Ayahs 12:105–111آیت نمبر 105 تا 111
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھنے یعنی اس کو خالق و رازق تسلیم کرنے کے باوجود بتوں کی بندگی کرکے مشرک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہا کرتے تھے لبیک لاشریک لک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک (ترجمہ) ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے کہ اس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے اور وہ الا شریکا سے اصنام مراد لیتے تھے، کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر اللہ کے عذابوں میں سے کوئی چھا جانے والا عذاب آجائے یا ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے اور وہ پہلے سے اس کے آنے کا احساس نہ کرسکیں، آپ ان سے کہہ دو یہ ہے میرا طریقہ اور طریقہ کی تفسیر اپنے قول ادعوا الی اللہ الخ سے کی ہے، کہ میں اور میری اتباع کرنے والے جو مجھ پر ایمان لائے ہیں اللہ کے دین کی طرف علی وجہ البصیرت حجۃ واضحہ کے ساتھ دعوت دیتے ہیں من کا عطف، أنا مبتداء پر ہے جس کی خبر اس کا ماقبل (یعنی علی وجہ البصیرۃ) ہے اور اللہ پاک ہے وہ شریک کے نقص سے بری ہے، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں یہ بھی آپ کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے، آپ سے پہلے بستی والوں میں ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب مرد ہی تھے نہ کہ فرشتے (اور عورت) ایک قراءت میں (نوحی) نون اور حاء مک سورة کے ساتھ ہے، یعنی شہروں کے رہنے والے تھے، اسلئے کہ شہری بہ نسبت بدویوں کے زیادہ جاننے والے اور زیادہ بردبار ہوتے ہیں، نہ کہ باد یہ نشین اپنے جہل و ظلم کی وجہ سے، کیا مکہ والوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا ؟ کہ ان سے پہلے والوں کا ان کے اپنے رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے کیسا انجام ہوا ؟ ان کو ہلاک کرکے یقیناً آخرت کا گھر یعنی جنت اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے بہت ہی بہتر ہے اے اہل مکہ ! کیا تم اسے سمجھتے نہیں ہو کہ ایمان لے آؤ (یعقلون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے حتی اس کی غایت کیلئے ہے جس پر وما ارسلنا من قبلک الا رجالا دلالت کرتا ہے، یعنی ان کی نصرت مؤخر ہوگئی، یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اور رسولوں نے یقین کرلیا کہ ان کو جھٹلایا گیا (کذبوا کے ذال کی) تشدید کے ساتھ ایسی تکذیب کہ اسکے بعد ایمان (کی توفیق) نہیں اور (ذال) کی تخفیف کے ساتھ بھی، یعنی امتوں نے گمان کرلیا کہ رسولوں نے اس نصرت کی وعدہ خلافی کی جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا، تو انکے پاس ہماری نصرت آپہنچی تو جس کو ہم چاہتے ہیں نجات دیتے ہیں (ننجی) دو نونوں اور جیم مشدد کے ساتھ ہے اور جیم کی تخفیف کے ساتھ (بھی ہے) اور ایک نون اور جیم مشدد کے ساتھ ماضی مجھول کا صیغہ، اور ہمارا عذاب مشرکوں سے ہٹایا نہیں جائے گا، بلاشبہ ان رسولوں کے قصوں میں عقلمندوں کیلئے عبرت ہے یہ قرآن گھڑی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ سابقہ کتب کی تصدیق ہے، اور ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے اور ایمان لانے والوں کیلئے رحمت ہے (مومنین) کا ذکر خاص طور پر اسلئے ہے کہ وہی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : کَاَیّن، یہ دراصل کای تھا تنوین کو نون سے بدل دیا کاین ہوگیا یہ کاف تشبیہ اور أی سے مرکب ہے، یہ اکثر کم خبر یہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جو تکثیر کے معنی دیتا ہے مثلا کأی من رجل رأیت میں نے بہت سے آدمی دیکھے، اور کبھی کبھی استفہام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابی بن کعب نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے معلوم کیا کأی تقر أسورۃ الاحزاب تم نے سورة احزاب کتنی مرتبہ پڑھی، کاین مبتداء ہے اور من آیۃ تمیز مجرور بمن ہے۔
