12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 12:69–79

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب ان کا اسباب تیار کردیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! تم تو چور ہو۔

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ انکی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے کہ بادشاہ کے پانی پینے کا گلاس کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا۔ پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی، (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے۔

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں۔ اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیجئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں،

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اسکے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں۔

آیت نمبر 69 تا 79 ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے والے نے ان کے یوسف کی مجلس سے جدا ہونے کے بعد آواز دی، اے قافلے والو تم لوگ چور ہو، انہوں نے پلٹ کر پوچھا تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ؟ جواب دیا شاہی پیمانہ گم ہے، اور جو شخص لاکر دیگا اس کو ایک بار شتر غلہ انعام ملے گا اور اس بار شتر کا میں ضامن ہوں، تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم اس قسم میں تعجب کے معنی ہیں۔ تم خوب جانتے ہو کہ ہم ملک میں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں، یعنی ہم نے ہرگز چوری نہیں کی، اعلان کرنے والے اور اس کے ساتھیوں نے کہا چور کی (تمہارے نزدیک) کیا سزا ہے اگر تم اپنی بات ” ماکنا سارقین “ میں جھوٹے نکلے اور چور تمہارے اندر ہی سے نکلا، انہوں نے کہا اس کی جزاء خود وہ ہے جس کے سامان میں وہ پیالہ نکلے (یعنی) اس کو غلام بنا لیا جائے (جزاؤہ) مبتداء ہے من وجد الخ اس کی خبر ہے، پھر اس کو اپنے قول فھو جزاؤہٗ سے مؤکد کیا، یعنی وہی چور اس مال مسروق کی جزاء ہے نہ کہ دوسرا اور آل یعقوب کا یہی دستور تھا، ہم تو ایسے ظالموں کو چوری کی ایسی ہی سزا دیتے ہیں، چناچہ ان کو یوسف کے پاس ان کے سامان کی تلاشی کیلئے لایا گیا، چناچہ اپنے حقیقی بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے یوسف (علیہ السلام) نے دوسروں کے سامان کی تلاشی شروع کی تاکہ تہمت کا شک نہ ہو پھر اس پیالے کو اپنے (حقیقی) بھائی کے سامان سے برآمد کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے یوسف کیلئے ایسی ہی تدبیر کی یعنی اپنے بھائی کو روکنے کیلئے (یوسف کو) ایسی تدبیر سکھائی، یوسف کیلئے ملک مصر کے قانون کی رو سے یہ ممکن نہ تھا کہ چوری کے بدلے میں اپنے بھائی کو غلام بنا لے اسلئے کہ چور کی سزا ان کے نزدیک زدوکوب کرنا اور مال مسروق کی دوگنی مقدار تاوان ڈالنا تھا نہ کہ غلام بنانا، مگر یہ کہ اللہ ہی یوسف کے والد کے قانون کے مطابق اس کو پکڑ کر رکھنا چاہے، یعنی یوسف اپنے بھائی کو روکنے پر محض اللہ کی مشیت ہی سے قادر ہوئے یوسف کو اپنے بھائیوں سے سوال کا الہام کے ذریعہ اور ان کے اپنے قانون کے مطابق جواب کے ذریعہ، ہم جس کے چاہیں علم میں درجات بلند کردیں جیسا کہ یوسف کے (درجات من) میں اضافت اور تنوین (دونوں درست ہیں) مخلوق میں سے ہر ذی علم پر دوسرا ذی علم فوقیت رکھنے والا موجود ہے یعنی ہر ذی علم کے اوپر عالم موجود ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے۔ قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل، بھائیوں نے کہا اگر یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات نہیں اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چوری کرچکا ہے (یعنی) اس نے اپنے نانا کا سونے کا بت چرا کر توڑ دیا تھا تاکہ وہ اس کی بندگی نہ کرے، یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل ہی میں رکھا (یعنی اس بات کو پی گئے) ان کے سامنے اس کو ظاہر نہ کیا اور (ھا) ضمیر اس کلمہ کی طرف راجح ہے جو ان کے قول سے مفہوم ہے (بس زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ تم تو یوسف اور اس کے بھائی سے بدتر ہو تمہارے اپنے بھائی کو اپنے باپ سے چرانے کی وجہ سے اور اس پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو اللہ اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے بھائیوں نے کہا اے سردار ذی اقتدار اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ہماری بہ نسبت اس سے زیادہ پیار کرتا ہے اور اپنے ہلاک ہونے والے بیٹے کے بجائے اسی سے دل بہلاتا ہے، اور اسکی جدائی اس کو غم زدہ کر دے گی، لہٰذا اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو غلام بنالیجئے، ہم برتاؤ میں آپ کو بڑا ہی نیک نفس سمجھتے ہیں، یوسف (علیہ السلام) نے کہا (ایسی ناانصافی سے) اللہ بچائے (معاذ اللہ) مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا فعل (نعوذ) حذف کردیا گیا ہے اور مفعول کی جانب اضافت کردی گئی ہے (ای نعوذ باللہ) یعنی اللہ اس بات سے بچائے کہ ہم اس کے علاوہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہو کسی دوسرے کو پکڑ کر رکھ لیں (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے) جھوٹ سے بچنے کیلئے من سرق کا لفظ استعمال نہیں کیا، اگر ہم نے کسی دوسرے کو پکڑ کر رکھ لیا تو اس صورت میں ہم بڑے ناانصاف کہلائیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : توا طأمعہ، تواطأ، ای توافق دونوں نے اتفاق کرلیا۔ قولہ : السقایۃ، پانی پلانے کا برتن پانی پلانے کی جگہ، پانی پلانا، یہاں پانی کا پیالہ مراد ہے، بعد میں اس پیالہ کو کیل کے طور پر استعمال کیا جانے لگا، صاع اس میں ایک لغت صواع بھی ہے۔ قولہ : لئلا یتھم، تاکہ سازش کی تمہت نہ لگے۔ قولہ : علمناہ الاحتیال، یہ کدنا لیوسف کی تفسیر ہے اس تفسیر کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف کید کی نسبت کی نفی مقصود ہے، کدنا کے معنی ہیں علمنا الکید، ہم نے یوسف کو حیلہ سکھایا۔ قولہ : بحکم ابیہ، یعنی یوسف کے والد یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق انکی شریعت میں چوری کی سزا غلام بنا لینا تھی قولہ : بالھامہ سوال اخوتہ وجوابھم بسنتھم، مصری قانون کی رو سے بنیامین کو غلام بنا کر نہیں روک سکتے تھے، اسلئے کہ مصری قانون میں چوری کی سزا زدو کو ب کرنا اور مال مسروقہ کی دوگنی مقدار تاوان وصول کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے دل میں بذریعہ الہام یہ بات ڈالی کہ خود ان ہی سے سوال کرو کہ چوری کی سزا کیا ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے قانون کے مطابق جواب دیں کنعانی قانون میں چوری کی سزا استر قاق (غلام بنانا تھی) اس طرح برادران یوسف نے خود ہی بنیامین کی سزا یعنی غلام بنا لینا تجویز کردیا۔ قولہ : من المخلوقین بعض حضرات نے جن میں فلاسفہ اور معتزلہ بھی شامل ہیں اللہ تعالیٰ کے قول ” فوق کل ذی علم علیم “ سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم بالذات ہے نہ کہ عالم بالصفات اسلئے کہ اگر اللہ تعالیٰ عالم بالصفت ہو تو ہر ذی علم کے اوپر اعلم ہے اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ سے بڑھ کر بھی کوئی اعلم ہو حالانکہ یہ باطل ہے۔ جواب : مفسر علام نے من المخلوقین کا اضافہ کرکے اسی سوال کا جواب دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر ذی علم پر فوقیت مخلوق کے اعتبار سے ہے نہ کہ خالق کے اعتبار سے، من المخلوقین کی قید کے بعد پھر حتی ینتھی کی قید کی ضرورت نہیں رہتی۔ قولہ : والضمیر للکلمۃ التی فی الخ اس میں ما اضمر عاملہ علی شریطۃ التفسیر کی طرف اشارہ ہے، خازن میں ہے کہ فاسرھا کی ضمیر مفعولی میں تین اقوال ہیں۔ (1) ضمیر بعد والے کلمہ یعنی انتم شر مکانا کی طرف راجع ہے۔ (2) فقد سرق اخ لہ کی طرف راجع ہے۔ (3) ضمیر حجۃ کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہوگا کہ یوسف نے اس احتجاج کو ترک کردیا۔ تفسیر و تشریح فلما دخلوا علی یوسف الخ جب برادران یوسف شہر مصر میں داخل ہوئے، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ وعدہ کے مطابق ان کے حقیقی چھوٹے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لے آئے ہیں تو یوسف (علیہ السلام) نے انکی کافی آؤ بھگت کی اور شاہی اکرام کے ساتھ انکو ٹھہرانے کا انتظام کیا، دو دو بھائیوں کو ایک ایک کمرہ میں ٹھہرایا چونکہ برادران یوسف گیارہ تھے دو دو ایک ایک کمرہ میں ٹھہرنے کے بعد بنیامین تنہا رہ گئے تو ان کو تنہا ایک کمرہ میں ٹھہرایا اس میں مصلحت یہ تھی کہ موقع نکال کر بنیامین سے تنہائی میں باتیں ہو سکیں چناچہ آپس میں تنہائی میں خوب باتیں ہوئی ہوں گے دونوں حقیقی بھائیوں کی ملاقات ایک مدت دراز یعنی بیس اکیس سال بعد ہو رہی ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بتایا ہوگا کہ وہ کن کن حالات سے گذرتے ہوئے اس مرتبہ پر پہنچے ہیں، بنیامین نے سنا ہوگا کہ ان کے سوتیلے بھائیوں نے ان کے ساتھ کیا کیا بدسلوکیاں کیں ہیں پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تسلی دی ہوگی کہ اب گھبرانے کی بات نہیں ہے مصیبتوں کے دن ختم ہوچکے ہیں اب تم میرے ہی پاس رہو گے، یقیناً یوسف (علیہ السلام) کی یہ دلی خواہش رہی ہوگی کہ کسی طرح اپنے عزیز بھائی بنامین کو اپنے پاس روک لے اور یقیناً اس کیلئے کوئی تدبیر بھی ضرور سوچی ہوگی، مگر انتہائی خواہش کے باوجود یوسف (علیہ السلام) کیلئے ایسا کرنا ممکن نہ تھا اسلئے کہ مصری قانون میں کسی غیر مصری کو بغیر کسی معقول وجہ کے روک لینا سخت منع تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ کسی طرح نہیں چاہتے تھے کہ اس وقت لوگوں پر یا ان کے بھائیوں پر اصل حقیقت منکشف ہو۔ بنیامین کو روک لینے کی تدبیر : فلما جھزھم بجھازھم جعل السقایۃ فی رحل اخیہ آیات مذکورہ میں اس کا بیان ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی بنامین کو اپنے پاس روکنے کیلئے یہ حیلہ اور تدبیر اختیار کی کہ جب سب بھائیوں کو قاعدہ کے موافق غلہ دیدیا گیا تو ہر بھائی کا غلہ الگ الگ اونٹ پر رکھا گیا۔ بنیامین کیلئے جو غلہ اونٹ پر لادا گیا اس میں ایک برتن چھپا دیا گیا، اس برتن کو قرآن مجید نے ایک جگہ لفظ ” سقایہ “ سے اور دوسری جگہ ” صواع الملک “ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے سقایہ کے معنی ہیں پانی پینے کا برتن اور صواع بھی اسی قسم کا ایک برتن ہوتا ہے اور ناپنے کے برتن کو بھی صواع یا صاع کہتے ہیں ہوسکتا ہے یہ بادشاہ کے پانی پینے کا کوئی مخصوص برتن ہو مگر برکت کے طور پر اسے غلہ ناپنے کے کام میں لیا جانے لگا ہوا لبتہ صواع الملک میں ملک کی جانب نسبت کرنے سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ یہ کوئی قیمتی برتن تھا خواہ سونے کا ہو یا چاندی کا یا کسی اور قیمتی چیز کا، بہر حال وہ برتن بنیامین کے سامان میں چھپا دیا گیا تھا، قیمتی برتن ہونے کے علاوہ وہ ملک مصر سے کوئی اختصاص بھی رکھتا تھا۔ ثم۔۔۔۔ الخ یعنی کچھ دیر کے بعد منادی نے پکارا کہ اے قافلہ والو ! تم چور ہو ندا دینے والا کوئی مطبخ وغیرہ کا ذمہ دار رہا ہوگا اور اس طے شدہ حیلہ کا علم نہ ہوگا اور جب سرکاری ساز و سامان کی جانچ پڑتال کی ہوگی تو وہ مخصوص برتن نہ ملنے کی وجہ سے برادران یوسف پر شبہ ہوا ہوگا اس لیے کہ شاہی محل میں ان کے سوا اور کوئی نہ ٹھہرا تھا جس کی وجہ سے ان پر چوری کا الزام لگایا برادران یوسف کا رندوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے ہم پر خواہ مخواہ کیوں الزام لگاتے ہو، آخر معلوم تو ہو کہ تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے ؟ کارندے کہنے لگے شاہی پیمانہ (پیالہ) گم ہوگیا ہے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ جو شخص اس چوری کا پتہ لگا دے گا اس کو ایک اونٹ غلہ انعام دیا جائیگا، اور میں اس بات کا ضامن ہوں، برادران یوسف نے کہا خدا جانتا ہے کہ ہم مصر میں فساد اور شرارت کی غرض سے نہیں آئے اور تم جانتے ہو کہ ہم اس سے پہلے بھی غلہ لینے آچکے ہیں، کارندوں نے کہا اچھا جس کے پاس سے یہ چوری نکلے اس کی سزا کیا ہونی چاہیے انہوں نے جواب دیا کہ وہ خود آپ اپنی سزا ہے یعنی وہ تمہارے حوالہ کردیا جائیگا ہمارے یہاں چوری کی یہی سزا ہے، جب کارندوں نے برادران یوسف کا یہ جواب سنا تو تلاشی لینی شروع کی ابتداء دوسرے بھائیوں سے کی اور جب ان کے سامان میں پیالہ نہ نکلا تو آخر میں بنیامین کے سامان کی تلاشی لی تو پیالہ برآمد ہوا اور قافلہ کو واپس لوٹا کر عزیز مصر یوسف کی خدمت میں معاملہ پیش کیا، حضرت یوسف نے معاملہ کی نوعیت کو سنا تو دل میں بیحد مسرور ہوئے اور خدا تعالیٰ کی کارسازی کا شکر ادا کیا اور خاموش رہے اور یہ ظاہر نہ کیا کہ یہ پیالہ میں نے خود رکھا تھا، ادھر بنیامین خاموش رہے چونکہ یہ واقعہ ان کی مرضی کے عین موافق تھا۔ برادران یوسف نے جب دیکھا کہ مسروقہ پیالہ بنیامین کے سامان سے برآمد ہوا ہے تو کہنے لگے اگر بنیامین نے چوری کی ہے تو کیا تعجب ہے اس سے پہلے اس کا بڑا بھائی یوسف بھی چوری کرچکا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب چوری کے واقعہ کی حقیقت : ابن کثیر نے بحوالہ محمد بن اسحٰق، مجاہد سے نقل کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ولادت کے تو تھوڑے ہی دنوں کے بعد بنیامین کی ولادت ہوئی تھی اور اسی ولادت کے سلسلہ میں ان کی والدہ راحیل کا انتقال ہوگیا تھا اب یہ دونوں بچے بغیر ماں کے رہ گئے جس کی وجہ سے ان کی تربیت ان کی پھوپھی کی گود میں ہوئی اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے یوسف (علیہ السلام) کو کچھ ایسی شان عطا فرمائی تھی کہ جو دیکھتا ان سے بیحد محبت کرنے لگتا تھا پھوپھی کا بھی یہی حال تھا کہ کسی وقت بھی ان کو نظروں سے گا ئب کرنے پر قادر نہیں تھیں، دوسری طرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بھی ایسا ہی حال تھا مگر بہت چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضرورت اس کی تھی ان کو ابھی کسی عورت ہی کی نگرانی میں رکھا جائے، اس لئے پھوپھی کے حوالہ کردیا جب یوسف (علیہ السلام) چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے چاہا کہ یوسف کو اپنے پاس رکھیں جب پھوپھی سے کہا تو انہوں نے عذر کردیا جب زیادہ اصرار کیا تو مجبور ہو کر ان کے والد کے حوالہ کردیا ایک تدبیر ان کو واپس لینے کی یہ کی کہ پھوپھی کے پاس ایک پٹکا تھا جو حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کی طرف سے ان کو ملا تھا اور اس کی بڑی قدروقیمت سمجھی جاتی تھی یہ پٹکا پھوپھی نے یوسف (علیہ السلام) کے کپڑوں کے نیچے کمر پر باندھ دیا۔ یوسف (علیہ السلام) کے جانے کے بعد یہ شہرت کردی کہ میرا پٹکا چوری ہوگیا ہے جب تلاشی لی گئی تو یوسف کے پاس سے برآمد ہوا، شریعت یعقوب (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق اب پھوپھی کو یہ حق ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس غلام بنا کر رکھ سکیں چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پھر پھوپھی کے حوالے کر دئیے گئے اور جبتک پھوپھی زندہ رہیں یوسف (علیہ السلام) ان کے پاس رہے۔ یہ واقعہ تھا جس میں یوسف (علیہ السلام) پر چوری کا الزام لگا تھا، اس واقعہ کی حقیقت اسی وقت سب لوگوں پر عیاں ہوگئی تھی کہ پھوپھی نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس روکنے کیلئے یہ سازش رچائی تھی جس کو کسی طرح بھی چوری نہیں کہا جاسکتا مگر یوسف کے بھائیوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ چوری کا واقعہ نہیں تھا بددیانتی کی وجہ سے اس کو یوسف کے منہ ہی پر چوری کا واقعہ بنا کر پیش کیا۔ ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے بعض مفسرین نے نانا کے گھر سے سونے کی مورتی چرانے کی بات کہی جیسا کہ صاحب جلالین نے بھی نقل کیا ہے مگر یہ بات کسی مستند روایت سے ثابت نہیں ہے وکان ابوامہ کافراً یعبد الاصنام فامرتہ امہ بان یسرق تلک الاوثان ویکسرھا ففعل۔ (کبیر) جب یوسف نے دیکھا کہ خود ان کے منہ پر جھوٹ بول رہے ہیں تو ضبط سے کام لیا اور غصہ کو پی کر رہ گئے اور دل میں کہا کہ تمہارے لئے نہایت بری جگہ ہے کہ جھوٹا الزام لگا رہے ہو حالانکہ اللہ اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ برادران یوسف کا آپس میں مشورہ : برادران یوسف نے جب یہ صورت دیکھی تو آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح بنیامین کو حاصل کیا جائے ؟ جب کوئی صورت باقی ہے کہ خوش آمدانہ عرض معروض کرکے عزیز مصر کو بنیامین کو واپسی کی ترغیب دلائیں، کہنے لگے اے سردار با اقتدار ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے اس کو اس سے پہلے بھائی کا بھی غم ہے آپ اس پر رحم کیجئے اور آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجئے آپ بلاشبہ پاک نفس اور بااخلاق شخص ہیں عزیز مصر (یوسف) نے کہا، خدا کی پناہ یہ کیسے ممکن ہے اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا شمار ظالموں میں ہوگا۔
Ayahs 12:80–93

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے ؟ اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو۔ تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لئے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر کرنیوالا ہے۔

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ابّا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اسکے لے آنیکا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب (کی باتوں) کے (جاننے اور) یاد رکھنے والے نہیں تھے۔

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے تھے) وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کرلیجئے۔ اور ہم (اس بیان میں) بالکل سّچے ہیں۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بیشک وہ دانا (اور) حکم والا ہے۔

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) انکی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دیدیں گے۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کے میں تو اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلہ دیجئے اور خیرات کیجئے کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

آیت نمبر 80 تا 93 ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ اباجان ہی مجھے اپنے پاس واپس آنے کی اجازت نہ دیدیں، یا اللہ ہی میرے بھائی کو رہائی دلا کر میرے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر دے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، تم اپنے اباجان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ آپ کے صاحبزادے نے چوری کرلی ہے (اس لئے گرفتار ہوئے ہیں) اور ہم وہی شہادت دے رہے ہیں جن کا ہم کو یقینی علم ہوا ہے، اس کے کجاوہ سے پیالہ برآمد ہوتے دیکھنے کی وجہ سے، اور قول وقرار کرتے وقت کچھ ہم غیب کے جاننے والے تو تھے نہیں اور اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ چوری کرے گا تو ہم (ہرگز) عہد نہ کرتے، اور اس بستی والوں سے معلوم کرلیں جس میں ہم تھے اور وہ بستی مصر ہے یعنی اس بستی والوں کے پاس کسی کو بھیج کر تحقیق کر الیجئے اور اس قافلے والوں سے دریافت کرلیجئے جس میں ہم آئے ہیں، اور وہ کنعانی لوگ ہیں، اور عیر سے اصحاب عیر مراد ہیں، اور ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں چناچہ (نو بھائی) حضرت یعقوب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مذکورہ تمام باتیں اباجان سے کہیں (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا (حقیقت ایسی نہیں ہے) بلکہ تم نے اپنی طرف سے ایک بات گھڑلی جس کو تم نے عملی جامہ پہنا دیا، ان کو متہم کرنے کی وجہ بھائیوں کی وہ حرکت تھی جو وہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں کرچکے تھے، لہٰذا اب صبر ہی بہتر ہے، (تقدیر عبارت یہ ہے) فصبری صبر جمیل، مجھے امید ہے کہ اللہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کے دونوں بھائیوں (بنیامین اور یہودا) کو میرے پاس پہنچا دے گا وہی میری حالت سے واقف (اور) اپنی صنعت میں باحکمت ہے اور ان سے سلسلہ گفتگو ختم کرکے ان کی طرف منہ پھیرلیا، اور کہا ہائے یوسف ! اسفی کا الف یاء اضافت سے بدلا ہوا ہے، معنی میں یا حزنی کے ہے، یوسف کے غم میں روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں (یعنی) آنکھوں کی سیاہی زائل ہو کر سفیدی میں تبدیل ہوگئی تھی، وہ دل ہی دل میں گھٹ رہے تھے (یعنی) مغموم بےچین تھے، اپنی بےچینی کا اظہار نہیں کر رہے تھے، بیٹوں نے کہا واللہ تم تو ہمیشہ یوسف ہی کو یاد کرتے رہو گے یہاں تک کہ اپنے طول مرض کی وجہ سے لب جان ہوجاؤ گے (حرضا) مصدر ہے اس میں واحد اور غیر واحد سب برابر ہیں، یا ہلاک ہی ہوجاؤ گے (یعقوب) نے ان سے کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں نہ کہ کسی اور سے (بث) اس شدید غم کو کہتے ہیں کہ جس پر صبر نہ کیا جاسکے یہاں تک کہ لوگوں کو بھی اس کا علم ہوجائے ایک وہی ذات ایسی ہے کہ اسی سے فریاد فائدہ دے سکتی ہے اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم واقف نہیں ہو اس بات سے کہ یوسف (علیہ السلام) کا خواب سچا ہے اور وہ زندہ ہے (یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے کہا میرے پیارے بچو ! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو پوری طرح تلاش کرو (یعنی) ان کی خبر نکالو، اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو یقیناً اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں، چناچہ برادران یوسف مصر کی طرف روانہ ہوئے، جب یہ لوگ یوسف کے حضور حاضر ہوئے تو عرض کیا اے سردار بااقتدار ہم اور ہمارے بچے بھوک (فاقہ) میں مبتلا ہوگئے ہیں، اور ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں جس کو اس کے کھوٹے ہونے کی وجہ سے ہر وہ شخص رد کرتا ہے جو اس کو دیکھتا ہے اور وہ کھوٹے دراہم یا ان کے علاوہ تھے، آپ ہم کو بھر پور غلہ دیجئے اور ہماری کھوٹی پونجی سے چشم پوشی کرتے ہوئے ہمارے اوپر خیرات کیجئے، اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو جزائے خیر عطا کرتا ہے، یعنی ان کو اجر عطا کرتا ہے، چناچہ یوسف (علیہ السلام) کو ان پر ترس آگیا، اور یوسف کا دل ان پر نرم ہوگیا اور یوسف اور اس کے بھائیوں کے درمیان جو حجاب تھا وہ ہٹا دیا، پھر زجروتوبیخ کے طور پر ان سے کہا جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف کے ساتھ زدو کو ب اور فروخت وغیرہ کا کیا سلوک کیا تھا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ ظلم کا معاملہ کیا تھا اس کے بھائی سے جدا ہونے کے بعد اس وقت جبکہ تم کو معلوم نہیں تھا کہ یوسف کس رتبہ کو پہنچے گا، یوسف کی پہچان کے بعد جب یوسف کے خصائل ظاہر ہوگئے تو اقرار کرتے ہوئے کہنے لگے کیا تم سچ مچ یوسف ہی ہو ؟ (ء انک) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں کے درمیان دونوں صورتوں میں الف داخل کرکے، انہوں نے کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی (بنیامین) ہے بلاشبہ اللہ نے جمع کرکے ہمارے اوپر انعام فرمایا، واقعی جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور پیش آنے والے مصائب پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک کام کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا، اس میں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر رکھا ہے، کہنے لگے بخدا اللہ نے آپ کو ہم پر ملک وغیرہ میں فضیلت دی ہے اور بیشک ہم تیرے معاملہ میں خطا اور گنہگار تھے ان مخففہ عن الثقیلہ ہے سو ہم کو (اللہ نے) تمہارے سامنے ذلیل کردیا، (یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے کہا آج تم پر کوئی ملامت (الزام) نہیں، عدم ملامت کیلئے الیوم کو خاص کیا اسلئے کہ وہ دن ملامت کا دن تھا لہٰذا دیگر ایام ملامت میں بطریق اولی داخل ہوں گے، اللہ تمہارا قصور معاف کرے اور وہ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، اور (یوسف نے) اپنے والد کے بارے میں دریافت کیا تو کہا ان کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئی ہیں، (یعنی نابینا ہوگئے ہیں) اب تم میرا یہ کرتہ لے جاؤ اور یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا وہی کرتہ تھا جو ابراہیم (علیہ السلام) نے آگ میں ڈالتے وقت پہنا تھا، اور کنویں میں بھی (یوسف) اس کو پہنے ہوئے تھے، اور وہ جنتی لباس تھا، اور جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کرتہ کو یعقوب کے پاس بھیجنے کیلئے کہا تھا، اور کہا تھا کہ اس میں ایک قسم کی خوشبو ہے، اور جب بھی کسی مبتلائے مصیبت پر ڈالا جاتا ہے اس کو عافیت نصیب ہوتی ہے، تم اس کو میرے اباجان کے چہرے پر ڈالدو ان کی بینائی لوٹ آئے گی اور تم اپنے سب گھر والوں کو بھی میرے پاس لے آؤ۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : استیئسوا، وہ ناامید ہوگئے (استیئاس) سے ماضی مذکر غائب۔ قولہ : یئسوا اس میں اشارہ ہے کہ استفعل معنی میں فعل کے ہے اور سین و تاء مبالغہ کیلئے ہیں، ای یئسوا یأسا کاملا۔ قولہ : ای یناجی بعضھم بعضا، اس میں اشارہ ہے کہ نجیا حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے خلصوا متناجین۔ قولہ : صبری اس میں اشارہ ہے کہ فصبر جمیل، صبری مبتداء محذوف کی خبر ہے، بعض حضرات نے صبری کے بجائے امری محذوف مانا ہے۔ قولہ : انمحق انمحاق (انفعال) یہ محق سے ماخوذ ہے بمعنی مٹانا اور باطل کرنا۔ قولہ : لا، اس میں اشارہ ہے کہ تفتئوا سے پہلے حرف نفی لامحذوف ہے، ورنہ تو ترجمہ یہ ہوگا کہ تم بھول جاتے ہو اور یاد کرتے رہتے ہو، حالانکہ اس کا کوئی مفہوم نہیں ہے، دوسری بات یہ کہ تفتئوا جواب قسم ہے اور جواب قسم جب ماضی مثبت واقع ہوتا ہے تو اس پر لام اور نون کا لانا ضروری ہوتا ہے حالانکہ یہاں یہ دونوں نہیں ہیں۔ قولہ : حرضا، حرضا مصدر ہے لہٰذا جمع پر حمل درست ہے۔ قولہ : مزجاۃ ازجیت سے ماخوذ ہے ازجیتہ ای دفعتہ۔ قولہ : مستثبتین اور بعض نسخوں میں متثبتین ہے، اس میں اشارہ ہے کہ ھل علمتم اور مافعلتم بیوسف میں ما استفہام تقریری ہے۔ قولہ : فاذلنا لک الخ ای جَعَلَنَا ذَلِیْلاً ۔ (ترویح الارواح) تفسیر و تشریح فلما۔۔۔۔ الخ جب برادران یوسف بنیامین کی رہائی سے مایوس ہوگئے تو خلوت میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے ان میں سے علم و فضل میں بڑے بھائی نے جس کا نام یہودا تھا یا عمر میں بڑے بھائی تھے جس کا نام روبیل تھا کہ میں تو یہیں رہوں گا آپ سب لوگ اباجان کے پاس جائیں اور ان کو بتلائیں کہ آپ کے صاحبزادے نے چوری کی جس کی پاداش میں ان کو روک لیا گیا ہے، اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ چشم دید حالات ہیں کہ مسروقہ مال ہمارے سامنے بنیامین کے سامان سے برآمد ہوا، اور ہمیں کوئی غیب کا علم تو تھا نہیں کہ یہ چوری کرے گا ورنہ ہم ہرگز اس کو واپس لانے کی ذمہ داری نہ لیتے۔ چونکہ برادران یوسف اس سے پہلے ایک فریب یوسف کے بارے میں دے چکے تھے اور یہ جانتے تھے کہ ہمارے مذکورہ بیان سے والد صاحب کو ہرگز اطمینان نہ ہوگا، اس لئے مزید تاکید کیلئے کہا کہ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ آئے تو آپ مصر کے لوگوں سے تحقیق کرالیں، اور آپ اس قافلے سے بھی تحقیق کرسکتے ہیں جو ہمارے ساتھ ہی مصر سے کنعان آیا ہے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں۔ قال بل۔۔۔۔ الخ غرضیکہ یعقوب (علیہ السلام) نے برادران یوسف کے بیان کی تصدیق نہ کی چونکہ یوسف کے معاملہ میں ان بھائیوں کا جھوٹ ثابت ہوچکا تھا اس لئے اس مرتبہ ان کی سچی بات کا بھی یقین نہیں کیا، اور کہہ دیا ” بل سولت لکم انفسکم امرًا، فصبر جمیل “ یعنی تم نے یہ بات اپنی طرف سے گھڑی ہے میرے لئے صبر ہی بہتر ہے، قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو مجھے ملا دے گا۔ و تولی عنھم۔۔۔۔ الخ اس دوسرے صدمہ کے بعد صاحبزادوں سے اس معاملہ میں گفتگو موقوف کردی اور اپنے رب کے سامنے فریاد شروع کردی، اور اسی غم میں روتے روتے ان کی بینائی جاتی رہی مقاتل نے کہا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کی یہ حالت چھ سال رہی، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کے بعد زیادہ تر خاموش رہنا شروع کردیا دل ہی دل میں گھٹتے رہتے تھے کسی سے کچھ نہ کہتے تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کی اتنی شدید آزمائش کسی وجہ سے ہوئی ؟ امام قرطبی نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اس شدید ابتلا و امتحان کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے، بعض روایات میں آیا ہے کہ ایک روز حضرت یعقوب (علیہ السلام) تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے اور یوسف (علیہ السلام) ان کے سامنے سو رہے تھے، اچانک حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کچھ خراٹے کی آواز نکل تو یعقوب (علیہ السلام) کی توجہ یوسف (علیہ السلام) کی طرف چلی گئی ایسا تین مرتبہ ہوا تیسری مرتبہ میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا دیکھو یہ مرا دوست مجھ سے ہم کلامی کے وقت غیر کی طرف متوجہ ہوتا ہے میری عزت و جلال کی قسم کہ انکی دونوں آنکھیں نکال لونگا اور جس کی طرف توجہ کی ہے اس کو مدت دراز کیلئے اس سے جدا کردوں گا (معاف) فلما دخلوا۔۔۔۔ الضر، جب برادران یوسف والد کے حکم کے مطابق مصر پہنچے اور عزیزمصر سے ملاقات ہوئی تو خوش آمدانہ گفتگو شروع کی، اپنی محتاجی اور بیکسی کا اظہار کیا کہ اے عزیز ہم کو اور ہمارے گھروالوں کو قحط کی وجہ سے سخت تکلیف پہنچ رہی ہے، یہاں تک کہ اب ہمارے پاس غلہ خریدنے کیلئے بھی مناسب قیمت موجود نہیں ہم مجبور ہو کر کچھ نکمی نخالص چیزیں غلہ خریدنے کیلئے لے کر آئے ہیں آپ اپنے کریمانہ اخلاق سے انہی نکمی چیزوں کو قبول فرمالیں اور غلہ پورا عنایت فرمادیں ہماری کھوٹی پونجی کی وجہ سے غلہ میں کمی نہ کریں، ظاہر ہے کہ ہمارا ستحقاق نہیں ہے مگر آپ خیرات سمجھ کر دیدیجئے اللہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو جزاء خیر عطا کرتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے جب بھائیوں کے یہ مسکنت آمیز الفاظ سنے اور شکستہ حالت دیکھی تو طبعی طور پر حقیقت حال ظاہر کردینے پر مجبور ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) پر منجانب اللہ اظہار حال کی جو پابندی لگی ہوئی تھی اب اس کے خاتمہ کا وقت آگیا تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) کا عزیز مصر کے نام خط : تفسیر مظہری اور قرطبی میں بروایت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ اس موقع پر یعقوب (علیہ السلام) نے عزیز مصر کے نام ایک خط لکھ کردیا تھا جس کا مضمون یہ تھا۔ ” منجانب یعقوب صفی اللہ بن اسحٰق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ، بخدمت عزیز مصر امابعد ! ہمارا پورا خاندان بلاؤں اور آزمائشوں میں معروف ہے میرے دارا ابراہیم خلیل اللہ کا آتش نمرود میں امتحان لیا گیا، پھر میرے والد اسحٰق کا شدید امتحان لیا گیا پھر میرے لڑکے کے ذریعہ میرا امتحان لیا گیا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا، یہاں تک کہ اس کی مفارقت میں میری بینائی جاتی رہی اس کے بعد اس کا ایک جھوٹا بھائی مجھ غم زدہ کی تسلی کا سامان تھا جس کو آپ نے چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا، اور میں بتلاتا ہوں کہ ہم اولاد انبیاء ہیں نہ ہم نے کبھی چوری کی اور نہ ہماری اولاد میں کوئی چور پیدا ہوا، والسلام “۔ جب یوسف نے خط پڑھا تو کانپ گئے، اور بےاختیار رونے لگے اور اپنے راز کو ظاہر کردیا اور تعارف کی تمہید کے طور پر بھائیوں سے یہ سوال کیا کہ تم کو کچھ یہ بھی یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا برتاؤ کیا تھا جبکہ تمہاری جہالت کا زمانہ تھا اور یوسف کی اس شان سے بھی ناواقف تھے جو اس کو حاصل ہونے والی تھی۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے جب یہ سوال سنا تو چکرا گئے کہ عزیز مصر کو یوسف کے قصہ سے کیا واسطہ پھر ادھر بھی دھیان گیا کہ یوسف نے جو بچپن میں خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر یہی تھی کہ اس کو کوئی بلند مرتبہ حاصل ہوگا کہ ہم سب کو اس کے سامنے جھکنا پڑے گا، کہیں یہ عزیز مصر خود یوسف ہی نہ ہو پھر جب اس پر غور و تامل کیا تو کچھ علامات سے پہچان لیا اور مزید تحقیق کیلئے ان سے کہا۔ ائنک لانت یوسف کیا تو سچ مچ یوسف ہے، تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہاں میں ہی یوسف یوں اور یہ بنیامین میرا حقیقی بھائی ہے سوال کے جواب میں اقرار و اعتراف کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر اور صبر وتقویٰ کے بتائج حسنہ بھی بیان کرکے بتلا دیا کہ تم نے مجھے ہلاک کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا لیکن یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ مجھے کنویں سے بجات عطا فرمائی بلکہ مصر کی فرماں روائی بھی عطا فرما دی، اور یہ نتیجہ ہے اس صبر وتقویٰ کا جس کی توفیق اللہ نے مجھے عطا فرمائی۔ بھائیوں کا اعتراف جرم : بھائیوں نے جب یوسف (علیہ السلام) کی یہ شان دیکھی تو انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی پیغمبرانہ عفو و درگذر سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ جو ہوا سو ہوا آج تمہیں کوئی سرزنش اور ملامت نہیں کی جائے گی، فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے بھی مکہ کے ان کفار اور سردار ان قریش کو جو آپ کے خون کے پیاسے تھے اور آپ کو طرح طرح ایذائیں پہنچائی تھیں قتل کی سازشیں کیں معاشرتی اور معاشی بائیکاٹ کیا حتی کہ وطن عزیز سے نکلنے پر مجبور کردیا اور مدینہ میں بھی چین سے نہ رہنے دیا یہی " لاتشریب علیکم الیوم “ کے الفاظ فرما کر معاف فرما دیا تھا۔ اذھبوا۔۔۔ الخ یعنی میں بحالت موجودہ شام کا سفر نہیں کرسکتا تم جاؤ اور والدین اور اپنے سب متعلقین کو یہاں کے آؤ چونکہ والد بزرگوار کی نسبت معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی بینائی جاتی رہی ہے اسلئے اپنا کرتہ دے کر فرمایا یہ ان کی آنکھوں کو لگا دینا بینائی بحال ہوجائے گی۔ ادھر یہ قمیص لے کر قافلہ مصر سے روانہ ہوا ادھر یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آنے لگی یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ کے پیغمبر کو بھی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع نہ پہنچے پیغمبر بیخبر ہوتا ہے، خدا کی قدرت، یوسف قریب ہی چاہ کنعان میں موجود ہیں کبھی نہ کہا کہ یوسف کی خوشبو آتی ہے کیونکہ خدا کو امتحان پورا کرنا تھا، مگر جب خدا کو منظور ہوا تو ادھر صدہا میل دور مصر سے قافلہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لے کر چلا ادھر پیراہن یوسفی کی خوشبو یعقوب (علیہ السلام) کے مشام جان کو معطر کرنے لگی، کرتہ کی وجہ سے بینائی کا عود کر آنا ظاہر ہے کہ کوئی مادی سبب نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک معجزہ تھا، یوسف (علیہ السلام) کو باذن خداوندی معلوم ہوگیا تھا کہ جب ان کا کرتہ والد کے چہرے پر ڈالا جائیگا تو اللہ تعالیٰ ان کی بینائی بحال کردیں گے۔ جنتی کرتہ کی خصوصیت : ضحاک اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا ہے کہ یہ اس کرتے کی خصوصیت تھی اسلئے کہ یہ کرتہ عام کپڑوں کی طرف نہ تھا بلکہ حضرت ابراہیم کیلئے جنت سے اس وقت لایا گیا تھا جب نمرود نے آپ کو برہنہ کرکے آگ میں ڈالا تھا، پھر یہ جنتی کرتہ ہمیشہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس رہا حضرت ابراہیم کے بعد حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کے پاس رہا ان کی وفات کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس رہا آپ نے اس کرتے کو ایک متبرک شئ سمجھ کر ایک نلکی میں بند کرکے یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں بطور تعویذ ڈال دیا تھا تاکہ نظر بد سے محفوظ رہیں، برادران یوسف نے جب دھوکا دینے کیلئے ان کا کرتہ اتار لیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو برہنہ کرکے کنوئیں میں ڈالنے لگے تو جبرائیل امین تشریف لائے اور گلے میں پڑی ہوئی نلکی سے کرتا نکال کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دیا اور یہ کرتہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس محفوظ تھا، اس وقت بھی جبرئیل ہی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ مشورہ دیا تھا کہ یہ جنت کا لباس ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ گر نابینا کی آنکھوں سے لگا دیا جائے تو بینائی عود کر آتی ہے۔ (معارف) حضرت مجد الف ثانی (رح) تعالیٰ کی تحقیق : حضرت مجدد الف ثانی کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال اور ان کا وجود خود جنت ہی کی ایک چیز تھی اسلئے ان کے جسم کے متصل ہونے والے ہر کرتہ کی یہ خاصیت ہوسکتی ہے۔ (مظہری) مادی سبب : یہ بات قابل توجہ اور قرین عقل و قیاس ہے کہ کسی شدید صدمہ کی وجہ سے جس طرح بینائی جاسکتی ہے اسی طرح بیحد مسرت اور خوشی کی وجہ سے عود بھی کرسکتی ہے، چناچہ واقعات و مشاہدات کی وجہ سے یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ کسی سخت صدمہ یا غیر معمولی خوشی کے اثر سے بعض نابینا دفعۃً بینا ہوگئے ہیں۔ (فوائد عثمانی) قرطبی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ برادران یوسف میں سے یہودا نے کہا کہ یہ کرتہ میں لے کر جاؤں گا کیونکہ انکے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر بھی میں ہی لے کرگیا تھا جس سے والد صاحب کو صدمہ پہنچا تھا، اب اس کی مکافات بھی میرے ہی ہاتھ سے ہونی چاہیے۔
Ayahs 12:94–104

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گرپڑے (اس وقت یوسف نے کہا ابّاجان ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا۔ اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجئیو۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ اخبار غیب میں سے ہیں۔ جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادارن یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے ہیں۔

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ' تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

