، اس اضافہ کا مقصد اس تفسیر کو دفع کرنا ہے جو بعض مفسرین نے طعام ترزقانہ کی اس کھانے سے کی ہے جو کہ قیدیوں کو دیا جاتا تھا، اسلئے کہ اس تفسیر کے مطابق دونوں قیدیوں کے سوال اور یوسف (علیہ السلام) کے جواب میں مطابقت باقی نہیں رہتی اسلئے کہ سوال خواب میں کھانے کی اشیاء کے بارے میں تھا اور جواب بیداری میں کھانے کے بارے میں ہے۔
قولہ : ذلکما یہ اسم اشارہ بعید کیلئے ہے اور مراد خواب کی تعبیر کا علم ہے۔
قولہ : ذلک التوحید اسم اشارہ بعید کے بجائے اسم اشارہ قریب کا لانا علو مرتبہ اور عظمت توحید کو ظاہر کرنے کیلئے ہے۔
قولہ : ثم صرح بدعا ئھما الی الایمان یعنی ماقبل میں توحید کی دعوت کنایۃ اشارۃ تھی یہاں صراحۃ ہے لہٰذا تکرار کا اعتراض ختم ہوگیا
قولہ : صاحبی یہ صاحب کا تثنیہ ہے اصل میں صاحبین تھا منادی مضاف ہونے کی وجہ سے آخر سے نون ساقط ہوگیا۔
قولہ : لعصمتنا اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ فرمانا کہ ہمارے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ ہم کسی کو خدا کا شریک ٹھہرائیں، یہ نامناسب ہونا صرف حضرت یوسف اور ان کے اباء و اجداد ہی کیلئے نامناسب اور نازیبا نہیں ہے بلکہ یہ تو تمام انسانوں کیلئے نامناسب ہے پھر یوسف (علیہ السلام) کا اپنے ساتھ خاص کرنا کہاں تک صحیح ہے ؟
جواب : لعصمتنا کا اضافہ کرکے اسی سوال کا جواب دیا ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ کفر و شرک کا نامناسب ہونا ہمارے لئے اس لئے نہیں ہے کہ وہ حرام ہے بلکہ اس لئے نامناسب ہے کہ ہم کو اس سے پاک و صاف اور محفوظ رکھا گیا ہے بخلاف غیر انبیاء کے ان کو کفر سے پاک و صاف اور محفوظ نہیں رکھا گیا ہے اگرچہ کفر و شرک کو ان کے اوپر حرام کیا گیا ہے۔
قولہ : سمیتم بھا، سمیتموھا کی تفسیر سمیتم بھا سے کرنے کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے اعتراض یہ ہے کہ ھا ضمیر کا مرجع اسماء ہے لہٰذا ترجمہ ہوگا کہ وہ چند نام ہیں جن کا تم نے نام رکھ لیا ہے اس طرح اسماء کیلئے اسماء کا ہونا لازم آتا ہے جو کہ درست نہیں ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ حرف جر ضمیر منصوب سے پہلے محذوف ہے تقدیر عبارت سمیتم بھا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے سمیتہ زیدا ای سمیت زیدا۔ قولہ : مایصیرون یہ یعلمون کا مفعول ہے۔
تفسیر و تشریح
یوسف (علیہ السلام) پس دیوار زندان اور دو نوجوانوں کا جیل خانہ میں دخول : ودخل۔۔۔ فتیان، حسن اتفاق کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو نوجوان بھی قید خانہ میں داخل ہوئے، یہ دونوں نوجوان شاہی دربار سے وابستہ تھے ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا شاہی باروچی خانہ کا ذمہ دار، جس زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا اس زمانہ کے فرعون کا نام ریان بن الولید تھا، اور اس ساقی کا نام ابروہایا ادیونا تھا اور دوسرے کا نام مخلب یا غالب تھا، نام کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔
ان دونوں جوانوں کے جیل میں جانے کی وجہ : بیان کیا گیا ہے کہ مصر کے کچھ لوگوں نے جو بادشاہ سے کسی وجہ سے ناراض تھے بادشاہ کو راستہ سے ہٹانے کی سازش کی اور اس کا آلہ کار ان دونوں جو نوانوں کو بنایا ان کو یہ لالچ دیا کہ اگر تم بادشاہ کے کھانے یا پانی میں زہر ڈال کر بادشاہ کو ہلاک کردو گے تو تمہیں بہت سا مال دیں گے، یہ دونوں نوجوان اس پر آمادہ ہوگئے مگر بعد میں ساقی اس معاملہ سے الگ ہوگیا لیکن نان پز اس پر قائم رہا اور بادشاہ کے کھانے میں اس نے زہر ملا دیا جب کھانا بادشاہ کے سامنے آیا تو ساقی نے عرض کیا کہ آپ اس کھانے کو نہ کھائیں اس لئے کہ یہ کھانا زہر آلود ہے اور خباز نے جب یہ صورت حال دیکھی تو کہا بادشاہ سلامت آپ یہ مشروب نہ پئیں اس لئے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے بادشاہ نے ساقی سے کہا تم اس مشروب کو پیو چناچہ ساقی نے پی لیا اور اس کو کوئی نقصان نہیں ہوا اس کے بعد نان پز سے کہا تم یہ کھانا کھاؤ اس نے انکار کردیا، وہ کھانا ایک جانور کو کھلا کر تجربہ کیا گیا چناچہ وہ جانور مسموم کھانا کھا کر مرگیا، بادشاہ نے دونوں کو قید خانہ بھیج دیا ساقی کو ابتداءً شریک سازش ہونے کیوجہ سے اور خباز کو مجرم ہونے کی وجہ سے۔ (حاشیہ جلالین)
قید خانہ میں دعوت و تبلیغ : حضرت یوسف (علیہ السلام) خدا کے پیغمبر تھے دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت تقویٰ و طہارت راستبازی و حسن کرداری کے لحاظ سے قید خانہ میں ممتاز تھے تمام قیدی آپ کی عزت و احترام کرتے تھے حتی کہ قید خانہ کا داروغہ بھی آپ کا معتقد ہوگیا تھا غرضیکہ آپ کی نیک نامی کی شہرت عام تھی زندانیاں اپنی ضرورتوں میں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف رجوع کرتے تھے آپ ان کے ساتھ شفقت و مہربانی سے پیش آتے اگر ان کے بس میں ہوتا تو ان کی مدد کرتے یا داروغہ سے سفارش کرکے مدد کرتے اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تعبیر رؤیا کا خصوصی علم بھی عطا کیا تھا ایک روز وہ دونوں نوجوان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمیں آپ نیک آدمی معلوم ہوتے ہو ہم نے خراب دیکھا ہے آپ اس کی تعبیر بتائیں، یہاں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ان نوجوانوں نے کوئی خواب نہیں دیکھا تھا محض یوسف (علیہ السلام) کی آزمائش کیلئے انہوں نے فرضی خواب بیان کئے تھے علامہ سیوطی کی رائے بھی یہی ہے مگر دیگر اکثر مفسرین کی رائے اس کے خلاف ہے۔
خلاصہ یہ کہ دونوں نوجوانوں نے اپنے خواب بیان کئے اول ساقی نے کہا میں نے جواب دیکھا ہے کہ شراب کیلئے انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا میں نے یہ دیکھا ہے کہ میرے سر پر روٹیوں کا خوان ہے اور پرندے اس سے کھا رہے ہیں۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نبی اور نبی زاد تھے دین کی تبلیغ کا ذوق ان کے رگ و ریشہ میں پیوست تھا، اسلئے دین حق کی اشاعت ان کی زندگی کا نصب العین تھا، گو قید میں تھے مگر مقصد حیات کیسے فراموش کرسکتے تھے ؟ موقع کو غنیمت جانا اور ان سے نرمی اور محبت سے فرمایا، بیشک اللہ تعالیٰ نے جو باریں مجھے تعلیم فرمائی ہیں منجملہ ان کے تعبیر رؤیا کا علم بھی اس نے مجھے عطا کیا ہے، میں اس سے پہلے کہ تمہارا مقررہ کھانا تم تک پہنچے تمہارے خوابوں کی تعبیر بتادوں گا، مگر میں تم سے ایک بات کہتا ہوں ڈرا اس پر بھی غور کرو اور سمجھو۔ میں نے ان لوگوں کی ملت کا اختیار نہیں کیا جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں میں نے اپنے آباء و اجداد یعنی ابراہیم، اسحٰق، اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کی پیروی کی ہے ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک ٹھہرائیں، یہ اللہ کا ایک فضل ہے جو اس نے ہم پر کیا ہے لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے
اے دوستو ! تم نے اس پر بھی غور کیا کہ جدا جدا معبودوں کا ہونا بہتر ہے یا یکتا اللہ کا جو سب پر غالب ہے، تم اس کو علاوہ جن کی بھی بندگی کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ چند نام ہیں جن کو تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں برہان و سند نہیں اتاری حکومت تو صرف اللہ ہی کی ہے اس نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو یہی راہ مستقیم ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ شکر گزار بھی نہیں ہیں۔
رشد و ہدایت کی تبلیغ کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تعبیر خواب کی طرف متوجہ ہونا : یاصاحبی۔ کما، توحید کی نصیحت کرنے کے بعد ان کے خوابوں کی تعبیر کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا دوستو ! جس نے یہ دیکھا ہے کہ وہ انگور نچوڑ رہا ہے وہ قید سے رہا ہو کر حسب سابق بادشاہ کے ساقی کی خدمت انجام دے گا اور جس نے روٹیوں والا خواب دیکھا ہے اسے سولی دی جائیگی اور پرندے اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے، جن باتوں کے بارے میں تم نے سوال کیا تھا وہ فیصل ہو چکیں اور فیصلہ یہی ہے۔
احکام و مسائل
آیات مذکورہ سے مفہوم چند احکام و مسائل :
(1) جیل خانہ عام طور پر مجرموں اور بدمعاشوں کی بستی سمجھی جاتی ہے، مگر یوسف (علیہ السلام) نے ان کے ساتھ بھی حسن اخلاق اور حسن معاشرت کا معاملہ کیا جس سے یہ سب لوگ گرویدہ ہوگئے، اس سے معلوم ہوا کہ مصلحین کیلئے ضروری ہے کہ مجرموں اور بدمعاشوں کو بھی حسن معاشرت کے ذریعہ مانوس و مربوط کریں ان سے نفرت کا اظہار نہ کریں۔
(2) انا نراک من المحسنین سے یہ معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر ایسے ہی لوگوں سے دریافت کرنا چاہیے جن کے نیک اور ہمدرد ہونے پر اعتماد ہو۔
(3) یہ بھی معلوم ہوا کہ اصلاح خلق کی خدمت کرنے والوں کا چاہیے کہ اپنے عمل و اخلاق کے ذریعہ لوگوں کا اپنے اوپر اعتماد بحال کریں خواہ اس میں ان کو کچھ اپنے کمالات کا اظہار کرنا پڑے، جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس موقع پر اپنا معجزہ بھی ذکر کیا اور اپنا خاندان نبوت کا ایک فرد ہونا بھی ظاہر کیا، اگر یہ اظہار اخلاص کے ساتھ ہو تو فلا تذکروا انفسکم کی ممانعت میں نہیں آتا۔
(4) چوتھی بات یہ بتلائی گئی کہ داعی اور مصلح کا فرض ہے کہ ہرحال میں اپنے وظیفۂ دعوت و تبلیغ کو مقدم رکھے، جب بھی کوئی موقع میسر ہو خواہ انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر اس کو ہاتھ سے نہ جانے دے جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس یہ قیدی خواب کی تعبیر دریافت کرنے کیلئے آئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے دعوت و تبلیغ کے ذریعہ ان کو رشد و ہدایت کا تحفہ عطا فرمایا، یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ دعوت و تبلیغ کے کام کیلئے کسی جلسے یا منبر اور اسٹیج ہی درکار ہوتے ہیں، شخصی اور نجی ملاقاتوں کے ذریعہ یہ کام زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
(5) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل سے رہائی کیلئے اس قیدی سے جس کا دوبارہ اپنی ملازمت پر بحال ہونا یقینی تھا کہا
کہ جب تم بادشاہ کے پاس جاؤ تو میرا بھی ذکر کرنا کہ ایک بےقصور جیل میں ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی مصیبت سے خلاصی کیلئے کسی شخص کی کوشش کو واسطہ بنانا توکل کے خلاف نہیں۔