قولہ : فی السموات والارض آیۃ کی صفت ہے۔
قولہ : یمرون علیھا جملہ ہو کر کأین کی خبر ہے اور وھم عنھا معرضون جملہ ہو کر یمرون کی ضمیر سے حال ہے۔
قولہ : المخبر عنہ بما قبلہ، أنا اور من مبتداء مؤخر اور علی بصیرۃ خبر مقدم، کما صرح المفسر۔
قولہ : بخلاف اھل البواد اس میں اشارہ کہ اھل القری سے شہروں کا مقابل مراد ہے لہٰذا اب یہ اعتراض وارد نہ ہوگا کہ انبیاء زیادہ تر شہر ہی میں مبعوث ہوئے ہیں۔
قولہ : یئس استیئس میں (س ت) طلب کیلئے نہیں ہے۔
قولہ : تکذیبالا ایمان بعدہ، اس میں اس شبہ کا جواب ہے کہ تکذیب تو پہلے ہی سے مو جود تھی یعنی اب ایسی تکذیب کردی کہ اس کے بعد ایمان کی توقع ختم ہوگئی اور ظنوا کا ترجمہ ایقن الرسل، قد کُذِّبوْآ کی تشدید کی صورت میں ہوگا اور تخفیف کی صورت میں ظنوا اپنے معنی پر ہوگا۔
قولہ : فننجی جیم کی تشدید کے ساتھ، تَنْجیۃٌ (تفعیل) سے ہم بچا لیتے ہیں، فَنُنْجِی مخففا (افعال) مضارع جمع متکلم، نجی ماضی مجھول
واحد مذکر غائب (تَنْجیۃ تفعیل) سے اسکو بچایا گیا (مشددا) کا تعلق ہر قراءت میں جیم کیساتھ ہے، ماضی مجھول کی صورت میں من نشاء نائب فاعل ہوگا پہلی دونوں صورتوں میں مفعول بہ ہوگا، بعض حضرات نے مشددا کو نون کی صفت قرار دیا ہے جو کہ سہو ہے۔
تفسیر و تشریح
وکاین۔۔۔ الخ، آسمان اور زمین کی پیدائش اور ان میں بیشمار چیزوں کا وجود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خالق اور صانع ایک ہے جس نے ان چیزوں کو وجود بخشا ہے اور ایک مدبر ہے جو ان کا انتظام کر رہا ہے کہ صدیوں سے یہ نظام چل رہا ہے اور ان میں آپس میں کبھی ٹکراؤ و تصادم نہیں ہوتا، لیکن لوگ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے یوں ہی گذر جاتے ہیں نہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ان سے رب کی معرفت حاصل کرتے ہیں، یہ ایسے لوگوں کا بیان تھا جو خدا تعالیٰ کے وجود اور اسکی حکمت وقدرت ہی کے قائل نہیں تھے، آگے ان لوگوں کا بیان ہے کہ جو وجود باری کے قائل تو ہیں مگر اس کی خدائی میں دوسروں کو شریک قرار دیتے ہیں، فرمایا۔
وما یؤمن۔۔۔۔ مشرکون، یعنی ان میں جو ایمان لاتے ہیں وہ بھی شرک کے ساتھ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت وغیرہ اوصاف میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو سراسر ظلم اور جہل ہے، قرآن اس کو بوضاحت بیان کرتا ہے کہ یہ مشرکین یہ تو مانتے ہیں کہ آسمان و زمین کا خالق ومالک، و رازق و مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس کے باوجود عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں آج کے قبر پرستوں کا بھی شرک یہی ہے کہ وہ قبروں میں مدفون بزرگوں کو صفات الوہیت کا حامل سمجھ کر انھیں مدد کے لئے پکارتے ہیں۔
