Ayahs 14:1–6بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اے محمد اس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو کفر کی ظلمتوں سے انکے رب کے حکم سے ایمان کی روشنی کی طرف نکالیں، اور الی النور سے الی صراط العزیز بدل ہے یعنی غالب اور قابل ستائش اللہ کے راستہ کی طرف (لائیں) (اللہ) کا جر (العزیز) سے بدل یا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے، اس کا مابعد (یعنی الذین لہ الخ) اللہ کی صفت ہے اور (اللہ) کے رفع کی صورت میں اللہ مبتداء ہوگا اور الذین لہ اس کی خبر ہوگی وہ اللہ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے، ملک اور تخلیق اور مملوک ہونے کے اعتبار سے، اور کافروں کیلئے تو شدید عذاب کی وجہ سے ہلاکت (و بربادی) ہے جو دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کرتے ہیں (الذین) الکافرین کی صفت ہے، اور لوگوں کو اللہ کے راستہ یعنی دین اسلام سے روکتے ہیں اور اس راستہ میں کجی نکالتے ہیں یہی لوگ پر لے درجہ کی گمراہی میں ہیں (یعنی) حق سے دور ہیں ہم نے ہر نبی کو اس کی قومی زبان ہی میں بھیجا ہے تاکہ وہ جو کچھ لے کر آیا ہے اسے ان کو سمجھائے اب اللہ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت بخشے، وہ اپنے ملک میں غلبہ والا اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو اپنے نو معجزے دیکر بھیجا اور ان سے کہا یہ کہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو کفر کی ظلمت سے ایمان کی روشنی کی طرف نکال اور انھیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا بلاشبہ اس تذکیر میں طاعتوں پر ہر صبر کرنے والے اور نعمتوں پر شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں ہیں اور اس وقت کا ذکر جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے قوم سے کہا تم اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو جبکہ تم کو قوم فرعون سے نجات دی وہ تم کو شدید تکلیف پہنچا رہا تھا اور تمہارے نو مولود لڑکوں کو قتل کر رہا تھا اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ رہا تھا اور اس نجات یا عذاب میں ہمارے رب کی طرف سے بڑا انعام یا بڑی آزمائش تھی۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ھذا القرآن، اس تقدیر میں اشارہ ہے کہ کتاب انزلناہ مبتداء محذوف کی خبر ہے، نہ کہ کتاب مبتداء اور انزلناہ اس کی خبر، اسلئے کہ کتاب نکرۂ محضہ ہے جس کا مبتداء واقع ہونا درست نہیں ہے۔
قولہ : ویبدل من الی النور، الی صراط العزیز، الی صراط العزیز، الی النور سے اعادۂ عامل کے ساتھ بدل ہے۔
قولہ : بالجر بدل او عطف بیان، یعنی لفظ اللہ، العزیز سے بدل ہے یا عطف بیان ہے۔
سوال : اللہ، علم ہے اور العزیز صفت ہے علم کا صفت سے بدل واقع ہونا صحیح نہیں ہے۔
جواب : العزیز صفت مختصہ ہونے کی وجہ سے بمنزلہ علم کے ہے لہٰذا لفظ اللہ کا اس سے بدل واقع ہونا درست ہے۔
قاعدۂ معروفہ : صفت معرفہ اگر موصوف پر مقدم ہو تو صفت کا اعراب حسب عامل ہوتا ہے اور موصوف بدل یا عطف بیان واقع ہوتا ہے، اصل عبارت اس طرح ہے، ” الی صراط اللہ العزیز الحمید الذی لہ ما فی السموات وما فی الارض “ لفظ اللہ کی تین صفات ہیں ان میں سے دو مقدم ہیں اور ایک مؤخر ہے العزیز اور الحمید مقدم ہیں اور الذی لہ مافی السموٰات الخ مؤخر ہے۔ اسی معروف قاعدہ کے اعتبار سے لفظ اللہ، العزیز سے بدل یا عطف بیان واقع ہے، دوسری صورت لفظ اللہ میں رفع کی ہے، اس میں لفظ اللہ مبتداء اور الذی لہ مافی السموات الخ کی خبر ہوگی۔
قولہ : نعت، یعنی الذین یستحبون الخ جملہ ہو کر للکافرین کی صفت ہونے کی وجہ سے محلا مجرور ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ مبتداء ہونے کی وجہ سے محلا مرفوع ہے اور اولئک فی ضلال بعید اس کی خبر ہے۔
قولہ : بنعمہ۔ ایام اللہ سے نعمت مراد اس طرح ہے کہ یہ ظرف بول کر مظروف مراد لینے کے قبیل سے ہے نعمتیں اور احسانات چونکہ ایام میں حاصل ہوتے ہیں اسلئے ایام بول کر انعامات اور احسانات مراد لئے ہیں۔
قولہ : یستبقون، یستحیون کی تفسیر یستبقون سے کرکے اشارہ کردیا کہ یستحیون کے معنی موضوع لہ مراد نہیں ہیں بلکہ لازم معنی مراد ہیں۔
تفسیر و تشریح
سورة ابراہیم ترتیب کے لحاظ سے چودھویں سورت ہے، باختلاف تعداد چند آیتوں کے علاوہ پوری سورت مکی ہے، سورت کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مکہ کے آخری دور کی سورتوں میں سے ہے اس سورت کے مرکزی مضامین میں ان لوگوں کو فہمائش اور تنبیہ کرنا ہے کہ جو نبی ﷺ کی رسالت کو ماننے سے انکار کر رہے تھے، اور آپ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لئے ہر طرح کی تدبیریں اور بدتر چالیں چل رہے تھے۔ اس سورت کی شروع میں رسالت اور نبوت اور ان کی کچھ خصوصیات کا ذکر ہے، پھر توحید کا بیان ہے اور اس کے شواہد کا ذکر ہے اسی سلسلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا گیا ہے، اور اسی کی مناسبت سے سورت کا نام سورة ابراہیم ہے۔
