Ayahs 14:35–41آیت نمبر 35 تا 41
ترجمہ : اور اس وقت کا ذکر کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار تو اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے اور بلاشبہ اللہ نے ان کی دعاء قبول فرمالی اور اس کا محترم بنادیا، کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جاتا ہے اور نہ وہاں کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور نہ اس کے جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور نہ اس کی ہری گھاس اکھاڑی جاتی ہے، اور تو (اے میرے پروردگار) مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بت پرستی کریں دور رکھ، اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے انسانوں کو ان کے ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے گمراہ کردیا، پس جس نے توحید کے معاملے میں میری اتباع کی تو وہ میرا یعنی میرے اہل ملت میں ہے، اور جس نے میری نافرمانی کی تو آپ بہت ہی معاف کرنے والے اور نہایت رحم کرنے والے ہیں (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی) یہ دعا اس علم سے پہلے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک معاف نہ فرمائیں گے، اے ہمارے پروردگار، میں نے اپنی بعض اولاد کو کہ وہ اسماعیل ہیں مع اس کی والدہ ہاجرہ کے بےآب وگیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس کہ وہ طوفان (نوح) سے پہلے گھر تھا بسا دیا ہے، اے ہمارے پروردگار یہ اسلئے کیا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں تو کچھ لوگوں کے دلوں کو (اس گھر کی طرف) مائل و مشتاق کر دے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) افئدۃ الناس کہتے تو اس کی طرف فارس اور روم اور تمام لوگ مائل ہوجاتے، اور تو انھیں پھلوں (ہر قسم کی پیداوار) کی روزی عطا فرماتا کہ وہ تیرا شکر ادا کریں اور خطہ طائف کو منتقل کرکے یہ دعاء قبول کرلی گئی، اے ہمارے پروردگار تو بخوبی جانتا ہے جسے ہم چھپائیں یا ظاہر کریں اور اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی شئ پوشیدہ نہیں من زائدہ ہے، مذکورہ کلام میں احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام ہو، اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اس بڑھاپے میں اسماعیل بیٹا عطا کیا اسماعیل کی پیدائش اس وقت آئی جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 99 سال تھی، اور اسحٰق عطا کیا (اسحٰق) کی پیدائش اس وقت ہوئی جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 112 سال تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ میرا رب دعا کا سننے والا ہے اے میرے پروردگار تو مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد میں بھی ایسے لوگ پیدا فرما کہ جو نماز قائم کریں، اور لفظ من استعمال فرمایا اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتلا دیا کہ ان میں کچھ کافر بھی ہوں گے، اے ہمارے پروردگار تو مذکورہ دعاء کو قبول فرما، اے ہمارے پروردگار تو مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور دیگر مومنوں کو بھی جس دن حساب ہونے لگے اور والدین کیلئے یہ دعاء اللہ سے ان کی عداوت ظاہر ہونے سے پہلے کی تھی اور کہا گیا ہے کہ ان کی والدہ ایمان لے آئی تھیں اور ایک قراءت میں والدی اور ولدی افراد کے ساتھ ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : سورة بقرہ میں بلدا نکرہ استعمال ہوا ہے اور یہاں البلد معرفہ اس میں کیا حکمت ہے ؟
