13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 13:27–31

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور جو (اسکی طرف) رجوع ہوتا ہے اسکو اپنی طرف کا راستہ دکھاتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو ۔ اور یہ لوگ رحمن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بیشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔

آیت نمبر 27 تا 31 ترجمہ : اور اہل مکہ میں سے کافر کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) عصا اور ید بیضاء اور ناقۂ صالح جیسی کیوں نہیں اتاری ہوگئی ؟ ان سے کہہ دو کہ اللہ جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اس کو بےراہ کردیتے ہیں نشانیاں (معجزات) اس کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتے، اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور مَنْ سے اَلَّذِیْن آمنوا، بدل ہے، جو لوگ ایمان لائے ان کے قلوب اللہ کے ذکر یعنی اس کے وعدہ سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی مومنوں کے دلوں کو تسلی ہوتی ہے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان کیلئے خوشحالی ہے اور بہترین ٹھکانہ ہے (اَلَّذِیْنَ آمنوا) مبتداء ہے اور (طوبیٰ ) اس کی خبر ہے (طوبیٰ ) الطیب سے مصدر ہے یا جنت میں ایسا درخت ہے کہ (گھوڑ) سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا تب بھی اس کی مسافت طے نہ کرسکے گا، یعنی جس طرح آپ سے پہلے ہم نے انبیاء بھیجے اسی طرح ہم نے آپ کو ایسی امت میں بھیجا ہے کہ جس سے پہلے بہت سی امتیں گذر چکی ہیں تاکہ آپ ﷺ ان کو وہ قرآن پڑھ کر سنائیں جس کو ہم نے آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجا ہے، یہ رحمن کے منکر ہیں اسلئے کہ جب ان سے کہا گیا کہ رحمن کو سجدہ کرو، انہوں نے کہا رحمن کیا چیز ہے ؟ آپ کہئے کہ میرا پروردگار تو وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے، اور (آئندہ آیت اس وقت) نازل ہوئی کہ جب کفار مکہ نے آپ ﷺ سے کہا اگر تم نبی ہو تو مکہ کے پہاڑوں کو ہمارے لئے مکہ میں نہریں اور چشمے جاری کردو، تاکہ ہم درخت لگائیں اور کھیتی کریں اور ہمارے مردہ آباء و اجداد کو زندہ کردو تاکہ وہ ہمیں بتائیں کہ تم اللہ کے نبی ہو، اور اگر بالفرض کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ جس کے ذریعہ پہاڑ اپنی جگہ سے منتقل کر دئیے جاتے یا زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاتے یا اس کے ذریعہ مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں بایں طور کہ ان کو زندہ کردیا جاتا، تو پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے، بلکہ پورا اختیار اللہ ہی کو ہے نہ کہ کسی اور کو، تو بھی کوئی ایمان نہ لاتا مگر وہی جس کے ایمان کو اللہ چاہتا نہ کہ دوسرا، اگرچہ ان کی مطلوبہ نشانیاں دکھا دی جاتیں، اور (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جبکہ صحابہ نے اہل مکہ کے ایمان کی خواہش کرتے ہوئے ان کی مطلوبہ نشانیوں کو ظاہر کرنے کی تمنا کی تو کیا ایمان والے اس بات کو نہیں جانتے کہ بات یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو بغیر نشانی کے سب لوگوں کو ایمان کی ہدایت دیدیتا اور کافروں (یعنی) اہل مکہ پر ان کے کرتوتوں یعنی کفر کی بدولت مختلف قسم کے ایسے حوادث مسلسل پہنچتے رہیں گے جو ان کو جھنجھوڑتے رہیں گے مثلاً قتل اور قید اور جنگ اور خشک سالی اے محمد آپ اپنے لشکر کے ساتھ مکہ کے قریب (حدیبیہ میں) نزول فرمائیں گے یہاں تک ان کے خلاف اللہ کا نصرت کا وعدہ آجائے یقیناً اللہ (اپنے) وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور آپ نے حدیبیہ میں نزول فرمایا یہاں تک کہ مکہ کی فتح آگئی۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیر فوائد قولہ : ھَلاَّ ، لَوْلا کی تفسیر ھَلاَّ سے کرکے اشارہ کردیا کہ لولا تحضیضیہ ہے۔ قولہ : ویبدل مِنْ مَنْ یعنی مَنْ انابَ سے اَلَّذِیْنَ آمنوا الخ جملہ ہو کر بدل الکل ہے۔ قولہ : الذین آمنوا میں ترکیب کے اعتبار سے پانچ صورتیں ہوسکتی ہیں (1) الّذین آمنوا مبتداء اور بعد میں آنے والا اَلَّذِیْنَ آمنوا جملہ ہو کر اس کی خبر اور درمیان میں وتطمئنُّ قلوبھم بذکر اللہ، جملہ معترضہ، (2) الَّذِیْنَ آمنوا، مَنْ اناب سے بدل الکل، (3) اَلَّذِیْنَ آمنوا، مَنْ کا عطف بیان ہو، (4) مبتداء محذوف کی خبر ہو، ای ھم الذین آمنوا (5) فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہو ای امْدَحُ الَّذِیْنَ آمنوا۔ اس لئے قولہ : ای وعدہ، ذکر اللہ کی تفسیر وعدہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں عام بول کر خاص مراد ہے ورنہ ذکر اللہ اور وعید دونوں کو شامل ہے اور وعید سے قلوب مطمئن ہونے کے بجائے مضطرب ہوتے ہیں مفسر علام نے وعدہ سے اسی سوال کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : طوبیٰ ، خوش حالی، جنت کے درخت کا نام، علامہ آلوسی نے طوبی کو طاب یطیب (ض) کا مصدر بتایا ہے جیسا کہ بشریٰ ، زُلفیٰ اور یاء ساکن اپنے ماقبل ضمہ ہونے کی وجہ سے واؤ سے بدلی ہوئی ہے اصل میں طیبیٰ تھا۔ قولہ : فَسَیّر عنا، ای سیّر بقراء تِکَ عنا جبالَ مکۃ . قولہ : شُقِّقَتْ یعنی آپ کی قراءت کی وجہ سے زمین شق ہو کر اس میں چشمے اور نہریں جاری ہوجاتیں، اور بعض نے کہا ہے قطعت کا مطلب ہے قرآن کے ذریعہ طیّ الارض یعنی سرعت کے ساتھ آناً فاناً مسافت طے ہوجایا کرے۔ قولہ : لَمَا آمنوا یہ لَوْ کا جواب ہے جو کہ محذوف ہے۔ قولہ : لا بغیرہ اس میں اشارہ ہے کہ للہ الامر جمیعا، اصل عبارت ہے الامر جمیعا للہ جار مجرور کو اختصاص کے لئے مقدم کردیا جس کو مفسر علام نے لابغیرہ کہہ کر ظاہر کردیا ہے۔ قولہ : یعلم، یَیْئَس کی تفسیر یعلم سے کی ہے یعنی لم یَیْئَسو کی تفسیر لم یعلموا سے لغت بنی نخع یا ہوازن کے مطابق ہے اور یا یأس کے علم کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے کی ہے اسلئے کہ جو شخص مایوس ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ کام ہونے والا نہیں ہے۔ قولہ : بصنعھم ما صنعوا کی تفسیر بصنعھم سے کرکے اشارہ کردیا کہ ما، مصدریہ ہے نہ کہ موصولہ، لہٰذا عدم عائد کا اعتراض واقع نہ ہوگا قولہ : الدّاھیۃ، الامر العظیم۔ تفسیر و تشریح ویقول الذین کفروا یعنی یہ مشرکین مکہ ازراہ طعن وعناد کہتے تھے کہ یہ صاحب جو مدعی نبوت پیدا ہوئے ہیں آخر اپنے خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ ہماری پسند کا کیوں نہیں لا دیتے ؟ الذین۔۔۔۔ بذکر اللہ، ذکر اللہ سے مراد توحید کا بیان ہے جس سے مومنوں کے دلوں میں انشراح اور کافروں کے دل میں انقیاض پیدا ہوتا ہے یا خدا کی بندگی، تلاوت قرآن، نوافل اور دعاء و مناجات مراد ہیں جو اہل ایمان کے دلوں کی خوراک ہے، یا اس کے احکام و فرامین کی بجا آوری مراد ہے جس کے بغیر اہل ایمان وتقویٰ بےقرار رہتے ہیں، یعنی ذکر الٰہی کی خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ انسان کے قلب کو غیر اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے الجھاوے سے بچا دیتا ہے، اور شرک سے جو انتشار ذہنی پیدا ہوتا ہے یقیناً توحید اس کیلئے تریاق کا کام دیتی ہے، البتہ اس اطمینان کے بھی مختلف درجے ہیں جس درجہ کا ذکر الٰہی ہوتا ہے اسی نسبت سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔ ذکر الٰہی کے آثار میں سے ایک اثر خوف و خشیت کا ہے ” اِذَا ذکر اللہ وجلت قلوبھم “ لیکن یہ ماسوا کی طرف سے اطمینان اور فراغت، خوف خدا کے منافی بالکل نہیں بلکہ یہ دونوں کیفیتیں تو عین ایک دوسرے کی متمم اور مکمل ہیں۔ کذالک۔۔۔۔ الخ جس طرح ہم نے آپ کو تبلیغ رسالت کیلئے بھیجا ہے اسی طرح پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے تھے، ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی تھی اور جس طرح تکذیب کے نتیجہ میں وہ قومیں عذاب الٰہی سے دو چار ہوئیں انہیں بھی اس انجام سے بےفکر نہیں رہنا چاہیے۔ مشرکین مکہ ” رحمن “ کے لفظ سے بہت بدکتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ لکھے گئے تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ رحمن اور رحیم کیا ہے ؟ ہم نہیں جانتے۔ (ابن کثیر) شان نزول : لوأن۔۔۔۔ الخ مشرکین مکہ نے یہود کی تعلیم و ترغیب سے اس قسم کی فرمائشیں کی تھیں کہ دعویٰ تو پیغمبری کا ہے مگر داؤد (علیہ السلام) پیغمبر کی طرح پہاڑوں کی تسخیر کا تماشا کیوں نہیں دکھا دیتے، یا سلیمان (علیہ السلام) بن داؤد کی طرح ہوا کے دوش پر سفر کیوں نہیں کرواتے یا عیسیٰ نبی اللہ کی طرح مردوں سے کیوں گفتگو نہیں کرا دیتے۔ مذکورہ آیت ان ہی بیہودہ فرمائشوں کے جواب میں نازل ہوئی، تفسیر بغوی میں اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ مشرکین مکہ جن میں ابوجہل بن ہشام اور عبد اللہ بن امیہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں، ایک روز بیت اللہ کے پیچھے جاکر بیٹھ گئے اور عبد اللہ بن امیہ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، اس نے کہا اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ قوم اور ہم سب آپ کے رسول ہونے کو تسلیم کرلیں تو ہمارے چند مطالبات ہیں اپنے قرآن کے ذریعہ ان کو پورا کر دیجئے تو ہم سب اسلام قبول کرلیں گے۔ مطالبات میں ایک تو یہ تھا کہ شہر مکہ کی زمین بڑی تنگ ہے چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے اور زمین بھی سنگ لاخ ہے جس میں نہ کاشت و زراعت کی گنجائش نہ باغات کی اور دوسری ضروریات کی، آپ معجزے کے ذریعہ ان پہاڑوں کو دور ہٹا دیجئے، تاکہ مکہ کی زمین کشادہ ہوجائے آخر آپ کے کہنے کے مطابق داؤد (علیہ السلام) کیلئے پہاڑ مسخر کر دئیے گئے تھے، اور داؤد (علیہ السلام) تسبیح پڑھتے تو پہاڑ بھی تسبیح پڑھتے، آپ بقول خود اللہ کے نزدیک داؤد (علیہ السلام) سے کم تو نہیں ہیں۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ جس طرح سلیمان (علیہ السلام) کیلئے آپ کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہوا کو مسخر کرکے زمین کے بڑے بڑے فاصلوں کو مختصر کردیا تھا آپ بھی ہمارے لئے ایسا ہی کردیں کہ ہمارے لئے شام و یمن وغیرہ کے سفر آسان ہوجائیں۔ تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کردیتے تھے آپ ان سے کچھ کم تو ہیں نہیں آپ بھی ہمارے لئے ہمارے دار قصی کو زندہ کر دیجئے تاکہ ہم ان سے یہ دریافت کرسکیں کہ آپ کا دین سچا ہے یا نہیں۔ (معارف، مظھری، بحوالہ بغوی وابن ابی حاتم وابن مردویہ) آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر قرآن کے ذریعہ بطور معجزہ ان کے یہ مطالبات پورے کرا دئیے جائیں تب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں، رسول اللہ ﷺ کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہوجانا، پہاڑوں کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے اور تسخیر ہوا سے کہیں زیادہ حیرت انگیز ہے، اسی طرح بےجان کنکریوں کا آپ کے دست مبارک میں بولنا اور تسبیح کرنا کسی مردہ انسان کے دوبارہ زندہ ہو کر بولنے سے کہیں زیادہ عظیم معجزہ ہے، لیلۃ المعراج میں مسجد اقصی اور وہاں سے آسمانوں کا سفر اور بہت مختصر وقت میں واپسی تسخیر ہوا اور تخت سلیمانی کے اعجاز سے بہت زیادہ عظیم ہے مگر یہ ظالم یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی جب ایمان نہ لائے تو اب ان مطالبات سے بھی ان کی نیت محض دفع الوقتی معلوم ہوتی ہے اسلئے کہ جب ہمارے مطالبہ معجزے پیش نہ کئے جائیں گے تو ہمیں یہ کہنے کا موقع مل جائیگا کہ یہ اللہ کے نبی نہیں ہیں اسلئے کہ اگر یہ اللہ کے سچے نبی ہوتے تو ہمارے مطلوبہ معجزے دکھا دیتے۔ افلم یا یئس۔۔۔۔ الخ امام بغوی نے نقل کیا ہے کہ صحابۂ کرام نے جب مشرکین کے یہ مطالبات سنے تو یہ تمنا کرنے لگے کہ بطور معجزہ کے یہ مطالبات پورے کر دئیے جائیں تو بہتر ہے سارے مکہ والے مسلمان ہوجائیں گے، اور اسلام کو بڑی قوت حاصل ہوجائے گی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ کیا اہل ایمان ان مشرکوں کی حیلہ جوئی اور معاندانہ بحثوں کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود اب تک ان کے ایمان لانے سے مایوس نہیں ہوئے ہیں کہ ایسی تمنا کرنے لگے جبکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب ہی انسانوں کو ایسی ہدایت دیدیتا کہ وہ ایمان لائے بغیر نہ رہ سکتے مگر حکمت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ سب کو ایمان و اسلام پر مجبور کردیا جائے بلکہ حکمت یہی تھی کہ ہر شخص کا اپنا اختیار باقی رہے اپنے اختیار سے اسلام کو پسند کرے یا کفر کو۔ ولا یزال۔۔۔ الخ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قارعۃ کے معنی مصیبت اور آفت کے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کے مطلوبہ معجزے اس لئے پورے نہیں کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مطلوبہ معجزے دیکھنے کے بعد بھی یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے، تو اللہ کے نزدیک یہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان پر دنیا میں بھی آفتیں اور مصیبتیں آئیں جیسا کہ اہل مکہ پر کبھی قحط کی مصیبت آئی اور کبھی اسلامی غزوات، بدر وغیرہ میں ان کے قتل و قید ہونے کی آفت نازل ہوئی، کسی پر بجلی گری اور کوئی کسی بلا میں مبتلا ہوا۔ (معارف)
Ayahs 13:32–37

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا ؟

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہبان) ہے (وہ بتوں کی طرح) بےعلم و بیخبر ہوسکتا ہے ؟ اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) انکے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا ؟ یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو ؟ ) اصل بات یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لئے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنیوالا نہیں۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت سی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اسکے ساتھ (کسی کو) شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مدرگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