الرٰ ،۔۔۔۔ باذن ربھم، الرٰ ان حروف مقطعات میں سے ہیں جن کے متعلق بار بار ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس میں اسلم اور محتاط طریقہ سلف صالحین کا ہے کہ اس پر ایمان و یقین رکھیں کہ جو کچھ اس کی مراد ہے وہ حق ہے لیکن اس کے معنی کی تحقیق و تفتیش کے درپے نہ ہوں۔ تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے کا مطلب شیطانی راستوں سے ہٹا کہ خدا کے راستہ پر لانا ہے یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ جو شخص خدا کی راہ پر نہیں وہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہے خواہ وہ اپنے آپ کو کتنا ہی روشن خیال سمجھ رہا ہو، بخلاف اس کے کہ جس نے خدا کا راستہ پالیا وہ علم کی روشنی میں آگیا خواہ وہ ان پڑھ دیہاتی ہی کیوں نہ ہو۔
ہدایت صرف خدا کا فعل ہے : لتخرج الناس۔۔۔۔ باذن ربھم، ناس سے تمام عالم کے انسان مراد ہیں، ظلمٰت، ظلمۃ کی جمع ہے یہاں ظلمت سے کفر و شرک اور بداعمالیوں کی ظلمت مراد ہے اور نور سے مراد ایمان کی روشنی ہے، چونکہ کفر و شرک کی بہت سی انواع و اقسام ہیں اسلئے ظلمات کو جمع لایا گیا ہے اور ایمان اور حق ایک ہی ہے اسلئے نور کو مفرد کے صیغہ کے ساتھ لایا گیا ہے، اس آیت میں تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے کو اگرچہ آپ ﷺ کا فعل قرار دیا گیا ہے مگر حقیقت میں ہدایت دینا اللہ کا کام ہے یہ اسناد مجازی نسبت الی السبب کے قبیل سے ہے اس لئے کہ ہدایت دینا محض اللہ کا کام ہے آپ کا کام صرف رہنمائی کرنا ہے ” انک لاتھدی من احببت “ آپ اپنے مہربان چچا خواجہ ابو طالب کو تمام تر خواہش کے باوجود ایمان پر نہ لاسکے اسی آیت کے آخر میں الا باذن ربھم کا لفظ دیا تاکہ یہ شبہ ختم ہوجائے کہ کفر و شرک کی ظلمتوں سے نکالنا آپ کا کام ہے، اس میں دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی مبلغ خواہ وہ نبی اور رسول ہی کیوں نہ ہو راہ راست پیش کردینے سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا۔
اللہ کے راستہ سے روکنے کا مطلب : اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات میں لوگوں کو بدظن کرنے کیلئے میں میکھ نکالتے ہیں اور اسلام کی تعلیمات کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنی اغراض و خواہشات کے مطابق اس میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ نے اہل دنیا پر احسان فرمایا کہ ان کی ہدایت کیلئے کتابیں نازل کیں اور کتابوں پر عمل کرکے دکھانے کے لئے رسول بھیجے تو اس احسان کی تکمیل اس طرح فرمائی کہ ہر رسول کو اس کی قومی زبان میں بھیجا تاکہ کسی کو ہدایت کا راستہ سمجھنے میں دشوار نہ ہو لیکن اس کے باوجود ہدایت ملے گی اس کو جس کو اللہ چاہے گا۔
جس طرح ہم نے اے محمد آپ کو اپنی قوم کی طرف بھیجا اور کتاب نازل کی تاکہ آپ اپنی قوم کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لائیں اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات و دلائل دے کر ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ انھیں کفر و جہل کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی سے روشناس کرائیں۔
ان فی ذلک۔۔۔۔ شکور، صبر اور شکر یہ دو بڑی خوبیاں ہیں اسلئے یہاں صرف ان ہی دو کا ذکر کیا گیا ہے یہاں دونوں مبالغہ کے صیغے استعمال ہوئے ہیں ” صبار “ بہت صبر کرنے والا ” شکور “ بہت شکر کرنے والا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو شکر ادا کرنے کی توفیق مل گئی وہ کبھی نعمتوں اور برکتوں سے محروم نہ ہوگا، اور اللہ نے فرمایا اگر تم میری نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے۔
Ayahs 14:7–12آیت نمبر 7 تا 12
ترجمہ : اور جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا کہ اگر تم توحید اور اطاعت کے ذریعہ میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو میں بیشک تم کو مزید دوں گا، اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعہ (میر) نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو میں تم کو ضرور عذاب دوں گا، لاعذبنکم، (جواب محذوف پر) ان عذابی لشدید دلالت کر رہا ہے، یقیناً میرا عذاب نہایت سکٹ ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام باشندے ناشکری کریں تو بھی اللہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے کیا تمہارے پاس استفہام تقریری ہے تم سے پہلے لوگوں کی (یعنی) قوم نوح کی اور عاد کی اور قوم ہود اور ثمود کی اور قوم صالح کی اور ان لوگوں کی جو ان کے بعد ہوئے خبریں آئیں جن کی تعداد ان کی کثرت کی وجہ سے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان کے پاس ان کے رسول اپنی صداقت پر واضح دلائل لیکر آئے تو ان امتوں نے اپنے ہاتھ شدت غضب کی وجہ سے کاٹنے کیلئے اپنے منہ میں دبائے اور کہہ دیا کہ بزعم خود جس چیز کو تم دے کر بھیجے گئے ہو اس کے ہم منکر ہیں اور ہم تو یقیناً اس کے بارے میں جس کی تم دعوت دے رہے ہو الجھن میں ڈالنے والے شک میں ہیں، ان کے رسولوں نے ان سے کہا کیا تم حق تعالیٰ کے بارے میں شک میں ہو