12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 12:43–52

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور اور (سات) خشک۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قید یوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں۔ مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دیجئے۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف ! اے بڑے سچے (یوسف ! ) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کے سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر (تعبیر بتاؤں) عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہو گے تو جو (غلہ) کا ٹو تو تھوڑے سے غلے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سا ل) آئیں گے کہ جو (غلہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ سب کھا جائیں گیں پھر وہی تھوڑا سا رہ جائے جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میر پاس لے آؤ۔ جب قاصد انکے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے (عورتوں سے) پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا ؟ سب بول اٹھیں کہ حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے) کہ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بیشک سچا ہے۔

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لئے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں) خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنیوالوں کے مکروں کو رو براہ نہیں کرتا۔

آیت نمبر 43 تا 52 ترجمہ : مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں (عجاف) عجفاء کی جمع ہے اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹی ہوئی ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر غالب آگئی ہیں، اے درباریو تم میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم تعبیر بتاسکتے ہو تو بتاؤ درباریوں نے خواب دیا یہ منتشر خیالات کے خواب ہیں اور ہم منتشر خیالات کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے، اور اس نوجوان نے جو دو نوجوانوں میں سے (جیل سے) رہا ہوا تھا اور وہ ساقی تھا جس کو ایک مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا حال یاد آگیا کہا (وادکر) میں اصل میں تاء دال سے بدلی ہوئی ہے اور دال کا دال میں ادغام ہے، یعنی یاد آیا، اس نے کہا میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا، مجھے اجازت دیجئے چناچہ اس کو یوسف کے پاس جانے کی اجازت دیدی، اس نے (جاکر) کہا اے سراپا راستی، یوسف، آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلائیے کہ سات فربہ گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیں ہیں اور سات دوسری خشک، تاکہ میں لوگوں یعنی بادشاہ اور اسکے درباریوں کے پاس جا کر خواب کی تعبیر بتاؤں را کہ وہ خواب کی تعبیر جان لیں یوسف نے کہا تم سات سال تک مسلسل کھیتی کرو (دأبا) ہمزہ کے سکون اور فتحہ کے ساتھ بمعنی مسلسل یہ سات فربہ گایوں کی تعبیر ہے اور جو فصل تم کاٹو اس کو خوشوں (بالوں) میں ہی رہنے دینا تاکہ غلہ خراب نہ ہو، صرف کھانے کی ضرورت کے مطابق ہی غلہ (خوشہ) سے نکالو، پھر ان شادابی کے ساتھ سالوں کے بعد سات سال نہایت خشک سالی یعنی تکلیف کے آئیں گے اور یہ سات دبلی گایوں کی تعبیر ہے، شادابی کے سالوں کا اگایا ہوا غلہ جس کو تم نے خشکی کے سالوں کیلئے جمع کیا ہے وہ (خشکی کے سال) اس کو کھا جائیں گے، یعنی تم ان سالوں میں اس (ذخیرہ شدہ) غلہ کو کھا جاؤ گے مگر اس میں بہت تھوڑا سا جس کو تم بحفاظت بچا سکو (باقی رہیگا) پھر اسکے بعد ایک سال ایسا آئے گا یعنی خشک سالی کے سات سالوں کے بعد کہ اس میں لوگوں پر بارش کے ذریعہ فریادرسی کی جائے گی (یعنی خوب بارش برسائی جائے گی) اور اس سال میں لوگ شادابی کی وجہ سے (خوب) انگور وغیرہ نچوڑیں گے، جب قاصد (واپس) آیا اور بادشاہ کو اس کے خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ نے کہا جس نے خواب کی تعبیر بتائی ہے اسے میرے پاس لاؤ جب قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور ان سے جیل سے باہر آنے کی درخواست کی تو (یوسف) نے قاصد سے اپنی اظہار براءت کے طور کہا اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ؟ میرا آقا (عزیز) ان عورتوں کے مکر سے بخوبی واقف ہے چناچہ قاصد واپس گیا اور بادشاہ سے صورت حال بیان کی چناچہ بادشاہ نے ان عورتوں کو جمع کیا (اور) ان سے پوچھا تمہارا کیا معاملہ تھا کہ تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارے میں رجھانے (پھسلانے) کی کوشش کی تھی، کیا تم نے اس کا ادنی میلان بھی تمہاری طرف پایا ؟ انہوں نے جواب دیا معاذ اللہ (حاشا و کلا ہم نے اس کے اندر کوئی برائی نہیں پائی عزیز کی بیوی بولی اب تو سچی بات ظاہر ہوگئی میں نے ہی اس کو اس کی ذات کے بارے میں رجھانے کی کوشش کی تھی وہ یقیناً اپنے قول ” ھی راودتنی عن نفسی “ میں سچا ہے، یوسف کو اس کی اطلاع دی گئی، اور یہ بےگنا ہی ثابت کرنا اسلئے تھا کہ عزیز جان لے کہ پیٹھ پیچھے اس کی اہل میں خیانت نہیں کی (بالغیب) (اخنہ کے) فاعل یا مفعول سے حال ہے، اور یہ کہ یقیناً اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے مکر کو چلنے نہیں دیتا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : رأیت، اس میں اشارہ ہے کہ مضارع ماضی کے معنی میں ہے حالت ماضیہ کی منظر کشی کے طور ہر مضارع سے تعبیر کیا ہے قولہ : عجاف جمع عجفاء، عجاف، عجفاء کی جمع ہے نہ کہ وجیف کی اس لئے کہ یہ بقرۃ کی صفت ہے۔ سوال : افعل اور فعلاء کی جمع فعال کے وزن پر نہیں آتی، قیاس کے مطابق عجف ہونا چاہیے جیسا کہ حمراء کی جمع حمر آتی ہے۔ جواب : یہ حمل النقیض علی النقیض کے قبیل سے ہے عجاف چونکہ سمان کی ضد ہے اسلئے عجاف کو سمان پر قیاس کرکے عجاف جمع لائے ہیں۔ قولہ : سبع سنبلات کو سبع بقرات پر قیاس کرتے ہوئے سنبلات میں سبع کو حذف کردیا ہے جس کو مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے سوال : گایوں کی حالت کو بیان کیا کہ سات دبلی گائیں سات فربہ گایوں کو کھا گئیں مگر سنبلات کی حالت بیان نہیں کی جس کو مفسر علام نے التوت سے بیان کیا ہے۔ جواب : بقرات کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے سنبلات کی حالت کے بیان کو ترک کردیا۔ قولہ : فاعبروھا، یہ حذف کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : ھذہ اس میں اشارہ ہے کہ اضغاث مبتداء محذوف کی خبر ہے لہٰذا کلام کے غیر مفید ہونے کا شبہ ختم ہوگیا، اضغاث، ضعث کی جمع ہے گھاس کے مٹھے کو کہتے ہیں جس میں تروخشک ہر قسم کی گھاس ہو یہاں خوابہائے پریشان مراد ہیں جن میں وسوسوں اور حدیث نفس کا دخل ہوتا ہے۔ قولہ : احلام، حلم کی جمع ہے خواب کو کہتے ہیں۔ قولہ : امۃ، امت سے یہاں لوگوں کی جماعت مرا نہیں ہے بلکہ جماعت ایام یعنی مدت طویلہ مراد ہے مفسر علام نے امۃ کی تفسیر حین سے کرکے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : حال یوسف اس میں اشارہ ہے کہ واد کر میں واؤ حالیہ ہے لہٰذا عامل قال، اور معمول أنا انبئکم کے درمیان فصل کا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : یوسف یہ اد کر کا مفعول ہے۔ قولہ : بالمطر اس میں اشارہ ہے کہ یغاث، غیث سے ہے نہ کہ غوث سے۔ قولہ : سیدی، ربی کی تفسیر سیدی سے کرکے اشارہ کردیا کہ ربی سے سردار عزیز مراد ہے نہ کہ خالق، اللہ۔ تفسیر و تشریح پردۂ غیب سے یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کی صورت : آیات مذکورہ میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پردۂ غیب سے یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کی صورت پیدا فرمائی، کہ بادشاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے وہ بہت پریشان ہوا اور اپنی مملکت کے تعبیر دانوں، کاہنوں اور نجومیوں کو بلایا تاکہ ان سے خواب کی تعبیر دریافت کرے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ فراعنۂ مصر کے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے، فراعنہ کا خاندان نسلی اعتبار سے عمالقہ میں سے تھا، مصر کی تاریخ میں ان کو ہکسوس کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے، اور ان کی اصلیت کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ چرواہوں کی ایک قوم تھی، جدید تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ قوم عرب سے آئی تھی دراصل یہ عرب عاربہ کی ایک شاخ تھی۔ مصر کے مذہبی تخیل کی بنا پر ان کا لقب فاراع (فرعون) تھا اسلئے کہ مصری دیوتاؤں میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتائے امن، راع (سورج دیوتا) تھا اور بادشاہ وقت اس کا اوتار (یعنی) فاراع کہلاتا تھا یہی فاراع عبرانی میں فارعن ہوا اور عربی میں فرعون کہلایا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کے فرعون کا نام ریان بن ولید بتایا گیا ہے اور مصری جدید تحقیقات آثار میں آیونی کے نام سے موسوم ہے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) بھی زندان ہی میں تھے کہ وقت کے فرعون نے ایک خواب دیکھا، فرعون نے تعبیر دانوں نجومیوں اور کاہنوں کو خواب کی تعبیر معلوم کرنے کیلئے بلایا گیا مگر خواب سنکر سب نے کہہ دیا کہ یہ تواضغاث احلام ہیں ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے اگر کوئی صحیح خواب ہو تو ہم اس کی تعبیر بتاسکتے ہیں، بادشاہ کو کاہنوں اور تعبیر دانوں کے جواب سے اطمینان نہ ہوا، اسی اثناء میں ساقی کو اپنا خواب اور یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر کا واقعہ آگیا، اس نے بادشاہ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو میں اس کی تعبیر لاسکتا ہوں، بادشاہ کی اجازت سے وہ اسی وقت قید خانہ پہنچا اور یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ کا خواب سنایا اور کہا کہ آپ اس کو حل کیجئے کیوں کہ آپ سچائی اور تقدس کے پیکر ہیں، آپ ہی اس کو حل کرسکتے ہیں اور کیا عجب ہے کہ جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے جب میں صحیح تعبیر لے کر انکے پاس واپس جاؤں تو وہ آپکی حقیقی قدرومنزلت سمجھ لیں۔ خواب کی حقیقت : تفسیر مظہری میں ہے کہ واقعات کی جو صورتیں عالم مثال میں ہوتی ہیں وہی انسان کو خواب میں نظر آتی ہیں، اس عالم میں اس کے خاص معنی ہوتے ہیں فن کا تمام تر مدار اس بات کے جاننے پر ہے کہ فلاں صورت مثالی سے اس عالم میں کیا مراد ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) کو یہ فن مکمل عطا فرمایا تھا آپ نے خواب سنکر سمجھ لیا کہ سات فربہ گائیں (بیل) اور سات ہرے بھرے خوشوں سے خوشحالی کے سات سال مراد ہیں کہ جن میں معمول کے مطابق بلکہ کچھ زیادہ ہی پیداوار ہوگی کیونکہ بیل کو زمین کے ہموار کرنے نیز جوتنے اور بونے سے خاص تعلق ہے، اور سات دبلے اور کمزور بیلوں اور سات خشک خوشوں سے مراد یہ ہے کہ پہلے خوشحالی کے سات سالوں کے بعد سات سال سالوں کے بعد سات سال نہایت خشک سالی کے آئیں گے، اور دبلی گایوں کے فربہ گایوں کے کھانے کا مطلب کہ سات سالوں کا ذخیرہ کیا ہوا غلہ بعد کے سات سالوں میں خرچ ہوجائیگا صرف بیج وغیرہ کیلئے کچھ غلہ بچے گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کمال صبر : حضرت یوسف کے کمال صبر و استقلال کا اندازہ کیجئے اور جلالت قدر کا اندازہ لگائیے کہ جن ظالموں نے مجھ بےقصور کو زندان میں ڈالا ہے وہ اگر تباہ ہوجائیں اور اس خواب کا حل نہ پاکر برباد ہوجائیں تو اچھا ہے ان کی یہی سزا ہے، ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ اس سلسلہ میں صحیح تدبیر بھی بتلا دی اور ساقی کو پوری طرح مطمئن کرکے فرمایا اس خواب کی تعبیر اور اس کی بنا پر جو کچھ تم کو کرنا چاہیے وہ یہ کہ تم سات سال تک لگاتار کھیتی کرتے رہو اور یہ تمہاری خوشحالی کے سال ہوں گے جب کھیتی کٹنے کا وقت آئے تو جو مقدار تمہارے سال بھر کھانے کیلئے ضروری ہو اس کو الگ کرلو اور باقی غلہ کو ان کے خوشوں میں رہنے دو تاکہ محفوظ رہے اور گلے سڑے نہیں اس کے بعد سات سال سخت قحط سالی کے آئیں گے وہ تمہارا جمع کیا ہوا تمام ذخیرہ ختم کردیں گے، اسکے بعد پھر ایک سال ایسا آئیگا کہ خوب بارش ہوگی کھیتیاں ہری بھری ہوں گی اور لوگ پھلوں اور دانوں سے عرق اور تیل بہتات کے ساتھ نکالیں گے۔ ساقی نے دربار میں جاکر پورا واقعہ بادشاہ کو سنا دیا خواب کی تعبیر سنکر بادشاہ یوسف (علیہ السلام) کے علم و دانش اور جلالت قدر کا قائل ہوگیا اور نادیدہ مشتاق بنکر کہنے لگا ایسے شخص کو میرے پاس لاؤ۔ بادشاہ کا قاصد یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں : جب بادشاہ کا قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور بادشاہ کی طلب و اشتیاق کا حال سنایا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید خانہ سے باہر آنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ اس طرح تو میں جانے کو تیار نہیں ہوں تم اپنے آقا کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ یہ تحقیق کرے کہ ان عورتوں کا معاملہ کیا تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ؟ پہلے یہ بات صاف ہوجائے کہ انہوں نے کیسی کچھ مکاریاں کی تھیں اور میرا مالک تو ان مکاریوں سے بخوبی واقف ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ کی تحقیق کا مطالبہ : حضرت یوسف (علیہ السلام) بےقصور اور بےخطا برسوں جیل میں رہے بلاوجہ ان کو زندانی بنا کر رکھا اب جبکہ بادشاہ نے مہربان ہو کر رہائی کا مژدہ سنایا تو چاہیے تھا کہ وہ مسرت اور خوشی کے ساتھ زندان سے باہر نکل آتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور گزشتہ معاملہ کی تحقیق کا مطالبہ شروع کردیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) خانوادۂ نبوت سے ہیں اور خود بھی نبی ہیں اسلئے غیرت و حمیت اور عزت نفس کے بدرجہ اتم مالک ہیں انہوں نے سوچا کہ اگر بادشاہ کی اس مہربانی پر میں رہا ہوگیا تو یہ بادشاہ کا رحم و کرم سمجھا جائیگا اور میرا بےقصور ہونا پردۂ خفا میں رہ جائے گا اس طرح صرف عزت نفس ہی کو ٹھیس نہیں لگے گی بلکہ دعوت و تبلیغ کے اس اہم مقصد کو بھی نقصان پہنچے گا جو میری زندگی کا عین مقصد ہے، لہٰذا اب بہترین وقت ہے کہ معاملہ کی اصل حقیقت سامنے آجائے، اور حق ظاہر اور واضح ہوجائے صحیحین میں واقعۂ یوسف کا ذکر : بخاری اور مسلم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے صبر و ضبط کو بہت سراہا اور کسر نفسی کی حد تک اس کو بڑھا کر یہ ارشاد فرمایا۔ لو لبثت فی السجن ما لبث یوسف لأجبت الداعی۔ (بخاری کتاب الانبیاء) اگر میں اس قدر دراز مدت تک قید میں رہتا جس قدر یوسف رہے تو بلانے والے کی دعوت فوراً قبول کرلیتا۔ اس جگہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگرچہ یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ براہ راست عزیزمصر کی بیوی کے ساتھ پیش آیا تھا مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کا ذکر نہیں کیا بلکہ ان مصری عورتوں کا حوالہ دیا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کی دو وجہ تھیں ایک یہ کہ حضرت یوسف کو اگرچہ عزیز کی بیوی سے زیادہ تکلیف پہنچی تھی مگر قید کے معاملہ میں ان عورتوں کی بھی سازش تھی ان سب نے مل کر عزیز مصر کی بیوی کو قید کے مشورہ کو عملی جامہ پہنانے پر آمادہ کیا یہی وجہ ہے کہ زندان کا معاملہ ان عورتوں کے قضیہ کے بعد پیش آیا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سمجھتے تھے کہ عزیز مصر نے میرے ساتھ ہر ممکن حسن سلوک برتا ہے اس لئے مناسب نہیں کہ میں ان کی بیوی کا نام لے کر اس کی رسوائی کا باعث بنوں۔ غرضیکہ بادشاہ نے جب یہ سنا تو ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے کہہ دیا کہ صاف صاف اور صحیح صحیح بتاؤ کہ اس معاملہ کی اصل حقیقت کیا ہے، جب تم نے یوسف پر ڈورے ڈالے تھے تاکہ تم اس کو اپنی طرف مائل کرلو تو وہ ایک زبان ہو کر بولیں۔ قلن حاش للہ ما علمنا علیہ من سوء۔ ” بولیں حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں پائی “۔ مجمع میں عزیز مصر کی بیوی بھی موجود تھی اس نے جب یہ دیکھا کہ یوسف کی خواہش ہے کہ حقیقت حال سامنے آجائے تو بےاختیار بول اٹھی۔ الئٰن حصحص الحق انارا ودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصّٰدقین۔ ” جو حقیقت تھی وہ اب ظاہر ہوگئی ہاں وہ میں ہی تھی جس نے یوسف پر ڈورے ڈالے کہ اپنا دل ہار بیٹھی بلاشبہ وہ (اپنے بیان میں) بالکل سچا ہے “۔
Ayahs 12:53–57

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امّارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤ نگا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف علیہ السلام) نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے آخرت کا اجرت بہت بہتر ہے۔

آیت نمبر 53 تا 57 ترجمہ : پھر اللہ کیلئے تواضح کی اور پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) کہا میں اپنے نفس کی لغزشوں سے پاکیزگی بیان نہیں کرتا جنس نفس تو بلاشبہ کثرت سے برائی کا حکم کرنے والا ہی ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی رحم کرے تو اس کو بچا لیتا ہے ما بمعنی من ہے، بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ تاکہ میں اسے اپنے لئے مخصوص کرلوں، یعنی میں اس کو بغیر کسی شریک کے حاصل کرلوں، چناچہ قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا بادشاہ کا حکم مانو، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اٹھے اور رفقاء زندان کو رخصت کیا اور انکو دعاء دی، پھر غسل کیا اور عمدہ لباس پہنا اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، چناچہ جب آپس میں گفتگو ہوئی تو بادشاہ نے کہا اب آپ ہمارے یہاں قدرومنزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانتداری پر پورا بھروسہ ہے یعنی آپ ہمارے معاملات میں با اقتدار اور امین ہیں، اب آپ کا کیا مشورہ ہے ؟ ہم کو کیا کرنا چاہیے ؟ (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے) فرمایا غلہ کا ذخیرہ کرو اور ان سرسبزی اور شادابی کے سالوں میں کثرت سے کھیتی کراؤ اور غلہ کو اس کے خوشوں ہی میں رہنے دو لوگ آپ کے پاس غلہ لینے آئیں گے، تو بادشاہ نے کہا میری طرف سے اس کی کون ذمہ داری لے گا، یوسف (علیہ السلام) نے کہا ملک مصر کے خزانے میرے سپرد کیجئے میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں، (یعنی) محافظ بھی ہوں اور اس کے معاملات (طریق کار) سے واقف بھی ہوں، کہا گیا ہے کہ میں لکھنا بھی جانتا ہوں اور حساب دان بھی ہوں، جس طرح ہم نے جیل سے رہائی دے کر اس پر انعام کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں تنگی اور قید کے بعد اقتدار بخشا اس طریقہ پر کہ (ملک میں) جہاں چاہے رہے قصہ یہ کہ بادشاہ نے اس کی تاج پوشی کی اور اس کو اپنی (شاہی) مہر سونپ دی، اور عزیز کے منصب پر ان کو مقرر کردیا، اور عزیز کو معزول کردیا، اس کے بعد عزیز کا انتقال ہوگیا تو بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کا نکاح عزیز کی بیوی زلیخا سے کردیا، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کو کنواری پایا حضرت یوسف کے اس سے دو بجے پیدا ہوئے اور (یوسف (علیہ السلام) نے) مصر میں ایسا عدل قائم کیا کہ گردنیں انکے سامنے جھک گئیں ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے، نیکوکاروں کے اعمال کو ضائع نہیں کرتے اور یقیناً ایمان والوں اور پرہیزگاروں کا آخرت کا اجر دنیا کے اجر سے بدرجہا بہتر ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وما ابرئُ نفسی یہ جملہ، ذلک لیعلم سے حال ہے، یعنی ذلک کے عامل مقدر یعنی اطلب البراءۃ لیعلم الخ سے حال ہے، مطلب یہ ہے کہ اطلب البراءۃ سے جو تنزیہ نفس مفہوم ہو رہی اس سے عزیز مصر کی بیوی کے معاملہ میں تنزیہ اور بےگناہ ہی مراد ہے نہ کہ مطلقا لغزشوں اور خطاؤں سے، خلاصہ یہ ہے کہ ماقبل میں جو میں نے طلب براءت کی ہے سے تنزیہ نفس مراد نہیں۔ قولہ : الجنس، ای الذی فی ضمن جمیع الافراد، اگر مفسر علام جنس کے بجائے استغراق سے تعبیر کرتے تو بہتر ہوتا۔ قولہ : ما بمعنی من ہے اسلئے کہ نفس سے مراد ذوالعقول ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ما رحم معنی میں زمان کے ہو تو اس صورت میں ماکو من کے معنی میں لینے کی ضرورت نہ ہوگی، ای الا وقت رحمۃ ربی تقدیر عبارت یہ ہوگی، انھا امارۃ فی کل وقت الا وقت العصمۃ۔ قولہ :؛ اجعلہ، اس میں اشارہ ہے کہ استخلصہ معنی میں تصیر کے ہے اسلئے کہ طلب کے معنی درست نہیں ہیں۔ قولہ : فقال من لی بھذا، ای من یضمن ھذا لاجلی۔ قولہ : ومات بعدہ ای بعد العزل۔ تفسیر و تشریح ایتونی۔۔۔۔۔۔۔۔ لنفسی، اس کو (جلد) میرے پاس لاؤ کہ میں اس کو اپنے کاموں کیلئے مخصوص کرلوں یوسف (علیہ السلام) جب بایں رعنائی و دلبری، بایں عصمت و پاکبازی، اور بایں عقل و دانش زندان سے نکل کر بادشاہ کے دربار میں تشریف لائے، بات چیت ہوئی تو بادشاہ حیران رہ گیا کہ اب تک جس کی راستبازی، امانت داری، اور وفاء عہد کا تجربہ کیا تھا وہ عقل و دانش اور حکمت و فطانت میں بھی اپنی نظیر آپ ہے اور مسرت کے ساتھ کہنے لگا، ” انک الیوم لدینا مکین امین “ پھر اس نے دریافت کیا کہ میرے خواب میں جس قحط سالی کا ذکر ہے اس کے متعلق مجھ کو کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا۔ قال اجعلنی۔۔۔ علیم، یوسف (علیہ السلام) نے کہا اپنی مملکت کے خزانوں پر آپ مجھے مختار کیجئے میں حفاظت کرسکتا ہوں اور اس کام کا کرنے والا ہوں۔ چناچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنی تمام مملکت کا امین و کفیل بنادیا اور شاہی خزانوں کی کنجیاں ان کے حوالہ کرکے مختار عام کردیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زلیخا سے شادی : بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی زمانہ میں زلیخا کے شوہر عزیز مصر (قطفیر) کا انتقال ہوگیا تو بادشاہ نے زلیخا کی شادی یوسف (علیہ السلام) سے کردی اس وقت یوسف (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ کیا یہ صورت اس سے بہتر نہیں ہے جو تو چاہتی تھی زلیخا نے اعتراف کرکے اپنا عذر بیان کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی عزت اور شان کے ساتھ ان کی مراد پوری فرمائی اور عیش و نشاط کے ساتھ زندگی گزری تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دو لڑکے بھی پیدا ہوئے جن کا نام افرائیم اور میشا تھا۔ مصر میں قحط کی ابتداء : غرض جب قحط سالی کا زمانہ شروع ہوا تو مصر اور اس کے قرب و جوار کے علاقہ میں بھی سخت کال پڑا، اور کنعان میں خاندان یعقوب بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا جب حالت نزاکت اختیار کرگئی تو حضرت یعقوب نے صاحبزادوں سے کہا کہ مصر میں عزیز مصر نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس غلہ محفوظ ہے، تم سب جاؤ اور غلہ خرید کر لاؤ چناچہ باپ کے حکم کے مطابق یہ کنعانی قافلہ عزیز مصر سے غلہ لینے کیلئے مصر روانہ ہوا، خدا کی قدرت دیکھئے کہ برادران یوسف کا یہ قافلہ اسی بھائی سے غلہ لینے چلا ہے جس کو اپنے خیال میں وہ کسی مصری گھرانے کا معمولی اور گمنام غلام بنا چکے تھے مگر اس یوسف فروش قافلہ کو کیا معلوم کہ وہ کل کا غلام آج مصر کے تاج و تخت کا مالک و مختار ہے اور اس کو اسی کے سامنے عرض حال کرنا ہے بہر حال کنعان سے چلے اور مصر جا پہنچے، اور جب دربار یوسفی میں پیش ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا البتہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہچان سکے۔
Ayahs 12:58–68

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کیلئے) آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے پاس گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے انکو پہچان لیا اور وہ انکو نہ پہچان سکے۔

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

جب یوسف (علیہ السلام) نے انکے لئے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں۔ اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں ؟

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے تذکرہ کرینگے اور ہم (یہ کام) کر کے رہیں گے۔

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف (علیہ السلام) نے) اپنے خدّام سے کہا کہ ان سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت) ان کے تھیلوں میں رکھدو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ (ابّا) جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لیجائیں ہمارے لئے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب) نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا۔ مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہئے ؟ (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل عیال کے لئے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کرینگے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کا میرے پاس (صحیح وسالم) لے آؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لئے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر تو تم سے روک نہیں سکتا۔ (بیشک) حکم اسی کا ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کیلئے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بیشک وہ صاحب علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