جواب : سوۂ بقرہ میں تعمیر بلد سے پہلے دعاء فرمائی کہ یا اللہ تویہاں ایک شہر تعمیر فرما دے اور یہاں جو دعاء ہے وہ تعمیر بلد ہے بعد اس کے مامون ہونے کی ہے۔
قولہ : ذا امن۔ سوال : آمنا کی تفسیر ذا امن سے کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟
جواب : یہ ہے کہ آمن نسبت کا صیغہ ہے کہ اسم فاعل کا، جیسا کہ تامر تمر بیچنے والا، آمن کے معنی ہیں امن والا، نہ کہ امن دینے والا، اسلئے کہ آمن اسم فاعل بمعنی امن دینے والا درست نہیں ہے اس لئے کہ بلد غیر ذی روح اور غیر ذوی العقول میں سے ہے لہٰذا اس میں امن دینے کی صلاحیت نہیں ہے اور نہ امن کی نسبت بلد کی طرف مناسب اسلئے کہ امن دینا درحقیقت اللہ کا کام ہے۔
قولہ : یختلی، یہ اختلاء (افتعال) سے ہے معنی سبز گھاس وغیرہ اکھاڑنا۔
قولہ : اجنبنی (ن) امر واحد مذکر حاضر اصل میں اجنب ہے اس میں نون و قایہ یاء متکلم کی ہے تو مجھے بچا، تو مجھ کو دور رکھ۔
قولہ : عن أن نعبد الاصنام، لفظ عن کا اضافہ کرکے بتادیا کہ ان نعبد میں ان مصدریہ ہے نہ کہ تفسیر یہ اسلئے کہ أن تفسیر کیلئے ماقبل میں لفظ قول یا اس کے ہم معنی ہونا ضروری ہے جو یہاں نہیں ہے۔
قولہ : اضللن کثیرا، اضلال کی اسناد بتوں کی طرف مجازی ہے یہ اسناد الشئ الی سببہ کے قبیل سے ہے چونکہ یہ بت لوگوں کے گمراہ ہونے کے سبب ہیں اسلئے اضلال کی نسبت انہی کی طرف کردی۔
قولہ : الذی کان قبل الطوفان، یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ عند بیتک المحرم فرمانا کیسے درست ہے جبکہ وادی غیر ذی ذرع میں کوئی بیت تھا ہی نہیں۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے بیت کہنا یا تو ما کان کے اعتبار سے ہے یا مایکون کے اعتبار سے، یعنی طوفان نوح (علیہ السلام) سے پہلے وہاں بیت تھا اور آئندہ بھی موجود ہوگا۔
قولہ : تحن، ای تشتاق و تمیل۔ قولہ : افئدۃ الناس یعنی اگر بغیر من تبعیضیہ کے کہتے تو ہر انسان کی رغبت ہوتی۔
قولہ : اسمعٰیل، اسحٰق، اسمعیل کا نام اسماعیل اس لئے ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اللہ تعالیٰ سے اولاد کیلئے دعاء فرماتے تھے تو فرماتے تھے، اسمع یا ایل، اسمع امر بمعنی سن اور ایل عبرانی میں اللہ کو کہتے ہیں، اب اسمعٰیل کا ترجمہ ہوا اے خدا تو سن ! اور جب اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء سن لی اور فرزند عطا کردیا تو اس کا نام اسمعٰیل رکھ دیا، اور اسحٰق کو عبرانی میں اضحاک کہتے ہیں۔
قولہ : اجعل، اس میں اشارہ ہے کہ ومن ذریتی کا عطف اجعلنی کی ضمیر منصوب پر ہے۔