استفہام انکاری ہے، توحید پر واضح دلائل موجود ہونے کی وجہ سے اس کی توحید میں کسی شک (کی گنجائش) نہیں ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے وہ تم کو اپنی اطاعت کی طرف بلا رہا ہے تاکہ تم سے تمہارے گناہوں کو معاف کرے من زائدہ ہے یہ امر واقعہ ہے کہ اسلام کی وجہ سے اسلام سے پہلے کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں یا (من تبعیضیہ) ہے حقوق العباد کو خارج کرنے کیلئے اور یہ کہ ایک مقررہ وقت تک کے لئے تمہیں مہلت عطا فرمائے یعنی موت تک ان لوگوں نے جواب دیا تم تو ہمارے جیسے انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان معبودوں بتوں سے روک دو جن کی بندگی ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں اچھا تو ہمارے سامنے اپنی صداقت پر کوئی کھلی دلیل پیش کرو ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا یہ تو سچ ہے کہ ہم تمہارے ہی جیسے انسان ہیں جیسا کہ تم نے کہا لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نبوت عطا کرکے اپنا فضل کرتا ہے اور ہماری مجال نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ لا کر تم کو دکھا سکیں اسلئے کہ ہم تربیت یافتہ بندے ہیں، اور ایمان والوں کو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے، آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں یعنی ہمارے لئے اس سے کوئی مانع نہیں ہے جبکہ اسی نے ہمیں ہماری راہیں دکھائیں واللہ جو ایذائیں تم ہمیں دو گے ہم ضرور اس پر صبر کریں گے (یعنی) تمہاری ایذا رسانی پر، توکل کرنے والوں کیلئے یہی لائق ہے کہ اللہ پر توکل کریں۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : اعلم، تاذن کی تفسیر اعلم سے کرکے اشارہ کردیا کہ تأذن باب تفعل اپنی خاصیت کے اعتبار سے تکلف پر دلالت کرتا ہے جو شان باری تعالیٰ کے مناسب نہیں ہے لہٰذا تأذن بمعنی اذن ہے۔
قولہ : لاعذبنکم یہ شرط کی جزاء ہے جو محذوف ہے، نہ کہ ان عذابی لشدید لہٰذا ان عذابی کے شرط پر عدم ترتب کا اعتراض ختم ہوگیا، اور حذف جواب پر ان عذابی لشدید دلالت کر رہا ہے۔
قولہ : ای الیھا، اس میں اشارہ ہے کہ فی بمعنی الی ہے، ایدیھم اور افواھم، دونوں کی ضمیریں کفار کی طرف راجع ہیں یعنی کفار نے اپنے ہاتھ شدید غصہ کی وجہ سے اپنے منہ میں دبائے اور یہ تفسیر عضوا علیکم الانامل من الغیظ کے مطابق ہے، اور بعض حضرات نے ثانی ھم کی ضمیر رسل کی طرف لوٹائی ہے، مطلب یہ بیان کیا ہے کہ امت کے لوگوں نے اپنے ہاتھ رسولوں کے منہ پر رکھ دئیے تاکہ حق بات نہ بول سکیں، یہ خلاف ظاہر ہے۔
قولہ : بزعمکم یہ اس سوال کا جواب ہے کہ بما ارسلتم سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار ما جاء بہ الرسل کے قائل تھے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ ہمیں تو تمہارا رسول ہونا تسلیم نہیں مگر بقول شما بھی ہم تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
قولہ : لاشک فی توحیدہ ایک شبہ کا جواب ہے کہ شبہ یہ ہے کہ ہمزہ انکاری کا حق یہ ہے کہ شک (مظروف) پر داخل ہو نہ کر ظرف پر اور یہاں اللہ پر داخل ہے جو کہ ظرف ہے حاصل جواب یہ ہے کہ کلام شک میں نہیں ہے بلکہ مشکوک میں ہے فتدبر۔
تفسیر و تشریح
اذ تأذن ربکم، تأذن، اعلم کے معنی میں ہے، بولا جاتا ہے تأذن بوعدہ لکم، ای اعلمکم بوعدہ لکم، اس نے اپنے وعدہ سے تمہیں آگاہ کیا، ان عذابی لشدید، سے معلوم ہوتا ہے کہ کفران نعمت اللہ کو سخت ناپسند ہے اسی وجہ سے اس نے ناشکری پر سخت عذاب کی وعید بیان کی ہے، آپ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ” کہ عورتوں کی اکثریت اپنے خاوندوں کی ناشکری کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی “۔ (صحیح مسلم)
مطلب یہ ہے کہ شکر گزاری میں خود بندہ ہی کا فائدہ ہے اور اگر ناشکری کرے گا تو اس میں اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہے وہ تو بےنیاز ہے اگر سارا جہان ناشکرا ہوجائے تو اس کا کیا بگڑے گا ؟
ایک حدیث قدسی : ایک حدیث قدسی میں آتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
” یا عبادی ! لو ان او لکم واٰخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی اتقی قلب رجل منکم مازاد ذلک فی ملکی شیئا، یا عبادی ! لو ان اولکم واٰخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی افجر قلب رجل منکم ما نقص ذلک فی ملکی شیئا، یا عبادی ! لو أن اولکم واٰخرکم وانسکم وجنکم قاموا فی صعید واحد، فسالونی فاعطیت کل انسان مسألتہ ما نقص ذلک من ملکی شیئا الا کما ینقص المخیط اذا ادخل فی البحر “۔ (صحیح مسلم کتاب البر)
