13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 13:1–7

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر (اے محمد ﷺ یہ کتاب (الہٰی) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے۔ (اس طرح) وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو۔

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے۔ اور ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن لباس پہناتا ہے غور کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجودیہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہونگے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہونگے۔ اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر ﷺ پر اس کے پروردگار کیطرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ سو (اے محمد ﷺ تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کیلئے رہنما ہوا کرتا ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 7 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے، المر، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور (آیاتُ الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اتارا جاتا ہے سب حق ہے (یعنی) اس میں کوئی شک نہیں ہے، (وَالَّذِیْ اُنزلَ اِلیک الخ) مبتداء ہے اور الحقُّ اس کی خبر ہے، لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ منجانب اللہ ہے اور وہ اہل مکہ ہیں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جو تم کو نظر آتے ہوں، العمد، عمادٌ کی جمع ہے اور وہ ستون ہیں اور عدم رویت اس وقت بھی صادق آتی ہے جبکہ ستون ہی نہ ہوں پھر وہ تخت شاہی پر جلوہ فرما ہوا ایسی جلوہ فرمائی کہ جو اس کے شایان شان ہے اور اس نے شمس و قمر دونوں کو قانون کا پابند بنایا ان میں سے ہر ایک اپنے مدار پر ایک مدت (یعنی) قیامت تک کیلئے جاری ہے (وہی اللہ) ہر کام کی تدبیر کرتا ہے (یعنی) اپنے کے معاملات طے کرتا ہے اور وہ اپنی قدرت کی دلالتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ اے اہل مکہ بعث کے ذریعہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو اور وہ ایسی ذات ہے کہ اس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں نہ ہلنے والے پہاڑ پیدا کئے اور نہریں پیدا کیں اور زمین میں ہر قسم کے پھلوں کے دہرے دہرے جوڑے پیدا کئے وہ رات کی تاریکی کے ذریعہ دن کو چھپا دیتا ہے یقیناً اس مذکور میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بہت سی نشانیاں ہیں اللہ کی صنعت میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے، اور زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں، ان میں زرخیز بھی ہیں اور بنجر بھی اور قلیل النفع بھی ہیں اور کثیر النفع بھی، یہ بھی خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے، اور انگور کے باغات ہیں، اور کھیتیاں ہیں (زرعٌ) رفع کے ساتھ جنات پر عطف کی وجہ سے اور جر کے ساتھ بھی اعناب پر عطف کی وجہ سے، اور کھجور کے درخت ہیں (صنوان) صنوٌ کی جمع ہے کھجور کے ان درختوں کو کہتے ہیں جن کی جڑ ایک ہو اور اوپر اس میں متعدد شاخیں ہوں اور کچھ اکہرے بھی ہیں سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے (تسقٰی) کی ضمیر مذکور کی طرف راجع ہوگی مگر مزے میں ہم بعض کو بہتر بنا دیتے اور بعض کو کمتر (نفضل) نون اور یاء کے ساتھ ہے (الاُکُلُ ) کاف کے ضمہ اور اس کے سکون کے ساتھ (دو قراءتیں ہیں) بعض ان میں شیریں اور بعض ترش ہوتے ہیں یہ بھی خدا کی قدرت کے دلائل میں سے ہے، بلاشبہ ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں اور اگر اے محمد آپ کو کفار کے آپ کی تکذیب کرنے سے تعجب ہوتا ہے تو درحقیقت منکرین بعث کا یہ قول قابل تعجب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ اس لئے کہ جو ذات سابقہ نمونے کے بغیر ازسر نو پیدا کرنے اور مذکورہ چیزوں پر قادر ہے وہ ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے، اور دونوں ہمزوں میں دونوں جگہ تحقیق اور پہلے کی تحقیق اور ثانی کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان الف داخل کرکے اور ادخال کو ترک کرکے (سب جائز ہے) اور ایک قراءت اول میں استفہام اور ثانی میں خبر اور دوسری قراءت میں اس کا برعکس یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا کفر کیا اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی گردنوں میں طوق ہے، یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، اور ان کے بطور استہزاء عذاب کے بارے میں جلدی مچانے کے بارے میں (آئندہ) آیت نازل ہوئی یہ لوگ نیکی یعنی رحمت سے پہلے برائی کیلئے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے عبرتناک مثالیں گذر چکی ہیں مثلات، مَثلۃ کی جمع ہے سَمُرَۃ کے وزن پر، یعنی ان جیسے تکذیب کرنے والوں کی سزائیں (گذر چکی ہیں) کیا اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتی کے باوجود ان کو معاف بھی کرتا ہے ورنہ تو وہ روئے زمین پر کوئی چلنے والا (یعنی ذی روح) نہ چھوڑے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتی کے باوجود ان کو معاف بھی کرتا ہے ورنہ تو وہ روئے زمین پر کوئی چلنے والا (یعنی ذی روح) نہ چھوڑے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب اپنی نافرمانی کرنے والوں کو سخت سزا دینے والا ہے اور کافر کہتے ہیں کس لئے محمد ﷺ پر نہیں اتاری گئی اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی جیسا کہ عصا (موسیٰ (علیہ السلام) اور ید (بیضاء) اور اونٹنی (ناقۂ صالح علیہ الصلوٰۃ والسلام) اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ تو کافروں کا محض آگاہ کرنے والے ہیں (یعنی ڈرانے والے ہیں، معجزات کا لانا آپ کے ذمہ نہیں ہے، اور ہر قوم کیلئے رہنما ہوتا ہے (یعنی) نبی ہوتا ہے جو لوگوں کو ان معجزات کے ذریعہ جو اس کو اللہ عطا کرتا ہے ان کے رب کی طرف بلاتا ہے نہ کہ ان معجزات کے ذریعہ جن کو وہ تجویز کرے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : سورة الرعد مکیۃ سورة الرعد مبتداء ہے مکیۃ خبر اول ہے اور ثلث الخ خبرثانی ہے، مکی مدنی ہونے کے بارے میں پانچ قول ہیں (1) یوری سورت مکی سوائے ” ولا یزال الذین کفروا (الآیۃ) کے (2) پوری سورت مکی ہے سوائے ھو الذی یریکم البرق، الی قولہ، لہ دعوۃ الحق (3) پوری سورت مدنی ہے سوائے وَلَوْ انَّ قرآنا (دو آیتیں) (4) کہا گیا ہے کہ پوری سورت مدنی ہے، (5) کہا گیا ہے کہ پوری سورت مکی ہے۔ قولہ : الاضافۃ بمعنی من، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ آیات الکتاب میں اضافت الشئ الی نفسہٖ لازم آرہی ہے اسلئے کہ آیات اور کتاب ایک ہی شئ ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ اضافت الشی الی نفسہ اس وقت لازم آتی جب اضافت بمعنی لام ہوتی یہاں اضافت بمعنی من ہے فلاحرج۔ قولہ : بانّہ من عندہ یہ جملہ یؤمنون کا مفعول بہ ہے۔ سوال : یُؤْمِنُ متعدی بالی استعمال ہوتا ہے نہ کہ متعدی بالباء۔ جواب : یُؤْمنون، یقرّون کے معنی کو متضمن ہے لہٰذا تعدیہ بالباء درست ہے۔ قولہ : اللہ الذی رفع السمٰوات الخ اللہ مبتداء ہے اور اَلَّذِیْ الخ اس کی خبر ہے۔ قولہ : وھو صادق بان لا عَمَدَ اصْلا یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ جمع کی نفی بطور مفہوم کے ثبوت واحد پر دلالت کرتی ہے یعنی ایک ستون ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ مقید کی نفی مطلق کی نفی پر دلالت کرتی ہے، یہاں نفی موصوف اور صفت دونوں کی طرف راجع ہے۔ قولہ : جَعَلَ ، یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ جعل متعدی بدو مفعول ہوتا ہے حالانکہ یہاں دو مفعول نہیں ہیں۔ جواب : جَعَلَ بمعنی خَلَقَ ہے نہ کہ بمعنی صَیَّرَ ۔ قولہ : من کل نوعٍ من کُلّ الثمرات کی تفسیر ہے۔ قولہ : یغشی الَّیل النھارَ یہ جملہ مستانفہ ہے اور ماقبل میں مذکور افعال کے فاعل سے حال بھی ہوسکتا ہے، یُغَشِی کا فاعل ضمیر ھو مستتر ہے جو اللہ کی طرف راجع ہے، الّیْل مفعول اول ہے اور النھارَ مفعول ثانی یعنی اللہ تعالیٰ رات کے ذریعہ دن کو چھپا دیتا ہے۔ قولہ : صِنوان، بالتثلیث، نخلۃ لھا رأسان واصلھا واحد، ایسا کھجور کا درخت کہ جس کی جڑ ایک ہو سر دو ہوں۔ قولہ : بالتاء والیاء تُسْقٰی مؤنث کی صورت میں اس کا نائب فاعل الجنات ہوگا اور یُسٌقٰی مذکر کی صورت میں اسکا فاعل مذکور ہوگا۔ قولہ : بالیاء، یعنی نُفضِّلُ میں یاء اور نون دونوں جائز ہیں مذکر غائب کی صورت میں یُدَبِّرُ کے ساتھ مطابقت ہوگی۔ قولہ : حقیق بالعجب۔ سوال : فعجبٌ کی تفسیر حقیق سے کس مقصد کے پیش نظر کی ہے ؟ جواب : اسکا مقصد ایک سوال کا جواب ہے سوال : کیا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ عجبٌ خبر مقدم ہے اور قولھم مبتداء مؤخر ہے، اور عجبٌ مصدر ہے اور مصدر کا حمل قولھم پر درست نہیں۔ جواب : حقیق محذوف مانا تاکہ حمل درست ہوجائے۔ تفسیر و تشریح فضائل سورة رعد : سورة رعد کا مختصر (قریب المرگ شخص) کے پاس پڑھنا مستحب ہے اس سے روح نکلنے ہونے میں آسانی ہوتی ہے، ابن ابی شیبہ نے جابر بن زید سے روایت کیا ہے، قال ! کان یستحب اذا احتضر المیت أن یقرأ عندہٗ سورة الرعد فاِن ذلک یخفف عن المیت واِنہ اھون لقبضہ وأیسرُ لشانِہٖ ۔ (فتح القدیر شوکانی) المرٰ ، تلک اٰیٰت الکتب (الآیۃ) حروف مقطعات کے متعلق الم کے شروع میں بحث گذر چکی ہے وہاں دیکھ لی جائے احوط اور مناسب طریقہ یہی ہے کہ اس کے بارے میں زیادہ بحث نہ کی جائے اور اس کی حقیقی مراد کو اللہ کے حوالہ کیا جائے، اس سورت میں جو کچھ پڑھا جانے والا ہے وہ اس عظیم الشان قرآن کی آیتیں ہیں، یہ کتاب جو آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی ہے یقیناً حق و صواب ہے، لیکن تعجب کا مقام ہے کہ ایسی صاف اور واضح حقیقت کے ماننے سے بھی لوگ انکار کرتے ہیں۔ سورت کا مرکزی مضمون : پہلی آیت میں مرکزی مضمون کی مناسبت سے تمہیدی مضمون تھا دوسری آیت سے اصل مضمون شروع ہو رہا ہے، یہ بات پیش نظر رہے کہ نبی ﷺ اس وقت جس چیز کی طرف لوگوں کو دعوت دے رہے تھے وہ تین بنیادی باتوں پر مشتمل تھی ایک یہ کہ خدائی پوری کی پوری اللہ ہی کی ہے اس کے علاوہ کوئی مستحق بندگی نہیں، دوسرےؔ یہ کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے جس میں سب کو اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہوگی تیسرےؔ یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جو کچھ پیش کر رہا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے یہی تین باتیں ہیں جنہیں لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ دوسری آیت (اللہ الذی رفع السمٰوات بغیر عمدٍ ترونھا) میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کے دلائل مذکور ہیں کہ اس کی مخلوقات اور مصنوعات کو ذرا غور سے دیکھو تو یقین کرنا پڑے گا کہ اس کو بنانے والی کوئی ایسی ذات ہے کہ جو قادر مطلق اور تمام مخلوقات و کائنات اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ کیا آسمان کا جرم آنکھوں سے نظر آتا ہے ؟ عام طور سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نیلا رنگ جو ہم کو نظر آتا ہے آسمان کا رنگ ہے، مگر فلاسفہ کا کہنا یہ ہے کہ یہ رنگ روشنی اور اندھیرے کی آمیزش سے محسوس ہوتا ہے جیسا کہ گہرے پانی پر روشنی پڑتی ہے تو وہ نیلا نظر آتا ہے، مگر ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے دونوں باتیں ایک جگہ جمع ہوسکتی ہیں۔ ثم استوی علی العرش، پھر تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوگیا جیسی جلوہ فرمائی کہ اس کی شایان شان ہے اس جلوہ فرمائی کی کیفیت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا، اتنا اعتقاد رکگنا کافی ہے کہ جس طرح کا استویٰ شان الٰہی کے لائق ہے وہ مراد ہے۔ وسخر الشمس والقمر، سورج اپنا دورہ ایک سال اور چاند ایک ماہ میں پورا کرتا ہے، لِاَجل مُسَمّٰی کے معنی اگر وقت مقرر تک کیلئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ چاند سورج قیامت تک اسی طرح چلتے رہیں گے کائناتی دلائل کو پیش کرنے اور ان میں غور و فکر کی دعوت دینے کا مقصد یہ ہے کہ جو ذات اتنی عظیم الشان مخلوق پیدا کرسکتی ہے اس کیلئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ؟ ! شمس و قمر کو مسخر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جس ضابطہ کا پابند بنادیا ہے ہزارہا سال گذر گئے مگر اسی ضابطہ کی پابندی کے ساتھ رفتار میں کمی بیشی کے بغیر چل رہے ہیں نہ تھکتے ہیں اور نہ اپنے کام سے انحراف کرتے ہیں یہ نظام قدرت بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ اس کائنات کو بنانے اور چلانے والی کوئی ایسی ہستی ضرور ہے جو انسان کے ادراک و شعور سے بالاتر ہے۔ یدبر الامر، اللہ ہر امر کا انتظام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا رہتا ہے یعنی وہ محض صانع اور خالق ہی نہیں کہ جو ایک مرتبہ تخلیق کے بعد معطل ہو کر بیٹھ گیا ہو جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں کا عقیدہ ہے بلکہ حاکم اور متصرف بھی ہے۔ وھو الذی مد الارض، کرۂ ارض جو کہ دیگر بہت کروں کے مقابلہ میں مثل ذرہ کے ہے پھر بھی اس کی وسعت کا اندازہ لگانا ایک عام آدمی کیلئے نہایت دشوار ہے، اور بلند وبالا پہاڑوں کے ذریعہ زمین میں گویا میخیں گاڑدی ہیں، نہروں، دریاؤں اور چشموں کا ایسا سلسلہ قائم کیا ہے کہ جس سے انسان خود بھی مستفید ہوتے ہیں اور کھیتوں کو بھی سیراب کرتے ہیں جن سے انواع و اقسام کے غلے اور پھل پیدا ہوتے ہیں جن کی شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف اور ذائقے بھی جدا گانہ ہوتے ہیں اور ان میں مختلف انواع و اقسام کے ساتھ ساتھ جوڑے بھی پیدا کئے، اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ نر اور مادہ دونوں بنائے جیسا کہ جدید تخلیق نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جوڑے سے مراد میٹھا اور کھٹا، سرد اور گرم، سیاہ وسفید، ذائقہ دار اور بد ذائقہ اس طرح ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد قسمیں پیدا کیں۔ وفی الارض قطع متجاورات، یعنی صانع حکیم نے پوری روئے زمین کو یکساں نہیں بنایا، بلکہ اس میں بیشمار خطے پیدا کئے جو متصل ہونے کے باوجود شکل میں، رنگ میں، مادۂ ترکیب میں، خاصیتوں میں، قوتوں اور صلاحیتوں میں، کیمیاوی یا معدنی خزانوں میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، ان مختلف خطوں کی پیدائش اور ان کے اندر طرح طرح کا تفاوت و اختلاف کی موجودگی اپنے اندر اتنی حکمتیں اور مصلحتیں رکھتی ہے کہ ان کا شمار نہیں ہوسکتا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات کی تخلیق یقیناً کسی حکیم مطلق کے سوچے سمجھے اور اس کے دانشمندانہ ارادہ کا نتیجہ ہے اسے محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینا ایک بڑی جرأت اور ہٹ دھرمی کی بات ہے۔ کھجور کے درختوں میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جڑ سے ایک ہی تنا نکلتا ہے اور بعض میں ایک جڑ سے دو یا زیادہ نکلتے ہیں، ان باتوں سے خدا کی قدرت اور حکمت کے نشانات ملتے ہیں جو اس کی توحید اور قادر مطلق ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جو شخص ان باتوں پر گور کرے گا وہ کبھی دیکھ کر پریشان نہ ہوگا کہ انسانی طبائع اور میلانات اور مزاجوں میں اتنا اختلاف کیوں ہے ؟ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ہر حیثیت سے یکساں بنا دیتا مگر جس حکمت پر اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے وہ یکسانی نہیں بلکہ تنوع اور رنگارنگی کی متقاضی ہے، سب کو یکساں بنا دینے کے بعد تو یہ سارا ہنگامۂ ہست و بود ہی بےمعنی ہو کر رہ جاتا، چمن اسی کو کہتے ہیں جس میں ہمہ قسم کے پھول ہوں ہر پھول کا رنگ اور مہک الگ ہو، گویا کہ کارخانہ قدرت ایک چمن ہے جس میں بیلا بھی ہے اور چنبیلی بھی، جو ہی بھی ہے اور موگھرا بھی، گلاب بھی ہے اور گل ہزارہ بھی، رات کی رانی بھی ہے اور دن کا راجہ بھی غرضیکہ ہر ایک اپنی مہک سے مشام جان کو معطر کر رہا ہے اور اپنی خوش رنگی سے آنکھوں کا نور اور دل کو سرور بخش رہا ہے، اگر کسی باغ میں گلاب ہی گلاب ہوں جو کہ پھولوں کا راجہ ہے تو اس کو چمن نہیں کہا جاسکتا البتہ اس کو گلاب کا کھیت کہہ سکتے ہیں چمن نہیں۔ وان تعجب۔۔۔۔ خلق جدید، اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے کہ کفار آپ کے کھلے معجزات اور آپ کی نبوت پر کھلی نشانیاں دیکھنے کے باوجود آپ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں، اس کے برخلاف ایسے پتھروں کو پوجتے ہیں کہ جن میں نہ حس ہے اور نہ حرکت اور نہ عقل ہے نہ شعور وہ خود اپنے نفع نقصان کے بھی مالک نہیں یہ قابل تعجب بات ہے۔ اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ کیسا ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائیگا ؟ حالانکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ پہلی مرتبہ تمام کائنات کو بیشمار حکمتوں کے ساتھ اسی نے پیدا کیا ہے، پھر دوبارہ پیدا کردینا اس کیلئے مشکل اور عقل کے اعتبار سے اس میں کیا استحالہ ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی قدرت کو پہچانا نہیں ہے اس کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ کھلی ہوئی نشانیوں کے باوجود جس طرح ان کا نبوت سے انکار قابل تعجب ہے اس سے زیادہ قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے اور حشر کے دن سے انکار تعجب کی چیز ہے۔ باوجود یہ کہ قوموں اور بستیوں کی تباہی کی مثالیں پہلے گذر چکی ہیں اور اپنے سفر کے دوران ان کی ہلاکت کی نشانیاں دیکھتے ہیں مگر ایک بےعقل و شعور حیوان کی طرح چشم عبرت بند کرکے گذر جاتے ہیں اس کے باوجود جلدی مانگتے ہیں، یہ کفار کے اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اے پیغمبر اگر تو سچا ہے تو وہ عذاب ہم پر لے آ جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے۔ ویقول الذین۔۔۔۔ من ربہ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر نبی کو حالات اور ضروریات اور اپنی منشا کے مطابق کچھ نشانیاں اور معجزات عطا فرمائے، لیکن کافر اپنے حسب منشا معجزات کے طالب ہوتے رہے ہیں جیسا کہ کفار مکہ آپ ﷺ سے کہتے تھے کہ کوہ صفا کو سونے کا بنادیا جائے یا پہاڑوں کی جگہ نہریں اور چشمے جاری ہوجائیں وغیرہ وغیرہ، جب ان کے مطلوبہ معجزے نہ دکھائے جاتے تو کہتے کہ ان پر کوئی نشانی نازل کیوں نہیں کی گئی ؟ اللہ نے فرمایا اے پیغمبر تمہارا کام صرف انذار و تبلیغ ہے وہ تم کرتے رہو کوئی مانے یا نہ مانے اس سے تم کو کوئی غرض نہیں اسلئے کہ ہدایت دینا ہمارا کام ہے تمہارا کام راستہ دکھانا ہے۔ ولکل قوم ھاد، گذشتہ ہر قوم میں ہادی ہوتے چلے آئے ہیں اور ہر نبی کا وظیفہ اور کار منصبی یہ تھا کہ وہ قوم کو ہدایت کریں، اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، معجزات کا ظاہر کرنا کسی نبی کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا یہ سب اللہ کے اختیار وقدرت میں ہوتا ہے۔
Ayahs 13:8–18

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ دانائے نہاں و آشکار ہے۔ سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے۔

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں۔ چھپ جائے یا دن (کی روشنی) میں کھلم کھلا چل پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے۔

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اسکے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار رہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اور فرشتے سب اسکے خوف سے اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے۔ اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے۔ مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دو رہی سے) اس کے منہ تک آپہنچے۔ حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا۔ اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ اور ان کے سامنے بھی صبح وشام (سجدے کرتے) ہیں۔

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ (تم ہی انکی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتے ؟ (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں ؟ یا اندھیرا اور اجالا برابر ہوسکتا ہے ؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنیوالا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے۔

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے۔ پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح (خدا) صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ ہی اتنے اور (نجات کے) بدلے میں صرف کر ڈالیں (مگر نجات کہاں ؟ ) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

آیت نمبر 8 تا 18 ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے پیچھے (نگرانی) کیلئے رات دن کی ڈیوٹی والے فرشتے لگے رہتے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی نگرانی کرتے ہیں، یعنی اس کے حکم سے جن وغیرہ سے حفاظت کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حالات کو نہیں بدلتا یعنی اس کی نعمتوں کو سلب نہیں کرتا تاآنکہ وہ خود ان صفات کو نہ بدل دے جو اس میں ہیں یعنی اپنی صفات جمیلہ کو معصیت سے نہ بدل دے، اور جب کسی قوم کے بارے میں عذاب کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اسے کوئی نہیں ٹال سکتا خواہ نگران فرشتے ہوں یا اور کوئی اللہ تعالیٰ جن کو سزا دینے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کے مقابلہ میں ان کا کوئی حامی نہیں ہوتا کہ ان کو عذاب سے بچا سکے (مِنْ والٍ ) میں مِنْ زائدہ ہے وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلی چمکاتا ہے جس سے مسافروں کو اندیشہ لاحق ہوتا ہے اور مقیمین کو بارش کی امید ہوتی ہے وہی ہے جو پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو پیدا کرتا ہے اور بادلوں کی گرج کہ وہ ایک فرشتہ ہے جو بادلوں کے چلانے پر مقرر ہے حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہے یعنی وہ سبحان اللہ وبحمدہ کہتا ہے اور فرشتے اس کی یعنی اللہ ہیبت سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ بجلیوں کو بھیجتا ہے اور وہ ایک قسم کی آگ ہے جو بادلوں سے نکلتی ہے سو وہ جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے تو وہ اس کو جلا ڈالتی ہے (آئندہ آیت) اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کو دعوت دینے کیلئے آپ ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا، تو اس شخص نے کہا اللہ کا رسول کون ؟ اور اللہ کیا ؟ آیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا تانبے کا ہے تو اس پر (آسمانی) بجلی گری اور اس کی سر کی کھوپڑی کو اچک لے گئی اور کفار اللہ کے بارے میں نبی ﷺ سے جھگڑ رہے ہیں فی الواقع وہ زبردست قوت والا یا پکڑ والا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلمہ برحق ہے اور اس کا کلمہ ” لا اِلٰہَ الا اللہ “ ہے اور وہ ہستیاں جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے علاوہ اور وہ بت ہیں، بندگی کرتے ہیں ان کو کچھ بھی جواب نہیں دے سکتیں، اس چیز کے بارے میں جس کو وہ طلب کر رہے ہیں ان کو پکارنا تو قبولیت کے بارے میں ایسا ہے کہ کوئی پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر کنویں کے کنارے کھڑے ہو کر پانی سے کہے کہ اے پانی تو کنویں سے نکل کر میرے منہ میں پہنچ جا، حالانکہ وہ پانی اس کے منہ تک کبھی پہنچنے والا نہیں، اسی طرح وہ (اصنام) بھی ان کی پکار کا جواب دینے والے نہیں ہیں اور کافروں کا بتوں کی بندگی کرنا یا حقیقۃً ان کو پکارنا اکارتِ محض ہے (یعنی تیر بےہدف ہے) (اور اللہ ہی ہے) کہ جس کیلئے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز بخوشی جیسا کہ مومنین اور ناخوشی جیسا کہ منافقین اور وہ جس کو تلوار کے ذریعہ مجبور کردیا گیا ہو اور سب چیزوں کے سایہ صبح و شام (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں، اے محمد ﷺ اپنی قوم سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے ؟ اور اگر وہ جواب نہ دیں تو خود ہی بتادو کہ وہ اللہ ہے، اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی جواب نہیں، (پھر) ان سے کہو کہ (جب حقیقت یہ ہے) تو کیا تم نے اللہ کے غیر (یعنی) بتوں کو کارساز بنا لیا جن کی تم بندگی کرتے ہو جو اپنے بھی نفع نقصان کے مالک نہیں اور تم نے نفع نقصان کے مالک کو چھوڑ دیا ؟ یہ استفہام توبیخی ہے، (ان سے پوچھو) کیا نابینا اور بینا یعنی کافر اور مومن (اور) کفر کی تاریکی اور ایمان کی روشنی یکسان ہوتی ہے، نہیں ہوتی، اور اگر ایسا نہیں تو کیا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک ٹھہرا رکھے ہیں کہ جنہوں نے اللہ کے مانند کچھ پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے شرکاء کی پیدا کردہ اللہ کی پیدا کردہ شئ ان پر مشتبہ ہوگئی ؟ کہ ان کی تخلیق کی وجہ سے ان کو مستحق عبادت یقین کرلیا، یہ استفہام انکاری ہے، یعنی بات ایسی نہیں ہے اور خالق (حقیقی) کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ہے، کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اس میں اس کا کوئی شریک نہیں، لہٰذا عبادت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں، وہ یکتا ہے (اور) اپنے بندوں پر غالب ہے، پھر حق و باطل کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا تو ندی (نالے) اپنی گنجائش کے مطابق اس کو لے کر بہہ نکلے پھر اس سیلاب نے پانی پر چڑھے جھاگوں کو اٹھا لیا وہ سطح آب پر آنے والا کوڑا کرکٹ وغیرہ ہے اور ارضیاتی دھاتوں میں سے مثلاً سونا اور چاندی، اور تانبا جس کو آگ میں تپاتے ہیں زیور بنانے کیلئئے یا سازوسامان بنانے کیلئے تاکہ ان سے استفادہ کیا جائے مثلاً برتن جبکہ اس کو پگھلایا جائے اسی طرح کے یعنی سیلاب کے جھاگوں کے مانند جھاگ ہیں اور وہ، وہ میل ہوتا ہے جس کو بھٹی الگ کردیتی ہے، مذکورہ مثال کے مانند اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے، سیلاب اور پگھلائی ہوئی دھات کے جھاگ تو وہ ناکارہ ہو کر ختم ہوجاتے ہیں یعنی بیکار سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، اور جس سے لوگ نفع اٹھاتے ہیں کہ وہ پانی اور دھات ہے تو وہ زمین پر ایک زمانہ تک ٹھہر جاتا ہے، اور حق ثابت اور باقی رہتا ہے، اللہ تعالیٰ مذکورہ مثال کی طرف مثالیں بیان کرتا ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی حکم برداری کی یعنی اطاعت کے ذریعہ فرمانبرداری کی، ان کیلئے جنت ہے، اور جن لوگوں نے کہ وہ کافر ہیں اس کی حکم برداری نہیں کی اگر ان کیلئے زمین میں جو کچھ ہے اور اسکے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہو تو اس کو عذاب کے عوض میں دیدیں گے یہی ہیں وہ لوگ جن کیلئے برا حساب ہے اور وہ انکے تمام اعمال کا مواخذ ہے اس میں سے کچھ بھی معاف نہیں کیا جائیگا، اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بری جگہ ہے وہ برا بچھونا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الْمتَعَالِ اسم فاعل واحد مذکر غائب، (تَفَاعلٌ سے) مصدر تَعَالِیٌ، المُتَعَال اصل میں المتعالیُ تھا آخر سے یاء حذف ہوگئی، مادہ عُلُوٌّ ہے، یہاں ثلاثی مجرد کو ثلاثی مزید میں لیجانے کا مقصد معنی میں زیادتی کو بیان کرنا ہے، اس کے معنی ہیں برتر، بزرگ تر، المتعال میں دو قراءتیں ہیں یاء کے ساتھ یعنی المتعالی اور بغیر یاء کے یعنی المتعال۔ قولہ : سوآء منکم الخ اس میں دو ترکیبیں ہیں، (1) سواءٌ خبر مقدم اور مَنْ اَسَرَّ ومَنْ جَھَرَ مبتداء مؤخر۔ سوال : جب مبتداء دو ہیں تو خبر بھی تثنیہ لانی چاہیے تھی یعنی سواء ان کہنا چاہیے تھا۔ جواب : سواء چونکہ مصدر بمعنی مستو ہے لہٰذا اس میں واحد تثنیہ جمع سب برابر ہیں، (2) سواء مبتداء اور اَسَرَّ القولَ الخ اس کی خبر۔ سوال : سواء نکرہ ہے اس کا مبتداء واقع ہونا درست نہیں ہے۔ جواب : سواء کی صفت چونکہ منکم موجود ہے لہٰذا اس میں تخصیص پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے سواءٌ کا مبتداء بننا درست ہوگیا۔ قولہ : ساربٌ یہ سربٌ سے اسم فاعل ہے بمعنی، راہ میں چلنے والا، گلیوں میں پھرنے والا، سارب کی جمع سَرْبٌ ہے جیسا کہ راکبٌ کی جمع رَکْبٌ آتی ہے ساربٌ کا عطف من ھو مستخفٍ پر ہے نہ کہ مستخف پر۔ قولہ : معقِّبات یہ اسم فاعل کا صیغہ ہے اور مُعَقِّبَۃٌ کی جمع ہے (تفعیل) سے تعقیب مصدر ہے، باری باری سے روز و شب میں آنے والے فرشتے۔ (بیضاوی، و کبیر) قولہ : تَعْتَقِبُ اس میں اشارہ ہے کہ مُعَقِّبَاتٌ اِعْتَقَبَ سے ہے، اصل میں مُتَعَقِّباتٌ تھا تاء کو قاف میں ادغام کردیا وہ ملائکہ جو آمدورفت میں ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہیں، مراد وہ ملائکہ ہیں جو شب و روز میں ڈیوٹی بدلتے ہیں۔ قولہ : مَرَدَّ ، اسم فعل، ٹالنا، لوٹانا۔ قولہ : مِنْ والٍ ، مِنْ زائدہ ہے وَال اسم فاعل اصل میں والِیٌ تھا (ض) یاء حذف کردی گئی، مددگار، حمایتی۔ قولہ : خوفاً وطمعًا، اور کہا گیا ہے یہ دونوں یریکم کے کاف سے حال ہیں، ای حَالَ کو نکم خائفین وطامعین، ابو البقاء نے کہا ہے کہ یہ دونوں اپنے اپنے فعلوں کے مفعول بھی ہوسکتے ہیں، (مگر زمخشری نے انکار کیا ہے) اور بعض حضرات نے اَلْبَرْقَ سے بھی حال قرار دیا ہے۔ (اعراب القرآن للدرویش) قولہ : تُسَبِّحُ اس میں اشارہ ہے کہ الملائکۃ کا عطف الرَّعد پر ہے نہ کہ قریب پر۔ قولہ : بقحف، قُحف کھوپڑی، کاسۂ سر (جمع) اقحاف، قُحوف۔ قولہ : ای کلمۃ اس میں اشارہ ہے کہ دعوت دعاء کے معنی میں نہیں ہے اور نہ بمعنی اَلدَّعوۃ المجابۃ کے معنی میں ہے۔ قولہ : اِستجابۃً ۔ سوال : استجابۃ مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : در وجہ سے اول یہ کہ مستثنیٰ ، مستثنیٰ منہ کی جنس سے ہوجائے اسلئے کہ مستثنیٰ متصل ہی اصل ہے، اور مستثنیٰ منہ استجانۃ ہے جو یستجیبون سے مفہوم ہے اسلئے کہ فعل مصدر پر دلالت کرتا ہے دوسرے یہ کہ اگر استجابۃ کو مقدر نہ مانا جائے تو تشبیہ العرض بالذات لازم آئے گی جو کہ جائز نہیں ہے، اسلئے کہ ستجابۃ عرض ہے اور باسط کفیہ ذات، بتوں سے مراد مانگنے والے کو اس شخص سے تشبیہ دی گئی ہے جو پانی سے کہہ رہا ہو کہ اے پانی تو میرے منہ میں آجا ظاہر ہے کہ یہ حماقت و سفاہت ہے اسلئے کہ پانی جماد ہے اس میں کسی کی فریاد سننے کی صلاحیت نہیں ہے، اسی طرح وہ شخص جو بتوں سے مرادیں مانگ رہا ہے وہ بھی سفیہ اور احمق ہے اسلئے کہ بت بھی جماد بےحس ہیں۔ قولہ : غُدُوٌّ، غداۃ کی جمع ہے، صبح کا وقت۔ قولہ : ا لآصال، یہ اصیل کی جمع ہے شام کا وقت۔ قولہ : جُفَاءٌ بروزن غُرابٌ، باطل، بےفائدہ یقال، جَفَا الوادی والقدرُ یعنی وادی (ندی) اور ہانڈی نے جھاگ باہر نکل دئیے۔ قولہ : اجابوہ بالطاعۃ اس میں اشارہ ہے کہ استجابوا (استفعال) افعال کے معنی میں ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ یہاں طلب کے معنی مقصود نہیں ہیں۔ قولہ : الجنۃ، اس کے اضافہ سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے الحُسْنٰی الجنۃ محذوف کی صفت ہے الجنۃُ الحُسْنٰی، مبتداء مؤخر اور للذین الخ خبر مقدم ہے۔ تفسیر و تشریح اللہ یعلم۔۔۔ (الآیۃ) رحم مادر میں کیا ہے ؟ نر ہے یا مادہ، خوبصورت ہے بدصورت، خوش نصیب ہے یا بد نصیت، نہ نیک ہے یابد، طو یل العمر ہے یا نا قصیرالمر، نا قص تو لد ہوگا یا کا مل، یہ سب با تیں صرف اللہ ہی جانتا ہے اس کا علم بلا واسطہ ہے، نہ کسی آلہ کا محتاج اور نہ ذریعہ کا۔ غرضیکہ وہ ہر ذرہ کے بدلتے ہوئے حالات سے واقف ہے، قرائن اور تخمینہ سے کوئی حکیم یا ڈاکٹر جو کچھ اس معاملہ میں رائے دیتا ہے اس کی حیثیت ایک گمان اور اندازہ کی ہوتی ہے بسا اوقات واقعہ اس کے خلاف نکلتا ہے، اَلٹرا ساؤنڈ یا ایکسرے مشین کے ذریعہ حاصل ہونے والی معلومات بھی یقینی نہیں ہوتیں ان کا غلط ہونا بھی تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہے اس کے علاوہ مشینوں کے ذریعہ معلومات حاصل کرنا ایک قسم کے مشاہدہ سے حاصل ہونے والا علم ہے جیسا کہ کوئی آپریشن کرکے نرومادہ ہونے کو متعین کرلے، اس کا علم غیب سے کوئی تعلق نہیں غیب سے مراد وہ چیز ہے جو انسانی حواس سے غائب ہو یعنی نہ آنکھوں سے اور نہ آلات سے اس کو دیکھا جاسکے اور نہ کانوں اور آلات سے اسے سنا جاسکے اور نہ ناک سے سونگھا جاسکے اور نہ زبان سے چکھا جاسکے اور نہ ہاتھوں سے چھوا جاسکے، اور شہادت سے اس کے بالمقابل وہ چیزیں مراد ہیں کہ جو انسانی حواس مذکورہ کے ذریعہ معلوم کیا جاسکے مطلب یہ ہے کہ اس قسم کا علم غیب خاص اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے، اللہ تعالیٰ غائب کو اسی طرح جانتا ہے جس طرح حاضر و مشاہد کو جانتا ہے، عمومی حالات میں بچہ کے رحم مادر میں رہنے کی مدت 280 دن ہوتی اگر کوئی عارض پیش نہ آئے۔ لہ معقبت۔۔۔ (الآیۃ) یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو ہرحال میں براہ راست خود دیکھ رہا ہے اور ہر ذرہ کی تمام حرکات و سکنات سے واقف ہے، بلکہ مزید براں اللہ کے مقرر کئے ہوئے نگرانِ کار بھی ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور اس کے پورے کارنامہ زندگی کا رکارڈ محفوظ کرتے جاتے ہیں، بخاری شریف کی روایت ہے کہ رات اور دن کے نگران فرشتے الگ الگ ہیں ان کی ڈیوٹی صبح فجر کی نماز کے بعد اور عصر کے بعد تبدیل ہوتی ہے۔ فلا مرد۔۔۔ وال، یعنی کسی کو بھی اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ کوئی پیر یا فقیر یا کوئی جن یا فرشتہ ایسا زور آور ہے کہ تم خواہ کچھ بھی کرتے رہو وہ تمہاری نذروں اور نیازوں کی رشوت لے کر تم کو تمہارے برے اعمال کی پاداش سے بچا لے گا۔ ان اللہ لا یغیر۔۔۔۔ (الآیۃ) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کوئی کفرانِ نعمت کا راستہ اختیار کرکے اور اللہ کے اوامرو نواہی سے اعراض کرکے اپنے احوال و اخلاق کو نہیں بدل لیتا اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتوں کا دروازہ بند نہیں فرماتے یعنی ان کے امن و عافیت و مصیبت میں اس وقت تک تبدیل نہیں کرتے جب تک وہ قوم خود ہی اپنے اعمال و احوال کو برائی اور فساد میں تبدیل نہ کرے ورنہ تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا طرز عمل بدل دیتے ہیں۔ اس تشریح سے معلوم ہوا کہ آیت مذکورہ میں تغیر احوال سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی قوم اطاعت و شکر گذاری چھوڑ کر اپنے حالات میں بری تبدیلی پیدا کرلے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا حفاظت و رحمت کا طرز بدل دیتے ہیں۔ اس آیت کا عام طور پر جو یہ مفہوم بیان کیا جاتا ہے کہ کسی قوم میں اچھا انقلاب اس وقت تک نہیں آتا جبتک وہ خود اچھے انقلاب کیلئے اپنے حالات کو درست نہ کرے، اسی مفہوم میں یہ شعر مشہور ہے۔ ؎ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا یہ بات اگرچہ ایک حد تک صحیح ہے مگر آیت مذکور کا یہ مفہوم نہیں ہے، اور اسکا صحیح ہونا بھی ایک عام قانون کی حیثیت سے ہے جو شخص خود اپنے حالات کی اصلاح کا ارادہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کی امداد و نصرت کا وعدہ نہیں، بلکہ یہ وعدہ اسی حالت میں ہے کہ جب خود اصلاح کی فکر کرے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہدایت کے راستے تب ہی کھلتے ہیں جب خود ہدایت کی طلب موجود ہو، لیکن انعامات الٰہیہ اس قانون کے پابند نہیں بسا اوقات اس کے بغیر بھی عطا ہوجاتے ہیں۔ (معارف) ھو الذی۔۔۔ (الآیۃ) یعنی اللہ ہی کی ذات پاک ہے کہ جو تم کو برق و بجلی دکھلاتی ہے جو انسان کیلئے خوف بھی بن سکتی ہے کہ جس جگہ پڑجائے سب کچھ خاک کر ڈالے، اور طمع وامید بھی ہوتی ہے کہ بجلی کی چمک کے بعد بارش آئے گی، جو انسانوں کی زندگی کا سہارا ہے۔ لہ دعوۃ الحق (الآیۃ) یعنی امید و بین کے وقت اسی ایک خدا کو پکارنا چاہیے کیونکہ وہی ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور قبول کرتا ہے یہاں دعوت عبادت کے معنی میں ہے یعنی اس کی عبادت حق اور صحیح ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، کیونکہ کائنات کا خالق ومالک اور مدبر و متصرف صرف وہی ہے اسلئے عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے، اور دعوۃ کے معنی کلمہ کے بھی ہیں جیسا کہ مفسر علام نے صراحت کی ہے۔ اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو مدد کیلئے پکارتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کنویں کی مَنْ (کنارے) پر کھڑا ہو کر اور دونوں ہاتھ پھیلا کر پانی سے کہے کہ اے پانی تو میرے منہ تک آجا ! ظاہر بات ہے کہ پانی جامد اور لاشعور چیز ہے اسے یہ پتہ ہی نہیں کہ ہاتھ پھیلانے والا پیاسا ہے اور نہ اسے یہ پتہ کہ یہ ہاتھ پھیلانے والا مجھ سے اپنے منہ تک پہنچنے کا مطالبہ کر رہا ہے، اور نہ اس میں یہ قدرت کہ اپنی جگہ سے حرکت کرکے اس کے منہ تک پہنچ جائے، اسی طرح یہ مشرک اللہ کے سوا جن بتوں کو پکارتے ہیں انھیں نہ یہ پتہ کہ کوئی انھیں پکار رہا ہے اور اس کی فلاں حاجت ہے اور نہ اس حاجت روائی کی ان میں قدرت ہی ہے۔ انزل من السماء۔۔۔ بقدرھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تشبیہ و تمثیل کے پیدایہ میں حق و باطل کی حقیقت واضح کی ہے سورة بقرہ کے آغاز میں بھی منافقین کیلئے مثالیں بیان فرمائی ہیں، مثال سے مقصد بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرانا ہے۔ حق و باطل کی مثال : اس آیت میں مذکورہ مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ نزول قرآن کو جو ہدایت اور بیان جامع ہے بارش کے نزول سے تشبیہ دی ہے، اسلئے کہ قرآن کا نفع بھی بارش کے نفع کی طرح عام ہے اور وادیوں کو دل سے تشبیہ دی ہے اسلئے کہ بارش کا پانی وادیوں اور ندی نالوں میں جاکر جمع ہوتا ہے اور بقدر وسعت پانی لے کر رواں ہوجاتا ہے جس طرح قرآن مومنوں کے دلوں میں قرار پکڑتا ہے۔ دونوں مثالوں کا حاصل یہ ہے کہ جیسا ان مثالوں میں میل کچیل برائے چندے (وقتی طور پر) اصلی چیز کے اوپر چڑھا ہوا نظر آتا ہے لیکن انجام کار وہ پھینک دیا جاتا ہے اور اصلی چیز رہ جاتی ہے اسی طرح باطل گو چند روز حق کے اوپر نظر آئے لیکن آخر کار باطل محو اور مغلوب ہوجاتا ہے اور حق باقی اور ثابت رہتا ہے۔ اسی طرح جب سونے چاندی وغیرہ کو بھٹی میں تپایا جاتا ہے تو میل کچیل اوپر آکر اچھل کود شروع کردیتا اور بڑی شان کے ساتھ کچھ دیر کیلئے اصل دھات پر چڑھ جاتا ہے اور سطح پر وہی نظر آتا ہے مگر کچھ ہی دیر کے بعد کوڑے دان کی نذر ہوجاتا ہے، اسی طرح بظاہر کچھ دیر کیلئے حق کو مغلوب کرلیتا ہے مگر کچھ مدت کے بعد حق باطل سے اس طرح ٹکراتا ہے کہ باطل کا بھیجہ پاش پاش کردیتا ہے۔ اولئک لھم سوء الحساب، بری حساب فہمی یا سخت حساب فہمی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی خطاء اور کسی لغزش کو معاف نہ کیا جائے اور ہر قصور پر مواخذہ کیا جائے۔ قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کا محاسبہ اپنے ان بندوں سے کرے گا جو اس کے باغی بن کر دنیا میں رہے ہیں، بخلاف انکے جنہوں نے اپنے خدا سے وفاداری کی ہے ان سے حساب یسیر یعنی ہلکا حساب لیا جائیگا، اور ان کی خدمات کے مقابلہ میں انکی خطاؤں کو درگذر کیا جائیگا اور ان کے مجموعی طرز عمل کی بھلائی کو ملحوظ رکھ کر ان کی بہت سی کوتاہیوں سے صرف نظر کرلیا جائیگا اس کی مزید توضیح اس حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت عائشہ ؓ سے ابوداؤد میں مروی ہے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے نزدیک کتاب اللہ میں سب سے زیادہ خوفناک آیت وہ ہے جس میں ارشاد ہے ” منیعمل سوءًا یجزبہ “ جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کی سزا پائیگا، اس پر حضور نے فرمایا، عائشہ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کے مطیع و فرمانبردار بندے کو دنیا میں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی کانٹا بھی اس کو چبھتا ہے تو اللہ اسے اس کے کسی قصور کی سزا قرار دیکر دنیا ہی میں اس کا حساب صاف کردیتا ہے، آخرت میں تو جس سے بھی محاسبہ ہوگا وہ سزاپا کر رہے گا، حضرت عائشہ نے عرض کیا پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے ؟ ” فَامَّا مَنْ اُوْتِیَ کتابہ بیمینہٖ فَسَوْفَ یُحاسبُ حِسَابًا یَسِیْرًا “ جس کا اعمال نامہ اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائیگا اس سے ہلکا حساب لیا جائیگا، حضور نے جواب دیا اس سے مراد صرف پیشی ہے مگر جس سے باز پرس ہوئی وہ تو مارا گیا۔
Ayahs 13:19–26

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کا جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) جو ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہونگے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے انکے پاس آئینگے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اسکو توڑ ڈالتے اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے۔ اور انکے لئے گھر بھی برا ہے

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ اور (کافر لوگ) دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں۔ اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے۔