آیت نمبر 32 تا 37 ترجمہ : یقیناً آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کا مذاق اڑایا گیا جیسا کہ آپ کا مذاق اڑایا گیا، اور یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے، تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے ان کو سزا میں پکڑ لیا پس میرا عذاب کیسا رہا یعنی وہ اپنے محل میں واقع ہوا، تو میں ہر اس شخص کے ساتھ ایسا ہی کروں گا جو آپ کا مذاق اڑائیگا، کیا وہ ذات جو ہر متنفس کے اچھے برے عمل کی نگراں ہے اور وہ اللہ ہے، اس کے مانند ہوگا کہ جو ایسا نہیں ہے کہ وہ بت ہیں نہیں، اس (حذف جواب) پر وَجَعَلُوا للہ الخ دلالت کر رہا ہے، آپ ان سے کہئے کہ ان کے نام تو بتاؤ وہ کون ہیں ؟ بلکہ تم اللہ کو اس کے شریک کی خبر دے رہے رہو جس کو وہ زمین میں نہیں جانتا، استفہام انکاری ہے یعنی اس کا کوئی شریک نہیں اسلئے کہ اگر (شریک) ہوتا تو وہ اس کے علم میں ہوتا، اللہ تعالیٰ اس سے برتر ہے، یا تم نے یوں ہی یہ بات گمان باطل سے کہی ہے کہ واقع میں اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کیلئے ان کے مکر کو یعنی کفر کو آراستہ کردیا گیا ہے، اور ان کو راہ ہدایت سے روکدیا گیا ہے اور اللہ جس کو گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ان کیلئے دنیوی زندگی میں قتل و قید کا عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے بہت ہی زیادہ سخت ہے اور انھیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں اس جنت کی صفت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے، (الجنۃ التی الخ) مبتداء ہے اس کی خبر محذوف ہے، اور وہ فیما نقصُّ علیکم ہے، اس میں نہریں جاری ہوں گی اور اس کے پھل دائمی ہوں گے (یعنی) جنت کے ماکولات دائمی ہوں گے وہ کبھی فنا نہ ہوں گے اور اس کا سایہ بھی دائمی ہوگا، اس کو سورج ختم نہ کرسکے گا، اس لئے جنت میں سورج نہیں ہوگا یہ یعنی جنت ان لوگوں کا انجام ہوگا جو شرک سے بچتے رہے ہوں گے اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگی اور وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے جیسا کہ عبد اللہ بن سلام مومنین یہود میں سے اس سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا جاتا ہے اسکے مطابق ہونے کی وجہ سے جو ان کے پاس ہے اور یہود و مشرکین کے کچھ گروہ جو دشمنی کی وجہ سے متحدہ محاذ بنا کر آپ پر حملہ آور ہوئے وہ ہیں جو قرآن کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں اور قصوں کے علاوہ (احکام) کا انکار کرتے ہیں آپ اعلانیہ کہہ دیجئے کہ جو چیز مجھ پر نازل کی گئی ہے مجھے تو اس میں حکم دیا گیا ہے کہ میں (صرف) اللہ کی بندگی کروں اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں، میں اسی کی طرف بلا رہا ہوں، اور اسی کی طرف میرا ٹھکانہ ہے اور اسی طرح ہم نے قرآن کو عربی کا فرمان بنا کر عربی زبان میں نازل کیا تاکہ آپ اسکے ذریعہ لوگوں کے درمیان فیصلے کریں، اور اگر آپ کے پاس توحید کا علم آنے کے بعد آپ نے کفار کی خواہشات کی بالفرض اگر ان باتوں میں جسکی طرف وہ آپ کو دعوت دے رہے ہیں اتباع کرلی تو اللہ کی جانب سے نہ آپ کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ اس کے عذاب سے کوئی بچانے والا، مِن زائدہ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : کیف کان عقاب ، ای عَلیٰ ایِّ حالَۃٍ کان عقابی ؟ ھل کان ظلماً لَھُمْ او کان عَدْلاً ؟ یعنی میرا عقاب ظالمانہ رہا یا عادلانہ، اس کا جواب شارح نے اپنے قول ” ھُوَ واقعٌ موقِعہٗ “ سے دیدیا۔ قولہ : کمن لَیسَ کذلک یہ أفَمَنْ ھو قائمٌ متداء کی خبر محذوف ہے، قرینۂ مقابلہ سے چونکہ خبر کا حذف مفہوم ہے اسلئے کلام بےفائدہ ہونے کا اعتراض نہیں ہوگا۔ قولہ : دَلّ علیٰ ھذا، یعنی مذکور پر وَجَعَلوا للہ شرکاء دلالت کر رہا ہے اور مذکورہ سے مراد استفہام کا انکاری ہونا اور خبر محذوف پر دلالت کا ہونا، یعنی اجعلوا الخ دونوں باتوں پر دلالت کر رہا ہے۔ قولہ : مثل جنۃ التی وُعِدَ المتقون جملہ ہو کر مبتداء اس کی خبر محذوف ہے اور وہ فیما نقص علیکم ہے تجری من تحتھا الانھارُ ضمیر محذوف سے حال ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، ” مَثَلُ الجنۃ التی وُعِدَھَا المتقون تجری من تحتھا الانھٰرُ ۔ قولہ : اُکُلُھا دَائمٌ، وظلُّھا دائمٌ، یہ دونوں جملے بھی مبتداء خبر ہو کر حال ہیں، اور ظِلُّھا مبتداء کی خبر دائمٌ ماقبل کے قرینہ کی وجہ سے محذوف ہے۔ قولہ : مایوکل فیھا۔ سوال : اُکُلُھا کی تفسیر ما یوکل سے کس مقصد سے کی ہے۔ جواب : اس کا مقصد دو اعتراضوں کو دفع کرنا ہے، (1) اگر اُکُلُھا کو مصدر مانا جائے تو دائمٌ کا حمل اس پر درست نہیں اور اگر اُکُلٌ بمعنی ما کولٌ لیا جائے تو ماکول تو کھانے کے بعد معدوم ہوجاتا ہے لہٰذا دوام کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ جواب : اُکُلٌ سے مراد ما مِنْ شانہ اَنْ یوکل ہے اس تفسیر سے دونوں اعتراض ختم ہوگئے۔ قولہ : فیھا، اس میں اشارہ ہے کہ اُکُلُھا میں اضافت بمعنی فی ہے اور یہ اسناد مجازی ہے، اور اس میں علاقہ ظرفیت کا ہے۔ قولہ : حُکمًا عربیًا، یہ دونوں انزلناہ کی ضمیر یعنی قرآن سے حال ہیں حالانکہ حُکْماً اور عربیًا کا قرآن پر حمل درست نہیں ہے۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ حکْمًا مصدر بمعنی مفعول یعنی ما یحکم بہ بین الناس۔ تفسیر و تشریح ولقد استھزی۔۔۔ قبلک، اے محمد ﷺ یہ حالات جو آپ کو درپیش ہیں صرف آپ ہی کو پیش نہیں آئے آپ سے پہلے انبیاء کو بھی اسی قسم کے حالات سے سابقہ پڑتا رہا ہے کہ انبیاء کے ساتھ تمسخر کرتے رہے ہیں مگر مجرموں اور منکروں کی فوراً پکڑ نہیں کی گئی جب حد اور بس ہوگئی اور مجرموں کا جرم انتہاء کو پہنچ گیا تو پھر ان کو عذاب الہٰی نے پکڑ لیا اور کیسا پکڑا ؟ کہ کسی کو اس کے مقابلہ کی تاب نہ رہی۔ حدیث میں آتا ہے ” اِنَّ اللہ لَیُمْلِیْ للظالم حَتٰی اذا اخذَہٗ لَمْ یُفْلِتْہُ “ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دئیے جاتا ہے حتی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں اس کے بعد نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، وکذلک اَخْذُ رَبِّکَ اِذآ اخذ القریٰ وھی ظالمۃ اِنَّ اخذہ الیم شدید “ (سورۂ ھود) اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظالم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے یقیناً اس کی پکڑ بہت الم ناک اور سخت ہے۔ (صحیح بخاری) اَفَمَنْ ۔۔۔ نفس، اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور بےعقلی کو اس طرح واضح فرمایا ہے کہ یہ کیسے بیوقوف ہیں کہ بےجان و بےشعور بتوں کو اس ذات پاک کے برابر ٹھہراتے ہیں جو ہر نفس پر نگراں اور اس کے اعمال و افعال کا محاسبہ کرنے والی ہے، پھر فرمایا کہ اصل سبب اس کا یہ ہے کہ شیطان نے ان کی اس جہالت ہی کو ان کی نظروں میں مزین کررکھا ہے وہ اسی کو بڑا کمال اور کامیابی سمجھتے ہیں۔ (معارف) قل سموھم، لہ ای قل یا محمد ﷺ جَعَلْتُمْ لَہٗ شرکاء فَسَمَّوھم، مَنْ ھم ؟ یعنی اے محمد آپ مشرکوں سے کہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے جو شریک ٹھہرا رکھے ہیں تم ان کا نام تو لو وہ کون ہیں ؟ یعنی ہمیں بھی بتاؤ تاکہ انھیں پہچان سکیں، اسلئے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے یعنی ان کا وجود ہی نہیں ہے اسلئے کہ اگر زمین میں ان کا وجود ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے علم میں تو ضرور ہوتا اس پر تو کوئی شئ مخفی نہیں ہے۔ اہل کتاب صحابہ اور صحابیات کی تعداد : الذین آتیناھم الکتاب، اس آیت میں ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو مشرف باسلام ہو کر اصحاب رسول کی مبارک جماعت میں شامل ہوئے، ان کی تعداد 63 بتائی گئی ہے اور 7 نام کتابیات کے ان کے علاوہ ہیں کل تعداد 70 ہوتی ہے۔ (ماجدی، ملخصاً ) وکذلک انزلناہ۔۔۔ (الآیۃ) جس طرح انبیاء سابقین پر کتابیں ان کی مقامی زبان میں نازل کیں اسی طرح آپ پر قرآن ہم نے عربی زبان میں نازل کیا اس لئے کہ قرآن کے اولین مخاطب عرب ہی ہیں جو صرف عربی زبان ہی جانتے ہیں اگر یہ قرآن کسی اور زبان میں نازل کیا جاتا تو ان کو سمجھ سے بالا ہوتا اور قبول ہدایت میں ان کیلئے عذر بن جاتا ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کرکے ان کا یہ عذر بھی دور کردیا۔ آپ ﷺ کو مشرکین مکہ اور اہل کتاب کی خواہشات کی اتباع کرنے سے منع کیا گیا ہے مثلاً اہل کتاب کی خواہش تھی کہ بیت المقدس کو ہمیشہ کیلئے قبلہ رہنے دیا جائے اور ان کی معتقدات کی مخالفت نہ کی جائے اسی طرح مشرکین کی خواہش تھی کہ ہمارے بتوں کی تنقیص نہ کی جائے بلکہ ان کی شان میں کچھ تو صیفی کلمے فرمائے جائیں، یا یہ کہ ایک سال ہم تمہارے معبود کی بندگی کریں اور ایک سال تم ہمارے معبودوں کی بندگی کرو وغیرہ وغیرہ۔
Ayahs 13:38–43

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی۔ اور کسی پیغمبر کے اخیتار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضاُ (کتاب میں) مرقوم ہے۔

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسکو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے۔ اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی) تمہارے روبرو ان پر نازل کریں۔ یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اسکے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنیوالا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتیری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب اللہ ہی کی ہے۔ ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لئے ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا) کے رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہے۔