ترجمہ : اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول وآخر اور روئے زمین کے تمام انسان اور جن اس ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں جو تم میں سے سب زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو تو اس سے میری حکومت اور بادشاہی میں اضافہ نہیں ہوگا، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول و آخر اور تمام انسان اور جن اس ایک آدمی کے دل کے طرح ہوجائیں جو تم میں سب سے بڑا نافرمان اور فاجر ہو تو اس سے میری حکومت اور بادشاہی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول و آخر اور انسان و جن سب ایک میدان میں جمع ہوجائیں اور مجھ سے سوال کریں، پس میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانے اور بادشاہی میں اتنی ہی کمی ہوگی جتنی سوئی کے سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے۔ (فسبحانہ وتعالیٰ الغنی الحمید) ۔
فردوا ایدیھم فی افواھم، مفسرین نے اس کے مختلف معانی بیان کئے ہیں :
(1) انہوں نے ہاتھ اپنے منہ میں رکھ لئے اور کہا ہمارا تو صرف ایک ہی جواب ہے کہ ہم تمہاری رسالت کے منکر ہیں۔
(2) انہوں نے اپنی انگلیوں سے اپنے مونہوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ خاموش رہو اور یہ جو پیغام لے کر آئے ہیں ان کی طرف توجہ مت کرو۔
(3) انہوں نے اپنا ہاتھ استہزاء اور تعجب کے طور پر اپنے منہ پر رکھ لئے جس طرح کوئی شخص ہنسی ضبط کرنے کیلئے ایسا کرتا ہے
(4) انہوں نے اپنا ہاتھ رسول کے منہ پر رکھ کر کہا خاموش رہو۔
(5) بطور غیظ و غضب کے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں پر رکھ لئے جس طرح منافقین کی بابت دوسرے مقام پر آتا ہے ” عضوا علیکم الانامل من الغیظ “ وہ غیظ و غضب کی وجہ سے تم پر اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں، اکثر مفسرین نے اس آخری معنی کو پسند کیا ہے ان میں طبری اور شوکانی بھی شامل ہیں۔
قالوا انا کفرنا۔۔۔۔ الیہ مریب یعنی جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم دعوت دے رہے ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی ایسا شک کہ جس کی وجہ سے اطمینان رخصت ہوگیا ہے۔ (باقی آیات کی تفسیر واضح ہے) ۔
Ayahs 14:13–21آیت نمبر 13 تا 21
ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی ہے کہ جو جہنمیوں کے اندر سے نکلے گا جو پیپ اور خون کا آمیزہ ہوگا جس کو وہ مجبوراً پیئے گا (یعنی) اس کی تلخی کی وجہ سے تھوڑا تھوڑا کرکے پیئے گا اس کی قباحت اور کراہت کی وجہ سے اس کو نگل نہ سکے گا، اور اس کی ہر طرف سے موت آتی نظر آئے گی یعنی موت کے اسباب جو موت کے متقاضی ہوں گے مختلف اقسام کے عذابوں سے، مگر وہ مرے گا نہیں اور اس عذاب کے بعد ایک نہ ختم ہونے والا سخت عذاب ہوگا اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والے لوگوں کے اعمال صالحہ مثلا صلہ رحمی اور صدقہ کی مثال ان سے منتفع نہ ہونے میں الذین کفروا مبتداء (مبدول منہ) اور اعمالھم بدل ہے اس راکھ کی سی ہے کہ جس پر آندھی کے دن تیز و تند ہوا چلی ہو (اور) اس کو اڑتا ہوا غبار کردیا کہ اس کے اجر کے پانے پر قادر نہ ہونگے (یعنی اپنے اعمال صالحہ کا اجر پانے پر قادر نہ ہو) اور مجرور (کرماد) مبتداء کی خبر ہے، جو بھی انہوں نے دنیا میں عمل (صالح) کیا کفار اسی پر یعنی اس کا اجر پانے پر اسکی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے قادر نہ ہوں گے یہی دور کی گمراہی ہلاکت ہے، اے مخاطب ! کیا تو نے نہیں دیکھا استفہام تقریری ہے، کہ امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو بامقصد پیدا کیا، بالحق، خلق کے متعلق ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو ختم کر دے اور تمہارے بجائے ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں ہے، اور پوری مخلوق (روزمحشر) اللہ کے روبرو حاضر ہوگی اور تعبیر یہاں اور آئندہ صیغۂ ماضی کے ذریعہ یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ہے اس وقت کمزور لوگ یعنی تابعین سربراہوں (یعنی) متبوعین سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابعدار تھے تبعا، تابع کی جمع ہے تو کیا تم اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم سے دفع کرسکتے ہو پہلا من تبیین کیلئے ہے اور دوسرا تبعیض کیلئے ہے، مخدومین جواب دیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی تمہاری رہنمائی کرتے (یعنی) ہم تم کو ہدایت کی طرف دعوت دیتے، اب ہم خواہ وائے ویلا کریں یا صبر کریں دونوں ہمارے لئے برابر ہیں (اب) ہمارے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے من زائدہ ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : لتصیرن مفسر علام نے لتعودن کی تفسیر لتصیرن سے کرکے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ عود کیلئے پہلے اس حالت پر ہونا ضروری ہے جس سے عود کرے اس کا مطلب یہ ہوا کہ انبیاء (علیہ السلام) پہلے اپنی امت کے دین پر ہوتے تھے بعد میں اس سے نکل کر دین حق پر آتے تھے حالانکہ امر واقعہ ایسا نہیں ہے نبی ابتداء ہی سے دین حق پر ہوتے ہیں ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے تعودن، تصیرن کے معنی میں ہے، یعنی تم ہمارے دین پر ہوجاؤ۔
قولہ : بعدھلاکھم، اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : یدخلھا، یدخلھا محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ یسقی کا عطف محذوف پر ہے تاکہ عطف فعل علی الاسم لازم نہ آئے۔