آیت نمبر 94 تا 104 ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور یہودا ہی خون آلود کرتہ لے کر گیا تھا لہٰذا اس نے چاہا کہ جس طرح میں نے اباجان کو رنج پہنچایا تھا اسی طرح میں ہی ان کو پیغام مسرت سناؤں (اور) یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر کرتہ ڈالا تو ان کی بینائی لوٹ آئی، یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں تم سے نہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے، انہوں نے کہا اباجان ہمارے لئے ہماری خطاؤں کی معافی طلب کیجئے بیشک ہم قصور وار ہیں، فرمایا میں عنقریب تمہارے لئے اپنے رب سے معافی مانگو نگا وہ بہت بڑا بخشنے والا بہت بڑا مہربان ہے، اس استغفار کو صبح (صادق) تک مؤخر کیا تاکہ قبولیت کے زیادہ قریب ہوجائے، اور کہا گیا ہے کہ جمعہ کی رات تک مؤخر کیا پھر مصر کی طرف متوجہ ہوئے، اور یوسف اور عمائدین سلطنت ان کی ملاقات کیلئے (شہر سے) باہر نکلے، جب (برادران یوسف کا) پورا گھر انا یوسف کے پاس خیمہ میں پہنچ گیا تو اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی (یعنی) اپنے والد اور والدہ کو یا اپنی خالہ کو، اور کہا بمشئیت خداوندی تم لوگ امن وامان کے ساتھ مصر میں آؤ، چناچہ یہ لوگ داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) تخت پر بیٹھے اور اپنے والدین کو بھی اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا اور ان کے والدین اور ان کے بھائی یوسف کے سامنے سجدہ میں گرگئے اور یہ سجدہ جھکنے کے طور پر تھا نہ کہ زمین پر پیشانی رکھ کر، اور اس زمانہ میں ان لوگوں کو سلام کا یہی طریقہ تھا، تب (یوسف نے) کہا اباجان یہ میرے سابق خواب کی تعبیر ہے میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا، اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا جبکہ اس نے مجھے جیل سے نکالا اور یہ نہیں کہا کہ کنویں سے نکالا بھائیوں کے اکرام کی وجہ سے تاکہ وہ شرمندہ نہ ہوں اور آپ لوگوں کو اس اختلاف کے بعد کہ جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈالدیا تھا، صحرا سے آئے میرا رب جو چاہے اس کیلئے بہترین تدبیر کرنے والا ہے اور وہ اپنی مخلوق کے بارے میں بہت علم والا (اور) اپنی صنعت کے بارے میں حکمت والا ہے اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اپنے پاس 24 سال مقیم رکھا، اور جدائی کی مدت 18 سال یا، 49 سال یا 80 سال تھی مصر ہی میں یعقوب (علیہ السلام) کا انتقال ہوا اور یوسف (علیہ السلام) کو وصیت کی کہ ان (کے تابوت) کو اٹھا کرلیجائیں اور ان کے والد (اسحٰق) کے پاس دفن کریں، چناچہ یوسف بذات خود اس کو لے گئے اور ان کو (وصیت کے مطابق) دفن کیا، پھر مصر واپس آگئے، اور اس کے بعد مصر میں، 23 سال رہے، اور جب ان کا کام (مصر میں) مکمل ہوگیا اور سمجھ گئے کہ وہ ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں اور ان پر ملک بقاء کا شوق غالب آگیا، تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور خوابوں کی تعبیر سکھلائی، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی میرا مصلحتوں کا والی ہے دنیا اور آخرت میں تو مجھے اسلام کی حالت میں وفات دے اور تو مجھے صالحین (یعنی) میرے آباء (و اجداد) کے ساتھ ملا دے اس کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) ایک ہفتہ یا اس سے (کچھ) زائد بقید حیات رہے اور ان کی عمر 120 سال ہوئی اور اہل مصر نے یوسف (علیہ السلام) کے مقام دفن میں اختلاف کیا چناچہ ان کا یک سنگ مرمر کے صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کے اوپر کی جانب دفن کردیا تاکہ دونوں جانب کو برکت حاصل ہو، پاک ہے وہ ذات جس کے ملک کا کبھی اختتام نہیں ہے، یوسف کا یہ واقعہ غیب کی ان خبروں میں سے ہے اے محمد جو تجھ سے مخفی ہیں، جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں اور آپ یوسف کے بھائیوں کے پاس نہیں تھے جبکہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سازش کی تھی، یعنی اس کا پختہ ارادہ کرلیا تھا، حال یہ کہ وہ یوسف کے ساتھ مکر کر رہے تھے یعنی (اے محمد) تم برادران یوسف کے پاس موجود نہیں تھے کہ ان کے قصہ سے واقف ہوتے کہ اس واقعہ کی خبر دیتے، آپ کو اس کا علم بذریعہ وحی ہوا ہے اور اکثر لوگ یعنی اہل مکہ اگرچہ آپ ان کے ایمان کے خواہشمند ہیں قرآن پر ایمان لانے والے نہیں ہیں، اور آپ قرآن پر ان سے اجرت کا سوال نہیں کر رہے ہیں کہ آپ اس کو وصول کرتے ہوں، یہ یعنی قرآن تو تمام جہانوں کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : خرج من عریش مصر، عریش ایک قول کے مطابق ملک مصر و شام کی سرحد پر ایک مشہور شہر کا نام ہے دوسرا قول یہ ہے کہ عریش آبادی کو کہتے ہیں مراد مصر کی آبادی ہے۔ قولہ : من بنیہ واولادھم اس سے معلوم ہوا ہے کہ برادران یوسف میں سے کچھ اپنے والد کے پاس بھی رہ گئے تھے حالانکہ سابق میں معلوم ہوچکا ہے کہ تمام بھائی مصر چلے گئے تھے، تفسیر خازن میں ہے من اولاد بنیہ، اور شیخ زادہ کی عبارت ہے ” من ولد ولدہ “ قولہ : اوصلتہ الیہ الصبا، ای ریح الصبا مضاف محذوف ہے ای باد صبا، یہاں ایک قوی شبہ یہ ہے کہ صبا مشرق سے جانب مغرب چلنے والی ہوا کو کہتے اور مغرب سے مشرق کی جانب چلنے والی ہوا کو دبور کہتے ہیں اور شام مصر سے جانب مشرق میں واقع ہے لہٰذا شام کی طرف سے آنیوالی ہوا صبا کہلائے گی لہٰذا صبا شام (کنعان) سے مصر کی طرف خوشبو کو لاسکتی ہے مگر لیجا نہیں سکتی البتہ دبور مصر سے شام کی طرف خوشبو لیجا سکتی ہے مناسب ہوتا کہ مفسر علام صبا کے بجائے دبور فرماتے۔ (واللہ اعلم) قولہ : تفندون (تفعیل، تفنید) صیغہ جمع مذکر حاضر درازی عمر کی وجہ سے عقل کا کمزور ہوجانا، سٹھیا جانا، عقل میں فتور یا نقصان کا آجانا۔ قولہ : لصدقتمونی یہ لولا کا جواب ہے۔ قولہ : فی مضربۃ بڑا خیمہ۔ سوال : مضربۃ محذوف ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : اسلئے کہ دخلوا علی یوسف کہنے کے بعد ادخلوا مصر کہنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی اسلئے کہ دخول کے بعد دخول کا کوئی مطلب نہیں ہوتا اسلئے فی مضربۃ محذوف مانا تاکہ اول دخول سے خیمہ میں دخول مراد ہو جو استقبال کیلئے شہر سے باہر بنایا تھا اس کے بعد دوسرا دخول شہر مصر میں ہوا۔ قولہ : امہ او خالتہ اس میں اس اختلاف کی طرف اشارہ ہے کہ آیا یوسف کی والدہ راحیل اس وقت زندہ تھیں یا نہیں، بعض حضرات کا قول ہے کہ بقید حیات تھیں، لیکن جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ بنیامین کی ولادت کے وقت انتقال ہوگیا تھا ان کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے راحیل کی بہن لیّا سے نکال کرلیا تھا اور مجازا خالہ کو بھی ماں کہہ دیا جاتا ہے جس طرح چچا کو مجازا ابا کہہ دیا جاتا ہے عبرانی میں بنیام دردزہ کو کہتے ہیں اسی مناسبت سے بنیامین نام رکھا گیا تھا یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی والدہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ (حاشیہ جلالین) قولہ : آمنین، ای آمنین من القحط وسائر المکارہ۔ قولہ : الی اس میں اشارہ ہے کہ یاء بمعنی الی ہے۔ تفسیر و تشریح ولما فصلت العیر یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا ہم سب کو یہ داستان فراموش کر دینی چاہیے میں درگاہ الہٰی میں دعاء کرتا ہوں کہ وہ تمہاری غلطی معاف فرما دے کیونکہ وہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ اب تم کنعان واپس جاؤ اور میرے پیراہن کو لیتے جاؤ یہ والد کی آنکھوں پر ڈال دینا انشاء اللہ شمیم یوسف ان کی آنکھوں کو روشن کر دے گا، اور تمام خاندان کو مصر لے آؤ۔ برادران یوسف کا کاروان کنعان کیلئے روانہ : ادھر برادران یوسف کا کاروان پیراہن یوسفی ساتھ لے کر کنعان کیلئے روانہ ہوا ادھر خدا کے برگزیدہ پیغمبر یعقوب (علیہ السلام) کو شمیم یوسف نے مہکا دیا فرمانے لگے اے خاندان یعقوب اگر تم یہ نہ کہو کہ بڑھاپے میں اس کی عقل ماری گئی ہے تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھے یوسف کی مہک آرہی ہے، سب کہنے لگے واللہ تم تو اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہو، یعنی اس قدر عرصہ گذر جانے کے بعد بھی جبکہ یوسف کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا تمہیں یوسف ہی کی رٹ لگی ہوئی ہے۔ غرضیکہ یہ کنعانی قافلہ بخیر و عافیت کنعان پہنچ گیا، اور برادران یوسف نے یوسف (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق ان کا پیراہن یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھوں پر ڈال دیا یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھیں فورا روشن ہوگئیں، فرمانے لگے دیکھو میں نہ کہتا تھا کہ میں اللہ کی جانب سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ برادران یوسف کیلئے یہ وقت بڑا کٹھن تھا، شرم و ندامت میں غرق سر جھکائے ہوئے بولے اے ابا جان آپ ہمارے لئے جناب باری میں گناہوں کی مغفرت کی دعاء کر دیجئے کیونکہ اب یہ تو ظاہر ہو ہی چکا ہے کہ بلاشبہ ہم سخت خطاکار اور قصور وار ہیں، یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا سوف استغفر لکم ربی انہ ھو الغفور الرحیم میں عنقریب تمہارے لئے دعاء کروں گا بلاشبہ وہ غفور الرحیم ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے فوراً دعا کرنے کے بجائے وعدہ فرمایا کہ عنقریب دعاء کروں گا، اسکی وجہ عام مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ اس وعدہ کا مقصد یہ تھا کہ رات یا آخر شب میں اہتمام سے دعاء کروں گا، ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اصل معاملہ حضرت یوسف کے ساتھ زیادتی کا تھا گو بالواسطہ حضرت یعقوب کو بھی تکلیف پہنچی تھی، حضرت یوسف چونکہ اصل صاحب معاملہ تھے اس لئے انہوں نے فوراً دعاء مغفرت کردی مگر چونکہ یعقوب (علیہ السلام) کا براہ راست معاملہ نہیں تھا سلئے وعدہ کرلیا تاکہ اصل صاحب معاملہ سے بھی مشورہ ہوجائے۔ (قصص القرآن) خاندان یعقوب (علیہ السلام) مصر میں : غرض یعقوب (علیہ السلام) اپنے پورے خاندان کو لیکر مصر پہنچے، جس وقت یعقوب (علیہ السلام) کا خاندان مصر پہنچا تو اس کی تعداد بائبل کے بیان کے مطابق 67 یا 70 تھی اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔ جب یوسف (علیہ السلام) کو اطلاع ہوئی کہ ان کے والد مع خاندان شہر کے قریب پہنچ گئے ہیں تو وہ فورا استقبال کیلئے شہر سے باہر نکلے، جب دونوں نے ایک دوسرے کو مدت دراز کے بعد دیکھا تو فرط محبت میں یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو سینہ سے لگالیا، اور جب یہ پر مسرت اور رقت آمیز ملاقات ہوچکی تو حضرت یوسف نے والد سے عرض کیا کہ اب تو آپ عزت و احترام اور امن و حفاظت کے ساتھ شہر میں تشریف لے چلیں۔ اس وقت مصر کا دار السلطنت رعمیس تھا، حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے والد ماجد اور تمام دیگر افراد خاندان کو بڑے کرّوفر اور تزک و احتشام کے ساتھ شاہی سواریوں میں بیٹھا کر شہر میں لائے اور شاہی محل میں قیام کرایا۔ جب ان تمام باتوں سے فراغت پائی تو اب ارادہ کیا کہ دربار منعقد کریں تاکہ اہل مصر کا بھی حضرت یعقوب اور ان کے خاندان سے تعارف ہوجائے اور تمام درباری ان کے عزت و احترام سے واقف ہوجائیں، دربار منعقد ہوا تمام درباری اپنی مقررہ نشستوں پر بیٹھ گئے، یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے ان کے والدین کو تخت شاہی پر جگہ دی گئی اور باقی تمام خاندان نے حسب مراتب نیچے جگہ پائی، جب یہ سب انتظامات مکمل ہوگئے تب حضرت یوسف (علیہ السلام) شاہی محل سے باہر تشریف لائے اور شاہی تخت پر جلوہ افروز ہوئے، اسی وقت تمام درباری حکومت کے دستور کے مطابق تخت شاہی کے سامنے تعظیم کیلئے سجدہ میں گرپڑے موجودہ صورت کو دیکھ کر خاندان یوسف نے بھی یہی عمل کیا، یہ دیکھ کر یوسف (علیہ السلام) کو فورا اپنے بچپن کا خواب یاد آگیا اپنے والد سے کہنے لگے وقال یا ابت ھذا تاویل رء یای من قبل الخ۔ تورات میں ہے کہ اس واقعہ کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا تمام خاندان مصر میں آباد ہوگیا کیونکہ اس وقت کے فرعون ریان نے اصرار کے ساتھ یہ کہا تھا کہ تم اپنے خاندان کو مصر ہی میں آباد کرو، میں ان کو بہت عمدہ زمین دوں گا اور ہر طرح ان کی عزت کروں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات : حضرت یوسف (علیہ السلام) کا انتقال ایک سو بیس سال کی عمر میں ہوا اور دریائے نیل کے کنارے دفن کئے گئے، ابن اسحٰق نے عروہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل جائیں تو بذریعہ وحی یہ بھی کہا گیا کہ ان ہڈیوں کو اپنے ساتھ لے کر ملک شام چلے جائیں اور ان کے آباواجداد کے پاس دفن کریں اس حکم کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تفتیش کرکے ان کی قبر دریافت کی جو ایک سنگ مر مر کے تابوت میں تھی اس کو اپنے ساتھ ارض فلسطین (کنعان) میں لے گئے اور حضرت اسحٰق و یعقوب کے برابر دفن کردیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد قوم عمالیق کے فراعنہ مصر پر مسلط ہوگئے اور بنو اسرائیل ان کی حکومت میں رہتے ہوئے دین یوسف (علیہ السلام) پر قائم رہے مگر ان کو غیر ملکی سمجھ کر طرح طرح کی ایذائیں دی جانے لگیں یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس عذاب سے نجات دی۔ (مظھری) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وفات : تفسیر قرطبی میں اہل تاریخ کے حوالہ سے مذکور ہے کہ مر میں 24 سال رہنے کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کی وفات 147 سال کی عمر میں ہوئی، حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو سال کی لکڑی کے تابوت میں رکھ کر بیت المقدس کی طرف ان کی وصیت کے مطابق منتقل کیا گیا۔