قولہ : من یقیمھا یہ اشارہ ہے کہ اجعلنی کا مفعول ثانی محذوف ہے۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : واذ قال ابراہیم الخ، گذشتہ آیات میں عقیدۂ توحید کی معقولیت اور اہمیت کا اور شرک و جہالت کی مذمت کا بیان تھا، اب یہاں اسی مناسبت سے ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا، اس قصہ کے ضمن میں اہل مکہ کو یہ بھی بتانا مقصود ہے کہ اے اہل مکہ ! تمہارا دعویٰ ہے کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہو اور تمہارا رشتۂ نسب حضرت خلیل اللہ سے ملتا ہے، مگر ذرا غور تو کرو کہ تمہارے جدامجد کا عقیدہ اور عمل کیا تھا ؟ توحید کے معاملہ میں زمرۂ انبیاء (علیہم السلام) میں سب سے زیادہ کامیاب جہاد حضرت خلیل اللہ کا جہاد تھا، اسی لئے ملت ابراہیمی کو دین حنیف کا نام دیا جاتا ہے تاکہ اہل مکہ تقلید آبائی کے خوگر شاید اپنے جدامد کے عقیدہ و عمل پر نظر کرکے کفر و شرک سے باز آجائیں، اسی مصلحت سے ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنایا گیا ہے
دعاء ابراہیمی کی تاثیر : وارزقھم۔۔۔۔۔ یشکرون، دعاء ابراہیمی کی تاثیر کس قدر عیاں ہے کہ مکہ جیسی بےآب وگیاہ سرزمین میں جہاں کوئی پھلدار درخت نہیں، دنیا بھر کے پھل اور میوے نہایت فراوانی کے ساتھ مہیا ہیں اور حج کے موقع پر بھی جبکہ لاکھوں افراد کا اضافی اجتماع ہوتا ہے پھلوں کی فراوانی میں کمی نہیں آتی، نہ صرف پھل بلکہ دنیا بھر کی مصنوعات مکہ میں بآسانی
دستیاب ہوتی ہے۔
رب اجعلنی۔۔۔ ذریتی، اس دعاء میں اپنے ساتھ اپنی اولاد کو بھی شریک فرمایا اور اپنے ساتھ اپنی اولاد کیلئے بھی نماز کی پابندی کی دعاء کی، اور اپنی مغفرت اور اپنے والدین کیلئے بھی مغفرت کی دعاء فرمائی حالانکہ والد یعنی آذر کا کافر ہونا قرآن میں مذکور ہے ہوسکتا ہے کہ یہ ممانعت سے پہلے کی دعاء ہو، اور جب آذر کا عدو اللہ ہونا معلوم ہوگیا تو دعاء ترک کردی۔
Ayahs 14:42–52آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ظالم کافر کہیں گے اے ہمارے پروردگار، تو ہمیں تھوڑے وقت کی مہلت دے بایں صورت کہ تو ہمیں دنیا کی طرف لوٹا دے تاکہ ہم تیری توحیدی دعوت قبول کرلیں اور تیرے رسولوں کی اتباع کریں تو ان سے جھڑکی کے طور پر کہا جائیگا، کیا تم اس سے پہلے دنیا میں قسم کھا کر نہیں کہا کرتے تھے کہ ہمارے لئے تو دنیا سے آخرت کی طرف ٹلنا ہی نہیں ہے حالانکہ تم دنیا میں ان کی بستیوں میں رہ چکے ہو کہ جنہوں نے امم سابقہ میں سے کفر کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور تمہارے لئے ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ عذاب کا کیسا معاملہ کیا تھا ؟ پھر بھی تم باز نہیں آئے، اور ہم نے تمہارے (سمجھانے) کیلئے قرآن میں طرح طرح کی مثالیں بیان کیں مگر تم نے عبرت حاصل نہ کی، اور یہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ اپنی چالیں چل رہے ہیں اس طریقہ پر کہ ان لوگوں نے آپ کے قتل کا یا قید کرنے کا یا وطن سے نکالنے کا ارادہ کیا اور اللہ کو ان کے مکر کا علم ہے یا اللہ کے پاس ان کی سزا ہے، اور ان کی چالیں اگرچہ کتنی ہی عظیم ہوں ایسی نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل سکیں، معنی یہ ہیں کہ ان کی چالیں قابل توجہ نہ تھیں اور وہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور پہاڑوں سے مراد حقیقۃ پہاڑ ہی ہیں، یا اسلام احکام ہیں جن کی ثبات وقرار میں پہاڑوں کے ساتھ تشبیہ دی اور ایک قراءت میں (لتزول) کے لام کے فتحہ اور فعل کو رفع کے ساتھ ہے اور ان مخففہ ہے اور مقصد ان کے مکر کے عظیم ہونے کو بیان کرنا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکر سے مراد ان کا کفر ہے اور تکاد السمٰوات یتفطرن (الآیۃ) ثانی قراءت کے مناسب ہے، اور پہلی قراءت کے مناسب وہی ہے جو پڑھا گیا ہے، (یعنی) وما کان مکرھم الخ آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں سے نصرت کے بارے میں وعدہ خلافی کرے گا اللہ تعالیٰ غالب ہے اس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی اور اپنے نافرمانی کرنے والے سے بدلہ لینے والا ہے (اور) اس دن کو یاد کرو کہ موجودہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور وہ قیامت کا دن ہوگا، تو لوگوں کو ایک صاف ستھری سفید زمین پر جمع کیا جائیگا، جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے، اور روایت کی مسلم نے ایک حدیث جس میں سوال کیا گیا رسول ﷺ سے کہ (تبدیلی ارض) کے دن لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا پل صراط پر، اور (سب لوگ) قبروں سے نکل کر خدائے واحد غالب کے روبرو حاضر ہوں گے اور اے محمد آپ اس دن مجرموں کافروں کو بیڑیوں میں یا طوقاں میں شیاطین کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھو گے حال یہ ہے کہ ان کا لباس گندھک (یا تارکول) کا ہوگا، اسلئے کہ گندھک آگ بھڑکانے والی بہت زیادہ ہوتی ہے اور آگ ان کے چہروں پر بھی چھائی ہوئی ہوگی تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دے، لیجزی، برزوا کے متعلق ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے ولاا ہے اللہ تعالیٰ پوری مخلوق کا حساب دنیا کے دنوں کے اعتبار سے نصف دن میں لے گا اس مضمون کی حدیث کی وجہ سے یہ قرآن تمام لوگوں کیلئے اطلاع نامہ ہے یعنی لوگوں کی تبلیغ کیلئے نازل کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان کو آگاہ کردیا جائے اور تاکہ لوگ ان دلائل کو جان لیں جو قرآن میں ہیں کہ اللہ ایک اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل (و بصیرت) اس سے نصیحت حاصل کریں، (لیذکر) اصل میں یاء ذال میں ادغام کے ساتھ ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : تشخص (ف) مضارع واحد مؤنث غائب، مصدر شخوص، ٹکٹکی باندھ کردیکھنا، آنکھوں کا کھلا رہ جانا، آنکھوں کا چڑھ جانا۔
قولہ : مھطعین یہ مھطع اسم فاعل کی جمع ہے (افعال) اھطاع سرجھکانا تیزی سے دوڑنا مھطعین، اصحاب مضاف محذوف سے حال ہے تقدیرع عبارت یہ ہے، اصحاب الابصار مھطعین۔
قولہ : مقنعی، اقناع سے اسم فاعل اٹھائے ہوئے، (افعال) اصل میں مقنعین تھا، نون اضافت کی وجہ سے حذف ہوگیا، مادہ قنع ہے
قولہ : افئدتھم، افئدۃ، فؤاد کی جمع ہے بمعنی دل۔
قولہ : ھواء یہ اسم ہے بمعنی خالی، خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل کا خالی ہونا ہر بھلائی سے خالی، ہواء اس فضاء کو کہتے ہیں جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے، محاورہ میں ڈر پوک دل کی صفت واقع ہوتی ہے۔
قولہ : نجب یہ اخرنا امر کا جواب ہے۔