قولہ : فیھا۔ سوال : (فیھا) مقدر ماننے کا کیا فائدہ ہے ؟
جواب : جب معطوف جملہ واقع ہوتا ہے تو اس میں عائد کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو معطوف علیہ کی طرف راجع ہوتا ہے۔
قولہ : یتجرعہ، ای یتکلف۔
قولہ : یزدردہ، الازدراد خوشگواری اور سہولت سے کسی چیز کا حلق میں اتارنا۔
قولہ : اسبابہ المقتضیۃ للموت، اس میں اشارہ ہے کہ جہنم میں موت نہیں ہوگی اسلئے کہ موت کیلئے تو ایک ہی سبب کافی ہوتا ہے چہ جائے کہ بہت سے اسباب موجود ہوں اور پھر بھی موت نہ آئے، یہ موت نہ آنے کی دلیل ہے۔
قولہ : ویبدل منہ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : مبتداء اور خبر کے درمیان (اعمالھم) کا فصل بالاجنبی لازم آرہا ہے جو درست نہیں ہے۔
جواب : یہ فصل اجنبی نہیں ہے بلکہ وہ مبتداء سے بدل ہے اور بدل مبدل منہ سے اجنبی نہیں ہوتا۔
قولہ : فی یوم عاصف، عاصف کی یوم کی طرف اسناد مجاز کے طور پر ہے اور یوم عاصف، نھارہ صائم ولیلۃ قائم کے قبیل سے ہے۔
قولہ : من الاولی للتبیین یعنی من اپنے بعد واقع ہونے والے لفظ شئ کے بیان کیلئے ہے بیان جو کہ عذاب اللہ ہے مبین یعنی شئ پر مقدم ہے تقدیر عبارت یہ ہے، ” ھل انتم مغنون عنا بعض الشئ ھو بعض عذاب اللہ “۔
تفسیر و تشریح
قال الذین۔۔۔ الخ حضرات انبیاء کے وعظ و تذکیر سے بجائے اس کے کہ منکرین کے دل کچھ نرم پڑتے اور ٹھنڈے دل سے اپنے رسول کی بتائی باتوں پر غور کرتے الٹے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ تم ہی ہمارے دھرم میں آجاؤ ورنہ ہم تمہیں ملک بدر کردیں گے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے گمراہ لوگوں کے دین دھرم میں شامل ہوا کرتے تھے اور وحی ہدایت آنے کے بعد دین باطل کو ترک کرکے دین حق کی طرف آتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ نبوت سے پہلے چونکہ وہ ایک طرف خاموش زندگی بسر کرتے تھے کسی دین کی تبلیغ اور رائج الوقت دین کی تردید نہیں کرتے تھے اس لئے ان کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ وہ بھی ہماری ملت میں ہیں، اور کار نبوت شروع کرنے کے بعد ان پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ملت آبائی سے نکل گئے ہیں۔ حالانکہ وہ نبوت سے پہلے بھی کبھی مشرکوں کی ملت میں شامل نہیں ہوئے تھے کہ ان پر اس سے خروج کا الزام عائد کیا جائے۔
ولنسکننکم الارض الخ اسی وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی مدد فرمائی، اگرچہ آپ ﷺ کو بادل ناخواستہ مکہ سے نکلنا پڑا لیکن چند سالوں کے بعد ہی آپ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کو نکلنے پر مجبور کرنے والے ظالم مشرکین سرجھکائے کھڑے آپ کے اشارۂ ابرو کے منتظر تھے، لیکن آپ نے خلق عظیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاشریب علیکم الیوم کہہ کر سب کو معاف فرما دیا۔
مثل الذین۔۔۔ الخ یعنی جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ بےوفائی، خودمختاری نافرمانی اور سرکشی کی روش اختیار کی اور اطاعت و بندگی کا وہ طریقہ اختیار کرنے سے انکار کردیا کہ جس کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے، ایسے لوگوں کی زندگی بھر کا سرمایۂ عمل ایسا لاحاصل اور بےمعنی ثابت ہوگا جیسا کہ راکھ کا ایک ڈھیر تھا، مگر صرف ایک ہی دن کی آندھی نے اس کو ایسا اڑا دیا کہ اس کا ایک ایک ذرہ منتشر ہو کر رہ گیا، حتی کہ ان کی عبادتیں اور ان کی ظاہری نیکیاں اور ان کے خیراتی اور رفائی کارنامے بھی جن پر ان کو فخر و ناز تھا سب کے سب آخر کار راکھ کا ڈھیر ہی ثابت ہوں گے جسے یوم قیامت کی آندھی صاف کر دے گی اور عالم آخرت میں اس کا ایک ذرہ بھی ان کے پاس اس لائق نہ رہے گا کہ اے خدا کی میزان میں رکھ کر کچھ وزن پاسکیں۔
دوزخیوں کی آپس میں گفتگو : جہنمی آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہیں گے کہ جنتیوں کو جنت اس لئے ملی کہ وہ اللہ کے سامنے روتے اور گڑگڑاتے تھے آؤ ہم بھی اللہ کی بارگاہ میں آہ وزاری کریں چناچہ وہ رو رو کر خوب آہ وزاری کریں گے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، پھر کہیں گے جنتیوں کو جنت ان کے صبر کی وجہ سے ملی چلو ہم بھی صبر کرتے ہیں پھر وہ صبر کا بھرپور مظاہرہ کریں گے لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا، تو اس وقت کہیں گے کہ ہم صبر کریں یا جزع و فزع اب رہائی کی کوئی صورت نہیں یہ ان کی گفتگو جہنم کے اندر ہوگی۔
Ayahs 14:22–27آیت نمبر 22 تا 27