آیت نمبر 58 تا 68 ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ غلہ لینے کیلئے آئے ہیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم جاسوس ہو، کہنے لگے اللہ کی پناہ (پھر ان سے) پوچھا تم کہاں سے آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بلاد کنعان سے اور ہمارے والد یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں، یوسف (علیہ السلام) نے ان سے معلوم کیا کہ تمہارے علاوہ بھی اس کی کوئی اولاد ہے جواب دیا ہاں ہم کل بارہ بھائی تھے ہمارا چھوٹا بھائی تو جنگل میں گیا تھا ہلاک ہوگیا وہ ہمارے والد کو ہم سب میں زیادہ پیارا تھا، اور اس کا حقیقی بھائی موجود ہے اس کو ہمارے والد صاحب نے اپنے پاس روک لیا ہے تاکہ اس سے تسلی حاصل کرے، تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اکرام کے ساتھ ٹھہرانے کا حکم دیا، اور جب ان کا سازوسامان تیار کرا دیا اور ان کو خوب پیمانہ بھر بھر کے دیدیا، تو فرمایا کہ تم (آئندہ) اپنے علاقی بھائی کو بھی لے کر آنا یعنی بنیامین کو تاکہ تمہاری بات کی سچائی کو میں جان سکوں، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کردیتا ہوں یعنی بغیر کمی پورا بھرتا ہوں، اور میں بہترین میزبانی کرنے والوں میں سے ہوں، اگر تم اس کو میرے پاس نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ (وَلَّہ) نہیں ہے اور میرے پاس بھی مت آنا (لا یقربون) نہی ہے فلا کیل کے محل پر عطف ہے یعنی تم کو محروم کردیا جائیگا اور تم قریب (بھی) مت آنا، تو بھائیوں نے جواب دیا کہ ہم اسکے باپ کو اس کے بارے میں پھسلائیں گے (سمجھائیں گے) اور ان سے لینے کیلئے پوری کوشش کریں گے اور ہم یہ کام ضرور کریں گے اور (یوسف نے) اپنے خادموں سے کہا اور ایک قراءت میں لفتیانہ ای لغلمانہ ہے کہ تم ان کی پونجی کو جس کو وہ غلہ خریدنے کیلئے لائے ہیں اور وہ دراہم تھے ان کی بوریوں میں رکھ دو شاید کہ جب وہ اپنے گھر پہنچیں اور اپنی بوریوں کو خالی کریں تو اپنی پونجی کو پہچان لیں تو ممکن ہے کہ وہ ہمارے پاس واپس آئیں اسلئے کہ وہ اس (پونجی) کو اپنے پاس رکھنا حلال نہ سمجھیں گے، چناچہ جب وہ اپنے ابا جان کے پاس واپس پہنچے تو کہا اے ہمارے ابا جان (آئندہ) ہم کو غلہ دینے سے منع کردیا گیا ہے، اگر آپ ساتھ ہمارے بھائی (بنیامین) کو اس کے پاس نہ بھیجیں گے، لہٰذا آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ حاصل کرسکیں، (نکتل) نون اور یاء کے ساتھ ہے، اور ہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے (یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں تمہارے اوپر بنیامین کے بارے میں اعتماد نہیں کرسکتا مگر ویسا ہی جیسا کہ اس کے بھائی یوسف کے بارے میں اس سے پہلے اعتماد کیا تھا، اور اس کے ساتھ تم نے وہی کیا جو تم نے کیا، لہٰذا اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور ایک قراءت میں (حفیظ) کے بجائے حافظا ہے یہ تمیز ہے جیسا کہ ان کے قول للہ درہٗ فارسا میں اور وہ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، مجھے امید ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرکے احسان کریگا اور جب بھائیوں نے اپنا سامان کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کو پونچی ان ہی کو لوٹا دی گئی ہے اور بھائیوں نے کہا اے ہمارے ابا جان بادشاہ کی طرف سے اس سے زیادہ ہمیں اور کیا اکرام چاہیے ؟ (ما نبغی) میں ما استفہامیہ ہے اور (نبغی) کو تاء کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے حضرت یعقوب کو خطاب کرتے ہوئے، اور بھائیوں نے اپنے اباجان سے بادشاہ کے ان کے اکرام کرنے کا تذکرہ کیا تھا، دیکھئے یہ ہمارا سرمایہ بھی ہمیں لوٹا دیا گیا ہے اور ہم اپنے اہل خانہ کیلئے غلہ لائیں گے اور میرہ غلہ کو کہتے ہیں، اور اپنے بھائی کی حفاظت رکھیں گے اور ہم اپنے بھائی کا ایک اونٹ بوجھ مزید لائیں گے اور یہ مقدار بادشاہ کیلئے اس کی سخاوت کی وجہ سے آسان ہے (یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا تاآنکہ تم اللہ کی قسم کھا کر عہد نہ کرو کہ تم اس کو ضرور میرے پاس (واپس) لاؤ گے الایہ کہ تم گھیر لیے جاؤ یعنی مرجاؤ یا مغلوب کر دئیے جاؤ جس کی وجہ سے تم اسے میرے پاس نہ سکو، چناچہ بھائیوں نے شرطیں منظور کرلیں، جب بھائیوں نے اپنے اباجان سے اس کا عہد و پیمان کرلیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا ہم اور تم جو عہد و پیمان کر رہے ہیں اللہ اس پر گواہ ہے اور یعقوب (علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو تم سب مصر میں ایک دروازہ سے مت داخل ہونا (بلکہ) متفرق دروازوں سے داخل ہونا تاکہ تم کو نظر نہ لگ جائے، میں اپنے اس قول سے اللہ کی طرف سے کسی ہونے والی چیز کو نہیں ٹال سکتا من زائدہ ہے (یعنی) جو چیز اس نے تمہارے لئے مقدر کردی ہے (اس کو نہیں ٹال سکتا) یہ تو محض شفقت (پدری) ہے حکم صرف اللہ وحدہٗ کا چلتا ہے میرا بھروسا تو اسی پر ہے یعنی اسی پر اعتماد کیا ہے، اور ہر بھروسا کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جب بھائی اپنے اباجان کے کہنے کے مطابق متفرق دروازوں سے داخل ہوئے تو اللہ کی تقدیر سے انھیں کوئی چیز نہیں بچا سکی لیکن یعقوب کے دل میں ایک خیال (پیدا ہوا) جسے انہوں نے پورا کیا (ظاہر کیا) اور وہ شفقۃً نظر بد دفع کرنے کا ارادہ تھا، بلاشبہ وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ اور