قولہ : یقال لھم، ماقبل سے ربط پیدا کرنے کیلئے اس کے محذوف ماننے کی ضرورت پیش آئی۔
قولہ : تبین، اس کا فاعل دلالت کلام کی وجہ سے مضمر ہے اور وہ حال ہے، تقدیر عبارت یہ ہے تبین لکم کیف فعلنا بھم ؟
قولہ : ان ما، اس میں اشارہ ہے کہ ان نافیہ ہے اور لتزول میں لام تاکید نفی کیلئے ہے، وفی قراءت بفتح لام الاولی ورفع الاخیرۃ ای لتزول، اس صورت میں ان مخففہ عن الثقیلہ ہوگا، مطلب یہ ہوگا کہ ان کا مکر اتنا شدید تھا کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے، (لتزول) کا لام، مخففہ اور نافیہ کے درمیان فارقہ ہے۔
خلاصہ : ثانی قراءت یعنی أن مخففہ کی صورت میں (لتزول) سے کفار کے مکر کو عظیم اور شدید ہونے کو بیان کرنا مقصود ہے، اور پہلی قراءت یعنی ان نافیہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ (لتنزول) سے انکے مکر کے ضعف کو بیان کرنا مقصود ہے یعنی انکا مکر خدائی تدبیر کے مقابلہ میں اتنا ضعیف اور کمزور ہے کہ وہ قابل توجہ بھی نہیں ہے اور نہ وہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتا ہے، دوسری قراءت کے اللہ تعالیٰ کا
قول تکاد السموات یتفطرن الخ مناسب ہے اور پہلی قراءت کے اللہ تعالیٰ کا قول : ” ما کان مکرھم لتزول منہ الجبال “ مناسب ہے۔
قولہ : قطران، قطران ایک سیال سیاہ غلیظ مادہ ہوتا ہے جس میں حدت ہوتی ہے، اگر اس کی خارشی اونٹوں کے مالش کردی جائے تو خارش ختم ہوجاتی ہے یہ مادہ آگ بہت جلدی پکڑتا ہے اور بدبودار ہوتا ہے، بعض حضرات نے اس کا ترجمہ گندھک اور بعض نے تارکول کیا ہے۔
قولہ : متعلق بِبَرَزُوْا، یعنی لیجزی، برزوا کے متعلق ہے اور درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔
قولہ : انزل لتبلیغھم، ھذا بلاغ میں چونکہ وصف کا حمل ذات پر لازم آرہا ہے اس لئے شارح (رح) تعالیٰ نے مذکورہ عبارت مقدر مانی تاکہ حمل درست ہوجائے، یعنی یہ ہذا کی خبر نہیں ہے بلکہ خبر محذوف ہے خبر کی علت کے قائم مقام کردیا ہے۔
تفسیر و تشریح
سورة ابراہیم (علیہ السلام) کے اس آخری رکوع میں، خلاصہ کے طور پر انہی اہل مکہ کو پچھلی قوموں کی سرگذشت سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین ہے اور اب بھی ہوش میں نہ آنے کی صورت میں قیامت کے ہولناک عذابوں سے ڈرایا گیا ہے۔
ولا تحسبن۔۔۔ الظلمون، پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ اور ہر مظلوم کو تسلی اور ظالم کیلئے سخت عذاب کی دھمکی ہے کہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دینے سے بےفکر نہ ہوجائیں اور یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے جرائم کی خبر نہیں اسلئے کوئی عذاب اور مصیبت ان پر نہ آئیگا، بلکہ اللہ کی نظر سے ان کا کوئی عمل مخفی نہیں مگر اس نے اپنی رحمت اور حکمت کے تقاضے سے ڈھیل دے رکھی ہے۔
تشخص۔۔ الابصار، یعنی قیامت کا ہولناک نظارہ ان کے سامنے ہوگا اور ٹکٹکی لگائے اسے دیکھ رہے ہوں گے اس طرح کہ ان کے دیدے پتھرا گئے ہیں نہ پلک جھپکے گی اور نہ نظر ہٹے گی۔