آیت نمبر 19 تا 26 ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور وہ (جس کا حکم دیا ہے) ایمان لانا ہے اور صلہ رحمی کرنا ہے وغیرہ وغیرہ، اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں یعنی اس کی وعید سے، اور برے حساب سے ڈرتے ہیں (اس جیسی آیت) سابق میں گذر چکی ہے، اور وہ اپنے رب کی رضا مندی کی طلب کیلئے نہ کہ دنیاوی کسی غرض کیلئے طاعت پر اور مصیبت پر اور معصیت سے باز رہنے پر صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے طاعت میں ظاہر اور پوشیدہ طور پر خرچ کرتے ہیں، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں مثلاً جہل کو بربادی سے اور تکلیف کو صبر سے یہی تو ہیں وہ جن کیلئے آخرت کا گھر ہے، یعنی دار آخرت میں اچھا انجام وہ جنت ہے جس میں وہ مقیم رہیں گے جہاں وہ خود بھی جائیں گے اور ان کے آباء اور ازواج اور اولاد میں سے جو ایمان لائے ہوں گے وہ بھی جائیں گے اگرچہ انہوں نے ان کے جیسا عمل نہ کیا ہو وہ بھی ان ہی کے درجوں میں ہوں گے اور یہ ان کے اکرام کے طور پر ہوگا، اور فرشتے ان کے پاس جنت کے پر دروازہ سے آئیں گے یا محفلوں کے ہر دروازہ سے آئیں گے، فرشتوں کا دخول اوّلی مبارکبادی کیلئے ہوگا وہ کہیں گے تمہارے اوپر سلامتی ہو یہ اجر وثواب تم کو اس صبر کے بدلے میں ہے کہ جو تم نے دنیا میں کیا، کیا ہی اچھا بدلہ ہے تمہارے لئے دار آخرت کا اور جو لوگ اللہ کے عہد کو اس کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اسے توڑتے ہیں، اور کفر و معاصی کے ذریعہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے اوپر لعنت ہے (یعنی) اللہ کی رحمت سے دوری ہے، اور ان کیلئے براگھر ہے، یعنی آخرت میں ان کیلئے برا انجام ہے اور وہ جہنم ہے، اللہ جس کی روزی چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے گھٹا دیتا ہے اور اہل مکہ تو دنیوی زندگی میں اترا کر مست ہوگئے، یعنی اس پر جو ان کو دنیوی زندگی میں حاصل ہوا اور دنیوی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں نہایت حقیر پونجی ہے، اس سے استفادہ کرتا ہے اور (پھر) چھوڑ کر (دنیا سے) رخصت ہوجاتا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اَفَمَنْ یَعْلَمُ ہمزہ فعل محذوف پر داخل ہے اور فاء عاطفہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے أیَسْتوی المؤمن والکافر فمن یعلم الخ۔ قولہ : لا اس میں اشارہ ہے کہ استفہام انکاری بمعنی نفی ہے۔ قولہ : اُولٰئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدار یہ جملہ الذین صبروا مبتداء کی خبر ہے۔ قولہ : ھِیَ اس میں اشارہ ہے کہ جنّٰتُ عدنٍ مبتداء محذوف کی خبر ہے نہ کہ عُقْبَی الدار سے بدل جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے قولہ : یدخلوانَھا ھم۔ سوال : ھم مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : تاکہ مَنْ صَلحَ کا عطف یدخلونھا کی ضمیر پر درست ہوجائے، اسلئے کی ضمیر مرفوع متصل پر عطف کیلئے ضمیر منفصل کے ذریعہ تاکید لانا ضروری ہوتا ہے۔ قولہ : یقولون، یقولون کو مقدر مانا تاکہ کلام مربوط منظم ہوجائے۔ قولہ : بما نالوا فیھا، یعنی دنیوی زندگی تو ہر شخص کو حاصل ہے نفس زندگی پر اترانا مراد نہیں ہے بلکہ دنیاوی زندگی میں ان کو جو کچھ حاصل ہوا اس پر اترانا اور بےجا فخر کرنا مراد ہے۔ تفسیر و تشریح افمن یعلم۔۔۔ الخ یعنی ایک وہ شخص جو قرآن کی حقانیت اور صداقت پر یقین رکھتا ہو اور دوسرا اندھا ہو یعنی اسے قرآن کی صداقت میں شک ہو، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ استفہام انکار کیلئے ہے یعنی یہ اسی طرح برابر نہیں ہوسکتے جس طرح جھاگ پانی کے، اور سونا چاندی اور ان کا میل کچیل برابر نہیں ہوسکتے۔ اور جن کے پاس عقل سلیم اور قلب صحیح نہ ہو اور انہوں نے اپنے دلوں کو گناہوں کی کثافت سے آلودہ اور اپنی عقلوں کو خراب کرلیا ہو وہ اس قرآن سے نصیحت حاصل نہیں کرسکتے، الذین یؤمنون بعھد اللہ الخ یہ اہل دانش کی صفات بیان کی جارہی ہیں۔ سوال : اللہ کے عہد سے کیا مراد ہے۔ جواب : اللہ کے عہد سے مراد اس کے احکام (اوامرو نواہی) ہیں جنہیں وہ نجالاتے ہیں، یا وہ عہد ہے جو عہد الست کہلاتا ہے، اور عہد و پیمان میں وہ قول وقرار بھی داخل ہیں جنہیں لوگ آپس میں کرتے ہیں۔ اور اہل دانش کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کسی سے بھی کئے گئے عہد و میثاق کی خلاف ورزی نہیں کرتے ان میں وہ عہد و پیمان بھی شامل ہیں جو اللہ سے کئے ہیں اور وہ بھی جو اللہ کے رسول کیلئے ہوں اور آپسی عہد و معاہدے بھی۔ والذین یصلون۔۔۔ الخ یعنی رشتوں اور قرابتوں کو توڑتے نہیں ہیں بلکہ ان کو جوڑتے اور قائم رکھتے ہیں مشہور تفسیر تو یہی ہے کہ رشتہ داری کے تعلقات کو قائم رکھتے ہیں اور ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل صالح کرتے ہیں یا آنحضرت ﷺ اور قرآن پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ پچھلے انبیاء اور ان کی کتابوں پر ایمان کو ملا دیتے ہیں۔ (معارف) اللہ کی نافرمانیوں اور گناہوں سے بچتے ہیں تکلیفوں اور آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں، اور حدود اللہ سے تجاوز کرکے من مانی زندگی بسر نہیں کرتے، اور جب خرچ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اپنوں اور بیگانوں میں امتیاز کئے بغیر علانیہ اور پوشیدہ طور پر خرچ کرتے ہیں اور اگر کوئی انکے ساتھ برائی سے پیش آتا ہے وہ بھلائی سے پیش آتے ہیں یا عفو درگذر اور صبر جمیل سے کام لیتے ہیں یدخلونھا۔۔۔ (الآیۃ) یعنی اس طرح اللہ تعالیٰ قرابتداروں کو جمع کر دے گا تاکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں حتی کے ادنی درجہ کے جنتی کو اعلی درجہ عطا فرما دے گا تاکہ وہ اپنے قرابتداروں کے ساتھ جمع ہوجائیں اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نیک رشتہ داروں کو جمع فرما دے گا اور جس کے پاس ایمان کو پونجی نہیں ہوگی وہ جنت میں نہیں جائیگا خواہ وہ جنتی کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