آیت نمبر 38 تا 42 ترجمہ : آئندہ آیت اس وقت نال ہوئی کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو کثرت ازواج پر عار دلائی، ہم آپ سے پہلے بھی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے ان میں سے ہر ایک کو بیوی بچوں والا بنایا، اور آپ بھی ان کی مثل ہیں ان میں سے کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے، اس لئے کہ وہ تربیت یافتہ بندے ہیں، ہر دور کیلئے ایک کتاب ہے وہ اسی (دور) کیلئے محدود ہے اللہ جس چیز کو چاہتا ہے اس میں سے مٹا دیتا ہے اور جن احکام وغیرہ کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ام الکتاب (اصل) اسی کے پاس ہے اصل کتاب کہ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کرتا اور وہ وہی ہے جس کو اس نے ازل میں لکھا اور جس عذاب کی دھمکیوں کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے (اِمَّا) میں اِنْ شرطیہ کا ما زائدہ میں ادغام ہے ان میں سے بعض ہم آپ کو دکھادیں (یعنی) آپ کی زندگی ہی میں (ان پر) وہ عذاب آجائے اور جواب شرط محذوف ہے، ای فذاک، یعنی ایسا بھی ہوسکتا ہے، یا ان کو عذاب دینے سے پہلے ہی آپ کو وفات دیدیں آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے اور بس یعنی آپ پر تبلیغ کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور ہمارے ذمہ ان کا حساب ہے جب ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کو بدلہ دیں گے کیا اہل مکہ نہیں دیکھتے کہ ہم نبی ﷺ کو فتح دیکر زمین اس کی اطراف سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کو ٹالنے والا نہیں وہ جلد حساب لینے والا ہے، ان سے پہلے امتوں نے بھی اپنے انبیاء کے ساتھ مکاریاں کی ہیں جیسا کہ آپ کے ساتھ مکاریاں کی ہیں، لیکن تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں اور ان کی تدبیریں اس کی تدبیر جیسی نہیں ہیں، اسلئے کہ اللہ تعالیٰ ہر متنفس کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ کیا کرے گا لہٰذا اس کیلئے اس کی جزاء تیار رکھتا ہے اور یہی اس کی مکمل تدبیر ہے، اسلئے کہ اس کو اس طرح بروئے کارلاتا ہے کہ ان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا، اور کافروں کو عنقریب معلوم ہوجائیگا اور کافر سے مراد جنس کافر ہے، اور ایک قراءت میں (کافر کے بجائے) کفار ہے کہ دار آخرت کس کے لئے ہے (یعنی) دار آخرت میں بہتر انجام کس کا ہے، ان کا یا نبی ﷺ کا اور ان کے اصحاب کا یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں آپ ان سے کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان میری صداقت پر اللہ گواہ کے اعتبار سے کافی ہے اور وہ کہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے (اور وہ) یہود و نصاری میں سے مومنین ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : فَذَاک، مبتداء ہے اور شافیک اس کی خبر محذوف ہے مبتداء خبر سے مل کر جملہ ہو کر (اِمَّا) کا جواب شرط ہے۔ قولہ : نتوفینک بھی شرط سابق پر معطوف ہونے کی وجہ سے شرط ہے اس کا بھی جواب محذوف ہے اور وہ فلا تقصیر منک ہے فانما عَلَیْکَ اس محذوف کی علت ہے شاید مفسر علام نے شرط ثانی کے جواب کے حذف کی طرف اول پر اعتماد کرتے ہوئے یا علت پر اعتماد کرتے ہوئے اشارہ نہیں کیا بخلاف پہلی شرط کے جواب کے کہ اس کی علت بیان نہیں کی گئی۔ قولہ : المراد بہ الجنس۔ سوال : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ الکافر میں الف لام عہد کا ماننے کا تو کوئی قرینہ نہیں ہے اسلئے کہ کوئی متعین و مخصوص کافر مراد نہیں ہے نہ مطلقاً ایک کافر مراد ہے تو پھر الکافر کو مفرد لانے کا کیا مقصد ہے ؟ جواب : الکافر میں الف لام کا ہے جو جمع کے معنی پر مشتمل ہے فلا اعتراض۔ تفسیر و تشریح تمام انبیاء ورسل بشر ہی تھے : ولقد ارسلنا رسلا الخ یعنی مع آپ کے جتنے بھی رسول اور نبی آئے سب بشر ہی تھے جن کا اپنا خاندان تھا، قبیلہ تھا، بیوی بچے تھے، نہ وہ فرشتے تھے نہ انسانی شکل میں کوئی نوری مخلوق بلکہ جنس بشر ہی میں سے تھے، کیونکہ اگر وہ فرشتے ہوتے تو انسانوں کیلئے ان سے مانوس ہونا اور ان سے قریب ہونا ناممکن تھا، جس سے ان کے بھیجنے کا اصل مقصد جو اصلاح و تہذیب ہے فوت ہوجاتا اور اگر وہ فرشتے بشری جامہ میں بشری خصوصیات کے ساتھ ہوتے تو وہی اعتراض ہوتا جواب رہا ہے اور بشری خصوصیات کے بغیر آتے تو نہ ان کا دنیا میں کوئی خاندان ہوتا اور نہ قبیلہ اور نہ ان کے بیوی بچے ہوتے اس صورت میں وہ امت کیلئے نمونہ نہ ہوتے کہ ان کی اقتداء و اطاعت کی جاتی، اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء بحیثیت جنس کے بشر ہی تھے بشری شکل میں فرشتے یا کوئی نوری مخلوق نہیں تھے مذکورہ آیت میں ازواجاً سے رہبانیت کی تردید ہوتی ہے اور ذریۃ سے خاندانی منصوبہ بندی کی تردید ہوتی ہے اسلئے کہ ذریۃ جمع ہے جس کا کم ازکم تین پر اطلاق ہوتا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے متعلق کفار و مشرکین کا عام تصور : کفار و مشرکین کا رسول اور نبی کے متعلق ایک عام تخیل یہ تھا کہ وہ جنس بشر کے علاوہ کوئی دوسری مخلوق مثل فرشتوں کے ہونی چاہیے جس کی وجہ سے عام انسانوں سے ان کی برتری واضح ہوجائے، قرآن کریم نے ان کے اس خیال فاسد کا جواب متعدد آیات میں دیا ہے کہ تم نے نبوت و رسالت کی حقیقت اور حکمت کو ہی نہیں سمجھا، اس لئے تمہارے ذہن میں اس قسم کے واہی خیالات پیدا ہوئے، کیونکہ رسول کو حق تعالیٰ ایک نمونہ بنا کر بھیجتے ہیں کہ امت کے سارے انسان کی پیروی کریں، انہی جیسے اعمال و اخلاق سیکھیں، اور یہ ظاہر ہے کہ انسان اپنے ہم جنس انسان ہی کی پیروی کرسکتا ہے، جو اس کی جنس کا نہ ہو اس کی پیروی انسان سے ناممکن ہے، مثلاً فرشتے کو نہ بھوک لگتی ہے نہ پیاس اور نہ نفسانی خواہشات سے ان کو کوئی واسطہ نہ اس کو نیند آئے نہ اونگھ نہ تکان لاحق ہو نہ کسل اب اگر انسان کو ان کی پیروی کا حکم دیا جاتا تو یہ ان کی قدرت سے زائد تکلیف ہوجاتی۔ آپ ﷺ اور تعداد ازواج : آپ ﷺ کے متعلق بھی لوگوں کو یہی اعتراض اور شبہ ہوا، اور آپ ﷺ کے تعداد ازواج سے ان کا یہ شبہ اور بڑھ گیا، اس کا جواب آیت کے پہلے جملہ میں یہ دیا گیا ہے کہ ایک یا اس سے زائد نکاح کرنے اور بیوی بچوں والا ہونے کو تم نے کس دلیل سے نبوت و رسالت کے منافی سمجھ لیا اللہ تعالیٰ کی تو ابتداء آفرنیش سے یہی سنت رہی ہے کہ اپنے پیغمبروں کو صاحب اولاد بناتے ہیں جتنے انبیاء (علیہ السلام) پہلے گذرے ہیں اور ان میں سے بعض کی نبوت کے تو تم بھی قائل ہو وہ سب متعدد بیویاں رکھتے تھے اور صاحب اولاد تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو باندیاں تھیں : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں آزاد اور سات سو باندیاں تھیں اور ان کے والد حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں اور کثرت ازواج سے ان کی نبوت میں نہ کوئی نقص تھا اور نہ قباحت لہٰذا یہ آپ کی نبوت کیلئے قادح اور عیب کیسے ہوسکتا ہے ؟ آپ ﷺ کی اولاد کی تفصیل : آپ ﷺ کی سات اولاد تھیں چار لڑکیاں اور تین لڑکے ان کی ترتیب اس طرح تھی، سب سے بڑے قاسم ؓ اس کے بعد زینب ؓ پھر رقیہ ؓ ، پھر فاطمہ ؓ پھر کلثوم ؓ اس کے بعد عبد اللہ جن کا لقب طیب و طاہر تھا، ان کے بعد ابراہیم ؓ یہ سب حضرت خدیجہ سے تھے سوائے ابراہیم کے کہ وہ ماریہ قبطیہ سے تھے اور سوائے فاطمہ ؓ کے سب کا انتقال آپ کی حیات ہی میں ہوگیا تھا، البتہ حضرت فاطمہ آپ ﷺ کے انتقال کے بعد چھ ماہ بقید حیات رہیں۔ کفار و مشرکین کے معاندانہ سوالات : ہر زمانہ میں کفار مشرکین اپنے زمانہ کے نبی کے سامنے معاندانہ سوالات پیش کرتے رہے ہیں، آپ ﷺ کے زمانہ کے مشرکین نے آپ سے بھی اسی قسم کے سوالات کئے تھے، ان میں دو سوال بہت عام ہیں ایک یہ کہ اللہ کی کتاب میں ہماری خواہش کے مطابق احکام نازل ہوا کریں جیسا کہ سورة یونس میں ان کا مطالبہ مذکور ہے ” اِئتِ بقرآنٍ غیر ھذا اَوْ بدِّلْہُ “ یعنی یا تو اس موجودہ قرآن کے بجائے بالکل ہی دوسرا قرآن لا دیجئے جس میں ہمارے بتوں کی عبادت کو منع نہ کیا گیا ہو یا پھر آپ اس قرآن میں کچھ ردو بدل اور ترمیم کرکے ان آیتوں کا نکال دیجئے جن سے ہمارے بتوں کی مذمت نکلتی ہے یا جن میں عذاب کی دھمکی دی گئی ہے یعنی حلال کی جگہ حرام اور حرام کی جگہ حلال کر دیجئے۔ موجودہ اعداءِ اسلام کی ذہنیت آج بھی یہی ہے : مغربی صیہونی ذہن میں یہ بات آپ کی بعثت کے روز اول ہی سے کھٹک رہی ہے ان کی طرف سے بار بار مطالبہ ہوتا ہے کہ قرآن سے ان آیتوں کو حذف کردیا جائے جن سے یہودیت اور نصرانیت کی مذمت ثابت ہوتی ہے، مختلف طریقوں سے اس کی ترغیب دی جاتی ہے کبھی مالی لالچ دیا جاتا ہے تو کبھی اقتصادی پابندی کی دھمکی دی جاتی ہے ایسی کوششیں ماضی میں بھی متعدد بار ہوچکی ہیں جو ناکام رہی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی ناکام رہیں گی اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنی کتاب کی حفاظت کا تاکیدی وعدہ فرمایا ہے، حال ہی میں اخبارات کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اپنی مشترکہ کوششوں سے ایک نیا قرآن، ” فرقان الحق “ کے نام سے مشائع کیا ہے جس سے وہ تمام آیتیں جو یہود و نصاری کی مذمت پر دلالت کرتی ہیں نکالدی ہیں، دنیا کا مسلمان صیہونیوں کی اس سازش سے واقف اور باخبر ہے اور ان کے ناپاک عزائم کو ناکام کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ دوسرا مطالبہ نت نئے معجزات طلب کرنے کا ہے کہ اگر فلاں قسم کا معجزہ دکھا دیا جائے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کھلا اعلان ہے کہ کسی نبی یا رسول کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ جب چاہے اور جس طرح کا چاہے معجزہ ظاہر کرسکے۔ لکل اجل کتاب، اجل کے معنی مدت متعینہ کے ہیں اور کتاب اس جگہ مصدر کے معنی میں ہے، یعنی تحریر، معنی یہ ہیں کہ ہر چیز کی میعاد اور مقدار اللہ تعالیٰ کے پاس لکھی ہوئی ہے، اس نے ازل میں لکھ دیا ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت پیدا ہوگا اور اتنے دن زندہ رہے گا، کہاں کہاں جائے گا اور کہاں مرے گا۔ اس طرح یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فلاں زمانہ میں فلاں پیغمبر پر کیا وحی اور کیا احکام نازل ہوں گے اسلئے کہ احکام ہر قوم اور ہر زمانہ کے مناسب آتے ہیں اور یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ فلاں پیغمبر سے فلاں فلاں معجزہ کس کس وقت ظہور پذیر ہوگا کس نبی کی شریعت کتنی مدت کیلئے ہے۔ احکام قرآنی میں محوو اثبات کا مطلب : یمحوا اللہ ما یشاء ویثبتُ وعندہ ام الکتاب، اُمُّ الکتاب کے لفظی معنی ہیں اصل کتاب، مراد اس سے لوح محفوظ ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ آیت کے معنی یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے جس حکم کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اس محو و اثبات کے بعد کچھ مواقع ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے جس پر نہ کسی کی دست رس ہے نہ اس میں کوئی کمی و بیشی ہوسکتی ہے۔ ائمہ تفسیر میں سے حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ وغیرہ نے اس آیت میں محو و اثبات سے احکام کا محو و اثبات مراد لیا ہے اور آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر زمانہ اور ہر قوم کیلئے مختلف رسولوں کے ذریعہ قوموں کے حالات اور زمانوں کے تغیرات کے مناسب احکام بھیجتے ہیں اور قوموں کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق احکام میں بھی محو اثبات کرتے رہتے ہیں اور اصل کتاب بہر حال اس کے پاس محفوظ ہے جس میں محو و اثبات کی پوری تفصیل لکھی ہوئی ہے اور جو احکام شرائط کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں وہ بھی اس میں لکھے ہوتے ہیں، اور کچھ احکام علم الٰہی کے مطابق میعادی ہوتے ہیں مگر ان کو مطلق بیان کیا جاتا ہے جس کو بندہ اپنی لاعلمی کی بنا پر دائمی سمجھ لیتا ہے حالانکہ جب ان کی میعاد پوری ہوجاتی ہے تو وہ حکم ختم ہوجاتا ہے اور بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ مذکورہ آیت کی دوسری تفسیر : سفیان ثوری، وکیع وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی آیک دوسری تفسیر نقل کی ہے جس میں آیت کا تعلق نوشۃ تقدیر سے قرار دیا ہے اور آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ قرآن و حدیث کی تصریحات کے مطابق مخلوقات کی پیدائش سے بھی پہلے لکھ دی ہیں پھر بچہ کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بھی لکھوا دیا جاتا ہے اور ہر سال شب قدر میں اس سال کے اندر پیش آنے والے معاملات کا چٹھا فرشتوں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر فرد مخلوق کی عمر، رزق، حرکات و سکنات سب متعین ہیں اور لکھے ہوئے ہیں مگر اللہ اس نوشۃ تقدیر میں سے جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے، ” وعندہ ام الکتاب “ یعنی اصل کتاب جس کے مطابق محو و اثبات کے بعد انجام کار عمل ہوتا ہے وہ اللہ کے پاس ہے اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ بہت سی احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اعمال سے انسان کی عمر اور رزق بڑھ جاتے ہیں اور بعض سے گھٹ جاتے ہیں، صحیح بخاری میں ہے کہ صلہ رحمی عمر میں زیادتی کا سبب بنتی ہے غرضیکہ اسی قسم کی بہت سی احادیث محو و اثبات پر دلالت کرتی ہیں۔ مذکورہ آیت کے مضمون کا ماحصل یہ ہے کہ کتاب تقدیر میں لکھی ہوئی عمر یا رزق وغیرہ میں ردوبدل کسی عمل یا دعاء کی وجہ سے ہوتا ہے اس سے مراد وہ کتاب تقدیر ہے جو فرشتوں کے ہاتھ یا انکے علم میں ہے اس میں بعض اوقات کوئی حکم کسی شرط پر معلق ہوتا ہے جب وہ شرط نہ پائی جائے تو وہ حکم بھی نہیں پایا جاتا یہ تقدیر معلق کہلاتی ہے جس میں اس آیت کی تصریح کے مطابق محو و اثبات ہوتا رہتا ہے لیکن آیت کے آخری جملہ میں ” ومَن عندہ علم الکتاب “ نے بتلا دیا کہ اس تقدیر معلق کے اوپر ایک تقدیر مبرم ہے، جو ام الکتاب میں لکھی ہوئی اللہ کے پاس ہے وہ صرف علم الہٰی کیلئے مخصوص ہے اس میں وہ احکام لکھے جاتے ہیں جو شرائط اعمال یا دعاء کے بعد آخری نتیجہ کے طور پر ہوتے ہیں اسی لئے وہ محو و اثبات اور کمی بیشی سے بالکل پاک ہے۔ (ابن کثیر، معارف) واما نرینک۔۔۔۔ نتوفینک، اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دینے اور مطمئن کرنے کیلئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے ہیں کہ اسلام کی مکمل فتح ہوگی اور کفر اور کافر ذلیل ہوں گے یہ تو ہو کر رہے گا مگر آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ فتح مکمل کب ہوگی، ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ہو، اور آپ کے اطمینان کیلئے تو اتنا کافی ہے آپ برابر دیکھ رہے ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے برابر گھٹاتے چلے آرہے ہیں یعنی یہ اطراف لگا تار مسلمانوں کے قبضے میں آتے جا رہے ہیں اس سے ایک دن اس فتح کی تکمیل بھی ہوجائے گی، حکم اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