ترجمہ : اور جب فیصلہ چکا دیا جائیگا، اور اہل جنت، جنت میں، دوزخی دوزخ میں داخل کر دئیے جائیں گے اور دوزخی شیطان کے پاس جمع ہوں گے تو ابلیس ان سے کہے گا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بعث اور جزاء کے جتنے وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کہ (بعث وغیرہ) کچھ ہونے والا نہیں ہے میں نے اس کو پورا نہیں کیا (یعنی اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہوگیا) اور میری تم پر کوئی زور زبردستی تو تھی نہیں کہ جس کے ذریعہ میں تم کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا البتہ اتنی بات ضرورت ہے کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری بات پر لبیک کہہ دیا، لہٰذا اب تم میری دعوت پر لبیک کہنے پر مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ میں نہ تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری (مصرخی) یاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے اس سے پہلے دنیا میں جو تم نے مجھے خدا کا شریک ٹھہرا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسے ظالموں کیلئے دردناک سزا یقینی ہے (بخلاف) ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ان کو ایسے باغوں میں داخل کیا جائیگا کہ جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی جن میں وہ اپنے رب کی اجازت سے ہمیشہ رہیں گے اس میں ان کیلئے اللہ اور فرشتوں کی طرف سے اور خود آپس میں بھی سلامتی کی مبارک بادی ہوگی خالدین (جنت) سے حال مقدرہ ہے، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے ؟ یعنی لا الٰہ الا اللہ کو اور کلمۃ طیبۃ۔ مثلا سے بدل ہے، اس کی مثال ایسی ہے کہ اچھی نسل کا درخت ہو اور وہ کھجور کا درخت ہے، کہ اس کی جڑیں زمین میں (گہری) جمی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ہر آن وہ اپنے رب کے حکم و ارادہ سے پھل دے رہا ہے کلمۂ ایمان کی مثال ایسی ہی ہے کہ قلب مومن میں جما ہوا ہے اور اس کا عمل آسمان کی طرف چڑھتا ہے اور مومن اپنے عمل کی برکت اور ثواب ہر آن پاتا ہے، یہ مثالیں اللہ تعالیٰ اس لئے دیتا ہے تاکہ لوگ اس سے نصیحت (سبق) حاصل کریں اور ایمان لے آئیں، اور کلمہ خبیثہ کی مثال کہ وہ کلمۂ کفر ہے برے نسل کے درخت کی سی ہے اور وہ حنظل کا درخت ہے کہ اس کو سطح زمین سے جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اس کیلئے کوئی استحکام نہیں ہے کلمہ کفر ایسا ہی ہے کہ نہ اس کیلئے استحکام ہے اور نہ اس کی شاخیں ہیں اور نہ برکت ایمان والوں کیلئے اللہ تعالیٰ ایک قول ثابت کی بنیاد پر کہ وہ کلمۂ توحید ہے دنیا اور آخرت کی (یعنی) قبر کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے جبکہ دو فرشتے ان کے رب اور ان کے دین اور ان کے نبی کے بارے میں سوال کریں گے تو وہ درست جواب دیں گے، جیسا کہ شیخین کی حدیث میں ہے، اور ظالموں کافروں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ درست جواب تک رسائی نہیں پاتے بلکہ وہ کہتے ہیں (ھاء ھاء لاندری) ہائے افسوس کہ ہم نہیں جانتے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، اور اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وعد الحق، ای وعدا من حقہ ان ینجز، یعنی ایسا وعدہ کہ جس کا حق یہ ہے کہ اس کو پورا کیا جائے اور اضافت موصوف الی
الصفت بھی قرار دیا جاسکتا ہے الی الوعد الحق۔
قولہ : لکن اس میں اشارہ ہے کہ الا ان دعوتکم، دعوتکم، مستثنیٰ منقطع ہے، اسلئے کہ دعاء سلطان کی جنس سے نہیں ہے۔
قولہ : بالفتح یعنی مصرخی میں یاء پر فتحہ اور کسرہ دونوں قراءتیں ہیں فتحہ تخفیف کیلئے ہے اور کسرہ اصل کے مطابق، مصرخ اسم فاعل مذکر، فریاد رسی کرنے والا (افعال) اصراخ، اضداد میں سے ہے اسکے معنی فریاد رسی کرنے والا، اور فریاد خواہ یعنی دادرس اور دادخواہ۔
قولہ : حال مقدرۃ یعنی مقدرین خلودھم، خالدین، جنّٰت سے حال ہے جنت کا وجود مقدم ہے اور دخول جنت بعد میں ہوگا معلوم ہوا کہ حال اور ذوالحال کا زمانہ ایک نہیں ہے حالانکہ ایک ہونا ضروری ہے، جواب یہ ہے کہ حال مقدرہ ہے ای مقدرین خلودھم۔
قولہ : تعطی اس میں اشارہ ہے کہ تؤتی ایتاء سے ہے نہ اتیان ہے۔
قولہ : اجتثت اس کو اکھاڑا گیا ماضی مجہول واحد مؤنث غائب، مصدر اجتثاث (افتعال)
تفسیر و تشریح
اللہ کا وعدہ : وقال۔۔۔۔ (الآیۃ) یہاں فیصلے سے مراد یہ ہے کہ مطیع جنت میں اور نافرمان دوزخ میں پہنچ چکیں گے، اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ ایک روز جزاء اور سزا کا آنے والا ہے، اہل ایمان کو اس روز نجات نصیب ہوگی اور اہل کفر کو ہلاکت۔
شیطان کا وعدہ : شیطان کا وعدہ یہ ہے کہ کفر پر ایمان کو ترجیح نہیں، جنت اور دوزخ سب ڈھکو سلے ہیں، آخرت میں جزا سزا کسی کو نہیں ہوگی۔ دوزخ میں جب دوزخی سارا الزام ابلیس پر ڈالیں گے تو شیطان کہے گا کہ تمہارے گللے شکوے اس حد تک تو صحیح ہیں کہ اللہ سچا تھا اور میں جھوٹا تھا، اس سے مجھے ہرگز انکار نہیں، اللہ کے وعدے اور اس کی وعید میں تم دیکھ رہے ہو کہ اس کی ہر بات اور ہر وعدہ صد فی صد صحیح نکلا، اور میں خود یہ تسلیم کرتا ہوں کہ جو بھروسے میں نے تمہیں دنیا میں دلائے اور خوشنما باغ تم کو دکھائے اور پر فریب توقعات کے جال میں میں نے تم کو پھانسا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں نے یقین جو تمہیں دلایا کہ اول تو آخرت کچھ ہے ہی نہیں، سب ڈھکوسلے ہیں اور اگر بالفرض ہوئی بھی تو فلاں حضرت کے تصدق سے تم صاف بچ نکلو گے، بس ان کی خدمت میں نذر و نیاز کی رشوت پیش کرتے رہو اور پھر جو چاہو کرتے پھر و نجات دلانے کا ذمہ ان کا، یہ ساری باتیں جو میں تم سے کہتا رہا یا اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ کہلواتا رہا سب دھوکا اور فریب تھا۔