وہ کفار ہیں، اپنے اولیاء پر اللہ کے الہام کو نہیں جانتے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وجائ اخوۃ یوسف واؤ عاطفہ ہے اس کو عطف محذوف پر ہے جس کو مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے یعنی فراغت اور خوشحالی کے سال ختم ہو کر جب قحط اور تنگی کے سال شروع ہوئے اس کے اثرات کنعان و شام وغیرہ میں بھی محسوس کئے گئے جس سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ کو بھی تنگی لاحق ہوئی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ مصر کا نیک دل بادشاہ مناسب قیمت پر غلہ فروخت کر رہا ہے لہٰذا تم بھی جاؤ اور اپنی حاجت کی بقدر لے کر آؤ چناچہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے، (ای، وجاء اخوۃ یوسف) ۔ قولہ : یمتاروا ای لیشتروا المیرۃ، میرۃ اس غلہ کو کہا جاتا ہے جس کو ایک شہر سے دوسرے شہر کو لایا جاتا ہے۔ قولہ : لاے تقربون یا تو نہی ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اس کا نون وقایہ کا ہے، یا فلا کیل پر عطف ہے اس صورت میں محل جزاء پر عطف ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوگا۔ قولہ : تحرموا یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : فلا کیل لکم کی تفسیر تحرموا سے کیوں کی ہے ؟ جواب : اس لئے کہ لاتقربوا کا عطف لاکیل لکم پر ہے اور یہ عطف الفعل علی الاسم کے قبیل سے ہے جو کہ جائز نہیں ہے لہٰذا لاکیل لکم کو تحرموا کی تاویل میں کردیا تاکہ فعل کا عطف فعل پر ہوجائے۔ قولہ : لتعلمینا، اس میں اشارہ ہے کہ لما کا ما مصدریہ ہے نہ کہ موصولہ۔ تفسیر و تشریح وجاء۔۔۔۔ (الآیۃ) غرض جب قحط سالی کا زمانہ شروع ہوا تو مصر کے قرب و جوار کے علاقہ میں بھی سخت کام پڑا، کنعان میں خاندان یعقوب (علیہ السلام) بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا جب حالت نزاکت اختیار کرگئی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے صاحبزادوں سے کہا کہ مصر میں عزیز مصر نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس غلہ محفوظ ہے تم سب جاؤ اور غلہ خرید کر لاؤ چناچہ والد صاحب کے حکم سے یہ نکعانی قافلہ غلہ خریدنے کیلئے مصر کیلئے روانہ ہوا خدا کی قدرت دیکھئے کہ برادران یوسف کا یہ قافلہ اسی بھائی سے غلہ لینے چلا ہے جس کو اپنے خیال میں وہ کسی مصری گھرانے کا معمولی غلام بنا چکے تھے مگر اس یوسف فروش قافلہ کو کیا معلوم کہ وہ کل کا ” غلام “ آج مصر کے تاج و تخت کا مالک و مختار ہے اور اس کو اسی کے سامنے عرض حال کرنا ہے بہرحال جب دربار یوسفی میں پیش ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا، البتہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہچان سکے کیونکہ جب یوسف کو کنویں میں ڈالا تو اس وقت ان کی عمر دس بارہ سال رہی ہوگی اور اب چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اتنی مدت میں ہر چیز میں تبدیلی آجاتی ہے اور اگر کسی طرح شبہ کرتے بھی تو کس طرح ؟ ان کے وہم و گمان میں بھی بات نہیں آسکتی تھی کہ یوسف، اور تخت شاہی۔ ! برادران یوسف پر جاسوسی کا الزام : تورات کا بیان ہے کہ برادران یوسف پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا اور اسی وجہ سے ان کو یوسف (علیہ السلام) کے روبرو پیش کیا گیا جس کی وجہ ان کو یوسف (علیہ السلام) سے بالمشافہ گفتگو کرنے کا موقعہ ملا، غرض یہ کہ یوسف (علیہ السلام) نے والد، حقیقی بھائی اور گھر کے حالات کو خوب کرید کرید کر معلوم کیا اور آہستہ آہستہ سب کچھ معلوم کرلیا، اور پھر ان کی حسب مرضی غلہ بھر دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ قحط اس قدر شدید ہے کہ تم کو دوبارہ یہاں آنا پڑے گا اسلئے یاد رکھو اب کی مرتبہ اگر تم آؤ تو اپنے جھوٹے بھائی کو ضرور ساتھ لانا اگر تم اسکو ساتھ نہ لائے تو ہرگز غلہ نہیں ملے گا برادران یوسف نے کہا کہ ہم اپنے والد کو سمجھائیں گے اور ہر طرح ترغیب دیں گے کہ وہ بنیامین کو ہمارے ساتھ یہاں بھیجنے پر راضی ہوجائیں پھر جب وہ یوسف (علیہ السلام) سے الوداعی ملاقات کرنے آئے تو انہوں نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ خاموشی کے ساتھ ان کے کجاوؤں میں ان کی وہ پونجی بھی رکھ دو جو انہوں نے غلہ کی قیمت کے نام سے دی ہے تو عجب نہیں کہ وہ اس پونجی کو مصری بیت المال کا مال ہونے کی وجہ سے اپنے لئے حلال نہ سمجھتے ہوئے واپس کرنے کیلئے آئیں، ابن کثیر نے یوسف (علیہ السلام) کے اس عمل میں کئی احتمال بیان کئے ہیں ایک تو یہی جو اوپر بیان ہوا، دوسرا یہ کہ شاید یوسف (علیہ السلام) کو یہ خیال ہوا ہو کہ ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس اس نقدی کے علاوہ اور نقدی نہ ہو جس کی وجہ سے دوبارہ غلہ لینے کیلئے نہ آسکیں تیسرے یہ کہ اپنے والد، اور بھائیوں سے کھانے کی قیمت لینا گوارہ نہ کیا ہو اور اس غلہ کی قیمت شاہی خزانہ میں اپنے پاس سے جمع کرا دی ہو۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے یہ انتظامات اس لئے کئے کہ آئندہ بھی بھائیوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہے اور چھوٹے حقیقی بھائی بنیامین سے ملاقات بھی ہوجائے۔ برادران یوسف واپس کنعان میں : برادران یوسف کا قافلہ جب واپس کنعان پہنچا تو انہوں نے سفر کی پوری روداد اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) کو سنائی اور ان سے کہا کہ مصر کے والی نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اس وقت تک آئندہ غلہ کیلئے یہاں ہرگز نہ آنا جب تک کہ اپنے علاتی بھائی کو ساتھ نہ لاؤ، لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ اسے ہمارے ساتھ مصر بھیج دیں ہم اس کی ہر طرح نگرانی اور حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح اس کے بھائی یوسف کے بارے میں کرچکا ہوں اور تمہاری حفاظت ہی کیا اصل حفاظت اللہ بڑے رحم کرنے والے کی ہے۔ اس گفتگو سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے اپنا سامان کھولنا شروع کیا تو دیکھا کہ ان کی پونجی ان ہی کو واپس کردی گئی ہے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے، اباجان اس سے زیادہ اور ہم کو کیا چاہیے ؟ دیکھئے غلہ بھی ملا اور ہماری پونجی بھی جوں کی توں لوٹا دی گئی، اس نے تو ہم سے قیمت بھی نہ لی اب ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم دوبارہ اس کے پاس جائیں اور گھر والوں کے لئے رسد لائیں، اور بنیامین کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیجئے اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں، اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے اسلئے کہ یہ غلہ جو ہم لائے ہیں کافی نہیں ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) کا بنیامین کو ساتھ بھیجنے سے انکار : بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بنیامین کو ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام پر مجھ سے عہد نہ کرو اور یہ کہ جب تک ہم خود نہ گھیر لئے جائیں اور ہر طرح سے مجبور کر دئیے جائیں ہم اس کو ضرور آپ کے پاس واپس لائیں گے، جب سب نے متفقہ طور پر اپنے والد کے سامنے عہد کیا اور ہر طرح اطمینان دلایا تب حضرت یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہوا محض اسباب ظاہری کی بنا پر ہے ورنہ کیا تم اور کیا تمہاری حفاظت، اور کیا ہم اور کیا ہمارا عہد ہم سب کو خدا کی نگہبانی چاہیے۔ قال یا بنی۔۔۔۔ متفرقۃ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو رخصت کرتے وقت نصیحت فرمائی کہ دیکھو سب ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا، اور یہ بھی فرمایا کہ اس نصیحت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تم اپنی تدابیر پر مغرور ہو بیٹھو، کیونکہ میں تمہیں کسی ایسی بات سے ہرگز نہیں بچا سکتا جو اللہ کے حکم سے ہونے والی ہو، حکم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے اسلئے میں نے جو کچھ کہا ہے وہ صرف احتیاطی تدابیر کے طور پر ہے اور احتیاطی تدابیر کو استعمال کرنا خدا پرستی کے خلاف نہیں ہے۔ ولما دخلوا۔۔۔۔۔۔ الخ یعنی برادران یوسف مصر میں اپنے والد محترم کی نصیحت کے مطابق ہی داخل ہوئے مگر ضروری نہیں کہ احتیاطی تدابیر ہر جگہ راست ہی آجائیں، اگر خدا تعالیٰ کی مشیت اس کے برعکس مصلحت دیکھتی ہے تو پھر وہی ہو کر رہتا ہے اور سب تدابیر بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔ مسائل و فوائد : یوسف (علیہ السلام) سے اس بات کا جواز معلوم ہوا کہ جب کسی ملک میں اقتصادی حالات ایسے خراب ہوجائیں کہ اگر حکومت نظم قائم نہ کرے تو بہت سے لوگ اپنی ضروریات زندگی سے محروم ہوجائیں گے تو حکومت ایسی چیزوں کو اپنے نظم اور کنٹرول میں لیکر مناسب قیمت مقرر کرسکتی ہے حضرات فقہاء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (معارف) یوسف (علیہ السلام) کا اپنے والد کو اپنے حالات سے باخبر نہ کرنا امر الٰہی سے تھا ؟: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس واقعہ میں ایک بات نہایت حیرت انگیز یہ ہے کہ ایک طرف تو ان کے والد صاحب جو خدا کے پیغمبر بھی تھے ان کی مفارقت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ روتے روتے نابینا ہوگئے، اور دوسری طرف یوسف (علیہ السلام) خود بھی نبی ہیں، باپ سے فطری اور طبعی محبت کے علاوہ ان کے حقوق سے بھی پوری طرح باخبر ہیں لیکن چالیس سال کے طویل زمانہ میں ایک مرتبہ بھی یہ خیال نہ آیا کہ میرے والد میری جدائی سے بےچین ہیں اپنی خیریت کی خبر کسی طرح ان تک پہنچا دیتے لیکن یوسف (علیہ السلام) سے کہیں منقول نہیں کہ انہوں نے اس کا ارادہ بھی کیا ہو، اور بھائیوں کو بھی اظہار واقعہ کے بغیر ہی رخصت کردیا۔ یہ تمام حالات کسی ادنی انسان سے بھی متصور نہیں ہوسکتے اللہ کے برگزیدہ رسول سے یہ صورت کیسے برداشت ہوئی ؟ حقیقت یہ کہ اللہ نے ہی وحی کے ذریعہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اظہار حال سے روک دیا تھا کہ اپنے گھر کسی قسم کی کوئی خبر نہ دیں تفسیر قرطبی میں اس کی صراحت موجود ہے کون اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا احاطہ کرسکتا ہے ؟ اللہ اپنی حکمتوں کو خود ہی خوب جانتا ہے، بظاہر اس کی اصل حکمت اس امتحان کی تکمیل تھی جو یعقوب (علیہ السلام) کا لیا جا رہا تھا۔