امام المفسرین ابن کثیر نے فرمایا، کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں کہ جو ایمان کے باوجود مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے تم پر جس چیز کا خطرہ ہے ان سب میں سب سے زیادہ خطرناک شرک اصغر ہے، صحابہ کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ ریا شرک اصغر ہے اسی طرح ایک حدیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے کو شرک فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کی منت اور نذر و نیاز ماننا بھی باتفاق فقہا اس میں داخل ہے۔
وما ارسلنا۔۔۔ الخ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ تمام نبی مرد ہی ہوئے ہیں نہ فرشتے اور نہ عورت، اسی طرح انبیاء کا مقام بعثت قریہ تھا جو قصبہ دیہات اور شہر کو شامل ہے ان میں سے کوئی بھی صحراء نشینوں میں سے نہیں تھا اسلئے کہ اہل بادیہ نسبۃ طبیعت کے سخت اور اخلاق کے کھردرے ہوتے ہیں، یہ خیال بےبنیاد اور لغو ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہیے نہ کہ انسان بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے انسانوں کا رسول ہمیشہ انسان ہی ہوتا چلا آیا ہے، البتہ عام انسانوں سے اس کو امتیاز حاصل ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی طرف بارگاہ الہٰی کی طرف سے براہ راست وحی آتی ہے، نبوت کسی کی سعی و عمل کا نتیجہ نہیں ہوتی، البتہ اللہ خود ہی اپنے بندوں میں سے جس کو مناسب سمجھتا ہے اس کام کیلئے منتخب کرلیتا ہے۔
حتی اذا۔۔۔۔ الخ رسولوں کو یہ مایوسی اپنی قوم کے ایمان نہ لانے سے ہوئی۔
وظنوا۔۔۔ الخ اس آیت کی مختلف قراءتوں کی وجہ سے اس آیت کے مختلف مفہوم بیان کئے گئے ہیں لیکن زیادہ مناسب مفہوم یہ ہے کہ ظنوا کا فاعل قوم کفار کو قرار دیا جائے یعنی کفار نے جب دیکھا کہ رسولوں نے جس عذاب کی دھمکی دی تھی جب اس کے آنے میں تاخیر ہوئی اور اس کے آنے کے آثار بھی دور دور تک نظر نہ آئے تو کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں سے بھی یوں ہی جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے اس آیت میں لفظ کذبوا مشہور قراءت کے مطابق پڑھا گیا، مطلب یہ ہوگا کہ عذاب موعود کے آنے میں بہت زیادہ تاخیر ہونے کی وجہ سے پیغمبر یہ خیال کرکے مایوس ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ کے اجمالی وعدۂ عذاب کا جوا وقت ہم نے اپنے اندازہ کے مطابق اپنے ذہنوں میں مقرر کر رکھا تھا وقت پر عذاب نہ آئیگا اور وعدۂ الہٰی کا وقت مقرر کرنے میں ہم سے غلط فہمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے مایوسی ہوئی، اسی مایوسی کی حالت میں ان کو ہماری مدد پہنچی اور وہ یہ کہ وعدہ کے مطابق کفار پر عذاب آیا، پھر ہم نے اس عذاب سے مومنین کو بچا لیا اور کفار ہلاک ہوگئے اسلئے کہ ہمارا عذاب مجرموں سے ہٹایا نہیں جاتا، بلکہ ضرور آکر رہتا ہے اسلئے کفار مکہ کو چاہیے کہ عذاب میں تاخیر ہونے سے دھوکہ میں نہ رہیں۔
بعض قراءتوں میں کذبوا تشدید کے ساتھ بھی آیا ہے یہ مصدر تکذیب سے مشتق ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ انبیاء نے اندازہ سے جو عذاب کا وقت مقرر کردیا تھا اس عذاب کے بروقت نہ آنے پر ان کو یہ خطرہ ہوگیا کہ اب جو مسلمان ہیں وہ بھی ہماری تکذیب نہ کرنے لگیں کہ جو کچھ ہم نے کہا تھا وہ پورا نہیں ہوا، ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔
لقد کان۔۔۔۔ الالباب، قرآن کریم میں جو قصہ یوسف (علیہ السلام) اور دیگر قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کو گھڑا نہیں بلکہ یہ پچھلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں دین کے بارے میں ساری ضرورتیں اجمالی یا تفصیلی یا اصولی طور پر موجود ہیں اور یقین رکھنے والوں کیلئے ہدایت اور رحمت ہے۔
تم بحمد اللہ