وما کان۔۔۔۔ الخ جہنم میں ابلیس جہنمیوں کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہے گا کہ میں کب تمہارا ہاتھ پکڑ کر زبردستی غلط راستے پر کھینچ کر لایا نہ میرا تم پر کوئی دباؤ تھا نہ زور و زبردستی، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ دعوت حق کے مقابلہ میں اپنی دعوت باطل تمہارے سامنے پیش کی سچائی کے مقابلہ میں جھوٹ کی طرف بلایا، باقی ماننے اور نہ ماننے کا اختیار تو آپ حضرات کو ہی حاصل تھا میرے پاس آپ کو مجبور کرنے کی کوئی طاقت نہیں تھی لہٰذا اس غلط انتخاب کی ذمہ داری مجھ پر ڈالنے کے بجائے خود تمہیں اٹھانی چاہیے، اسلئے کہ اس انتخاب میں تمام تر قصور تمہارا ہی ہے تم نے عقل و شعور سے ذرا کام نہ لیا دلائل واضحہ کو تم نے نظر انداز کیا اور دعوائے محض کے پیچھے لگے رہے جس کی پشت پر کوئی دلیل نہیں تھی لہٰذا نہ تم کو اس قہر و غضب سے نکلوا سکتا ہوں جس میں تم مبتلا ہو اور نہ تم اس عذاب سے مجھے نکلوا سکتے ہو، کہ جس میں میں مبتلا ہوں، اور مجھے اس بات سے بھی انکار ہے کہ میں اللہ کا شریک ہوں اگر تم مجھے یا کسی اور کو اللہ کا شریک سمجھتے رہے تو تمہاری اپنی غلطی اور نادانی تھی، جس اللہ نے ساری کائنات بنائی اس کی تدبیر وہی کرتا رہا بھلا اس کا شریک کوئی کیونکر ہوسکتا ہے ؟
الم تر کیف۔۔۔۔ الخ اس کا مطلب ہے کہ مومن کی مثال اس درخت کی طرح ہے کہ جو گرمی سردی غرضیکہ ہر موسم میں پھل دیتا ہے، اسی طرح مومن کے اعمال صالحہ شب و روز کے لمحات میں ہر آن اور ہر وقت آسمان کی طرف جاتے رہتے ہیں، کلمہ طیبہ سے اسلام یا لا الہ الا اللہ اور شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے۔ کلمۂ خبیثہ سے مراد کفر اور شجرۂ خبیثہ سے مراد حنظل (اندرائن) کا درخت ہے جس کی جڑیں زمین میں اوپر ہوتی ہیں اور ذرا سے اشارہ میں اکھڑ جاتی ہیں، یعنی کافر کے اعمال نیک بالکل بےحیثیت ہیں نہ وہ آسمان پر چڑھتے ہیں نہ اللہ کی بارگاہ میں وہ قبولیت کا درجہ پاتے ہیں۔
Ayahs 14:28–34آیت نمبر 28 تا 34
ترجمہ : کیا آپ نے ان پر نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمتوں یعنی ان کا شکر کو ناشکری سے بدل دیا اور وہ کفار قریش ہیں، اور اپنی قوم کو گمراہ کرکے ہلاکت کے گھر میں لا اتارا یعنی جہنم میں یہ عطف بیان ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرالئے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ دین اسلام سے بہکائیں یاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اپنی دنیا میں (چند دن) مزے اڑالو، تمہاری جائے بازگشت تو آخر جہنم ہی ہے (اے نبی) میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دیجئے کہ نماز کی پابندی کریں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ظاہر اور پوشیدہ طور پر خرچ کریں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے کہ جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ دوستی (نہ ان کے پاس کچھ ہوگا کہ جس کو وہ فدیہ میں دے سکیں) اور وہ دن قیامت کا ہوگا، اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور بادلوں سے پانی برسایا اس پانی کے ذریعہ تمہارے رزق کیلئے پھل پیدا کئے اور کشتیوں کو تابع کردیا کہ دریا میں سواریوں اور بوجھ کو اللہ کی اجازت سے لے کر چلتی ہیں اور اسی نے دریا تمہارے اختیار میں کر دئیے اور سورج و چاند کو تمہارے لئے مسخر کردیا (یعنی تمہارے کام میں لگا دیا) کہ اپنی منزولوں میں رواں دواں ہیں (ذرہ برابر) سستی نہیں کرتے اور رات کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو بھی تاکہ تم اس میں اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرو اور جو چیز تم نے اس سے طلب کی اس میں سے تمہاری مصلحت کے مطابق عطا کی، اگر تم اللہ کے انعامات کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے یعنی تمہارے اندر ان کو شمار کرنے کی طاقت نہیں یقیناً کافر انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے یعنی اپنی رب کی نعمتوں کی ناشکری اور معصیت کرکے اپنے اوپر بڑا ہی ظلم کرنے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ای شکرھا، یہ اضافہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ بدلوا نعمۃ اللہ کفرا کے معنی ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل لیا، حالانکہ نعمت عین ہے اور کفر و صف ہے اور تبدیل عین بالوصف کے کوئی معنی نہیں ہیں۔
جواب : مضاف محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ نعمت کے شکر کو ناشکری سے بدل دیا، یعنی شکر کرنے کے بجائے ناشکری کی۔
قولہ : لیضلوا۔ سوال : جعلوا للہ اندادا، کی غرض اضلال اور ضلال کو قرار دیا ہے حالانکہ شریک قرار دینے سے مشرکین کی غرض اضلال اور ضلال نہیں تھی۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ اضلال اور ضلال اگرچہ انداد کی غرض نہیں ہے مگر نتیجہ ضرور ہے لہٰذا نتیجہ کو غرض قرار دیا ہے