اولم تکونوا۔۔۔ من زوال، یعنی دنیا میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ نہ کوئی حساب کتاب ہے اور نہ دوزخ و جنت اور نہ کسی کو دوبارہ زندہ ہونا ہے، ان کی عبرت کیلئے گذشتہ قوموں کے حالات و واقعات بیان کر دئیے جن کے گھروں میں اب تم چل پھر رہے ہو اور ان کے کھنڈر بھی تمہیں دعوت غور و فکر دے رہے ہیں، اگر تم ان سے عبرت نہ پکڑو اور ان کے انجام سے بچنے کی فکر نہ کرو تو تمہاری مرضی، پھر تم بھی اس انجام کیلئے تیار رہو، حالانکہ تم دیکھ چکے تھے کہ تمہاری پیش رو قوموں نے قوانین الٰہی کی خلاف ورزی کے نتائج سے بچنے اور انبیاء کی دعوت کو ناکام کرنے کیلئے کیسی کیسی زبردست چالیں چلیں اور یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ اللہ کی ایک ہی چال سے وہ کس طرح مات کھا گئے، مگر پھر بھی تم حق کے خلاف چالبازیاں کرنے سے باز نہ آئے، اور یہی سمجھتے رہے کہ ہماری چالیں ضرور کامیاب ہوں گے۔
وقد مکروا مکرھم الخ اس آیت میں مخالفانہ تدبیروں کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی ان لوگوں نے دین حق کو مٹانے اور مسلمانوں کو ستانے کیلئے بھرپور تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مخفی اور ظاہر تدبیروں سے واقف ہے اللہ ان کے نا کام بنا دینے پر قادر ہے اگرچہ ان کی تدابیر اتنی عظیم و شدید تھیں کہ ان کے مقابلہ پر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جاتے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے ساری تدبیریں گردوغبار کی طرف ہباء منثورا ہوگئیں، یہ مطلب ان مخففہ عن المثقلہ کی صورت میں ہوگا اور ان کو نافیہ قرار دے کر یہ معنی ہوں گے، اگرچہ انہوں نے بہت سی تدبیریں اور چالیں چلیں، لیکن ان کی تدبیروں اور چالوں سے یہ ممکن نہ تھا کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں، اور پہاڑ سے مراد آپ ﷺ کا عزم و استقلال ہے۔
فلا تحسبن۔۔۔ وعدہ، اگرچہ اس میں روئے سخن آپ ﷺ کی طرف ہے مگر مراد مخالفین ہیں یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے جو وعدے فتح و نصرت اور کامیابی کے کیے ہیں وہ ان کے خلاف کرے گا اللہ بڑا زبردست ہے وہ ضرور دشمنوں سے انتقام لے گا اور اپنے پیغمبروں سے جو وعدے کئے ہیں ان کو ضرور پورا کرے گا۔
یوم تبدل الارض غیر الارض والسمٰوات (الآیۃ) اس آیت میں موجود زمین و آسمان کی تبدیلی کا ذکر ہے یہ تبدیلی ذات کے اعتبار سے بھی ہوسکتی ہے اور صفات کے اعتبار سے بھی اور دونوں طریقوں سے بھی، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ارض و سماء کی تبدیلی کے وقت مخلوق پل صراط پر ہوگی، غرضیکہ موجودہ نظام طبعی درہم برہم کردیا جائیگا اور نفخۂ اولی اور ثانیہ کی مدت کے درمیان زمین و آسمان کی موجودہ ہیئت بدل ڈالی جائیگی، اور ایک دوسرا نظام طبیعت دوسرے قوانین فطرت کے ساتھ بنادیا جائیگا پھر نفخۂ ثانیہ کے ساتھ ہی تمام وہ انسان جو تخلیق آدم سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے تھے ازسر نو زندہ کرکے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے اسی کا نام حشر ہے، قرآنی اشارات اور حدیث کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ ہماری وہ دوسری زندگی جس میں یہ معاملات پیش آئیں گے محض روحانی نہیں ہوگی، بلکہ ٹھیک اسی طرح جسم و روح کے ساتھ ہم زندہ کئے جائیں گے جس طرح آج زندہ ہیں۔
تم بحمدللہ