قولہ : قل لعبادی الذین آمنوا یقیموا الصلوٰۃ الخ۔
سوال : یقیموا الصلوۃ الخ کا مقولہ واقع ہونا درست نہیں ہے اسلئے کہ اقامت صلوۃ مخاطب کا عمل ہے نہ کہ قائل کا مقولہ، حالانکہ مقولہ کیلئے قائل کا ہی مقولہ ہونا ضروری ہے۔
جواب : قل کا مقولہ محذوف ہے اور جواب امر جو کہ یقیموا الصلوٰۃ ہے حذف پر دال ہے، تقدیر عبارت یہ ہے قل لعبادی الذین آمنوا أقیموا وأنفقوا، لیقیموا الصلوٰۃ وینفقوا، بعض حضرات نے کہا ہے کہ امر مقولہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے قل لھم لیقیموا الخ قُلْ کی دلالت کی وجہ سے لام کو حذف کردیا گیا ہے یقیموا ہوگیا اور اگر ابتداء حذف کے ساتھ یقیموا کو مقولہ قرار دیدیا جائے تو درست نہ ہوگا۔
قولہ : سرا وعلانیۃ دونوں أنفقوا امر کی ضمیر سے حال واقع ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں، ای ینفقون مسرین ومعلفین۔
قولہ : السفن، اسد کے وزن پر جمع ہے لہٰذا تجری فعل کا مؤنث لانا درست ہے۔
قولہ : دائبین، ایک دستور پر چلنے والے یہ دائبٌ کا تثنیہ ہے، بمعنی حال، عادت، رسم، دستور، (ف) دأب یدأب، دأبا لگا تار کسی کام میں لگنا۔
تفسیر و تشریح
الم تر۔۔۔۔ کفرا، یہ ذکر سرداران کفر اور پیشوایان ضلالت کا ہو رہا ہے، اس کی تفسیر صحیح بخاری میں اس طرح ہے کہ اس سے مراد کفار مکہ ہیں جنہوں نے رسالت محمدیہ کا انکار کرکے اور جنگ بدر میں مسلمانوں سے لڑکر اپنے لوگوں کو ہلاک کردیا اگرچہ یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے خاص ہے مگر اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین اور لوگوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا، سو جس نے اس نعمت کی قدر کی اسے قبول کیا تو اس نے اس کا شکر ادا کیا اور وہ جنتی ہوگیا، اور جس نے اسے رد کردیا اور کفر اختیار کئے رکھا وہ مستحق دوزخ ہوا۔
نعمۃ کا لفظ اگرچہ مفرد استعمال ہوا ہے مگر مراد اس سے جنس کے طور پر عام ہے اس سے دنیا کی تمام نعمتیں جو محسوس و مشاہد ہیں جن کا تعلق انسان کے ظاہری منافع سے ہے مراد ہوسکتی ہیں اور معنوی و روحانی نعمتیں بھی جن کا تعلق انسان کے رشد و ہدایت کے لئے حق تعالیٰ کی طرف سے انبیاء اور آسمانی کتابوں اور نشانیوں کی شکل میں نازل ہوتی ہیں مراد ہوسکتی ہیں، اور دونوں بھی۔ دونوں قسم کی نعمتوں کا تقاضا یہ تھا کہ انسان اللہ کی عظمت اور قدرت کو پہچانتا اس کی نعمتوں کا شکر گذار ہوتا اس کی نافرمانبرداری اختیار کرتا مگر کفار و مشرکین نے نعمتوں کا مقابلہ شکر کے بجائے کفران نعمت سے اور اس کے احسانات کا مقابلہ سرکشی اور نافرمانی سے کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت و بربادی کے مقام میں ڈال دیا اور خود بھی ہلاک ہوئے۔
قل تمتعوا، تمتعوا کے معنی کسی چیز سے چند روزہ عارضی فائدہ حاصل کرنے کے ہیں، اس آیت میں مشرکین کو بتلا دیا گیا ہے کہ چند روز دنیا میں عیش کرلو اور دنیا کی نعمتوں سے چند روز فائدہ اٹھالو مگر انجام کار تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔
قل لعبادی، سابقہ آیت میں نافرمان بندوں، کفار و مشرکین کی مذمت اور ان کے انجام بد کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں اپنے فرمانبردار اور شکر گذار مومن بندوں کا ذکر ہے اور ان کو ادائے شکر کے طریقوں کی ہدایت ہے جس میں سب سے پہلی ہدایت اقامت صلوۃ کی ہے اقامت صلوۃ کا مطلب ہے کہ اسے اپنے وقت پر تعدیل ارکان کے ساتھ اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے، صلہ رحمی کی جائے، ضرورت مندوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے مالی فرائض ادا کئے جائیں۔
لابیع فیہ۔۔۔ خلۃ کی جمع ہے جس کے معنی بےغرض مخلصانہ دوستی کے ہیں، نیز اس لفظ کو باب مفاعلہ کا مصدر بھی کہہ سکتے ہیں جیسے، قتال، دفاع وغیرہ اس صورت میں اس کے معنی دو شخصوں کے درمیان مخلصانہ دوستی کے ہوں گے، یہ سب نیکیاں دنیا ہی میں موت سے پہلے پہلے کرلینی چاہئیں، اس کے بعد قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ جہاں نہ خریدو فروخت ممکن ہوگی اور نہ ہی خود غرضی کی دوستی کسی کے کام آئیگی۔
اللہ الذی۔۔۔ الخ اس آیت میں آخر رکوع تک اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی بڑی نعمتوں کی یاد دہانی کرا کے انسان کو اپنی عبادت اور اطاعت کی دعوت و ترغیب دی ہے، غرضیکہ اللہ کی نعمتیں ان گنت اور بیشمار ہیں انہیں کوئی حیطۂ شمار میں نہیں لاسکتا چہ جائے کہ ان نعمتوں کے شکر کا حق ادا کرسکے، ایک اثر میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا قول ذکر کیا گیا ہے، انہوں نے کہا ” اے رب میں تیرا شکر کس طرح ادا کروں ؟ جبکہ شکر بجائے خود تیری طرف سے میرے اوپر ایک نعمت ہے “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اے داؤد اب تو نے میرا شکر ادا کردیا جبکہ تو نے یہ اعتراف کرلیا کہ اے اللہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہوں “۔ (ابن کثیر)